چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں صدر مسعود پیزشکیان سمیت ایران کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا، اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے اگلے دور کی بنیاد ڈالنے کیلئے اسلام آباد کی کوششوں کے حصے کے طور پردورے کے دوران فیلڈ مارشل منیر نے صدر پیزشکیان سے ملاقات کی اور بڑھتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، خاص طور پر کشیدگی کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کی۔دونوں فریقین نے خطے میں امن و استحکام کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقاتوں کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان نئے سرے سے مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کیلئے پاکستان کے سفارتی دبائو کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے کردار کو واشنگٹن کی جانب سے بھی غیر معمولی عوامی تائید حاصل ہوئی ہے۔ایک دن پہلے وائٹ ہائوس نے اسلام آباد کی ثالثی کی کوششوں کو تسلیم کیا، پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو ایران کے ساتھ مشغولیت کے لیے بنیادی چینل کے طور پر دیکھتے ہیں۔انہوں نے نوٹ کیا کہ جبکہ متعدد ممالک نے مدد کی پیشکش کی تھی، امریکہ نے پاکستان کے ذریعے اپنی رسائی جاری رکھنے کو ترجیح دی، اسلام آباد کو ایک "موثر اور قابل اعتماد ثالث” کے طور پر بیان کیا جس نے دونوں فریقوں کو ممکنہ معاہدے کے قریب لانے میں مدد کی ۔ پاکستان کے آرمی چیف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈمارشل عاصم منیر کی تہران میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات پاسداران انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرزکا دورہ آئی آرجی سی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبداللہی سے ملاقات جنگ کے خاتمے کے فریم ورک کے تحت کیے گئے اقدامات اور تہران میں ہونے والی اپنی حالیہ بات چیت سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر زور دیا کہ جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کیلئے جاری کوششوں کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے ۔فیلڈمارشل نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی ہے تاہم اس ملاقات کا باضابطہ اعلامیہ ابھی تک جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ادھرایک سینئر ایرانی اہلکار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایاکہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیچیدہ معاملات پر بریک تھروہوگیاہے تاہم جوہری پروگرام پر بنیادی اختلافات برقرار ہیں واشنگٹن پابندیاں ہٹانے اور اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کو بحال کرنے کی پیشکش کر رہا ہے تاہم تہران مستقبل جنگ بندی اور مستقبل میں دوبارہ حملہ نہ کرنے کی اقوام متحدہ کی ضمانت چاہتاہے ۔ دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے دوحہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی سے ملاقات کی جو ایک گھنٹہ سے زائد جاری رہی اس موقع پر دونوں رہنمائوں نے سکیورٹی دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ۔قطر کے دورے کے بعد شہباز شریف شٹل ڈپلومیسی کے تیسرے مرحلے میں اپنے دورہِ ترکیہ پر انطالیہ پہنچ گئے جہاں ان کی ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ملاقات ہوئی۔ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ تاحال تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا تاہم اس حوالے سے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔ دریں اثناایک سیکورٹی ذریعے نے بتایا کہ امریکا ایران معاہدہ قریب ہے اور واشنگٹن چاہتا ہے کہ اگلے ہفتے جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے کوئی نتیجہ نکل آئے۔ واشنگٹن پابندیاں ہٹانے اور اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کو بحال کرنے کی پیشکش کر رہا ہے تاہم ایران کا موقف ہے کہ وہ آبنائے ہرمز صرف اسی صورت میں کھولے گا جب مستقل جنگ بندی ہو اور اقوام متحدہ اس بات کی ضمانت دیگا امریکا اور اسرائیل مستقبل میں دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ سینئر ایرانی اہلکارکے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران نے کچھ شعبوں میں اختلافات کم کرنے میں مدد دی ہے جس سے جنگ بندی میں توسیع اور تہران و واشنگٹن کے درمیان نئے سرے سے مذاکرات کی امیدیں بڑھ گئی ہیںتاہم افزودہ یورینیم اورجوہری پابندیوں کی مدت کے معاملات تاحال غیر حل شدہ ہیں۔ دریں اثنا سفارتی محاذ پر وزیراعظم شہباز شریف دوحہ پہنچے اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی ۔ دونوں رہنمائوں نے مشرق وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کیلئے کوششوں کو تقویت دینے کی ضرورت پر اتفاق کیا ۔ قطری قیادت نے مذاکرات کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا اور خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کی مذمت کی۔فریقین نے دو طرفہ تعلقات کا بھی جائزہ لیا، سلامتی، دفاع اور توانائی سمیت اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا جبکہ جاری کشیدگی کے دوران بلاتعطل عالمی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔عہدیداروں نے کہا کہ تہران اور دوحہ میں سفارتی مصروفیات کی ہلچل سے اتفاق رائے پیدا کرنے اور بامعنی ایران-امریکہ مذاکرات کی بحالی کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے کی ایک مربوط پاکستانی کوشش کی عکاسی ہوتی ہے ۔ ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیاہے کہ تہران نے واشنگٹن کی تقریبا تمام شرائط مان لی ہیںاوراپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہمارے حوالے کرنے پر رضامند ہو گیا ہے دونوں فریق جنگ کے خاتمے اور امن معاہدے کے قریب ہیںاگرمعاہدہ طے پا گیا اور اسلام آباد میں اس پر دستخط ہوئے تو شاید میں وہاں چلا جائوں۔ پاکستان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف زبردست شخصیات ہیں دونوں نے مذاکرات میں بہترین کرداراداکیا۔ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہے ہیں اور یہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا، جس میں جوہری ہتھیار نہیں ہوگا ۔ ایمانداری کے ساتھ 20برس کی کسی حد کو میں نہیں مانتا۔امریکا اور ایران کے درمیان اگلا اجلاس رواں ہفتے کے آخر میں ہو سکتا ہے۔ ادھروائٹ ہاوس کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ فی الوقت کسی بھی پاکستانی نمائندے کا امریکا کا دورہ طے نہیں ہے تاہم جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے پاکستان مذاکرات میں بہت مددگار ثابت ہوا ہے اور بات چیت ابھی بھی جاری ہے۔عہدیدار کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ شاید پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر آج واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام آباد کے اچانک دورے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ یہ سوال جو گزشتہ چند دنوں سے گردش کر رہا تھاخود امریکی صدر نے جزوی طور پر اس وقت جواب دیا جب انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ ہو گیا تو وہ اسلام آباد آ سکتے ہیں۔ انہوں نے چند روز پہلے اس امکان کی تردید کی تھی لیکن وفاقی دارالحکومت میں غیر معمولی انتظامی اقدامات اور بڑھتی ہوئی سرگرمی، جو امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کی توقعات کے ساتھ دیکھی گئی، پہلے ہی اس قیاس آرائی کو جنم دے چکی تھی کہ مذاکرات کے اگلے دور میں کوئی نہایت اہم شخصیت شریک ہو سکتی ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں نمایاں پیشرفت ہوئی تھی اور تعمیری ماحول میں متعدد اجلاس منعقد ہوئے تھے۔ حتمی مسودہ معاہدہ تیار کر لیا گیا تھا جس میں صرف ایک اہم مسئلہ حل طلب رہ گیا تھا۔ اہم پیش رفت کی مضبوط توقعات کے باوجود عمل آخری لمحے میں رک گیا۔ متوقع معاہدہ طے نہ پا سکا اور امریکی نائب صدر معاہدے کو حتمی شکل دیے بغیر روانہ ہو گئے۔ تاہم اسلام آباد میں گردش کرنے والا ایک اور موقف یہ تھا کہ یہ تاخیر حکمت عملی کے تحت بھی ہو سکتی ہے تاکہ معاہدے کو زیادہ اعلیٰ سیاسی سطح تک لے جایا جائے۔ اسلام آباد میں اس وقت جاری وسیع تیاریوں کے تناظر میں موقف کو مزید تقویت ملی۔ انتظامی ہدایات، عملی انتظامات، اور احتیاطی احکامات، جن میں ایندھن کی فراہمی کے انتظام سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں، بس اڈوں کی بندش، ایکسپریس وے کی خوبصورتی اور اسلام آباد کلب جیسی اہم سہولیات کی بندش بھی شامل ہے۔ ان تیاریوں کے حجم کو اس سے کہیں زیادہ قرار دیا گیا جو وفاقی دارالحکومت نے مذاکرات کے پہلے دور کے دوران دیکھا تھا۔ ان تیاریوں نے اس قیاس آرائی کو مزید بڑھا دیا کہ وہ معاہدہ، جس پر بڑی حد تک مذاکرات ہو چکے تھے اور جو تقریبا حتمی تھا، اس پر ایک اعلیٰ سطح دورے کے دوران باضابطہ طور پر دستخط کیے جاسکتے ہیں۔
پاکستان کی کاوشیں ۔ایران امریکہ مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل

