پاکستان کے موجودہ حالات کسی حادثے یا اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ یہ اس ذہنی گھٹن، اخلاقی گراوٹ اور اجتماعی منافقت کا نتیجہ ہیں جو ہم نے دہائیوں سے پال رکھی ہے۔ اللہ نے انسان کو آزاد پیدا کیا، اسے سوچنے، سمجھنے اور راستہ چننے کی صلاحیت دی، مگر ہمارا معاشرہ خواہشات، لالچ، مفادات اور خوف کا غلام بن چکا ہے۔ کچھ لوگ غلطی انجانے میں کرتے ہیں مگر زیادہ تر پوری ہوش مندی کے ساتھ برائی کا ساتھ دیتے ہیں، ظلم کو سہارا دیتے ہیں اور جھوٹ کو اپنی زبان سے سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔افسوس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانی، خاص طور پر وہ لوگ جو پاکستان اور آزاد کشمیر کے دور افتادہ علاقوں، غریب گھرانوں اور پسماندہ ماحول سے نکل کر برطانیہ، یورپ اور امریکہ تک پہنچے، وہاں کی ترقی، صفائی، اصول، قانون اور انسانی حقوق سے فائدہ اٹھاتے ہیں، مگر اپنے ملک کیلئے ان اصولوں کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ وہاں کرپشن برداشت نہیں کرتے مگر پاکستان میں یہی لوگ کرپٹ سیاستدانوں، جعلی لیڈروں اور طاقتور ٹولوں کے چھتر بن کر رہ جاتے ہیں ۔ وہاں قانون کی حکمرانی کو سر آنکھوں پر رکھتے ہیں، مگر پاکستان میں حق اور سچ بولنے سے گھبراتے ہیں ۔وہاں اپنے بچوں کیلئے صاف ماحول، انصاف، صحت اور تعلیم مانگتے ہیں مگر پاکستان کے بچوں کو اسی قابل نہیں سمجھتے۔یہ دوہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟ایسی قیادت نے ملک کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ کمزور لیڈر کا مطلب کمزور خارجہ پالیسی اور چاپلوسی ہے۔ قوم اتنی بزدل نہیں جتنی چاپلوس اور عوام کے دھتکارے لیڈروں نے انٹرنیشنل پلیٹ فارموں پر اس کو پیش کیا ہے۔ دنیا کے سامنے پاکستان کی تصویر اصل پاکستان کی نہیں بلکہ کمزور قیادت کی پیدا کردہ ہے۔ قوم نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں، مگر قیادت نے ہمیشہ قوم کو کمزور ظاہر کیا ہے تاکہ اپنی کرسی بچا سکے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج بھی بھکاریوں کی طرح عالمی مالیاتی اداروں کے در پر کھڑا ہے۔ آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان پھر سات ارب ڈالر کا قرض مانگ رہا ہے، مگر ملک میں ہر سال کرپشن کا حجم اس سے کہیں زیادہ ہے۔ جب گھر کے اندر بیٹھے لوگ خزانہ لوٹ رہے ہوں تو باہر سے قرض لینے کا کیا فائدہ؟ جب ریاست کے طاقتور طبقات۔خواہ وہ سیاسی ہوں، بیورو کریٹ ہوں یا کوئی اور ادارہ اپنی غلطیوں کا بوجھ عوام پر ڈال دیں تو پھر معیشت تباہ ہی ہوگی ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان قرض کی وجہ سے نہیں، اپنے اندر بیٹھے چوروں کی وجہ سے تباہ ہوا ہے۔ہمیں خود سے یہ سخت سوال پوچھنا ہوگا کہ آخر اس تباہی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ سیاستدان ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں، بیوروکریسی سیاستدانوں پر، طاقتور طبقات عوام پر، اور عوام حالات پر مگر سچ یہ ہے کہ ہر طاقتور طبقہ اس کرپٹ نظام کا حصہ رہا ہے۔ کچھ سیاستدان ایسے رہے ہیں جن پر سنگین الزامات لگتے رہے، کچھ بیوروکریٹ ایسے ہیں جنہوں نے پورے پورے محکمے تباہ کیے، اور کچھ فیصلے کرنے والے ایسے ہیں جنہوں نے ملک کے راستے بدل کر رکھ دیئے مگر کوئی بھی ایمانداری سے اپنا احتساب قبول کرنے پر تیار نہیں۔عوام کا حال یہ ہے کہ ان کے ٹیکس کی رقم کرپشن کی نذر ہو جاتی ہے، ان کی کمائی مہنگائی کے آگ میں جلتی ہے، اور ان کے بچوں کا مستقبل اندھیری کھائی میں گرتا ہے۔ وہ جب بھی کسی سے سوال کرتے ہیں تو جواب میں انہیں گاڑیاں، پروٹوکول، ڈھٹائی اور جھوٹ ملتا ہے۔ یہ سب کچھ کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک دور کا نتیجہ نہیں۔ یہ پورا نظام ہی اندر سے سڑا گلا ہوا ہے۔تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ پاکستان میں جب بھی مارشل لا لگا، ہر حکمران نے سب سے پہلا اعلان یہی کیا کہ وہ ملک سے کرپشن ختم کرے گا۔ مگر ہوا کیا؟ وہ آئے، چند سال خود حکومت کی، اپنے قریبی لوگوں کو نوازا، آئین کو روندا، اپنے پسندیدہ نااہل کرپٹ چہرے عوام پر مسلط کیے، اور جب چلے گئے تو پیچھے مزید بگاڑ اور زیادہ کرپشن چھوڑ گئے۔ کرپشن ختم کرنے کا دعویٰ کرنیوالے اکثر خود اسی میں ڈوب کر رخصت ہوئے۔ ان کے چھوڑے گئے گروہ آج بھی ملک کے سروں پر مسلط ہیں۔ یوں ہر بار ایک نئی شکل میں پرانا چہرہ سامنے آتا ہے اور عوام کو ایک بار پھر دھوکا دیا جاتا ہے ۔ پاکستان کے مسئلے کا ایک بڑا پہلو یہ بھی ہے کہ ہم وہ اصول خود پر تو لاگو کرتے ہیں جو ہمیں فائدہ دیں، مگر اپنی قوم کیلئے نہیں۔ بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانی وہاں قانون کے پابند ہیں، ٹیکس وقت پر دیتے ہیں، گندگی نہیں پھیلاتے، غیرقانونی کام کرنے سے ڈرتے ہیں، پولیس کو عزت دیتے ہیں اور نظام کو مضبوط رکھتے ہیں لیکن پاکستان آ کر یہی لوگ بدنظمی، بے اصولی، سفارش، جھوٹ اور دھوکا دہی کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ ذہنی غلامی ہے جو پاکستان کو اس حال تک لے آئی ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان بدلے تو سب سے پہلے ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ ملک اسی دن بدلے گا جب ہم سچ کو سچ کہیں گے، جھوٹ کو جھوٹ، ظلم کو ظلم اور کرپشن کو کرپشن۔ جب ہم دوہرے معیار چھوڑ دینگے ۔ جب ہم پاکستان کیلئے وہی نظام چاہیں گے جو ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ جب ہم کرپٹ عناصر کے آلہ کار بننے کے بجائے ان کے مقابل کھڑے ہوں گے۔ جب ہم حق کا ساتھ دیں گے، نہ کہ رشتہ داری، برادری، ذاتی مفاد اور پارٹی لیڈرشپ کی موروثیت کو۔ پاکستان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کوئی ایک شخص نہیں، کوئی ایک جماعت نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ غفلت،لاپرواہی اور بے ہمتی ہے۔ سیاستدان بھی ذمہ دار ہیں، بیوروکریسی بھی، طاقتور طبقات بھی، اور ہم عوام بھی۔ مگر جب ذمہ داری سب پر ہو اور کوئی اپنی غلطی تسلیم نہ کرے تو حالات ویسے ہی بنتے ہیں جیسے آج ہیں۔پاکستان اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ یا ہم جاگ جائیں، یا پھر یہ ملک اسی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہے ۔سوال بہت سادہ ہے: ہم اپنے دوہرے معیار کب چھوڑیں گے؟25 کروڑ عوام کا ملک ہے یہاں ایک دستور ہے پارلیمنٹ ہے عدلیہ ہے میڈیا ہے انتظامیہ ایگزیگٹوہے لیکن سب کچھ غیر فعال اور عوام الناس کی مرضی و منشا اور اعتماد کے بغیر چلایا جارہا ہے جس سے نقصان ہورہا ہے۔

