پاکستان یورپی یونین تعلقات کا نیا دور
پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کی بنیاد اگرچہ کئی دہائیوں پر محیط ہے، لیکن 2019 میں ہونے والے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان نے دونوں کے درمیان تعاون کو جامع اور عصری شکل عطا کی۔ اس منصوبے کے تحت سیاسی، سفارتی، تجارتی، تعلیمی، ماحولیاتی اور انسانی حقوق سے متعلق اشتراک کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے کا فریم ورک قائم کیا گیا۔ حال ہی میں برسلز میں ہونے والا پاکستان اور یورپی یونین کے اسٹریٹجک مکالمے کا ساتواں دور اسی تسلسل کا اہم سنگ میل ثابت ہوا جس نے نہ صرف دونوں فریقوں کی پالیسی ترجیحات کو مزید واضح کیا بلکہ مستقبل کے اہداف کو بھی نئی سمت فراہم کی۔اس مکالمے کے بعد جاری اعلامیہ کئی حوالوں سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور یورپی یونین نے جہاں باہمی سفارتی روابط اور سیاسی تعاون کے فروغ دینے پر اتفاق کیا وہیں دونوں فریقوں نے کابل حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ یقینی بنائے۔ پاکستان اس معاملے پر پہلے ہی مستقل موقف رکھتا آیا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود عسکری گروہوں کی فعالیت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔ اب یورپی یونین کی جانب سے یہ مطالبہ دراصل پاکستان کے موقف کی توثیق بھی ہے اور افغانستان کیلئے واضح اور مشترکہ بین الاقوامی پیغام بھی۔ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی اہمیت کا اعتراف بھی مکالمہ کا اہم پہلو تھا۔ یورپی یونین نے اسے پاکستان کیساتھ اقتصادی تعلقات کا بنیادی ستون قرار دیا۔بلاشبہ، جی ایس پی پلس وہ پالیسی سہولت ہے جس نے گزشتہ دہائی میں پاکستان کی برآمدات کو نئی زندگی دی،یورپی منڈیوں تک ملکی مصنوعات کی رسائی بڑھائی اور ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے معاشی نمو کے دروازے کھولے۔تاہم، جی ایس پی پلس محض معاشی مراعات کا نام نہیں بلکہ اس کیساتھ27بین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری کا تقاضا جڑا ہوا ہے جن میں انسانی و شہری حقوق، مزدور حقوق، ماحولیات کا تحفظ اور گڈ گورننس کے اصول شامل ہیں۔ یورپی یونین ماضی میں بھی پاکستان کو یاد دہانی کراتا رہا ہے کہ اس اسٹیٹس کا تسلسل پاکستان میں ان اصلاحات اور ادارہ جاتی بہتریوں سے مشروط ہے جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس تناظر میں یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کو داخلی سطح پر ان شعبوں میں مزید پیش رفت کی ضرورت ہے، خاص طور پر مزدور حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور ماحولیات کے بین الاقوامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی اور اس پر شفاف عمل درآمد کو مستحکم بنانا ہوگا۔ توانائی، خوراک، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز پر مشترکہ تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا پاکستان حالیہ برسوں میں سیلاب جیسے تباہ کن ماحولیاتی سانحات کا سامنا کر چکا ہے، جبکہ یورپی یونین ماحولیاتی پائیداری کے عالمی ایجنڈے کی قیادت کر رہا ہے۔ ان حالات میں دونوں فریقوں کا اس شعبے میں تعاون بڑھانا نہ صرف ضروری بلکہ ناگزیر ہے۔گلوبل گیٹ وے کے تحت ترقیاتی شراکت داری کے اشاریے بھی اسی سمت میں امید افزا ہیں۔ تعلیمی اور تحقیقی پروگراموں جیسے ایراسمس اور ہائزن یورپ کے ذریعے طلبہ، محققین اور جامعات کے درمیان تبادلوں کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔پاکستان کے نوجوانوں کیلئے یہ مواقع یورپی اداروں کے علمی سرمائے تک رسائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جس سے نہ صرف تحقیق میں اضافہ ہوگا بلکہ مستقبل کی معیشت کے تقاضوں کے تحت افرادی قوت کی تیاری بھی ممکن ہو سکے گی۔تجارت، سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبے، مہاجرت، انسانی حقوق اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کا بھی عزم ظاہر کیا گیا۔ یہ تمام شعبے نہ صرف دو طرفہ تعلقات کے بنیادی ستون ہیں بلکہ پاکستان کے داخلی سماجی و اقتصادی استحکام کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر مہاجرین کے حوالے سے پاکستان کے بوجھ اور کردار کو یورپی یونین نے سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کسی بھی صورت میں جبری یا غیر انسانی نہیں ہونی چاہیے بلکہ عالمی معیار کے مطابق باعزت اور محفوظ ہونی چاہیے۔ دیکھا جائے تو حالیہ اسٹریٹجک مکالمہ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں اعتماد، تسلسل اور وسعت کا نیا باب ہے۔ اعلامیہ اس حقیقت کی گواہی ہے کہ دونوں فریق آنے والے برسوں میں تعلقات کو کئی سطحوں پر مزید مضبوط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ البتہ پاکستان کے لیے معاشی سفارت کاری کے اس اہم لمحے میں دو بنیادی امور پر فوکس کرنا ناگزیر ہے:اول، جی ایس پی پلس کنونشنز کی پاسداری کو محض دستاویزی تکمیل تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ادارہ جاتی اور عملی اصلاحات کے ذریعے اسے بین الاقوامی معیارات کے مطابق قابلِ اعتماد بنایا جائے۔ جبکہ برآمدات میں قدر افزائی، جدت، مسابقت اور تنوع لایا جائے تاکہ عالمی منڈی میں پاکستان کی پوزیشن صرف روایتی مصنوعات تک محدود نہ رہے۔آنے والا وقت پاکستان کے لیے چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ اگر پاکستان سفارتی حکمت، اقتصادی منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تقاضوں کو دانشمندی سے مربوط رکھے تو جی ایس پی پلس کا تسلسل نہ صرف ممکن ہے بلکہ یہ ملکی معیشت کو بہت دیر تک سہارا بھی دے سکتا ہے۔ برسلز میں ہونے والا مکالمہ اس شراکت داری کے نئے دور کی پیش بندی ہے۔اب اس کے ثمرات کا دارومدار پاکستان کی داخلی سنجیدگی اور عملی اقدامات پر ہوگا۔
کالم
پاکستان یورپی یونین تعلقات کا نیا دور
- by web desk
- نومبر 25, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 31 Views
- 5 دن ago

