Site icon Daily Pakistan

پاک چین دوستی ، باوقار اور غیر متزلزل رشتہ

پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی پچھترویں سالگرہ ایشیا کی جدید سیاسی تاریخ میں اعتماد، تسلسل، قربانی، مشترکہ مفادات اور غیر معمولی تذویراتی ہم آہنگی کی ا ایسی داستان ہے جس نے وقت کے ہر امتحان میں خود کو ثابت کیا۔ دنیا میں بہت سے اتحاد مفادات کے بدلتے موسموں کے ساتھ اپنی سمتیں تبدیل کرتے رہے، مگر پاک چین دوستی نے ہمیشہ ایک مستقل، باوقار اور غیر متزلزل رشتے کی صورت اختیار کیے رکھی۔ آج جب عالمی سیاست نئے بلاکس، معاشی کشمکش، جغرافیائی تنازعات اور طاقت کے توازن کی نئی صف بندیوں سے گزر رہی ہے تو پاکستان اور چین کا تعلق صرف دو ریاستوں کا تعلق نہیں بلکہ ایسے شراکتی وژن کی علامت بن چکا ہے جو ترقی، استحکام، کثیرالجہتی نظام اور مشترکہ خوشحالی پر یقین رکھتا ہے۔21 مئی 1951 کو سفارتی تعلقات کے قیام کے ساتھ دونوں ملکوں نے جس سفر کا آغاز کیا، وہ آج آہنی دوستی کی ا ایسی مثال بن چکا ہے جسے دنیا احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس تعلق کی بنیاد وقتی سیاسی مفادات پر نہیں، باہمی اعتماد، خودمختاری کے احترام، قومی مفادات کی حمایت اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کے اصولوں پر رکھی گئی۔1965 اور 1971 کی جنگوں سے لے کر حالیہ معاشی مشکلات، قدرتی آفات اور دہشت گردی کے چیلنجز تک، چین نے ہر مرحلے پر پاکستان کا ساتھ دیا جبکہ پاکستان نے بھی تائیوان، تبت، سنکیانگ اور ون چائنہ پالیسی کے معاملے پر چین کے بنیادی قومی موقف کی مسلسل حمایت کی۔صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ تقاریر میں یہ تاریخی تسلسل پوری شدت کے ساتھ نمایاں نظر آیا۔ ان بیانات میں رسمی سفارت کاری سے زیادہ ایسے جذباتی اور سیاسی رشتے کی جھلک دکھائی دی جو پاکستانی ریاست، حکومت اور عوام کے دلوں میں چین کے لیے موجود اعتماد اور احترام کی عکاسی کرتا ہے۔ صدر زرداری نے بجا طور پر کہا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے اسے دنیا کا سب سے قابلِ اعتماد دوست قرار دیا۔ یہ صرف سفارتی جملے نہیں سات دہائیوں پر محیط عملی تجربات کا نچوڑ ہیں۔چین نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت کی اور اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر پاکستان کے خدشات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب پاکستان نے بھی ہر عالمی دبا کے باوجود چین کے حساس معاملات پر غیر مبہم حمایت جاری رکھی۔ یہی اعتماد اس تعلق کو دیگر علاقائی شراکت داریوں سے ممتاز بناتا ہے۔ عالمی سیاست میں جہاں اتحادی اکثر مفادات کے بدلتے توازن کے ساتھ اپنی ترجیحات تبدیل کرتے ہیں، وہاں پاک چین تعلقات نے استقامت کی ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔پچھلی ایک دہائی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے اس تعلق کو نئی جہت عطا کی۔ سی پیک صرف سڑکوں، پلوں اور بجلی گھروں کا منصوبہ نہیں یہ پاکستان کی معاشی ساخت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ توانائی بحران کے خاتمے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، گوادر کی ترقی اور صنعتی تعاون نے پاکستان کی معیشت میں نئی روح پھونکی۔ اگرچہ سی پیک کو بعض داخلی سیاسی تنازعات، سکیورٹی خدشات اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کا سامنا بھی رہا، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی اقتصادی بحالی کے خواب میں چین نے کلیدی کردار ادا کیا سی پیک کے دوسرے مرحلے میں ترجیحات بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔ زراعت، مصنوعی ذہانت، آئی ٹی، معدنیات، صنعتی تعاون، گرین انرجی اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر جیسے شعبے مستقبل کے پاک چین تعاون کا مرکز بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کی چین میں تربیت کا ذکر کرکے دراصل اس نئی سمت کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں پاکستان صرف انفراسٹرکچر کا شراکت دار نہیں بلکہ علم، مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کا حصہ بھی بننا چاہتا ہے۔چین کی عالمی ترقیاتی سوچ بھی پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ صدر شی جن پنگ کے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، گلوبل سکیورٹی انیشیٹو اور گلوبل سویلائزیشن انیشیٹو جیسے تصورات ایک ایسے عالمی نظام کی بات کرتے ہیں جہاں ترقی کا حق صرف چند طاقتوں تک محدود نہ رہے بلکہ ترقی پذیر دنیا کو بھی مساوی مواقع میسر آئیں۔ پاکستان ان تصورات کو اس لیے بھی اہم سمجھتا ہے کیونکہ مغربی طاقتوں کے زیرِ اثر عالمی معاشی ڈھانچے نے اکثر ترقی پذیر ممالک کو قرض، سیاسی دبا اور غیر مساوی تجارتی نظام کے جال میں الجھائے رکھا ہے۔ چین اس کے برعکس شراکت داری، انفراسٹرکچر اور اقتصادی روابط کے ذریعے ایک متبادل راستہ پیش کر رہا ہے۔خطے کی موجودہ صورتحال میں پاک چین تعلقات کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن، بھارت کے بڑھتے ہوئے عسکری و سفارتی کردار، بحرِ ہند کی نئی جغرافیائی سیاست، افغانستان کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیوں کے تناظر میں پاکستان اور چین کا قریبی تعاون خطے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔تاہم اس تعلق کی اصل طاقت صرف ریاستی سطح کی شراکت داری نہیں بلکہ عوامی سطح پر موجود وہ اعتماد ہے جو دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ پاکستان میں چین کے لیے عمومی احترام اور خیرسگالی کا جو جذبہ پایا جاتا ہے، وہ دنیا کے بہت کم ممالک کے لیے دیکھنے کو ملتا ہے۔ پاکستانی عوام چین کی ترقی کو اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں اور چین بھی پاکستان کو اتحادی نہیں قابلِ اعتماد دوست سمجھتا ہے۔آج جب پاک چین سفارتی تعلقات اپنی پچھترویں سالگرہ منا رہے ہیں تو یہ موقع صرف ماضی کی یاد تازہ کرنے کا نہیں ، مستقبل کی سمت متعین کرنے کا بھی ہے۔ پاکستان کو اس تعلق سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کیلئے داخلی سیاسی استحکام، معاشی اصلاحات، پالیسی تسلسل اور سکیورٹی کے موثر نظام کو یقینی بنانا ہوگا۔ چین کے ساتھ تعلقات نعروں یا جذبات سے آگے بڑھ کر اب عملی اقتصادی تبدیلی، صنعتی ترقی اور علاقائی رابطہ کاری کے بڑے وژن کا حصہ بن چکے ہیں۔پاک چین دوستی کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ یہ تعلق وقتی سیاسی مصلحتوں کے بجائے تاریخ، اعتماد اور مشترکہ مستقبل کے احساس سے جڑا ہوا ہے،اور وقت کی گرد بھی اس رشتے کی چمک ماند نہیں کر سکی۔

Exit mobile version