Site icon Daily Pakistan

پاک چین دوستی کی 75 ویں سالگرہ

دنیا کی سفارتی تاریخ میں بعض تعلقات محض سیاسی یا معاشی مفادات تک محدود نہیں رہتے بلکہ وقت کے ساتھ وہ اعتماد، خلوص اور مشترکہ جدوجہد کی ایسی مثال بن جاتے ہیں جنہیں عالمی برادری احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان قائم ہونے والی دوستی کو آج پچھتر برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر اس رفاقت کی تازگی، مضبوطی اور باہمی اعتماد میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ پاک چین تعلقات کو اکثر ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہرے اور شہد سے زیادہ میٹھے قرار دیا جاتا ہے۔پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا۔ 1951 میں دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ اس وقت عالمی سیاست سرد جنگ کے گرد گھوم رہی تھی اور بہت سے ممالک چین سے فاصلے پر تھے، مگر پاکستان نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کیے۔ یہی فیصلہ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بنیاد بنا۔پاک چین تعلقات کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ تعلقات ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔ چاہے خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال ہو، عالمی دبا ہو یا علاقائی تنازعات، چین نے ہمیشہ پاکستان کے مقف کو سمجھنے اور اس کی حمایت کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح پاکستان نے بھی ہر عالمی فورم پر چین کے بنیادی مفادات، خصوصا ون چائنا پالیسی کی بھرپور حمایت کی۔ یہ باہمی اعتماد ہی دونوں ممالک کی دوستی کو منفرد بناتا ہے۔
دفاعی میدان میں بھی پاکستان اور چین کا تعاون مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک نے نہ صرف دفاعی پیداوار میں اشتراک کیا بلکہ عسکری تربیت، ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں بھی قریبی تعاون کو فروغ دیا۔ جے ایف 17 تھنڈر طیارہ اس اشتراک کی ایک نمایاں مثال ہے، جس نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا۔ خطے میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ سوچ ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔اقتصادی تعاون پاک چین تعلقات کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔ خصوصا چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندی عطا کی۔ سی پیک دراصل چین کے عظیم منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا اہم حصہ ہے، جس کے تحت پاکستان میں سڑکوں، موٹرویز، بندرگاہوں، توانائی منصوبوں اور صنعتی زونز پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔ گوادر بندرگاہ اس منصوبے کا مرکزی نقطہ ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے تجارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز بن سکتی ہے۔سی پیک کے ذریعے پاکستان میں توانائی کے بحران میں نمایاں کمی آئی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ ملا۔ اگرچہ اس منصوبے کو بعض حلقوں کی تنقید کا سامنا بھی رہا، مگر حقیقت یہ ہے کہ سی پیک نے پاکستان کی معاشی ترقی کے امکانات کو روشن کیا اور عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول کرائی۔تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد چین کی جامعات میں تعلیم حاصل کر رہی ہے جبکہ چینی زبان سیکھنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ مختلف ثقافتی پروگرام، تعلیمی تبادلے اور سیاحتی روابط دونوں اقوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لا رہے ہیں۔ یہی عوامی سطح کے روابط کسی بھی دوستی کو دیرپا بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔عالمی سطح پر بھی پاکستان اور چین متعدد معاملات پر یکساں مقف رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک خطے میں امن، ترقی اور باہمی احترام پر مبنی عالمی نظام کے حامی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی استحکام اور معاشی تعاون جیسے موضوعات پر دونوں ممالک کی سوچ میں نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی اداروں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے نظر آتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ نئی معاشی صف بندیاں، ٹیکنالوجی کی دوڑ اور عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ نئی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں پاک چین دوستی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کے لیے چین ایک قابل اعتماد دوست، سرمایہ کار اور ترقیاتی شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ چین کے لیے پاکستان جغرافیائی اور تزویراتی اعتبار سے نہایت اہم ملک ہے۔ یہی باہمی ضرورت اور اعتماد اس رشتے کو مستقبل میں بھی مستحکم رکھے گا۔پاکستان اور چین کی پچھتر سالہ دوستی دراصل اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تعلقات صرف مفادات سے نہیں بلکہ اخلاص، احترام اور مستقل مزاجی سے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور ترقی و خوشحالی کے سفر میں شانہ بشانہ آگے بڑھے۔ آج جب پاک چین تعلقات نئی منزلوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف رواں ماہ کے اواخر میں چین کا دورہ بھی کرنے کا رہے ہیں تو ایسے میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ دوستی مزید مضبوط، وسیع اور نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔بلاشبہ پاک چین دوستی صرف دو ریاستوں کا تعلق نہیں بلکہ دو قوموں کے درمیان اعتماد، خیرسگالی اور مشترکہ مستقبل کا روشن استعارہ ہے؛ ایک ایسی لازوال دوستی جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔

Exit mobile version