Site icon Daily Pakistan

پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال

تاریخی طور پر پاکستان کا شمار اس ملک کے طور پر ہوتا ہے جس نے 1951 میں سب سے پہلے چین کو تسلیم کیا ، درحقیقت یہ وہ دور تھا جب روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ عروج پر تھی ، یوں اج بھی ان حالات کا باخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے جو اس وقت چین کو درپیش تھے ، 75 سال قبل پاکستان نے نہ صرف چین کو تسلیم کیا بلکہ مختلف تنازعات اور مسائل میں چینی موقف کی کھل کر حمایت بھی کی،پاک چین تعلقات کی خوبی یہ ہے کہ وہ محض وقتی مفادات کی بجائے دونوں ریاستوں کے طویل المدتی مفادات کی نمایندگی کرتے ہیں،چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم ترقیاتی منصوبہ ہے جس کے تحت ملک کے مختلف صوبوں میں سڑکوں، توانائی، صنعت، بندرگاہوں اور مواصلات کے بڑے منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ کئی منصوبے اب بھی زیرِ تکمیل ہیں۔ سی پیک کا بنیادی مقصد پاکستان میں معاشی ترقی، صنعتی توسیع، روزگار کے مواقع اور علاقائی روابط کو فروغ دینا ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب میں سی پیک کے تحت کئی منصوبوں پر جارہی ہے۔ مثلا بلوچستان سی پیک کے حوالے سے سب سے اہم صوبہ تصور کیا جاتا ہے ، گوادر بندرگاہ اس پراجیکٹ کا مرکزی حصہ ہے۔بلوچستان میں مکمل شدہ منصوبوں میں گوادر پورٹ کی توسیع اور آپریشنل فعالیت اہم ہے، گوادر پورٹ کو فری زون قرار دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں علاقائی ہی نہیں عالمی سطح پر پاکستان کو تجارت کے سنہرے موقع میسر آ رہے ہیں، سی پیک کے تحت ہی خضدار اور بسیمہ روڈ کی تعمیر ممکن ہوئی، اس پس منظر میں چین ہب کول پاور پراجیکٹ پر بھی کام جاری ہے، پاکستان اور چین دونوں کی خواہش اور کوشش ہے کہ گوادر جیسے اہم تجارتی شہر میں میں بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی ہر صورت ممکن بنائی جائے ، رقبے کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں کراس بارڈر آپٹیکل فائبر منصوبے پر بھی کام جاری ہے، سی پیک کے حوالے سے جو منصوبہ زیر تکیل ہے ان میں گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو جدید ترین خطوط پر استور کرنا، ہوشاب،آواران روڈ کی تعمیر پلان کے مطابق ممکن بنانا بھی شامل ہے ،سی پیک کے تحت آواران وخضدار روڈ پر بھی کام جاری ہے ، نوکنڈی،ماشخیل شاہراہ کو فکنشینل کرنے کے منصوبے پر بھی عمل ہورہا ہے ، بوستان اسپیشل اکنامک زون کی تکمیل بھی جاری ہے ، گوادر واٹر سپلائی منصوبے کو پایہ تکیمل تک پہنچانے کی کوشش ہورہی ہے ، درحقیقت بلوچستان میں ان منصوبوں کا مقصد گوادر کو بین الاقوامی تجارتی مرکز بنانا اور صوبے میں روزگار و سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ ایک طرف مقامی آبادی کو اس کا فائدہ پہنچے تو دوسری جانب پاکستان کی اجمتاعی ترقی کو بھی ممکن بنایا جاسکے،خیبر پختونخوا میں سی پیک کے تحت سڑکوں، توانائی اور صنعتی شعبوں میں اہم منصوبے شروع کیے گئے۔ مکمل شدہ منصوبوں میں ہزارہ موٹروے ہکلہ۔ڈی آئی خان موٹروے ، پاک چین آپٹیکل فائبر منصوبہ ، توانائی منصوبے اور گرڈ اسٹیشنز کے بعض منصوبہ بھی کے پی کے میں سی پیک کے تحت مکمل یوئے، صوبے میں زیرِ تکمیل منصوبوں میں رشکئی اسپیشل اکنامک زون ،سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ، شاندر ۔ چترال متبادل شاہراہ نمایاں ہیں، چترال میں مختلف پن بجلی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ مثلا ڈروش اور چکدرہ گرڈ اسٹیشن منصوبے ، سی پیک کے یہ منصوبے خیبر پختونخوا کو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی رابطوں میں اہم حیثیت دینے میں مددگار ثابت ہورہے ہیں ۔ادھر سندھ میں سی پیک کے تحت توانائی اور صنعتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ صوبے میں مکمل شدہ منصوبوں میں پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ ، اینگرو تھر کول پاور پراجیکٹ،جھمپیر اور گھارو ونڈ فارم منصوبہ،مٹیاری،لاہور ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائن شامل ہیں، صوبے میں زیرِ تکمیل منصوبوں میں دھابیجی اسپیشل اکنامک زون ، تھر کول کے توسیعی منصوبے، کراچی انڈسٹریل پارک منصوبہ ، ریلوے اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کے بعض منصوبے بھی نمایاں ہیں، ماہرین کے مطابق سندھ میں ان منصوبوں سے توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوا جبکہ صنعتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا۔پنجاب میں سی پیک کے تحت ٹرانسپورٹ، توانائی اور صنعت کے بڑے منصوبے مکمل کیے گئے۔ان مکمل شدہ منصوبوں میں اورنج لائن میٹرو ٹرین لاہور ، ساہیوال کول پاور پلانٹ ،قائداعظم سولر پارک بہاولپور ،،ملتان۔سکھر موٹروے ،کراس بارڈر فائبر آپٹک منصوبہ اہم ہے۔پنجاب میں زیرِ تکمیل منصوبوں میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی فیصل آباد ،،مختلف صنعتی زونز کی تعمیر ، ریلوے اپ گریڈیشن منصوبہ اہم ہیں سی پیک کے تحت پنجاب میں توانائی توسیعی منصوبے کے ذریعے توانائی بحران میں کمی، ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری اور صنعتی پیداوار میں اضافے ہوا۔ معاشی ماہرین کے مطابق سی پیک منصوبہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی معاشی ترقی کیلئے ایک اہم سنگ میل ہے۔ بلوچستان میں گوادر بندرگاہ، خیبر پختونخوا میں شاہراہیں اور پن بجلی منصوبے، سندھ میں توانائی و صنعتی زونز جبکہ پنجاب میں ٹرانسپورٹ اور صنعتی ترقی کے منصوبے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔ اگرچہ بعض منصوبے سیکیورٹی، مالی اور سیاسی مسائل کے باعث سست روی کا شکار ہوئے، تاہم سی پیک اب بھی پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سی پیک منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں پاکستان کی معاشی مشکلات بڑی حد تک دور ہوسکتی ہیں، پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر ایسے تجارتی مرکز کی حیثیت میں ابھر سکتا ہے جو معاشی کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام میں بھی معاون ومدگار ثابت ہوگا، ایک بات طے ہے کہ بھارت سمیت بعض علاقائی اور عالمی طاقتیں سی پیک منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں جن پر پاکستان اور چین مل کر کامیابی سے قابو پا رہے ہیں۔

Exit mobile version