اب آ جائیں سواری کی طرف پٹرول کی قیمتوں کی زیادتی کی وجہ سے لوگ مجبور ہو کر پرانے دور میں جانے کا سوچ رہے ہیں لیکن اگر تانگہ والے دور میں واپس جانا چاہے گے تو جانا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے کیونکہ گھوڑا اونٹ گدھے جیسے جانور ناپید ہو چکے ہیں۔ گائے بھینس کے گوشت کے ساتھ گدھے کا گوشت بھی کھایا جا رہا ہے۔ لہذا ماضی میں جانے کیلیے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ لڑائی امریکا اور ایران کی ہوئی پٹرول یہاں مہنگا ہو گیا۔ جب کہ سپلائی ہمیں نارمل ملتی رہی پٹرول کی قیمت میں لیوی کو شامل کر کے پٹرول مہنگا کر دیا گیا یہ تو عوام کو بتا دیں لیوی کس جن کا نام ہے۔ عوام کو پتہ ہی نہیں ہے کہ لیوی ہے کیا۔ کوشش کرتا ہوں کہ یہ معلومات آپ تک پہنچا سکوں یہ کام حکومت کے کرنے کے ہیں مگر حکومت میڈیا سے کام لینا نہیں جانتی ۔ اب میں پاکستان میں موجودہ پیٹرول کی قیمت کا مکمل بریک ڈان سادہ انداز میں کرتا ہوں، اور سمجھتا ہوں تاکہ آپ کو واضح ہو جائے کہ لیوی ہے کیا اور کیوں لگائی جاتی ہے پاکستان میں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت اس طرح بنائی جاتی ہے ۔اصل ایکس ریفائنری قیمت یہ وہ قیمت ہوتی ہے جس پر پاکستان تیل خریدتا ہے عالمی مارکیٹ سے تیل اگر 270 روپے فی لیٹر ہے تو اس پر پیٹرول لیوی جو سب سے بڑا حصہ ہے اسے شامل کرتے ہیں۔موجودہ صورتحال میں پٹرول 160 روپے فی لیٹر تک لیوی عوام سے لی جا رہی ہے یہ لیوی وہ رقم ہے جو عوام کی جیبوں سے نکال کر سیدھی حکومت کو جاتی ہے۔اس پر کاربن لیوی 2.5 روپے فی لیٹر الگ لی جاتی ہے۔اس کے علاوہ کمپنی کا ڈیلر مارجن اور آئل کمپنی مارجن تقریبا 7.8 روپے ہے پمپ ڈیلر کا مارجن تقریبا 8.6 روپے ہے دیگر چارجز وغیرہ تقریبا 78 روپے فی لیٹر شامل ہیں۔مکمل سادہ حساب کچھ اس طرح دکھائی دیتا ہے پٹرول کی اصل قیمت 270روپے۔ پیٹرول لیوی 160 کاربن لیوی 2.5 کمپنی + ڈیلر مارجن 16 دیگر چارجز7 اس کے بعد پٹرول کی کل قیمت 455 روپے فی لیٹر ہو جاتی ہے حقیقت یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت کا تقریبا آدھا حصہ ٹیکسز اور لیوی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ پیٹرول لیوی کا ہے آسان الفاظ میں سمجھیں کہ اصل پیٹرول سستا ہوتا ہے لیکن حکومت اس پر لیوی لگا کر قیمت اپنی مرضی سے بڑھا دیتی ہیجتنی زیادہ لیوی اتنا مہنگا پٹرول ۔ لیوی دراصل ایک قسم کا ٹیکس ہے جو حکومت ہر لیٹر پیٹرول یا ڈیزل پر لگاتی ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں لیوی ہوتی کیا ہے؟ لیوی کا مطلب حکومت کی طرف سے کوئی رقم یا ٹیکس وصول کرنا آپ کہہ سکتے ہیں۔ یعنی جب حکومت کسی چیز پر اضافی رقم مقرر کر کے عوام سے وصول کرے تو اسے لیوی کہتیہیں جب آپ پمپ سے تیل خریدتے ہیں تو اس کی قیمت میں کئی چیزیں شامل ہوتی ہیں اصل قیمت تیل کی عالمی مارکیٹ، سے آتی ہے ریفائنری ڈسٹری بیوشن کیاخراجات پیٹرول لیوی سے اور کبھی کبھی سیلز ٹیکس سے۔ ان میں سے پیٹرول لیوی براہِ راست حکومت کی آمدنی ہوتی ہے۔حکومت لیوی اس لیے لگاتی ہے کہ حکومت اس رقم کو مختلف کاموں میں استعمال کر سکے، جیسے:بجٹ خسارہ کو کم کرنا انفراسٹرکچر بنانا اور قرض کی ادائیگی سبسڈی مثلا بجلی یا آٹے پر اس کی آسان مثال یہ ہے کہ اگر پیٹرول کی اصل قیمت 250روپے فی لیٹر ہے اور حکومت 60روپے لیوی لگا دے،تو آپ کو وہی پیٹرول 310 روپے فی لیٹر ملے گا۔اہم بات یہ ہے لیوی بڑھانے سے پیٹرول مہنگا ہو جاتا ہے۔ حکومت کے اختیار میں ہوتا ہے کہ لیوی کتنی رکھنی ہے۔ عوام کے اختیار میں سوائے رونے چیخنے کے کچھ نہیں ہوتا اربوں کی مد میں قرض آئی ایم ایف دیتا ہے۔پھر وہ بتاتا ہے کہ میرا قرض واپس کرنے کیلیے آپ کو کیا کیا کرنا ہو گا۔ حکومت ان کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے تو انہیں قرض ملتا ہے اور مہنگائی شروع ہو جاتی ہے۔ اس مہنگائی کا اثر غریبوں پر پڑتا ہے۔ سرکاری خزانے سے منسلک ملازمین کو بڑی بڑی تنخواہیں، گاڑیاں پٹرول بجلی گیس نوکر چاکر فری میں ملتے ہیں۔غریب کی تنخواہیں کم سہولیات صفر۔سوال ہے کہ آئی ایم ایف بڑوں کی مراعات تنخواہیں کم کرنے کا کیوں نہیں کہتی۔اس لیے کہ ان کے اپنے لگائے گئے حکمران ہوتے ہیں لہٰذا وہ اپنی عوام کا نہیں ان کا خیال رکھتے ہیں جن سے انہیں پالا پڑتا ہے ۔یعنی دونوں مل کر ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔عوام سمجھتے ہیں کہ حکمران ہماری ووٹوں سے آتے ہیں لہٰذا ہمارا خیال رکھنے کے وہ پابند ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں کہا جاتا ہیکہ حکمران ووٹوں سے نہیں سلیکشن سے آتے ہیں ۔غریبوں کو اپنا خیال خود رکھنا ہوتا ہے جیسے پانی خود پینا پڑتا ہے لہذا اپنی چادر دیکھ کر پاں پھیلایا کریں۔ محنت سے جی نہ چرایا کریں۔ ریاست سے امیدیں کم رکھیں۔اس کے پاس بجلی گیس اور پٹرول ہی تو لیوی لگانے کو بچا ہے۔ کاروبار سکڑ جائیں تو ریونیو کہاں سے بڑھے گا۔ پریشان نہ ہوں چارلی چپلن کا کہنا ہے اس دنیا میں کچھ بھی ہمیشہ کیلیے نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے مسائل بھی نہیں۔کہتا ہے سب سے کھویا ہوا دن وہ ہوتا ہے۔ جس دن ہم ہنستے نہیں ہیں۔ اس نے بتایا کہ دنیا کے چھ بہترین ڈاکٹر قدرت نے ہمیں مفت میں دے رکھے ہیں سورج ، آرام، ورزش، خوراک، عزت نفس اور دوست ۔ قدرت کی طرف سے یہ بہترین تحفہ ہے۔زندگی کو انجائے کرنا سیکھیں۔شکر ادا کیا کریں کہ اس کرم کے کہاں تھا قابل کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔
پٹرولیم کی قیمتوں میں لیوی کا کردار شامل ہے

