Site icon Daily Pakistan

پٹرول لیوی ختم کریں

بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔ اس وقت ڈیزل اور پٹرول کی قیمت 414 روپے لیٹر ہو کر برابر ہو گئی ہے۔ ڈیزل میں اس اضافے کے بعد ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز نے بسوں اور ویگنوں کے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کا اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے ۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ جونہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں اس کے ساتھ ہی تمام کچن آئٹمز اٹا گھی چینی سب مہنگی ہو جاتی ہیں اس کے علاوہ دیگر ضروریات زندگی بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ پٹرول کے حالیہ اضافے کی وجہ سے عوام چیخ اٹھے ہیں۔ وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ہم گھر کا خرچہ اٹھائیں یا پٹرول کا۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ہمارا سارا تیل ابنائے ہرمز سے گزر کر نہیں آتا اس لئے پی او ایل پروڈکٹس میں اضافے کا کوئی جواز نہیں۔سابق وفاقی وزیر خزانہ مصباح اسماعیل اور دیگر معاشی ماہرین نے کہا ہے کہ اگر حکومت پٹرولیم لیوی میں کمی کرے تو پٹرول کی قیمتیں بہت نیچے ا سکتی ہیں۔ حکومتی مجبوری یہ تھی کہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے اجلاس نے پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط کی منظوری دینی تھی وزارت پٹرولیم پر پٹرولیم لیوی بڑھانے کا دباؤ تھا۔اسلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے سارا بوجھ صارفین پر ڈال دیا گیا اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کے بورڈ نے واشنگٹن کے جاری اجلاس میں 1.32 ارب ڈالرز کی چوتھی قسط کی منظوری دے دی۔ ائی ایم ایف کی دیگر شرائط میں ایک اور سخت ترین شرط اگلے اٹھ ماہ میں بجلی کے 200 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد حاصل کرنے والے صارفین کے ڈیٹے سے لنک کرنا ہے۔ اس وقت 200 روپے سبسڈی لینے والے صارفین کی تعداد تقریبا دو کروڑ سے زیادہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بی آئی ایس پی کا ڈیٹا قابل اعتبار اور مستند نہیں ہے۔ ائی ایم ایف کے مطابق بجلی کے یونٹس کو کم رکھنے کیلئے بیشتر صارفین نے ایک گھر میں تین سے چار بجلی کے میٹرز لگوائے ہوئے ییں تاکہ بجلی کا بل کم دینا پڑے اس طرح 200 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرنے والے اصل صارفین اس سہولت سے محروم رہتے ہیں اور اس رعایت کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کی تیل پروڈیوس کرنیوالی کمپنی برینٹ کے تیل کی قیمت کم ہو گئی لیکن ہماری حکومت ہر پندرہ روز بعد تیل کی قیمتوں میں ردو بدل کے نام سے کمی کی بجائے اضافہ کر دیتی ہے۔ ہم جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کا جائزہ لیں تو صورت حال کچھ اس طرح بنتی ہے۔ ایران جنگ کے بعد بھارت میں پٹرول کی قیمت میں 30 روپے اضافہ ہوا جبکہ سری لنکا میں 20 روپے بنگلہ دیش میں 35 روپے اور افغانستان میں صرف 2روپے اضافہ ہوا۔ جب ہم جنوبی ایشیا کے ان ممالک کا پاکستان میں بڑھائی گئی قیمتوں کا جائزہ لیں تو 28فروری کو شروع ہونے جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مئی 2026 تک 200 روپے سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اس تجزیے سے اندازہ لگائیں کہ انڈیا سری لنکا بنگلہ دیش کی معیشتیں ہم سے زیادہ مضبوط ہیں بلکہ افغانستان کی معیشت سب سے زیادہ مظبوط ہے افغانستان نے پٹرول کی قیمت میں صرف 2 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ۔ سری لنکا ایک وقت میں ڈیفالٹ بھی ہو گیا تھا لیکن اس نے اپنی معیشت کو دوبارہ اپنے پاوں پر کھڑا کیا ۔ وزارت پٹرولیم کے حکام نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو ایک بریفنگ میں بتایا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ 117 روپے فی لٹر پٹرولیم لیوی کا نفاذ ہے کیونکہ لیوی میں اضافہ ائی ایم ایف کے قرضے کی اہم شرط ہے۔پٹرول کا 30دن کا اور ڈیڑل کا 27 روز کا زخیرہ موجود ہے۔ اوگرا کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت ایک لیٹر پٹرول پر 145 روپے کما رہی ہے جن میں کسم ڈیوٹی پٹرولیم لیوی تقسیم کار کمپنیوں کے کمیشن وغیرہ شامل ہیں۔ پٹرول کی اصل قیمت 246.76 روپے لیٹر ہے۔ ہمارے ہاں اصل مسئلہ یہ ہے ہماری حکومتیں اپنے خرچے کم کرنے کی بجائے سارا بوجھ عوام پر ڈال دیتی ہیں جبکہ ان ممالک کی حکومتیں عوامی فلاح کا سوچتی ہیں ۔ امریکہ ایران ثالثی کی وجہ سے سعودی عرب قطر کویت متحدہ عرب امارات سے ہمارے برادرانہ تعلقات اور مضبوط ہوئے ہیں ۔ یہ تمام ممالک مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ اب بھی ہم ان ممالک خاص طور پر سعودی عرب سے سستا تیل خرید کر عوام کو فائدہ دے سکتے ہیں ۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی مراسم ہیں امریکہ ایران ثالثی میں پاکستان مرکزی کردار ادا کر رہا ہے ہم ایران سے سستا تیل خرید کر عوام کو بڑا ریلیف دے سکتے ہیں لیکن ایران پر امریکی معاشی پابندیوں اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کی وجہ سے ہم ایران سے سستا تیل نہیں خرید سکتے۔ ہم روس سے بھی کچھ وجوہات کی بنا پر سستا تیل نہیں خرید سکتے ۔ آخر میں ہم حکومت وقت سے درخواست کریں گے کہ پٹرولیم لیوی میں کمی کرکے عوام کو ریلیف دیا جاے تاکہ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو کچھ ریلیف مل سکے اور اپنی محدود آمدنی میں گزارا کر سکیں ۔ اخباری اطلاع کے مطابق حکومت روسی تیل خریدنے پر غور کر رہی ہے اگر یہ خبر درست ہے تو آنے والے دنوں میں عوامی ریلیف کی توقع کی جا سکتی ہے۔

Exit mobile version