Site icon Daily Pakistan

پی ٹی آئی ۔ دوست اور دشمن!

یہ ایک مشہور بات ہے کہ مصیبت کے دنوں میں ہی دوست دشمنوں کا پتہ چلتا ہے، اچھا دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے اور اچھی بیوی وہی جو برے حالات میں بھی ساتھ نبھائے ورنہ خوشیوں کے تو سب ہی ساتھی سب ہی سانجھے ہوتے ہیں۔ تاہم مشکل وقت کی ایک خاص بات ہے کہ دوست اور دشمنوں کو پہچاننے میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ بلاشبہ عمران خان اور پی ٹی آئی پر اسوقت انتہائی مصیبت اور پریشانی کا دور گذر رہا ہے۔ جبر و تشدد اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ یہ کھیل کس بھونڈے طریقے پر کھیلا جارہا ہے اور مخالف ہیں کہ دکھ دینے میں ایک لمحہ بھی نہیں جانے دیتے۔ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت خان کو گرایا گیا اور یہ اب لگے ہوئے ہیں اس پر بھنگڑے ڈالنے اور ادھر جب قربانیوں کا وقت آیا تو حیرت انگیز طور چوری خور طوطے طوطیاں سب پھر سے اڑ گئیں۔جو جان دینے کی قسمیں کھاتے رہے، اقتدار میں وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے، زرا سا کڑا وقت کیا آیا ، بجائے خاموشی کے، میڈیا پر آ کر بدخوہیاں کرتے اور جان خلاصی کرواتے رہے۔ اچھے برے وقت آتے اور گزر جاتے ہیں۔ دنیا کے جھوٹے خدا اپنی تدبیریں آزماتے رہتے ہیں اور اوپر بیٹھا ہم سب کا خدا اپنی حکمت عملی اپنے طور پر ترتیب دیتا رہتا ہے، وہ سب کا خدا ہے اور یہ جھوٹے دیوی دیوتا جو نہ سنتے ہیں نہ بول سکتے ہیں اوپر والا جب ان سب کی تدبیروں پر پانی پھیر دیتا ہے تو پھر ان بت کدوں سے نہ سسکیاں سنی جا سکتی ہیں نہ انکی پتھر آنکھوں سے آنسو نکل پاتے ہیں۔پی ٹی آئی کے چوری خور طوطوں کا ایک فال نکالنے والا طوطا آجکل بڑا مشہور ہے۔ کوئی سوال کرو، فٹ سے جواب بتا دیتا ہے، میڈیا نے اسے جو پوچھو جانو والی سرکاربنا ڈالا ہے، چابی والا یہ کھلونا اتنا چالاک نکلا کہ مشکل وقتوں میں پہلے ہی اپنا راستہ الگ کر لیا۔ اسکے حساب میں اگلے انتخابات میں خان اسے کہیں نظر نہیں آ رہا، لیکن سنا ہے NA-89 میانوالی کے علاہ ایک دو اور حلقوں سے خان کے کاغذات جمع ہوچکے ہیں، اس بچے جمہورے کو اب چاہئے کہ کاغذات مسترد کرانے میں کوئی چمتکار دکھائے، وہ کیا کہتے ہیں ابھی چمچے میں بھی بہت ہے اور ہانڈی میں بھی بہت کچھ۔ سرکار بھی انکی،الیکشن کمیشن بھی اپنا، سو جو چاہو کر لو کروا لو۔ خدا خدا کر کے الیکشن کا اعلان ہو گیا،سب پارٹیاں اپنی اپنی صف بندیوں جوڑ توڑ میں مصروف ہیں اور کچھ حد تک مطمئن ہیں کہ ان سب کا دشمن نمبر ایک عمران خان آجکل جیل کے اندر پڑا ہے، اسکا اب وہ دم خم نہیں اور یہ طوطا فال سرکار ٹی وی پر کئی مرتبہ یہ پیشنگوئی بھی کر چکا ہے کہ وہ اس الیکشن میں خان کو دیکھ پا رہا ہے، نہ پی ٹی آئی اور نہ اسکا بلا۔ یہ دراصل کسی کا مہرہ بنا بیٹھا ہے، یہ ان پارٹیوں کی بھی خدمت پر لگا بیٹھا ہے جو سیاست کو ایک کاروبار سمجھتے ہیں، جہاں امیدوار آتے ہیں، پیسہ لگاتے اور اپنی من کی مرادیں پاتے ہیں، سنا ہے اس مکار طوطے نے بھی اپنا ٹھکانہ ڈھونڈنا شروع کر دیا ہے اور ایک پرانے سو سالہ سیاسی بابے کے آجکل یہ چرنوں میں بیٹھا ہے کہ گرو جی سہانوں وی کجھ لا، کچھ اور بڈھے طوطے یہ فالیں بھی نکالتے رہے کہ پی ٹی آئی ختم ۔ انکا کوئی کاغذ لینے والا ہی نہیں ہو گا، لیکن خدا کی قدرت آج ماشااللہ نیشنل اور مختلف صوبائی اسمبلیوں کی تمام کی تمام سیٹوں پر تحریک انصاف کے سیکڑوں خفیہ اور اعلانیہ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے ہیں ۔ کون جیتا کون ہارا، یہ الگ بحث ہو گی لیکن جبر کے اس دور میں جب پی ٹی آئی کو ایک ملک دشمن کے جماعت کے برابر لا کر اتنا بدنام کیا گیا کہ لگتا تھا واقعی اگلے چند سالوں تک اسکا کوئی نام لیوا بھی نہیں ہو گا، لیکن گھٹن اور خوف کے اس بت کو پاش پاش کرنے کیلئے جب ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی لاتعداد وکلا نے اپنے سینے وقت کے فرعونوں کے سامنے رکھ دئیے تو امید اور روشنی پھر سے ٹمٹمانے لگی،آہستہ آہستہ لمبا سکوت ٹوٹا اور پھر سے آگ اس شدت سے بھڑکی کہ کرائے پر لائے گئے سارے وفادار ادھر ادھر بھاگنے پر مجبور ہو گئے کہ کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا۔ آج کدھر گئے وہ سرکاری طوطا فال سرکار وہ کہاں گئے سارے کے سارے نجومی، جوتشی اور کاہن، دیکھوالیکشن کے اعلان کےساتھ ہی پی ٹی آئی کے امیدواروں کی بھی اسی طرح لائن لگ چکی ہے۔ جیسے باقی سب لوگ الیکشن لڑنے جا رہے ہیں۔خبر ہے کہ NA-47 سے خان کے مخلص ساتھی مشہور قانون دان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نیاز اللہ خان نیازی نے اپنا سیاسی مورچہ سنبھال لیا ہے۔مسٹر نیازی نے اس وقت یہ ذمہ داری سنبھالی ہے جب وہ اپنے کیرئیر کے عروج پر ہیں۔ عام سیاسی زندگی اور پروفیشنل وکیل کی زندگی بالکل دو الگ چیزیں ہیں لیکن خان کی کال پر اپنا سب کچھ تیاگ کر اس طرح لبیک کہنا تو ایک نہایت ہی کٹھن اور مشکل فیصلہ ہے اور خاص طور پر اس دور میں جب کہنے والوں کے مطابق کہ اس الیکشن میں پی ٹی آئی کے کوئی قریب سے بھی نہیں گزرے گا۔نیاز اللہ خان بار پالیٹکس میں ایک ممتاز نام اور مقام رکھتے ہیں، انکا اپنا ایک بہت ہی مضبوط دھڑا ہے اور وہ اسلام آباد بار کے صدر رہ چکے ہیں۔ عمران خان کے سائیفر کیس بشمول تمام مشکل ترین مقدمات میں خان کی پیروی کر چکے ہیں، ہر مشکل ہر کٹھن وقت میں مسٹر نیازی نے خان کا ساتھ دیااور ادھر سردار لطیف کھوسہ نامورقانون دان،سابق گورنر پنجاب ، جناب بیرسٹر سلمان راجہ، محترم شعیب شاہین ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان، بیرسٹر گوہر خان، سلمان صفدر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان,ڈاکٹر بابر اعوان سینئر اے ایس سی جیسی ہستیوں کا تحریک انصاف کے ہچکولے کھاتے سفینے کے پتوار اسوقت سنبھالنا جب اس کے پیندے میں اپنوں نے بڑے بڑے سوراخ کر چھوڑے تھے، یہ سب کچھ خدا کی مدد کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے اور ان جیسے سیکڑوں بے لوث افراد ایک مناسب وقت کے انتظار میں بھی موجود ہیں کہ سفاکیت اور فسطائیت کا یہ دور جب ہٹے گا جب وہ اپنے اس قافلے میں پھر سے شامل ہوں۔ لاہور بار نے بھی انتہائی ہمت اور دلیری سے جھوٹ کو جھوٹ کہا ہے اور ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ڈکٹیٹرشپ کے اس نظام کو اسوقت للکارا جب ہر طرف خوف اور جبر کا راج چھا چکا تھا، لاہور بار کا پلیٹ فارم اسوقت گرجا جب سب کی زبانیں خاموش تھیں جب ہر کوئی ادھر ادھر دبکا بیٹھا تھا۔ سچ ہے وکیلوں نے ہی پاکستان بنایا تھا اور مشکل کی ہر گھڑی میں یہ وکیل ہی اس کی حفاظت پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ کر اسکا دفاع بھی کرتے ہیں۔ سنا ہے بیرسٹر اعتزاز احسن بھی اسی قافلے میں شامل ہو رہے ہیں اور اگر یہ سچ ثابت ہو جاتا ہے تو پھر اس تحریک کو اتنا دوام اتنی طاقت اور اعتماد ملے گا جو کسی کے شاید وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔ پی ٹی آئی زندہ ہے اور یہ ہمیشہ زندہ رہے گی کیونکہ یہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے اور خان کا حق و سچ کا فلسفہ انکے دلوں میں گھر کر چکا ہے۔

 

Exit mobile version