کسے معلوم نہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال طویل عرصے سے عالمی توجہ کا مرکز رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں ایک ایسا پہلو بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے جس پر نسبتاً کم گفتگو کی جاتی رہی ہے اور وہ ہے کشمیری عوام کی ذہنی صحت پر مسلسل تنازع اور عدم استحکام کے اثرات۔ اسی تناظر میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کی رپورٹ”مقبوضہ جموں و کشمیر میں ذہنی صحت”ایک اہم دستاویز کے طور پر سامنے آئی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس رپورٹ نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ طویل عرصے سے جاری کشیدگی، عسکری ماحول اور انسانی حقوق کے مسائل نے کشمیری معاشرے کی نفسیاتی کیفیت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔جان کاروں کے مطابق ذہنی صحت کسی بھی معاشرے کی مجموعی فلاح و بہبود کا بنیادی جزو ہوتی ہے اور اس کا گہرا تعلق سماجی حالات، معاشی استحکام اور بنیادی انسانی حقوق سے جڑا ہوتا ہے۔ جب کسی خطے میں طویل عرصے تک عدم تحفظ، تشدد اور غیر یقینی صورتحال برقرار رہے تو اس کے اثرات لازماً عوام کی ذہنی حالت پر مرتب ہوتے ہیں۔ کے آئی آئی آر کی رپورٹ بھی اسی حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جاری تنازع میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ آٹھ ہزار سے زیادہ جبری گمشدگیوں کو دستاویزی شکل دی جا چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس طرح کے حالات نے کشمیری معاشرے میں اجتماعی صدمے، خوف اور ذہنی دباؤ کو فروغ دیا ہے ۔ کے آئی آئی آر رپورٹ کے مطابق ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تقریباً 45 فیصد بالغ افراد ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جو تعداد کے لحاظ سے تقریباً اٹھارہ لاکھ افراد بنتی ہے۔ مزید یہ کہ ڈپریشن کی شرح 41 فیصد، بے چینی 26 فیصد جبکہ بعد از صدمہ ذہنی عارضہ یعنی پی ٹی ایس ڈی 19 فیصد افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ وادی میں ذہنی صحت کا بحران ایک سنجیدہ سماجی مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔اسی طرح سروے کیے گئے تقریباً 47 فیصد بالغ افراد نے اعتراف کیا کہ وہ کسی نہ کسی شدید صدمہ خیز واقعے سے گزر چکے ہیں۔ جان کاروں کے مطابق ایسے واقعات میں تشدد، گرفتاریوں، ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں جیسے تجربات شامل ہیں جن کے اثرات طویل عرصے تک ذہنوں پر قائم رہتے ہیں۔ بچوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق آٹھ سے چودہ سال کی عمر کے تقریباً 22 سے 27 فیصد بچوں میں مختلف نفسیاتی مسائل پائے گئے ہیں۔ماہرین کے بقول بچپن میں ایسے حالات کا سامنا کرنے والے افراد کی ذہنی نشوونما اور شخصیت کی تشکیل پر دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ذہنی صحت کے مسائل میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1994 سے 2012 کے درمیان خودکشی کی کوششوں میں 250 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں ذہنی دباؤ اور مایوسی کی کیفیت کس حد تک بڑھ چکی ہے۔تاہم اس صورتحال کا ایک اور تشویشناک پہلو ذہنی صحت کی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ جان کاروں کے مطابق ایک کروڑ پچیس لاکھ سے زائد آبادی والے اس خطے میں ذہنی صحت کے ماہرین کی تعداد نہایت محدود ہے۔ کے آئی آئی آر رپورٹ کے مطابق پورے خطے میں صرف 41 ماہرینِ نفسیات موجود ہیں اور ان میں سے بیشتر جموں اور سری نگر جیسے بڑے شہروں تک محدود ہیں۔ اسی طرح ذہنی صحت کی خدمات زیادہ تر گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر اور شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز تک محدود ہیں۔سماجی ماہرین کے مطابق خواتین بھی اس بحران سے شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 61 فیصد خواتین تولیدی صحت کے مسائل کی شکایت کرتی ہیں جبکہ قومی اوسط 39 فیصد ہے۔ اسی طرح ایس کے آئی ایم ایس کی ایک تحقیق کے مطابق پی سی او ایس کے تقریباً 65 سے 70 فیصد مریضوں میں نفسیاتی مسائل بھی پائے گئے۔ جان کاروں کے مطابق اس صورتحال کے پس منظر میں طویل عدم استحکام، معاشرتی دباؤ اور ذہنی تناؤ جیسے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ وادی میں بیواؤں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً 91 فیصد بیواؤں نے دوبارہ شادی پر غور نہیں کیا۔ مبصرین کے مطابق اس کے پیچھے سماجی روایات، نفسیاتی صدمہ اور معاشی مشکلات جیسے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ کے آئی آئی آررپورٹ میں ایک واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے جس میں 15 سالہ اشتیاق احمد کھنڈے کو 29 جون 2010 کو قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد ان کی والدہ جمیلہ بانو شدید ذہنی صدمے کا شکار ہو گئیں اور انہیں ڈپریشن اور پی ٹی ایس ڈی کی تشخیص ہوئی۔ جان کاروں کے مطابق ایسے واقعات کشمیری معاشرے کے ہزاروں خاندانوں کی مشترکہ حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔سفارتی ماہرین کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے ضروری ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ، سماجی انصاف اور صحت کی سہولیات کو ترجیح دی جائے۔ جان کاروں کے بقول جب تک تنازع کے بنیادی عوامل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی فلاح و بہبود کو مرکزِ نگاہ نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک کشمیری عوام کو درپیش ذہنی اور سماجی مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں ہو سکے گا۔ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ دنیا بھر کے انسان دوست حلقے اپنی معاشرتی ذمہ داری سمجھتے اس سنگین المیے کے تدراک کیلئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے ۔
کشمیریوں کی ذہنی صحت ۔بھارتی نشانے پر ۔!

