Site icon Daily Pakistan

کشمیری رہنما نظربند

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت کی مختلف جیلوں میں حریت رہنمائوں، کشمیری نوجوانوں اور کارکنوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام سیاسی نظربندوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زور دیا کہ وہ کشمیری سیاسی نظربندوں کی رہائی کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائے، جنہیں جیلوں میں مسلسل علاج معالجے سمیت تمام بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، نعیم خان، ایاز اکبر، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، فاروق احمد ڈار، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، بلال صدیقی، مولوی بشیر، مشتاق الاسلام اور ڈاکٹر قاسم فکتو سمیت سیکڑوں کشمیری گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے بھارتی جیلوں میں مسلسل قید ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام سے روا رکھے جانیوالے غیر انسانی سلوک پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔ادھر انٹرنیشنل فورم فار جسٹس ہیومن رائٹس جموں و کشمیر کے چیئرمین محمد احسن انتو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سینکڑوں بے گناہ کشمیری بھارت کی بدنام زمانہ جیلوں میں مسلسل قید ہیں اور انہیں غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کا نوٹس لینا چاہیے۔ بھارت غیر قانونی جابرانہ اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کر سکتا۔ انہوں نے جدوجہد آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عدالتوں پر بوجھ کم کرنے اور بروقت انصاف کو یقینی بنانے کیلئے ”ٹیلی لا ”کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کوششیں کی جانی چاہئیں کہ صرف عدالتی سماعت کیلئے درکار مقدمات عدالتوں تک پہنچیں جبکہ دیگر کو” دیشا پروگرام” کے تحت ٹیکنالوجی پر مبنی قانونی امداد کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔” ٹیلی لا” خاص طور پر دور دراز علاقوں میں شہریوں کو وکلائ سے جوڑتا ہے، انہیں ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کرتا ہے اور ثالثی کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے میں مدد کرتا ہے۔عمر عبداللہ کا بیان کشمیریوں کے خلاف ہزاروں زیر سماعت اور زیر التوا مقدمات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اس اقدام سے جیلوں میں نظربند ان لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو مقدموںکی سماعت کے منتظر ہیں۔ بہت سے کشمیری قانونی شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیںجن کے مقدمات برسوں سے زیر التوا ہیں۔ ٹیلی لاء ان کیلئے بروقت انصاف کو یقینی بنانے میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔کشمیری حرّیت پسند رہنماؤں ، کارکنوں پر ظلم و جبر کوئی نئی بات نہیں ۔ بلاشبہ، آزادی کی تحریک قید و بند کی صعوبتوں کے بغیر آگے نہیں بڑھتی کہ ہر تحریک کو مدّو جزر، نشیب و فراز اور خوشی و غمی کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ تحریکِ آزادی جہدِ مسلسل کا نام ہے اوراس کیلئے غاصب قوّت سے نبرد آزما ہونا یقینی امر ، تو یہی صورتِ حال جمّوں و کشمیر کی تحریکِ آزادی اور اس سے وابستہ رہنماؤں ، کارکنوں کو بھی در پیش ہے۔ یوں تو کشمیری، تحریکِ آزادی کے آغاز ہی سے قید وبند کی صعوبتوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، لیکن 1990ء کے عشرے میں جب اس تحریک میں تیزی آئی تو کشمیریوں پر بھارت کی تعذیب کے گویا ایک نئے دَور کا آغاز ہوگیا۔ کشمیری حرّیت پسندوں سے نہ صرف جمّوں و کشمیر کی جیلیں بھردی گئیں، بلکہ ریاست سے باہر، بھارت کی جیلوں میں بھی ان کی بڑی تعداد کو قید کیا گیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس وقت مقبوضہ جمّوں و کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں تین ہزار سے زایدحرّیت رہنما اور کارکنان قید ہیں۔ میر واعظ عمر فاروق بھی وقتاً فوقتاً نظر بندی کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ اسی طرح محمّد یاسین ملک، شبّیر احمد شاہ ، مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر عبدالحمید فیاض اور آسیہ اندرابی بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ یاد رہے،بیش ترمرکزی رہنماؤں کی عْمریں زیادہ ہیں اور وہ صحت کے متعدّد مسائل کا بھی شکار ہیں۔ ”تحریکِ حرّیت جمّوں و کشمیر” کے چیئرمین ،محمّد اشرف صحرائی بھی ان ہی رہنماؤں میں سے ایک ہیں، جو مئی 2021ء میں دورانِ حراست انتقال کرگئے۔ذرا سوچیے کہ محمّد اشرف صحرائی 77 سال کی عْمر میں جمّوں کی اودھم پور جیل میں محبوس تھے، جب کہ گزشتہ برس مئی2020ء میں ان کے صاحب زادے ،جنید صحرائی نے آزادی کے سفر میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ابھی اشرف صحرائی جواں سال بیٹے کی موت کا غم بھی نہ بھول پائے تھے کہ جولائی2020ء میں انہیںکالے قانون، پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لے لیا گیا۔ عالمی وبا کووِڈـ19 کی لہر کے دوران ضعیف العمری کے باوجود یہ بزرگ سیاسی قیدی، محض حقِ آزادی مانگنے کی سزا بھگت رہے تھے۔مقبوضہ جمّوں و کشمیر کی حرّیت قیادت جس طرح ایک عرصے سے پابندِ سلاسل ہے اور اس پر تیس سال پرانے مقدمات کھولے جار ہے ہیں یا دہشت گردی میں مالی اعانت اور منی لانڈرنگ جیسے بے سروپا الزامات لگائے جا رہے ہیں، اْن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ کشمیری حرّیت قائدین جیلوں سے رہا نہ ہونے پائیں۔ افسوس ناک طور پر ان محبوس قائدین کے اہلِ خانہ کی جانب سے ان کے صحت کے حوالے سے مسلسل خدشات کے اظہار کے باوجود اس جانب کوئی توجّہ نہیں دی جا رہی۔

Exit mobile version