Site icon Daily Pakistan

کیا دنیا میں کوئی بھی جنگ مشترکہ مشاورت کے بغیر جیتنا ناممکن ہے ؟

دنیا اس وقت ایک ایسے غیر معمولی جغرافیائی اور تذویراتی موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا روایتی توازن اپنی پرانی شکل میں برقرار نہیں رہا اور ایک نیا عالمی ڈھانچہ خاموشی مگر تیزی کے ساتھ تشکیل پا رہا ہے یہ وہ دور ہے جہاں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ سمندروں سیٹلائٹس معیشتوں توانائی کے راستوں اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں بھی لڑی جا رہی ہیں اور ہر فیصلہ بیک وقت کئی خطوں کے مستقبل پر اثر انداز ہو رہا ہے مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی اسی بدلتے ہوئے عالمی نظام کا سب سے حساس اور نمایاں چہرہ ہے جہاں امریکہ ایران اسرائیل اور خلیجی ریاستیں ایک ایسے پیچیدہ تذویراتی جال میں الجھی ہوئی ہیں جس میں دفاع معیشت اور سفارتکاری ایک دوسرے سے الگ نہیں رہیں امریکی بحری افواج کی خلیج فارس بحیرہ عرب اور بحیرہ روم میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو محض دفاعی موجودگی نہیں بلکہ ایک وسیع تر طاقت کے اظہار اور ممکنہ بڑے بحران کے لیے پیشگی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ بعض ماہرین اسے طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیتے ہیں اسی ماحول میں ایران اپنی اسٹریٹجک گہرائی میزائل صلاحیتوں اور پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے ایک ایسا دبا برقرار رکھے ہوئے ہے جو اسے براہ راست جنگ سے بچاتے ہوئے مخالف قوتوں کو مسلسل غیر یقینی کیفیت میں رکھتا ہے یہ کیفیت جدید عسکری اصطلاح میں غیر متوازن جنگ کہلاتی ہے جہاں کم وسائل کے ساتھ بڑے فریق کو دفاعی پوزیشن پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے دوسری جانب اسرائیل اور بعض خلیجی ریاستیں اپنے دفاعی ڈھانچے کو نئی ٹیکنالوجی میزائل شیلڈز اور لیزر سسٹمز کی طرف لے جا رہی ہیں جس سے پورا خطہ ایک نئے دفاعی تجرباتی مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے اسی دوران سفارتی سطح پر سیکنڈ رانڈ مذاکرات جیسے عمل بظاہر امن کی کوششیں نظر آتے ہیں مگر عالمی دفاعی تجزیہ کار انہیں ایک وسیع تر اسٹریٹجک کھیل کا حصہ سمجھتے ہیں جہاں ہر فریق اصل فیصلے سے پہلے وقت حاصل کرنے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کرتا ہے توانائی کی سیاست اس پورے منظرنامے کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے راستے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت کی سانسوں سے جڑے ہوئے ہیں کسی بھی کشیدگی کی صورت میں تیل کی قیمتوں سپلائی چین اور عالمی مہنگائی پر فوری اور شدید اثرات مرتب ہونا اب ایک عملی خطرہ سمجھا جا رہا ہے خلیجی ریاستیں اسی بدلتے ہوئے ماحول میں اپنے روایتی کردار سے آگے بڑھ کر ایک نئے دفاعی اور معاشی ماڈل کی طرف جا رہی ہیں دفاعی خود کفالت مقامی اسلحہ سازی جدید میزائل نظام اور نئی اسٹریٹجک شراکت داریوں نے خطے میں ایک نیا سیکیورٹی آرکیٹیکچر تشکیل دینا شروع کر دیا ہے اس پورے عالمی نقشے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے اپنی جغرافیائی حیثیت ایٹمی صلاحیت پیشہ ور عسکری ڈھانچے اور خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ بیک وقت تعلقات کی وجہ سے پاکستان ایک ایسے اسٹریٹجک پل کی حیثیت رکھتا ہے جو مختلف طاقتوں کے درمیان رابطہ بھی فراہم کرتا ہے اور توازن بھی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی ٹیکنالوجیکل اور معاشی تعاون عالمی سطح پر ایک ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک بلاک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو نہ صرف خطے کی سیکیورٹی کو نئی شکل دے سکتا ہے بلکہ مستقبل کے عالمی طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے پاکستان کی دفاعی مہارت تربیتی نظام اور سیکیورٹی تعاون خلیجی ریاستوں کیلئے ایک اہم سہارا بنتا جا رہا ہے جبکہ پاکستان خود بھی اس شراکت داری کے ذریعے معاشی استحکام اور تزویراتی گہرائی حاصل کر رہا ہے عالمی طاقتیں اس بدلتے ہوئے منظرنامے کو انتہائی باریک بینی سے دیکھ رہی ہیں امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی روایتی برتری برقرار رکھنے کی کوشش میں ہیں جبکہ چین اور روس اس پورے عمل کو ایک کثیر القطبی عالمی نظام کے ابھار کے طور پر دیکھتے ہیں یورپی ممالک توانائی بحران سیکیورٹی خدشات اور مہاجرین کے دبائو کے باعث محتاط حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں جبکہ ترکیہ ایک متوازن مگر خودمختار پالیسی کے ذریعے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے موجودہ انٹیلی جنس اور دفاعی تجزیے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دنیا اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں کوئی بھی محدود واقعہ ایک بڑے عالمی بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے سمندری راستوں کی بندش سائبر حملے سیٹلائٹ وارفیئر اور پراکسی تنازعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ آنے والی جنگیں صرف روایتی نہیں بلکہ کثیر الجہتی ہوں گی جہاں معیشت ٹیکنالوجی اور معلومات براہ راست جنگ کا حصہ ہوں گے اس پورے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار محض تماشائی کا نہیں بلکہ ایک فعال اور تزویراتی ستون کا بنتا جا رہا ہے جو نہ صرف خطے میں استحکام پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ مختلف طاقتوں کے درمیان اعتماد سازی اور رابطے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے آنے والے دور میں پاکستان کی عسکری مضبوطی سفارتی توازن اور معاشی سمت اسے اس پوزیشن میں لا سکتی ہے کہ وہ محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور فیصلہ کن ریاست کے طور پر ابھرے جو جنگ اور امن کے اس نازک توازن میں ایک کلیدی کردار ادا کرے اور اسی تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی دفاعی اور ٹیکنالوجیکل شراکت داری ایک ایسے نئے اسٹریٹجک بلاک کی شکل اختیار کر رہی ہے جس نے عالمی طاقتوں کے حساب کتاب کو بھی نئے سرے سے ترتیب دینا شروع کر دیا ہے اور جنرل عاصم منیر کے دور میں اس تعاون میں جو عملی رفتار اور ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے اس نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ مستقبل میں مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے تزویراتی فیصلے یکطرفہ نہیں بلکہ مشترکہ مشاورت کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔اس لیے اتفاق میں برکت کا قانون جوہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے 1400 سال پہلے رائج کیا تھا اس پر عمل کرنا ہی بقا فلاح اور سالمیت کی گارنٹی ہوگا۔

Exit mobile version