یہاں فنکار بھی موجود ہیں، کھلاڑی بھی، دانشور بھی اور ایسے باصلاحیت نوجوان بھی جو دنیا بھر میں وطن عزیز کا نام روشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم ہمیشہ اپنے قومی ہیروز کی عزت و تکریم کو باعث فخر سمجھتے ہیں اور جب کوئی پاکستانی عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرتا ہے تو پوری قوم خوشی سے جھوم اٹھتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کھلاڑی نے اپنے مخصوص کھیل میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو پورے ملک میں انعامات کی بارش شروع ہو گئی ۔ وزیراعظم پاکستان، گورنرز، وزرائے اعلی اور متعدد بااثر شخصیات نے خصوصی ملاقاتوں، دعوتوں اور قیمتی تحائف کے اعلانات کیے۔کئی صنعتی اداروں نے نئی عالیشان گاڑیاں بطور تحفہ پیش کیں، بڑے بڑے ہوٹلوں نے فری رہائشی پیکجز دیے جبکہ وفاقی حکومت نے واپڈا میں اسکی معمولی ملازمت کو اعلیٰ عہدے میں تبدیل کردیا ۔ یقینا اپنے قومی ہیروز کی حوصلہ افزائی ایک مثبت روایت ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف وقتی انعامات ہی کسی قوم کی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں؟لاتعداد قیمتی گاڑیاں، اربوں روپے کے کیش انعامات، پروٹوکول اور وقتی شہرت آخر کہاں تک ساتھ دیتی ہیں؟کیا کبھی یہ جائزہ لیا گیا کہ ان انعامات سے قومی کھیلوں کے فروغ کیلئے کون سا مستقل منصوبہ وجود میں آیا؟کیا ان کھلاڑیوں کو کھیلوں کے اداروں میں مشاورتی کردار دے کر نوجوان نسل کی تربیت اور رہنمائی کی ذمہ داری سونپی گئی؟اگر حکومت ان باصلاحیت افراد کو اعزازی عہدے، اسپورٹس اکیڈمیز یا نوجوانوں کی رہنمائی کے پروگرامز سے جوڑتی تو شاید کھیلوں کا مستقبل زیادہ روشن ہوتا ۔ یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج کے دور میں ایک متوسط طبقے کیلئے صرف ایک گاڑی کا پٹرول پورا کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ملک مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی دبائو کا شکار ہے جبکہ عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں نے قومی معیشت کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ایسے حالات میں اربوں روپے کے انعامات اور قیمتی تحائف یقینا عوامی حلقوں میں سوالات کو جنم دیتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز پاکستان میں کئی ایسی بااثر اور دولت مند شخصیات موجود ہیں کہ جنہوں نے اپنے جہاز رکھے ہوئے ہیں مزید برآں بعض شخصیات نجی جہازوں، وسیع فارم ہاؤسز، عالیشان محلات اور قیمتی گاڑیوں کے مالک ہیں۔یہ کسی بھی ترقی پذیر معاشرے کے لیے خوشی اور حوصلہ افزائی کی بات ہے کہ لوگ کامیاب ہوں، سرمایہ کاری کریں اور ترقی کریں لیکن ایک عام پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال ضرور جنم لیتا ہے کہ آخر ایسا کون سا نظام، حکمت عملی یا راز ہے جس نے چند ہی برسوں میں بعض لوگوں کو فرش سے عرش تک پہنچا دیا؟میرا مقصد کسی شخصیت پر تنقید نہیں بلکہ قومی ترجیحات کی طرف توجہ دلانا ہے ۔ اگر ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک، خصوصا چین، کی جانب دیکھیں تو وہاں کھیلوں اور فنون کو قومی تعمیر کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔چین کی کم عمر بچیاں اور نوجوان خطرناک اور حیرت انگیز کھیلوں اور جمناسٹک کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی کئی فٹ بلندی سے کرتب دکھاتے ہیں۔وہ نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری دنیا میں اپنے فن کا لوہا منواتے ہیں، مگر وہاں انعامات کا انداز مختلف ہے۔چینی حکومت کھلاڑیوں کو صرف وقتی تحائف دینے کے بجائے انہیں قومی تربیتی نظام، تحقیقی مراکز، کوچنگ اداروں اور مستقل فلاحی ڈھانچے سے جوڑتی ہے تاکہ آنیوالی نسلیں بھی اس فن سے فائدہ اٹھا سکیں ۔ یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ چین دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ پاکستان قرضوں کے سہارے اپنی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کے باوجود بعض اوقات ہم ایسے فیصلے کر جاتے ہیں جو جذباتی تو محسوس ہوتے ہیں مگر قومی منصوبہ بندی سے مطابقت نہیں رکھتے۔آج پاکستان کو ضرورت صرف انفرادی انعامات کی نہیں بلکہ قومی اصلاحات کی ہے۔ہمیں کھیلوں، تعلیم، صحت، سیاحت، صنعت اور نوجوانوں کی تربیت کیلئے مستقل پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ہمیں ایسے ادارے بنانے ہوں گے جہاں صلاحیتیں صرف وقتی خبروں کی زینت نہ بنیں بلکہ مستقل قومی اثاثہ ثابت ہوں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں بے شمار سرمایہ کار، صنعت کار اور کامیاب کاروباری شخصیات موجود ہیں۔اگر یہی قوتیں قومی فلاح، نوجوانوں کی تعلیم، اسپورٹس اکیڈمیز، ٹیکنالوجی سینٹرز اور روزگار کے منصوبوں میں منظم انداز سے سرمایہ کاری کریں تو پاکستان نہ صرف قرضوں سے نجات حاصل کر سکتا ہے بلکہ دنیا کے باوقار ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔ آج سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ہم وقتی شہرت اور جذباتی فیصلوں سے آگے نکل کر قومی منصوبہ بندی کی طرف بڑھ سکیں گے؟کیا ہم اپنی آئندہ نسلوں کیلئے ایسا پاکستان چھوڑ سکیں گے جو معاشی طور پر خودمختار، کھیلوں میں مضبوط، تعلیم میں ترقی یافتہ اور دنیا میں باوقار مقام رکھنے والا ہو؟وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی سوچ اپنائیں۔وطن عزیز پاکستان ہم سب کا مشترکہ گھر ہے اور اس کی مضبوطی ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔اور ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہماری یہ تمام شان و شوکت اس وطن عزیز کی بدولت ہے اور اس کی ترقی ہی ہماری خوشحالی کی ضامن ہے نیز اس کی خودداری اور سلامتی سے ہی ہماری شان و شوکت وابستہ ہے اس لئے ہمیں چاہیے کہ کوئی لمحہ ضائع ضائع کئے بغیر وطن عزیز کو عالمی بنک کے چنگل سے آزاد کرائیں اور اگر خدانخواستہ کچھ تاخیر ہو گئی تو نہ ہمارے جہاز جہاز رہیں گے اور نہ ہی ہماری کالے پانی کی فیکٹریاں اور نہ ہی سیلاب زدہ ہاوسنگ سوسائٹیز۔اس لئے دیر نہ کریں ورنہ دیر ہو جائے گی۔
کیا ہم واقعی درست سمت میں سفر کر رہے ہیں؟

