Site icon Daily Pakistan

کینوں حال سناواں دل دا

کل ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔ یہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ میں کل شام کے وقت واک کے لیے جا رہا تھا اپنے خیالوں میں مست سوچ میں بہت سے واقعات تھالی سے گرے چاولوں کی طرح بکھرے پڑے تھے ۔بس اپنی مگن میں اردگرد سے کافی بے نیاز سا تھا کہ میری نظر ایک شخص پر پڑی جو بے رونق سے فٹ پاتھ پر بیٹھا پرسوز اور مدھم آواز میں یہ مصرعہ ”کینوں حال سناواں دل دا کوئی محرم راز نہ ملدا” بار بار کہہ کر اپنے اداس چہرے سے بہتے ہوئے آنسووں کو ہتھیلی سے صاف کرتا ہوا آنے جانے والوں سے بے نیاز مستی میں ڈوبا ہوا تھا ۔آواز میں بہت سوز تھا میں اسے ایک نظر دیکھ کر آگے چل دیا لیکن تھوڑی دور جا کر میں نے اسے مڑ کر دیکھا ،وہ اسی کیفیت میں آنکھیں بند کیے مصروف عمل تھا ۔میرے دل نے کہا اس شخص سے ملنا چاہئے اس کے دکھ کو اگرچہ میں حل نہیں کر سکوں گا لیکن سن تو سکتا ہوں۔ اس میں کیا حرج ہے شاید وہ کسی اندرونی چوٹ کا ذکر کرنا چاہے، اسی خیال میں قدم اس کی طرف بڑھ گئے ۔اس کے قریب پہنچ کر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، دکھی معلوم ہوتے ہو۔ اس جملے سے اس نے سرخ آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسووں کو ہتھیلی سے صاف کر تے ہوئے کہا ،کیاکرو گے پوچھ کر ہم تو اپنے من کی بھٹی میں سوچ کی آنچ سے سلگتے رہتے ہیں۔ اسے شعلہ نہیں بننے دیتے سلگنے میں بہت لطف آتا ہے، ”میں” کو” میں” کی حقیقت سمجھنے کا موقع ملتا ہے ۔اس کے اس گہرے معنی کے حامل جملے نے مجھے اس کے پاس فٹ پاتھ پر بیٹھنے کے لیے مجبور کر دیا۔ میرے منہ سے بے ساختہ یہ جملہ پھسل گیا، جناب آپ وہ نہیں جو نظر آ رہے ہو ،یہ کہانی کچھ اور لگتی ہے ۔کیا رازدان بن سکتا ہوں، جواباًاس نے میرے سراپے کو دیکھ کر کہا ،متلاشی ہو اس لیے رک گئے ہو، ورنہ گزرنے والے پلٹ کر نہیں دیکھتے، ان کے پاس دیکھنے اور سوچنے کا وقت ہی نہیں، مشینی زندگی گزررہی ہے، بے مقصد صرف دنیا کے حصول میں ضائع ہو رہی ہے، اسے فانی سے محبت ہے اور یہی آزمائش ہے۔ یہ نہیں سوچتے کہ جہاں انسانیت ہے ،وہاں روحانیت ہے ،وجود کے اندر جو روح موجود ہے ،وہ طاقت ہے ،دولت زندگی کو چلانے والی نہیں بلکہ یہ روح ہے، جس کی خوراک یاد الہی ہے، ہم تن کو پالتے ہیں، روح سے بے نیازی کی آٹ میں رہتے ہیں۔ روحانیت کا مطلب جانتے ہو ،یہ ایک انداز نظر کی تبدیلی ہے، مثلا ًدو شخص ایک جگہ سے گزرے ایک نے کہا کتنا بڑا محل ہے ۔اس میں بادشاہ رہتے تھے ،زندگی کی ہر سہولت ان کے پاس تھی، طاقت دولت شہرت، سب کچھ تھا ۔زندگی عیش عشرت سے گزار کر چلے گئے ،یادیں تاریخ کی صورت میں چھوڑ گئے، دوسرا وہاں سے گزرا تو کہنے لگا ویرانیاں چھوڑ گئے ،کیا کیا باغ جہاں میں لگ کر سوکھ گئے، ظل سبحانی آنجہانی بلکہ فانی کے فانی سلطانیاں ویرانیاں بن چکیں ،دونو ں نے کھڑے کھڑے اپنے اپنے مزاج اور نظر کے مطابق دیکھا بس یہیں سے روحانیت کی خصوصیت اور ابتدا ہے۔ ایک دوریش نے کہانی سنائی تھی آپ بھی سنواس پر ایک دوہا بھی ہے ،وہ درویش کہیں پیدل سفر کر رہے تھے، ایک بستی سے گزر ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ ایک عورت دوسری عورت کو مار رہی ہے پتہ چلا کہ مار کھانے والی اس کی نوکرانی ہے، وہ اسے اس وجہ سے مار رہی تھی کہ مالکن کی آنکھ میں کاجل لگاتے ہوئے اس کاجل میں ریت کا زرہ تھا جو آنکھ میں پڑ گیا، آنکھ میں چبھن ہوئی تو مارکی وجہ یہ ذرہ بنا، خیر انہوں نے یہ منظر دیکھا اور چل دیے۔ کافی عرصہ بعد اللہ کی یاد میں سفرکرتے کرتے سیر و فی الارض کے مقام دیکھتے دیکھتے جب واپس ہوئے ،ایک قبرستان سے گزر ہوا تو ایک عجیب منظر دیکھا ،ایک بوسیدہ قبر کے اندر انسانی کھوپڑی میں چڑیا نے گھونسلا بنا رکھا ہے ،جس میں اس کھوپڑی میںسے چڑیا کا بچہ آنکھ کی جگہ سوراخ سے اپنی چونچ نکالتا اور چڑیا اس کے منہ میں دانہ ڈالتی ،وہ درویش یہ منظر دیکھتے رہے پھر خیال آیا کہ معلوم کیا جائے یہ کس انسان کی کھوپڑی ہے۔ اللہ سے دعا کی تو وہ واقعہ نظروں کے سامنے آگیا ۔آہستہ آہستہ خیال نے اس عورت کی تصویر واضح کر دی جو اپنی ملازمہ کو کاجل کا ذرہ مل جانے اور آنکھ میں چبھن کو محسوس کرتے ہوئے ماررہی تھی، اس واقعہ پر انہوں نے دوہا کیا "جن لوئیں جگ موہیا سو لوئیں میں ڈٹھ کجلہ ،دیکھ نہ سیندیاں تے پنچھی سوئے بٹھ "یعنی جو آنکھیں ریت کا ذرہ برداشت نہ کر سکیں ان میں اب پنچھی کے بچے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے یہ تماشا دیکھا یہیں سے روحانیت کی بات آشکار ہوئی زندگی کی گوناگوں مصروفیات میں سے کچھ وقت اللہ کے روبرو ہو جانا ہی روحانیت ہے، نفع نقصان سے بے نیاز ہو کر ،اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھنا روحانیت کی ابتدا ہے، یعنی بے ضرر ہو کردوسروں کے لیے سودمند ہو جانا روحانیت ہے ۔زندگی اور موت عارضی عمل ہے ۔قائم او ر دائم صرف اللہ کی ذات ہے۔ جب آپ اللہ کے پاس چلے جاؤ گے تو پھر دائمی ہو جاؤ گے۔ مستقل ہو جاو گے پھر مظہر دیدار حق ہے ۔ اصل میں جو مر گئے وہ زندہ ہیں اور جو زندہ ہیں وہ غافل ہیں موت کے بعد ہی تو زندگی ہے بلکہ موت زندہ ہے اور زندگی مر گئی ہے۔ جاتا کوئی بھی نہیں جانے والا اس وقت جاتا ہے جب آپ اس سے غافل ہو جائیں یا بھول جائیں ،جن کو یاد کر تے ہیں وہ نہیں گئے ،وہ تو ہیں جو محبت اور عقیدت سے یاد کیے جاتے ہیں۔ وہ تو زندہ ہیں آپ کے دل دماغ میں ہیں ۔زندہ انسانوں میں وہ بھی یاد کے سہارے زندہ ہیں ۔جن کو محبت اور عقیدت نہیں ملتی۔ وہ اگر زندہ بھی ہوں تب بھی مر گئے۔ بات یاد رکھو پریشان ذہن میں حسن خیال نہیں آتا۔ اللہ یاد کرنے والوں کے دل میں رہتا ہے ۔اللہ کی راہ میں وفا کے ساتھ چلتے جاو سفر یقین کا ہے، اسی سے تعلق بنتا ہے۔ خواہشوں سے دل لبریز کر کے کون سے لامکان کی تلاش میں ہو اسے آرزوں کی سے نجات دو گے پھر لامکان سمجھ آئے گا اللہ کا گھر وہیں ہے جہاں اس کی یاد ہے مومن کا دل اللہ کا عرش ہے حکم ہے دریا میں رہو لیکن دامن تر نہ ہو اسکی مثال یوں سمجھوکہ مرغابی پانی میں غوطہ لگائے تو اس کے پر گیلے نہیں ہوتے پانی میں رہتے ہوئے جھٹ پٹ ہوا میں اڑ جاتی ہے پانی کاپرندہ ہوکر بھی پانی سے مجبور نہیں ہوا اسی طرح دنیا سے انسان کو گزرنا ہے پردیسی بن کر یہ دنیا اور دیس کچھ لوگوں کے لیے پردیس ہیدنیا کی محبت انسان کو فانی بنا دیتی ہے اس دنیا نے کبھی کسی سے وفا نہیں کی یہاں ایسے رہو کہ جانے کا غم نہ ہوعبادت اگر اس کے کرم سے مل جائے تو غرور سے بچوورنہ برباد ہو جاو گے وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات دل بادشاہ ہے اسے نفرت کدورت بغض عناد سے پاک رکھو کسی کے لیے برائی سوچنا بھی بددعا ہے اس کیفیت سے بچنے کی کوشش کرو اللہ کے تقرب کے لیے نہ دولت رکاوٹ ہے یہ ہی غریبی نہ روشنی اور نہ ہی اندھیراکچھ بھی رکاوٹ نہیں بس دل پاک ہو جائے اور یہ اس مالک کائنات کے ذکر سے پاک ہوتا ہے نیت پاک نہیں تو پھر رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں اس کے جلوے تو ہر لمحہ ہر سو ہیں صرف دیکھنے والی آنکھ چاہیے کیفیات کے لیے دل چاہیے جو دنیا کی طلبگاری میں مردہ ہو چکا ہے اسے زندہ کرو پھر بات سمجھ آئے گی جس پیغمبر نے دین اسلام دیا اس سے محبت ہوگی تودین اور دنیا کی سمجھ آئے گی ہادی تک پہنچو گے تو ہدایت ملیگی جس ذات نے اسلام دیا اس ذات سے تعلق بناو یہی اسلام ہے میں اس شخص کی باتوں سے سرشار ہو کر یہ سوچتا ہوا چل دیا کہ بے نیازی کی کیفیت تک پہنچنا کتنا مشکل کام ہے لیکن کرنے والے یہ کام کر ہی جاتے ہیں۔

Exit mobile version