- الإعلانات -

60 لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم اور 30 فیصد سکولز میں صرف ایک استاد.

اسلام آباد: پاکستان کے 30 فیصد پرائمری سکولز میں صرف ایک استاد مکمل سٹاف کے طور پر تعلیمی خدمات سرانجام دے رہا ہے جبکہ 60 لاکھ سے زائد بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں یہ نتائج ہمارے تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے حکومت کی طرف سے متعارف کروائی گئی اصلاحات کی ناکامی ظاہر کرتی ہے ۔ تعلیم کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے حوالے سے بے حسی کا انکشاف تعلیمی منصوبہ بندی اور مینجمنٹ سسٹم کی جانب سے 110 صفحات پر مشتمل رپورٹ پاکستان تعلیم اٹلس 2015 میں کیا گیا۔ پاکستان میں پرائمری سکولز کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار 284 ہے جن میں سے 136927 ایسے بھی ہیں جن میں صرف ایک استاد تمام تعلیمی ذمہ داریاں بیک وقت خود ہی انجام دے رہے ہیں تعلیم کے حوالے سے جاری کردہ اس رپورٹ میں پنجاب کے 6415 خیبرپختونخوا کے 4559 ، بلوچستان 5980 ، سندھ کے 19011 جبکہ فاٹا کے 446اور گلگت بلتستان کے 7 سکولز شامل ہیں جہاں ایک استاد آل ان آل ہے ۔مذکورہ تعلیمی رپورٹ کے مطابق سکولز میں طلبہ کی مجموعی کارکردگی کے بعد یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بچوں کی انگیریزی ریاضی اور سائنس کے مضامین میں کارکردگی کو اچھی تصویر نہیں پیش کر رہی جو کہ ہمارے تعلیم نظام اور اس حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔ قومی تعلیمی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے انچارج سید ناصر امین کا کہنا ہے کہ تعلیم کے حوالے سے اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے رپورٹ پیش کرنا اور ایسی پالیسی متعارف کروانا ہمارا فرض ہے تعلیمی اعداد و شمار تمام صوبوں کی جانب سے کیا گیا تاہم اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کردہ رپورٹ میں کئی بار ہمارے بنیادی تعلیمی نظام پر سوالہ نشان ہیں جس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو جنگی بنیادوں میں اقدامات اٹھانے ہوں گے ۔ ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر اللہ بخشی ملک نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں مزید بہتری لانے کی یہ رپورٹ درپیش مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے حکومت کو مدد فراہم کرے گی تاہم صوبائی اور وفاقی حکومت کو تعلیم کے حوالے سے ہر لحاظ سے درست اعداد و شمار اکٹھنے کرنا ہوں گے جس کے بعد ہی نظام کو بہتر کیا جا سکتا ہے ۔