- الإعلانات -

قانون سازی پرعملدآمدضروری

پاکستان میں عام لوگ اور بالخصوص جوان اور وہ لو گ جو زیادہ سمجھ بوچھ نہیں رکھتے ،موبائل فون،انٹرنیٹ ، کمپیوٹرز ، فیس بک ، ای میلز ، آئی موکا غلط استعمال کرتے ہیں۔ مگرموجودہ حکومت نے اس قسم کے ڈیوائس( اشیاء) کے غلط اور غیر قانونی استعمال کیلئے ایسی قانون سازی کی ہے جس سے اب ان چیزوں کے غلط استعمال کے روک تھام میں مدد ملے گی ۔ اگر کوئی اسکو غلط استعمال کرے گا تو اُنکو سخت سے سخت سزا ہو سکتی ہے۔ لہٰذاء اُن لوگوں کو اور بالخصوص جوانون کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مندرجہ بالا ڈیوائس کو قانونی طریقے سے استعمال کریں تاکہ ایسا نہ ہو کہ غلط استعمال پر ان بہن بھائیوں اور چھوٹوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑے اوریا بھاری جُرمانہ بھی ادا کرنا پڑے۔جہاں تک اس بل کے شقوں کا تعلق ہے اس کے تقریباً 30 شق ہیں اور اس بل میں اُن سزا ؤں کا ذکر کیا گیا ہے جو موبائل فون، کمپیوٹرز، فیس بُک کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ جہاں تک ان کے سزاؤں کا تعلق ہے اس بل میں کہا گیا ہے کہ کسی کے خلاف غلط معلومات پھیلانے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اگر کوئی قصداً عمداًً فیس بُک یا کسی اور ویب سائٹس پر غلط معلومات شیر Shareکرلیں تو ان میں سے ایک یا دو نوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔کسی کی تصاویر اور ویڈیو کو غلط شکل میں بنانے اور پیش کرنے کی صورت میں5سال قید ، 50لاکھ روپے جُرمانہ اوریا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔اگر کسی کے چہرے کے ساتھ فوٹو شاپ یا دوسرے طریقے سے عُریاں یا فحش تصویر لگائی جائے یا کسی کی پرائیویٹ لائف کی تصاویر اور ویڈیو بنائی جائے اور اس تصویر اور ویڈیو کو فیس بُک یا وٹ سWhats appاپ کے ذریعے تشہیر کی جائے اور یا اس قسم کی تصاویر اور ویڈیو کے ذریعے کسی کو بلیک میل کیا جائے تو اُنکو انمیں سے ایک یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اگر کسی بچے کی تصاویر اور ویڈیو کو تکنیکی ذریعے سے عریاں اور فحش بناکر اسکو براڈ کاسٹ کیا جائے یا فیس بک یا ابلاع کے دوسرے ذریعے سے اسکے بلیک میلنگ کیلئے استعمال کیا جائے تو ایسی صورت میں7 سال قید اور 50 لاکھ جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔اگر کوئی قصداً عمداً نابالغ بچے کی جنسی فحش اور عریاں مواد بنائے ،اسکو تقسیم کریں اور یا اسکو کسی اطلاعاتی اور مواصلاتی نظام کے ذریعے دوسروں تک پہنچائے یا اپنے لئے اور یا دوسروں کے لئے خریدیں ، یا کمپیوٹر یا دوسرے اطلاعاتی نظام کے ذریعے اسکو اپنے پاس رکھیں تو ایسے صورت میں بچوں کے فحش نگاری کرنے والے کو 7 سال قید یا 50لاکھ روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔اگر کوئی کسی کے ساتھ انٹرنیٹ ، ای میل، ایس ایم ایس ، فون ، چیٹ یا دوسرے موا صلاتی نظام کے ذریعے اُسکے دلچسپی ا ور مرضی کے بغیر تعلقات قائم کرنا چاہیں تو ایسے صورت میں 3 سال قیدیا 10 لاکھ روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اگر کوئی کسی کی کی ای میل ، ٹیکسٹ میسیجز یا دوسرے اطلاعاتی اور مواصلاتی نظام کے ذریعے مانیٹر کرنا چاہتا ہویا کسی کا نظام ہیک(خراب) کرکے کسی کے ساتھ اسکی مرضی کے بغیر تعلقات استوار کرنا چاہتا ہوتو ایسی صورت میں 3 سال قید ، 10 لاکھ روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اگر کوئی کسی کی تصاویر یا ویڈیو بناکر اسکے رضا کے بغیر فیس بُک یا ابلاغ کے دوسرے ذرائع کے ذریعے مشتہر کریں جس سے اُس فرد کی شہرت اور ساکھ کو نُقصان ہو تو ایسی صورت میں 3 سال قید یا 0 1لاکھ روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔اگر کوئی کسی نابالغ بچے کے ساتھ انٹر نیٹ ، موبائیل فون یا دوسرے اطلاعاتی اور مواصلاتی نظام کے ذریعے ایسے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہوجس سے بچے میں خوف و ہراس پیدا ہو یا اسکے فوٹو اور ویڈیو اسکی مرضی کے بغیر لوگوں میں بانٹنا چاہتا ہویا بلیک میل ہونے کا خطرہ ہو یا بچے کی جا سوسی ہو تو ایسے صورت میں ملزم کو 5 سال قید ، ایک کروڑ روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔اگر کوئی موصلاتی یا اطلاعاتی نظام یعنی فیس بُک پر ایسی اطلاعات تقسیم کر رہا ہو جس سے بین لعقائد ، مذہبی فرقہ پرستی یا نسلی نفرت پھیلنے کا خدشہ اور اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں ملزم کو 7 سال قید ، جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔اگر کوئی انفرادی یا اجتماعی طور پر کسی کو سپم ای میلز(خراب) ایس ایم ایس وصول کرنے والے کے اجا زت کے بغیر بھیج دیں اور یا ایسے فراڈ یا مہلک ای میلز دوسروں کو بھیج دیں تو ایسے صورت میں ملزم کو 3 مہینے قید، 50 ہزار روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اگر کوئی اس نیت سے ویب سائٹ بنائیں یا کوئی معلو مات یا اطلاعات جعلی ذریعے سے بھیجیں اور اسکو وصول کرنے والا یا ویب سائٹ کو بنانے والا اسپر اصلی اور حقیقی کا یقین کریں تو ایسی صورت میں ملزم کو 3 سال قید یا 50ہزار روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزئیں بیک وقت ہو سکتی ہیں۔ اگر کوئی اس عرض سے دوسروں کو وائرس زدہ کوڈ، موبائیل میسج بھیج دیں کہ کسی کے اطلاعاتی اور مواصلاتی نظام ، موبائیل ڈاٹا کو نُقصان پہنچے تو ایسی صورت میں مجرم کو 2 سال قید 10 لاکھ روپے جُرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔کسی کے انفارمیشن سسٹم، ای میل، فیکس ، پرنٹ ، ایس ایم ایس یا کمپیوٹر ڈاٹا تک بغیر کسی کی مرضی سے رسائی کی صورت میں مجرم 3 ماہ قید یا 50 ہزار روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔کسی کی اجازت کے بغیر کسی کے فون نمبر کاپی کرنے یا ڈاٹا کاپی کرنے ، بلاجازت کسی کا میسج فارورڈ کرنے، کسی کا ویب سائٹ ہیک کرنے اور اسکا ڈاٹا کاپی کرنے ، بالفاظ دیگر اگر کوئی چیز آپکا نہیں اور آپ کسی طریقے سے اس تک رسائی حا صل کرنا چاہتے ہیں تو اس صورت میں مجر م کو 6 مہینے قید یا 1 لاکھ روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔کسی کے انفارمیشن یا ڈاٹا میں مداخلت کرنے پر یعنی کسی کا ویب سائٹ ہیک کرنے پر، کسی کے موبائیل کو حا صل کرنے اور اسکے نمبر ڈیلیٹ کرنے پر کسی کے فیس بک کے اکاؤنٹ تک رسائی اور اسکے ڈاٹا کو ڈیلیٹ کرنے پر یا کسی کے موبائیل ایس ایم ایس بھیجنے پر 2 سال قید یا 50 ہزار جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔غیر قانونی طریقے سے کسی انفرا سٹرکچر کے کسی اہم سسٹم یا ڈاٹا تک رسائی کی صورت میں 3سال قید یا0 1لاکھ جُرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔مثلاً اگر کوئی نادرا ، آپٹک فائبر ، پاکستان آرمی یا سٹاک ایکسچینج کے ڈاٹا بیس کو ہیک کریں تو ایسے صورت میں یہ سزا ہو سکتی ہے۔کسی اہم ڈاٹا بیس یعنی نادرا ، آپٹک فائبر پاکستان کے ویب سائٹس کو ہیک کرنے یا ڈاٹا کاپی کرنے کی صورت میں 5سال قید اور 5ملین روپے جرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ ملک کے اہم مفاد کے ڈاٹا اور سسٹم میں مداخلت کرنے کی صورت میں 7سال قید، 0 1ملین جُرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔سائبر دہشت گردی یعنی ٹی وی چینل، موبائیل کمپنی تک رسائی کے بعد اس سے ایسے پیغامات نشر کرنا جس سے ملک میں خوف و ہراس پیدا ہونے کی صورت میں 14 سال قید ، 50 ملین جرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔آن لائن دہشت گردی کی فنڈنگ اور ریکروٹمنٹ کی صورت میں 7 سال قید یا جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔موبائیل ، انٹر نیٹ یا دوسرے مواصلاتی یا اطلاعاتی نظام کے ذریعے جعل سازی کی صورت میں 7 سال قید ، 50 لاکھ جرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔کسی بھی جرم میں استعمال ہونے والے ڈیوائس بنانے، حا صل کرنے یا فراہم کرنے پر 6ماہ قید یا 50 ہزار روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ کسی کی شناخت کو بلا اجازت استعمال کرنے پر 3 سال قید یا 50 لاکھ روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ بغیر اجازت کے سم جاری کرنے پر 3 سال قید 50 ہزار روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ اگر کوئی بغیر سرکاری اجازت کے مواصلاتی نظام میں تبدیلیاں لائیں یعنی جاسوس موبائل appلگائیں جو کالز اور ایس ایم ایس کو ریکارڈ کر سکیں اور یا یہ ڈیٹا ای میلز کے ذریعے دوسروں کو بھیجیں تو ایسے صورت میں 3سال قید یا 10 لاکھ روپے جُرمانہ اور یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔اگر کوئی تیکنیکی ذریعے سے غلط نیت کوئی مواصلاتی نظام انٹر سیپٹ کریں تو ایسے صورت میں 2 سال قید ،5 لاکھ روپے جر مانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

نوربصیرت

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ قبرستان میں تشریف لے گئے اورارشاد فرمایا:السلام علیکم !اے گروہِ مومنین اورہم انشااللہ عنقریب تمہارے پاس آنے والے ہیں ۔میں چاہتا تھا کہ ہم اپنے بھائیوں کو بھی دیکھ لیتے ۔آپ کے رفقانے عرض کیا یارسول اللہﷺ !کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں۔آپ نے فرمایا:تم تو میرے اصحاب ہواوربھائی ہمارے وہ ہیں جو ابھی پیدانہیں ہوئے ،ہم نے عرض کیا:یارسول اللہﷺ!آپ اپنی امت کے ان افراد کو کیسے پہچان لیں گے جو ابھی تک پیدا بھی نہیں ہوئے ، آپ نے ارشادفرمایا:تمہارا کیا خیال ہے کہ اگرکسی شخص کے سفید چہرے اورسفید ہاتھ پاؤں والے گھوڑے ، سیاہ رنگ کے گھوڑوں میں جائیں توکیا وہ اپنے گھوڑے پہچان نہیں لے گا؟صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں یارسول اللہﷺ !آپ نے فرمایا:میرے وہ امتی قیامت کے دن وضو کے اثر کی وجہ سے سفید چہرے اورروشن ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اورمیں حوضِ کوثر پر ان کا خیرمقدم کروں گا۔(صحیح مسلم)