- الإعلانات -

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے وزیر اعظم کا خطاب

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے،اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم اپنی سرزمین کسی قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور پاکستان دہشت گردی کی لعنت کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی مشکلات کا سامنا ہے جو علاقائی اور عالمی اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ ہے۔ ہم نے ہزاروں قربانیاں دی ہیں جن میں 6500فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی قربانیاں شامل ہیں۔ہماری معیشت کو دہشت گردی کی وجہ سے 120 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا جس سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ دہشت گردی کسی خطے، ملک یا قوم کا انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے۔افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کا خواہشمند ہے اور ہم اس مقصد کیلئے ایس سی او کے پلیٹ فارم سے افغان کنٹیکٹ گروپ کے ذریعے مشاورتی اور تعاون کے عمل کو مزید وسعت دیں گے۔وزیراعظم پاکستان نے ایک اہم پلیٹ فارم پر پاکستان کے نکتہ نظر کو جامع الفاظ میں واضح کردیا کہ الزام تراشی کی بجائے دہشت گردی جیسے مسئلہ کو مل کر حل کیا جائے۔افغانستان میں امن کے قیام اور ترقی کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم کو استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او ایک ایسی تنظیم ہے جو باہمی رابطوں، تجارت، توانائی اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے کام کی وسیع تر استعداد کی حامل ہے۔ یہ تنظیم پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے معاون ثابت ہو سکتی ہے اور پاکستان تنظیم کو مزید فعال بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک قدیم تاریخ اور ثقافت کا حامل ملک ہے، تجارت اور اقتصادی تعاون خطے میں دیرپا استحکام، ترقی اور خوشحالی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ سے ’’ایس سی او‘‘ کے باہمی رابطوں کے فروغ اور اقتصادی تعاون کے نظریے کو مکمل کرنے میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے ایس سی او کی 6 بڑی تجارتی راہداریوں کو باہم منسلک کرنے میں مدد ملے گی جس سے نہ صرف زمینی بلکہ سمندری رابطوں کے فروغ سے یورپ، مشرق وسطی اور چین سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک کے تجارتی رابطوں کو فروغ حاصل ہوگا۔ چین ایس سی او کے پلیٹ فارم سے رکن ممالک سمیت خطے کے دیگر ممالک کے دوستی اور تعاون کے فروغ کے حوالے سے رہنما اصول متعارف کروا رہا ہے جس سے ہمارے باہمی اعتماد، فوائد، مساوات، ثقافتی تنوع اور مشترکہ ترقی کے ویژن کو فروغ دینے میں مدد حاصل ہوگی۔ ایس سی او کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بین الاقوامی قانون اور باہمی اعتماد کے رشتوں کے فروغ کیلئے کام کرنا چاہیے۔ اس موقع پر انہوں نے چین کو ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایس سی او کی کامیابیوں کے خواہشمند ہیں اور اس کی کاوشوں میں ہرطرح کے تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔ اس تنظیم کے مکمل رکن بننے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم امن، استحکام، باہمی رابطوں اور پائیدار ترقی کیلئے کام کر رہی ہے جس کی مکمل رکنیت پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہے۔جون 2001 میں اپنے قیام کے بعد پہلی مرتبہ گزشتہ برس اس تنظیم کے ممبران میں توسیع کی گئی۔ اسکے اولین اور بانی ممبران میں چین اور روس کے علاوہ قازقستان ، کرغستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل تھے۔ افغانستان، بیلاروس، ایران، منگولیا بطور مبصر جبکہ آرمینیا، آزربائیجان، کمبوڈیا، نیپال، سری لنکا، اور ترکی بطور ڈائیلاگ پارٹنر اس تنظیم سے منسلک ہیں۔ اس کے بنیادی مقاصد میں خطے میں امن اور استحکام کے پائیدار قیام کی کوششیں اور ممبر ممالک کے درمیان ،سیاسی، ثقافتی اور فوجی تعاون شامل ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ بھی اس تنظیم کے مقاصد میں شامل ہے ۔پاکستان کو اس تنظیم کی رکنیت ملنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کہا جا سکتا ہے کہ وہ خطے کے ایک اہم اتحاد کا حصہ بن گیا ہے۔اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور جغرافیائی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔وہ ممالک جو پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں ان کی کوششوں کو شکست ہوئی ہے۔جیسے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایس سی او ایک ایسی تنظیم ہے جو باہمی رابطوں، تجارت، توانائی اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے کام کی وسیع تر استعداد کی حامل ہے۔ یہ تنظیم پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے معاون ثابت ہو سکتی ہے،رکن ممالک کے مفادات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اس لیے کسی اور خطے کی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی بجائے علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہئے یہی خطے کے استحکام کی ضمانت ہے۔
دہشت گردی کیخلاف قومی بیانیہ کی تشکیل ،وقت کا تقاضا
کنونشن سینٹر میں بین الاقوامی سیرت النبیﷺ کانفرنس سے صدر مملکت ممنون حسین نے بارہ ربیع الاول کو پشاور میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تشکیل دینا چاہیے، شدت پسندی ایساناسور ہے جو ملکی استحکام کیلئے خطرہ ہے۔کانفرنس میں وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر امین الحسنات شاہ ،وفاقی وزرا ، اراکین پارلیمنٹ ، سفیروں ، غیر ملکی سکالرز، علما ومشائخ ، کرغرستان کے گرینڈ مفتی ، مختلف ممالک کے علما اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔صدرمملکت نے کہا کہ جب اہل وطن نبیِ رحمت ﷺ کی ولادت باسعادت کا جشن منا رہے تھے اور ان کے بتائے ہوئے پاکیزہ طریقوں پر چلنے کا عہد دہرا رہے تھے تو بد بختوں نے پشاور میں معصوم لوگوں کو خون میں نہلا دیا، حضورﷺ کی تعلیمات پر یقین رکھنے والے ہرگز ایسا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے سانحہ پشاور کی سختی سے مذمت کی اوراس تکلیف دہ واقعہ کے متاثرین اور انکے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ قوم دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے۔۔ بلاشبہ پشاور واقعہ ہر حوالے سے قابل مذمت ہے اس سے جہاں پاکستان کی ساکھ مجروح ہوئی وہاں دنیا میں اسلام کے بارے انتہائی غلط تاثر ابھرا کہ یہ کیسے مسلمان ہیں جو اپنے نبیﷺ کا یوم بھی پر امن طریقے سے نہیں منا سکتے۔ہمارے رسولﷺ نے تو امن کا درس دیا۔آپﷺ تاریخ عالم کی وہ واحد ہستی ہیں جنکی زندگی کے ہر ہر اصول سے قیام امن کی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ آج کی دنیا کو مختلف وسائل درپیش ہیں جن کی وجوہات بھی مختلف ہیں جس کے باعث کرہ ارض پر اختلافات موجود ہیں اور ہمارا خطہ بھی اس بے چینی سے محفوظ نہیں رہ سکا جس کے اثرات موجود ہیں۔ اسطرح کے حالات میں بالغ نظر قومیں اور قیادت مسائل کا علمی، تہذیبی، معاشرتی اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ لے کر راہ عمل کا تعین کرتی ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ سرور کائناتﷺ کی زندگی پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ قلب و نظر کی پاکیزگی ، اپنے مقصد پر یقین اور جدوجہد آپﷺکی زندگی کے تین بنیادی اوصاف ہیں جن میں آج کے مسائل کا حل موجود ہے۔ حضورﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صرف اللہ کی رضا کیلئے اس کے بندوں سے محبت اور خیر خواہی کا معاملہ پیش نظر رکھنے سے بڑے بڑے مسائل کا حل افہام و تفہیم سے نکالا جاسکتا ہے۔