Home » 2018 » May » 07 (page 4)

Daily Archives: May 7, 2018

ٹیپو تا کرناٹک چناؤ ۔۔۔!

بھارتی صوبے کرناٹک کے صوبائی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے جس کے مطابق 12 مئی کو ووٹنگ ہو گی جبکہ 15 مئی کو نتائج کا اعلان۔واضح رہے کہ ٹیپو سلطان کے نام سے بھلا کون آگاہ نہیں ؟ ہندوستان کی سلطنت میسور کا آخری فرمانروا اور شیرِ میسور نواب حیدر کا فرزند ۔ ٹیپو سلطان شاید مزید کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ 1799 میں شہید ہوئے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 1973 سے پہلے صوبہ کرناٹک میسور کے نام سے جانا جاتا تھا مگر بعد میں مسلم پس منظر سے تعلق رکھنے والی تمام علامتوں کو دہلی کے حکمرانوں نے چونکہ دانستہ ختم کرنے کا سلسلہ شروع کیا جو ہنوذ جاری ہے۔ اسی سلسلے کے تحت میسور کا نام بدل کر کرناٹک رکھ دیا گیا۔ بہرحال بات ہو رہی تھی چناؤ کی، مبصرین کے مطابق اسی الیکشن کے نتائج یہ طے کریں گے کہ 2019 کے لوک سبھا چناؤ میں مودی اور راہل گاندھی میں سے کون اقتدار کی مسند پر فائز ہو گا اور کس کے حصے میں فقط مایوسی و نامرادی آئے گی۔ سالِ رواں کے آخر میں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ تینوں بڑے صوبوں میں بھی انتخابات ہونے ہیں اور کرناٹک کے نتائج سے ان انتخابات کے ضمن میں بھی اندازہ لگانا مزید آسان ہو جائے گا اوریوں ممکنہ طور پر مخلوط حکومت کے امکانات واضح ہو جائیں گے۔ یہاں پر یہ بات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ 27 مارچ کو کرناٹک انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا گیا جبکہ BJP کے آئی ٹی سیل کے سربراہ ’’امیت مالویہ‘‘ نے اس سے پہلے ہی اپنے ٹویٹر ہینڈل پر انتخابات کی ساری تفاصیل بیان کر دی تھیں جس سے پوری بھارتی سیاست اور ذرائع ابلاغ میں بھونچال آیا ہوا ہے اور ایک طوفان بدتمیزی بپا ہے۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق اس سے بھارت کے سیاسی نظام اور ساکھ کافی حد تک دھندلائی ہوئی نظر آتے ہے۔ مبصرین کے مطابق نتائج کے بعد کا منظر نامہ کچھ یوں ہو سکتا ہے، کانگرس یا BJP میں سے کوئی ایک پارٹی واضح سبقت اور اکثریت حاصل کر کے اپنے بل بوتے پر برسراقتدار آ جائے یا پھر معلق اسمبلی کی صورت میں سابق بھارتی وزیراعظم ’’دیوی گوڑا‘‘ کی جماعت ’’جنتا دل سیکولر‘‘ بادشاہ گر کی حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ جے ڈی ایس نے مایاوتی کی جماعت ’’بہوجن سماج پارٹی‘‘ کے ساتھ اتحاد کیا ہے تا کہ صوبے کے دلت ووٹ بینک کو اپنی طرف کھینچا جا سکے۔ اگرچہ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ جے ڈی ایس اور بی ایس پی کا یہ اتحاد محض اپنے بل بوتے پر سرکار بنانے میں کامیاب ہو سکے مگر اس بات سے صرف نظر ممکن نہیں کہ کانگرس اور بی جے پی کے ووٹ بینک کو یقیناًنقصان پہنچانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کی رائے میں بی جے پی بخوبی اس امر سے آگاہ ہے کہ اترپردیش کے پھول پور اور گورکھپور کے علاوہ بہار میں ضمنی انتخابات میں شکست سے اس پر غیر معمولی دباؤ ہے کہ آیا وہ اپنی مودی لہر سے اپنے جیت کے سلسلے کو کس حد تک برقرار رکھ پاتی ہے۔ BJP کی جیت کی صورت میں امت شاہ اور مودی کی جوڑی کو مزید تقویت ملے گی کیونکہ بی جے پی گجرات اور اترپردیش کی مانند کرناٹک میں بھی ’’ہندو کارڈ‘‘ بھرپور طریقے سے استعمال کر رہی ہے اور مختلف قسم کے شر انگیز اور فرقہ وارانہ بیانات کے ذریعے صوبے میں مسلم اور اقلیت مخالف ماحول کو پروان چڑھا رہی ہے۔ کرناٹک میں BJP کی جیت سے لوک سبھا چناؤ کے ضمن میں تیسرے غیر کانگرسی فرنٹ کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے کیونکہ ایسے میں کانگرس کے سامنے کوئی دوسرا آپشن نہیں ہو گا۔ تلنگانہ راشٹریے سمتی کے چیف ’’کے چندر شیکھر راؤ‘‘ نے قومی سطح پر بھارتی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی اور ’’آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین‘‘ کے چیف اسدالدین اویسی نے خیرمقدم کیا۔ علاوہ ازیں آئندہ لوک سبھا چناؤ میں آسام کے مولانا بدر الدین اجمل کا آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ بھی کانگرس اور ممتابینرجی سے انتخابی اتحاد بنا کر BJP کیلئے اک مضبوط حریف ثابت ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق کانگرس لوک سبھا چناؤ میں BJP کو ہرانے کیلئے تمام پارٹیوں کے ساتھ اتحاد پر تیار ہے مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ کرناٹک، راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں ہونے والے انتخابات میں جیت درج کرائے اور اگر کانگرس ہار جاتی ہے تو ’’ممتا بینرجی‘‘ اک نئی قوت کے طور پر ابھر سکتی ہیں۔ کانگرس کرناٹک چناؤ کیلئے اپنی تمام توانیائیں صرف کر رہی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں اسے محض 44 سیٹیں ہی ملی تھیں، ایسے میں کرناٹک میں جیت سے وہ پورے بھارت میں یہ پیغام دے سکتی ہے کہ BJP کے مقابلے میں وہ ایک بہتر متبادل ہے۔ یاد رہے کہ سونیا گاندھی نے حالیہ دنوں میں 20 سے زائد پارٹیوں کو بلایا اور ان سے 2019 کے لوک سبھا چناؤ کے ضمن میں سنجیدہ تبادلہ خیال کیا۔ ان جماعتوں میں ’’نیشنلسٹ کانگرس پارٹی ، ترنمول کانگرس ، سماجوادی پارٹی، راشٹریے جنتا دل ، DMK ،جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور لیفٹ پارٹیاں شامل ہیں۔ بہرکیف یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ پچھلے کافی عرصے سے BJP نے اپنی انتخابی مہم میں ’’ٹیپو سلطان‘‘ کی شخصیت کو بھی انتخابی مُدّا بنایا ہوا ہے۔
*****

لال شہباز قلندر عرس؛ شدید گرمی سے دو روز میں 9 زائرین جاں بحق

سیہون: حضرت لال شہباز قلندر کے سالانہ عرس کے دوران 2 روز میں شدید گرمی کے باعث 9 افراد جاں بحق ہوگئے۔

سندھ میں شدید گرمی کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ 3 روز کے دوران کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہر دیکھنے میں آئی جس کے باعث حضرت لال شہباز قلندر کے سالانہ عرس کے دوران جاں بحق افراد کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔

حضرت لال شہباز قلندر کے سالانہ عرس کا آج دوسرا روز ہے اور شدید گرمی کے باعث آج مزید 2 افراد جاں بحق ہوگئے، ایدھی سینٹر کے مطابق آج گرمی سے ہلاک ہونے والوں کا تعلق کراچی اور جھنگ سے ہے۔

انچارج ایدھی سینٹر معراج محمد کے مطابق گزشتہ 2 روز سے جاری حضرت لال شہباز قلندر کے عرس میں اب تک 9 افراد جاں بحق ہوگئے، 3 لاوارث لاشوں کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ہے جب کہ جاں بحق ہونے والے دیگر 6 افراد کا تعلق ملتان، فیصل آباد، جھنگ، وہاڑی، بھاولپور اور سمندری سے ہے۔

نجی ٹی وی کا زینب زیادتی و قتل واقعے پر فلم بنانے کا اعلان

کراچی: قصور کی ننھی زینب کے ساتھ پیش آنے والے زیادتی وقتل کے دلسوز واقعے پر نجی ٹی وی نے ٹیلی فلم بنانے کا اعلان کیا ہے۔

رواں سال کے ابتدا میں ضلع قصور سے تعلق رکھنے والی 7 سالہ ننھی زینب کے ساتھ زیادتی کے بعد بہیمانہ قتل نے پاکستان سمیت پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا تھا، واقعے کے بعد پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور زینب کے قاتل عمران کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا تاہم اب ننھی زینب کے ساتھ زیادتی وقتل کے واقعے پر نجی ٹی وی کی جانب سے فلم بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

زینب قتل کیس پر حال ہی میں مقامی چینل نے ٹیلی فلم بنانے کااعلان کیا ہے جس کانام ’’زینب کے قاتل‘‘ رکھا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فلم میں زینب قتل کیس کے تمام واقعات کی نشاندہی کی جائے گی جب کہ فلم کے ذریعےوالدین کو اپنے بچوں کی حفاظت کےحوالے سےآگاہی بھی فراہم کی جائے گی۔

فلم میں زینب کے مجرم عمران کا کردار اداکار سہیل سمیر اور زینب کا مرکزی کردار ننھی اداکارہ حمنہ عامر ادا کریں گی جب کہ فلم کی کہانی معروف ڈرامہ نویس عمیرہ احمد نے تحریر کی ہے، فلم جلد ہی مقامی چینل پر نشر کی جائے گی۔

سنی نے جونیئر سنی لیون متعارف کرادی

ممبئی: بالی ووڈ کی بے باک اداکارہ سنی لیون نے اپنی زندگی پر مبنی فلم کے لئے جونیئر سنی لیون کو متعارف کرا دیا ہے۔

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ سنی لیون اپنی بے باک اداکاری کی وجہ سے اپنی شہرت آپ ہیں لیکن دوسری جانب انہوں نے اپنا ماضی ترک کرکے بالی ووڈ میں شامل ہونے کو ترجیح دی اور اس طویل کٹھن سفر کو ایک فلم کے طور پر پیش کرنے کے لئے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی زندگی پر مبنی فلم بنا رہی ہیں جس میں اُن کے مداح بائیو گرافی میں جان سکیں گے کہ ’وہ کینیڈا سے کیوں منتقل ہوئی، انہوں نے سنی نام کا انتخاب کیوں کیا اور اُن کی زندگی کیسی تھی۔ تمام باتوں کو حقیقت کا رنگ دینے کے لئے تیاری کرلی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ سنی لیون کا کردار نبھانے کے لئے جونیئر سنی لیون کا انتخاب بھی کرلیا گیا ہے۔

کینیڈین نژاد بھارتی اداکارہ سنی لیون نے سماجی رابطے کی ایپ انسٹا گرام پر اپنے ساتھ ایک اور دوشیزہ کی تصویر پوسٹ کی اور ساتھ ہی انہوں نے اپنی زندگی پر مبنی فلم ’ کرن جیت ‘ کے لئے اداکارہ ریزہ ایکس کو متعارف کراتے ہوئے ’منی کرن جیت‘ کے نام سے مخاطب کیا ہے۔

فلم ’کرن جیت کور‘ میں سنی لیون کا کردار نبھانےوالی بالی اداکارہ کے ساتھ ڈینیئل ویبر کے  کردار کے لئے بھی جنوبی افریقی اداکار کو حتمی قرار دے دیا گیا ہے جب کہ فلم زی فائیو ویب سیریز پر ریلیز  کی جائے گی۔

واضح رہے کہ کینیڈا میں پیدا ہونے والی 36 سالہ سنی لیوں کا اصل نام ’کرنجیت کور وہرا‘ ہے جوکہ اب تک جسم ٹو، راگنی ایم ایم ایس  اور ایک پہیلی لیلا جیسی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔

اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی

کراچی: مقامی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 1.5 روپے کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد ڈالر 116.70 روپے سے 117.30 روپے تک فروخت ہونے لگا۔

اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں یہ حیرت انگیز کمی کے حوالے سے ایکسچینج کمپنیوں نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سینٹرل بینک کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں کو محدود کرنسی کو قبول کرنے کے فیصلے کے بعد کمی ہوئی۔

یو اے ای سینٹرل بینک کا فیصلہ فی الوقت دستیاب نہیں تاہم ایکسچینج کمپنیوں کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ بدھ کے روز کیا گیا تھا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے چیف ترجمان عابد قمر سے رابطہ کرنے پر انہوں نے ڈان کو بتایا کہ یو اے ای سینٹرل بینک نے ہمیں اس فیصلے کے حوالے سے اطلاع نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ جمعرات کے روز پاکستانی روپے اوپن مارکیٹ میں 119.50 روپے میں فروخت ہورہا تھا تاہم ڈالر نے 3 روز کے اندر اپنی قدر میں 2.2 روپے تقریباً 1.8 فیصد کھو دی۔

خیال رہے کہ اوپن مارکیٹ ہفتے کے روز بھی کھلی ہوتی ہے جبکہ بینک بند ہوتے ہیں۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ یو اے ای کے سینٹرل بینک کے فیصلے کا حقیقی اثر سامنے آگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا ایکسچینج ریٹ پر گہرا اثر پڑے گا جبکہ کروڑوں ڈالر کی مالیت کی رقم کو اس فیصلے سے نقصان پہنچے گا، جسے دبئی لے جاکر ڈالر میں تبدیل کرنے کے بعد پاکستان واپس لایا جاتا تھا اور اسے وائٹ منی سمجھا جاتا تھا۔

شکیل آفریدی،حسین حقانی اورامریکہ

اگرچہ شکیل آفریدی کی رہائی پر کسی قسم کی ڈیل کی خبروں کو وزارت خارجہ مسترد کرچکی ہے لیکن ان خبروں کو ہوا اس وقت ملنا شروع ہوئی تھی جب گزشتہ ہفتے بدھ کو چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے امریکہ میں تعینات سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کیخلاف میمو گیٹ کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈی جی ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ سنا ہے حسین حقانی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے سے انکار کیا گیا ہے جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ میری امریکی حکام سے بات ہوئی ہے، وہ کہتے ہیں ہمارا بھی ایک بندہ آپ کے پاس ہے۔میں نے امریکی حکام کو ریڈ وارنٹ بھی دکھائے۔ چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے سوال کیا کہ امریکی حکومت نے حسین حقانی کوپاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کیا ہے، کوئی امریکی سپریم کورٹ کو بیان حلفی دے کر پیش نہ ہو تو امریکہ کے مانگنے پر پاکستان انکار کرسکتا ہے۔یہ ایک اہم سوال تھا کہ ایک پاکستانی عدالت کو مطلوب شخص کو حوالے کرنے سے تو امریکی حکام انکاری ہیں مگر اپنے ایجنٹ شکیل آفریدی کے معاملے میں سودے بازی پر تیار ہیں۔یہ ہے ایک سپر پاور کی سوچ کا معیار۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ہو یا دیگر یورپی ملک انکی سفارتکار بلیک میلنگ پر مبنی رہتی ہے۔اسی طرح ان کے ادارے بھی بلیک میلنگ اور سفارتی مافیاؤں کے نرغے میں ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان چاہتی ہے کہ پاکستان کو مطلوب حسین حقانی کو واپس لایا جائے۔مگر اس کام کیلئے انٹرپول کا دروازہ کھٹکانہ پڑتا ہے۔انٹرپول بین الاقومی پولیس کا ادارہ ہے جو کسی ملک کو مطلوب اپنے بھگوڑے ملزم پکڑوانے میں مدد دیتا ہے۔کبھی ایسا ہوا کرتا تھا کہ غیرجانبدارانہ طریقے سے یہ ادارہ فرائض انجام دیتا تھا مگر اب یہ طاقتور اور ان کے سہولت کار ملکوں کا ہتھیار بن چکا ہے۔عالمی عدالت انصاف ہو،ہیومن رائٹس کے ادارے ہوں یا انٹرپول ہر جگہ طاقتور ممالک نے اپنے بندے بٹھا رکھے ہیں۔انٹرپول کو ہی لے لیں کہ جس کے ذریعے پاکستان حسین حقانی کی واپسی چاہتا ہے۔جب سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے سے پوچھا کہ ریڈ ورانٹ کیوں جاری نہیں ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ انٹرپول میں پانچ بھارتی موجود ہیں جبکہ ہمارا ایک بھی نمائندہ نہیں ہے۔بنیادی طور پر ڈی جی ایف آئی اے نے دبے لفظوں میں واضح کیا کہ حسین حقانی کو واپس لانا آسان نہیں ہے کیونکہ وہ اب کھل کر بھارتی اور اینٹی پاکستان امریکی لابی کا حصہ بن چکا ہے۔امریکہ ہو یا بھارت دونوں اپنے سہولت کاروں کو اتنی آسانی سے بے یار و مدد گار نہیں چھوڑتے، چاہے اس کے لیے انہیں بین الاقومی قوانین کو روندنا پڑے یا اخلاقی قاعدے ضابطے خاک میں ملانا پڑیں۔ شکیل آفریدی کو ہی لے لیجیے جو سی آئی اے کے لیے جاسوسی کے جرم میں پاکستان میں 33 سال کی قید کاٹ رہا ہے۔اسامہ بن لادن کی موجودگی کا سراغ لگانے میں امریکہ کی مدد کرنے والے شکیل آفریدی کی پشاور جیل سے فرار کی کوشش پاکستان کی سیکورٹی ایجنسی آئی ایس آئی نے گزشتہ دنوں ناکام بنا دی تھی۔اس منصوبے کے طشت از بام ہونے کے بعد شکیل آفریدی کو پشاور سے فوری طور پر راولپنڈی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ امریکہ مسلسل پاکستان پر دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ شکیل آفریدی کو رہا کیا جائے۔ اس کی رہائی کے لیے پس پردہ بھی بڑی کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن پاکستان ڈٹا رہا۔ اب جب حسین حقانی میمو گیٹ کیس میں پاکستان کو مطلوب ہے تو امریکی حکام نے شکیل آفریدی کا پتہ پھینک کر اپنا آپ ظاہر کر دیا ہے۔حسین حقانی صاحب نے گزشتہ چھ سات سال سے میمو گیٹ کیس سے بیرون ملک علاج معالجے کے بہانے مہلت لے رکھی اور اب امریکہ کے دست شفت تلے از خود جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔چونکہ حسین حقانی صاحب قلم کے استعمال کا ہنر اچھی طرح جانتے ہیں اس لیے یہاں امریکہ میں اینٹی پاکستان لابی کی آنکھوں کا تارہ ہیں۔اب تک نصف درجن کتب لکھ چکے ہیں جن کا مرکزی پلاٹ پاکستان اور اسکے سکیورٹی ادارے ہیں۔ابھی اپریل کے اوائل میں ان کی ایک اور تازہ کتاب Reimaging Pakistan چھپ کر سامنے آئی ہے۔ بدقسمتی سے اس کتاب کی رونمائی بھی بھارت میں ہوئی ہے۔ 11اپریل کو منعقد ہونے والی تقریب میں متعدد پاکستان مخالف مقررین نے خطاب کیا۔حسین حقانی کی پاکستان مخالف سوچ اور بیانیہ کبھی بھی ڈھکا چھپا نہیں رہا ہے۔موصوف کی شائع شدہ بیشتر کتب پاکستان مخالف دانشوروں کے مضامین کے ٹوٹوں سے بھری پڑی ہیں ۔ موصوف کے نزدیک پاکستان کی آئیڈیالوجی اسلام نہیں ہونی چاہئے یہ مسائل کی جڑ ہے۔پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ اسی دن دفن ہوگیا تھا جب بنگالیوں نے بھارت کی طرف جھکا اور اس کی مدد سے الگ وطن حاصل کیا تھا۔ ہندوستان میں ہندوتوا تنظیم کی کارروائیوں اور حکومت میں انکے حصے کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں مذہبی جماعتیں اپنے کیس میں تقویت محسوس کررہی ہیں اور مذہبی انتہا پسندی کے ایجنڈے پر تیزی سے کام جاری ہے۔اسی طرح انہیں پاکستان میں احمدیوں کے اقلیت قرار دیے جانے پر بھی شدید رنج اور دکھ ہے۔ان کے نزدیک احمدی پاکستان کا مظلوم ترین طبقہ ہے۔سب سے اہم بات جو اس کتاب کا بنیادی مقصد ہے وہ پاکستان کو ایک ناکام نیو کلیئر سٹیٹ قرار دلوانا ہے۔انکی دیگر کتب کی طرح تازہ کتاب کی معاونت میں بھارتی پیش پیش رہے۔موصوف نے گڑے مردے اکھاڑے ہیں۔ان کے نزدیک بنگلہ دیش،کی علیحدگی کے پیچھے سازش نہیں تھی اور اس علیحدگی سے دو قومی نظریہ دفن ہو گیا۔بلاشبہ بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ نہیں رہا اور اس نے ایک مسلم ملک کی حیثیت سے الگ پہچان برقرار رکھی ۔ہاں اگر وہ واپس بھارت میں ضم ہوجاتا تو اس پر یہ کہا جا سکتا تھا کہ دوقومی نظریہ ناکام ہوا اور دفن ہو گیا۔بھارت کو یہ کامیابی تو ملی نہیں اور نہ اس کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔
****

موبائل فون کے استعمال سے برین کینسرمیں اضافہ

لندن: دماغ کے کینسرمیں پچھلے 10 سال کے مقابلے میں دگنا اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ موبائل فون کا استعمال ہے۔

سائنسی جریدے جرنل آف انوائرنمنٹل اینڈ پبلک ہیلتھ میں شائع ہونے والے مقالے کے مطابق 1995ء سے 2015ء کے درمیان کیے گئے مطالعے سے انکشاف ہوا کہ گزشتہ 10 برس کے دوران دماغ کے کینسر میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ برین ٹیومرکے بڑھتے ہوئے ان واقعات کی وجہ طرززندگی میں تبدیلی اورموبائل فون کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔

سائنس دانوں نے ٹیومرکے مطالعے کے دوران دیکھا کہ زیادہ ترٹیومر دماغ کے پچھلی جانب اور کان سے زرا اوپری حصے میں پائے گئے۔ دماغ کے بالائی اورپچھلے حصے کے درمیانی حصے میں موجود ٹیومرعین کان کے اوپر موجود تھے جس سے ممکنہ طورکہا جا سکتا ہے کہ دماغ کے ٹیومرکی وجہ موبائل فون کا بے دریغ استعمال ہے اور جیسے جیسے معاشرے میں موبائل کا استعمال بڑھ رہا ہے ویسے ویسے برین ٹیومر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

اس قسم کے ٹیومر کو glioblastoma کہا جاتا ہے اور یہ دماغ کے بالائی اور پچھلی حصے کے درمیان میں پیدا ہوتا ہے اور کبھی کبھی ابتدائی طور پر یہ ریڑھ کی ہڈی سے بھی جنم لیتا ہے تاہم زیادہ تر یہ کان کے اوپری حصے کی جانب پیدا ہوتا ہے جس کی ابتدائی تشخیص مشکل ہو تی ہے تاہم چکر آنا، دھندلا دکھائی دینا، بے ہوش ہوجانا یا چال میں فرق آنا اس کی ابتدائی علامات ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برین ٹیومر سے محفوظ رہنے کے لیے موبائل فون پر طویل باتیں نہ کریں اور اگر زیادہ طویل کال کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو ہینڈ فری استعمال کریں۔

غزہ میں بم دھماکے سے 6 فلسطینی شہید، متعدد زخمی

 غزہ: مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں بم دھماکے سے 6 فلسطینی شہید ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطین کے ساحلی علاقے غزہ کی پٹی پر ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم از کم 6 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ شہید اور زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق غزہ کی حکمراں جماعت حماس سے ہے۔ حماس نے اس دھماکے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کردی ہے۔

حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی دشمن کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف ایک سنگین واردات کا ارتکاب کیا گیا تھا۔ اس واردات کی تحقیقات کرنے کے لیے حماس کے عسکری گروپ قسام بریگیڈ کے اہلکار سیکورٹی اور انٹیلی جنس آپریشن میں مصروف تھے کہ اس دوران انہیں بم سے نشانہ بنادیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو اور تصاویر سامنے آئی ہیں جس میں جائے وقوعہ سے دھویں کے بادل اٹھتے نظر آرہے ہیں۔ تاہم دھماکے کی مزید وجوہات اور تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ برطانوی میڈیا نے ذرائع سے بتایا ہے کہ ایک عمارت میں بارودی مواد پر کام کرتے ہوئے یہ دھماکا ہوا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید شدت آگئی ہے۔ گزشتہ روز بھی ہزاروں فلسطینی شہریوں نے غزہ سرحد پر اسرائیلی قبضے کیخلاف مظاہرے کیے جب کہ اس دوران اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے350 فلسطینی زخمی ہوگئے۔

Google Analytics Alternative