Home » 2019

Yearly Archives: 2019

ایمرجنگ ایشیا کپ سیمی فائنل، پاکستان نے بھارت کو دھول چٹادی

ڈھاکا: ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان نے بھارت کو 3 رنز سے شکست دیدی۔

ڈھاکا کے شیر بنگلا اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں گرین شرٹس نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 7 وکٹوں کے نقصان پر 267رنز بنائے، عمیر یوسف 66 اور سیف بدر 47 (ناٹ آﺅٹ)، حیدر علی 43 اور کپتان روحیل نذیر 35 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔

بھارت کی جانب سے شیوام ماوی، سوراب ڈی اور ہرتیک شوکیم نے 2،2 شکار کیے جب کہ سدھارتھ ڈیسائی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

بھارت کی جانب سے سنویر سنگھ 76، کپتان پی آر شرتھ 47 اور ارمان جعفر نے 46 رنز کی اننگز کھیلی، ایک وقت میں بھارتی ٹیم نے 5 وکٹوں کے نقصان پر 244رنز بنالیے تھے اور 27 گیندوں میں ہدف کا حصول مشکل نظر نہیں آرہا تھا تاہم گرین شرٹس نے کم بیک کرتے ہوئے مزید 2وکٹیں حاصل کرلیں۔

میچ کے آخری اوور میں 8 رنز درکار تھے، عماد بٹ نے 4 رنز دیے اور ایک وکٹ بھی حاصل کی، محمد حسنین اور سیف بدر نے 2،2، عماد بٹ اور عمر خان نے ایک ایک شکار کیا۔

اینڈرائیڈ فونز میں ایک بڑی سیکیورٹی خامی دریافت

گوگل اسسٹنٹ کو اس لیے متعارف کرایا گیا تاکہ وہ لوگوں کے لیے اسمارٹ فونز میں اپنی آواز سے مختلف کام کرسکیں مگر اس سے ہیکرز کے لیے فون تک رسائی کے راستے بھی کھل گئے۔

19 نومبر کو سائبر سیکیورٹی کمپنی چیک مارکس نے متعدد اینڈرائیڈ فونز بشمول گوگل پکسل سیریز اور سام سنگ گلیکسی فونز میں کمزوریوں کا انکشاف کیا۔

یہ سیکیورٹٰ خامیاں ہیکرز کو صارف کو لاعلم رکھتے ہوئے فونز سے تصاویر اور ویڈیوز لے سکتے ہیں یا ان کی جاسوسی یا لوکیشن پر نظر رکھ سکتے ہیں۔

ہیکرز یہ کام گوگل اسسٹنٹ کی مدد سے کرتے ہیں اور یہ سیکیورٹی خامی اینڈرائیڈ ڈیوائسز کو اس لیے متاثر کرتی ہے کیونکہ اس میں ایپ پرمیشن کو استعمال کیا جاتا ہے۔

چیک مارکس کی جانب سے گوگل اور سام سنگ کو اس سیکیورٹی مسئلے سے جولائی میں آگاہ کیا تھا اور دونوں کمپنیوں نے چیک مارکس کو آگاہ کیا تھا کہ اس مسئلے کے حوالے سے پلے اسٹور میں اسی مہینے ایک اپ ڈیٹ جاری کی گئی تھی۔

اگرچہ یہ اپ ڈیٹ دستیاب ہے مگر یہ واضح نہیں کہ ہر متاثرہ ڈیوائس میں اس مسئلے پر قابو پایا جاسکا ہے یا نہیں۔

گوگل کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ‘ہم چیک مارکس کی جانب سے اس مسئلے پر ہماری توجہ دلانے پر اسے سراہتے ہیں، اس مسئلے سے گوگل ڈیوائسز کو بچانے کے لیے ایک پلے اسٹور اپ ڈیٹ گوگل کیمرا اپلیکشن کے لیے جولائی 2019 میں جاری کی گئی، یہ اپ ڈیٹ تمام شراکت داروں کے لیے دستیاب ہے’۔

سام سنگ نے اپنے بیان میں کہا کہ گوگل کی جانب سے اس مسئلے سے آگاہ کیے جانے پر اس نے بھی ممکنہ متاثرہ ڈیوائسز کے لیے اپ ڈیٹس جاری کی گئیں ‘ہم اینڈرائیڈ ٹیم کے ساتھ اپنی شراکت داری کو اہمیت دیتے ہیں جس سے ہمیں اس مسئلے کو شناخت کرنے اور اس پر براہ راست قابو پانے میں مدد ملی’۔

سائبر چیک کے مطابق ہر وہ چیز جو ہمارے فونز کا حصہ بنتی ہے، اس کے بارے میں باہری ماہرین سے رائے لی جانی چاہیے کیونکہ ہر وقت کسی پر اعتماد نہیں کیا جانا چاہیے۔

چیک مارکس کے محققین نے دریافت کیا کہ وائس اسسٹنٹس کو کسی کے بولے بغیر بھی سیکیورٹی خامی کے نتیجے میں استعمال کیا جاسکتا ہے، جس کے لیے وائس کوڈ بھیجنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بیشتر ایپس کو تصاویر یا ویڈیوز لینے کے لیے صارف کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے مگر وائس اسسٹنٹ سروسز جیسے گوگل اسسٹنٹ اور سام سنگ بیکسبی کو بااعتماد سافٹ وئیر سمجھا جاتا ہے اور انہیں اجازت درکار نہیں ہوتی۔

محققین نے دریافت کیا کہ کوئی بھی ایپ اس کمزوری کا فائدہ اٹھاسکتی ہے اور انہوں نے ایک عام سی موسم کی ایپ تیار کی جس کے پس منظر گوگل اسسٹنٹ سے تصویر یا ویڈیو بنانے کے لیے ایک وائس ریکوئسٹ سینڈ کی۔

مگر ایسی وائس ریکوئسٹ تھی جو صارف تو نہیں سن سکتا کیونکہ کوڈ پر مبنی ہوتی ہے مگر اس کے نتیجے میں گوگل اسسٹنٹ تصاویر اور ویڈیوز بناکر اس سرور پر واپس بھیجنے لگا جو محققین کنٹرول کررہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کمزوری کو لوکیشن پر نظر رکھنے اور صارف کی جاسوسی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، بلکہ اس سے فون کال کو بھی ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس،فیصلوں پرعملدرآمد کی ضرورت

وفاقی کابینہ نے نوازشریف کے حوالے سے لاہورہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نہ جانے کافیصلہ کیاہے ،یہ احسن اقدام ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آیاقانون وانصاف سب کےلئے برابر ہے ، جیلوں میں بہت سارے قیدی ایسے مقید ہیں جو کہ اس سے بھی زیادہ مہلک بیماریوں کاشکار ہیں ، ملک کی حالت یہ ہے کہ یہاں کوئی غریب بیمار ہوجائے یاخدانخواستہ مرجائے تو اس کے لئے ایمبولینس تک کی سہولت میسرنہیں ہوتی اسی جانب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاویداقبال نے اشارہ کیاکہ یہاں غریب کومناسب علاج میسرنہیں اور ہمارے سیاسی رہنماءوں کی یہ حالت ہے کہ اگر انہیں زکام بھی ہوجائے تو وہ علاج کے لئے لندن اورامریکہ روانہ ہوجاتے ہیں ، ہماری اس بات پرکوئی بحث نہیں کہ حکومت نے بھی انسانی ہمدردی کے تحت نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی مگر یہ سوال کرنے کے حق بجانب ہیں کہ آیا کسی نے میاں برادران سے یہ سوال کرنے کی جرات کی کہ انہوں نے اپنے تیس سالہ دوراقتدار میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں بنایا جہاں اُن کا علاج ممکن ہوسکے ۔ شاید اب حالات کروٹ لے رہے ہیں اسی لئے جسٹس ریٹائرڈ جاویداقبال نے یہ بھی کہاکہ اب ہواءوں کارخ بدل رہاہے اب یہ ہوائیں حکمرانوں کی جانب بھی چلیں گی ۔ واقفان حال یہ کہتے ہیں آنیوالے چندماہ انتہائی اہم ہیں اب وسیع پیمانے پرتبدیلیاں اورگرفتاریاں ہونے جارہی ہیں ۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس اپنی جگہ منصوبوں کی منظوریاں بھی اچھا اقدام ،بات یہ ہے کہ جو وعدے تھے وہ بھی کیاہوا ہوگئے ۔ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں معمولی نوعیت کے جرائم میں قید65سال سے زائد عمر قیدیوں کو رہا کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جبکہ کابینہ نے نیشنل ٹیرف پالیسی، متبادل اور قابل تجدید توانائی پالیسی اور محمد خاور جمیل کو وفاقی انشورنس محتسب تعینات کرنے کی بھی منظوری دی جبکہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے معاملے کے حوالے سے برطانوی حکومت کو تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا ،برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے کو بھی نوازشریف پر مقدمات سے آگاہ کیا جائیگا،عمر رسیدہ ، معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کی فہرستوں کی تیاری کا عمل جاری ہے جو آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی، انڈیمنٹی بانڈ کے حوالے سے ن لیگ کو سیاست نہیں کرنی چاہیے تھی،شہبازشریف کے وکلاء نے ہ میں کسی قسم کی ضمانت دینے سے انکار کیا مگر عدالت میں جا کربیان حلفی دیدیا، لاہور ہائی کورٹ میں انڈیمنٹی بانڈ کے حوالے سے حتمی فیصلہ جنوری میں ہونا ہے،اپوزیشن کے خلاف وزیراعظم یا میرا کوئی ایجنڈا نہیں ،اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو شہباز شریف پر توہین عدالت عائد ہو گی، بیرون ملک علاج کےلئے آصف علی زرداری کی درخواست آئی تو ہم ضرورمیرٹ پر اس کا فیصلہ کریں گے ، مولانا فضل الرحمان اپنی عزت بچا کر لے گئے ہیں وہ وزیراعظم کا استعفیٰ لینے آئے تھے مگر ان کو اپنی عزت کے لالے پڑ گئے ۔ کابینہ اجلاس میں ایجنڈا شروع ہونے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے معیشت کے اشاریوں میں بہتری سے متعلق کابینہ ارکان کو آگاہ کیا وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو مبارکباد دی ، وزیراعظم نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ نادار اور پسے ہوئے طبقے کی بہتری کےلئے فوری اقدامات اٹھائیں ، مو ثر معاشی پالیسیوں سے مقامی اور بیرونی سرمایہ کا روں کا اعتماد بحال ہوا ،غریب اور مستحق افراد کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ایک ظلم سہنے والامعاشرہ توقائم رہ سکتا ہے لیکن جہاں انصاف میسرنہ ہواس کاجینا محال ہوجاتاہے ۔ وزیراعظم نے بھرپورانداز سے اس حوالے سے ہدایات کی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کپتان تو شاید خود مخلص ہوگا لیکن اس کی ٹیم میں اتنی اہلیت نہیں کہ وہ ان احکامات پر عملدرآمد کر ا سکے ۔ لامحالہ پھرذمہ داری توٹیم کے کپتان پرہی آتی ہے ۔ گزشتہ سترسالوں سے جہاں کرپشن کاناسورہ میں دیمک کی طرح چاٹ رہاہے وہاں پرانصاف کے بول بالاکا بھی فقدان ہے اگرقانون سب کے لئے برابر ہو جائے توپھرحالات بہتر ہوسکتے ہیں لیکن جب عوام کے لئے فیصلے کچھ اور خواص کے لئے کچھ اورہوں تو پھر بین الاقوامی میڈیا کے تبصرے یا اُن کی ہیڈلائنزآنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں یہاں ہ میں نظام درست کرنے اوربدلے کی ضرورت ہے نظم ونسق کا جنازہ نکل چکا ہے اس پربھی وزیراعظم نے کہاکہ میں اس حوالے سے قطعی طورپرکوتاہی برداشت نہیں کروں گا لیکن اگرحکومت نے مستقبل میں چلناہے توپھراب سے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے اس سے پہلے کہ ہواءوں کارخ مکمل طور پرتبدیل ہوجائے ۔

اپوزیشن کادھرنے ختم

کرنے کا احسن اقدام

اپوزیشن جماعتوں کی نمائندہ رہبر کمیٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے تحت ملک بھر میں جاری دھرنوں کو ختم کرنے کا اعلان اور بند شاہراہوں کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اب ضلعی سطح پر مشترکہ جلسے کئے جائینگے ، رہبر کمیٹی نے اے پی سی بلانے کی بھی تجویز پیش کردی ۔ اکرم درانی نے میڈیاکو بتایا کہ ;200;زادی مارچ اور نواز شریف کے باہر جانے کے فیصلے کے بعدحکومت بوکھلا گئی ہے، عمران خان کی گزشتہ روز کی تقریر حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے،اس وقت حکومت دیوار سے لگ چکی ہے ، پلان بی کے بعد کسی اور پلان کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ اپوزیشن کی جانب سے دھرنے ختم کرنا ایک اچھا اقدام ہے لیکن حکومت اس کوبہت آسان ہی نہ لے کیونکہ فضل الرحمان کہہ چکے ہیں کہ وہ معاملات طے کرکے اسلام آباد سے اٹھے ہیں اب حکومت کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں کوئی بھی غلط فیصلہ کیاگیا تو آج جودھرناختم کیاگیاہے اس کے واپس آنے کے بھی امکانات ہیں ۔ اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ مثبت سیاست کرے اوراب دھرنوں ، جلسے جلوسوں کے بجائے جمہوری فورم، پارلیمنٹ ہاءوس میں آوازاٹھائے یہی جمہوریت کا حسن ہے وسائل سڑکوں پرنہیں بلکہ ایوانوں میں حل کرنے چاہئیں ۔

ایس کے نیازی کے زیرک اورحقائق پرمبنی تجزیے

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزکے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی کی نوازشریف کے حوالے سے بیرون ملک جانے کی پیشگوئی سچ ثابت ہوئی، نوازشریف کی صحت خراب ہوجائےگی وہ باہرچلے جائیں گے،ایس کے نیازی نے عرصہ پہلے پیشگوئی کی تھی، مریم نوازبھی باہر چلی جائیں گی،الیکشن مدت سے پہلے ہوجائیں گے ،خان صاحب بھی احتساب کے شکنجے میں آجائیں گے،قانون سب کےلئے ایک ہونا چاہیے جونہیں ہے ہمارے ملک میں ،لگتایہی ہے الیکشن جلدی ہوجائیں گے،معاملات ٹھیک نہیں ،مشرف کےساتھ زیادتی ہو رہی ہے ۔ اپنے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ایس کے نیازی نے مزیدکہا کہ مشرف نے بری ہوجانا ہے،مشرف صاحب کو کچھ نہیں ہونا، میں پرویزمشرف کوغدار نہیں کہہ سکتا ۔ سینئر تجزیہ کارایس کے نیازی گزشتہ 5سال سے پیشگوئی کررہے ہیں کہ پرویزمشرف کوکچھ نہیں ہوگا،عمران خان جائےگا،پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس سنگین کیس ہے،عمران خان جھوٹ نہیں بولتے لیکن حکومت نہیں چلاسکے،حکومت نے خود کوسنبھال لیا تو ٹھیک ورنہ حالات مزیدبگڑیں گے ۔ پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی قانون نہیں ،جو قانون دوقسم کاہووہ قانون ہی نہیں ،عمران خان کی کارکردگی صفر ہے کوئی اسکا بوجھ نہیں اٹھانا چاہتا،خان صاحب سے حکومت نہیں چل رہی تو چھوڑ دیں ۔

پاکستان کی قومی زبان اُردو اورڈاکٹر صمدانی

ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی سے ملاقات ہوئی ۔ ڈاکٹر صمدانی کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ اُردو انگریزی میں ان کی پینتیس سے زاہد کتابیں شاءع ہو چکی ہیں ۔ یہ ہمارے عہدکے معروف شخصیت ہیں ۔ علم و ادب کے حوالے سے پاکستان اور بیرونی دنیا میں جانے جاتے ہیں ۔ بنیادی طور پر شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں ۔ سرگودھا یونیورسٹی، منہاج یونیورسٹی اور آ ج کل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے وابستہ ہیں ۔ ڈاکٹر صمدانی کی نثر نگاری کو جامعات کی سطح پر تحقیق کا موضوع بھی بنایا گیا ہے ۔ جامعہ لاہور یونیورسٹی کے سرگود ھا کیمپس کے شعبہ اُردو میں ڈاکٹر صمدانی کی نثری نگاری کو تحقیق کا موضوع بناتے ہوئے تحقیقی و تنقیدی حوالہ برائے ایم فل(اُردو) کے مقالہ کا عنوان’’ رئیس احمد صمدانی تحریر کی تحقیقی نثر‘‘،محمد عدنان نے یہ مقالہ محمد تنویر مظہر کی نگرانی میں تحریر کیا اور ایم فل کی سندھ حاصل کی ۔ ڈاکٹر صمدانی نے اپنی تازہ کتاب’’ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کے نثری مضامین‘‘ مجھے بھیجی ۔ اس کتاب کے مولف مرتضیٰ شریف صاحب ہیں ۔ یہ کتاب میں اُردو ادب کے بہت ایم موضوعات پرتحریر کی گئی ہے ۔ ڈاکٹر صمدانی کے مضامین پاکستان کے مختلف اخبارات میں شاءع ہوتے ہیں ۔ تبصرہ نگاری، کالم نگاری،خلاصہ نگاری،سوانح نگاری،افسانہ نگاری، خاکہ نگاری اور اُردو زبان کی کئی صنفوں پر لگے گئے مضامین کو اس کتاب میں جمع کر کے مولف نے اُردو ادب کے طالب علموں کےلئے سہولت فراہم کر دی ہے ۔ اس کتاب میں ڈاکٹر صمدانی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ لکھنے کا عمل تخلیق کے زمرے میں آتا ہے ۔ گویا لکھنے والا اپنے خیالات، نظریات اور فکر کو جب قلم کی زبان عطا کرتا ہے تو اس کی سوچ تحریر کا روپ دھارتی ہے تو تحقیق عمل میں آتی ہے ۔ گویا لکھاری دیگر فن کاروں اور ہنر مندوں کی طرح ایک تخلیق کار، فن کار یاہنر مندہی ہوتا ہے ۔ اُردو کی مختلف اصناف پر بات کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ دیباچہ نگاری کی صنف اُردو ادب میں ایک قدیم روایت ہے ۔ لکھنے والا اپنے سے زیادہ مستند لکھاری، معروف کلم کار،شاعر وادیب سے مختصر رائے لکھوایا کرتے ہیں ۔ اس میں مصنف اور کتاب کے بارے میں مختصر معلومات مہیا کی جاتیں ہیں جو پڑھنے والے کےلئے مفید ہوتیں ہیں ۔ خلاصہ نگاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ خلاصہ یا تلخیص ادب کی ایک صنف ہے اورتحقیقی مقالے یامضمون کی بنیاد ہوتا ہے ۔ تحقیقی مضمون یا مکالے کے شروع میں اگر خلاصہ نہ ہوتو وہ مضمون تحقیقی مضمون کے زمرے میں نہیں آتا ۔ خلاصہ تبصرے سے مختلف ہوتا ہے ۔ مکتوب نگاری اور مکتوبات کے مجموعے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ادبیوں ، شاعروں ، دانشورں ، تخلیق کاروں کے خطوط ادبی تاریخ میں بلند مقام رکھتے ہیں ۔ مکاتیب میں علم وادب اور مکتوب الیہ کے کے بارے میں اساسی معلومات ملتی ہیں ۔ ادب میں بڑے مشاہیر کے مکتوب کتابوں میں جمع کیے گئے ہیں جو معلومات کا خزانہ ہیں ۔ جیسے اقبال;231; کے خطوط، غالب کے خطوط، مودودی;231; اورچوہدری نیاز علی خان کے خطوط وغیرہ ۔ ڈاکٹر صمدانی اُردو ادب میں نعتِ رسول ;248;کے بارے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر سید محمدرفیع الدین اشفاق جنہوں نے اُردو میں نعتیہ شاعری پر پہلا تحقیقی مقالہ تحریر کیا ۔ جس پر انہیں ناگپور یونیورسٹی سے ۵۵۹۱ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی، کے خیال میں ، اس صنف کاتعلق دینی احساس اور عقیدت مندی سے ہے اور اسے خالص دینی اور اسلامی ادب میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح ڈاکٹر شاکر اعوان کی تصنیف ’’عہد رسالت میں نعت‘‘ اُردو ادب میں اپنے موضوع پر قابل تعریف کام ہے ۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی تصنیف’’ اُردو کی نعتیہ شاعری‘‘اپنے موضوع پر معتبر حوالہ ہے ۔ ڈاکٹر صمدانی نے اُردو ادب میں کالم نگاری پر بھی قلم اُٹھایا ہے ۔ لکھتے ہیں کالم نگاری اُردو کے اصناف میں ایک اہم صنف ہے ۔ اس صنف نے قاری کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے ۔ ان اخبارات میں کالم یا ادراتی صفحہ اخبار کا کلیدی صفحہ تصور ہوتا ہے ۔ کالم انگلش کا لفظ ہے ۔ ابھی تک کالم کا اُردو مترادف ایجاد نہیں ہوا ۔ اسے اُردو میں کالم ہی کہا اور لکھا جاتا ہیں ۔ اُردو میں سوانح نگاری کی روایت کے متعلق فرماتے ہیں کہ ابتدا میں انسان نے اپنے بزرگوں کی اچھی صفات، اعلیٰ اخلاق، کرادر اور واقعات کو محفوظ کیا ۔ جس کا مقصد اپنے اجداد کی عزت تکریم اور ان کے شخصی پہلوں ، کردار اور اعمال سے اپنی آنے والی نسلوں کو روشناس کرانا تھا تاکہ صالح معاشرہ قائم ہو سکے ۔ سوانح جمع ہے سانحہ کی جس کے معنی ہے حادثات، حوادث،واقعات،روداد ۔ جب کہ سونح حیات یا سونح عمری کسی شخص کی زندگی کے حالت یا سرگزشت کے ہیں ۔ سوانح نگاری ادب کی ایک ایسی صنف ہے جس میں اشخاص سے بحث کی جاتی ہے ۔ اُردو میں کہانی کی روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ کہانی اور انسان لازم ملزوم اورتاریخ کا لازمی حصہ ہے ۔ کہانی، قصہ، داستان، افسانے اور ناول کا روپ دھارے ہوئے ہے ۔ برس ہا برس سے کہانی سنانے کی روایت نسل در نسل چلی آنے والی داستانیں ہیں ۔ ابتدا میں یہ داستانیں غیر تحریری تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان داستانوں کو قرطاس پر منتقل کیا جانے لگا ۔ اُردو میں خاکہ نگاری کی روایت بارے فرماتے ہیں کہ اُردو ادب کی مختلف اصناف میں ’’خاکہ‘‘ نویسی ایک ایسی صنف ہے جس میں کسی بھی شخص کی زندگی کے مختلف پہلوءوں کو تاریخ اور سن کے بغیر ،مصنف اپنی سہولت اورمرضی کے مطابق پیش کرتا ہے ۔ خاکہ نگاری اخلاص و محبت کے ملاپ سے معرض وجود میں آتی ہے ۔ اُردو میں افسانہ نگاری کی روایت کےلئے لکھتے ہیں کہ افسانہ، کہانی اور ناول ادب کی ایسی اصناف ہیں کہ جس میں بے شمار لوگوں نے طبع آزمائی کی ۔ کہانی نے افسانی ناول کی کوکھ سے جنم لیا ۔ اُردو میں سفر نامہ کی روایت پر بات کرتے ہوئے فرماتے ہیں ،اسے اُردو میں ایک اہم صنف کی حیثیت حاصل ہے ۔ برصغیر میں مہارا جندر گپت موریہ کے عہد میں پہلا یونانی سیاح میکا ستھنزتھا ۔ جو ایک سفیر کی حیثیت سے آیا تھا ۔ اس نے اُس وقت کے حالت قلم بند کیے جسے سفر نامہ کہتے ہیں ۔ اس کے بعد چینی سیاح، پھرہیون ٹی یا شیاک،پھر مراکش کے شہر طنجہ کا مشہور سیاح ابن بطوطہ، مارکوپولو، برطانوی سیاح نکولائی مانوچی کے سفرنامے دنیا کے سامنے آئے ۔ اس کے بعد سفرنامہ لکھنا عام ہو گیا ۔ ادب کی ساری صنفوں بارے لکھنے کے بعدکیا خوب فرماتے ہیں ادب کبھی بھی روبہ زوال نہیں ہو سکتا ۔ بےشک جب تک انسان ہے ادب اس کی ضرورت ہے ۔ ادب سے انسان کے کردار کی پہچان ہے ۔ کسی دور کے ادب سے اس دور کی اچھائیاں برائیاں معلوم ہوتی ہے ۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر کسی کے علاوہ خاص کر اخبار نویسوں ،کالم نگاروں ، ٹی وی نیوز کاسٹروں اور ایکر پرسنوں کے لیے ضروری ہے ۔ اگر یہ حضرات ادب کے تقاضے پورے کرتے ہیں تو ہمارے قومی تشخص کو تقویت پہنچے گی ۔ ڈاکٹر صمدانی نے اپنی علمی ادبی خدمات کو اپنے اس شعر میں سمیٹا ہے: ۔

روشنی یونہی دنیا میں پھیلی رہے گی علم و ادب کی

چلا میں جاءوں گا کاوشیں ہی باقی رہ جائیں گے

متقی اللہ کے بہترین دوست ہیں

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ مفہوم! کہ خداوند کریم کے حضور سب سے زیادہ محترم اور قابل عزت وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو ۔ قرآن کریم متقی لوگوں کی ہدایت کیلئے ہے اور بزرگان دین کا وصف اولین تقویٰ ہی رہا ہے ۔ قرآن مجید میں تقویٰ کاذکربار بار آیا ہے ۔ تقویٰ کے معنی پرہیز گاری کے ساتھ ڈرنے اور بچنے کے بھی ہیں یعنی نیکی اور ہدایت کی راہ اختیار کرنا ہے اور یہ دل کی ا س کیفیت کا بھی نام ہے جس کے ذریعے دل نیک کاموں کی طرف مائل ہونے لگتا ہے اور اس کی تڑپ پیدا ہوتی ہے ۔ اور برے کاموں سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اگر اس کا تعلق اللہ تعالیٰ یا قیامت کے دن سے ہو تو اس سے ڈرنا مراد ہوتا ہے کیونکہ رب سے اور قیامت سے کوئی نہیں بچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن حکیم میں ارشاد ہے ۔ مفہوم ’’ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو (سورۃ البقرہ 278) اور اگرتقویٰ کے ساتھ آگ یا گناہ کا ذکر ہو تو وہاں تقویٰ کے ذریعے ان سے بچنا مرادہے ۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہے ۔ مفہوم ’’اور اس آگ سے بچو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں (سورۃ البقرہ 24) تقویٰ تمام انبیاء کرام کی تعلیمات کا نچوڑ ہے اور یہ وہ قیمتی سرمایہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور قرب آسان ہوجاتاہے قرآن پاک میں سینکڑوں آیات تقویٰ کی اہمیت اور افادیت پر نازل ہوئی ہیں تمام عبادات کا بنیادی مقصد بھی انسان کے دل میں اللہ کا خوف اور تقویٰ پیدا کرنا ہے ۔ ایک مسلمان اللہ تعالی کے حکم کی وجہ سے حرام ،ناجائز اور گندی عادتیں چھوڑ دے گا اور ان کو کرنے کی کبھی جرات نہیں کرے گا ۔ تقویٰ اصل میں وہ قیمتی سرمایہ ہے جو تعمیر، سیرت و کردار میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ عبادات ہوں یا اعمال و معاملات اور اسلام کی ہر تعلیم کا مقصود اور فلسفہ تقویٰ کی روح کا مرہون منت ہے ۔ قرآن حکیم میں سورۃ العمران کی آیت نمبر76 میں ارشاد ربانی ہے ۔ مفہوم ’’اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں متقیوں کو ‘‘ ۔ اس قرآنی آیات سے ثابت ہوا کہ متقی اللہ تعالی کا محبوب ہے ۔ اللہ تعالی کے دوست اور محبوب کی کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ متقی کا اللہ تعالیٰ مدد گار بن جاتا ہے اور بے پناہ محبت کرتا ہے ۔ متقی کو اللہ تعالیٰ دین کی سمجھ بوجھ عطا فرماتا ہے اوراسے ہر قسم کے اندیشوں کے تفکرات سے آزاد فرما دیتا ہے اور اسے دانائی اورحکمت سے بڑھ کر ایمان کے اعلیٰ درجے پر فائز فرما دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جس سے راضی ہوتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ رسول اکر مﷺ نے فرمایا ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ رکھو ۔ ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو،کسی کی بیع پر بیع نہ کرو ، اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاءو ،مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور اس پر ظلم نہ کرے، اس کو حقیر نہ جانے ۔ آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرکے تین بار فرمایا تقویٰ یہاں ہے ۔ کسی شخص کے برے ہونے کیلئے کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو برا جانے اور ہر مسلمان کا خون ، مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر مکمل حرام ہے ۔ (صحیح مسلم )حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا اے لوگو سنو! تمہارا رب ایک ہے اور کسی عربی کو عجمی پرنہ عجمی کو عربی پر،گورے کو کالے اور کالے کو گورے پرکوئی فضیلت نہیں اور یہ صرف تقویٰ سے ہے ۔ (مسند احمد بن حنبل;230;)حضرت معاذ ;230;سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید اس سال کے بعد تم مجھ سے ملاقات نہیں کرو گے ۔ حضرت معاذ ;230; آپ ﷺ کے فراق کے صدمے میں رونے لگے پھر آپ ﷺ مدینہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میرے سب سے زیادہ قریب متقی ہوں گے خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں (مسند احمد بن حنبل;230;)اپنے آپ کو اپنے رب کی ناراضگی سے بچانا تقویٰ ہے ۔ اللہ تعالی نے تمام انس و جن کو تقویٰ کی وصیت فرمائی ہے اور یہی دوزخ سے نجات دلانے کا ذریعہ ہے ۔ تقویٰ مومینن کے لیے لباس اور بہترین زاد رہ ہے ۔ یہ وہ عظیم نعمت ہے جس سے دل کی بندش کھل جاتی ہے جو راستہ کومنورکرتی ہے اور اسی کی ہی بدولت گمراہ بھی ہدایت پاجاتا ہے ۔ تقویٰ (پرہیز گاری) ایک ایسا قیمتی موتی ہے اس کے ذریعے برائیوں سے بچنا اور نیکی کو اختیار کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔ حضرت علی ;230; کا تقویٰ سے متعلق ایک قول ہے کہ ’’تقویٰ‘‘ دراصل اللہ تعالیٰ سے ڈرنے،شریعت پر عمل کرنے اور جو مل جائے اس پر قناعت کرنے اورقیامت کے دن کی تیاری کرنے کا نام ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی ﷺ کے احکامات پر عمل کرنا اور مکمل پاکباز زندگی گزارنا ہی تقوی ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی ہ میں ان احکامات پر مکمل طور پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

بھارتی فوج ۔۔۔ پست حوصلوں کی داستان !

بھارتی اخبار ’’اکنامک ٹائمز‘‘ کے مطابق ہندوستانی فوج پاک سرحد کے قریب جنگی مشقوں کا انعقاد کررہی ہے جس میں 40 ہزار سے زائد بھارتی فوج کے مختلف دستے شرکت کریں گے ۔ ماہرین کے مطابق بھارتی عسکری اور سیاسی حکمرانوں کو سمجھنا ہو گا کہ محض اس قسم کی جارحیت اور مہم جوئی کی روش کے ذریعے وطن عزیز کے عوام اور فوج کے حوصلوں کو پست نہیں کیا جا سکتا اور جنگیں لڑنے کیلئے جس جذبہ شہادت اور جوش و ولولہ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بھارتی فوج میں یکسر ناپید ہے ۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارتی افواج اپنا مورال اور پروفیشنلزم تیزی سے گنوا رہی ہے ۔ آئے روز کسی نہ کسی بھارتی فوجی کی خودکشی سکہ راءج الوقت بن کر رہ گئی ہے ۔ بھارتی فوجیوں کی جانب اپنے ساتھی اہلکاروں کا قتل اور ان سے لڑائی کی خبریں بھارتی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انڈین آرمی اپنا پروفیشنلزم کس تیزی سے گنوا رہی ہے اور اس طرح کے واقعات بھارتی فوجیوں کے مورال پر کس خطرناک طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں ، اس کے بارے میں خود بھارت کے دفاعی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ انڈین آرمی میں ڈپریشن اور ذہنی تناءو کے زیراثر خودکشی اور ساتھی اہلکاروں کے قتل کے واقعات خطرناک حد تک بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔ بھارتی فوجیوں کے مابین افسران کے امتیازی سلوک، ناکافی تنخواہ، چھٹی نہ ملنے، مظالم سے ضمیر پر بوجھ، ٹوٹتے اعصاب، تحقیر آمیز رویے کی وجہ سے ڈپریشن اپنی انتہاءوں کو چھو رہا ہے، جس کی وجہ سے بھارتی فوجیوں کی غیر طبعی اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ یاد رہے کہ اتنے بھارتی فوجی چھڑپوں اور آپریشن کے دوران نہیں مرتے جتنے خود اپنے ہاتھوں موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں ، اس سے دیگر فوجیوں کے مورال میں گراوٹ آتی ہے ۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ہر مہینے 10 سے 15 بھارتی فوجی خودکشی کرتے ہیں ۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ کثیر الاشاعت ہندی اخبار ’’ وشو سماچار‘‘ کے مطابق گذشتہ چند مہینوں میں بھارتی سپاہیوں کے علاوہ 13 افسران اور 24 جونیئر کمیشنڈ آفیسر بھی خودکشی کر چکے ہیں ۔ یوں آپریشن اور جھڑپوں میں مرنے والے فوجیوں کی تعداد سے 12 گنا زیادہ دوسری وجوہات سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہندوستانی سپاہیوں میں اپنے ساتھی اہلکاروں کو قتل کرنے کے واقعات ایک رجحان کی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر شعبوں کی مانند بھارتی افواج میں بھی خاتون اہلکاروں کا استحصال ہر سطح پر جاری ہے ۔ بہت سے افسران اور اہلکار ساتھی خواتین اہلکاروں کی عصمت دری کے مرتکب ہوتے ہیں اور ایسی خواتین ٹراما کا شکار ہو کر اہل خانہ کی بدنامی کے ڈر سے خودکشی کر لیتی ہیں ۔ یاد رہے کہ معروف عالمی ادارہ ’’تھامسن راءٹرز فاءونڈیشن‘‘ بھی کہہ چکا ہے کہ ’’بھارت خواتین کے رہنے کے لئے دنیا کا بدترین ملک بن چکا ہے‘‘ ۔ مذکورہ فاءونڈیشن نے اپنے سروے میں کہا کہ بھارتی خواتین کی بہت بھاری اکثریت کسی نہ کسی طور سے جسمانی استحصال کا شکار ضرورہوتی ہے ۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ ان خواتین کو انصاف کے لئے بھی بھارتی ججز، پولیس اور ڈاکٹروں کی جانب سے مزید جنسی و اخلاقی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یوں مذکورہ سروے کے مطابق ایسے واقعات میں 70 فیصد سے زائد معاملات رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے ۔ بہرحال بات ہو رہی تھی بھارتی فوجیوں کے گرتے مورال کی ۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت کے کثیر الاشاعت ہندی اخبار ’’نو بھارت ٹائمز‘‘ کے مطابق بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے بھی انڈین آرمی میں دگردوں صورتحال کا اعتراف کیا اور کہا کہ قریباً دو بٹالین جتنے بھارتی فوجیوں کے ہر سال غیرطبعی اموات کا شکار ہونے پر سخت تشویش ہے ۔ یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ سابق بھارتی وزیردفاع نرملا سیتا رمن ( موجودہ وزیر خزانہ) کے عہدہ سنبھالنے کے بعد 100 سے زائد ہندوستانی افواج کے افسران بھارتی سپریم کورٹ جا کر انڈین آرمی میں امتیازی سلوک سے متعلق پٹیشن دائر کر چکے ہیں ۔ ان سو سے زائد لیفٹیننٹ کرنل اور میجروں کی قیادت کر رہے ’’لیفٹیننٹ کرنل پی کے چوہدری‘‘ نے کہا تھا کہ انڈین آرمی کے مابین شدید گروہ بندی موجود ہے اور افسران کو پروموشن کے ضمن میں بھی امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس سے افسران میں مایوسی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ سنجیدہ حلقوں کی رائے ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی کے غیر انسانی مظالم ۔۔۔بھارتی فوجیوں میں بڑھتے ڈپریشن اور خودکشی کے رجحانات کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہیں ۔ نہتے عوام پر غیر انسانی مظالم کی وجہ سے سپاہیوں کے ضمیر پر ایک مسلسل بوجھ رہتا ہے جس سے نجات کے لئے انھیں خودکشی کا راستہ ہی نظر آتا ہے ۔ پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال،نہتے کشمیریوں پر بد ترین تشدد اور کشمیری خواتین کی عصمت دری کے کچھ عرصے بعد بھارتی فوجی بالعموم ایک ٹراما کی سی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کے اندر صورتحال قطعی مختلف بلکہ متضاد ہے اور پاک افواج اور عوام کے درمیان باہمی احترام و اعتماد کا مضبوط رشتہ قائم ہے ۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ انڈین آرمی نہ صرف بدترین اخلاقی بحران میں مبتلا ہے بلکہ اس کے اعصاب بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ ایسے میں یہ شاید بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی افواج ’’گرتے مورال اور بڑھتے عزائم ‘‘ کی جیتی جاگتی مثال بن چکی ہے ۔

زمینی حقائق اور دعوے

مولانا فضل الرحمن کراچی سے آزادی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے راستے میں اور صوبوں اور شہروں سے بھی لوگ شامل ہوتے رہے اسلام آباد میں اپوزیشن کے کچھ کارکنان اور بعض رہنماءوں نے اسٹیج پر تقاریر بھی کیں اور پھر ایسے گئے کہ دوبارہ نہ تو وہ رہنماء نظر آئے نہ ہی ان کے کارکنان ۔ البتہ محمو دخان اچکزئی آخر تک مولانا کے ساتھ کھڑے رہے اور ان کے کارکنان بھی جمعیت کے کارکنان کے شانہ بشانہ ڈٹے رہے ۔ اس دوران حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات بھی ہوتے رہے جو بے نتیجہ ہی ثابت ہوئے کہ اچانک چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی سامنے آئے اس سے قطع نظر کہ وہ خود مولانا سے مذاکرات کےلئے میدان میں اترے یا ان کو لایا گیا لیکن چوہدری برادران کی مولانا سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور پھر تقریباً دس دن بعد مولانا نے اسلام آباد دھرنا یا اجتماع ختم کرنے کا اعلان کیا ۔ لیکن ساتھ ہی پلان بی پر عملدرآمد کےلئے کارکنان کو ہدایات بھی جاری کیں ۔ اب پلان بی کو ختم کیا جا رہا ہے اور مولانا نے رہبر کمیٹی کو دوبارہ متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا اجلاس بھی طلب کیا ۔ رہبر کمیٹی کا بظاہر تو کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس وقت مولانا کا ساتھ نہیں دیا جبکہ وہ اسلام آباد کے پشاور موڑ پر میدان میں تھے اور حکومت پر اتنا دباءو تھا کہ وزیراعظم نے دورہ سعودی عرب بھی منسوخ کر دیا تھا ۔ اور مختلف ذراءع سے مولانا سے مذاکرات کی کوششیں ہو رہی تھیں ۔ رہبر کمیٹی میں چونکہ اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں اور فی الحال ان جماعتوں سے کسی قسم کے تعاون کی امید نظر نہیں آتی ۔ میاں نواز شریف عدالتی فیصلے کی روشنی میں علاج کےلئے بیرون ملک چلے گئے ہیں ۔ ان کے ساتھ شہباز شریف بھی اب ملک سے باہر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کے علاج اور ضمانت کےلئے کوششیں کر رہی ہے ۔ لیکن مولانا نے رہبر کمیٹی کو تمام حجت کے طور پر متحرک کرنے کا سوچا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ایک سال میں پندرہ ملین مارچ کرنے اور پھر آزادی مارچ لے کر اسلام آباد آنے کا مقصد کیا تھا او ر پھر دس دن بعد اسلام آباد سے روانہ ہو کر ملک کی مختلف اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا کیا مقصد ہے ۔ مولانا کا پلان سی کیا ہے اورپلان ڈی کیا ہے ۔ مولانا اور چوہدری پرویز الٰہی کے مابین کیا کوئی ڈیل ہو ئی ہے اور وہ کیا خاص بات ہے جو چوہدری برادران چھپار پے ہیں اور ان کے پاس وہ کیا امانت ہے جو انھوں نے چھپا کے رکھی ہے ۔ کیا یہ تمام راز صرف چوہدری برادران کے پاس ہی ہیں یا ان رازوں سے وزیراعظم عمران خان بھی واقف ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن بعض لوگوں کی طرح نو آموز سیاست دان نہیں ہیں ۔ وہ پلان اے بی سی اور ڈی کا بہت پہلے بتا چکے تھے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے کارکنوں کو لمبے دھرنے میں نہیں تھکائیں گے ۔ پلان اے اور بی تو سب نے دیکھ لیئے اور حیرت انگیز طور پر حکومت نے شاہراہوں کو بند کرنے والوں کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا نہ شاہراہوں کو کھوانے کےلئے کوئی اقدامات کیئے ۔ مولانا کے بقول پلان سی زیادہ ٹھوس اور حکومتی مشکلات میں اضافہ کا باعث ہوگا ۔ دیکھا جائے تو چوہدری برادران کچھ چھپا رہے ہیں ۔ لیکن یہ وہ کچھ نہیں ہے جو لوگ سمجھتے ہیں ۔ یہ شاید کچھ اور ہے جس پر فی الحال نہ تو کوئی تبصرہ مناسب ہے اور نہ ہی کوئی تجزیہ ۔ کچھ دنوں بعد شاید بہت کچھ سامنے آنے والا ہے ۔ چوہدری برادران بہت زیرک سیاستدان ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کس وقت کون سی بات کس انداز میں کرنی ہے اور کس مخصوص جگہ پیغام کو کیسے پہنچانا ہے ۔ عقلمندوں کے لیئے تو اشارہ ہی کافی ہے ۔ وہ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ گئے ۔ آنےوالے دنوں میں ہوا کا رخ کیا ہوگا ۔ یہ ہوا کے رخ کو دیکھ کر اڑنےوالوں کی سوچ پر منحصر ہے ۔ میاں نواز شریف اگرچہ عدالتی فیصلے کے تحت بیرون ملک علاج کے لیئے گئے ہیں لیکن حکومتی وزراء کے رنگ بہ رنگے بیانات سے حکومت کی سبکی اور بے چینی واضح ہے ۔ نہلے پے دہلے والاکام وزیراعظم عمران خان کی حویلیاں موٹروے افتتاح کے وقت کی گئی تقریر نے کیا ۔ ان کی تقریر سے ان کا غصہ اور تکلیف تو بچے بھی سمجھ گئے ہوں گے ۔ اپنی تقریر میں وزیراعظم نے نہ صرف اپوزیشن جماعتوں اور ان کے رہنماءوں کو لتاڑا بلکہ عدالتوں کو بھی نہیں بخشا ۔ ان کی تقریر اور لب و لہجہ سے یہ بالکل نہیں لگا کہ یہ کسی وزیراعظم کا خطاب ہے ۔ بلکہ یوں لگ اکہ وہ کسی کنٹینر پر کھڑے عمران خان ہیں اور ان کا تعلق کسی اپوزیشن جماعت سے ہے ۔ لیکن بہرحال یہ ان کی سوچ ہے اور بولنے کا حق بھی ۔ جو وہ بہتر سمجھتے ہیں لیکن بطور وزیراعطم ان جو جس شائستہ اور نرم لہجہ کو اختیار کرنا چاہیئے وہ نظر نہیں آتا ۔ ان کے خطبات سے لگتا ہے کہ وہ جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں ۔ اس وقت ملکی معیشت زمینی حقائق کے مطابق دگرگوں ہے ۔ حکومت کے ہندسوں اور الفاظ کے ہیر پھیر سے نہ تو مہنگائی کم ہو سکتی ہے نہ عوام کو درپیش مشکلات کا زالہ ہو سکتا ہے ۔ شاید وزیراعظم صاحب زمینی حقائق کو مدنظر رکھنے کے بجائے حکومتی وزیروں اور مشیروں کے اعداد و شمار پر ہی یقین رکھتے ہیں ۔ یہ نہایت خطرناک رجحان ہے ۔ شاید حکومت کو اس کا ابھی ادراک نہیں ہے ۔ مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم ،جی ڈی اے تو شاید سمجھ چکی ہیں لیکن حکومتی پارٹی اور حکومت کو تیزی سے بدلتے حالات کا ابھی اندازہ نہیں ہے ۔ حکومت نے اپنے ہی وزراء پر بے یقینی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ والے دفتروں میں پارلیمانی سیکرٹری بٹھا دیئے ۔ اب بیورو کریسی میں بھی تحریک انصاف والوں کو شامل کرنے کا پروگرام اس طرح ہے کہ ہر وفاقی سیکرٹری کے ساتھ ایک حکومتی نمائیندہ بھی ہوگا ۔ جو اس وزارت سے متعلقہ معاملات کا ماہر ہوگا اور وہ وفاقی سیکرٹری کی معاونت کرے گا ۔ اس اقدام سے کیا ظاہر ہو تا ہے یہ بیورو کریسی سے بہتر کون جانتا ہے ۔ مختصر یہ کہ زمینی حقائق کچھ اور ہیں اور حکومتی دعوے کچھ اور ہیں ۔ حکومت ٹھوس اقدامات کے بجائے غلط مشوروں پر چل رہی ہے ۔ اور روزانہ کی بنیاد پر فیصلے اور یو ٹرن لیئے جا رہے ہیں ۔ کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں ہے ۔ عام آدمی بے روزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے ۔ ہوا اپنا رخ تبدیل کر رہی ہے ۔ لیکن حکومتی مصروفیات کچھ اور ہیں ۔ اور سوچنے سمجھنے کی شاید فرصت نہیں ہے ۔ یا سمجھ آگئی ہے کہ کیا ہونے جا رہا ہے ۔ او ر کیا کرنا ہے ۔

وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو چیف جسٹس کے بیان پر تبصرے سے روک دیا

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ترجمانوں کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف کھوسہ کے بیان پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے روک دیا ہے۔ 

وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت پارٹی اور حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور نواز شریف کے باہر جانے کے حوالے سے پارٹی بیانیہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے ترجمانوں کو معیشت اور سیاست سے متعلق پارٹی بیانیے پر ہدایات جاری کیں جب کہ معاشی ٹیم نے نئے معاشی اعشاریوں پر بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ترجمانوں کو چیف جسٹس کے بیان پر تبصرے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی صحت پر اب بھی کوئی سیاست نہیں کریں گے، حکومت نے نواز شریف کو ڈاکٹرز کی رپورٹس اور انسانی ہمدردی کے تحت باہر بھیجنے کی اجازت دی تھی، شریف فیملی پاکستانی عوام کے سامنے مکمل بے نقاب ہو گئی ہے، نواز شریف نے لندن جس فلیٹ پر قیام کیا اس کی ملکیت نہ ثابت کر سکے، تاہم عدالت نے جو فیصلہ دیا اسے تسلیم کیا۔

اس سے قبل  وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا بھی اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وزیر بحری امور سید علی حیدر زیدی، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ توانائی عمرا یوب خان، مشیر تجارت عبدالرزاق داوٴد، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی ندیم بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریزبھی شریک تھے۔

اجلاس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں اضافے اور ان کو مراعات دینے سے متعلق امور پرغور کیا گیا، پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، پاکستان بناوٴ سرٹیفیکیٹس کی تشہیر، بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جب کہ نقصان اٹھانے والے بیمار سرکاری اداروں (سک یونٹس) کی بحالی کے لئے اقدامات جیسے اہم امور پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ترسیلات زر میں گزشتہ تین سالوں میں شرح نمو صفر رہی ہے اور تین سال کے بعد ترسیلات زر میں 09 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ مالی سال 2019 میں 21.8 ارب ڈالر ہیں، برطانیہ، ملائیشیا، کینیڈا اور آسٹریلیا سے ترسیلات زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، برطانیہ سے ترسیلات زر میں 09 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ترسیلات زر میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

اجلاس میں وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بنک کی جانب سے ترسیلات زر کے حوالے سے مراعات دینے پر مختلف تجاویز وزیرِ اعظم کو پیش کی گئیں، جس پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ترسیلات زر کے حوالے سے حکومت کی جانب سے سہولت کاری اور مراعات سے متعلق تجاویزکو ایک ہفتے میں حتمی شکل دی جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں اور خصوصاً بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے جاری منصوبوں پر پیش رفت تیز کی جائے، ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عمل درآمدسے جہاں معاشی عمل تیز ہوگا وہاں نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے، ان ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے وزیرِ اعظم آفس کو باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے اور کسی بھی مشکل کو دور کرنے کے سلسلے میں وزیرِ اعظم آفس سے رجوع کیا جائے۔

سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ غیر سرکاری فلاحی تنظیم اخوت کی جانب سے لوگوں کے گھروں سے کھانے کی اشیاء اکٹھی کرکے مستحق اور ضرورتمند افراد کو پہنچانے کے منصوبے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور یہ عمل ایک ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا۔ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدام حکومتی فلاحی سرگرمیوں سے مطابقت رکھتا ہے لہذا حکومت اس ضمن میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

Google Analytics Alternative