Home » 2019

Yearly Archives: 2019

مسئلہ کشمیر۔۔۔بھارتی مذموم عزائم اورپاکستان کی موثرحکمت عملی

پاکستان نے بھارت کووہ جواب دیاہے جس کا شاید خام وخیال میں بھی نہیں سوچ سکتاتھا، چونکہ بھارت کی جانب سے حالات اتنے خراب کئے جاچکے ہیں کہ اس کی لپیٹ میں پوراخطہ آسکتاہے پاکستان نے ہمیشہ سے مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت اور تیسرے فریق کی شمولیت سے یہ مسئلہ حل کیاجائے لیکن بھارت نے اس مسئلے کے حل کرنے کے راستے میں ہمیشہ روڑے ہی اٹکائے ،جب بھی یہ مسئلہ حل ہونے کے قریب آتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی اورمسئلہ کھڑاکردیتا ہے جس طرح اس مرتبہ جب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی تو اس نے آئین کی شقیں بھی تبدیل کرکے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ختم کرکے رکھ دی جس سے خطے میں آگ بھڑکنا شروع ہوگئی چونکہ لداخ کامسئلہ چین کے ساتھ ہے اس وجہ سے چین بھی سامنے آگیا ہے ، پاکستان نے ان حالات کے پیش نظر بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کاحکم دیا اورساتھ ہی اپنے ہائی کمشنر کوواپس بلانے کاکہہ دیا ہے ،وزیراعظم نے سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اس سلسلے میں ان کے مختلف ممالک کے سربراہوں سے رابطے بھی ہورہے ہیں اور پاکستان ابھی تک یہ کوشش کررہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کیاجائے ۔ گزشتہ روزوزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی ;200;ئی ایس ;200;ئی، ڈی جی ایم او اور دیگر حکام شریک ہوئے ۔ پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے جبکہ پاکستان نے نئی دلی میں تعینات اپنے ہائی کمشنر کو بھی واپس بلا لیا ہے ۔ قومی سلامتی کمیٹی نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے، بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور تجارتی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے ایل او سی پر مسلح افواج کو تیار رہنے کی ہدایت کردی ہے ،اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال غور کیا گیا ۔ اجلاس کے بعد پانچ نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا جن میں کہا گیا ہے اجلاس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت معطل اور باہمی معاہدوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے اور 14 اگست کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے اور 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے بھارت کی بہیمانہ نسلی نظریات پر مبنی پالیسیاں عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے تمام سفارتی راستے اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ بھارتی اقدامات سے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال انتہائی خراب ہورہی ہے اور بھارتی عزائم داخلی و خارجی سطح پر عیاں ہوچکے ہیں ، بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے پریشانی میں پرخطر ;200;پشنز اختیار کرسکتا ہے ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اضافی بھارتی فوج جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے، بھارتی عزائم خطے میں تشدد بڑھا کر اسے فلیش پوائنٹ بناسکتے ہیں ، بھارت اوچھے ہتھکنڈے چھوڑ کر تنازعے کے پرامن حل کی طرف بڑھے ۔ دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال کے حوالے سے وزیر اعظم کی بنائی گئی کمیٹی کو اہم امور سونپ دئیے ہیں ،وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی تمام قانونی امور کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کریگی، فی الحال بھارت کے ساتھ تعلقات نچلی سطح پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے،ان کے سفیر کو بھی جانا ہو گا ۔ ہم نے او ;200;ئی سی سے بھی رابطہ کیا انہوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا، 5اگست کو بھارت نے کچھ اقدامات کیے جن کی فی الفور مذمت کی گئی ۔ ;200;ج ہر کشمیری بچہ یونین کے بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے اور کشمیری پاکستانی پارلیمان کا فیصلہ سننے چاہتے ہیں ، تمام ارکین اسمبلی بشمول اپوزیشن نے ثابت کیا کہ کشمیر کاز پر ہم سب متفق ہیں بھارت کو حکومتی فیصلوں سے آگاہ کردیا گیا ہے ۔ نیز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس بھی ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال اور ملکی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا،وزیراعظم نے اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر حکومتی ترجمانوں کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کا کیس لڑے گا، پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتا ۔ دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے برطانیہ کے نومنتخب وزیراعظم بورس جانسن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ اِدھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف کشمیری عوام سڑکوں پرنکل آئے اورزبردست احتجاج کیا،قابض فورسز نے احتجاجی مظاہرین پراندھادھندفائرنگ کی، پیلٹ گنوں کا استعمال کیا اورآنسو گیس کے شیل بھی برسائے جس کی وجہ سے چھ نہتے معصوم کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ سو سے زائد مظاہرین شدید زخمی ہوگئے جن میں سے متعدد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے، وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں وہاں پر بدستورکرفیونافذ ہے ،بازاربندہیں ، انٹرنیٹ ،موبائل اور ریلوے کی سروس معطل کردی گئی ہے ،پوری کشمیری آبادی کادنیابھرسے رابطہ منقطع کردیاگیا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری کو یہ علم نہ ہوسکے کہ بھارت وہاں پرنہتے معصوم کشمیریوں کے خون کی ہولی کس طرح کھیل رہاہے ۔ بھارتی دہشت گرد فوج کشمیریوں کو گھر سے نکال کرگرفتارکررہی ہے اورانہیں شہید کیاجارہاہے یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری اس جانب توجہ دے اگراب بھی اس نے اس مسئلے کوحل نہ کیاتو وہ یہ نہ سوچے کہ اگر جنگ ہوئی تو یہ صرف پاکستان اوربھارت کے مابین نہیں بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گی لہٰذا مودی کواُس کے مذموم عزائم کوتکمیل پہنچانے سے روکاجائے اسی میں سب کی بہتری ہوگی ۔

مسئلہ کشمیر۔۔۔بین الاقوامی برادری توجہ دے

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی یا سفارتی تعلقات رکھنا کشمیریوں کے ساتھ زیادتی ہوگی،یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت پاکستان مقبوضہ کشمیر مسئلے کو عالمی سطح پر کیسے اٹھاتی ہے،ساری دنیا ہمارا مشترکہ پارلیمنٹ اجلاس دیکھ رہی ہوتی ہے، ہمارے پارلیمنٹریز کو اس بات کا خیال نہیں ہوتا اور ایک دوسرے کے خلاف بولتے رہتے ہیں ، ہمارا بیرونی دنیا میں یہ پیغام جانا چاہیے کہ ہم ایک ہیں ، حکومت پاکستان کو چین کو اعتماد میں لینا چاہیے اور بین الاقوامی برادری کوبھی اس جانب توجہ دینی چاہیے ۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر)عبد القیوم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر والا مسئلہ بڑا سنجیدہ ہے ہم سب کو اکٹھا ہونا چاہیے، بہتر فارن پالیسی کا انحصار ملک کے اندرونی اتحاد پر ہوتا ہے، وزیراعظم پارلیمنٹ میں لیٹ آئے مگر ان کی تقریر اچھی تھی ،وزیراعظم کو غیر ملکی دورے کرنے چاہئیں اورمسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا چاہیے، مقبو ضہ کشمیر مسئلہ پر بھارت سے بھی آوازیں آنا شروع ہوگئیں ہیں ، اگر وزیراعظم کو دوبارہ امریکہ جانا پڑے تو وہ ضرور جائیں ،ہ میں بارڈر پر بھی ہوشیار رہنا ہوگا، سیکولر انڈیا کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے،پاکستان میں اقلتیوں کی عزت کی جاتی ہے مگر بھارت میں ایسا نہیں ہے ۔

جنوبی پنجاب کے ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن

عوام کی صحت ، خوراک اور جان و مال کا تحفظ بنیادی طورپر حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ موجودہ پنجاب حکومت صحت کے معاملے میں اپنے فراءض سے پوری طور پر آگاہ ہے اور اس شعبے میں اپنی پوری توانائیاں صرف کر رہی ہے ۔ ماضی میں ہسپتالوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ غفلت حکومتی اقدامات کی ہو یا ڈاکٹروں کی بھگتنا غریب عوام کوہی پڑتا ہے ۔ گزشتہ دورحکومت میں گورنمنٹ ہسپتالوں میں ایک ہی بیڈ پر کئی مریض موجود ہوتے تھے اور پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں تھا ۔ صفائی کے ناقص انتظامات پر بھی ہسپتالوں کی انتظامیہ نے چپ سادھ لی تھی ۔ مگر اب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سربراہی میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی شب و روز محنت رنگ لا رہی ہے اور عوام کی صحت پر اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ عثمان بزدار نے کئی بار ہسپتالوں کے دورے کئے ۔ لاہور کے علاوہ راولپنڈی، اور خاص طور پر جنوبی پنجاب میں ملتان ، بھاولپوراور رحیم یار خان کے ہسپتالوں کے دورے کئے ۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے سہولیات میں مزید اضافے اور مریضوں کی کثیر تعداد کے باعث زیادہ گنجائش پیدا کرنے کی ہدایت کی ۔ شعبہ صحت کی ترقی اور مریضوں کو جدید طبی سہولیات کی دہلیز پر فراہمی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے اسی مقصد کے لئے بجٹ میں خاطر خواہ فنڈز رکھے گئے ہیں ۔ حکومت پنجاب نے شعبہ صحت کی ترقی و استحکام کے لئے موجودہ مالی سال میں 308،ارب روپے کا تاریخ ساز بجٹ مختص کیا ہے جو گزشتہ حکومت کے ہیلتھ بجٹ سے 8;46;4فیصدزیادہ ہے اورصوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں 9نئے ہسپتالوں کے قیام کے علاوہ موجودہ ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کے منصوبے مکمل کئے جائیں گے ۔ اس مالی سال میں صوبہ کے سرکاری ہسپتالوں میں اڑھائی ہزار بیڈز کا اضافہ ہوگا ۔ جدید سہولتوں سے آراستہ نئے ہسپتال لیہ،میانوالی،رحیم یار خاں ، بہاولپور،ڈیری غازی خاں ، ملتان،راولپنڈی اورلاہور میں بنائے جائیں گے ۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں 2ارب روپے ہیلتھ کارڈکے اجراء کے لئے مختص کئے گئے ہیں اور اس سال پنجاب کے 36اضلاع میں 72لاکھ ہیلتھ کارڈ جاری کئے جائیں گے جس کی بدولت 3سے 4کروڑ لوگ علاج معالجہ کی سہولتوں سے مستفید ہونگے اوردوسرے شہروں سے علاج کے لئے آنے والے مریضوں کو ایک ہزارروپے کرایہ بھی دیا جائے گا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ صحت انصاف کارڈ غریبوں کے لیے امید کی کرن ہے ۔ غریبوں کو اسپتال لانے لے جانے کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی ۔ صحت انصاف کارڈ پاکستان کی تاریخ کا ایسا منصوبہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی ۔ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ہر قسم کی سرجری اور کنسلٹینسی سمیت تمام سہولتیں مہیا ہوں گی ۔ کارڈ رکھنے والا معیاری اسپتال میں علاج کروا سکتا ہے ۔ صحت کارڈ کے ذریعے 7 لاکھ 20 ہزار روپے کا علاج ممکن ہے، اسے بڑھایا بھی جاسکتا ہے ۔ صحت انصاف کارڈ سے 3 کروڑ افراد مستفید ہوں گے ۔ اس کے علاوہ صوبائی ہیڈ کوارٹرز پر پیڈیاٹرک اینڈ چائلڈہیلتھ یونیورسٹی بھی بنائی جارہی ہے جس کا مقصد بچوں کی شرح اموات پر تحقیق کرنا ہے ۔ صوبہ میں ٹی بی کے مریضوں کی سکریننگ کے بعد ایچ آئی وی ایڈز ظاہر نے پر 350مریضوں کو ادویات فراہم کی جارہی ہیں اور ہر ضلع میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت سنٹر بھی قائم کریں گے ۔ عثمان بزدار نے ہدایت کی کہ وطن عزیز کو پولیو فری بنانے کے لئے میڈیا نمائندگان شعور اجاگر کریں اور بچوں کو پولیو سے بچاوَ کی ویکسین ہر بار لازمی پلوانے،کھانا کھانے سے قبل ہاتھ دھونے،ابلا ہوا پانی استعمال کرنے کا پیغام والدین تک پہنچائیں تاکہ مشترکہ کاوشوں سے مطلوبہ نتاءج حاصل کئے جاسکیں ۔ حکومت پنجاب میں سوشل سیکٹر کی ترقی و استحکام پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جس میں ہیلتھ اور ایجوکیشن کے شعبوں کی ترقی سرفہرست ہے ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کھڈیاں اور مصطفیٰ آباد کیلئے ریسکیو 1122 سروس کا بھی افتتاح کیا اور تحصیل کمپلیکس کوٹ رادھا کشن کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا ۔ اس پراجیکٹ کا تخمینہ ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر لگایا گیا تھا ۔ شفافیت کی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے اس منصوبے کو صرف سات ماہ کی قلیل مدت میں پایا تکمیل تک پہنچایا گیا ۔ حکومت پنجاب صوبے میں صحت کی سہولیات کی بہتری پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اور ایسا نظام وضع کیا جا رہا ہے جس سے مریضوں کو شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں بنیادوں پر معیاری طبی سہولیات میسر آئیں ۔

یوم یکجہتی کشمیر اور عالمی ذمہ داری!

پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کے عملی طور پر تین فریق ہیں ، پاکستان، کشمیری عوام اور بھارت، اور اس تنازعہ کو محض اقوام متحدہ کی منظور قرار دادوں کے مطابق ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔ جب تک کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت نہیں دیا جاتا، تب تلک کوئی یکطرفہ فارمولہ پاکستان و کشمیری عوام کو کسی صورت قبول نہیں ۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس مسئلے کو بھارت خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا اور اس وقت کے بھارتی وزیراعظم نے اعلانیہ طور پر اقرار کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہش کے مطابق ہی حل کیا جائے گا ۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد ازاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی حکمرانوں ان وعدوں سے منحرف ہوتے چلے گئے ۔ مگر اس سب کے باوجودآرٹیکل 370 اور 35-;65; بھارتی آئین کا حصے رہے جس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل ہے، ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی ہے ۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے ۔ ان آرٹیکل کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے ۔ اس تناظر میں انسان دوست حلقوں کا کہنا ہے کہ دہلی سرکار نے 5 اگست کو اپنی دیرینہ مکروہ روش کا مظاہرہ کرتے ہوئے جس طرح تمام انسانی، اخلاقی اور قانونی ضابطوں کو پامال کیا، اس پر بجا طور پر پوری قوم میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے ایک جانب مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے تو دوسری طرف بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور تجارتی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ بھارت میں تعیناتی کیلئے نامزد پاکستانی ہائی کمشنر معین الحق کو جانے سے روکا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ پاکستان و ہندوستان کے مابین دوطرفہ معاہدوں کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے ، علاوہ ازیں 14 اگست کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا جبکہ بھارتی یوم آزادی یعنی 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیخلاف مذمتی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظورکی گئی ہے ۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کسی طرح قابل قبول نہیں کیونکہ یہ پاکستان بھارت کے مابین ایک متنازع علاقہ ہے ۔ قرار داد میں مزید کہا گیا کہ پاکستان ہر طرح کے حالات میں نہتے کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے ۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی دو دن جاری رہا ۔ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں 5 فیصلوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ درج ذیل ہیں :1 ۔ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کئے جائیں گے ۔ 2 ۔ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل کی جائے گی ۔ 3 ۔ دو طرفہ معاہدوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا ۔ 4 ۔ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے گا ۔ 5 ۔ ملک کے طول و عرض میں 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا ۔ وزیراعظم نے بھارت کی بہیمانہ نسلی نظریات پر مبنی پالیسیاں عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے تمام سفارتی راستے اختیار کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے ۔ اس سے قبل پاک افواج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم کشمیریوں کی جدوجہد کے ساتھ ہیں اور اس سلسلے میں آخری حد تک جائیں گے ۔ کسے معلوم نہیں کہ گزشتہ برسوں میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد نہتے کشمیری اپنی جانوں کی بازی ہار چکے ہیں اور بھارتی درندگی کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ ایسے میں اگر عالمی برادری نے مزید چشم پوشی سے کام لیا تو اس کے اثرات نہ صرف پورے خطے کو متاثر کرینگے بلکہ پورا عالمی امن لپیٹ میں آ سکتا ہے ۔

مائی گوماں اور عمرہ

یہ میرے بچپن کا چشم دید واقع ہے جو میرے دل ، دماغ پر ثبت ہے ۔ ہم مارٹن روڈ کراچی میں رہتے تھے گھر میں ایک پچاس برس کی اماں کام کرنے آیا کرتی وہ برتن دھونے اور کپڑے دھونے کیلئے ملازم تھی ۔ والدہ مرحومہ اسے بچا کھچا کھانا بھی دے دیتی ۔ ہمارے گھر میں مرفی ریڈیو تھا جو کارنس پر رکھا ہوتا جس پر میز پوش کی طرح کا کڑھائی کیا ہوا رومال یا کپڑا پڑا ہوتا جو ریڈیو کو گردوغبار سے محفوظ رکھتا ۔ چھٹی والے دن ہماری خواہش ہوتی کہ ریڈیو سیلون پر نشر ہونے والے گانے سنے جائیں جو اکثر لتا منگیشتر اور محمد رفیع کی آواز میں ہوتے آٹھ بجے شام کی نیوز شکیل احمد مرحوم کی آواز میں ریڈیو پاکستان کراچی سے بلا ناغہ بڑے اہتمام سے سنی جاتیں ۔ ریڈیو کے نامور آرٹسٹ جیسے طلعت حسین ، قاضی واجد، شکیل احمد سلیم احمد وغیرہ ہمارے گھر کے قریب ہی رہتے تھے ۔ رضوان احمد صاحب کا گھر تو ہمارے بالکل سامنے تھا ۔ مارٹن روڈ کراچی کا ذکر کرتے ہوئے سنہری یادوں کے دریچے کھلتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں ۔ بچپن اور جوانی کا حصہ جہاں گزرا ہو وہ جگہیں واقعات اور لوگ کیسے بھلائے جاسکتے ہیں ۔ اللہ کا نظام بھی کیا خوب ہے دماغ کے کونے میں یادیں جمع رہتی ہیں جب چاہیں سیکنڈ کے بھی قلیل ترین حصے میں وہ اجاگر کی جاسکتی ہیں ۔ سب کچھ یوں آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے جیسے برسوں پہلے کی نہیں کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہو ۔ بہرحال مائی گوماں گھر کا کام ختم کرنے کے بعد میری والدہ کے ساتھ کچھ دیگر گپ شپ لگا کر پھر دوسرے گھر چلی ج اتی اسکی خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی کسی گھر کی بات دوسرے گھر میں جاکر نہ کرتی اسباب کو وہ بہت بڑا گنا کہتی ان پڑھ ہونے کے باوجود وہ بڑی سمجھداری کی باتیں کرتی ۔ اسکی موجودگی میں جب کبھی ریڈیو سے خصوصاً جمعہ کے دن نعت نشر ہوتی تو وہ مکہ اور مدینہ شریف کا نام سن کر ہاتھ میں پکڑے جھاڑو کو پھینک دیتی گم سم اپنے میلے کچیلے ڈوپٹے کے پلو سے آنکھوں سے بے ساختہ بہتے ہوئے آنسو بھی بار بار پونچھتی رہتی ۔ ایک دفعہ پنجابی زبان کی نعت کسی غیر معروف نعت خواں کی آواز میں نشر ہورہی تھی جسکا مفہوم کچھ یہ تھا کہ اپنے کمزور مالی حالات کیوجہ سے میرا مدینے کا سفر نہیں ہورہا کوئی وسیلہ بن جائے تو میں بھی حاضری دے دوں ۔ اماں گوماں ہر مصرعے پر آمین کہتے ہوئے روتی رہی ۔ ہم اگرچہ سکول میں پڑھ رہے تھے لیکن گھر کا ماحول کچھ ایسا تھا کہ شعر، شاعری سننے کو ضرور ملتی ۔ میں اور میرا چھوٹا بھائی مرحوم مائی گوماں کو دیکھتے رہے کچھ زیادہ سمجھ نہ آیا کہ وہ اتنے آنسو کیوں بہارہی ہے ۔ نعت جب ختم ہوئی تو وہ میری والدہ سے کہنے لگی بی بی دعا کرو میں بھی مدینے جاءوں والدہ نے بڑے جوش سے کہا آمین اللہ تمہیں مکے ، مدینے کی زیارت کرائے ، مائی گوماں اپنا کام ختم کرکے دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی ۔ بات آئی گئی ہوگئی ۔ تین چار ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزرا ہوگا کہ ایک دن جب وہ ہمارے گھر میں کام کرنے آئی تو اس نے میری والدہ سے کہا بی بی میں عمرہ کرنے جارہی ہوں سرکار;248; نے میرا بندوبست کردیا ہے والدہ نے اسے مبارکباد دی اور تفصیل پوچھی تو اس نے کہا میں گرو مندر کے قریب ایک کوٹھی میں بھی کام کرتی ہوں وہ صاحب بہت نیک انسان ہیں ۔ میاں بیوی عمرے کیلئے جارہے ہیں انہوں نے میرے اور میرے گھر والے کے ٹکٹ کا بندوبست بھی کردیا ہے ۔ باہر جانے کیلئے کاپی یعنی پاسپورٹ بھی بنوا دیا ہے ہم اب ان کے ساتھ اتوار کو جارہے ہیں آپ کیلئے بھی دعا کروں گی ۔ والدہ اسکی قسمت پر رشک کرنے لگی ظاہراً مالی ذراءع نہ ہونے کے باوجود سب ذراءع بن گئے ۔ نیت اور تعلق کی بات ہے ۔ بے ساختہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے آنسو مائی گوماں کی مکہ اور مدینہ شریف کی حاضری کا سبب بن گئے ۔ وسائل نہ بھی ہوں پھر بھی محبت اور عقیدت خود وسائل پیدا کرلیتے ہیں ۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے کے مصداق اس ان پڑھ جاہل عورت کو نہ تو دین کا اتنا پتہ تھا نہ ہی وہ مذہبی باریکیوں کو جانتی تھی وہ صرف عشق مصطفی;248; میں تھی دل اتنا گراز تھا کہ مکے اور مدینے کا سن کر اسکی آنکھیں چھلک اٹھتی چہرے پر طمانیت ہوتی ۔ جب وہ عمرہ کرنے کے بعد واپس آئی تو اسکے چہرے پر پاکیزہ چمک نمایاں تھی ۔ اسکا کہنا تھا کہ میں اب ہر وقت ہی سرکار;248; کے روضے کی جالیوں کے سامنے ہوتی ہوں ۔ درود پاک کا ورد اور نماز کی پابندی مائی گوماں کا اوڑھنا بچھونا بن گیا ۔ وہ صحیح معنوں میں مائی صاحبہ بن گئی پھر گوماں کی جگہ لفظ مائی صاحبہ نے لے لی ۔ لوگ دعا کیلئے اس کے پاس آنے لگے ۔ اس کی دنیا ہی بدل گئی ۔ جس زمانے کی میں بات کررہا ہوں اس وقت کم کم لوگ حج اور عمرے کیلئے جاتے تھے ۔ وہ پہلے کردار سازی پر محنت کرتے فراءض ادا کرنے کو اولین ترجیح دیتے ، بے ضرر بن جاتے زبان بے دریغ استعمال کرنے پر محتاط ہوتے رزق حلال سے سفر مدینہ اختیار رکتے ۔ ان کے چہروں پر عمرہ کرنے یا یوں کہیے زیارت حرمین شریفین انکو یکسر بدل کر رکھ دیتی ۔ اس زمانے میں دو نمبر ذراءع سے پیسہ بنا کر حج یا عمرہ کرنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ۔ لوگ کہتے ہم کس منہ سے سرکار کے سامنے جائیں گے اگرحرام کمائی سے سفر کریں گے ۔ آہستہ آہستہ وقت بدل گیا اب ہر سال لاکھوں کی تعداد میں لوگ عمرہ کرنے جاتے ہیں اور لاکھوں لوگ حج کیلئے سفر اختیار کرتے ہیں ۔ بڑے بڑے سرمایہ دار سال میں متعدد بار عمرے کیلئے سعودی عرب جاتے ہیں لیکن مدینے کا مسافر شاید ہی یہ سوچتا ہوکہ اس نے کتنے دھوکے فریب اور جعل سازیوں سے پیسہ بنایا اور پھر اتنا مقدس سفر اختیار کرنے کیلئے کس ڈھٹائی سے کام لے رہا ہے ۔ کیا اللہ کی اور حضور;248; کی نگاہوں سے ان کے افعال پوشیدہ ہیں نہیں ہرگز نہیں وہاں جانے والوں کو اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ زاد راہ حلال طریقے سے اکٹھی کی گئی ہو ۔ شراب، ذخیرہ اندوزی، بلیک منی کا کاروبار حرام ذراءع سے بنائی گئی دولت ، زبان کلام اور جسمانی بدکاریاں ، طرح طرح سے نفسانی خواہشات کی تکمیل میں ملوث زائرین کو ایک لمحے کیلئے سوچنا چاہیے کہ وہ کن کاموں میں الجھے ہوئے ہیں اور ان ذراءع سے کمائی کرکے دوات بنا کر وہ کس طرح اللہ اور اسکے محبوب;248; کی بارگاہ میں حاضر ہونے کیلئے بیباک ہیں ۔ توبہ کا دروازہ تو ہر وقت کھلا ہے انہیں چاہیے کہ اپنی غلطیوں کی معافی مانگ کر حج کا سفر اختیار کریں اور اللہ کے حضور پہنچ کر خلوص دل سے دعا کریں کہ آئندہ کی زندگی وہ تاریک راہوں سے دور رہ کر گزاریں گے ۔ واپسی پر وہ ایسے بے ضرر منضعت بخش خداخوف اور توبہ النوح کی زندگی والے ہوں گے کہ پھر معاشرہ حقیقت میں اسلامی معاشرہ کہلائے ۔ حج کرنے سے اگر سونا ، الیکٹرانک کا سامان ، جاپان اور کوریا کے بنے ہوئے کمبل ہی لانا ہیں تو پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔ حج یا عمرہ اگر تجارت اور منقعت کا ذریعہ بن جائے تو پھر کیا حاصل ۔ زندگی بدلنی چاہیے ۔ معمولات زندگی اور تعلقات زندگی میں مثبت تبدیلی آنی چاہیے ۔ مائی گوماں بننا مشکل نہیں صرف خلوص تعلق اور نیت میں پاکیزگی کا ہونا ضروری ہے ورنہ حاجی صاحب کہلوانے سے کیا فائدہ ۔ یہ یاد رکھیں حکم ماننے والے سے غلطی کے امکانات کم سے کم ہوتے ہیں ۔ اللہ کے احکامات مانیں ۔

قربانی

عالم اسلام کے موضوعی حالات مےں ،اپنے جلو مےں ہزاروں سوچےں ،صد ہا فکرےں ، بے انتہا کرب لےکرعےدالضحیٰ پھر آ گئی ۔ تا قےامت وقت کی گردش جاری رہے گی،مرور اےام دوڑتا رہے گا، صبح و شام اپنا سفر مکمل کرتے رہےں گے اور وقت گزرتا رہے گا ۔ وقت گزراں ہے کسی طور گزر جائے گا ۔ تہوار، موسم اور رتےں اسی طرح آتے رہےں گے لےکن ہر بار نئے انداز، نئے طوراور نئی طرح سے حالات،واقعات،حادثات احساس کو نےا زاوےہ، فکر کو نےا وزن اور خےال کو نئی جہت عطا کرتے رہےں گے ۔ عےد قربان اےک اشارےہ ہے ا;203; سے محبت کا،اس کےلئے ہر چےز کو تجنے کا اور اس کی راہ مےں ہر چےز قربان کرنے کا ۔ اس بارعےد قرباں نے مسلمانوں پر فکر کے کتنے ہی درےچے وا کر دیے ہےں ۔ اس موقع پر انفرادی اور اجتماعی سطح پر امت کو بہت کچھ سوچنا ہے، عمل کی اےک راہ متعےن کرنی ہے ۔ مسلمان تمام تر ذراءع کے حامل ہونے کے باوجود نکہت وادےار کی جس حالت سے گزر رہے ہےں ، عےد قربان ہمارےلیے پھر اخوت کا، ا;203; کی رضا کے حصول کا اور قربانی کا پےغام لے کر آتی ہے ۔ کےا ےہ نہےں ہو سکتا کہ عالم اسلام اس نئے اسلامی سال مےں حکمت عملی کی نئی جہت اپنائے ۔ اپنا تاج و تخت اور اقتدار بچانے کےلئے مسلمان حاکم کس کس کا دامن تھامے ہوتے ہےں ،صاحبان خےر کو سب اندازہ ہے لےکن بدلتے ہوئے زمانے مےں ، جوہر کی اس صدی مےں اب کسی کے سہارے اقتدار قائم رکھناناممکن نہےں تو مشکل ضرور ہے ۔ آج عام آدمی جاگ چکا ہے ۔ ذراءع ابلاغ نے دنےا کے کونے کونے کو حالات حاضرہ سے آگاہی بخش دی ہے ۔ اب وقت آگےا ہے کہ صاحبان اقتدار واختےار اپنے عوام کے بارے مےں سوچےں ۔ ےہی سوچ ان کی قربانی ہو گی اور عوام کی فلاح کےلئے اٹھاےا جانے والا ان کاہر قدم اےثار ہو گا ۔ سازشوں اورحکمت عملےوں کی بنا پر اقتدار کو کسی حد تک تو طول دےا جا سکتا ہے لےکن بغےر جذبہ قربانی کے دلوں پر حکومت نہےں کی جا سکتی ۔ آج عےد قرباں پکار پکار کر جذبہ قربانی کا اعادہ چاہتی ہے،صاحبان اقتدار سے بھی اور عوام سے بھی، مسلم امہ کوسنجےدگی سے سوچنا ہے کہ آج مسلمان ہونا’’جرم‘‘ کےوں قرار دےا جا رہا ہے;238; کےا ےہ درست نہےں ہے کہ مغربی ممالک مےں عام مسلمان خود کو ظاہر کرنے مےں اےک طرح کا ہراس محسوس کرتا ہے ۔ دہشت گردی،بغاوت، شدت پسندی،وحشت انگےزی سمےت ہر ناپسندےدہ عمل مسلمان سے منسوب کر دےا گےا ہے ۔ آخر کےوں ;238;غالباً ہم نے ا;203; کی رضا کو پس پشت ڈال دےا ہے اور قربانی کے اس جذبے کو فراموش کر دےا ہے جس نے مسلمانوں کو عالم کی سروری عطا کی تھی ۔ جو قومےں اپنے وجود، قومی تشخص اور ملی سربلندی کےلئے قربانی دےتی ہےں وہی عالم مےں سرفراز ہوتی ہےں ۔ تارےخ اےسی قوموں کے تذکرے سے پروقار بھی ہے اور سبق دہندہ بھی ۔ عےد قرباں پر مسلم امہ کو اےثار اور قربانی کا ےہ سبق پھر حرز جاں بنانا ہے اور عہد کرنا ہے کہ نفس امارہ کی قربانی دے کر ثابت کےا جائے گا کہ امت مسلمہ آج بھی اےثار وقربانی سے تہی نہےں ہے ۔ قربانی ہمےں اےثار کا سبق دےتی ہے لےکن افسوس اس سے ہم بحیثےت قوم بالکل بے بہرہ ہےں ۔ ہمارا اجتماعی اور انفرادی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہےں کونسی معاشرتی برائی ہے جو ہم مےں موجود نہےں ۔ ملاوٹ، ناجائز منافع خوری، جھوٹ، رشوت ستانی اور بھی بہت کچھ ۔ قربانی دےتے ہوئے خود کو دوسروں سے بڑھ کر پرہےز گار نےکو کار متقی ظاہر اور ثابت کر دےتے ہےں ۔ معاشرتی برائےوں کے ذمہ دار کہےں اور سے نہےں آتے وہ ہم خود ہےں ۔ ذرا اپنے کردار پر نظر دوڑائےں اور قربانی کے اصل مقصد اےثار کو مد نظر رکھےں تو معاشرہ بہت سی برائےوں سے پاک ہو سکتا ہے ۔ آج قربانی کے اس سبق پر بھی تدبر وفکر کرنے کی ضرورت ہے کےا ہم آداب فرزندی کی بھی تکمےل کر رہے ہےں ےا نہےں اور ہمےں اصول پدری سے بھی کماحقہ آگاہی ہے ۔ ہم اےثارو قربانی کے جذبے کے خالق اس معبود بر حق سے عالم اسلام کےلئے خےر کی دعا کرتے ہےں ۔ ا;203; تعالیٰ تو نے جس طرح ابراہےم علےہ سلام کو ان کی قربانی قبول کر کے سرخرو کےا،مسلم امہ کو ان کی قربانےوں کا صلہ عطا فرما ۔ تےرے نام لےوا اس کرہ ارض کے مختلف خطوں مےں عالم انسانےت کی سرفرازی کےلئے جو قربانےاں دے رہے ہےں انہےں شرف قبولےت عطا فرما ۔ انہی اےام مےں بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمےر مےں رائے شماری کرانے کے مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرےندر مودی کی قےادت مےں انتہا پسند ہندو جماعت بھارتےہ جنتا پارٹی نے آئےن کے آرٹےکل 370اور35اے کے تحت کشمےر کی خصوصی حےثےت ختم کر دی ۔ کشمےرےوں کے حقوق پر شب خون مار کر مقبوضہ رےاست کی بھارت کے ساتھ نام نہاد اور مشروط الحاق کی بنےاد مٹا دی ۔ کمزور ہونا ہی کشمےرےوں کا جرم بنا دےا گےاےعنی جس کی لاٹھی اس کی بھےنس اور ;82;ight is mightکو روندتے ہوئے ;77;ight is rightکے خود ساختہ قانون کو بزور لاگو کر دےا گےا ۔ آرٹےکل370کے تحت جموں و کشمےر کو خصوصی مقام حاصل تھا اور آرٹےکل رےاست کو آئےن بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دےتا تھا ۔ اس کے تحت کوئی بھارتی شہری وہاں جائےداد نہےں خرےد سکتا تھا لےکن اب کشمےری مسلمانوں کو بجا طور پر ےہ خدشہ ہے کہ وہاں بھارتی ہندو جائےدادےں خرےدےں گے اور کشمےر مےں مسلمانوں کی واضح اکثرےت کو اقلےت مےں بدلنے کی مذموم کوشش کی جائے گی ۔ مقبوضہ کشمےر کے تےن وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی ،فاروق عبدا;203; اور عمر عبدا;203; نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کے مقابلہ مےں بھارت کو ترجےح دے کر سنگےن غلطی کی لےکن آج ان کے ےہ رےمارکس بے معنی اور پشےمانی کے سوا کوئی اہمےت نہےں رکھتے کےونکہ ان لوگوں کے دور اقتدار مےں مقبوضہ کشمےر کے بے بس عوام پر جو بےتی اس کا ازالہ تو نہےں ہو سکتا ۔ مودی حکومت نے ےہ کارروائی کرنے سے قبل 38ہزار بھارتی فوج کشمےر مےں داخل کر دی ۔ پہلے ہی اس کی سات لاکھ فوج اہل کشمےر مسلمانوں کو ےرغمال،مقےد ،محبوس اور مقتول بنائے ہوئے ہے ۔ اب تک مقبوضہ وادی مےں اےک لاکھ کشمےری شہےد ،اےک لاکھ جےلوں مےں لاپتہ اور اتنے ہی زخمی ہےں ۔ سےد علی گےلانی نے بھی امت مسلمہ کے نام اےک’’ اےس او اےس ‘‘ جاری کر کے متنبہ کےا ہے کہ انہےں خبر ہو کہ ان کے پہلو مےں کےا قےامت ڈھائی جا رہی ہے ۔ او آئی سی نے آرٹےکل 370پر مودی سرکار کے شب خون پر مکہ مےں ہنگامی اجلاس تو طلب کےا ہے لےکن اےسی امےد نہےں کہ ےہ اجلاس عالم اسلام کے جسد بے حس مےں کشمےرےوں کےلئے احساس اور تڑپ پےدا کر سکے ۔ کشمےر کے عوام پر بھارتی فوج کے ظلم وستم اور اب حالےہ اقدام پر سعودی عرب ،عرب امارات سمےت تمام عرب ممالک بالکل خاموش ہےں ۔ ان ممالک کی بھارت مےں بھاری سرماےہ کاری ہے وہ اسے خطرے مےں نہےں ڈال سکتے ۔ سعودی عرب نے نرےندر مودی کو اعلیٰ ترےن سول اےوارڈ دےا ،عرب امارات نے ابو ظہبی مےں ہندوءوں کے دو بڑے بندر تعمےر کرائے اور کروڑوں کے اخراجات سے ہندو دےوتا اور دےوےوں کی مورتےاں فراہم کےں ۔ بھارت کی مقبوضہ کشمےر مےں قتل وغارت گری اور تشدد کی وارداتوں پر امت مسلمہ کی خاموشی پر صرف آنسو ہی بہائے جا سکتے ہےں ۔ ترکی کے صدر اردوان نے پاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کی ہے ۔ آج کی تلخ حقےقت ےہی ہے کہ کشمےر کی صورتحال بہتر کرنے کا کوئی جادوئی طرےقہ موجود نہےں اور جنگ آپشن نہےں ضرورت ہے کہ پاکستان بہتر سفارتکاری کرتے ہوئے عالمی فورمز پر کشمےر کا مسئلہ پوری توانائی سے اجاگر کرے ۔

پاکستان کا بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کا حکم

اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے  بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے جب کہ پاکستان نے اپنے ہائی کمشنر کو نئی دلی نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان کے نئے ہائی کمشنر امین الحق کو 16 اگست کو بھارت جانا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ بھارتی ہائی کمشنر کو نکالنے سے متعلق بھارت کو آگاہ کردیا ہے، پاکستانی ہائی کمشنر بھی بھارت نہیں جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہائی کمشنر کی واپسی سے ہائی کمیشن کے اختیارات کومحدود کردیاجائے گا ، البتہ و اہگہ بارڈر کو مکمل طور پر بند نہیں کیاجائے گا، واہگہ بارڈر پر پیدل کراس کرنے والے دونوں ممالک کے شہریوں کو اجازت ہوگی جب کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان دوستی بس بدستور چلتی رہے گی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ تمام جاری منصوبوں اور معاہدوں کو معطل کردیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود کے استعمال سے متعلق حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیاجائے گا۔

واضح رہے کہ  مقبوضہ کشمیر سے متعلق متنازع اقدام پر پاکستان نے بھارت سے دو طرفہ تجارت معطل اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمارے سفیر اب نئی دلی میں نہیں ہوں گے اور بھارت کے سفیر کو ملک واپس جانا ہوگا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف پارلیمنٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد: پارلیمنٹ نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے قرارداد متفقہ منظور کرلی۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں دوسرے روز بھی جاری رہا جس میں حکومت و اپوزیشن ارکان کی جانب سے بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں غیر آئینی اقدام پر شدید مذمت کی گئی۔

پارلیمنٹ کا کشمیریوں کی مکمل حمایت کا اعادہ

قرارداد میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے جب کہ  بھارت کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور سویلین آبادی پر کلسٹر بم استعمال کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ  کشمیر عالمی سطح پر متنازعہ علاقہ ہے، مسئلہ کشمیر کا کوئی یک طرفہ حل قبول نہیں ہے، عالمی برادری بھارت کو مقبوضہ کشمیر بارے کوئی بھی یک طرفہ فیصلہ لینے سے روکے۔

قرارداد پیش کئے جانے سے قبل ارکان پارلیمنٹ نے موجودہ صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی سفارشات پیش کیں، وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور مشاہد حسین سید نے بھارت سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔

شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں پانچ بڑے فیصلے کیے ہیں، جن میں سے ایک پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر کے اختیارات اور سفارتی سرگرمیاں محدود کردی جائیں گی اور اب ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے،ان کے سفیر کو بھی جانا ہو گا۔بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کشمیر کے مسئلے پر ڈرایا جائے اور مسئلہ کشمیر دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائے، بھارت نے 5 اگست کو جو حرکت کی اس سے خود عالمی ممالک کو سب کچھ پتا چل گیا، بھارت نے اپنے اقدام سے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کردیا۔

شیریں مزاری

اجلاس شروع ہوا تو وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے یو این سیکرٹری جنرل کو خط لکھا ہے، مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کو بھی استعمال کریں گے، کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر مسلمان ممالک کیوں خاموش ہیں اور آواز کیوں نہیں اٹھارہے، ہم مسلم امہ کی بات کرتے ہیں، کدھر ہے وہ مسلم امہ جب مسلمانوں پر ظلم و تشدد ہورہا ہے، او آئی سی کو فعال کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

راجہ ظفرالحق

رہنما (ن) لیگ راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی خواہش ہے کہ اسے سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بنا لیا جائے، پاکستان کو بھی اپنے فرائض پورے کرنے چاہیے تھے، یہ بدقسمتی ہے کہ داخلی مسائل میں اتنے الجھے ہوئے ہیں، اپوزیشن کو نیچا دکھانے کے لیے تمام توانائیاں صرف کی جا رہی ہیں جب کہ ہمارے دوست ممالک نے بھی اس معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا، ترکی اور ملیشیا نے مؤثر جواب دینے کے بجائے کہا کہ گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم قدم بڑھائیں اپوزیشن اور قوم ان کے ساتھ ہیں، اچھا ہوتا اگر حکومت تیاری کے ساتھ اجلاس بلاتی، مسئلہ کشمیر اور وہاں قیام امن سے پوری دنیا کا امن وابستہ ہے، قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، کچھ عرصہ میں ایک لاکھ کشمیری شہید ہوگئے جب کہ کشمیری اس وقت پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں، کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے، کشمیر ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

آصف علی زرداری

سابق صدر اور شریک چئیرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری نے کہا کہ مشرقی پاکستان کے بعد کشمیر کا واقعہ اتنا ہی بڑا ہے، اندرا گاندھی نے بھٹو سے کہا فوجی لے لیں یا زمین، بھٹو نے کہا زمین دیدیں، بھارتی قیادت سے ہمیں زمین واپس مل گئی، ہم مشرقی پاکستان کی جنگ ہارے، وجوہات میں نہیں جاناچاہتا۔ کیا بھارت کو نہیں معلوم پاکستان میں ٹیلر میڈ جمہوریت چل رہی ہے، معیشت ٹھیک نہیں وہ سب جانتےہیں تاہم حکومتی ٹیم کو کیا پتا بین الاقوامی تعلقات کیا ہوتے ہیں، جو آپ کر رہے ہیں اسی لیے تو آج آپ تنہا ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر لڑنے والے کشمیریوں پر بھی فخر ہے، کشمیری دن دہاڑے پاکستان کا پرچم سر پر باندھ کر نکلتے ہیں، واجپائی کی پارٹی اور مودی میں اختلافات پیدا ہوں گے جب کہ نہرو اور واجپائی کو سوچ کو دفن کر دیا گیا ہے۔

شیخ رشید

وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ مودی نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو کشمیریوں کے لیے جوالہ بنے گا، اب کشمیری گھر میں نہیں بیٹھیں گے، اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، بی جے پی نے 300 امیدواروں کو ٹکٹ دیے جن میں ایک بھی مسلمان نہیں تھا، آج بھارت کا 24 کروڑ مسلمان پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے، آرٹیکل 370 ناگالینڈ اور آسام میں لگا ہے،عنقریب حالات بدلنے جا رہے ہیں، آرمی چیف جلد چین جائیں گے جب کہ لداخ پر چین کو بھی تحفظات ہیں، تاریخ فیصلہ کرنے جا رہی ہے، کشمیر میں گلی گلی میں برہان وانی ہے۔

فواد چوہدری؛

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ اگر ہمیں لڑنا پڑا تو لڑیں گے اور مرنا پڑا تو مریں گے لیکن بے عزتی کے ساتھ زندہ نہیں رہیں گے، کشمیریوں کے لیے کٹ مریں گے لیکن کشمیر کو فلسطین نہیں بننے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھارت نے بات ہی نہیں کرنی تو ان کا سفیر یہاں کیا کررہا ہے، ہمیں بھارت سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے چاہئیں، لڑائی ہوئی تو قوم کا بچہ بچہ فوج کے شانہ بشانہ لڑے گا، یہ تاثر نہ جائے کہ ہم لڑنے سے بھاگ رہے ہیں۔

مشاہد حسین

مشاہد حسین سید نے کہا کہ چین سے ہمارے گہرے تعلقات ہیں، چین اور ترکی کے علاوہ کسی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، کل وزیراعظم نے کہا میں یہ مسئلہ حل کر لوں گا، اکیلا شخص یا پارٹی کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے، اتفاق رائے سے ہی تمام مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 100 روز کے لیے ڈپلومیسی ایمرجنسی نافذ کی جائے، ہمیں اپنا سفیر واپس بلا کر بھارت کا سفیر نکال دینا چاہیے، وزارت خارجہ کو اگلے 100دنوں میں جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، اسلام آباد میں اکھنڈ بھارت کے بینر لگ گئے، اس کا مطلب ہے اسلام آباد میں را کے ایجنٹ موجود ہیں۔

پاکستان کا بھارت سے دوطرفہ تجارت معطل اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ

 اسلام آباد: بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے پر پاکستان نے بھارت سے دو طرفہ تجارت معطل اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیرخارجہ، وزیردفاع، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ایئرچیف،  نیول چیف سمیت ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال پر غور کیا گیا جب کہ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ  بھارت سے ہر قسم کی تجارت فوری طور پر معطل اور سفارتی تعلقات محدود کیے جائیں گے۔

اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملا اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے گا، اس کے علاوہ  14 اگست کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانےاور 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال کے حوالے سے وزیر اعظم کی بنائی گئی کمیٹی کو اہم امور سونپ دئیے  ہیں، وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی تمام قانونی امور کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کری گی،  فی الحال بھارت کے ساتھ تعلقات نچلی سطح پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Google Analytics Alternative