Home » 2019 » January » 01 (page 2)

Daily Archives: January 1, 2019

آصف زرداری کے خلاف پی ٹی آئی کی نااہلی درخواست سماعت کے لیے مقرر

 اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف تحریک انصاف کی نااہلی کی درخواست ابتدائی سماعت کے لیے 10 جنوری کو مقرر کردی ہے۔

صدر اور شریک چیئرمین پی پی آصف علی زرداری کے خلاف تحریک انصاف کی نااہلی درخواست ابتدائی سماعت کے لیے مقرر کردی ہے جو 10 جنوری کو ہوگی، سماعت میں درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا جب کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق صدر اور شریک چیئرمین پی پی پی آصف زرداری کے خلاف نااہلی کی درخواست صوبائی الیکشن کمیشن آفس کراچی میں جمع کرائی تھی جس کو منظوری کے لیے اسلام آباد بھیج دیا گیا تھا۔

بے نظیر بھٹو کی شہادت، مشرف اور زرداری (1)

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں راولپنڈی میں جلسہ عام سے خطاب کرنے والے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان کا 16 اکتوبر 1951کو لیاقت باغ کے جلسہ عام میں دن دھاڑے قتل کے بعد اِسی لیاقت باغ میں عام انتخابات سے قبل جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد 27 دسمبر 2007 کو سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی بظاہر دہشت گردی کے المناک واقعہ میں شہادت کو گیارا برس گزرنے کے باوجود ابھی تک قاتلوں کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔ محترمہ شہید کے قتل کے میں جو تازہ ترین مبینہ شہادتیں سامنے آئی ہیں اُن میں بے نظیر بھٹو کے بیرون ملک معتمد خاص مارک سیگل جو بے نظیر بھٹو کی کتاب مفاہمت (Reconciliation) شائع کرنے کے پروجیکٹ پر بھی کام کرتے رہے ہیں جو محترمہ کی شہادت کے فوراً بعد مارک سیگل کی ادارت میں ہی شائع ہوئی تھی ۔ البتہ یہ اِمر حیران کن ہے کہ مارک سیگل کا بیان سابق صدر زرداری کے دورِ حکومت میں قلم بند کرنے کے بجائے محترمہ کے قتل کے تقریباً آٹھ برس کے بعد میاں نواز شریف کی حکومت کے دوران مارک سیگل کا بیان اہم گواہ کے طور پر ویڈیو لنگ بیان کے ذریعے قلم بند کیا گیا جس میں محترمہ کے قتل پر سابق صد پرویز مشرف کے حوالے سے کچھ نئے الزامات سامنے آئیں ہیں۔ مارک سیگل کے بیان کے بعد میڈیا اطلاعات کیمطابق میاں نواز شریف کے معتمد خاص نجم سیٹھی نے بھی کچھ ایسے حقائق یا مفروضات کا تذکرہ کیا ہے جس سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے مقدمہ قتل میں کچھ اور پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں۔
مارک سیگل کے بیان میں صدر مشرف کی جانب سے بے نظیر بھٹو کو دی جانے ولی مبینہ دھمکیوں پر نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ محترمہ کے قتل کے حوالے سے چار افراد کی گواہی سامنے آنی ضروری ہے جس میں پرویز مشرف، دوسرے وہ خود اور دیگر صحافی جن کی محترمہ سے پاکستان آمد کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی ہے ، تیسرے مارک سیگل جن کا بیان قلم بند ہو چکا ہے اور چوتھے امریکی مصنف ران سسکائنڈ” ۔ اِسی حوالے سے نجم سیٹھی محترمہ بے نظیر بھٹو کی امریکہ سے آنے والی ایک حیران کن ٹیلی فون کال کا تذکرہ بھی کرتے ہیں جس میں پاکستان آنے سے قبل محترمہ بے نظیر بھٹو، نجم سیٹھی کی رائے جاننا چاہتی تھیں کہ کیا وہ اپنی ذاتی سیکورٹی کے حوالے سے مشرف پر بھروسہ کر سکتی ہیں یا نہیں لیکن نجم سیٹھی کے جواب دینے سے قبل ہی محترمہ کے شوہر آصف علی زرداری نے محترمہ سے فون چھین کر کہا کہ سیٹھی تم اُنہیں کیا مشورہ دو گے ، تم اُنہیں وہ مشورہ دو جو میں اُنہیں دے رہا ہوں اور وہ یہ کہ مشرف پر بالکل اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور مجھے خطرہ ہے کہ اُن کی جان خطرے میں ہوگی، یہ اُس وقت زرداری صاحب کے لفظ تھے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ورثہ کی مالک اور دو مرتبہ وزیراعظم کے منصب پر فائز رہنے والی خاتون وزیراعظم کی سیٹھی صاحب سے اہم موضوع پر ہونے والی گفتگو کے دوران ٹیلی فون چھین کر اِس قسم کے الفاظ استعمال کئے جائیں، ناقابل فہم بات ہے۔ بہرحال اگر یہ الفاظ زرداری صاحب نے ادا کئے تھے تو کیا زرداری صاحب جانتے تھے کہ بے نظیر بھٹو کو پاکستان پہنچنے پر قتل کر دیا جائیگا یا یہ کہ وہ بے نظیر بھٹو کو پاکستان جانے سے روک کر خود پیپلز پارٹی کی قیادت کرنا چاہتے تھے جس کیلئے اُنہوں نے محترمہ کے پاکستان آنے سے چند برس قبل بظاہر سابق صدر مشرف سے ڈیل کرنے کیلئے آڈیالہ جیل سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے جیل اور مقدمات سے اپنی رہائی کیلئے محترمہ بے نظیر بھٹو سے کیلی فورنیا میں دس برس کیلئے سیاست سے علیحدہ رہنے کی درخواست کی تھی جس کا تذکرہ محترمہ نے اپنی کتاب مفاہمت بھی کیا ہے جبکہ بعد میں سابق صدر مشرف نے بے نظیر بھٹو کی مبینہ ڈیل کی مخالفت کے باوجود آصف علی زرداری کو رہا کر ہی دیا تھا ۔چنانچہ محترمہ کے المناک قتل کے بعد زرداری صاحب جو چند گھنٹوں کے اندر ہی محترمہ بے نظیر بھٹو کی وصیت کے ہمراہ پاکستان تشریف لے آئے تھے جس میں محترمہ نے اپنے بعد اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کو پیپلز پارٹی کی صدارت کیلئے نامزد کیا تھا، زرداری صاحب نے موقع محل دیکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے طور پر پارٹی کیا قیادت سنبھال لی اور ہمدردی کے ووٹ کی بنا پر وفاق اور صوبہ سندھ میں حکومت قائم کرلی اور سابق صدر مشرف کے منصب صدارت سے مستعفی ہونے پر صدر مملکت کے عہدے پر انتخاب جیت کر فائز ہوگئے۔ نجم سیٹھی نے جن دیگر افراد کی اہم گواہی کا تذکرہ کیا ہے اُس پر تو آگے چل کر گفتگو ہوگی لہذا یہ دیکھنا چاہیے کہ محترمہ کے کراچی پہنچنے پر کیا صورتحال درپیش آئی۔
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد سے قبل ہی اُن کی ذاتی سیکیورٹی کے حوالے سے بہت سے خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے ۔ میڈیا ذرائع کیمطابق آصف علی زرداری کی جانب سے مبینہ طور پر یہ کہا گیا ہے کہ وہ محترمہ کی کراچی آمد پر استقبال اور انتخابی مہم میں سیکیورٹی کے حوالے سے کچھ گاڑیوں کیلئے جیمرز اور چند ایک بلٹ پروف گاڑیاں کراچی بھیجنا چاہتے تھے لیکن حکومت نے اِس کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر نہیں کی اور کہا گیا کہ حکومت خود یہ سہولتیں بہم پہنچائے گی لیکن جب اِن سہولتوں کو بہم پہنچانے کا وقت آیا تو حکومت نے سیکیورٹی کے مناسب انتظامات سے بھی پہلوتہی کرنے سے گریز نہیں کیا جبکہ حکومت کی جانب سے اِس اَمر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے کہ زرداری صاحب جیمرز یا کچھ اور بلٹ پروف گاڑیاں بھیجنا چاہتے تھے ۔ بہرحال یہ اَمر اپنی جگہ اہم ہے جس کی تصدیق میڈیا اطلاعات سے بھی ہوتی ہے کہ جنرل مشرف کچھ خدشات کی بنیاد پر چاہتے تھے کہ محترمہ انتخابات سے قبل پاکستان تشریف نہ لائیں۔ لہذا جب محترمہ نے صدر مشرف کی توقعات کے برخلاف پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو اُن کی آمد سے قبل صدر مشرف کی جانب سے اُنہیں یہی پیغامات بھیجے گئے کہ ملک میں دہشت گردی کا خطرہ ہے لہٰذا، اُن کی آمد پر کوئی جلسہ جلوس نہیں ہونا چاہیے اور وہ ائیرپورٹ سے بذریعہ ہیلی کوپٹر سیدھی بلاول ہاؤس جائیں ۔کیا سابق صدر مشرف کو کراچی میں بی بی کے جلوس پر حملے کی انٹیلی جنس اطلاعات موجود تھیں جس کی بنیاد پر اُنہوں نے بی بی کو جلوس ملتوی کرکے بلاول ہاؤس جانے کا مشورہ دیا تھا؟ کیا سابق پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کو محترمہ کے پاکستان آنے پر کچھ مشترکہ خدشات تھے، کیونکہ محترمہ کی کراچی آمد پر اُن کا جلوس بدترین دہشت گردی کا شکار ہواجس میں سینکڑوں افراد مارے گئے لیکن محترمہ کے اپنی سیکرٹری ناہید خان کیساتھ ٹرک کے سیف روم میں مزار قائد پر تقریر کی ریہرسل کیلئے چلے جانے کے باعث محترمہ اور ناہید خان کی جان دہشت گردی کی اِس واردات میں محفوظ رہی۔
(۔۔۔جاری ہے)

جے آئی ٹی رپورٹ پر سندھ حکومت گرانے کی اجازت نہیں دے سکتے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت گرانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے جعلی بینک اکاونٹس کیس کی سماعت کی تو جے آئی ٹی کے ممبران، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر ملزمان کے وکلا پیش ہوئے۔

دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد سندھ حکومت پر گہرے بادل منڈلا رہے ہیں، فارورڈ بلاک اور استعفے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت کے خلاف عدالت کوئی فریق نہیں، سپریم کورٹ نے انصاف کرنا ہے، عدالت کی نظر میں کوئی بدگمانی نہیں ہے، عدالت کو سیاسی معاملے میں فریق نہ سمجھا جائے، رپورٹ کی بنیاد پر حکومت گرانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

جے آئی ٹی کی فاروق ایچ نائیک سے متعلق سفارشات کالعدم

سماعت کے دوران  فاروق ایچ نائیک نے کیس میں پیش ہونے سے معذرت کی لیکن عدالت نے ان کی استدعا مسترد کردی۔ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک مقدمے میں آصف زرداری کے وکیل تھے، لیکن جے آئی ٹی نے فاروق ایچ نائیک کو بھی ملزم بنا دیا جس کی وجہ سے انہوں نے زرداری، فریال تالپور کی وکالت سے معذرت کرلی۔ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی فاروق ایچ نائیک سے متعلق سفارشات کالعدم قرار دیتے ہوئے فاروق ایچ نائیک کی مقدمہ سے الگ ہونے کی استدعا مسترد کردی اور انہیں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی وکالت جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

آصف زرداری، فریال تالپور کو جواب جمع کرانے کا حکم

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگتے ہوئے کہا کہ جواب کے لیے چار دن کا وقت دے دیں۔ عدالت نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو اسی ہفتے کیس میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تمام سیاستدان سن لیں کہ ہم نے قانون بنا کر اسمبلی کو بھجوائے ہیں، عدالتی اصلاحات پارلیمنٹ نے کرنی ہیں اور قانون کو اپڈیٹ کرنا اسمبلیوں کا کام ہے، وزرا ء رات کو ٹی وی پر بیٹھ کر اپنی کارکردگی بتا رہے ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا مراد علی شاہ سندھ کی وزارت اعلی چھوڑ کر بھاگ جائینگے، کیا ان کا نام اس موقف سے ڈالا گیا، مراد علی شاہ صوبے کے وزیر اعلی ہیں ان کا احترام ہونا چاہئے تھا، جے آئی ٹی کی سفارش تھی تو عدالتی حکم کا انتظار کر لیتے۔

172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر اظہار برہمی

سپریم کورٹ نے کیس میں ملوث 172 افراد کے نام ای سی ایل میں پر وزیر داخلہ کو فورا طلب کرتے ہوئے برہمی کا اظہارکیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے لوگوں کو ای سی ایل میں کیوں ڈالا، کیا ای سی ایل میں نام ڈالنا اتنی معمولی بات ہے، 172 لوگوں کیساتھ اپنے وزیر اعلی کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیں، سب سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا نام ای سی ایل میں ڈال دیتے ہیں، عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ کی تاحال تو ثیق نہیں کی، جس وزیرنے یہ نام ڈالے ہیں وہ متعلقہ ریکارڈ لے کرسپریم کورٹ آئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کیا جواب دے گی، کل کو نیب چیئرمین کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیں گے۔ کابینہ کا کیا تعلق ہے اس سارے معاملے میں، یہ شہریوں کی آزادی کا معاملہ ہے، کیا ایسے ہی نام اٹھا کر ای سی ایل میں ڈال دئیے جاتے ہیں ، متعلقہ وزیرکو کہیں سمری بھی ساتھ لے کر آئے، حیرت ہے کہ ملک کے دوسرے بڑے صوبے کے موجودہ وزیراعلی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا، نہ تکبر سے بات کریں گے نہ ہی نا انصافی کریں گے، یہاں صرف انصاف ہو گا، کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔

جے آئی ٹی کے وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے کسی منتخب نمائندے کی نااہلی کی بات نہیں کی، کسی کی نااہلی کی سفارش کرنا جے آئی ٹی کا مینڈیٹ نہیں تھا، جے آئی ٹی نے کسی کی گرفتاری سفارش نہیں کی، گرفتاری کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، جے آئی ٹی کا مینڈیٹ محدود تھا، اس لئے وہ اپنے مینڈیٹ سے باہر نہیں گئی۔

انور مجید اور عبد الغنی مجید کا جواب

وکیل شاہد حامد نے کہا کہ انور مجید اور عبد الغنی مجید کا جواب آ چکا ہے جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دونوں کی جانب سے مفصل جواب نہیں آیا۔ وکیل ایف آئی اے نے کہا کہ اومنی گروپ تمام متعلقہ دستاویزات مانگ رہا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے انورمجید اور عبدالغنی کا جیل میں رہنے کا دل کرتا ہے، بتا دیں کونسی دستاویزات چاہئیں جس پر ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ جو دستاویزات انہیں درکار ہیں وہ فراہم کردی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انور مجید اور عبد الغنی مجید نے سر سری جواب داخل کیا، انور مجید کے وکیل کے مطابق وہ اومنی گروپ کے جواب پر انحصار کریں گے۔

جے آئی ٹی رپورٹ افشا

چیف جسٹس نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مندرجات کیسے لیک ہو گئے؟۔ سربراہ جے آئی ٹی نے کہا کہ ہمارے سکریٹریٹ سے کوئی چیز لیک نہیں ہوئی، میڈیا نے سنی سنائی باتوں پر خبریں چلائی، چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا نے کیس چلانا ہے تو یہ کیس میڈیا کو بھیج دیتے ہیں، کامران خان کو سربراہ بنا دیتے ہیں، زیر التوا مقدمات پر رائے دینا شروع کر دیتے ہیں۔

وزیر داخلہ کی معذرت

سماعت میں وقفے کے بعد وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی پیش ہوئے۔ انہوں نے کابینہ ارکان کی جانب سے جعلی اکاؤنٹ کیس میں بیان بازی نہ کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم سے پہلے کے بیانات پر معذرت چاہتا ہوں۔

وفاقی کابینہ کو 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر نظرثانی کا حکم

اٹارنی جنرل نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ جے آئی ٹی کے سربراہ نے ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا جس میں انہوں نے عدالت عظمی کا ذکر بھی کیا، اس خط پر حکومت نے عمل کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خط میں سپریم کورٹ کا تذکرہ کیوں کیا، میرا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیں، کیا کابینہ نے اس معاملے میں اپنا ذہن استعمال نہیں کیا۔

سپریم کورٹ نے وفاقی کابینہ کو 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے معاملے کی نظر ثانی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگلے کابینہ اجلاس میں معاملہ کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ جعلی بنک اکاونٹس کیس کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی گئی۔

بادام کھانے کا بہترین طریقہ کونسا ہے؟

اگر بے وقت بھوک لگے تو چپس یا بسکٹ کی بجائے مٹھی بھر بادام کھالیں، یہ وہ مثالی گری ہے جسے دن بھر کھایا جاسکتا ہے، جس سے نہ صرف جسمانی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ متعدد طبی مسائل کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بادام متعدد اجزاءکے حصول کا قدرتی ذریعہ ہے جن میں پروٹین اور صحت بخش چربی قابل ذکر ہیں۔

بادام وٹامن ای، غذائی فائبر، میگنیشم، کاپر، زنک، آئرن، پوٹاشیم اور کیلشیئم سمیت 15 غذائی اجزاء جسم کو فراہم کرتے ہیں۔

مگر بادام کو کھانے کے طریقے کے حوالے کافی غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں، جن کے بارے میں ماہرین طب کی رائے درج ذیل ہے۔

کیا بادام روز کھانا نقصان دہ تو نہیں؟

بادام غذائی اجزا سے بھرپور میوہ ہے اور نظام صحت کے لیے متعدد طریقوں سے فائدہ مند ہے، یہ دل کے لیے تو بہت زیادہ فائدہ مند ہے جبکہ کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے۔ اسی طرح یہ ہیموگلوبن A1C کی سطح میں کمی لاتا ہے جو کہ ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتا ہے جبکہ بادام کھانے سے بلڈگلوکوز لیول کو ریگولیٹ کرنے میں بھی مدد ملتی ہے، تو ان کا روزانہ استعمال صحت مند طرز زندگی اور جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

کیا بادام چھلکے کے ساتھ کھانے چاہئے یا اتار کر؟

بادام پر موجود براﺅن چھلکا بھی متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے، اس میں پولی فینولز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہی اسے فائبر سے بھرپور میوہ بھی بناتا ہے۔

کیا فریج میں رکھنے سے باداموں کی غذائیت متاثر ہوتی ہے؟

فریج کسی بھی طرح باداموں کی غذائیت پر منفی اثرات مرتب نہیں کرتا، درحقیقت اس سے بادام کی زندگی بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

روسٹڈ بادام صحت بخش ہیں؟

اس حوالے سے کافی غلط فہمی پائی جاتی ہے مگر روسٹنگ سے باداموں پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے، بس اس میں موجود پانی کی سطح ختم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں دیگر ذائی اجزا کا اجتماع بڑھ جاتا ہے۔

بادام بھگو کر کھانا حافظے کے لیے فائدہ مند؟

حافظے کو تیز کرنے کے لیے بہت زیادہ بادام کھانے کی ضرورت نہیں، بس 8 سے 10 باداموں کو رات کو پانی میں بھگو کر صبح کھانا ہی موثر ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی میں بھگو کر بادام کھانا غذائی اجزا کو جسم میں آسانی سے جذب ہونے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجود وٹامن بی سکس پروٹینز کے میٹابولزم میں مدد دیتا ہے، جس سے دماغی خلیات میں آنے والی خرابیوں کی مرمت میں مدد ملتی ہے۔

تو بادام کھانے کا بہترین طریقہ کونسا ہے؟

باداموں کے استعمال کا بہترین طریقہ بس وہی ہے جو آپ کو پسند ہو، بس بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اعتدال ہی فائدہ پہنچاتا ہے، کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے۔

پاک مخالف پروپیگنڈا کیوں؟

پچیس دسمبر کو جہاں ایک جانب دنیا بھر کی مسیحی برادری کرسمس کا تہوار پورے مذہبی جوش و خروش سے مناتی ہے۔ وہیں وطنِ عزیز میں قائداعظم کے یومِ پیدائش کے حوالے سے پوری قوم اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ پاکستان کی سا لمیت اور آزادی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا ۔ یومِ قائد کے موقع پر انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ وطنِِِ عزیز کے قیام کے لئے قائداعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے جو قربانیاں دیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور اگرچہ قیام پاکستان کے بعد تاحال بوجوہ سر زمین پاک ایک مثالی شکل اختیار نہیں کر پائی مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ چند مٹھی بھر افراد اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے لگ جائیں ۔ گزشتہ کچھ عرصے سے چند مٹھی بھر سازشی عناصر مذہب کے نام پر وطنِ عزیز کو نقصان پہنچانے پرتلے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے خلاف ظلم و سفاکیت پر مبنی بھارتی روش میں گزشتہ اڑھائی برس سے جو شدت آئی ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ ایسے میں غالبا پاکستان بھر کے لوگوں کو اچھی طرح سے واضح ہو جانا چاہئے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے ۔ تاریخ انسانی میں یوں تو ایسی بے شمار شخصیات گزری ہیں جنھوں نے اپنے اپنے ڈھنگ سے تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے اور تاریخ میں مختلف حوالے سے زندہ رہیں مگر چند ایسے افراد بھی ہیں جنہیں رجحان ساز قرار دیا جا سکتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح ایسے لوگوں میں سرفہرست ہیں جنہوں نے گزرے بلکہ آنے والے ادوار پر بھی انمٹ نقوش چھوڑے۔ حالات کے تھپیڑوں میں برصغیر کے مسلمان ادھر سے ادھر بھٹکتے رہے، کبھی وہ کانگرس کی پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے تو کبھی کسی دوسرے گروہ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے مگر بقول علامہ اقبال
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
گویا ان کی امید بر آئی جب قائداعظم کی شکل میں انہیں وہ دیدہ بینا رہنما میسر آگیا جس کی تلاش گویا زمانے کو صدیوں سے تھی۔ اس مرحلے پر بھی اقبال نے گویا ان کی صحیح رہنمائی کی جنھوں نے نہ صرف نظریہ پاکستان کی شکل میں نشان منزل ڈھونڈی تھی بلکہ قائداعظم کے روپ میں انہیں ایسا رہنما بھی تلاش کر دیا تھا جو مسلمانان ہند کی ڈولتی ناؤ کو ساحلِ مراد تک لے کر گیا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ایک مرحلے پر اپنوں اور بیگانوں سے مایوس ہو کر قائد نے واپس لندن کا رخت سفر باندھ لیا تھا مگر پھر اقبال اور چند دیگر ساتھیوں کے اصرار پر وہ واپس تشریف لائے۔ شیکسپیئر کہتے ہیں کہ کچھ لوگ پیدا ہی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ اپنی جدوجہد اور کارناموں کی بدولت عظمت حاصل کر لیتے ہیں۔ گو کہ بانیِ پاکستان میں عظمت و قابلیت اور نیک نامی کی ساری خوبیاں پیدائشی تھیں اور انھوں نے وہ لازوال جدوجہد کی جس کے نتیجے میں بر صغیر میں انگریزوں اور ہندوؤں کے ستائے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کے حصول کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ ہندو کانگرس اور برطانوی سامراج نے ہر ممکن کوشش کی کہ مسلمانوں کو ان کی منزل تک نہ پہنچنے دیا جائے اور انھیں ایسی بھول بھلیوں میں بھٹکا دیا جائے جس سے نشانِ منزل دور سے دور تر ہوتا چلا جائے۔ اپنی ان کوششوں میں کسی حد تک وہ کامیاب بھی رہے مگر دوسری طرف سر سید احمد خان اور کئی دوسری ہستیاں مقدور بھر سعی کرتی رہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کسی طور شعور اور آگاہی سے بہرہ ور کیا جائے۔ اس پس منظر میں دو ایسی شخصیات برصغیر پاک و ہند کے افق پر نمودار ہوئیں جن کی رہنمائی میں اس خطے کے مسلمانوں نے اپنی منزل کو پا لیا۔ اس حوالے سے اقبالؒ اور قائد اعظمؒ نے جو ناقابل فراموش کردار ادا کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاست میں غیر متنازعہ رہنا ہی اصل کمال ہے اور اس کے لئے جس بے داغ اور اجلے کردار کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ذاتی قربانیوں کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کیا، دنیا میں بھی اس کی مثالیں کم کم ہی ملتی ہیں کہ کسی سیاست دان کے کردار کو اس کے مخالفین بھی سراہتے ہوں۔ قائداعظمؒ عالمی سیاست کی ایسی ہی ایک غیر معمولی شخصیت ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عظمت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ بے غرض اور بے لوث ہو کر اجتماعی فلاح کے لئے ایسے کام سرانجام دیئے جائیں، جن سے انسانوں کی بڑی تعداد کو فائدہ پہنچے اور قائداعظم عظمت کے ان اصولوں پر پورا اترتے تھے۔ یاد رہے کہ ابتدا میں ان کی پوری کوشش تھی کہ ہندو مسلم اتفاق سے برصغیر میں رہیں اور دونوں کو مذہبی آزادی حاصل رہے مگر کانگرس نے ان کی اس کوشش کو سازشوں کے ذریعے سبوتاژ کر دیا اور انتہا پسند اور جنونی ہندؤں نے مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ شروع کر دیا اور اس ضمن میں مسلمانوں پر ہر وہ ظلم ڈھائے گئے جو تاریخ میں ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کی سحر انگیز شخصیت کے لئے لاتعداد کتب لکھی گئیں ۔ سابق بھارتی وزیر خارجہ ، وزیر خزانہ اور BJP کے سینئر رہنما جسونت سنگھ کی کتاب Jinnah: India, Partition, Independence قابل ذکر ہے جس میں اس اعتدال پسند ہندو مصنف نے ببانگ دہل لکھا کہ قائداعظم جیسے رہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ، جسونت سنگھ لکھتے ہیں کہ محمد علی جناح ہندو مسلم اتحاد کی علامت تھے مگر کانگرسی رہنماؤں کی انگریزوں کے ساتھ مل کر کی گئی سازشوں اور مسلمانوں کی نسل کشی نے ان کے سامنے علیحدہ مملکت کے قیام کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔
یاد رہے کہ مذکورہ کتاب 2009 میں شائع ہوئی جس کی اشاعت کے بعد BJP اور( RSS راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ)نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور جسونت سنگھ کو جان کے خطرے کے پیش نظر فول پروف سیکورٹی مہیا کرنی پڑی، جسونت سنگھ کو BJP سے نکال دیا گیا اور پورے بھارت میں ان کو پاکستان کا ایجنٹ ہونے کے علاوہ بھی مختلف خطابات سے نوازا گیا، جسونت سنگھ نے کتاب میں لکھا کہ محمد علی جناح کو بھارت میں ایک ولن کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل بھارت کی تاریخ کے مکروہ ترین کردار ہیں ، قائد اعظم کا تو خواب تھا کہ برصغیر میں تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پا جائیں۔ واضح رہے کہ بھار ت کے چوٹی کے رہنما اور BJP کے سینئر ترین لیڈر ایل کے ایڈوانی نے 2005 میں اپنے دورہ پاکستان کے دوران مزار قائد پر حاضری دی اور محمد علی جناح کے لئے وہ عظیم رہنما جس نے تاریخ رقم کی کے الفاظ استعمال کیے جس کے بعد بھارت میں حسب روایت ایک بھونچال کھڑا ہو گیا۔ اس کے علاوہ سروجنی نائیڈو، پرشانت بھوشن، رچند ناتھ سچر، معروف صحافی کرن تھاپڑ (یاد رہے کہ کرن تھاپڑ کے والد پی این تھاپڑ 1962 کی بھارت چین جنگ میں بھارت کے آرمی چیف تھے)سمیت بھارت کی متعدد نمایاں شخصیات کی جانب سے مختلف مواقع پر قائد کی عظمت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ اسے اک ستم ظریفی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بعض حلقے ملکِ عزیز کی بابت ایک شعوری پراپیگنڈہ تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں، میڈیا سے تعلق رکھنے والی کچھ شخصیات دانستہ پاک مخالف پراپیگنڈے کو تقویت پہنچانے کے اپنے ایک نکاتی ایجنڈے پر پوری طرح سے عمل پیرا ہیں اور ان کا ہدف خصوصی طور پر افواج پاکستان ہیں۔اس طرز عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ وطن عزیز کے سبھی حلقے اپنے اختلافات بھلا کر یومِ قائد پر اس عزم کا اعادہ کیا کریں کہ پاکستان کو درپیش تمام اندرونی اور بیرونی خطرات کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہو کر دہشتگردی کے عفریت کو اپنے اتحاد کی ضرب کاری سے کچل دیں گے ۔
*****

روپے کی قدر گرنے میں بینکوں کے ملازمین کے ملوث ہونے کا انکشاف

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی رپورٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی میں بینکوں کے ملازمین کے ایک گروہ کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ 

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں حالیہ دنوں میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی نے چار صفحات پر مشتمل سوالات اور ابتدائی تحقیقات جاری کردیں۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں پاکستانی روپے کی قیمتیں گرانے میں بینکوں کے ملازمین کے ایک منظم گروہ کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ ڈالرز کو نیویارک ایجنٹ کے ذریعے روک کر مصنوعی بحران پیدا کیا گیا جس میں اسٹیٹ بینک کا عملہ بھی ملوث ہے۔

قائمہ کمیٹی کی ابتدائی تحقیقات میں مزید کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے علاوہ نجی اور کمرشل بینکوں کے ملازمین کا منظم گروہ مارکیٹ میں ڈالر کی مصنوعی کمی پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ کمیٹی نے اس حوالے سے سفارشات بھی پیش کیں۔

واضح رہے کہ موجود حکومت کے کار انتظام سنھبالنے کے بعد دو مرتبہ روپے کی قدر میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جب کہ اس معاملے پر وزیراعظم عمران خان کی لاعلمی اور وزیر خزانہ و گورنر اسٹیٹ بینک کے متضاد بیانات سے مزید ابہام پیدا ہوگیا تھا۔

بگ باس 12 کی ٹرافی دپیکا کاکڑ نے اپنے نام کرلی

ممبئی: بھارتی متنازع شو باگ باس سیزن 12 میں اداکارہ دپیکا کاکڑ نے مدمقابل سابق کرکٹر سری سانتھ کو مات دے کر ٹرافی اپنے نام کرلی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق متنازع شو بگ باس سیزن 12 کے فائنل میں بہن بھائی کی جوڑی کے طور پر شریک ہونے والی دپیکا کاکڑ نے  سابق بھارتی کرکٹر سری سانتھ کو ہرا کر ٹرافی اور 30 لاکھ روپے اپنے نام کرلیے۔ دپیکا نے اپنی ٹرافی بالی ووڈ اداکار سلمان خان سے وصول کی۔

بگ باس سیزن 12 میں 105  دن تک گھر میں ساتھ رہنے والے 17 کھلاڑیوں میں سے آخری راؤنڈ میں پانچ کھلاڑیوں (سری سانتھ، کرن ویر بوہرا، دیپک ٹھاکر، رومل چوہدری اور دپیکا کاکڑ) کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا۔

آخری راؤنڈ میں شو کے میزبان سلمان خان نے سب سے پہلے کرن ویر بوہرہ اور پھر رومل چوہدری کو آؤٹ کیا تاہم تین رہ جانے والے کھلاڑیوں کو شو چھوڑ جانے کے لیے 20 لاکھ روپے دینے کی پیشکش کی جس کا موقع دیپک ٹھاکر نے ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور رقم لے کر ٹاپ تھری سے پیچھے ہٹ گئے۔ آخرمیں  یہ کانٹے دار مقابلہ دپیکا کاکڑ اور سری سانتھ کے درمیان رہا جوکہ نیہا کاکڑ نے جیت لیا۔

دپیکا کاکڑ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنی کامیابی پر بہت خوش ہوں،اس کامیابی پر میری کہی ہوئی بات درست ثابت ہوئی۔ میں نے کہا تھا کہ میں خود کو فائنل میں سری سانتھ کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں اور یہی ہوا ہم دونوں کا یہ یادگار سفر بہت اچھا رہا۔ دپیکا کاکڑ نے کہا کہ جب گھر میں سب ہمارے مخالف تھے تب بھی ہم نے یہ کھیل تمام صلاحیتوں کے ساتھ کھیلا۔

سابق کرکٹر سری سانتھ کے مداحوں کا کہنا تھا کہ بگ باس سیزن 12 کی ٹرافی سری سانتھ کے حصے میں ہی آئے گی جبکہ سری سانتھ کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’’سری سانتھ فار دی ون‘‘ اور ’’سری سانت فار دی وکٹری‘‘ کے نام سے ہیش ٹیگ بھارت میں ٹرینڈ بنا رہا۔

سبزے کے درمیان رہائش، دل کو رکھے صحتمند

کینٹکی، امریکہ: ایک چھوٹے سے عملی مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ سرسبز مقامات کے پاس رہتے ہیں اور درختوں کے قریب ہوں وہ دماغی تناؤ کے کم کم شکار ہوتے ہیں ۔ اس سے دل کی شریانوں کی صحت اچھی رہتی ہے اور وہ دل کے امراض اور فالج کے خطرے سے دور رہتے ہیں۔

دوسری جانب آبادی کی سطح پر سبزے میں رہنے والے افراد کو ہسپتال جانے کی ضرورت بھی کم پیش آتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک چھوٹے پیمانے کا  مطالعہ ہے تاہم اس کی تفصیلات جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی ہے۔ تاہم ماہرین ہر فرد پر اس کے یکساں اثرات کا دعویٰ نہیں کررہے۔

اس تحقیق کے لیے لوئی ویلی کینٹکی کے ایک ہسپتال میں 408 مریضوں کی خون اور پیشاب میں تناؤ اور امراضِ قلب کے بایومارکرز دیکھے گئے ۔ ساتھ ہی ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا اور یوایس جی ایس سے ہر شخص کے قریب موجود سبزے کی تفصیلات بھی اس کےڈیٹا کے ساتھ جمع کرکے پیش کی گئیں۔

ان میں سے جو لوگ سب سے زیادہ درختوں اور سبزے والےمقام پر رہتے تھے ان میں پیشاب میں ایپی نیفرائن کی مقدار سب سے کم تھی جو ذہنی تناؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ جبکہ ان کی پیشاب میں آکسیڈیٹو اسٹریس کا ایک اور علامتی بایومارکر ایف ٹو آئسوپروسٹین بھی کم تھا۔ اگر یہ دونوں علامات زیادہ ہوں تو مریض اتنا ہی تناؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔

ایک اور بات سامنے آئی کے ہرے بھرے ماحول میں رہنے والے افراد کی قلبی شریانیں بہت اچھی حالت میں رہتی ہیں۔ اس رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ارونی بھٹناگر نے کہا کہ فطری نظاروں کے قریب وقت گزارنے سے صحت پر حیرت انگیز اثرات مرتب ہوتےہیں۔

سروے میں شامل افراد کی اوسط عمر 51 برس تھی اور ان میں سے جو لوگ سبزے کے اطراف نہیں رہتے تھے ان میں کولیسٹرو، بلڈ پریشر اور تناؤ کی کیفیات دیکھی گئی تھیں۔ اسی بنا پر ماہرین نے کہا ہے کہ شہروں میں شجرکاری کی جائے اور سبزے کے قریب وقت گزارنے کو ترجیح دی جائے۔

Google Analytics Alternative