Home » 2019 » February

Monthly Archives: February 2019

بھارت کی جانب سے مسلسل فضائی جارحیت، بین الاقوامی برادری نوٹس

پاکستان نے بھارت کو آگاہ کردیا تھا کہ وہ حملہ کرے گا لیکن وقت اور جگہ کا تعین خود کرے گا، بھارتی طیاروں کا مار گرانا اور اس کا پائلٹ زندہ گرفتار کرنا بھارت کیلئے سرپرائز سے کم نہیں، چونکہ پاکستان نے تمام تر ثبوتوں کے ساتھ زندہ پائلٹ بھی میڈیا کے سامنے پیش کردیا ہے اور اس نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس کا کیا عہدہ ہے اور وہ حملہ کرنے کیلئے پاکستان کی سرزمین پر آیا تھا جبکہ دوسرا جہاز مقبوضہ کشمیر میں جاکر تباہ ہوگیا اس کا پائلٹ جل کر خاکستر ہونے کے بعد واصل جہنم ہوگیا۔ بھارت یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اس نے پاکستان کا ایف 16 مار گرایا ہے جبکہ پاک فوج نے واضح کیا کہ ایف 16 تو انہوں نے اڑایا ہی نہیں، بھارت ہمیشہ جھوٹ پر مبنی دعوے کرتا آیا ہے ، ماضی کے تمام تر ثبوت اس حوالے سے موجود ہیں، حال ہی میں اس نے جو ایئر سٹرائیک کیا اس کی بھی ویڈیو3 سال پرانی چلا دی، اس کی ہر بات، ہر حملہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ بھارتی عوام بھی جان چکی ہے کہ مودی کے پاس جھوٹ کے پلندوں کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ مودی نے اس قوم اور فوج کو چھیڑا ہے جو اسے قبر میں اتار کر دم لے گی اور بھارت کو قبرستان میں تبدیل کردے گی۔ ہمارے جوانوں کے حوصلے ،عزم، ارادے مصمم ہیں، وطن کی حفاظت کی خاطر آخری حد تک جانے کیلئے تیار رہتے ہیں جبکہ بھارتی بنیا بزدل اور بھگوڑا ہی رہا ہے۔ شاید دشمن پاک فضائیہ کی تاریخ کو بھول گیا ہے یہاں ہمارے پاس راشد منہاس اور ایم ایم عالم جیسے پائلٹ موجود ہیں، راشد منہاس نے جان دے دی لیکن راز بھارت تک نہیں پہنچنے دئیے اسی طرح ایم ایم عالم کا بھی بھارتی جنگی جہاز گرانے کا عالمی ریکارڈ موجود ہے ، پھر ہمارے جوانوں میں میجر عزیز بھٹی شہید جیسے جری آفیسرز موجود ہیں جو وطن کی سالمیت کی خاطر ٹینکوں کے آگے لیٹ جاتے ہیں جبکہ بھارت میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی اس کا پہلا سرجیکل سٹرائیک اڑی واقعہ کے بعد بھی جھوٹا نکلا اب جو اس نے دوسرا سرجیکل سٹرائیک کرنے کا دعویٰ کیا وہ بھی بے بنیاد ہے، پاکستان نے دن کے اجالے میں اس کے جہازوں کو مار گرایا، یہ بہادری ہوتی ہے اور اس کو ہی سرپرائز کہا جاتا ہے ،بھارت شاید کسی بھول میں ہے، پاکستان کی قوم اور فوج کی بہادری کے چرچے پوری دنیا میں موجود ہیں۔ وزیراعظم نے بھی واضح کردیا ہے ، آرمی چیف، ایئر چیف، نیول چیف نے اس عزم کا اظہار کردیاہے کہ وہ آخری گولی تک لڑیں گے اور دشمن کو کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ بھارتی نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کے بعدڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے منگل کی صبح چار بجکر دس منٹ پر پہلا ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے ابتدائی اطلاع دی کہ بھارتی طیاروں نے کنٹرول لائن پر پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ۔ آئی ایس پی آر نے چھ بجکر سنتیس منٹ پر ان کا دوسرا ٹویٹ ارسال کیا جس میں ڈی جی نے بتایا کہ بھارتی طیاروں نے مظفرآباد سیکٹر سے کنٹرول لائن کی اس طرف دراندازی کی۔ پاک فضائیہ نے بروقت جواب دیتے ہوئے بھارتی طیاروں کو مار بھگایا۔ بھارتی طیاروں نے اپنا بارود بالاکوٹ کے قریب گرایا جس سے کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بعدازاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹوئٹر پر مذکورہ مقام کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ انڈین خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے انڈین فضائیہ کے حوالے سے کہا ہے کہ میراج جنگی طیاروں نے کنٹرول لائن کے پار ایک بڑے کیمپ کو تباہ کر دیا ہے۔صبج ساڑھے تین بجے انڈین فضائیہ کے میراج 2000 طیاروں نے ایل او سی پر سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ وی کے گوکھالے نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پلوامہ حملے اور انڈین پارلیمنٹ سمیت متعدد حملوں میں ملوث جیش محمد کے ٹھکانوں کی موجودگی کے حوالے سے انہوں نے پاکستانی حکام کو اطلاع دی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جہادیوں اور فدائیوں کی تربیت کے لیے استعمال کیے جانے والے اس نیٹ ورک کو حکومتی مدد کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا۔گوکھالے نے کہا کہ بھارت نے بالا کوٹ میں موجود جیش محمد کے سب سے بڑے تربیتی مرکز پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں مسعود اظہر کے بہنوئی سمیت متعدد مشتبہ افراد مارے گئے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب نہ دے سکے اور اٹھ کر چلے گئے۔ ادھر بھارتی وزارت دفاع پاکستان میں فضائیہ کی کارروائی سے لاعلم نکلی۔بھارتی میڈیا نے وزارت دفاع کا بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا بھارتی طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی سے متعلق کوئی علم نہیں۔ترجمان وزارت دفاع نے کہا کہ انہیں پاکستانی الزامات کاکوئی علم نہیں ۔ ادھرقومی سلامتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بھارت نے بلا جواز جارحیت کا ارتکاب کیا ہے، پاکستان اپنی مرضی کی جگہ اور وقت کا انتخاب خود کرکے اس کا جواب دے گا۔ منگل کے روز قومی سلامتی کمیٹی کے ایک اجلاس کی صدارت وزیراعظم عمران خان نے کی۔ خارجہ امور، دفاع و خزانہ کے وزراء، مسلح افواج کے سربراہان اور اعلی سطح کے سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بالاکوٹ کے قریب مبینہ دہشت گرد کیمپ کو ہدف بنانے اور بھاری جانی نقصان کا بھارتی دعوی یکسر مسترد کردیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں انتخابی ماحول ہے ملک میں انتخابی ماحول کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی ہے جس نے علاقائی امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ جس جگہ حملہ کیا گیا وہ سب کیلئے کھلا علاقہ ہے جہاں جا کر بھارتی دعوؤں کا جھوٹ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسلح افواج سمیت قومی طاقت کے تمام عناصر اور قوم ہر قسم کی صورتحال کیلئے تیار رہیں۔ وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ بھارت کے اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کو اجاگر کرنے کیلئے عالمی رہنماں سے رابطے کئے جائیں گے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خزانہ اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے طیارے جوابی کارروائی کرنے میں تاخیر کا شکار نہیں تھے، ہم بالکل تیار تھے اور وہ ہمیشہ چیلنج کا سامنا کرنے کو تیار ہوتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی جارحانہ رویہ پورے خطے کے امن کے لئے خطرہ ہے۔بھارتی طیاروں نے بھاگتے ہوئے اپناسامان دوردرازعلاقے میں چھوڑ دیا۔بڑے پیمانے پردہشت گردوں کے کیمپ کو ٹارگٹ کرنے کا بھارتی دعوی بے بنیاد ہے، بھارتی دعوی صرف بھارتی عوام کو خوش کرنے کے لیے ہے، پاکستان بھارت کی طرف سے دراندازی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ بھارتی قائم مقام ہائی کمشنر گوراواہلووالیا کی وزارت خارجہ میں طلبی ہوئی جہاں پر پاکستان نے بھارت سے شدید احتجاج کیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سفارتی محاذ پر ڈٹ گئے انہوں نے جاپان، چین کے سفراء سے گفتگو کی، امریکہ کے مائیک پومیو سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی اور انہیں بھارت کی جانب سے بلا اشتعال کی جانے والی کارروائیوں کے حوالے سے آگاہی کرائی ۔ نیز ڈپلومیٹس سے بھی خطاب کیا۔ کیونکہ ایسے موقع پر بھارت کا مکروہ چہرہ واشگاف کرنا انتہائی ضروری ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر کو ایک مرتبہ پھر دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ اب بھارت نے پھر سے دوغلی پالیسی کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشیوں کی بہتات کردی گئی ہے لیکن عالمی برادری کی جانب سے اسے کوئی بھی خاطر خواہ ردعمل نہیں ملا۔ یہاں ایک بات اہم ہے کہ او آئی سی کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مہمان خصوصی کے طورپر مدعو کیا گیا اس حوالے سے پاکستان نے تحفظات اظہار بھی کیا کیونکہ اب حالات بالکل مختلف ہیں ، انڈیا باقاعدہ دراندازی کی اور پاکستان او آئی سی ایک بنیادی رکن ہے وہاں پر بھارتی وزیر خارجہ کو مدعو کرنا افسوسناک اور کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ خطے میں قیام امن کیلئے بھارت کو شٹ اپ کال دے۔

پلوامہ حملہ مودی سرکار کی کارستانی

پلوامہ حملے کے متعلق پہلے دن سے ہی ہر کسی کو تحفظات تھے۔ حملے کے بعد گزرتے دنوں میں بھارتی سرکار کی مشکوک حرکات و بیانات سے واقعے کی وقوع پذیری کے متعلق شکوک و شبہات بڑھتے گئے۔ اس دفعہ پاکستان پر الزام دھرنے کا منصوبہ بھی ناکام ہوگیا۔نہ صرف خطے کے عوام بلکہ دنیا نے بھی اس واقعے میں پاکستانی ہاتھ ہونے کا واویلا رد کر دیا۔ لیکن اب پلوامہ ڈرامے کو بے نقاب کرتے ہوئے بھارتی سماجی رہنما ومن وشرام کا بیان منظر عام پر آیا کہ پلوامہ حملہ مودی سرکار نے خود کرایا۔ومن وشرام نے واضح کہا کہ پلوامہ حملہ پاکستان کے خلاف مودی سرکار کی سوچی سمجھی سازش تھی اور حملہ مودی سرکاری نے خود کرایا۔ مودی سرکار کو پلوامہ حملے کا 8دن پہلے علم تھا اور یہ بات سکیورٹی میٹنگ میں ڈسکس ہوئی تھی ۔ مودی سرکار چاہتی تو حملہ روک سکتی تھی لیکن پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے مودی سرکار نے حملہ ہونے دیا۔ اس طرح انتخابا ت میں پاکستان مخالف ووٹ بھی مودی کو ملتے۔ اور تو اور حملے میں مرنے والے نوجوانوں نے درخواست بھی دی تھی کہ ہمیں بذریعہ فضائی راستہ منتقل کیا جائے کیونکہ حالات دیکھتے ہوئے انہیں بھی اسی قسم کے حملے کی سن گن تھی مگر مودی سرکار نے ڈرامہ رچانے کیلئے ان کی درخواست نہیں مانی۔حملے میں مرنے والے تمام نچلی ذاتوں کے لوگ ہیں ۔ یہ سازش سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے کسی کو نہیں مارا ۔ہماری سرکار نے 42 لوگوں کو مارا ہے اور نام پاکستان کا لیا جارہاہے۔ ہندو انتہا پسند تنظیم مہاراشٹر نوونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے بھی پلوامہ حملے پر سوال اٹھا دئیے ہیں اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کوتفتیش کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول سے تحقیقات کی جائیں تو پلوامہ حملے کی حقیقت سامنے آ جائے گی۔ پلوامہ حملے میں مارے گئے فوجی سیاسی متاثرین ہیں۔ حکومتیں سیاسی مقاصد کیلئے ایسے کام کرتی ہیں لیکن مودی حکومت میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوا۔ جب پلوامہ حملے کی خبر آئی تو مودی ایک فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے اور خبر ملنے کے باوجود بھی مصروف ہی رہے۔بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے مسلمان رہنما ہارون یوسف نے مودی حکومت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت میں کہیں گائے کا تین کلو گوشت فروخت ہو رہا ہو تو فوری پتہ چل جاتا ہے لیکن پلوامہ دھماکے میں استعمال ہونے والے 350 کلو دھماکہ خیر مواد کا انہیں پتہ نہیں چل سکا۔ بقول سرکار کے کہ پاکستان سے اسلحہ و دہشت گرد آئے۔ پاکستان سے آرڈی ایکس کا مواد اورگاڑی کیسے آئی؟ تمام سکیورٹی فورسزکے باوجود روکنے کاکام کیوں نہیں کیا؟پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں بھارت کے دانشوروں نے پاکستان کو فاتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی رد عمل خود بھارت کے لیے نقصان دہ ہے۔ پاکستان کا تحمل اور برداشت عالمی سطح پر اسے مزید معتبر کررہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف جنگ میں بھارت تنہا ہے۔ پوری عالمی برادری میں کوئی بھی بھارت کا موقف سننے کو تیار نہیں۔ سابق بھارتی وزیر داخلہ چدم برم نے اعتراف کیا ہے کہ پلوامہ مبینہ حملہ میں کوئی پاکستانی نہیں بلکہ کشمیری نوجوان ملوث تھا۔ اگرکشمیری نوجوان عسکریت پسندی کی طرف مائل ہورہے ہیں تو اس کا مطلب جو کچھ بھی ہم کررہے ہیں،جنگ مسئلے کا حل نہیں اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ہمیں کشمیری عوام کے دل و دماغ جیتنے کی ضرورت ہے۔محبوبہ مفتی نے پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور بھارت کی جنگی دھمکیوں پر مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان جوہری ملک ہے اس لیے بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکالنا چاہیے، جنگ کا سوچنے والے پاگل اور جذباتی ہیں‘۔ اسی بات پر جنگی جنون میں مبتلا بھارتی میڈیا نے مقبوضہ کشمیرکی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو پاکستان کا حمایتی ٹھہراتے دیتے ہوئے غدار قرار دے دیا۔پلوامہ حملہ کے ہلاک شدگان نچلی ذات کے ہندو تھے۔ دلت ذات کے ہندوؤں کو اچھوت سمجھا جاتا ہے انہیں ہندو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا لیکن ان کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ تعداد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے دلت بھارتی انتخابات میں بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔مودی کے حالیہ دورہ کشمیر کے موقع پر یہ منصوبہ بندی کی گئی کہ کس طرح دلت برادری کا ووٹ حاصل کیا جائے۔ کشمیر میں ہی فیصلہ ہوا کہ دلت فوجیوں کو چارہ بنا کر خود کش حملہ کرایا جائے اور الزام پاکستان پر دھردیا جائے ۔ اس سے ایک تو پاکستان کی بدنامی ہوگی۔ دوسرا دلت برادری کی ہمدردیاں سمیٹی جائیں گی اور یوں پاکستان مخالف اور ہندو ازم کے کارڈ پر اگلا انتخاب جیتا جائے۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ پلوامہ حملہ کیس کے مرکزی ملزم عادل ڈارکو بھارتی فورسز نے 2017 میں گرفتار کیا تھا ۔اس کا ویڈیو بیان بھی زیر حراست ہی ریکارڈ کیا گیا۔ اگر بقول بھارتی ذمہ داران کے ، کہ عادل حراست سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تھا تو یہ بات میڈیا پر کیوں نہ لائی گئی۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ عادل ڈار کبھی پاکستان نہیں گیا۔ کسی پاکستانی تنظیم سے اس کا تعلق نہ تھا ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس پر وہ آگ بگولہ ہوا۔ غرض ہر فقرہ، ہر لفظ غلط، ہر منصوبہ ناکام ہوا۔ یہ محض ایک ڈرامہ تھا جس کا الزام پاکستان پر ڈال دیا گیا تاہم پاکستان نے علیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کر دی۔ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا خواب ایک دفعہ پھر ادھورا رہ گیا۔پلوامہ حملے کے بعد بھارتی حکومت اور اْن کا میڈیا بد حواسی کا شکار ہے اور وہ اپنی نااہلی کا الزام مسلسل پاکستان پر تھوپنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔انتہاء پسند بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کیے اور جنگ کی دھمکی دی تو بھارتی میڈیا نے بھی ٹماٹر کی ایکسپورٹ نہ کرنے پر بریکنگ نیوز بنائی تاکہ شہریوں کو مشتعل کیا جاسکے۔ لیکن بھارتی عوام سمجھ دار ہے وہ یقیناًبھارتی سرکار اور میڈیا کی باتوں میں نہیں آئے گی اور حقیقت تک پہنچنے کیلئے تمام وسائل استعمال کرے گی۔

انصاف کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری

افسوس کی بات ہے کہ کبھی بھی کسی نے قومی سانحات کی اصل حقائق جاننے اوراِن میں ملوث افراد کو کڑی سزا دینے اورآئندہ ایسے سانحات کے تدارک سے متعلق قا نون سازی کا نہیں سوچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم ستر سال سے سانحہ ساہیوال جیسے قومی سانحات سے دوچار ہورہی ہے ،اللہ جانے کب تک یہ سلسلہ جاری رہے ؟ کوئی کچھ نہیں بتا سکتا ہے کہ سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں نہتے شہری کب تک گولیوں کا نشا نہ بنتے رہیں گے؟اور سرکار اِن کے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اپنی پوری قوت کااستعمال اپنا حق سمجھ کر کرتی رہے گی؟۔ اِس سے بھی کسی کو انکار نہیں ہوناچاہئے کہ دنیا کے جن ممالک اور معاشروں میں پارلیمانی نظامِ حکومت قائم ہے۔ اُن کے ایوانوں کا کام تو وقت اور زمانے کے لحاظ سے پولیس اصطلاحات سمیت دیگر ضروری معاملات میں اصطلاحات کرناہوتا ہے۔ مگر ہمارے ایوانوں میں تو کسی قسم کی دائمی قانون سازی کی بجائے ، یہاں تونصف صدی سے زائد عرصے سے ایوان نمائندگان صرف سٹرکیں بنوانے ، گٹر صاف کروانے ، شہر شہراور گاؤں گاؤں گلی کوچوں کوبرقی قمقموں سے سجانے ، اپنے مخالفین کے گھر گرانے اور اپنے حامیوں اور ہم خیال افرادکے گھر بنانے کے احکاما ت جاری کرکے سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے معمولی کام کرکے اپنا قومی فریضہ ادا کردیاہے اور قوم کی خدمت کردی ہے ، عرض یہ کہ ہمارے ایوان تو جیسے چھوٹے موٹے سیاسی اور ذاتی مسائل حل کرنے اور پیدا کرنے کی ذمہ داریاں اداکرنے کیلئے محدود ہوگئے ہیں ،ایوان جہاں قانون سازی کی جانی چاہئے تھی۔ آج ہمارے ایوان حکمرانوں اورسیاستدانوں کے ذاتی اور سیاسی نوعیت کے لڑائی جھگڑے حل کرنے والے مچھلی بازار بن گئے ہیں ۔جہاں چیخ چلاکر مسائل پیداکئے جاتے ہیں،پھراُنہیں حل کرنے کی کروڑوں ، اربوں اور کھربوں کی بولیاں لگائی جاتی ہیں، جو جتنی بھاری بولی دیتا ہے، اُسے مسائل حل کرنے کی آڑ میں مسائل پیدا کرنے کا ٹھیکہ دے دیاجاتا ہے ، کسی معاملے میں جس کی بولی کم لگتی ہے وہ اپنا کام کمیشن اور پرسنٹیج سے نکال لیتا ہے ، ایسا برسوں سے ہورہاہے ۔افسوس ہے کہ پاکستانی قوم ستر سال سے عام انتخابات میں جنہیں ووٹ دے کر اپنے بنیادی حقوق کے حصول کیلئے قانون سازی کرنے کی ذمہ داری سونپ کر ایوانوں میں پہنچاتی ہے۔ وہی قوم کے سوداگر ثابت ہوتے آئے ہیں۔معاف کیجئے گا ، آج عوام کو مہنگائی ، بھوک و افلاس ، کرپشن ، لوٹ مار اور قومی لٹیروں کا خاتمہ کرکے نیا پاکستان بنانے اور عوامی توقعات کے مطابق ریلیف دے کر تبدیلی کے نام پر اقتدار حاصل کرنے والی رواں پی ٹی آئی کی رواں حکومت بھی کوئی نیا کردِکھانے والی نہیں ہے۔ آج یہ بھی اپنے پیش رو کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی مہنگا ئی بے لگام ہوگئی ہے۔ بلکہ پہلے سے زیادہ آزاد ہوگئی ہے۔ صبح مہنگائی کچھ ہوتی ہے۔ تو دوپہراور شام تک اِس کا رنگ ہی کچھ اور ہو کربے قبول ہوجاتاہے ،حکومت بھی ہے کہ جو پہلے والوں کی طرح تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کے بوجھ تلے دباکر قوم و مُلک کی ترقی کی راہ دکھا کر اپنے گاڑی کا وزن کھینچ رہی ہے۔ کیوں کہ اِس نے اپنے پہلے چھ ماہ میں دو بجٹ پیش کرکے ثابت کردیا ہے کہ یہ عوام کیلئے اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں کرسکتی ہے۔ ا بھی تک حکومت ایک بھی ایسی قانون سازی کرنے سے قاصر رہی ہے جو مفاد عامہ کیلئے ہو ،یہ قانون سازی سے قاصر کیوں نہ ہو؟اِس نے ابھی تک سنجیدگی کا مظاہرہ ہی نہیں کیا ہے، نہ توسابق کرپٹ حکمرانوں نواز و زرداری اور اِن کے چیلے چانٹوں کو ابھی تک کڑی سزادِلوانے کیلئے اپنے تئیں کچھ کیا دکھایا ہے اور نہ ہی عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں اور دعوؤں کے مطابق مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر سمیت بے لگام مہنگائی اور پولیس گردی کے خاتمے کیلئے قانون سازی کی ہے۔ ابھی تک تو حکومت زبانی جمع خرچ کرکے قوم کو سبزباغ اور سُنہرے خواب دکھانے میں ہی لگی ہوئی ہے اِسے سوچنا چاہئے کہ بھلا گول مول باتوں سے حکومت نہیں چلاکرتی ہے۔بہر کیف، آج سانحہ ساہیوال پر اپوزیشن اور عوام جس طرح واویلا کررہے ہیں یہ بھی اپنی جگہ ہے ،سانحہ ساہیوال تو ایک بہانہ ہے اصل میں اپوزیشن بالخصوص ن لیگ اور پی پی پی والے سانحہ ساہیوال پر چیخ چلا کر اپنی کرپشن پر پردہ ڈال رہے ہیں اور پوزیشن والے نوازشریف، شہباز شریف ، زرداری ، مولانا فضل الرحمان سانحہ ساہیوال کے مرحومین کی لاشوں پر سیاست کرکے اپنا سیاسی قد اُونچا کررہے ہیں حالانکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور دیگر قومی سانحات پلٹ پلٹ کر باریاں لینے والی دونوں جماعتوں پی پی پی اور ن لیگ کے دورِ حکمرانی میں ہی رونما ہوئے ہیں۔ اِن سانحات کے متاثرین کو تو ابھی تک ایک رتی کا بھی انصاف نہیں ملا ہے ۔مگر آج یہی کرپٹ دونوں جماعتوں نے سانحہ ساہیوال کوچیل کی طرح چیخ چلاسر پر اُٹھا رکھاہے۔جیسے یہ بڑے انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔ اِس موقع کا وزیراعظم عمران خان بھر پور فائدہ اُٹھائیں اور تُرنت ایوان میں قانون سازی کی ابتداء پولیس اصطلاحات سے کردیں،پھرلگ پتہ جائے گاکہ کون سی جماعت ہے جو پولیس کو سیاسی اثرورسوخ سے پاک رکھنا چاہتی ہیں؟اور کون نہیں چاہتے کہ خالصتاََ عوامی مفادات اور تحفظات کیلئے پولیس اصطلاحات کی جائیں ؟ وزیراعظم عمران خان ساتھ ہی ایوان سے یہ بل بھی پاس کروا دیں کہ کسی بھی علاقے میں پیش آئے سانحہ کا ذمہ دار علاقے کا تھانہ انچارج ہوگا، اگر 72گھنٹوں میں کسی سانحہ یا واقعہ کے مجرم گرفتار نہ کئے گئے تو متعلقہ تھانے کے انچارج سمیت تین اہلکاروں کے ہاتھ کاٹے جا ئیں گے پھر دیکھیں مُلک کے کسی بھی تھانے کی حدود میں کسی قسم کی کوئی چھوٹی موٹی واردات بھی ہوجائے ۔کیوں کہ قوی اور قومی خیال یہی ہے کہ آج مُلک کے طول ارض میں جس قسم کے بھی جرائم رونماہورہے ہیں۔ اِن کی پست پناہی متعلقہ تھانے کرتے ہیں۔آج وزیراعظم عمران خان کی جتنے بھی دن کی حکومت باقی ہے۔اگرآج یہ سخت نوعیت کی پولیس اصطلاحات کرتے ہیں تو قوم کا اِن پر اعتماد بحال ہوجائے گا ورنہ ؟ قوم رواں حکومت پر کئی سیاہ سوالیہ نشانات لگا نے میں حق بجانب ہوگی ۔اگرچہ اَب تک کی آنے والی اطلاعات کے مطابق سانحہ ساہیوال کی ابتدائی رپورٹوں میں کئی سقم موجود ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ سا منے آرہے ہیں، جن کی وجہ سے ایک عام شہری تذبذب کا شکار ہے، کچھ کا یہ خیال ہے کہ مقتولین بے قصور اور بے گناہ تھے۔ مگر بہت سے پاکستا نی اِس سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کسی قسم کی نااہلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اَب جیسا بھی ہے سانحہ ساہیوال نے قوم کو دو حصوں میں بانٹ دیاہے۔ اصل حقائق سا منے آنے تک سارا مُلک ایک کشمکش میں مبتلاہے۔جبکہ مرحومین کے لواحقین سمیت مُلک کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سانحہ ساہیوال پر بنائی جانے والی جے آئی ٹی کے کسی نقطے اور فیصلے کو درست تسلیم کرنے سے صاف انکاری ہے ۔تاہم متاثرین سانحہ ساہیوال سمیت ایسے کروڑوں پاکستانی شہری بھی ہیں ۔جن کا حکومت سے یہ مطالبہ ہے کہ سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے جن اشخاص پر مبنی جے آئی ٹی بنا ئی گئی ہے۔ اِس میں اکثر سی ٹی ڈی کے افراد شامل ہیں۔بھلا کب یہ چاہیں گے کہ اِن کے بیٹی بھائی اور اِن کے ساتھی مجرم قرار پائیں ۔اَب اِس پس منظر میں لازمی ہے کہ سانحہ ساہیوال کے مقتولین اور اِن کے لواحقین کو فوری انصاف کی فراہمی کیلئے حکومت جوڈیشل کمیشن بنائے جو غیر جانبداری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے تحقیقات کرے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرکے انصاف کے تقاضے پورے کرے ۔ بس ایسا اِسی صورت میں ہی ممکن ہوسکے گاکہ جب حکومت کی جانب سے سانحہ ساہیوال پر فی الفور جوڈیشل کمیشن بنایاجائے گا اور ذمہ داران کو کڑی سزا دی جائے تاکہ پھر ایسا کوئی قومی سانحہ قومی پولیس کے ہاتھوں نہ رونما ہونے پائے اور ایسی سنگین صورتِ حال پیدا نہ ہو جیسی کہ آج تک سا نحہ ساہیوال ،سانحہ ماڈل ٹاؤن اور دیگر قومی سانحات کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صُورٹِ حال سے نہیں نمٹا جا سکا ہے ۔

یہ چَو کَھمُبِیَاں کیاہیں

اُردو نظم میںیہ چَوکھمبیاں کی نئی صنفِ سخن کیاہے؟افائدہ عام کے لئے آج کے مضمون میں ہم اِس کو اشکار کر تے ہیں۔وہ اس طرح کہ اُردو کے مشہور شاعر جناب یوسف راہی چاٹگامی نے اپنی نئی کتاب’’ چو کھمبیاں‘‘ ہمارے مطالعے کے لئے کراچی سے بھیجی ہے۔ یوسف راہی صاحب ایک نئی صنفِ سخن چو کھمبی کے مخترع ہیں۔ اس کتاب کے انتساب کو ہمارے دوست اور ملک کے مایا ناز اور عظیم دانشور، ٹی وی کے اینکر اور مقامی اخبارکے سینئر کالم نگار سے منسوب کر کے اس کتاب کو چار چاند کر دیا ہے۔ یوسف راہی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔انکی تخلیقات میں۱۔ اشک سوزاں( غزلوں کا مجموعہ)،ولائے محمدؐ ( نعتیہ مجموعہ)،۱۰۰ مشہور نعتیں( نعتیہ انتخاب)،ثنائے سید الکونین( نعتیہ مجموعہ)،۲۰۰ مشہور نعتیں( نعتیہ انتخاب) ، چوکھمبیاں (،چوکھمبوں کا مجموعہ)۲۔ترتیب و تالیف میں سنگ و سمن غزلوں کا مجموعہ(کاوش عمر)، بحر خواں نظموں کا مجموعہ(کاوش عمر)،شیشوں کا مسیحا( ڈرامہ کمال احمد رضوی)۳۔مخترع اُردو ادب کی نئی صنف سخن بہ نام چو کھمبی ۴۔ ترتیب و تزئین زیر طبع ۔شہر خوباں( غزلوں اور نظموں کا مجموعہ)،ایضاع سخن(اصلاحِ سخن علامہ تمنا عما وی)، کلید سخن(علمِ عروض خلش کلکتوی) نوائے شوق(منقبتیں’’ کاوش عمر‘‘) اور نعتیہ چوکھمبیاں۔ ہم تو سنتے آئے ہیں کہ اُردو میں ایک صنف نثر اور ددوسری نظم ہے۔ پھر اہل علم و ادب اور اہل زبان نے ان کی مختلف ا صناف ایجاد کیں ہیں۔ بقول خیام العصر محسن اعظم محسن ملیح آبادی صاحب کے ’’اُردو اور فارسی شاعری میں دس سخن رائج ہیں۔ وہ یہ ہیں غزل،قصیدہ،رباعی،قطعہ،مسمط، ترکیب، بند، ترجیع بند مستراد،اور فرد ہیں حوالہ محسن اعظم ملیح آبادی چو کھمبیاں کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ یوسف راہی نے مربع یا قطعہ چہار مصری کی تبدیل کردہ شکل کا ہندی الاصل نام جو اب اُردو کی ایک صورت ہے’’چو کھمبی‘‘ رکھا ہے۔ اس کے چاروں مصرع ایک ہی شکل کے ہونے کے سبب یہ نام د رست ہے۔ کسی نام کا مشہور ہونا یا نہ ہونا تو ادباء اور شعراء کے رد و قبول پر منصر ہے۔ میرے نزدیک یہ نام مقبولیت حاصل کر لے گا‘‘۔ یٰسین خان بہار شاہجہان پوری سابق استاد شعبہ اُردو لندن کالج آف مینجمنٹ پاکستان کیمپس کراچی لکھتے ہیں کہ ’’ چوکھمبی‘‘ کے موجد مشہور صحافی، ادیب، مبصر، اور شاعر یوسف راہی چاٹگامی ہیں۔ موصوف سینئر شعری میں شمار ہوتے ہیں کوئی پینتالیس برس سے شعر کہہ رہے ہیں۔ اس کی شعری تخلیقات میں توانائی بہ درجہ اتم پائی جاتی ہے۔ میں نے چو کھمبیوں کا مطالعہ کیا ہے، ان میں بڑی مقصدی اور فکر آفریں شوکھمبیاں موجود ہیں جو انہیں ایک ذہین و زیرک شاعر دکھاتی ہیں اور عہد عاضر کے توانا شعرا میں جگہ دلاتی ہیں‘‘ہم جیسے (راقم )کم علم اورشاعری سے نا بلد نے یوسف راہی صاحب کی نئی شاعری کی کتاب کا مطالعہ کیا اور پہلی نظر دیکھا کہ ہر چوکھمبی کے سب الفاظ ایک جیسے یعنی مخصوص بحر کے پابند ہیں اور چاروں مصرے ایک وزن کے ہیں اس لیے یہ چار کھمبوں والی شاعری ہے۔ یوسف راہی صاحب مشرقی پاکستان کے شہر چاٹگام میں پیداہوئے۔ تعلیم بھی وہیں سے مکمل کی۔کئی اخبارات کے رپورٹر، مضمون نگار، مدیر رہے۔ سیکرٹری نشر و اشاعت حلقہ اہل قلم چاٹگام۔ نامہ نگار شام و سحر کراچی، ریاض انٹر نیشنل ملتان مبصر فیصل آباد ۔موجودہ ڈائریکٹر پبلشنگ رابطہ فورم انٹر نیشنل ہیں۔ مدیر زاویہ نگا ہ کراچی۔ ممبر ارٹس کونسل کراچی۔ یوسف راہی چاٹگامی ، مشرقی پاکستان کے شہر چاٹگام کے رہائشی ہوتے ہوئے، اپنی آنکھوں سے قومیت کی بنیاد پر ملکِ پاکستان کو ٹوٹتے دیکھتے ہوئے، اپنے وطن کے باسیوں کے دھکوں کو محسوس کرتے ہوئے،اپنے وطن کے اُن طبقوں کو جو معدود قومیت کے زہر میں مبتلا ہو کر اس وطن عزیر پاکستان میں قومیت اور علاقیت کا تعصب پھیلاتے رہے اور پھیلا رہے ہیں کواپنی مندرجہ ذیل چو کھمبی میں ان کو محصور، معمور، مقہور اور ناسور جیسے الفاظ استعمال کر کے مخاطب ہوتے ہیں کہ:۔
تعصب میں محصور ہے یہ وطن
تعصب سے معمور ہی یہ وطن
تعصب میں مقہور ہے یہ وطن
لیے دل میں ناسور ہے یہ وطن
وہ لوگ جو ہاتھ پر ہاتھ باندھ کر بیٹھ جاتے ہیں ان کو مخاطب کر تے ہیں۔ اس میں وہ علامہ اقبالؒ کی خود اعتمادی کے فلسفہ کو بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنی ایک چوکھمبی میں فرماتے ہیں:۔
اے لوگو! نہ بازو کبھی شل کرو
اے لوگو! نہ تم خود کو بے بَل کرو
ہر اک دن نہ تم آج اور کل کرو
مسائل جو اپنے ہیں خود حل کرو
یوسف راہی صاحب اسلام کے اصولوں پر عمل کرانے کے لئے اپنے مخاطب کو رزق حلال کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ اپنے کلام میں کہتے ہیں:۔
سفر یہ مشقت کا جاری رہے
سفر اپنی محنت کا جاری رہے
سفر کار عزت کا جاری رہے
سفر رزق حرمت کا جاری ہے
کیونکہ ان کی کہی ہوئی چوکھمبیوں میں چار ہم قافیہ و ہم ردیف مصرے لازم وملزوم ہیں تو ہم نے دیکھتے ہی کہہ دیا کہ یہ چار ستون والی شاعری ہے۔ اب ہمیں نہیں پتہ کہ یہ بات درست ہے یا غلط، اس کی یوسف راہی صاحب ہی تصحیح فر مائیں گے۔بہر حال یوسف راہی نے شاعری میں ایک نئی صنف ایجاد کی ہے۔یوسف راہی بجا طور مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ویسے یوسف راہی صاحب اپنی کتاب کے صفحہ ۳۹ پر خود بھی فرماتے ہیں کہ چو کھمبی سے مراد چار کھمبوں والی، چار گھنٹوں والی، چار پایوں والی، چار پائی جیسے اور چار ستونوں والی ہے۔ ان باتوں کے علاوہ ہمیں ان کی شاعری میں انسان دوستی نظر آئی ہے۔ درج ذیل والی چوکھمبی میں اس کو اس طرح بیان کرتے ہیں:۔
ہراِک سنگ ہے، اور کہاں ہے وہ درپن
ہر ایک تیرگی ہے کہاں ہے ضوافگن
ہر اِک ایک زندان ہے کب ہے وہ مامن
ہر اِک پردہ دوستی میں ہے دشمن
صاحبو! میں شاعریوسف راہی چاٹگامی صاحب کو ذاتی طور جانتے ہوئے کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک دردِ دل رکھنے والے ، اپنی شاعری میں قوم کو حو صلہ دینے والے، برائیوں سے بچنے کی تلقین والے، رزق حلال کمانے کی تلقین کرنے والے ہیں اور نیکیوں پر گامزن شاعر ہیں۔ ان پر شراب و کباب اورعورتوں کا جنون سوارنہیں۔ ناچ گانے شراب و کباب، صنف نازک کے چہرے، گال، زلفوں اور کمر کی تعریفیں کرنے والے شاعر نہیں ہیں۔ وہ قوم کے معمار شاعر ہیں۔یوسف راہی چاٹگامی صاحب نے اپنی شب و روز محنت سے شاعری میں ایک نئی صنف سخن ایجاد کی ہے۔ اُمید ہے اسے علم و ادب کے حلقوں میں مناسب پذیرائی ملے گی۔ انشاء اللہ۔

پاکستان کے سیاحتی مقامات

پاکستان کے سیاحتی مقامات

بیرون ملک سے دردمند پاکستانی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ یا تنہا جب بھی اپنے وطن لوٹتے ہیں توایک ہی تکرار پاکستان کے ہرخاندان میں زیر بحث رہتی ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے غیر ملکی ہمیشہ تشویش ناک لب ولہجہ اختیار کرتے ہوتے کہتے ہیں کہ’پاکستان محفوظ نہیں ہے ‘ جب بھی پاکستان کی کوئی بات کی جائے تواُن شکوؤں کی تان یہیں آکر ٹوٹتی ہے کہ’پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا تو درکنار آپ کا ملک تو کسی قسم کی سیاحت کے قابل بھی نہیں ‘جبکہ پاکستانی جانتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے پاکستان کو کیا کچھ عطا نہیں فرمایا ہے ۔ چاروں موسم پوری شدت و توانائی کے ساتھ پاکستان کواپنے اپنے وقت پر فیضیاب کرتے ہیں پاکستان میں اگر دھوپ نکلتی ہے توبھرپور توانائی سے چمکتی ہوئی کاٹ دار دھوپ نکلتی ہے ‘انگریز دنیا’ ایسی روشن‘چمکدار اور بھرپور دھوپ کیلئے ترستے ہیں کون نہیں جانتا کہ ‘انگریز دنیا’ سیاحت کی بہت ہی شوقین دنیا ہے اْنہیں کون بتائے یہ ملکی ذمہ داری کس کی ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت اور بلتستان سمیت خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقے کو بلندوبالا پہاڑوں دلکش وخوبصورت نظاروں کی حسین دنیا ہے، جس کسی سیاح نے پاکستان میں قدرتی حسن وکمالات کی یہ ناقابلِ فراموش دنیا نہیں دیکھی اْس نے گویا کچھ نہیں دیکھا اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے ۔پندرہ بیس برس قبل وادی چترال سے سوات ویلی تک اپر دیرزیریں اور دیر بالا وادی شوال تک کے یہ علاقے عالمی خفیہ اداروں اوراْن کے چیلے ملکی دہشت گردوں کے قبضہ میں تھے وہ دور واقعی بہت ‘خطرناک’ دور تھا پاکستانی فوج کے شروع کیئے گئے آپریشن راہ راست’راہ نجات’آپریشن خیبر ٹو اور پھر فیصلہ کن آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دنیا کے ان خوبصورت اور قدرت کے عطاکردہ بیش بہا نظاروں کے حامل علاقوں سے دہشت گردی کی جہنم زار لعنتوں کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ کردیا گیا بیرون ملک پاکستانیوں کا یہی گلہ ہے کہ امریکااور مغربی دنیا میں قائم پاکستانی سفارت خانوں نے دنیا کو اب تک یہ کیوں باور نہیں کرایا کہ پاکستان دنیا کے سیاحوں کیلئے جو بلندوبالا فلک بوس خوبصورت پہاڑوں کی سرزمین ہے اْن کیلئے اب ‘خطرناک’نہیں رہا امریکا سمیت مغربی دنیا میں قائم پاکستانی سفارت خانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں ‘پاکستان سیاحت کیلئے ایک بہترین ملک’ کے موضوع پرپے درپے سمینارزمنعقد کروائیں اور پاکستان کے بارے میں ‘را’ اور ‘سی آئی اے’ کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈوں کے پاکستان دشمن تاثر کو زائل کریں پاکستان میں موجود لاتعداد سیاحتی مقامات کا دنیا سے تعارف کرایا جائے تاکہ دنیا کے سیاحوں کا رخ پاکستان کی جانب ہونے لگے، عالمی سیاحت کا مرکز پاکستان ہوگا تو پاکستان کے زرمبادلہ میں یقینی اضافہ ہونے لگے گا ملکی زرمبادلہ میں آئے روز کی کمی کی ایک وجوہ پاکستان میں سیاحت کے شعبہ پر جیسی خاص توجہ ہونی چاہیئے تھی وہ نہیں دی گئی۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے علاوہ ماضی کی حکومتوں اور اْن کے سرکردہ لیڈروں نے ملکی سیاحت کو کسی خاطر میں نہیں رکھا وہ بڑے ہی ناشکرے حکمران تھے جنہوں نے ملکی زرمبادلہ میں اضافہ کرنا تو رہا درکناراُن ماضی کے حکمرانوں نے زرمبادلہ کو چوراْچکوں کی طرح سے لوٹنے میں ہی اپنی میعاد حکمرانی پوری کی اور ملکی زرمبادلہ لوٹ کر لے گئے ۔ پاکستان کے عوام کی واضح اکثریت پی ٹی آئی کی موجودہ صوبائی اور وفاقی حکومت کو یہ کریڈٹ دینے میں حق بجانب ہے کہ اس حکومت نے پاکستانی سیاحتی ویژن کو اپنی اولین ترجیحات کا حصہ بنایا ، قوم کے نام اپنی پہلی نشری تقریر میں وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو پیغام دیاکہ ‘پاکستان کے سیاحتی مقامات دنیا کے دیگر مقامات سے زیادہ دلکش وحسین نظاروں کے حامل مقامات ہیں وزیراعظم نے بالکل صحیح نشاندہی کی کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات سمیت قبائلی علاقہ جات کو فلک بوس پہاڑوں کی سرزمین کل بھی کہا جاتا تھا اورآج بھی کہا جاتاہے آسمان کی بلندیوں کو چھونے والے بل کھاتے ہوئے یہ پہاڑ سرسز و شاداب بھی ہیں جوہر دیکھنے والی انسانی آنکھ کو خوشگوار متحیر محوکردینے والے اِن خوبصورت ودلکش نظاروں کا اسیر بنالیتے ہیں ۔یہ پہاڑ اور یہ گہری وادیاں جن سے لاتعداد مقامات پر قدرتی چشمہ اونچائی سے گہرائی میں گرتے ہیں جن کا نظارہ کرکے انسان قدرت کی منظر کسی کی کرشمہ سازی پربے اختیار واہ واہ کرنے لگتا ہے، خاص کرخیبر پختونخواہ کے ضلع اپر دیر میں واقع ‘کْمرات ویلی’ ملکی وغیر ملکی سیاحوں کیلئے ترجیحی بنیادوں ایک بہت ہی پْرکشش مقام بن سکتا ہے دنیا کا خوبصورت ترین مقام ‘ کْمرات ویلی’ خیبر ختونخواہ کے ضلع اپردیر سے کچھ فاصلہ پر واقع ہے۔ ویسے تو خیبر پختونخواہ کے سبھی بالائی علاقے قدرتی حسین نظاروں کی دلکشی کے مرقع ہیں مگر یہاں خاص طور اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ کْمرات ویلی کی تاحد نگاہ پھیلی ہوئی سرسبز وشادابی’بل کھاتے اونچے نیچے اور ان کے درمیان میں بہتی ہوئی چھوٹی بڑی ندیاں اور آبشاریں کسی بھی دیکھنے والی نگاہ کو سحرانگیزخوابوں کی دنیا میں پہنچادیتی ہیں اگر’کْمرات ویلی’ کو قدرت کا ایک نہایت ہی بیش قیمت تحفہ کہا جائے تو یقیناًیہ دل گزیں احساس ‘کْمرات ویلی’ کے ہم پلہ تصور کیا جاسکتا ہے، حکومت خبیرپختونخواہ کے قبائلی علاقوں کے مقامی حسن کو دنیا میں متعارف کرانے میں بیوروکریسی کی ‘ریڈٹیپ ازم ‘ کی پرواہ نہ کرے ہنگامی بنیادوں پر فیصلہ کن اقدامات اْٹھائے جائیں۔ دیربالا میں ریزورٹس کے قیام کے فوری انتظامات کیئے جائیں تاکہ دیربالا کے بے روزگار قبائلیوں کو باعزت روزگار کے مواقع میسرآسکیں ۔خیبر پختونخواہ میں سیاحتی مقامات جا بجا پھیلے ہوئے ہیں جن پر بعض قبضہ مافیا نے اپنے ناجائز منفی کاروبار کے ٹھکانے بنا رکھے ہیں وہ ہر آئینی وقانونی حکومتی اقدامات کی مخالفت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اب جبکہ ملک میں قانون کی بالا دستی کی ریت روایت جڑپکڑنے لگی ہے۔لہٰذا صوبائی حکومت ایسوں کے پھیلائے ہوئے من گھڑت پروپیگنڈوں سے بالکل مرعوب نہ ہو اور علاقہ کے عوام کے مفاد کی خاطرملکی آئین اور قانون کی رٹ کو بحال کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا جائے۔

جاپان: دنیا کا سب سے چھوٹا بچہ اسپتال سے گھر منتقل

جاپان میں صرف 268 گرام وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچے کو صحت مند ہونے کے بعد اسپتال سے گھر منتقل کردیا گیا۔

گذشتہ سال اگست میں پیدا ہونے والے اس بچے کو کم وزن ہونے کے باعث اسپتال میں ہی رکھا گیا تھا تاہم اُس کا وزن 3 ہزار 238 گرام (تقریباً سوا تین کلو) ہونے کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔

پیرس میں رنگا رنگ فیشن ویک کی رعنائیاں

فرانس کے دار الحکومت پیرس میں رنگا رنگ فیشن ویک کی رعنائیاں جاری ہیں جس میں مختلف ممالک کے نامور ڈیزائنرز حصہ لے رہے ہیں۔

9دن تک جاری رہنے والے اس فیشن ویک میں سال 2019کے موسم سرما اور خزاں کی مناسبت سے ڈیزائنرز اپنا دیدہ زیب کلیکشن پیش کررہے ہیں۔

فیشن ویک کے دوران ماڈلز معروف ڈیزائنرز کے تیار کردہ نت نئے ملبوسات زیب تن کیے ریمپ پر جلوے بکھیر رہی ہیں ۔

25فروری سے شروع ہونے والا یہ ایونٹ 9روز تک رنگینیاں بکھیرنے کے بعد5مارچ کو اختتام پذیر ہوجائے گا۔

گلیڈیئیٹرز کے محمد حسنین کی متاثر کن بولنگ اسپیڈ

پاکستان سپر لیگ کی بدولت ایک سے بڑھ کر ایک ٹیلنٹ ابھر کا سامنے آرہا ہے ، ایسا ہی ایک بولر کوئٹہ گلیڈیئیٹرز کو محمد حسنین کی صورت میں ملا ہے ، جن کی اسپیڈ ایورج142سے بھی زیادہ ہے ۔

کويٹہ گلیڈئیٹرز نے لاہور قلندرز کے خلاف میچ 8 وکٹ سے ہار تو گیا،لیکن اس میچ میں کوئٹہ کی ٹیم کو ایک اسٹار بولر مل گیا۔

حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ محمد حسنین نے میچ میں نہ صرف فخر زمان کی اہم وکٹ حاصل کی ،بلکہ ان کی اسپیڈ نے سب کو متاثر کیا۔

محمد حسنین نے 142 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیندیں کیں اور ان کی تیز ترین گیند 149 کلو میٹر فی گھنٹہ کی اسپیڈ سے ریکارڈ کی گئی۔

Google Analytics Alternative