Home » 2019 » February (page 10)

Monthly Archives: February 2019

وزیراعظم عمران خان نے ایک بارپھربال بھارت کے کورٹ میں ڈال دی

adaria

مودی ابھی تک اپنی ہٹ دھرمی پرڈٹا ہواہے الزا م برائے الزام عائد کرنے سے بھارت کسی طورپر بھی باز نہیں آرہا جبکہ پاکستان متعدد بار یہ بات دوہراچکا ہے کہ پلوامہ حملے کے حوالے سے الزامات عائدنہ کئے جائیں اگر کوئی ثبوت ہیں توسامنے لائیں پاکستان ہرممکن تعاون کرے گا مگر چونکہ مودی انتخابی کھیل کھیل رہاہے اسی وجہ سے وہ ہرصورت پاکستان کاکارڈاستعمال کرناچاہتاہے ۔پوری دنیامیں اس کی یہ کوشش تھی کہ پاکستان کسی نہ کسی طرح تنہاہوجائے مگر نریندرمودی کو سبکی کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔ اقوام متحدہ، امریکہ ،سعودی عرب ،روس ،چین اوردیگرمتعددممالک نے بھارت کی جانب سے عائد کئے گئے الزامات کوخاطرہی میں نہ لائے اس طرح پاکستان کو تنہا کرنے والاخود ہی تنہائی کاشکار ہوتاجارہاہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم حد کراس کرچکے ہیں اب جووہاں پر تحریک اٹھی ہے اس کو روکنا بھارت کے بس کی بات نہیں وہ جو مرضی تبدیلیاں کرلے اس کو کامیابی حاصل نہیں ہونے والی۔ مودی نے ایک جلسے میں پھرپاکستان پر بے سروپاالزامات عائدکئے اور بالکل بھونڈی تقریر کی جس میں اس نے کہاکہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں کشمیریوں کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کررہاہے ۔بین الاقوامی برادری کو اچھی طرح پتہ ہے کہ کون دہشت گرد ہے کس کے ہاتھ میں اسلحہ ہے کون پیلٹ گن استعمال کررہاہے کشمیری تو بیچارے نہتے اور معصوم ہیں انہیں بھارت کی دہشت گرد فوج مولی گاجر کی طرح کاٹ رہی ہے ۔وہاں پرجو بھی دہشت گردی مچارکھی ہے اس سب کا بھارت ہی ذمہ دار ہے ۔ساڑھے سات لاکھ باوردی ملبو س بھارتی دہشت گردوں نے مقبوضہ کشمیر کی زمین کوانسانی خون سے رنگین کررکھاہے اس کے باوجوددنیاکی آنکھوں میں لگاتاردھول جھونک رہاہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہاہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو قابل عمل انٹیلی جنس معلومات اور ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کی صورت میں پاکستان کی جانب سے اس پر فوری کارروائی کے حوالے سے وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے تبصرہ پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ اپنے بیان اگر بھارت نے ہمیں قابل عمل انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں تو ہم اس پر فوری کارروائی کریں گے پر قائم ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ دسمبر 2015میں بھارتی وزیراعظم مودی سے ملاقات کے دوران ہمارا اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ چونکہ تخفیف غربت ہمارے خطے کی ترجیح ہے اس لئے ہمیں امن کی کوششوں کو دہشت گردی کے کسی واقعہ کی وجہ سے ڈی ریل کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہاکہ تاہم پلوامہ حملے سے بہت پہلے ستمبر 2018میں ان کوششوں کو ڈی ریل کردیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ افسوس ہے کہ بھارت میں انتخابات کی وجہ سے امن بدستور مبہم ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو امن کو ایک موقع دینا چاہئے۔دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیالکوٹ کے قریب ورکنگ باونڈری کا دورہ کیا۔ آرمی چیف نے جوانوں کے بلند حوصلے اور تیاری کو سراہا۔ ورکنگ باونڈری پر پاک فوج کے افسران اور جوانوں سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ اپنی دھرتی کے دفاع سے بڑھ کر کوئی چیز مقدس نہیں۔ پاک فوج کی قیادت کرنے پر فخر ہے اور پاک فوج مادر وطن کے دفاع کیلئے ہر دم تیار ہے۔ علاوہ ازیں ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے پاک فضائیہ فارورڈ آپریٹنگ بیسز کا دورہ کیا۔ ایئر چیف مارشل مجاہد انور نے کہا کہ ہم ایک امن پسند قوم ہیں۔ پاک فضائیہ ہر قسم کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ قوم کی امنگوں پر پورا اتریں گے، کسی بھی جارحیت کا بھرپور قوت سے جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔ جنگ مسلط کی گئی تو ہر قیمت پر فضائی سرحدوں کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے افسروں کی کارکردگی کو سراہا۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ اورایئرچیف نے بھی بھارت کو دوٹوک اندازمیں بتادیاہے کہ مقدس وطن کی حفاظت سے بڑھ کرکوئی فریضہ نہیں فوج ہمہ وقت تیارکھڑی ہے،پاک فضائیہ بھی چوکس ہے۔ ادھر دفترخارجہ نے بھی حریت رہنماشبیراحمدکے جیل میں حملے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اُن کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے اس سے قبل بھی بھارت نے ایک مسلمان قیدی کوپتھرمارمارکرشہیدکردیاتھا ،ایک خاتون جوغلطی سے بارڈرکراس کرگئی جس کاذہنی توازن بھی درست نہیں تھا اُس کو بھارتی درندوں نے نہ صرف شہیدکیابلکہ اس پرتشددبھی کیا۔ایسے میں بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ خطے میں قیام امن کے لئے کرداراداکرے اورمودی جو آگ پھیلارہاہے اس پرپانی ڈالے۔

بچوں کے تحفظ کیلئے خصوصی عدالتیں بنائی جائیں
چائلڈلیبرایک بین الاقوامی جرم ہے اور ہمارے ملک میں تویہ جر م بہت عام فہم ہے ،خاص کرگھروں میں رکھنے والے ملازمین جن میں بچے اوربچیاں شامل ہوتی ہیں ان میں اکثروبیشترکی عمریں پندرہ سال سے کم ہوتی ہیں،وہ نہ صرف گھرکاساراکام کرتے ہیں بلکہ اگرکوئی غلطی کربیٹھیں تو انہیں بری طرح تشددکانشانہ بھی بنایاجاتاہے جس میں زیادہ تربچے اپنی جان بھی گنوابیٹھتے ہیں اس جرم کو روکناانتہائی ضروری ہے اسی سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ نے حکومت پنجاب کو 15 سال سے کم عمر بچوں کو گھروں میں کام پر نہ رکھنے کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا حکم دیاہے۔ عدالت عالیہ کے جج جسٹس جواد حسن نے گھریلو ملازمین پر تشدد کے خلاف صوبے خان کی درخواست پر 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے شیراز ذکا ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے جبکہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل رائے شاہد نے دلائل دیئے تھے۔ عدالت عالیہ نے کھلی عدالت میں فیصلہ سنایا، جس میں عدالت نے گھریلو ملازمین کے حوالے سے قانون سازی کرنے پر پنجاب حکومت کی تعریف بھی کی۔ عدالتی فیصلے میں حکم دیا گیا کہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے تحفظ کیلئے خصوصی عدالتیں بنائی جائیں، اس کے علاوہ یہ حکم بھی دیا گیا کہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے تحفظ کیلئے کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو ہر سال گھروں میں کام کرنے والے 15 سال سے بڑی عمر کے گھریلو ملازمین کی تنخواہوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم بھی دیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ یکم مئی کو مزدروں کے دن کے موقع پر گھریلو ملازمین کو بھی چھٹی دی جائے۔ عدالت عالیہ نے فیصلے میں حکم دیا کہ گھریلو ملازمین کے تحفظ کیلئے سوشل سیکیورٹی کا ادارہ بھی قائم کیا جائے جبکہ اس کے ساتھ ہی عدالت نے گھریلو ملازمین کے لیے ملک بھر میں میڈیا آگاہی مہم بھی چلانے کا حکم دیا۔ اس سے قبل 20 دسمبر 2018 کو لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو گھریلو ملازمین سے متعلق قانون سازی کا حکم دیتے ہوئے مجوزہ قانون میں 15 سال سے کم عمر بچوں کی گھریلو ملازمت پر پابندی کو خوش آئند قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ پنجاب میں گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ لاہور ہائیکورٹ 2015 میں گھریلو ملازمین پر تشدد کے حوالے سے قانون سازی کا حکم دے چکی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو مزید بتایا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود قانون سازی نہیں کی جا رہی اور نہ عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی عدالت سے استدعا کی تھی کہ عدالت پنجاب حکومت کو قانون سازی پر عمل درآمد کرنے کا حکم دے۔

دنیا کا پہلا 4 کے ڈسپلے سے لیس اسمارٹ فون متعارف

سونی نے اپنے نئے فلیگ شپ فونز پیش کردیئے ہیں اور فولڈ ایبل، ہول پنچ ڈسپلے کے رجحان سے ہٹ کر اس کمپنی نے صحیح معنوں میں وائیڈ اسکرین سے لیس ڈیوائسز متعارف کرائی ہیں۔

بارسلونا میں جاری موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران سونی نے ایکسپیریا ، ایکسپیریا 10 اور ایکسپیریا 10 پلس فونز متعارف کرائے۔

جاپانی کمپنی گزشتہ چند برسوں کے دوران اسمارٹ فون مارکیٹ میں کافی پیچھے رہ گئی ہے اور اسے توقع ہے کہ یہ نئے فونز قسمت بدلنے میں مدد دے سکیں گے۔

ایکسپیریا 1، 10 اور 10 پلس اس کمپنی کے منفرد ڈیزائن والے فونز ہیں جن کا ڈسپلے بہت زیادہ وائیڈ ہے۔

اس وقت جب بیشتر فونز میں ڈسپلے 16:9 یا 19:5:9 ایسپکٹ ریشو کے ساتھ متعارف ہورہے ہیں، نئی ایکسپیریا سیریز میں یہ ریشو 21:9 ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ فونز فلمیں دیکھنے یا گیمز کھیلنے والوں کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر تیار کیے گئے ہیں جبکہ بیک وقت 2 ایپس چلانا بھی ممکن ہے۔

ایکسپیریا 1 گزشتہ سال کے ایکسپیریا ایکس زی تھری کی جگہ لے گا جس میں 6.5 کا ایچ ڈی آر او ایل ای ڈی ڈسپلے متعارف کرایا ہے، درحقیقت یہ دنیا کا پہلا 4 کے ڈسپلے والا فون ہے۔

فوٹو بشکریہ سونی
فوٹو بشکریہ سونی

کوالکوم اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر، 6 جی بی ریم، 128 جی بی اسٹوریج جس میں ایس ڈی کارڈ سے اضافہ ممکن ہے اور 3300 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے۔

سونی نے پہلی بار اپنے کسی فون میں 3 بیک کیمروں کا سیٹ اپ بھی ایکسپیریا 1 میں ہے جس میں سے ایک 12 میگا پکسل الٹرا وائیڈ اینگل لینس، دوسرا 12 میگا پکسل وائیڈ اینگل لینس جبکہ تیسرا 12 میگا پکسل ٹیلی فوٹو لینس ہے۔

دوسری جانب ایکسپیریا 10 اور 10 پلس مڈرینج فیچرز سے لیس ہیں۔

ایکسپیریا 10 میں 6 انچ جبکہ ایکسپیریا 10 پلس میں 6.5 انچ ایل سی ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے جس کا ایسپکٹ ریشو 21:9 ہے۔

دونوں فونز میں اسنیپ ڈراگون 639 پراسیسر، 64 جی بی اسٹوریج (ایس ڈی کارڈ سے اضافہ کیا جاسکتا ہے) موجود ہے، واحد فرق ریم کا ہے، ایکسپیریا 10 میں تھری جی بی ریم جبکہ 10 پلس میں 4 جی بی ریم دی گئی ہے۔

ایکسپیریا 10 اور 10 پلس — فوٹو بشکریہ سونی
ایکسپیریا 10 اور 10 پلس — فوٹو بشکریہ سونی

دونوں میں ڈوئل کیمرا سیٹ بیک پر موجود ہے، ایکسپیریا 10 میں 13 میگا پکسل اور 5 میگا پکسل جبکہ 10 پلس میں 12 میگا پکسل اور 8 میگا پکسل کیمروں کا امتزاج ہے۔

ایکسپیریا 10 اور 10 پلس کو 18 مارچ جبکہ ایکسپیریا 1 کو دوسری سہ ماہی کے دوران فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا تاہم ابھی ان کی قیمتوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پلوامہ حملے پر مودی سرکار کا بھانڈہ خود بھارتی سیاستدانوں نے پھوڑ دیا

نئی دلی: پلوامہ حملے پر بے پر کی اُڑاتی مودی سرکار کا بھانڈہ خود بھارتی سیاست دانوں نے پھوڑ دیا۔

مختلف بھارتی رہنما بھی پلواما حملے پر مودی سرکار کے واویلے اور حقائق سے آنکھیں چرانے کے عمل کو دراصل ہندو جذبات کو بھڑکا کر حال ہی میں ہونے والے انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کی مذموم سازش قرار دے رہے ہیں۔

سماجی کارکن وامن میشرم کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی حکومت کو پلواما حملے کا 8 روز قبل ہی معلوم تھا لیکن حکومت نے سیاسی مفادات اٹھانے کے لیے حملہ ہونے دیا۔ مودی سرکار نے حب الوطنی پر سیاست کو ترجیح دی تاکہ انتخابی مہم کو مرچ مسالہ مل سکے۔

وامن میشرم نے مزید کہا کہ مودی سرکار کو فوجی جوانوں سے اتنی ہی محبت ہوتی تو وہ حملے کا علم ہونے کے باوجود سپاہیوں کو بسوں میں بھیجنے کے بجائے ہیلی کاپٹر کا استعمال کرتے لیکن جان بوجھ کر اپنے جوانوں کو بھینٹ چڑھایا گیا۔ مودی پلوامہ حملے کو انتخابات میں کامیابی کی سیڑھی بنانا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کے ساتھ کھڑی ہیں، پاکستان کو تنہا سمجھنا بھارت کی سب سے بڑی بھول ہے۔ افغانستان میں طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کا حصہ ہے لیکن بھارت کہاں کھڑا ہے؟ یہ سوچنے کی بات ہے۔

محبوبہ مفتی نے مودی کو سرکار کو پاکستان سے چھیڑ چھاڑ کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ نہ تو بھارت کے فائدے میں ہے اور نہ ہی پاکستان کے فائدے میں، بھارت صرف جنگ کی باتیں کر رہا ہے، حقیقت میں خود بی جے پی جنگ نہیں چاہتی۔

اس سے قبل بھارت کے لیفٹننٹ جنرل (ر) دیپندرا سنگھ ہوڈا نے بھی پلوامہ حملے کو سیکیورٹی اداروں اور مودی حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حملے میں استعمال ہونے والا بارود مقامی ساختہ تھا اور خود کش حملہ آور بھی مقامی تھا۔

سانحہ گجرات سے سانحات کشمیر تک قصور وار۔ نریندرا مودی

بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا دعویداردنیا بھرمیں مہلک ترین اسلحہ کی خریداری میں بھی پہلے نمبرپرہے اورمقبوضہ جموں وکشمیر میں بہیمانہ اور سفاکانہ انسانی کی حقوق دھجیاں اڑانے میں بھی یہ دیش خوب نمایاں ہے سال2019 شروع ہوا تو بھارت میں بعض حلقوں کا یہ خیال تھا کہ شاید بھارت کواب عقل آجائے کہ انسانیت کا احترام بھی کوئی مہذب اور متمدن سیاسی احساس ہوتا ہے شاید اس برس میں2018ء کی وحش ناک خونریزی کا سلسلہ مقبوضہ کشمیر میں رک جائے اور بھارت احترام انسانیت کی روش اختیار کرتے ہوئے نفرتوں پر مبنی اپنی ہندوتوا کے سیاسی نظرئیے کا خاتمہ کرنے پر آمادہ ہوجائے گا بھارت کے باشعور اعلیٰ فکری ونظری سوچ کے حامل طبقات لوگ سوچتے رہ گئے آرایس ایس کی کارسیوک سرکاری ٹس سے مس ہونا تھا نہ ہوئی مودی سرکار کے جنونی متشدد تیور تو ذرا ملاحظہ فرمائے وہ دیش کے وزیراعظم ہیں یا اب تک گجرات کے وزیراعلیٰ؟ وقت سے اگر کوئی کچھ سیکھنا چاہیئے تو وقت وہ تمام اسباق سکھا دیتا ہے جو کسی بھی مہذب انسان کی تمنا ہوتی ہے انسانیت سے محبت اور انسانیت کا احترام وہ بنیادی اسباق ہیں جو ماں کی گود سے سیکھے جاتے ہیں حیرت ہے کہ آرایس ایس کی تنظیمی بنیادی اصول کن ضوابط پر رکھے گئے ہیں کیا ہندو اور اعلیٰ ذات کے ہندو ہی صرف انسان ہوتے ہیں؟آرایس ایس نے یہی کچھ اپنے کارسیوکوں کو سکھلایا ہے بس ماردو’کچل دو’ جلا دو’ گردن اتار دو’ پڑوسیوں کے گھروں کولوٹ لو’غیر ہندو عورتوں کی کھلے عام عصمت دری کرو’غیر ہندووں کا جینا حرام کردو’فرداً فرداً ہی نہیں بلکہ اجتماعی قتل وغارت گری کے بازارگرم کردو’کھلے عام سڑ کوں چوراہوں پر آلاؤجلاکر زندہ مسلمانوں کو بھڑکتے ہوئے ان آلاؤ وں میں ا چھال دو’آرایس ایس کے نزدیک ان ہی اعمال وافعال کا نام کیا انسانیت ہے؟ ذرا غورفرمائیں کہ بھارت میں جاری جمہوریت کے دامن پرلگے ہوئے ہوئے داغوں نے انسانیت کی انتہائی مظلوم ومقہور مجروح روح کو کس قدر بیدردی سے لہورنگین کیا ہے جس پر کوئی انسانیت کا درد رکھنے والا لکھے تو بھی کیالکھے؟ سمجھ میں نہیں آتا کیا کوئی انسان اس قدر بھی گرسکتا ہے 2002 میں گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا ان کی کروڑوں روپے کی قیمتی املاک کو نذر آتش کیا گیا سال جب گزرتا ہے ماہ فروری کی ستائیس تاریخ آتی ہے تو ہم پاکستانی مسلمانوں کو گجرات میں ہوئے اپنی تاریخ کے بدترین فسادات یاد آتے ہیں اور ہمارے دکھ تازہ ہوجاتے ہیں ‘ حال ہی میں نامور بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ کے بھائی بھارتی فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے ریٹائرڈ ہوئے ہیں اُنہوں نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ گجرات مسلم کش فسادات کا منصوبہ سازمودی ہی تھا لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے اس بارے میں ’ساوتھ ایشیا میگزین‘ کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں دل دہلادینے والے انکشافات کیئے ہیں اسی میگزین میں’جب گجرات جل رہا تھا‘ کے عنوان سے ریٹائرڈ بھارتی جنرل ضمیر الدین شاہ نے اُن دردناک لمحات کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فوج لے کر 28فروری 2002کی رات 10بجے جب احمد آباد کے ہوائی اڈے پر پہنچے اور گاڑیوں کا انتظار کرتے رہے ہماری متعدد درخواستوں کے باوجود اس وقت کے وزیر اعلیٰ گجرات نریندرمودی نے انہیں جواب تک دینا گوارا نہیں کیا جس کے باعث فوج کوشہر کا کنٹرول سنبھالنے حد سے زیادہ تاخیر ہوئی اور اس دوران میں ہندو بلوائیوں کے حملوں میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا جاچکا تھا گجرات فسادات کی دردناک رواداد کی تفصیلات انسانیت کو شرمسار کرنے کیلئے کافی سمجھی جانی چاہیئے جناب والہ، گجرات میں ۲۰۰۲ کے مسلم کش فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کو شدید اذیتیں دے کر قتل کیا گیا دولاکھ سے زائد مسلمان بے گھر ہوئے اْن قیمتی املاک یا توتباہ کردی گئیں یا ہندوبلوائیوں نے لوٹ لیں سترہ برس بیت گئے ابھی تک سولہ ہزار سے زائد متاثرہ مسلمان خاندان کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور جہاں تک گجرات کے ۲۰۰۲ فروری کے مسلم کش فسادات کی عدالتی تحقیقات کا تعلق ہے ان پْرتشدد فسادات کے مجرموں کو کبھی حراست میں نہیں لیا گیامثلاً’بھارتی ریاست گجرات کے ایک سینئر پولیس افسر سنجیو بھٹ ( جو کہ خود سانحہ کے دوران وہاں متعین تھا ) اُس سینئر پولیس آفیسر نے سپریم کورٹ میں داخل کیئے گئے اپنے حلفی بیان میں گجرات کے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ اور آج کے بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی پر کے بارے میں کیسے انکشافات کیئے ہیں اُس پولیس آفیسر نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے فل بینچ کو بتایا کہ نریندر مودی نے خود پولیس حکام کو گودھرا کی ٹرین میں کارسیوکوں کو جلائے جانے کے واقعہ کے بعد کو حکم دیا تھا کہ وہ ہندوؤں کو اپنا غصہ نکالنے دیں سنجیو بھٹ 2002 میں گودھرا فسادات کے وقت انٹیلی جنس کے ڈپٹی کمشنر تھے اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے گودھرا واقعہ کے بعد زبردست کشیدگی کے دوران 27 ؍ فروری 2002 کو احمد آباد میں اعلیٰ پولیس اہلکاروں کی ایک میٹنگ میں شرکت کی جس میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے اعلیٰ پولیس افسران سے کہا کہ’ وہ فسادیوں کو نہ روکیں مسلمانوں کی طرف سے مدد کی التجاؤں پر کان نہ دھریں ‘ عدالتِ اعظمیٰ میں داخل کیئے گئے 18صفحات پر مشتمل اپنے اِس بیانِ حلفی میں سنجیو بھٹ نے میٹنگ کی تفصیلات بتا تے ہوئے کہا کہ اِس میٹنگ میں آٹھ پولیس افسران شریک تھے مسٹر نریندر مودی نے اُن اعلیٰ اہلکاروں سے یہ کہا تھا ’ ایک طویل عرصہ سے گجرات پولیس مذہبی فسادات میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرنے میں توازن سے کام لیتی رہی لیکن اِس بار صور تِ حال ماضی سے برعکس ہوگی اور مسلمانوں کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ کبھی گودھراٹرین جیسا واقعہ دوبارہ نہ ہونے پائے ‘ مسٹر بھٹ نے انڈین سپریم کورٹ میں بتایا کہ’ وزیرِ اعلیٰ مودی نے کہا تھا کہ’ ہندوؤں کے جذبات بہت زیادہ مشتعل ہیں یہ ’لازمی ہے کہ جتنا چاہئیں اُنہیں غصہ نکالنے دیا جائے ‘سنجیوبھٹ نے بیانِ حلفی میں یہ بھی کہا ہے کہ اُنہوں نے سپریم کورٹ کی مقررکردہ تفتیشی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی کو بھی یہ باتیں بتائی تھیں، لیکن اُنہوں نے اُن کے بیان کو اُس سنجیدگی سے نہیں لیا جیسا اُنہیں لینا چاہیئے تھا، بلکہ ایس آئی ٹی نے اُن کی گواہی کے بیانات کو ’لیک ‘ کردیا تھا جس کی وجہ سے اب وہ اپنی زندگی کیلئے خطرہ محسوس کررہے ہیں اُنہوں نے اپنے اور اپنی فیملی کے لئے پولیس کا تحفظ مانگا ہے مسٹر بھٹ نے نامہ نگاروں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اگر اُنہیں کسی پینل یا عدالت کے سامنے طلب کیا گیا تو مزید ثبوت پیش کردیں گے‘ نجانے بیچارے سنجیو بھٹ آج کس حال میں ہونگے زندہ بھی ہونگے یا نہیں ؟ مگر ایک انسان ہونے کے ناطے اُنہوں نے سچ بول کر انسانیت کا نام ضرور اُونچا کردیا جیسا سچ گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام مسلسل چیخ چیخ کر بول رہے ہیں مگر کشمیر سمیت دیگر حساس نوعیت کے عالمی معاہدات کا بھارت جیسے دیش پر کوئی اثر نہیں پڑرہا یہاں پر سوال ہے کہ عالمی مہذب دنیا کو کیا ہوا ہے ہم اب یہ سمجھیں کہ عالمی مہذب دنیا کل مہذب تھی نہ آج اُسے کوئی ’مہذب ‘ سمجھے بھی یا نہیں مہذب دنیا نے کل کے کھلے دہشت گرد نریندر مودی کا کیابگاڑ لیا اسی لئے توآج بھی نریندرامودی نے گجرات ہی کا لبادہ اُوڑھا ہوا ہے۔

******

91 ویں اکیڈمی ایوارڈ کی رنگا رنگ تقریب، گرین بُک بہترین فلم قرار

لاس انجلس: اکانویں اکیڈمی ایوارڈزکی تقریب کو دلچسپ انداز میں بغیر میزبان کے منعقد کیا گیا جس میں ’گرین بُک‘ بہترین فلم قرار پائی۔

امریکی شہرلاس اینجلس میں دنیائے فلم کے سب سے بڑے ایوارڈز”آسکرز” کا میلہ سجا۔ ریڈ کارپٹ پرہالی ووڈ ستارے جلوہ افروز ہوئے تو تقریب کو چار چاند لگ گئے۔ اکانویں اکیڈمی ایوارڈزکی تقریب کو دلچسپ اندازمیں بغیرمیزبان کے منعقد کیا گیا۔ 1989 کے بعد ایسا  پہلی مرتبہ ہواہے کہ تقریب کو کسی نے ہوسٹ نہیں کیا۔

بنا میزبان سجی تقریب میں گرین بُک بہترین فلم قرارپائی جب کہ رامی ملک نے بہترین اداکاراوراُولیویا کول مین نے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔ بہترین فارن لینگویج فلم کا ایوارڈ ‘روما’ نے جیتا، بہترین دستاویزی فلم ‘فری سولو’ قرارپائی جبکہ بہترین اینی میٹڈ فلم کا خطاب “اسپائی ڈرمین ان ٹودی اسپائیڈرورس”کے نام رہا۔  بہترین معاون اداکارہ” ریجیناکنگ” جبکہ بہترین معاون اداکار”ماہرشالا علی” قرارپائے۔

تقریب کے سب سے جذباتی لمحات دیکھنے میں آئے جب گلوکارہ “لیڈی گاگا” کو انکی ڈیبیو فلم “اے اسٹار از بورن” کے گانے” شیلو”پر  بیسٹ اُورجنل سانگ کا ایوارڈ ملا۔

اس سال سب سے زیادہ ایوارڈزجیتے والی فلمیں بوہیمیئن ریپسوڈی، روما، بلیک پینتھراورگرین بُک رہیں۔ ہرسال کی طرح  تقریب میں گذشتہ سال بچھڑ جانے والے اداکاروں اورفلم سازوں کوبھی یاد کیا گیا۔

ٹچ اسکرین کے خاتمے کا آغاز کرنے والا منفرد اسمارٹ فون

جنوبی کورین کمپنی ایل جی نے اپنا پہلا ایسا اسمارٹ فون متعارف کرادیا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ٹچ اسکرین کی ضرورت ختم کردے گا۔

بارسلونا میں جاری موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر ایل جی نے اپنا نیا فلیگ شپ فون ایل جی جی 8 تھن کیو متعارف کرایا۔

یہ فون سام سنگ کے گلیکسی ایس 10 کے مقابلے کے لیے تیار کیا گیا ہے ، مگر اس میں بیشتر فیچر گزشتہ سال کے جی 7 جیسے ہی ہیں مگر کچھ نئی چیزوں کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔

سب سے پہلے تو ایل جی نے ڈیوائس کے فرنٹ کیمرے کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے اسے زی کیمرا کا نام دیا ہے جو کہ ڈیوائس کے استعمال کے حوالے سے بڑی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

اس 8 میگا پکسل کیمرے میں ایک آئی آر سنسر اور ٹرانسمیٹر موجود ہے جو کہ تھری ڈی میپنگ اور موشن کیپشنگ کا کام کرتے ہیں، جس کی بدولت جی 8 تھری ڈی میپنگ کو فیس ان لاک کے لیے استعمال کرسکتا ہے بالکل ایپل کے آئی فون کے فیس آئی ڈی فیچر کی طرح۔

گزشتہ سال کے جی 7 میں ٹو ڈی فیچر تھا تو جی 8 میں فیس ان لاک پہلے سے زیادہ محفوظ اور کم روشنی میں بھی کام کرتا ہے۔

اور ہاں یہ دنیا کا پہلا فون ہے جس میں ہاتھ کی رگوں کو اسکین کرکے بھی ڈیوائس کو ان لاک کیا جاسکتا ہے اور ایل جی نے اسے ہینڈ آئی ڈی کا نام دیا ہے۔

کمپنی کے مطابق فون کا آئی آر سنسر خون میں موجود ہیموگلوبن کی معلومات اکھٹی کرتا ہے اور ہاتھ کے اندر موجود رگوں کی ایک منفرد تصویر بنالیتا ہے اور جب صارف اپنا ہاتھ کیمرے کے اوپر سے گزارتا ہے تو اسکرین کو چھوئے بغیر فون کو ان لاک کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔

فوٹو بشکریہ سی نیٹ ڈاٹ کام
فوٹو بشکریہ سی نیٹ ڈاٹ کام

ہینڈ آئی ڈی سے ایک اور فیچر ائیرموشن بھی بنتا ہے جس میں فون کا فرنٹ کیمرا ہاتھ کی حرکات کو ٹریک اور پڑھ کر فون ٹچ کیے بغیر استعمال کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جیسے فرنٹ کیمرے کے سامنے انگلیوں اور انگوٹھے کو چٹکی کی طرح بناکر آپ دائیں اور بائیں جانب سوائپ کرکے مخصوص ایپس اوپن کرسکتے ہیں، میڈیا پلے یا روک سکتے ہیں جبکہ والیوم بھی ایڈجسٹ کرسکتے ہیں۔

ویسے جی 8 میں ہینڈ آئی ڈی فیچر فیس ان لاک یا فنگرپرنٹ اسکینر جیتا تیز نہیں مگر یہ خیال کافی انوکھا ہے، خاص طور پر ان حالات میں جب فون آپ سے کچھ دور ہو۔

کمپنی کا خیال ہے کہ یہ فیچر کام کرگیا تو مستقبل میں ایسے فونز تیار ہوں گے جن کی اسکرین کو چھوئے بغیر ہی کچھ دور سے صارف اپنی پسند کی ایپس استعمال کرسکے گا یا اپنے کام کرسکے گا۔

اس سے ہٹ کر یہ 6.1 انچ کا او ایل ای ڈی ڈسپلے سے لیس فون ہے جس میں اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم، اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر، سکس جی بی ریم، 128 جی بی اسٹوریج جس میں ایس ڈی کارڈ سے 2 ٹی بی تک اضافہ کیا جاسکتا ہے اور 3500 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے۔

فون کے بیک پر 12 میگا پکسل (اسٹینڈرڈ) اور 16 میگا پکسل وائیڈ اینگل کیمرے موجود ہیں جو کہ 4 کے ویڈیو ریکارڈ کرسکتے ہیں۔

اسی طرح یہ فون واٹر اور ڈسٹ ریزیزٹنس (آئی پی 68)، وائرلیس چارجنگ اور کوئیک چارج 3.0 سپورٹ بھی رکھتا ہے۔

کمپنی کی جانب سے فی الحال اس کی فروخت کی تاریخ اور قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا مگر اندازہ ہے کہ یہ گزشتہ سال کے جی 7 کی طرح 750 ڈالرز یا اس سے زائد قیمت پر دستیاب ہوگا۔

سینیٹ میں بھارتی الزامات اور مقبوضہ کشمیر میں جارحیت کیخلاف قرارداد منظور

 اسلام آباد: سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور پلوامہ حملے کے بعد بھارتی الزامات کے خلاف قرارداد مذمت متفقہ طور پر منظور کرلی۔ 

سینیٹ اجلاس میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور پلوامہ حملے کے بعد بھارتی الزامات کے خلاف قرارداد پیش کی، قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جب کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ پلوامہ حملے کی تحقیقات کے لیے حکومت پاکستان کے موقف کی حمایت کرتا ہے، مسئلہ کشمیر پر او آئی سی اپنا کردار ادا کرے اور او آئی سی کے اجلاس میں بھارت کو نہ بلایا جائے۔

قطر میں افغانستان امن مذاکرات کا اہم دور، ملا عبدالغنی برادر کی شرکت

دوحہ: افغانستان امن مذاکرات کے اہم دور میں شرکت کے لیے طالبان نمائندے ملا عبدالغنی برادر قطر پہنچ گئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق افغانستان امن مذاکرات میں شرکت کے لیے طالبان نمائندوں کے اہم ترین رکن ملا عبدالغنی برادر دوحہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے ساتھ گزشتہ ماہ طے پائے گئے نکات کا جائزہ لیں گے۔ طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل کا یہ دور 6 روز تک جاری رہے گا۔

طالبان رہنما اکبر آغا نے بی بی سی کو ملا عبد الغنی برادر کے دوحہ پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے افغان امن مذاکرات کے طے پا جانے کی امید کا اظہار کیا ہے۔ ملا عبد الغنی برادر قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ بھی ہیں۔ دیگر طالبان رہنماؤں کی بھی جلد قطر پہنچنے کی امید ہے۔

فریقین کے درمیان مذاکرات کا آخری دور گزشتہ ماہ ہی ہوا تھا جس میں دونوں جانب سے خاطر خواہ پیشرفت کا عندیہ دیا گیا تھا تاہم امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کچھ معاملات کے حل طلب ہونے کا کہہ کر حتمی معاہدے طے پانے کے لیے ایک اور مذاکراتی دور کا اشارہ دیا تھا۔

گزشتہ ماہ ہونے والے مذاکرات میں غیر ملکی فوج کے افغانستان سے 18 ماہ کے اندر انخلاء، طالبان رہنماؤن کو بلیک لسٹ سے نکالنے، سفری پابندیاں ختم کرنے اور قیدیوں کے تبادلے کے بدلے میں طالبان کی افغانستان میں داعش یا القاعدہ کو پناہ نہ دینے کی ضمانت دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

Google Analytics Alternative