Home » 2019 » February (page 3)

Monthly Archives: February 2019

پاکستان کی فضائی حدود کمرشل پروازوں کیلئے بند، جزوی آپریشن جاری

کراچی، اسلام آباد،دبئی پاک بھارت کشیدگی ملک کی فضائی حدود کمرشل پروازوں کیلئے بند کر دیا گیا تاہم جزوی آپریشن جاری ہے، اقدام کے بعدچین کے گوانگزو ایئرپورٹ سے آنے والی پرواز کو واپس بھیج دیاگیا۔ جبکہ دبئی اور ابوظہبی سے پاکستان، بھارت، افغانستان جانے والی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ ادھر بھارت نے بھی اپنے 9؍ ایئرپورٹس بند کر دیئے تاہم انٹر نیشنل آپریشن جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے کہا ہےکہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے باعث پاکستان کی بھر سے فضائی آپریشن آج جمعرات کی رات 12 بجے تک معطل رہیگا۔ لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے منیجر کے مطابق چین کے گوانگزو ایئرپورٹ سے آنے والی پرواز کو واپس بھجوادیا گیا جبکہ اندرون و بیرون ممالک جانے اور آنے والی پروازیں بھی روکدی گئی ہیں۔ایل او سی پر کشیدگی کے بعد نیو اسلام آباد ایئرپورٹ، پشاور، ملتان، فیصل آباد اور سیالکوٹ کے ہوائی اڈوں پر

فضائی آپریشن معطل کردیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ بھارت کی جانب سے بدھ کو دوسرے روز ہونے والی مسلسل فضائی جارحیت کے بعد پاکستان نے کسی بھی قسم کے نقصان سے بچنے کیلئے پاکستان کی فضائی حدود سے ملکی اور غیر ملکی پروازوں کی آمد و رفت معطل کردی ہے ۔ بدھ کو عائد کی جانے والی اس پابندی کے بعد بھارتی فضائی کمپنی جیٹ ائر کی پرواز کو پاکستان سے گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی جسکے بعد جیٹ ائر کی پرواز دوبارہ بھارت کو لوٹ گئی ۔ تاہم بھارت سے ہی اڑان بھرنے والی برٹش ائر ویز کی پرواز کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دیدی گئی۔

بھارت کو مؤثر جواب دیا ہے، پاکستانی طیارے نے ایل او سی کی خلاف ورزی نہیں کی، آرمی چیف

اسلام آباد  چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نےکہا ہے کہ ہم نے بھارت کو مؤثر جواب دیا ہے تاہم بھارت کی جانب سے مزید حرکت کا خدشہ موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی پاکستانی طیارے نے ایل او سی کی خلاف ورزی نہیں کی۔آرمی چیف نے کہا کہ عالمی طاقتوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور وہ اپنا کردار ادا کررہی ہیں، عالمی طاقتوں کی کوشش ہے کہ معاملات طے پا جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمانی لیڈروں کو ان کیمرہ بریفنگ میںدیتے ہوئے کیا۔ جبکہ بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ سب کا مورال بلند ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ مودی ہوش کے ناخن لے، افواج پاکستان اور عوام پوری طرح تیار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی پارلیمانی قیادت نے افواج پاکستان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وطن عزیز کے دفاع کیلئے اختیار کی گئی حکمت عملی کو سراہا ہے۔ پارلیمنٹ ہائو س میں بد ھ کی شام وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر

میجر جنرل آصف غفور نے پارلیمانی رہنمائوں کو ان کیمرہ بریفنگ دی۔ پارلیمانی قیادت کو بھارتی جارحیت اور پاکستان کی جوابی کارروائی کے حوالے سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ،چیئرمین سینیٹ، صادق سنجرانی، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، مسلم لیگ (ن) کے سربراہ شہباز شریف، سینیٹ میں قائدایوان شبلی فراز، سینیٹر راجہ ظفر الحق، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، سینیٹر مشاہد اللہ، مرتضیٰ جاوید عباسی اور مریم اورنگزیب،پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر مملکت آصف علی زرداری، ڈپٹی چیئر مین سینیٹ سلیم مانڈی والا، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، سید خورشید شاہ، نوید قمر، شیری رحمٰن اور رضا ربانی،ایم ایم اے کے مولانا عبدالغفور حیدری،سینیٹر مولانا عطاالرحمٰن اور مولانا واسع، سینیٹر سراج الحق، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، اقبال محمد علی، امین الحق، وسیم اختر، سینیٹر ستارہ ایاز، عثمان کاکڑ اور دیگر جماعتوں کے پارلیمانی نمائندوں نے شرکت کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سفارتی محاذ پر کئے گئے۔ اقدامات پر بریف کیا اور مختلف مماملک سے کئے گئے رابطوں کی تفصیل بتائی۔ انہوں نے مختلف ممالک سے رابطوں کے دوران اختیار کی گئی حکمت عملی پر بھی پارلیمانی قیادت کو اعتماد میں لیا ،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے فوج کے نقطہ نظر کی ترجمانی کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کیخلاف اٹھائے گئے اقدامات اور حکمت عملی کے بارے میں بریفنگ دی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارلیمانی قیادت کو پاکستان کی دفاعی صورتحال، جارحیت کو روکنے کی صلاحیت اور جارحیت کیخلاف اٹھائے گئے حالیہ اقدامات سے آگاہ کیا۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے پاکستان کی مسلح افواج کو وطن عزیز کے دفاع کیلئے میسر سہولتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا ۔

فضائی حدودکی خلاف ورز ی،پاکستان نے دو بھارتی طیارے مار گرائے

راولپنڈی پاکستان کا بھارت کو کرارا جواب ‘پاک فضائیہ نے بدھ کے روز لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فضائی حدودکی خلاف ورز ی کرنے والے دو بھارتی طیارے مار گرائے‘ایک طیارہ آزاد کشمیر کے اندر جبکہ دوسرا مقبوضہ کشمیر میں گرا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے دو بھارتی جنگی جہاز مار گرانے اورایک بھارتی پائلٹ کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فضائیہ نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے بھارت کے4 مقامات پر 6 اسٹرائیکس کیں، پائلٹس نے فوجی اہداف اور سپلائی ڈپوز کونشانہ بنا کر لاک کر دیا اور پھر محفوظ فاصلے اور کھلی جگہ پر اسٹرائیک کی، پاک فضائیہ اگر لاک کیے گئے اہداف کو نشانہ بناتی تو جانی نقصانات ہوتے لیکن ایک مہذب اور پیشہ وارانہ فوج ہونے کے ناطے پاک فضائیہ نے اہداف کا نشانہ بنانے کے باوجود تباہ نہیں کیا‘ پاکستان پرامن ملک ہے لیکن بھارت کو جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ،پورے آپریشن کے دوران پاک فضائیہ نے ایف 16طیارے استعمال ہی نہیں کیے تو بھارت کی جانب سے ایف سولہ طیارہ مار

گرانے کا دعوی کیسے درست ہوسکتا ہے ‘پاکستان کی افواج کے پاس صلاحیت، طاقت اور عوام کا ساتھ ہر قسم کی چیز موجود ہے، ہم ذمہ دار رہنا چاہتے ہیں اور جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے‘جنگ مسئلوں کا حل نہیں‘ذمہ دار ریاست ہیں‘امن چاہتے ہیں‘ بھارت ہماری پیشکش پر ٹھنڈے دل سے غورکرے ۔ منگل کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صبح سے لائن آف کنٹرول پر کچھ سرگرمی چل رہی ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے پاک فضائیہ نے اپنے ٹارگٹ لینے سے پہلے فیصلہ کیا کہ کہ کوئی ملٹری ہدف نہیں لیا جائے گا‘ دوسرا فیصلہ کیا کہ ٹارگٹ میں کسی انسانی زندگی کا نقصان نہ ہو، ہمارے اس فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے پاس جوابی صلاحیت موجود ہے لیکن کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جو ہمیں غیر ذمہ دار ثابت کرے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ نے بھمبر گلی، کے جی ٹو اور ناریان کے علاقے میں ڈپوز پر ٹارگٹ لاک کیا اور حفاظتی فاصلہ رکھتے ہوئے ہدف کو نشانہ بنا تے ہوئے مجموعی طور پر 6اسٹرائیکس کی گئیں ، جس کا مقصد یہ تھا کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن اس خطے کے امن کو خراب کرنا نہیں چاہتے‘ ہم ذمہ دار رہنا چاہتے ہیں، کشیدگی نہیں چاہتے ، ہم جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے‘انہوں نے بتایا کہ جب پاک فضائیہ نے ہدف لے لیے اس کے بعد بھارتی فضائیہ کے 2 جہاز ایک بار پھر ایل او سی کی خلاف ورزی کرکے ہماری طرف آئے‘ہماری فضائیہ تیار تھی جس کے نتیجے میں دونوں بھارتی جہاز گرے جس میں سے ایک جہاز ہماری اور دوسرا ان کی طرف گرا‘اس کے علاوہ بھی ایک جہاز کے گرنے کی اطلاع ہے لیکن اس کے ساتھ ہماری انگیجمنٹ نہیں ہوئی ۔ ہم ذمہ دار ریاست ہیں اور امن چاہتے ہیں، ہم نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور اپنے ٹارگٹ کو پورا کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ ہم سب کچھ کرسکتے ہیں لیکن خطے کے امن کی وجہ سے نہیں کرنا چاہتے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے پاس صلاحیت ہے لیکن بھارت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جنگ صرف پالیسیوں کی ناکامی ہے، ہم اب بھی بڑھاوا نہیں دینا چاہتے، ہم امن کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں، اگر آپ کہتے ہیں کہ اپنے لوگوں کو تعلیم، صحت اور روزگار دینے کی ضرورت ہے تو پھر بات چیت کریں جنگ مسئلوں کا حل نہیں‘ بھارت کو چاہیے کہ وہ ہماری پیشکش پر ٹھنڈے دل سے غور کرے اور دیکھے ہم کہاں جانا چاہتے ہیں۔ہم نے پیغام دیا ہے کہ صلاحیت ہونے کے باوجود ہم امن کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں، اگر ہم پر جارحیت مسلط کی گئی تو ہم جواب دیں گے۔علاوہ ازیں میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان کی زیر حراست صرف ایک بھارتی پائلٹ ہے جس کا نام ابھے نندن ہے۔ بھارتی ونگ کمانڈر ابھے نندن کے ساتھ ملٹری روایات اور اخلاقی اقدار کے تحت سلوک کیا جا رہا ہے۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس، غیرمعمولی فیصلے ، جنرل باجوہ کا حکومتی و اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ سے تبادلہ خیال

اسلام آباد (آئی ا ین پی ) وزیراعظم عمران خان نے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی اجلاس میں ایک بار پھر آرمڈ فورسز کے فوری ایکشن کی تعریف کرتے ہوئے حالات مزید کشیدہ ہونے پر اظہارتشویش کیا ہے، طویل اجلاس میں بھارت کودراندازی کا جواب دینے کیلئے اہم اور غیر معمولی فیصلے کئے گئے، ان فیصلوں پر عملدرآمد سے پہلے وزیراعظم نے قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کمانڈاتھارٹی کا اجلاس وزیراعظم آفس میں ہوا، اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور دیگرحکام شریک ہوئے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خزانہ اسد عمر اور دفاعی پیداوار کے حکام بھی موجودتھے۔اجلاس میں کمانڈ اتھارٹی کے ممبر وزرا، ڈی جی آئی ایس آئی میجر جنرل آصف غفور ، ڈی جی ایس پی ڈی بھی شریک تھے۔اجلاس میں ملکی سلامتی اور جوہری صلاحیت سے متعلق امور

تبادلہ خیال کیا گیا اور بھارت کی جانب سے فضائی دراندازی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر زیر غور آئی۔نیشنل کمانڈاتھارٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کوبروقت ری ایکشن پربریفنگ دی گئی اور بھارتی طیاروں کی دراندازی کی متعدد کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے ایک بار پھر آرمڈ فورسز کے فوری ایکشن کی تعریف کی اور حالات مزید کشیدہ ہونے پر اظہار تشویش کیا۔ اجلاس میں بھارت کودراندازی کا جواب دینے کے لیے اہم فیصلے کئے گئے لیکن ان فیصلوں پر عملدرآمد سے پہلے وزیراعظم نے قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔

مودی فوج کی قربانیوں کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں، بھارتی اپوزیشن جماعتیں

کراچی (رفیق مانگٹ)ہندوستان میں حکومت اور اپوزیشن کے ایک دوسرے پر سنگین الزامات‘بھارت کی 21اپوزیشن جماعتوں نے مودی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فوج کی قربانیوں کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں جبکہ حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کے موقف کو پاکستان کی حمایت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اوراس کے میڈیا کو خوش کرنے کےلئے ہے ۔ رپورٹ کے مطابق کانگریس کے صدر راہول گاندھی کی قیادت میں بھارت کی21اپوزیشن جماعتوں کا ایک اجلاس پارلیمنٹ میں منعقد ہوا ، اجلاس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں مودی حکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ راہول نے اعلامیہ پڑھتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے اپنے سیاسی مقاصد کےلئے فوج کی قربانیوں کو بدترین طریقے سے استعمال کیا۔ علامیے میں مزید کہا گیا کہ جب پورا بھارت لاپتہ پائلٹ کے بارے فکر مند ہے، اس وقت مودی کو سیاست کی پڑی ہے۔اجلاس میں پارٹیوں نے مودی اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ پر تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لوک سبھا

کے انتخابات کے لئے بھارتی فضائیہ کی کارروائی کو اپنا انتخابی بیانیہ بنانے کےلئے استعمال کیا، مودی اور امیت شاہ نے اپنے تنگ سیاسی نظریات کی خاطر بے شرمی سے مسلح افواج کی قربانیوں کو استعمال کیا۔ اپوزیشن نے بالاکوٹ واقعے پر انہیں اعتماد میں نہ لینے پر مودی پر تنقید کی اور کہا کہ مودی کل جماعتی اجلاس بلانے میں ناکام رہے، جو کہ ایک روایت ہے۔اپوزیشن نے بھارتی پائلٹ کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔مرکزی وزیر پراکاش جاویدکر نے اپوزیشن جماعتوں کے اعلامیے پر کہا کہ مودی اور اس کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا پاکستان کے ہاتھوں کھیلنے کے مترادف ہے۔

جنگ ہوئی تو معاملہ میرے اور مودی کے ہاتھ میں نہیں رہے گا، عمران خان

اسلام آباد(ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کرنے چاہئیں‘ موجودہ صورتحال کا تقاضہ ہے کہ بھارت عقل و حکمت سے کام لے کیونکہ دونوں ممالک جس طرح کے ہتھیاروں سے لیس ہیں، کسی غلط اندازے کے متحمل نہیں ہو سکتے، جنگ ہوئی تو معاملہ میرے یا مودی کے ہاتھ میں نہیں رہے گا‘کشیدگی میں اضافہ ہوا تو صورتحال قابو میں نہیں رہے گی، بھارت کو بتا دیا کہ ہم بھی کارروائی کرسکتےہیں، وہ اِدھر آ کر کارروائی کر سکتے ہیں تو ہم بھی اُدھر جاکر کر سکتے ہیں‘جنگ سے متعلق اندازے کبھی درست نہیں نکلے ‘دہشت گردی سمیت تمام معاملات پر بات چیت کرنے کو تیارہیں۔بدھ کو سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے گزشتہ روز سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ پلوامہ واقعہ میں ہلاکتیں ہوئیں اور مجھے پتہ ہے کہ ان کے لواحقین کو کیسی تکلیف پہنچی ہوگی‘ اس لئے ہم نے ہندوستان کو پیشکش کی کہ وہ کسی طرح کی بھی تحقیقات

چاہتے ہیں تو پاکستان پوری طرح تیار ہے‘یہ پاکستان کے مفادمیں نہیں کہ ہماری زمین دہشت گردی کے لئے استعمال کی جائے یا کسی اور ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو‘ہم تعاون کے لئے تیار تھے لیکن مجھے خدشہ تھا کہ اس کے باوجود ہندوستان کوئی ایکشن لے گا اور اسی لئے ہم نے کہا کہ جواب دینا ہماری مجبوری ہوگی کیونکہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس کی سرحدوںکے اندر کارروائی کرے اور خود ہی جج بن کر فیصلہ کرے‘بھارت میں الیکشن کی وجہ سے مجھے خدشہ تھا کہ بھارت کارروائی کر سکتا ہے، لہذا میں نے بھارت سے کہا کہ ہمیں جوابی کاروائی کرنا پڑے گی، 26 فروری کی صبح بھارت کی طرف سے جو کارروائی کی گئی اس کے بعد میری آرمی چیف اور ایئر چیف سے مشاورت ہوئی‘ ہم نے اس لئے فوری ایکشن نہیں لیا کیونکہ ہمیں پوری طرح پتہ نہیں تھا کہ اس کارروائی سے پاکستان میں کس طرح کا نقصان ہوا ہے، اگر ہم ایکشن لیتے اور ہندوستان کا جانی نقصان کر دیتے جبکہ ہماری طرف کوئی نقصان نہ ہوا ہوتا‘اس لئے ہم نے فوری کارروائی نہیں کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقصد بھارت کو یہ بتانا تھا کہ ہم کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘بھارت نے پاکستان کی سرحد کی خلاف ورزی کی تو ہم نے اس کا جواب دیا اور اس کے طیارے مار گرائے ‘ان کا پائلٹ ہمارے پاس ہے۔ انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہت ضروری ہے کہ ہم اس موقع پر عقل اور حکمت کو بروئے کار لائیں، دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں کسی نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ جنگ شروع کر رہے تو یہ کہاں تک جائے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جو چند ہفتوں اور مہینوں میں ختم ہونے کا اندازہ تھا، وہ برسوں تک چلیں اور اس میں بہت تباہی ہوئی۔ اسی طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا نے یہ نہیں سوچا ہو گا کہ وہ سترہ سال تک افغانستان میں پھنسے رہیں گے، اسی طرح ویتنام میں ہوا کیونکہ جنگوں میں غلط اندازے لگائے جاتے ہیں۔ انہوں نے بھارت سے سوال کیا کہ جو ہتھیار ان کے پاس ہیں اور ہمارے پاس ہیں، کیا ہم کسی غلط اندازے کے متحمل ہو سکتے ہیں، کشیدگی میں اضافہ ہو گا تو صورتحال میرے یا نریندر مودی کے قابو میں نہیں رہے گی۔

دوطیارے گرنے، پائلٹ کی گرفتاری، بھارتی پریشان، جنگوں کے متعلق اندازے کبھی درست نہیں نکلے

کراچی(رفیق مانگٹ)بالاکوٹ میں سرجیکل ٹو کے دعویٰ کے بعد جشن منانے والے بھارتی دو طیارے گرنے کے بعد پریشانی میں گھرگئے‘انڈیا میں سوگ کی کیفیت طاری ہے ‘ کل تک مبارک باد دینے والے آج اپنی حکومت کو شدیدتنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں‘ مودی بھی خاموش ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پربھارت کے کھوکھلے پن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ پائلٹ کی زخمی حالت میں ویڈیوز پر بھارت واویلہ کررہا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونش کی خلاف ورزی کی ہے ۔گزشتہ روز بھارتی عوام اپنی فضائیہ کی پاکستان میں در اندازی کو سرجیکل ٹو کا نام دے کر شاندار جشن منا رہی تھی، مودی نے عوامی جلسے میں کہا تھا کہ پورے ملک میں آج خوشی کا ماحول ہے۔ میں ملک کو بھروسہ دلانا چاہتا ہوں کہ بھارت محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ ہم نہ اٹکیں گے، نہ رکیں گے، ہم آگے بڑھتے رہیں گے۔ اب پاکستان کی طرف سے دو بھارتی طیاروں کو مارگرائے جانے اور پائلٹ کی زندہ گرفتار ی پر سوگ کی کیفیت ہے۔ابھی تک مودی کی طرف سے

کوئی بیان نہیں آیا۔بی بی سی نے تصدیق کی کہ پاکستان کے اس دعویٰ کے بعد بھار ت میں جوش و خروش کی جگہ اب فکر مندی نے لے لی ہے۔ بھارتی فضائیہ کے حوالے سے بعض چینل یہ بتارہے تھے کہ ان کا کوئی بھی طیارہ تباہ نہیں ہوا اور سارے پائلٹ صحیح و سلامت ہیں لیکن پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی ویڈیو جاری کیے جانے کے بعد بالاکوٹ کے حملے کے بعد عوام میں جو جوش و خروش نظر آرہا تھا وہ اب فکر مندی میں بدل گیا ہے۔بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستانی ایف سولہ طیارہ مار گرایا ہے ،ٹائمز آف انڈیا نے لکھا کہ راجوڑی سیکٹر میںبھارتی فضائیہ نے پاکستانی ایف سولہ مارگرایالیکن کوئی تفصیل نہیں دی۔بھارتی چینل ٹائمز ناؤ کے مطابق امریکا نے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کو جارحانہ کارروائیوں میں استعمال کی اجازت نہیں دی اور کہا کہ امریکا نے پاکستان کو بتادیا کہ وہ ان کی اجازت کے بغیر ایف سولہ طیارے استعمال نہیں کرسکتے۔امریکی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کیلئے اپنی فضائیہ کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ جسے ناکام بنادیا گیا۔

مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی بدترین

صورتحالپلوامہ واقعے کے بعدمقبوضہ وادی میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت’بد سے بدتر‘ میں بدل گئی ہے۔ بھارت میں کشمیریوں پر عرصہ حیات مزید تنگ کر دیا یہاں تک کہ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیراوربھارت کے دیگرعلاقوں میں کشمیریوں کی حفاظت یقینی بنائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بھارتی سربراہ آکارپٹیل کا کہنا ہے کہ علاقائی شناخت کی بناپرکشمیریوں کوچن کرنشانہ بنایاجارہاہے۔ ظاہراً حب الوطنی کی آڑ میں انتہا پسند ہندو ہجوم کشمیریوں پرحملے کر رہے ہیں۔ گھروں،دکانوں اور ہوٹلوں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں 3 کشمیری نوجوان اور ایک صحافی پر پونے میں حملہ کیا گیا۔اس واقعے کے بعد 700 سے زائد کشمیری طلبا، مزدور اور تاجر بھارت کے مختلف علاقوں سے حملوں کے خوف سے واپس کشمیر منتقل ہوچکے ہیں جو بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال کا بھی شکار ہوگئے ہیں۔مقبوضہ کشمیرمیں ہندو انتہا پسندوں نے جموں کے قصبے پونچھ میں مسلمانوں کی کروڑوں روپے مالیت کی املاک کی توڑ پھوڑ کی اور لوٹ مار کی۔قصبے میں یہ واقعات پلوامہ حملے کے بعد 15فروری کو رونما ہوئے تھے تاہم علاقے میں انٹرنیٹ کی معطلی کی وجہ سے انکے بارے میں اطلاعات نہیں مل سکی۔ہندو بلوائیوں نے مسلمانوں کی املاک کو نذر آتش کیا اور لوٹ مار کی۔ بعض بلوائیوں کی املاک کو تباہ کرتے ہوئے مقامی افراد نے ویڈیو بھی بنائی ہے تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پولیس نے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے اور کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کی 15ویں کور کے کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل کے ایس ڈھلوں نے کشمیری ماؤں کو دھمکی دی کہ اگر اْن کے بچوں نے بھارتی فوج کے آگے سرنڈر نہ کیا تو انہیں مار دیا جائے گا۔اْن کا کہنا تھا کہ ’کشمیری مائیں اپنے بچوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں کیونکہ جو لوگ بھارتی فوج کے آگے کھڑے ہوں گے اْن کا انجام موت ہوگا‘۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ پلوامہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو آپریشن کر کے مارا جاچکا ہے۔بھارتی فوجی کمانڈر نے مارے جانے والے نوجوانوں کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم دعویٰ کیا کہ مذکورہ افراد فوجی قافلے پر حملے میں ملوث یا اْس کی حکمت عملی میں ملوث تھے۔ کشمیر میں 14 فروری جیسا حملہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اب تک کی تحقیقات میں کئی اہم باتیں سامنے آئیں جو فی الحال شیئر نہیں کی جاسکتیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اپنے حکم میں کشمیریوں کے تحفظ کی ہدایت کی تھی جو 14 فروری کو پلوامہ میں بھارتی فوج پر ہونے والے حملے کے بعد مختلف علاقوں میں تشدد کا شکار ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بھارت کی 11 ریاستوں کے چیف سیکرٹریز ا ور پولیس سربراہان کو حکم دیا ہے کہ کشمیریوں پر حملوں کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ کشمیریوں کے خلاف سوشل بائیکاٹ، توہین اور خطرے پر فوری ایکشن لیا جائے۔پلوامہ حملہ کے بعد بھارتی حکومت کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت میں شامل رہنما یاسین ملک کو گزشتہ روز سری نگر میں ان کی رہائشگاہ سے گرفتار کیا گیا جب کہ قابض فورسز نے 200 سے زائد کشمیریوں کو بھی گرفتار کرلیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت نے مزید18حریت پسند رہنماؤں سمیت 155سیاسی شخصیات کی سرکاری سکیورٹی واپس لینے کا اعلان کیا ہے ۔بھارتی انتظامیہ نے میر واعظ عمر فاروق سمیت دیگر 6 رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی تھی جس کے بعد کشمیری نوجوانوں نے میر واعظ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ بھارتی فورسز کے محاصروں اور ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کے پیش نظر وادی میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ضلع پلوامہ میں اب تک کرفیو کا سماں ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ گزشتہ روزضلع کولگام میں تین کشمیری نوجوانوں کو محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کردیا۔ بھارتی سپریم کورٹ میں ارٹیکل 35 اے کی سماعت کے موقع پر کشمیری عوام کی جانب سے مکمل شٹر ڈا ؤن ہڑتال کی گئی جس سے کاروبار زندگی مفلوج ہوگیا ۔ قابض فورسز نے بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ شروع کردی۔ حالانکہ سری نگر میں دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ ہیں لیکن آرٹیکل 35 اے کی متوقع سماعت کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت کی احتجاج کی اپیل سے بھارت بدحواس ہوگیا اور مزید 10 ہزار فوجی وادی میں بھیج دئیے۔شق کے تحت صرف جموں وکشمیر میں پیداہونے والا ہی وہاں کا شہری ہو سکتا ہے اور جائیداد و زمین کی خرید و فروخت کر سکتا ہے۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا۔ مودی حکومت اس شق کو ختم کر کے انتہا پسند ہندوؤں کو وہاں بسانا چاہتی ہے تاکہ جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت اقلیت میں بدل جائے۔ حریت قیادت کا کہنا ہے کہ اس قانون میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑکسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائیگی کیونکہ یہ قانون ہم سب کیلئے بحیثیت قوم کے بقاء کی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے جے پور جیل میں پاکستانی قیدی کی دوسرے قیدیوں کے ہاتھوں ہوئی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا پلوامہ واقعہ کے بعد پورے بھارت میں مسلمانوں اور خاص کر کشمیریوں کے خلاف نفرت اور غصے کی لہر نے ہر شہر، ہر ریاست اور ہر ادارے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی اداروں، عالمی ریڈ کراس اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے اپیل کی ہمارے قیدیوں کی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ آئندہ صورتحال پیش نہ آئے۔

Google Analytics Alternative