Home » 2019 » February (page 30)

Monthly Archives: February 2019

ہلدی قلب کے لیے بھی انتہائی مفید ثابت

لندن: آئے دن ہلدی کے بے تحاشہ طبی فوائد سامنے آئے رہتے ہیں اور اب ماہرین نے کہا ہے کہ ہلدی کا باقاعدہ استعمال خون کے گاڑھے پن اور انہیں لوتھڑا بننے کے عمل کو بھی روکتا ہے۔  

اب معلوم ہوا ہے کہ ہلدی ایک طرح کے پلازما پروٹین کو کم کرتی ہے جسے فائبرونجین کہا جاتا ہے۔ یہ بھاری بھرکم پروٹین خون کو گاڑھا کرنے اوران کے لوتھڑے بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر خون میں اس کی غیرمعمولی مقدار بڑھ جائے تو دل کے امراض اور فالج جیسی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔ اگر فائبرونجین کی مقدار بڑھ جائے تو اس سے سرطان، ذیابیطس اور بلڈ پریشر جیسے امراض بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔

امریکا کے پروفیسر وارڈ ڈین اور لندن کے بعض ماہرین نے 3000 ایسے مریضوں کا مطالعہ کیا جن پر دل کی تکلیف یا انجائنا کا اثر ہوچکا تھا۔ ان کے مطالعے سے ثابت ہوا کہ خون میں  فائبرونجین کی بلند مقدار امراضِ قلب کی وجہ ثابت ہوئی۔ ماہرین نے یہاں تک کہا کہ بعض مریضوں میں کولیسٹرول کی بڑھی ہوئی مقدار کے باوجود اگر فائبرونجین کی مقدار کم تھی تو ان میں دل کے امراض کی شرح کم تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ فائبرونجین امراضِ قلب کی بڑی وجہ ہوسکتا ہے۔

ہلدی اور فائبرونجین

ماہرین نے زائد فائبرونجین والے افراد کو صرف 15 روز تک 20 ملی گرام روزانہ سرکیومن دیا جو ہلدی کا ایک طاقتور جزو ہوتا ہے۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ اس سے ان کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں ہوا اور اسی بنا پر ماہرین روزانہ ہلدی کی کچھ نہ کچھ مقدار تجویز کرتے ہیں۔ سرکیومن کھانے والے افراد میں فائبرونجین کی مقدار تیزی سے کم ہوئی اور بعد کے ٹیسٹ میں ان کے خون میں کئی طرح کے ایسے بایومارکرز بھی کم ہوئے جو مختلف امراض کی وجہ بنتے ہیں۔

سام سنگ کا پہلا فولڈ ایبل اور مہنگا ترین اسمارٹ فون گلیکسی فولڈ

سام سنگ نے اپنا پہلا فولڈ ایبل اسمارٹ فون گلیکسی فولڈ باضابطہ طور پر متعارف کرادیا ہے۔

جنوبی کورین کمپنی نے گزشتہ سال نومبر میں پروٹوٹائپ فولڈ ایبل فون متعارف کرایا تھا۔

بدھ کی شب سان فرانسسکو میں ایک ایونٹ کے دوران سام سنگ کی جانب سے گلیکسی فولڈ کو متعارف کرایا گیا۔

یہ فون انفٹنی فلیکس اسکرین کے ساتھ ہے اور بند ہونے پر یا فون کی شکل میں اس کا ڈسپلے 4.6 انچ جبکہ کھلنے پر 7.3 انچ کا ہوجاتا ہے۔

سام سنگ کے صدر گلیکسی فولڈ کو دکھا رہے ہیں — اے پی فوٹو
سام سنگ کے صدر گلیکسی فولڈ کو دکھا رہے ہیں — اے پی فوٹو

گوگل کی جانب سے ایپ کونٹینیٹی فیچر متعارف کرانے کی وجہ سے گلیکسی فولڈ میں دونوں اسکرین پر سوئچ ہونے کے دوران ایک ہی ایپ کا استعمال جاری رکھنا ممکن ہے۔

فولڈایبل موڈ میں اس کی فرنٹ اسکرین کسی عام اسمارٹ فون کی طرح کام کرتی ہے تاہم کسی ایپ جیسے گوگل میپس کو اوپن کرنے کے بعد ڈیوائس کو بڑے ڈسپلے پر سوئچ کیا جائے تو سب کچھ کافی بڑا ہوجاتا ہے۔

فوٹو بشکریہ سام سنگ
فوٹو بشکریہ سام سنگ

سام سنگ کے مطابق یہ بڑا ڈسپلے ملٹی ٹاسکنگ کے لیے انتہائی موثر ثابت ہوگا اور صارف بیک وقت 3 ایپس کو استعمال کرسکیں گے۔

کمپنی نے اعلان کیا یہ گلیکسی فولڈ ایل ٹی ای کے ساتھ ساتھ فائیو جی ورژن میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔

کمپنی نے فون کے پراسیسر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا، تاہم اس کا کہنا تھا یہ ایک 7nm سی پی یو ہوگا مگر کمپنی کے مطابق 512 جی بی یو ایف ایس 3.0 اسٹوریج اسپیس دی جائے گی۔

اس کے علاوہ 4380 ایم اے ایچ بیٹری اس ڈیوائس کا حصہ ہوگی۔

پروٹوٹائپ کے مقابلے میں گلیکسی فولڈ زیادہ پتلی ڈیوائس ہے اور فولڈ شکل میں اس کی موٹائی 17 ملی میٹر ہے جبکہ پورا اوپن کرنے پر یہ محض 6.9 ملی میٹر رہ جاتی ہے۔

اس فون میں کمپنی نے 6 کیمرے دیئے ہیں جن میں سے ایک تین کیمروں کا سیٹ اپ 16 میگا پکسل الٹرا وائیڈ شوٹر، دوسرا 12 میگا پکسل ٹیلی فوٹو لین جبکہ تیسرا 12 میگا پکسل ڈوئل پکسل وائیڈ کیمرا آپٹیکل اسٹیبلائزیشن کے ساتھ ہے جس میں 2 آپرچر دیئے گئے ہیں۔

فوٹو بشکریہ سام سنگ
فوٹو بشکریہ سام سنگ

ٹیبلیٹ موڈ پر ڈیوائس استعمال کرنے پر فرنٹ پر ڈوئل سیلفی کیمرا سیٹ اپ موجود ہے جن میں سے ایک 10 میگا پکسل ڈوئل پکسل وائیڈ کیمرا اور دوسرا 8 میگا پکسل آر جی بی ڈیپتھ کیمرا ہے۔

اسی طرح فولڈ موڈ پر بھی ایک 10 میگا پکسل کا ڈوئل پکسل سیلفی کیمرا دیا گیا ہے۔

فوٹو بشکریہ سام سنگ
فوٹو بشکریہ سام سنگ

یہ فون 26 اپریل سے دنیا کے مختلف ممالک میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا اور یہ اس کمپنی کی تاریخ کا مہنگا ترین فون بھی ہے۔

اس کی قیمت 1980 ڈالرز (2 لاکھ 75 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) سے شروع ہوگی، یعنی اس فون کا مہنگا ورژن بھی صارفین کے لیے پیش کیا جائے گا۔

’’ ٹوٹل دھمال‘‘ کے ہدایت کار کی پاکستان سے متعلق چھوٹی سوچ سامنے آگئی

ممبئی: فلم ’’ٹوٹل دھمال‘‘ کے ہدایت کار اندر کمار کا کہنا ہے کہ ہم پاکستانیوں کو ہنستا ہوا نہیں  دیکھنا چاہتے یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنی فلم کو پاکستان میں ریلیز نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے نام نہاد پڑھے لکھے اور روشن خیال افراد بھی پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں جس سے ان کی چھوٹی سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں فلم ’’ٹوٹل دھمال‘‘ کے ہدایت کار اندر کمار نے ایک انٹرویو کے دوران پاکستان سے متعلق اپنی چھوٹی سوچ منظرعام پر لاتے ہوئے کہا ’’ہم پاکستانیوں کو ہنستا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنی کامیڈی فلم ’ٹوٹل دھمال‘ کو پاکستان میں ریلیز نا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ہم صرف اپنے ملک کے لوگوں کو تفریح فراہم کریں گے۔‘‘

اندر کمار نے مزید کہا فلم ’’ٹوٹل دھمال‘‘ کو پاکستان میں ریلیز نا کرنے کا فیصلہ اجے دیوگن کا تھا۔ پلوامہ حملے کے بعد اجے دیوگن سمیت ’’ٹوٹل دھمال‘‘ کی پوری ٹیم فلم پاکستان میں ریلیز نا کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل اجے دیوگن نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر فلم’’ٹوٹل دھمال‘‘ کی ٹیم نے فلم کو پاکستان میں ریلیز نا کرنے کا فیصلہ کیاہے۔

بالی ووڈ ہدایت کار شاید یہ بھول گئے کہ پاکستان بھارتی فلموں کی ایک بڑی مارکیٹ ہے اور یہاں بھارتی فلموں کی نمائش سے بڑی تعداد میں زر مبادلہ بھارت جاتاہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی پروڈیوسرز اورہدایت کاروں کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی فلم کو پاکستان میں بھی ریلیز کیا جائے۔ تاہم اب دیکھتے ہیں کہ یہ تنگ نظر ہدایت کار اور اداکار کب تک اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہیں۔

’بھارت پاکستان کو ورلڈ کپ میں شرکت سے نہیں روک سکتا‘

بھارتی کرکٹ بورڈ کے حکام نے اپنے ہی بورڈ کے منصوبے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ورلڈ کپ میں شرکت پر کسی بھی طرح پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔

پلوامہ حملے کے بعد بھارتی جارحیت رکنے کا نام لے رہی اور اب یہ جارحیت سفارتی سطح سے بڑھ کر کھیل سمیت دیگر شعبوں پر بھی بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔

پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا خواب دیکھنے والے بھارت نے اب کرکٹ کے میدانوں میں بھی اپن

بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے تعینات کی گئی کرکٹ کی انتظامی کمیٹی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیئرمین کو لکھنے جانے والے خط کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس میں ان سے درخواست کی جائے گی کہ آئی سی سی پاکستان کی ورلڈ کپ 2019 میں شرکت پر پابندی عائد کرے۔

جنگی جنون میں مبتلا بھارت کے کرکٹ بورڈ کی کمیٹی کی جانب سے تیار کیے گئے اس خط کے مسودے میں دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر پاکستان کو ورلڈ کپ میں شرکت سے نہ روکا گیا تو بھارت ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا(بی سی سی آئی) کی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین ونود رائے قانونی مشاورت کے بعد اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے کہ اس سلسلے میں آئی سی سی سے رابطہ کیا جائے یا نہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق کمیٹی کے سربراہ کی منظوری کے بعد بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راہول جوہری نے خط کا مسودہ تیار کیا۔

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی فوج پر حملے میں کم از کم 40 فوجی ہلاک ہوگئے تھے، جس کے فوراً بعد ہی بھارت نے اپنی پرانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی تھی۔

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی کسی بھی صورت اس پر فیصلہ نہیں کر سکتا، قوموں کے تنازعات ہوتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فیفا یا اولمپکس جیسے اہم ایونٹس میں شرکت نہ کی جائے۔

’پاکستان کی شرکت پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی‘

البتہ ایک بھارتی آفیشل نے کسی بھی قسم کے خط کی تیاری کے موقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی سی سی آئی یا کمیٹی نے پاکستان کی شرکت پر پابندی کے حوالے سے کوئی خط تیار نہیں کیا اور اگر انہوں نے ایسا کیا بھی ہے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اسے مسترد کر دے گی۔

بی سی سی آئی آفیشل نے کہا کہ آئینی طور پر ایسا ممکن نہیں اور آئی سی سی کوالیفائی کرنے والے تمام اراکین کو اپنے ایونٹس میں شرکت کا اختیار دیتا ہے۔

کھیل کے عالمی ضابطوں اور قوانین پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین نے بھی بھارت کی اس کوشش کو خام خیالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت چاہے کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے، وہ پاکستان کو ایونٹ میں شرکت سے نہیں روک سکتا۔

کھیل کے عالمی منظرنامے خصوصاً کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے مشہور کرکٹ ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ بی سی سی آئی اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کھیل کی گورننگ باڈی سے عالمی ایونٹ میں کسی ملک کی شرکت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرنے کی بات صرف کہنا آسان ہے، ایسے ایونٹ میں کئی ممالک شریک ہوتے ہیں لہٰذا کسی ایک ملک کی ایما پر فیصلے نہیں لیے جا سکتے اور خود کو بے وقوف بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

آئی سی سی کے تمام بورڈ اراکین کی ورکشاپ 24 سے 26 فروری تک شیڈول ہے اور بھارت اگر آئی سی سی کے پاس جانے کافیصلہ کرتا ہے تو ممکنہ طور پر اسی ورکشاپ میں یہ بات رکھی جائے گی البتہ یہاں بھی ان کی ناکامی کا قوی امکان ہے۔

کرکٹ ماہر کا کہنا تھا کہ آئی سی سی اس معاملے پر ووٹنگ کرے گا کیونکہ یہاں بھارت کی مرضی نہیں چلے گی اور اس فیصلے پر تمام اراکین کے متفق ہونے تک بھارت کو کسی بھی قسم کی کامیابی کا خواب نہیں دیکھنا چاہیے۔

واضح رہے کہ رواں سال انگلینڈ میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ 16 جون کو مانچسٹر میں کھیلا جائے گا اور اس میچ کے ٹکٹ پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔

سعودی ولی عہد کا دورہ بھارت؛ مودی سرکار پاکستان کے خلاف حمایت حاصل کرنے میں ناکام

نئی دلی: مودی سرکار دہشت گردی کا راگ الاپتے ہوئے پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ایسا ہی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کے دوران بھی کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس بار بھی منہ کی کھانی پڑی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھارت کے 30 گھنٹے کے مختصر دورے پر گزشتہ روز نئی دہلی پہنچے تھے جہاں وزیراعظم مودی نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں انفراسٹریکچر، سرمایہ کاری، سیاحت، ہاؤسنگ، براڈ کاسٹنگ اور اسٹرٹیجک پارٹنر شپ کونسل کے قیام سے متعلق معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ اس دوران سعودی عرب نے بھارت سے جانے والے عازمین حج کا کوٹہ بڑھا کر دو لاکھ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ولی عہد کا کہنا تھا کہ بھارت سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے تاکہ آنے والی نسل کو خانہ جنگی کے بجائے ایک روشن مستقبل دیا جا سکے۔

India 2

اس موقع پر وزیراعظم مودی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی، بحری دفاع اور سائبر سیکیورٹی کے لیے باہمی تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ معاشی تعاون کو بام عروج پر پہنچانے کے لیے لائحہ عمل طے کیا گیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم کی توقع اور خواہش کے برخلاف ولی عہد محمد بن سلمان نے پلوامہ حملے پر کسی قسم کی گفتگو کی اور نہ ہی حملے کے محرکات پر بے بنیاد بھارتی موقف کی تائید کی جب کہ امریکی صدر کا بیان بھی بھارتی موقف کی نفی کرتا نظر آتا ہے، اس طرح عالمی سطح پر بھارت کے جھوٹے الزامات کو پذیرائی نہیں مل سکی ہے۔

پاک فوج کی اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت

 اسلام آباد: پاک فوج نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ پاک فوج نے جنرل اسد درانی کے خلاف بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سربراہ کے ساتھ مل کر کتاب لکھنے پر انکوائری کی۔

وزارت دفاع کے نمائندے بریگیڈیئر فلک ناز نے انکوائری کی سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے رپورٹ پڑھ کر وزارت دفاع کے نمائندے کو واپس کردی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا انکوائری مکمل ہوگئی ہے؟۔ بریگیڈیئر فلک ناز نے جواب دیا کہ جی انکوائری مکمل ہوگئی ہے اور رپورٹ میں تجاویز درج ہیں۔ رپورٹ کی روشنی میں جنرل اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نہ نکالا جائے۔

اسد درانی کے وکیل عمر فرخ آدم نے کہا کہ کیا اب کتاب لکھنے پر کورٹ مارشل کریں گے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایسی تو کوئی بات رپورٹ میں نہیں لکھی گئی۔

اسد درانی نے کہا کہ کیا میری کتاب قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، اس طرح تو پھر سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے بھی کتاب لکھی ہے، 1993 میں ریٹائر ہوا اب 2018 میں تجزیے کی بنیاد پر کتاب لکھنے میں کیا غلط ہے۔

اسد درانی کے وکیل نے دلائل دیے کہ جنرل مشرف پر غداری کا مقدمہ ہونے کے باوجود سندھ ہائی کورٹ نے ان کا نام ای سی ایل سے نام نکالا، اس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا، اصغر خان کیس میں 153 سیاست دانوِں، سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کے نام بھی شامل ہیں، لیکن ان میں سے کسی کا بھی نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

بھارت نے حملہ کیا تو بھرپور جواب دیں گے، وزیراعظم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دے گا۔

پلوامہ حملے پر قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ چند دن پہلے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں واقعہ ہوا،بھارت نے بغیرسوچے سمجھے پاکستان پر الزام لگادیا، ہم سعودی ولی عہد کے دورے کی تیاری کررہے تھے،  اس لئے اب بھارتی حکومت کو جواب دے رہاہوں۔ بھارت نے شواہد کے بغیر پاکستان پرالزام لگایا اور نہ ہی یہ سوچا گیا کہ اس میں پاکستان کا کیا فائدہ ہے، کوئی احمق ہی ہوگا جو ایسا موقع خود سبوتاژ کرے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں بھارتی حکومت کو پلوامہ واقعے کی تحقیقات کی پیشکش کرتاہوں، بھارت واقعے کا ثبوت دے میں خود ایکشن لوں گا، میں یہ بات واضح طور پر کہتا ہوں یہ نیا پاکستان اور نئی سوچ ہے، ہم استحکام چاہتے ہیں، بھارت میں بھی ایک نئی سوچ آنی چاہیے، بھارت کو اگر ماضی میں ہی پھنسے رہنا ہے تو آگے بڑھنا مشکل ہوگا۔ ہم دہشت گردی پر بھارت سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں،  پاکستان نے  دہشت گردی کی وجہ سے 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھایا ہے۔ 70 ہزار سے زائد لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اگر کسی نے پاکستان کی سرزمین استعمال کی ہے تو وہ پاکستان کا ہی دشمن ہے۔

بھارت کی جانب سے جنگ کی دھمکیوں پر وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن اسے ختم کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اگر بھارت نے کچھ کیا تو پاکستان سوچے گا نہیں بلکہ بھرپور جواب دے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارت کو یہ سوچنا ہوگا کہ کشمیری نوجوانوں میں موت کا خوف نکل گیا ہے ،اس کی کوئی تو وجہ ہے، افغانستان میں 17 سال بعد دنیا یہ تسلیم کرچکی ہے کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہے، افغان مسئلے کی طرح مسئلہ کشمیر مذاکرات اور بات چیت سے حل ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 46 سیکیورٹی اہلکار ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوگئے تھے، بھارت نے واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا۔

کلبھوشن کیس ؛عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے دلائل مکمل

دی ہیگ: عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس کی سماعت کے دوران پاکستانی وکلا نے بھارتی موقف کے جواب میں بھرپور دلائل دیئے ہیں۔

عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کی سماعت دوسرے روز بھی جاری رہی، ایڈہاک جج جسٹس (ر) تصدق جیلانی ناسازی طبع کے باعث عدالت نہیں آئے۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور نے تصدق حسین جیلانی کی علالت کے باعث متبادل ایڈہاک جج کی تقرری کی اپیل کی۔

عالمی عدالت کی جانب سے پاکستان کی اپیل رد کئے جانے کے بعد اٹارنی جنرل انور منصور نے دلائل دینا شروع کئے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے کئی دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی بھارت میں کی جاتی ہے، اسی تناظر میں پاکستان میں بھارت کے ایجنٹ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ عدالت میں دیئے گئے اعترافی بیان اس بات کا ثبوت ہیں کہ کلبھوشن سے کسی دباؤ کے بغیر بیان لیا گیا۔ پاکستان واضح کرنا چاہتا ہے ہم تمام زیرالتوا مسائل کا پرُامن حل چاہتے ہیں۔

پاکستان کے وکیل خاور قریشی نے کہا کہ بھارت جھوٹ کی کمزور دیوار پر بیٹھا ہے، وہ سچائی کا راستہ روکنے کے لیے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے، ایک طرف بھارت نے عالمی عدالت سے رجوع کیا ہے  تو دوسری طرف پاکستان کے سوال کا جواب دینے سےبھارت تحریری انکار کر چکا، بھارت نے کلبھوشن کی شہریت کاہی اعتراف نہیں کیا تو قونصلر رسائی کا مطالبہ  کیسے کرسکتا ہے۔

خاور قریشی نے بھارتی صحافی کرن تھاپراور پراون سوامی کی دی گئی رپورٹس کےحوالے دیتے ہوئے کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت  کیس میں ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فورم موجود ہے، بھارت کا 47 سال کی عمر میں کلبھوشن کا ریٹائرمنٹ کا کہنا ناقابل فہم ہے، بھارت نے نہیں بتایا کہ وہ حسین مبارک پٹیل ہے یا کلبھوشن یادیو، کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد بھارت نے کیا تحقیقات کیں؟ کلبھوشن  کے پاس مسلمان نام سے پاسپورٹ کیوں موجود تھا،کلبھوشن کو ایران سے پاکستان اغوا کر کے لانے کے الزام کا کیا ثبوت ہے۔

گزشتہ روز بھارتی وکیل ہریش سالوے نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کیس مبالغہ آمیز معلومات پر مبنی ہے، عالمی عدالت انصاف کلبھوشن کی رہائی کا حکم دے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ عدالت انسانی حقوق کو حقیقت میں تبدیل کرکے دکھائے۔

پاکستان اور بھارتی وکلاء کے دلائل کے بعد بحث و جرح کا آغاز ہوگا، 20 فروری کو بھارت جب کہ جمعرات 21 فروری کو پاکستانی وکیل بحث کریں گے۔ کلبھوشن یادیو کیس کی جرح کی مکمل کارروائی بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی ویب سائٹ پر براہِ راست نشر کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پر پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔

Google Analytics Alternative