Home » 2019 » February (page 5)

Monthly Archives: February 2019

جواب دینے کے لیے جگہ اور وقت کا تعین کرلیا بھارت اب انتظار کرے، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ہم نے جواب دینے کے لیے وقت اور جگہ کا تعین کرلیا ہے اب بھارت انتظار کرے۔

جی ایچ کیو راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران جنرل آصف غفور نے کہا کہ کہتے ہیں کہ بے وقوف دوست سے دانا دشمن اچھا ہوتا ہے، بھارت پاکستان دشمنی میں بھی بےوقوفی اور جھوٹ کا سہارہ لیتا ہے۔بھارتی میڈیا کہتا ہے کہ بھارتی جنگی طیارے 21 منٹ تک پاکستان میں رہے اور انہوں نے 350 سے زائد افراد کو ہلاک کیا۔ بھارت آئے اور 21 منٹ پاکستان میں رہ کر دکھائے۔  بھارت کو واضح کیا تھا کہ اگر حملہ ہوا تو فوری جواب آئے گا۔بھارت زمین پر آتا تو اس کو ویسا جواب ملتا جو ہم  نے پلان کیا تھا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ چند روز سے بھارت اور پاکستان کےدرمیان کشیدگی جاری ہے، رات کے وقت ہماری ٹیم معمول کی پرواز پر تھی، ریڈار پر بھارتی طیاروں کی پہلی پوزیشن لاہور سیالکوٹ سیکٹر کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھی گئی لیکن بھارتی دعویٰ ہے کہ طیاروں نے لائن آف کنٹرول کو عبور کیا، آزاد کشمیر کے راستے خیبر پختونخوا کے علاقے بالاکوٹ تک آئے اور واپسی میں جبہ کے مقام پر 4 بم گرائے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، کوئی ایک اینٹ بھی نہیں ٹوٹی،اگر کوئی انفراسٹرکچر تباہ ہوتا تو وہاں ملبہ ہوتا۔موسم کی خرابی کی وجہ سے صحافیوں کونہیں لے جاسکے۔ پاک فضائیہ حالت کی کشیدگی کے تناظر میں تواترسے پیٹرولنگ کررہی ہے، ہم نے کہا تھا کہ بھارت نے حملہ کیا تو ہم اسے حیران کردیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دو جمہوریتیں کبھی آپس میں نہیں لڑتیں۔ بھارت نے ثابت کیا ہے کہ وہاں جمہوریت نہیں ہے، ہمارے ہاں جمہوریت ہے، ہمارے یہاں اتفاق رائے ہے، ہم سب ایک ہیں، بھارت ہماری جوابی کارروائی کا انتظار کرے، بھارت کو جواب دینے کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں، ہم نے خطے میں امن کے لیے بہت نقصان برداشت کرلیا، اب ہم آپ کو سرپرائز دیں گے، آپ انتظار کریں، ہم نے جواب دینے کے لیے جگہ اور وقت کا تعین کرلیا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارتی طیاروں نے ٹھکانے تباہ کئے ہیں تو کہاں ہے ملبہ اور لاشیں؟ بھارت پاکستانی فوجی تنصیب پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا تو وہ ایل اوسی کراس کیے بغیر کرسکتا تھا۔ بھارتی فضائیہ کا مقصد شہری آبادی کو نشانہ بنانا تھا

بھارتی جارحیت کا جواب اپنی مرضی کے مقام اور وقت پر دیں گے، پاکستان

اسلام آباد: قومی سلامتی کمیٹی نے کہا ہے کہ پاکستان بھارتی جارحیت کا جواب اپنی مرضی کے مقام اور وقت پر دے گا۔

بھارتی فضائیہ کی جانب سے گزشتہ رات لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور آزاد کشمیر میں دراندازی کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت اعلیٰ سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔

اجلاس میں بھارتی دراندازی کی بعد کی صورتحال پر جائزہ لیے جانے کے ساتھ وزیراعظم کو تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ بھی دی گئی جب کہ عسکری قیادت نے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں سے آگاہ کیا۔  اجلاس میں بھارتی فضائی دراندازی کا معاملہ فوری طور پر عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کے لیے رابطے کریں گے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کے لیے مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔

اجلاس کے بعد جاری کئے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے الیکشن میں فائدے کے لئے خطے کا امن داؤ پر لگا دیا، پاکستان بھارتی جارحیت کا جواب اپنی مرضی کے مقام اور وقت پر دے گا،  بھارت کا تربیتی کیمپ کی تباہی اور ہلاکتوں کا دعویٰ غلط ہے، قومی اور بین الاقوامی میڈیا کو حملے کی جگہ کا دورہ کرایا جائے گا۔

واضح رہے کہ بھارتی فضائیہ کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں دراندازی کی کوشش کی گئی لیکن پاک فضائیہ کی بروقت اور موثر کارروائی کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ کے طیارے دم دباکر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔

بھارتی جارحیت کا جواب دیا جائے گا، وزیر خارجہ

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔ 

اسلام آباد میں وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر خزانہ اسد عمر کے ہمراہ میڈیا بریفنگ کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں، بھارتی اقدام پاکستان کے خلاف جارحیت ہے اور پاکستان اس کا جواب دے گا، وزیراعظم نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا خصوصی اجلاس 27 فروری کو طلب کرلیا ہے، جب کہ  افواج اور عوام کو تیار رہنےکی ہدایت کردی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزرائے دفاع، خزانہ اور خارجہ پر مشتمل 3 رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جو پاکستان کی سیاسی قیادت کو صورتحال پر اعتماد میں لے کرمشاورت کرے گی۔ پاکستان میں عالمی میڈیا کو موقع پر لےجانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اوآئی سی کےرابطہ گروپ کااجلاس متحدہ عرب امارات میں جاری ہے جہاں سیکرٹری خارجہ پاکستان کانکتہ نظرپیش کریں گی۔ اسلامی تعاون تنظیم میں بھارتی وزیرخارجہ کی آمد سے متعلق نہیں بتایاگیا، او آئی سی سشما سوراج کو مدعوکرنے پر نظر ثانی کرے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاک فوج اور فضائیہ پر شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، ہمارے طیارے حملے کا جواب دینے کےلیے چوکس تھے، بھارتی طیارے رات2بج کر 55 منٹ پرداخل ہوئے، رات 2 بج کر 58 منٹ پر پاک فضائیہ کے طیاروں نے دشمن کو للکارا، بھارتی طیارے ایل او سی سے اپنا رخ تبدیل کرکے واپس چلے گئے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کبھی جارحیت سے نہیں گبھرایا، کرتار پور کے راستے ہم نے بند کرنے کے لیے نہیں کھولے، بھارت اپنے ذہن کے راستے کھولے ، اس پر سیاست کا بھوت سوار ہے، وہ اقتدار کے لیے بدمست ہاتھی کی طرح دیواروں سے ٹکر مار رہے ہیں۔

بھارتی دراندازی؛ اپوزیشن کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ

اسلام آباد: اپوزیشن نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نکتہ اعتراض پر خورشید شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کہتے تھے کہ بھارت نےجارحیت کی توسوچیں گے بھی نہیں اور سوچنا چاہیے بھی نہیں، ہم حالت جنگ میں آگئے ہیں ، پارلیمنٹ بیٹھےاور فیصلہ کرے، ہمیں بھارت اور دنیا کو دکھانا ہے اور پورا ملک یکجا رکھنا ہے۔ بھارت اگر 40 کلومیٹر اندر آیا ہے تو ہم 80 کلومیٹر اندر داخل ہو جائیں۔ ہم بتائیں گے کہ جنگ اور الیکشن کیا ہوتا ہے پھر نریندر مودی کا الیکشن کا خواب کیسے پورا ہوتا ہے۔

خواجہ آصف

مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف نے کہا کہ جس طرح یہ حکومت چلا رہے ہیں ایسے حکومت نہیں چلتی، او آئی سی میں سشما سوراج کو بلایا جانا پاکستان کی توہین ہے سفارتی سطح پرہماری ناکامی ہے جو بھارتی وزیرخارجہ کو او آئی سی میں بلایا گیا ، ہمیں اس معاملے پر او آئی سی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ سیاسی اختلافات کے باوجود پاکستان کے لیے ہم سب ایک ہیں، یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، عوام افواج پاکستان کے ساتھ ہے، یہ قومی سلامتی کامسئلہ ہے، فوری مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔

سردارایاز صادق

مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں پاکستان نے اسلامی تعاون کی تنظیم کی ہر پارلیمانی میٹنگ میں شرکت کی، لیکن اب پاکستان کو کسی صورت او آئی سی کے اجلاس میں نہیں جانا چاہیے، آو آئی سی کی ہمت کیسے ہوئی کہ اس نے بھارت کو گیسٹ آف آنر بلایا، کیا بھارت کو دعوت دینے سے پہلے کیا پاکستان سے پوچھا گیا تھا۔ ہمیں عزت سے جینا ہے یا بے عزتی کے ساتھ جینا ہے۔ بھارت کی طرح پاکستان کو بھی اپنی اشیاء کی برآمدات پر ڈیوٹی لگانے کی ضرورت ہے۔

علی محمد خان

وزیرمملکت پارلیمانی امورعلی محمدخان کا کہنا تھا کہ بھارت نے رات کے اندھیرے میں بزدلانہ کارروائی کی،ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، بھارت بزدلانہ حرکتوں سے باز نہ آیا تو جواب دینا جانتے ہیں، بھارت کے ہزاروں ٹکرے کردیئےجائیں گے۔

مولانا اسعدالرحمان

جے یو آئی (ف) کے مولانا اسعدالرحمان کا کہنا تھا کہ بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، ہم پاکستان کی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے ، حکومت کو اس حوالےسےایک متفقہ پالیسی دینی چاہیے۔ ہمیں افواج پاکستان کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے، بھارت او آئی سی کا رکن نہیں ہے، او آئی سی میں بھارتی ممبر کو مدعو کیا گیا ہے۔

امیر حیدر ہوتی

عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ ایوان کے رکن کی حیثیت سے فخر ہے کہ اس معاملے پر مکمل اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا، اختلاف رائے ایک قدرتی عمل ہے، ہمیں حکومت سے اور حکومت کو ہم سے گلے شکوے ہوں گے لیکن جب ملکی سلامتی کا معاملہ ہوتا ہے تو ملک سب سے پہلے ہوتا ہے، بھارت میں اس وقت الیکشن ہیں ، مودی صاحب نے خطے کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے، جب مقبوضہ کشمیر سے ردعمل آتا ہے تو پاکستان پر الزام لگادیا جاتا ہے، بھارت ظلم و جبر کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کررہا ہے۔ پاک فوج کے سربراہان کو بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بلایا جائے۔

عالمی میڈیا نے بھارت کی مبینہ کارروائی کو بے پر کی بڑھک قرار دے دیا

کراچی: عالمی میڈیا نے بھارت کی لائن آف کنٹرول پر پاکستانی حدود میں فضائی کارروائی کے دعوے کو بڑھک قرار دے دیا۔

بھارتی فضائیہ کے طیاروں کی لائن آف کنٹرول پر پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی بزدلانہ کوشش کو ہر دم مستعد پاک فضائیہ کے جری بہادروں نے خاک چٹا دی جس پر بوکھلاہٹ کے شکار بھارتی طیاروں نے دم دبا کر بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی۔

پاک فضائیہ کے طیاروں کی گھن گھرج نے بزدل بھارتی فضائیہ کے اوسان خطا کردیئے، ہانپتے کانپتے بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو بھاگنے کی اتنی جلدی تھی کہ جاتے جاتے اپنا پے لوڈ بھی چھوڑ گئے۔

جھوٹ اور پروپیگنڈے کی فیکٹری بھارت اپنی ہزیمت کو چھپانے کے لیے روایتی دروغ گوئی کا سہارا لیتے ہوئے سرجیکل اسٹرائیک کی مضحکہ خیز بھڑک مارتے ہوئے شدت پسندوں کے ’خوابی ٹھکانوں‘ پر حملے میں کئی دہشت گردوں کی ہلاکت کا بھونڈا دعویٰ کر بیٹھا۔

بھارت کے سرجیکل اسٹرائیک کے گزشتہ دعوے کی طرح اس بار بھی جہاں پاک فوج کے ترجمان نے فوری ردعمل میں بھارتی جھوٹ کی قلعی کھول دی، وہیں عالمی میڈیا نے بھی بھارتی دعوے کو آڑی ہاتھوں لیا۔  نیویارک ٹائمز نے بھارتی دعوے کو بے پر کی اُڑائی ہوئی خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ٹھوس ثبوت کی فراہمی میں ناکام رہا ہے۔

اسی طرح برطانوی اخبار دا گارجیئن نے بھی بھارتی دعوے کو بڑھک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مبالغہ آرائی پر مبنی دعوے پر یقین کرنا بہت مشکل ہے، سرجیکل اسٹرائیک نہایت ٹیکنیکل معاملہ ہوتا ہے جس میں شواہد کو چھپانا ممکن نہیں ہوتا، تاہم بھارت اپنے دعوے میں کوئی ایک ثبوت بھی پیش نہیں کرسکا ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2016 میں بھی بھارت نے پاکستانی حدود میں سرجیکل اسٹرائیک کا مضحکہ خیز دعویٰ کیا تھا تاہم خود بھارت کا سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ اپنے ہی ملک میں متنازع بن گیا تھا اور اپوزیشن رہنماؤں نے عالمی سطح پر سرجیکل اسٹرائیک کے ثبوت پیش کرنے میں ناکامی پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

بھارتی فضائیہ کی ایل اوسی کی خلاف ورزی، سیاسی قیادت کا بھی بھارت کو منہ توڑ جواب

بھارتی فضائیہ کی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر پاک فوج کے بعد سیاسی قیادت نے بھی بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امن پسندی اور تحمل مزاجی کو کمزوری سمجھنا بھارت کی سنگین غلطی ثابت ہوگی، مادر وطن کے تحفظ کی خاطرخون بہانے محاذ جنگ پر جانے کے لیے تیار ہوں، بھارتی قیادت ہوش کے ناخن لے اور جنوبی ایشیا کے امن کو اپنے ہاتھوں سے آگ میں نہ دھکیلے۔

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فاروق حیدر؛ 

آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر نے بھی بھارتی جنگی طیاروں کی ایل او سی کراس کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم تیار ہیں، جس طرح پاک فضائیہ نے بھارتی طیاروں کو بھگایا وہ قابل داد ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلیے جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے۔

آصف علی زرداری؛

سابق صدر آصف زرداری نے بھی بھارتی طیاروں کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہماری پرامن پالیسی کو کمزوری نہ سمجھے، قوم کا ہرفرد افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان؛

ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے بھی لائن آف کنٹرول کی فضائی خلاف ورزی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ عالمی برادری خطے کے امن کے لیےاپنا کردار ادا کرے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ؛

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے جارحیت کی تو پاک فوج ان کو منہ توڑ جواب دے گی، پاکستان کی عوام ملک کا دفاع کرنا جانتی ہے، ہم پرامن ملک ہیں اور خطے میں امن چاہتے ہیں۔

گورنر پنجاب چوہدری سرور؛

گورنر پنجاب چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ پاکستانی شاہینوں نے دشمن کوہمیشہ کی طر ح منہ توڑ جواب دیا ہے، اقوام متحد ہ کو بھارتی ایئر فورس کی جانب سے دراندازی کی کوششوں کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔

خورشید شاہ؛ 

رہنما پیپلزپارٹی خورشید شاہ نے کہا کہ پاکستان کے سیاستدان متحد ہیں، کوئی بھول میں نہ رہے کہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے پاکستانی سیاسی جماعتیں تقسیم ہیں، ہمارا مرکزی نظریہ پاکستان ہے۔

آسکر ایوارڈ جیتنے کے ساتھ لیڈی گاگا نے نیا ریکارڈ قائم کردیا

امریکی گلوکارہ لیڈی گاگا کے گانے ’شیلو‘ کو رواں سال منعقد ہوئی 91ویں اکیڈمی ایوارڈ کی تقریب کے دوران بہترین اوریجنل گانے کا آسکر ایوارڈ دیا گیا۔

یہ گانا لیڈی گاگا کی زندگی پر بننے والی فلم ‘اے سٹار اِز بارن’ کا ہے۔

اس ایوارڈ کو حاصل کرنے کے ساتھ ہی لیڈی گاگا ایک ہی سال میں آسکر، گولڈن گلوب، بافٹا اور گریمی ایواڈ جیتنے والی پہلی خاتون بھی بن گئیں ہیں۔

لیڈی گاگا نے اپنا ایوارڈ وصول کرتے ہوئے جذباتی تقریر سے ناظرین کا دل بھی جیت لیا۔

گلوکارہ کا کہنا تھا کہ ’اصل بات جیتنا نہیں بلکہ کبھی ہار نہ ماننا ہے، اگر آپ ایک خواب رکھتے ہیں تو اس کو پورا کرنے کے لیے کوشش کرتے رہیں۔‘

لیڈی گاگا آسکرز کے ریڈ کارپٹ سے لے کر مرکزی تقریب تک چھائی رہیں, اس تقریب کے دوران انہوں نے اداکار بریڈ لی کوپر کے ساتھ شاندار پرفارمنس بھی دی۔

ان کی پرفارمنس پر مداحوں نے سوشل میڈیا پر ایسا خیال ظاہر کیا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہیں۔

لیڈی گاگا آسکرز کی تقریب میں سیاہ رنگ کے جوڑے میں نظر آئیں جبکہ ان کی جیولری بھی آسکر2019 میں مرکز نگاہ رہی۔ انوں نے جیولری کے مشہور برانڈ ٹفنی کا ہار پہن رکھا تھا جو کہ اس سے قبل 1961 میں مشہور برطانوی اداکارہ آڈرے ہیپ پرن نے زیب تن کیا تھا۔

پاکستان کے منہ توڑجواب پرحواس باختہ بھارت کے کامیابی کے بھونڈے دعوے

کراچی: پاک فضائیہ نے گزشتہ رات فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی طیاروں کو دم دبا کربھاگنے پر مجبور کردیا لیکن اس کے باوجود بھارتی حکومت اورمیڈیا انتہائی بھونڈے انداز میں اپنی ناکامی کو کامیابی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

بھارتی حکومت اوراس کا میڈیا پاکستان مخالفت میں اتنا اندھا ہوگیا ہے کہ اسے اپنے پیروں میں لگی آگ ہی نظرنہیں آرہی، پلوامہ حملے کے بعد ابھی ٹماٹر والا معاملہ تھما نہیں تھا کہ بھارتی میڈیا کو اپنی فضائیہ کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا جُھنجُھنا مل گیا۔ رات کے اندھیرے میں بھارتی جنگی جہاز سرجیکل اسٹرائیک کا خواب آنکھوں میں سجائے آزاد کشمیر کی فضائی حدود میں داخل ہوئے لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ پاک فضائیہ کے شاہین چوکنا ہوئے بیٹھے ہیں۔ ابھی وہ سرحدی حدود میں گھسے ہی تھے کہ مسلح افواج نے انہیں دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔

پاکستان کی بروقت جوابی کارروائی پر بھارتی سورما اتنے حواس باختہ ہوئے کہ انہوں نے اپنا بارودی مواد خالی جگہ پر ہی پھینک کر پتلی گلی سے نکلنے میں عافیت جانی۔

پاک فوج نے قوم کو بروقت تمام صورت حال سے آگاہ کیا لیکن بھارتی میڈیا مرغے کی ایک ٹانگ کی طرح ناکامی کو ماننے کے بجائے اسے کامیاب کارروائی گردان رہا ہے بلکہ اپنے عوام کو بھی گمراہ کررہا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ بھارتی فضائیہ کے میراج طیاروں نے آزاد کشمیر کی حدود میں گھس کر بالاکوٹ میں کالعدم جیش محمد کے ان ٹھکانوں پر ایک دو نہیں بلکہ سیکڑوں لیزر گائیڈڈ بم برسائے جن کا مجموعی وزن ایک ہزار ٹن سے زیادہ تھا۔

پاکستان دشمنی میں اندھے بھارتی میڈیا کا دعویٰ تھا کہ جیش محمد کا یہ ٹھکانہ 7 ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلا تھا اوراس بمباری میں 200 سے 300 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ اس کے بالکل برخلاف ہے۔ درحقیقت بھارتی طیارے تو اپنی جان بچانے کے لیے بموں کو ادھر ادھر پھینک کر ہی بھاگ نکلے۔

میں نہ مانوں کی بدترین مثال بنے بھارتی میڈیا کو اتنی عقل نہیں کہ اگراتنا بارودی مواد کہیں بھی پھٹتا تو اطراف کے ملکوں میں بھی ہاہاکار مچ جاتی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ حقیقت وہی ہے جو پاکستان کی جانب سے بتائی جارہی ہے۔

اور تو اور عقل کا اندھا اور کانوں کا کچا بھارتی میڈیا ایک جانب اپنی کامیابی کے جھوٹے دعوے کرتے نہیں تھک رہا تو دوسری جانب مودی سرکار نے نئی دہلی میں اپنی فوج کی ناکامی پر سر جوڑ لیے ہیں، وہ بھی اب یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ اپنے بھگوڑے فوجیوں کو سورما اور عبرتناک ہزیمت کو فتح ثابت کرنے کے لیے کیا ثبوت پیش کرے کیونکہ پلوامہ حملے پر بھی ساری کی ساری الزام تراشی دھری رہ گئی ہے اور بھارت کے اندر ہی سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔

Google Analytics Alternative