Home » 2019 » March » 01 (page 2)

Daily Archives: March 1, 2019

’’پاک فوج کے بھارتی پائلٹ سے سلوک نے بے حد متاثر کیا‘‘ غیرملکی سفیر بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے

اسلام آباد پاکستان میں متعین ارجنٹائن کے سفیر ایونسنوریچ کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے بھارتی پائلٹ کے ساتھ حسن سلوک نے بے حد متاثر کیا ہے۔ ضرور پڑھیں: سعودی عرب نے پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے پر انتہائی زبردست اعلان کر دیا ، دل جیت لیے گزشتہ روز ارجنٹائن کے سفارت خانے کے اشتراک سے محفل موسیقی کے بعد ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں متعین ارجنٹائن کے سفیر ایونسنوریچ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو جنگ کا میدان نہیں سجانا چاہیے، جنگ سے مسائل میں اضافہ ہوجائے گا۔ایونسنوریچ کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کے بھارتی پائلٹ کے ساتھ حسن سلوک نے بے حد متاثر کیا ہے، ہمیں امن کے کوشش کرنی چاہیے، پاکستان اور بھارت کی عوام نے بہت سے قربانیاں دی ہیں۔

’’عمران خان کی ’فراست‘ سے ان کا ’مداح‘ ہوگیا ہوں‘‘ یہ بات بھارت کی کس اعلیٰ شخصیت نے کردی؟ جان کر آپ کو بھی خوشی ہوگی

کراچی حالیہ پاک بھارت تنازع اور جنگی جنون کی فضاؤں میں پاکستان کے سول اور ملٹری ادارے دونوں ہی صبر اور بردباری کا مظاہرہ کررہے ہیں، اس تناظر میں بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے عمران خان کو فہم و فراست کا مالک قرار دیتے ہوئے خود کو ان کا مداح قرار دے دیا۔

بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے اپنی ٹویٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے وزیرِ اعظم عمران خان کی تقریر کو ’عقل مندانہ اور تحمل سے بھرپور قرار دیا۔سابق چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وہ کرکٹر سے سیاست میں آنے والے عمران خان کے پہلے مداح نہ تھے لیکن اب ایسی بات نہیں، ’پہلے میں عمران خان پر تنقید کرتا تھا لیکن اب ٹی وی پر ان کی سمجھ بوجھ اور تحمل سے بھرپور تقریر سن کر ان کا مداح ہوگیا ہوں۔

پی ایس ایل فور کیلئے پشاور زلمی کا پورا سکواڈ پاکستان آئیگا:جاوید آفریدی

اسلام آباد  پشاور زلمی کے چیئرمین جاوید آفریدی نے کہاہے کہ پی ایس ایل فور کیلئے پشاور زلمی کا پورا سکواڈ پاکستان آئیگا۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر اپنے ویڈیو پیغام میں  پشاور زلمی کے چیئرمین جاوید آفریدی نے کہا کہ پی ایس ایل فور کیلئے پشاور زلمی کا پورا سکواڈ پاکستان آئیگا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح پشاور زلمی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کو سب سے بڑا مقصد سمجھ کر اپنا کردار ادا کریگی ۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کے فیصلے کوبھرپور طریقے سے سپورٹ کرتے ہیں۔ اپنی ٹیم کی کامیابی پر جاوید آفریدی کا کہنا تھا کہ آج کے میچ میں  پشاور زلمی کی کامیابی پر جہاں ساری ٹیم اور چاہنے والے مبارکباد کے مستحق ہیں وہاں آج کی یہ خوشی پاکستان /انڈیا کے اوپر بدامنی کے منڈ لاتے سایوں کو دیکھ کر میں آج خطے میں امن و محبت کے نام کرتا ہوں ،ہم کھیل کے میدانوں میں امن کے سفیر اور خطے میں امن و سلامتی کے خواہاں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج پی ایس ایل اونرز کی پی سی بی کے ساتھ ہونے والی میٹنگ جو ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر تھی میں یہ فیصلہ گیا کہ شیڈول کے مطابق پی ایس ایل کے پاکستان میں طے شدہ میچز ہر حال میں ہونگے ،ہم پی سی بی کے فیصلے کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کرتے ہیں اور پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی سب سےبڑامقصد سمجھ کر پشاورزلمی اپنا کردارادا کریگی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل چیئرمین پی سی بی نے دبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا  کہ پی ایس ایل کے پاکستان میں ہونے والے میچز شیڈول کے مطابق ہوں گے، ہر کسی کا متفقہ فیصلہ ہے کہ لیگ پاکستان میں ہی ہو، فرنچائز مالکان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ہماری کمٹمنٹ ہے پاکستان جا کر کھیلنے کی، جن کھلاڑیوں نے شروع میں آنے کو کہا تھا، وہ سب پاکستان آ رہے ہیں۔

پاکستان کا او آئی سی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد :_ پاکستان نے او آئی سی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہناتھا کہ میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے او آئی سی کے اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا اور پاکستان کے موقف کی ترکی نے تائید کی ہے ۔

آج او آئی سی کا ابوظبی میں اجلاس ہے،بھارت او آئی سی کا نہ ممبرہے اورنہ ہی مبصرہے،یواے ای نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا، یو اے ای کودرخواست کی تھی کہ بھارتی وزیرخارجہ کوبلانے کے فیصلے پرنظرثانی کرے،یواے ای کے وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت کودعوت نامہ پلوامہ واقعے سے پہلے بھیجاتھالیکن ہم نے یواے ای کوکہاکہ بھارتی وزیرخارجہ کوبلانے کے فیصلے پرنظرثانی کریں یااجلاس ملتوی کردیں۔

اس سے قبل پاکستان نےمتحدہ عرب امارات سے بھارت کا دعوت نامہ واپس لینے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ بصورت دیگر پاکستان، اجلاس میں شرکت کے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور ہوگا۔

پاکستان کا بھارت کو منہ توڑ جواب ۔۔۔عمران خان کی پھر مذاکرات کی دعوت

پاکستان نے بھارت کو عملی طورپر باور کرادیا کہ اگر اس نے کسی بھی قسم کا اب کوئی بھی مذموم قدم اٹھایا تو اسے ایسا منہ توڑ جواب دیا جائے گا جس کا اس نے خواب و خیال میں بھی سوچا نہ ہوگا۔ جبکہ پاکستان نے بتادیا تھا کہ ہم تیار بیٹھے ہیں، بھارتی کارروائی کا جواب بھی دینگے اس کے باوجود بھارت نے حماقت کی اور اس نے پھر انتہا پسندی کا قدم اٹھایا مگر ہمارے فضائی شاہینوں نے اس کا سر اٹھنے سے پہلے ہی کچل دیا اور دوجہاز مار گرانے کے ساتھ ساتھ ایک پائلٹ کو بھی زندہ گرفتار کرلیا، اب بھارتی وزیر خارجہ واویلا مچا رہی ہے کہ ہم مزید کشیدگی نہیں چاہتے، یہ کشیدگی بڑھانے کا ذمہ دار بھارت ہی ہے پاکستان تو اب بھی امن کا داعی اور مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ گزشتہ روز پاک فضائیہ نے 2بھارتی طیارے مار گرائے، ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں 6 اہداف کو تباہ کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بتایا ہے کہ پاک فضائیہ نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں چھ مقامات پر کارروائی کی ہے۔ کنٹرول لائن عبور کر کے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے دو بھارتی طیاروں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایک طیارہ آزادکشمیر اور دوسرا طیارہ مقبوضہ کشمیر میں گرا ہے۔ پاکستان نے ایک بھارتی ہواباز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان بھارتی دعووں کی تردید کی کہ ایک پاکستانی ایف سولہ مار گرایا گیا ہے۔ پاک فضائیہ کی اس کارروائی میں جے ایف 17طیارے استعمال ہوئے۔ پاکستان نے ایف سولہ طیارے اس مشن میں شامل ہی نہیں کئے تھے۔ بھارت کی جانب سے پاکستانی حدود میں دراندازی کی کوشش کے بعد پاکستان کے پاس جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ گزشتہ صبح پاک فضائیہ نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے پار مقبوضہ کشمیر میں چھ اہداف کا انتخاب کیا کیونکہ ایک روز پہلے بھارت نے ہمارے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تھا۔ پاکستان کی مسلح افواج کے پاس صلاحیت بھی ہے اور جذبہ بھی جبکہ عوام کا ساتھ ہے لیکن ہم ذمہ دار ریاست ہیں اور امن چاہتے ہیں۔ ہمارے ہدف میں تھا کہ کسی انسانی جان کا نقصان نہ ہو ۔ پاک فضائیہ نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے مطلوبہ چھ ہدف کو اپنے طیاروں پر لاک کیا۔ لیکن لاک کی گئی جگہوں کے بجائے تھوڑے فاصلے پر کھلی جگہ پر کارروائی کی، مقصد یہ تھا کہ ہمارے پاس صلاحیت اور جذبہ ہے لیکن ہم کوئی ایسا کام نہیں چاہتے جو ہمیں غیر ذمہ دار ثابت کرے۔ ہم نے بھمبر گلی، کے جی ٹو اور ناریان کے علاقے میں ڈپوز پر ٹارگٹ لاک کیا اور ہم نے حفاظتی فاصلہ رکھتے ہوئے ہدف کو تباہ کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن اس خطے کے امن کو خراب کرنا نہیں چاہتے، ہم ذمہ دار رہنا چاہتے، کشیدگی نہیں چاہتے، ہم جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے۔ وزیراعظم اور عوام نے بھی امن کا پیغام دیا اور ہم کسی بھی صورت اس خطے کو جنگ کی طرف نہیں لے جانا چاہتے۔ پاک فضائیہ کے اہداف کے بعد بھارتی ائرفورس کے 2 طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جس کے بعد دونوں بھارتی طیاروں کو گرادیا گیا، ایک کا ملبہ ہماری طرف گرا جبکہ دوسرا بھارت کی طرف گرا۔ اس کے علاوہ بھی ایک اور بھارتی طیارے کے گرنے کی اطلاع ہے لیکن وہ اندر ہے اور ہماری اس سے انگیجمنٹ نہیں ہوئی۔پاکستانی فورسز نے ایک بھارتی پائلٹ کو اپنی تحویل میں لیا اور جیسے ایک مہذب ملک سلوک کرتا ہے ویسے ہی پاکستان نے کیا۔ زخمی پائلٹ کو سی ایم ایچ منتقل کیا۔ انہوں نے بھارتی پائلٹ سے ملنے والی دستاویزات بھی دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان، حکومت پاکستان،
مسلح افواج اور عوام نے ہمیشہ بھارت کی طرف امن کا پیغام دیا ہے اور یہ مذاکرات کے ذریعے ہوسکتا ہے، دونوں ممالک کے پاس صلاحیت ہے لیکن جنگ پالیسی کی ناکامی کی وجہ ہوتی ہے اور بھارت کو اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بھارتی جارحیت اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی جارحیت کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر بھارت کو تعاون اور مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے اس تعاون کی پیشکش کے باوجود مجھے خطرہ تھا کہ بھارت کوئی کارروائی کرے گا اسی لئے بیان دے دیا تھا کہ رسپانس پاکستان کی مجبوری ہو گا۔ کیونکہ کوئی آزاد و خودمختار ملک بیرونی کارروائی کی اجازت نہیں دے سکتا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ خود ہی مدعی قاضی اور سزا دینے والے بن جائیں۔ انہوں نے بھارتی حکومت کو انتباہ کیا ہے جو ہتھیار بھارت کے پاس ہیں وہی ہمارے پاس بھی ہیں، جنگ شروع ہوئی تومیرے اور نہ ہی مودی کے کنٹرول میں رہے گی، اگر بھارت آ سکتا ہے تو ہم بھی اس کے ملک میں جا کر کارروائی کر سکتے، آئیں مل بیٹھ کر مسئلے پر بات کریں، جنگ نہیں چاہتے۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میرے پاکستانیو! دو روز سے جو صورتحال ہے قوم کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں۔ پلوامہ واقعے کے بعد ہم نے بھارت کو ہر قسم کی تحقیقات کی پیشکش کی کہ ہم تحقیقات کے لئے تیار ہیں۔وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں منعقد ہونے والے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس میں کہا گیا ہے پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور ملک کے دفاع و سلامتی کو لاحق تمام تر خطرات سے نمٹنے کیلئے کم از کم ڈیٹرنس کی بنیاد پر تشکیل دیئے گئے فل سپیکٹرم ڈیٹرنس کو بروئے کار لایا جائے گا۔ واضح رہے کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی پاکستان کی نیو کلیائی اثاثوں کا نگہبان ادارہ اور اعلی ترین پالیسی و فیصلہ ساز ادارہ ہے اور سٹرٹیجک پلانز ڈویژن اس کا سیکرٹریٹ ہے۔ اجلاس میں وفاقی کابینہ کے متعلقہ ارکان کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی ایس پی ڈی اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں وزیراعظم کو بیرونی جارحیت کی صورت میں پاکستان کے غیر روایتی جواب اور تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے بھرپور جواب دینے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ایک اعلی سرکاری عہدیدار کے مطابق نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس کا طلب کیا جانا ہی نہایت معنی خیز ہے اور اس امر کا غماز ہے کہ پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو ملکی دفاع کے اہم ذریعہ کے طور پر دیکھتا ہے۔
’’سچی بات‘‘ اپنی نوعیت کا ایک منفرد پروگرام
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ جس میں سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ، سابق ایئر چیف سہیل امان، جنرل(ر)نعیم خالد لودھی اور سرتاج عزیز نے سیر حاصل گفتگو میں حصہ لیا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پروگرام اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل اور موثر تھا اس میں جن تجزیہ کاروں نے شرکت کی وہ اپنی اپنی فیلڈ میں یکتا ہیں۔ ایس کے نیازی ایک کہنہ مشق اور عملی صحافی ہیں جبکہ دو چیف جن میں ایک آرمی کے چیف اور ایک فضائیہ کے چیف شامل تھے ان کی آراء بھی محترم ہے جبکہ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی بھی ایک خاص حلقہ رکھتے ہیں اور سرتاج عزیز کی مہارت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے توکمال ہی کردکھایا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنگ میں دونوں ملکوں کا نقصان ہوگا لیکن زیادہ نقصان بھارت کا ہونا ہے۔ اسی طرح دیگر مہمانان گرامی جو کہ اپنے اپنے شعبے میں انتہائی تجربہ اور اور ماہر ہیں انہوں نے بھی بھارت کو متنبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے، پاکستان کوئی تر نوالہ نہیں، ملکی استحکام اور سرحدوں کی خاطر پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوئی ہے، ہر پاکستانی اپنے خون کے آخری قطرے تک اور فوج اپنی آخری گولی تک اس مملکت خداداد کی حفاظت کرے گی۔

بھارت کا پاکستان پر فضائی حملہ

بھارتی کے لڑاکا معراج طیاروں نے ۲۶؍ تاریخ کو پاکستان کی کنٹرول لائن اور بین الالقوامی سرحد کراس کرکے پاکستان پر حملہ کیا۔ چکوٹی اور مظفر آباد تو کنٹرول لائن پر ہیں جو متنازہ ہے مگر بالا کوٹ پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کا شہر ہے ۔ اس طرح بھارت نے کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بین الاقوامی سرحد کو بھی کراس کیا۔ اس طرح بھارت بین الاقوامی قانون کو توڑ کر مجرم بن گیا۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ۳۵۰ دہشت گردوں کومار دیا ہے۔ ان کے ٹھکانے تباہ کر دئیے ہیں۔ بھارتی میڈیا پروپیگنڈا کر تا رہا ہے کہ پہلی اسٹرائیک بالا کوٹ پر سے ۴۵.۳ سے ۵۳.۳ تک کی ۔دوسری اسٹرئیک مظفر آباد ۴۸.۳ سے۵۶.۳ تک کی اور تیسری اسٹرائیک چکوٹی میں ۵۸.۳ سے ۴.۴ تک کی۔ بھارتی طیارے پاکستان کی اندر ۲۱؍ منٹ تک پاکستان کی حدود میں رہے۔ اس کے برخلاف بھارتی سیکرٹری خارجہ وی کے گوکھالے صاحب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جیس محمد نے پہلے بھارتی پارلیمنٹ اور پھر ۱۴؍ فروری کو کشمیرپلومہ میں بھارتی فوجی قافلہ پر حملہ کیا گیا۔ پاکستان کو اس کی اطلاع دی گئی مگر پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی ۔ اس لیے بھارت نے خود بالا کوٹ پر حملہ کر کے دہشت گردی کے کیمپ کو تباہ کر دیا۔ جیش محمد کا مرکزی تربیتی کیمپ جوبالا کوٹ میں تھا اس کو تباہ کر دیا۔ بالاکوٹ حملے میں مسعود اظہر کے بہنوئی سمیت متعدد مشتبہ عناصر مارے گئے۔ بھارتی دفتر خارجہ متعدد مشتبہ عناصر کہہ رہا اور بھارتی میڈیا ۳۵۰ دہشت گردوں کی ہلاکت کاپروپیگنڈا کر رہا ۔جھوٹ کافرق صاف ظاہر ہے۔لیکن پاکستان کی طرف سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور صاحب نے اس کے جواب میں اپنی پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتایا۔ قوم متحد ہے بھارت انتظار کردے ہر سطح پر رسپانس اور سرپرائز دیں گے۔ ہمارے جواب مختلف ہو گا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ ۳۵۰ دہشت گردں کو مار دیا گیا۔ جبکہ ایک اینٹ بھی نہیں ٹوٹی،۳۵۰ کہاں، اگر دس لوگ بھی مارے گئے ہوتے تو لاشیں، جنازے ،خون اور دیگر نشان تو ملتے۔ بھارت کے جھوٹ کا ملٹری اور سفارتی سیاسی سطح پر بھر پور جواب دیا جائے گا۔ پلومہ واقعہ کے بعد سے پاک فوج الرٹ تھی۔ پاکستان کی فضائیہ نے بھارتی طیاروں کا بھر پور جواب دیا اور بھارتی حملہ ناکام بنایا۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ حقیقت معلوم کرنے کے لیے ہم تمام سفارت کاروں، اقوام متحدہ کے آبزرور مشن، سفارت خانوں کے دفاعی اتاشیوں،عالمی مبصروں اور میڈیا سمیت بھارت کے سول آبادی اور آرمی نمائندوں کو موقع پر لے کر جانے کے لیے تیار ہیں۔ تاکہ بھارت کے من گھڑت پروپیگنڈا جو الیکشن جیتنے کے لیے موددی حکومت نے رچایا اس کا سچ لو گ دیکھ سکیں۔ ۳۵۰ دہشت گردوں کا مارنا اور مبینہ تربیتی کیمپ کو تباہ کرنے کی صحیح حقیقت دنیا کو معلوم ہو سکے۔ وہاں تو نہ ہی ایک اینٹ تک نہیں ٹوٹی۔ نہ کوئی انسانی خون نظر آیا۔ نہ ہی جنازے اُٹھائے گئے۔ نہ ہی کسی عمارت کا تباہ شدہ ڈھانچا نظر آیا۔ مقامی عین شاہدین لوگوں کا کہنا ہے کہ حملہ کھلی جگہ پر کیا گیا۔ صرف گڑھا پڑھ گیا۔ کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔کچھ پتھر اِدھرُ ادھر گرے جس سے ایک شخص نوران شاہ نامی معمولی زخمی ہوا۔ہاں دہشت گردبھارتی وزیر اعظم نے راجستان میں انتخابات جیتنے کے لیے اپنے انتخابی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے بھارتی عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے بھارتی فضائیہ کے نام نہاد کارنامے سنائے۔ سچ تو یہ ہے کہ کشمیری عوام نے ظلم سے تنگ ہو کر بھارتی سفاک فوج سے بدلہ لینے کے قریب کے ایک کشمیری نوجوان نے فدائی حملہ کیا۔ جس کا الزام بھارتی گجرات کے قصائی ، بھارتی دہشت گرد تنظیم آرایس ایس کے بنیادی رکن اور دہشت گرد وزیر اعظم موددی نے بغیر تحقیق کے حسبِ عادت فوراً پاکستان پر لگا دیا اور بھارتی عوام سے خطاب میں کہا کہ اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ پاکستان پر ناکام فضائی اسٹرائیک کو بڑھا چڑھا بیان کیا اور بھارتی عوام کے جزبات کو بھڑکایا۔پاکستان کی حکومت کے مطابق بھارت کے طیاروں نے تین چار میل تک پاکستان کی سرحد کے اندر داخل ہوئے۔ پہلے سے الرٹ پاک فضائیہ نے بر وقت موثر کاروائی کی۔بد حواس دشمن طیارے اپناایمونیشن بالا کوٹ کے قریب گرا کر فرار ہو گئے ۔ حکومت نے بھارتی سرجیکل ایئر اسٹرائیک کو مسترد کر دیا۔ فوج اور قوم کو تیار رہنے کا حکم جاری کر دیا۔جوابی کاروائی کے لیے پاکستان وقت اور جگہ کا انتخاب خود کرے گا۔ دوسری طرف پاکستان پر بھارت کے اس ناکام ایئر اسٹرئیک پر پاکستانی ایک جان یک قلب ہو گئی۔ جمعرات کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا گیا۔اپوزیشن لیڈر اور نون لیگ کے صدر شہباز شریف صاحب نے کہا کہ بھارت نے جنگ شروع کی تو نئی دہلی پر پاکستان کا پرچم لہرائے گا۔پاکستان کے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی صاحب نے کہا کہ پاکستان کی افواج چیلنچ سے نمٹنے کے لیے پر عزم ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری صاحب نے کہا اقتدار کا بھوکا انتہا پسند بھارت پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ عالمی برادری گجرات کے قصائی کو لگام دے امن کے دشمن کسی صورت انسانیت کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ آصف علی زرداری صاحب شریک چیئر مین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مودی انتخابات جیتنے کے لیے خطے کا امن تباہ نہ کرے۔ بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ پاکستانی قوم کا ہر فرد مسلح افواج کے ساتھ گھڑا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے کہا کہ جنگ مسئلہ نہیں اصل مسئلہ کشمیر ہے۔ جب یہ حل ہو جائے گا تو خطے میں امن آئے گا۔ آل پارٹیزحیریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی صاحب نے او آئی سی میں سشما سوراج کی دعوت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑنے کے متردف ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود وریشی صاحب نے کہا اگر بھارت سشما سوراج صاحبہ کو بلایا گیا تو میں اوآئی سی کے اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا۔پاکستانی سرحدوں کی خلاف درزی پر او آئی سی نے بھی بھارتی جارحیت کی مذمت کر دی۔مریم نوازصاحبہ نے ٹیوئٹ کیا کہ اللہ وطن عزیز کی حفاظت فرمائے پاکستان پر کوئی آنچ نہ آئے۔ اسیرنواز شریف صاحب نے کہا کہ بھارتی فضائیہ کی فضائی خلاف درزی پر فکر مند ہوں۔ قاف لیگ کے صدر شجاعت حسین صاحب نے کہا کہ بھارت نے جنگ کی تو تمام حساب چکا دینگے۔پیپلز پارٹی کی لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ بلا تفریق و اختلافات پاکستان کے مسئلے پرپوری قوم ایک ہے۔حکومت بھارت در اندازی کو سنجیدگی سے دیکھے۔ پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف حمزہ شہباز صاحب نے کہا کہ مودی جنوبی ایشیا کے امن کو اپنی سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائے۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب نے کہا کہ قوم کو پاکستان کی فضائیہ پر ناز ہے۔ بھارت کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیں گے۔مریم اورنگ زیب صاحبہ نے کہا کہ دفاع اور سا لمیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔

کرپشن کیخلاف جنگ

دنیا حقائق جاننے اور سچ دیکھنے اور پرکھنے کی عادی ہوگئی ، خوابوں کی باتیں پرا نی ہوگئیں ہیں، اَب جو کچھ کرنا ہے ، حق اور سچ کی بنیا د پر فوراََ کردکھانا ہوگا ، ورنہ ، سب کچھ بیکا ر ہوگا ۔یہ تو آنے والے دِنوں میں لگ پتہ جائے گا کہ سر پر کتنے بال ہیں ؟ بس قوم ہمیشہ کی طرح انتظار کرے ، کیوں کہ ستر سال سے حکمرانوں نے قوم کو اچھے دن کا انتظار ہی تو کرایا ہے ،ابھی پاکستا نی قوم اِسی اُمید پر کچھ دن اور زندہ رہ لے، تواِس میں کیا حرج ہے ۔؟ دیکھ لیتے ہیں کہ یہ حکومت آسمان سے کون سے ستارے توڑ لگائے گی؟ حکومت کی توجہ طویل المیعاد استحکام پر مرکوز ہے، مستقل توازن کیلئے برآمدات میں اضافہ ضروری ہے ،دوسرے سے باہمی اسٹرٹیجک تعلقات کو اقتصادی پارٹنر شپ میں بدلنے کا موقع ملا، پندرہ معاہدے ہوئے ، بیجنگ کے تعاون سے برآمدات کو دوگنا کیا جائے گا ‘‘وغیرہ وغیرہ ایسے کئی سُنہرے خواب دکھاکرقوم سے دعوے کئے گئے ہیں یہ ساری باتیں اپنی جگہ ہیں۔ مگر یہ ٹھیک ہے کہ چین اور سعودی عرب کے دوروں کے دوران پاکستان کو بہت کچھ ملا ہے، اَب ایسا بھی نہیں ہوناچاہئے کہ حکومت ہر چیز اپوزیشن اور عوام کے سامنے سب کچھ کھول کر رکھ دے اور اپوزیشن کے ہر سوال کا جواب دے ، کچھ نکات ایسے ہوتے ہیں۔ جن کے ثمرات وقت آنے کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ یقین ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور اِن کی ٹیم کا دورہ چین اور سعودی عرب مُلکی معیشت اور قوم کی ترقی کیلئے سنگِ میل ثابت ہوں گے۔سُواپوزیشن کو ہر دورے پر یہ سوال خود بھی نہیں کرناچاہئے کہ ملاکیا ہے؟اِس حکومت سے پہلے والی حکومتوں نے اپنے دوروں کے بعد کِسے کیا جواب دیاتھا جو موجودہ حکومت کسی کواپنے دوروں سے متعلق بتائے۔ بے شک یہاں یہ امر قابل ستائش ہے کہ میری پاکستا نی قوم میں بڑی لچک اور صلاحیت ہے ، یہ ستر سال سے ہر قسم کے حالات کا جانفشانی سے مقابلہ کررہی ہے، گر کر اُٹھنے اور اپنی منزل پالینے کا یہی جذبہ تو ہے ،جو اِسے زندہ قوموں میں شمار کئے ہوئے ہے ۔اگر یہ بھی اِس میں نہ ہوتاتو یہ کب کی مایوسیوں کی گہری کھا ئی میں گر چکی ہوتی ، تاہم موجودہ حکومت کے آگے بڑھنے اور قوم کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دِلانے والے عزم اور حوصلے سے پوری پاکستانی قوم کو قوی اُمیدہوچلی ہے کہ اگلے آنے والے دن ، ہفتے ، ماہ اور سال ماضی سے بہت بہتر ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر پاکستانی کو محسوس ہونے لگاہے وہ وقت کوئی زیادہ دور نہیں ہے جب کئی ہزار ارب کے بوجھ تلے دبی سرزمین پاکستان قرضوں سے چھٹکارہ پا ئے گی اور معاشی واقتصادی اور سیاسی و سماجی لحاظ سے ایک نئے اور وتابناک پاکستان کے روپ میں دنیا کے نقشے پر چگمگاتی ، چہچہاتی ،لہراتی اور بل کھاتی ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرتی نمودار ہوگی اور چار دانگِ عالم میں اِس کی بھی کامیابیوں کے ڈنکے بجیں گے۔ آج سوفیصد وزیر اعظم عمران خان اوراِن کی حکومت کا عزم بتارہا ہے کہ یہ کچھ ایسا اچھا کر گزرنے کی لائن پر گامزن ہیں، جو پچھلی کئی دہائیوں سے کوئی حکومت نہیں کرسکی تھی ، وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے اِس جذبہ متحرک اور اضطراب کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اَب یقینی طور پربائیس کروڑ پاکستانیوں کے بھی اچھے دن آنے کو ہیں، بس قوم کسی کی باتوں پر کان نہ دھرے ،اور انتظار کرنے کے ساتھ ساتھ جنازوں پہ نہیں ، جہالت پر رونا دھونا شروع کردے تو قوم کے بھی سُنہرے دن ضرور آجا ئیں گے۔اِس موقع پرقوم کیلئے بس سمجھنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ اپوزیشن کی جھوٹی باتوں کو سُنتی رہی اور مایوسیوں کے سمندر میں ڈوبتی رہی تو پھر مایوسی کے اندھیرے قوم کے حوصلے پست سے پست کرتے جا ئیں گے اور ہاتھ اِس کے سِوائے مایوسیوں کے کچھ نہیںآئے گا۔حالانکہ پاکستانی قوم یہ بات بھی اچھی طرح سے جانتی اور سمجھتی ہے کہ پاکستان کو غریب اور مفلوک الحال عوام سے زیادہ ستر سال کے عرصے میں ہر دومیں آنے والے سِول اور آمر حکمرانوں اور اِن کے قیمتی غلاموں اوراِن کے چیلے چانٹوں نے ہی لوٹ کھایاہے مگر پھر بھی تعجب یہ ہے کہ اِن قومی لٹیروں کی کرپشن نے قوم کی آنکھیں ابھی تک بند کی ہوئیں ہیں۔افسوس ہے کہ ماضی کے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے گولڈن چیلے چانٹوں ا ور غلاموں نے مل کر قوم کی غربت کا چہر ہ دنیا کو دکھا کر قرضے لئے اور پوری قوم کو بھوک و افلاس، تنگدستی، عدم تحفظ، ناانصافی اور غیر یقینی پن کے دلدل میں دھنسا کر اپنی آف شور کمپنیاں بنائیں اور سوئیس بینکوں میں اپنے اور اپنے خاندان کے افراد اور دوستوں یاروں کے ناموں سے کھاتے کھلواکر اربوں روپے رکھوا ئے اور اَب جو اپنی گردنوں کے گرد قانون کا شکنجہ تنگ ہوتا دیکھ کر کنی کٹا کر چلتے بننے کی راہیں تلاش کررہے ہیں آخر کارعبرت ناک انجام کو پہنچتے قومی لٹیروں کو لگ پتہ گیاہے کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی ہے اِسی لئے اپنے کڑے احتساب سے بچنے کیلئے گلے پھاڑ پھاڑ کر چیختے چلاتے پھر رہے ہیں کہ ہم پر منی لانڈرنگ کا محض الزام ہے ، مگراصل میں بیک ڈور سے چاہ رہے ہیں کہ چاہے ہمارا سب کچھ لے لو، مگر ہماری جان چھوڑدو

سائنس دان جین کی مدد سے اندھا پن دور کرنے میں کامیاب

کیلی فورنیا: سائنس دانوں نے بینائی سے محروم چوہوں کی آنکھوں میں ایک جین داخل کر کے اندھا پن دور کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے سائنس دانوں نے ریٹینا میں خرابی کے باعث بینائی سے محروم ہوجانے والے مریضوں کے لیے ایک کامیاب علاج دریافت کیا ہے۔ قبل ازیں اس بیماری کا واحد علاج ’الیکٹرانک آنکھ‘ لگوانا تھا، جو مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی تھا اور اس میں کامیابی کا تناسب بھی بہت زیادہ اچھا نہ تھا۔

ماہرین اعصاب و چشم نے ریٹینا میں ایک ایسی جین کی موجودگی کا پتہ چلایا جسے ریٹینا سے نکال کر vitreous میں داخل کیا جائے تو بینائی واپس آنے کے امکانات خاصے روشن ہوجاتے ہیں۔ ایڈینو ایسوسی ایٹڈ وائرسس (AVV) کے انجینیئرز نے اس جین کو بینائی سے محروم چوہوں کی آنکھ کی پتلی کے لینس والے حصے vitreous میں داخل کیا اور حیران کن طور پر چوہوں نے دیکھنا شروع کردیا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے بینائی اس قدر بحال ہوجاتی ہے کہ انسان تحریروں کو بھی پڑھنے کے قابل ہوجاتا ہے، چوہوں پر حوصلہ افزا نتائج حاصل ہونے کے بعد سائنس دان اس طبی عمل کو انسانوں کے موافق بنانے پر کام کر رہے ہیں اور امید ہے جلد یہ طریقہ علاج مارکیٹ میں دستیاب ہوگا جس کی مدد سے بینائی سے محروم افراد کی آنکھوں کی روشنی بحال ہوجائے گی۔

Google Analytics Alternative