Home » 2019 » March » 02 (page 3)

Daily Archives: March 2, 2019

مودی کا تاحیات بھارتی وزیراعظم رہنے کا خواب

دفاعی لحاظ سے دُشمن کی جارحیت کا منہ توڑنے ، سرپھوڑنے اُس کی کمر دُہری کرنے کی مکمل مہارت اورایٹمی طاقت رکھنے والے مُلک پاکستان نے کنٹرول لائن کی خلاف وزری کے مرتکب گرفتار کئے گئے بھارتی پائلٹ ابھے نندن ، سروس نمبر27981 کو بھارت کے حوالے کردیاہے۔ پچھلے دِنوں پاک فضائیہ کے فائٹرطیاروں کی بروقت کاروائی کے بعد مارگرائے گئے بھارتی لڑاکا طیارے کے پائلٹ کی گرفتاری پھر رہائی کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ ہنگامی اجلاس سے خطاب کے دوران کرکے نہ صرف امن پسند پاکستانیوں بلکہ جنگی جنون میں مبتلا و سلجھے ہوئے امن کے متلاشی بھارتیوں اور یورپی دنیا کو بھی امن کا سرپرائز دے دیا ہے۔ اِس طرح امن کے متلاشی وزیراعظم پاکستان کا یہ ایک بڑا قدم ہے؛ آج اگر کوئی نفرت کی عینک آنکھوں سے ہٹا کر دیکھے، تو یقینااُسے سمجھ آجائے گی کہ ستر سال بعد پہلی بار خطے کے امن پسند وں کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں کسی پہلے پاکستانی وزیراعظم کا یہ ایک ایسا تاریخی اقدام ہے، خطے کے عوام کے لئے سنگِ میل ثابت ہوگا،اَب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے اِس اقدام کو بھارت کس طرح لیتا ہے؟ یہ اُس کا ظرف ہوگاکہ پاکستان کی امن پسندی کو جنگی جنون میں مبتلاشیطان صفت بھارتی حکمران، آرمی اور جلتی پر تیل چھڑکنے والا جھوٹا میڈیا کس طرح دیکھتے ہیں۔مگر حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ہر قسم کی جنگی مہارت رکھنے کے باوجود بھی خطے میں جنگ نہیں چاہتی ہے،جیساکہ متعدد بار پاکستان ہر فورم پر واضح کرچکا ہے کہ یہ کشمیر سمیت خطے میں درپیش ہر قسم کے مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات سے نکالنا چاہتاہے۔ جبکہ اُدھرپاکستان کی امن پسندی اور مذاکرات کی پیشکش کو بھارت پاکستان کی کمزوری ہرگز نہ سمجھے، اِس کے برعکس بھارتی وزیراعظم نریندرمودی جیسے جنونی اور خطے میں اپنی چوہدراہٹ قا ئم کرنے کے خواب دیکھنے والے حکمران ہیں۔ کہ جو خطے کو جنگی کشیدگی کی نظر کرکے اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد ات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔آج اِس سے اِنکار نہیں کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان خطے میں حالات جنگ کے باوجود بھی جنگی ، اخلاقی ، سماجی اور سفارتی محاذوں پر گرفتار بھارتی پائلٹ کی رہائی کرکے بغیر گولی چلائے، جنگ جیت چکے ہیں۔ جب کہ دہشت گرد اعظم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہے کہ جو جنگی عزائم کے ساتھ پاکستانی علاقوں میں پے لوڈ گراکر اور اپنے دوبھارتی طیارے تباہ کروا کر بھی اپنے جنگی جنون میں شکست سے دوچار ہوگیاہے۔آج جنوبی ایشیا کے امن کو جتنے بھی خطرات لاحق ہیں ، بیشک ، اِس کا ذمہ دار مسئلہ کشمیر کے حل میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی ، انڈین آرمی ،ہندوستانی میڈیا اور بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں کا جنگی جنون ہے ، آج اگرامن پسند عالمی برادری نے بروقت مداخلت کرکے اِنہیں لگام نہ دی ، تو کوئی شک نہیں کہ آنے والے دِنوں، ہفتوں اور مہینوں میں بھارتیوں کا جنگی جنون خطے کو(پاک بھارت جنگ کی صورت میں) ایک ایسی اٹیمی جنگ میں لے جائے گا، بقول وزیراعظم پاکستان عمران خان پھر جس کا رکناکسی کے بھی بس میں نہیں ہوگا۔جیسا کہ آج جنوبی ایشیا کو اندھی جنگ میں جھونکنے کی سازش اقتدار کے پجاری مودی اور اِس کے حواریوں نے تیار کررکھی ہے۔ اَب خطے کے موجودہ منظر اور پس منظر میں راقم الحرف کا قوی خیال یہ ہے کہ بھارت میں جاری الیکشن میں نریندرمودی کو پانچ بھارتی ریاستوں میں واضح شکست کے بعد مکمل طور پر اپنی ناکامی یقینی نظر آرہی ہے،اِس لئے مودی سارے الیکشن کو سپوتاژ کرنے کے لئے خود ساختہ پلوامہ حملے کو ہوادے کر خطے میں جنکی جنون کو بڑھاوا دے رہاہے تاکہ پاک بھارت جنگ چھڑ جائے؛ تو یہ بھارت بھر میں ایمرجنسی لگادے۔ پھر یہ جنگ کو جواز بنا کر خود کئی سال یا تاحیات بحیثیت بھارتی وزیراعظم اپنی حکمرانی قائم رکھے اورحکمرانی کے مزے لوٹے اِس دوران اگرکہیں سے اپوزیشن انتخابات کی بات کرے، تو پھر سرحد پر جنگ کا ماحول پیدا کردے، یوں اپنی اِس سازشی سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے مودی نے پلوامہ حملے کا خودساختہ ڈرامہ اپنے ہی لوگوں سے رچایا ہے۔ اَب جِسے حقیقی رنگ دینے کے لئے مودی پاکستان کو دہشت گرد مُلک قرار دلانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زورلگارہاہے، اور اپنے انتہا پسندوں کے ساتھ خطے میں جنگی حالات پیداکررہاہے، اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ اپنی جنگی سازش کو عملی جامہ پہناکر مودی الیکشن میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے ہر اُس حد تک جانے کو تیار ہے۔ جہاں خطے کی وادی معصوم انسانوں کے لہو سے ندی میں بدل جانے کے لئے تیاری ہے۔فروری کی چودہ تاریخ کو بھارتی دہشت گرد وزیراعظم نریندر مودی کی مقبوضہ کشمیر کے خودساختہ پلوامہ ڈرامے کے بعد بھارتیوں میں پاکستان سے بدلے کی آگ جس طرح زور پکڑ گئی ہے اِس کی تپش ابھی تک مودی اور انتہاپسند ہندوؤں میں محسوس کی جارہی ہے، جس پر بھارتی میڈیا نے تیل چھڑکنے کا کام انجام دے کر بدلے کی آگ کو بھڑکائے رکھا ہے۔جبکہ مودی سمیت ساراہندوستان ہی پاکستان سے انتقام کی آگ میں بھسم ہواجارہاہے یہی بدلے کی آگ تھی جب گزشتہ پیر منگل کی درمیان را ت اندھیرے میں 2:55 پرڈرپوک بھارتی طیاروں کی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی علاقوں میں چوروں کی طرح دو چار میل اندرآمدہوئی اور پھر اِن کا دم دبا کر بھاگ جانا بھارتی میڈیا نے اپنے ہندوستانیوں کو بڑی کامیابی کا کہہ کر دن بھردِکھایا اور جشن برپا کئے رکھایہ سب نہ صرف ہندوستانیوں نے دیکھا بلکہ پوری دنیا نے بھی جان لیا کہ بھارتی طیارے مختلف سمتوں سے پاکستانی علاقوں میں کیوں گھوسے؟ جب پاک فضائیہ کے طیارے پیچھے آئے توبھارتی طیارے کس طرح بغیر کچھ کئے اپناپے لوڈ گراکرواپس پلٹے ، آج بھی شواہد موجود ہیں کہ جہاں بھارتی طیاروں نے اپناپے لوڈ گرایا تھا اُن کی اِس حرکت کے نتیجے میں سِوائے دوچار درختوں کے اُکھڑنے اور چند چھوٹے گڑھے پڑنے کے نہ تو کوئی جانی و مالی نقصان کے آثاردِکھائی دیئے اور نہ کچھ ایسے شواہد ملے کہ جن کا بھارت دعویٰ کرتے نہیں تھک رہاہے۔ افسوس ہے کہ اپنی ناکامی پر بھی بھارت خود ہی اپنی کامیابی کا جشن مناکر اپنے ہی بھارتیوں کو بے وقوف بنا رہاہے ۔لازمی ہے کہ خطے کے امن کو خطرات سے دوچار کرتے نریندر مودی، انڈین آرمی، بھارتی میڈیا اور ہندوستان کے انتہا پسند ہندوؤں کے جنگی جنون کو امن پسند عالمی برادری لگام دے ورنہ ؟بھارتیوں کا جنگی جنون نہ صرف خطے بلکہ آدھی دنیا کوبھی جنگ میں جھونک دے گا،آج اگر ہوسکے، تو عالمی برادری مودی اوربھارتی آرمی کے ساتھ ساتھ اِن دونوں سے پیسے لے کراِنہیں اور عوام کوجنگی جنون کی دلدل میں ڈالنے والے بھارتی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے لکھاریوں اور اینکرپرسنز کے سر پرچڑھے جنگی جنون کا بھوت بھی اُتارپھینکنے کی ذمہ داری لے ، کیوں کہ یہی بھارتی میڈیا ہے آج جوخطے میں جنگی جنون کو ہوادے رہاہے۔

جتنے اونچے پیڑ تھے اتنا گھنا سایہ نہ تھا

بھارتی حکمران تو پاکستان کی بابت جو لغوبیانی قیام پاکستان سے لے کر آج تلک کرتے آ رہے ہیں وہ مزید کسی تعارف کی محتاج نہیں ، سانحہ پلوامہ کی آڑ لے کر مودی جیسے اپنی سیاست چمکا رہے ہیں اور کلبھوشن یادو جیسے دہشت گردکو معصوم قرار دینے کی سعی کر رہے ہیں، وہ بھی سب کے سامنے ہیں۔ مگر کچھ ماہ قبل خود نواز شریف نے وطن عزیز کی بابت جو باتیں کہیں انھیں گوہر افشانی سے بھی آگے کی کوئی بات قرار دیا جانا چاہیے۔ موصوف تین بار پاکستان کی اعلیٰ ترین حکومتی مسند پر فائز رہ چکے ہیں۔ ایسے میں کوئی عام شخص بھی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ پاکستان نے جو عزت و احترام انھیں دیا ، اس سے زیادہ کی توقع بھی دوسرا فرد نہیں کر سکتا۔ مگر اسے ستم ظریفی ہی نہیں بلکہ المیہ قرار دیا جانا چاہیے کہ اس شخصیت نے پاکستان کے خلاف ایسا زہر اگلا ہے ۔ گویا
تو قد و قامت سے شخصیت کا اندازہ نہ کر
جتنے اونچے پیڑ تھے اتنا گھنا سایہ نہ تھا
ممکن ہے انھیں بعض معاملات میں تحفظات ہوں۔ مگر یہ کوئی اتنی قابلِ رشک روش نہیں۔ ان کی باتوں کے نتیجے میں عالمی عدالت انصاف میں ہندوستان اس چیز کو جس طرح ’’کیش ‘‘کرانے کی سعی کر رہا ہے ، اس پر ہندوستان میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اور ان کے چینلوں اور اخبارات پر اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز نظر نہیں آتی۔ ظاہری سی بات ہے کہ وہ اپنی اس بے پایاں مسرت پر شاید خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔اس معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ پاکستان عرصہ دراز سے سرحد پار دہشت گردی کا شکار بنا ہوا ہے۔ ایسے میں سابق وزیراعظم کی طرف سے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا، یقیناًایسا مقام افسوس ہے جس کی مذمت کے لئے الفاظ ڈھونڈ پانا بھی ناممکن ہے۔ حالانکہ کسے علم نہیں کہ دہلی کا حکمران گروہ ایک جانب پاکستان کو دو لخت کرنے کے جرمِ عظیم کا صریحاً مرتکب ہو چکا ہے اور اپنے اس عمل پر ذرا سا نادم ہونے کے بجائے، اس پر فخر کا اظہار کرتا آیا ہے ۔ مثلاً اندرا گاندھی نے اپنے اس مکروہ عمل کے بعد ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ دہلی سرکار نے پاکستان کو دولخت کر کے اپنی ایک ہزار سالہ ہندو ہزیمت کا بدلا چکا دیا ہے‘‘ اس موقع پر بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپائی نے بھارتی پارلیمنٹ میں اندرا گاندھی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے کہا تھا کہ ’’شی از درگا ماتا ‘‘۔ واضح رہے کہ ہندو دھرم میں ’’درگا ماتا‘‘ کو تباہی اور بربادی کی دیوی کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے بعد بھی بھارتی حکمران جس قدر تسلسل کے ساتھ پاکستان کے خلاف لگاتار سازشوں کا جال بنتے آ رہے ہیں اس سے بھی ہر باشعور اچھی طرح آگاہ ہے۔ اسی کے ساتھ بھارتی دہشت گردی کے نتیجے میں بھارت کے طول و عرض میں اب تلک 24 ہزار سے زائد مسلم کش فسادات ہو چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہزاروں بے گناہ مسلم زندہ رہنے کے حق سے ہمیشہ کے لئے محروم کیے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد نہتے کشمیری بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اس ضمن میں یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بھارت نے پاکستان کی پوری کوشش کے باوجود ’’اجمل قصاب‘‘ تک رسائی نہیں دی۔ حالانکہ خود بھارتی دعوؤں کے مطابق بھارت میں ممبئی واقعات کا وہ مرکزی مجرم تھا اور مبینہ طور پر اس کا تعلق پاکستان سے تھا۔ ایسے میں اگر بھارتی حکمران اپنے دعوؤں میں ذرا بھی سچے ہوتے تو اس حوالے سے پاکستانی تفتیشی اور تحقیقی ٹیم کو اس ضمن میں ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوت فراہم کرتے مگر انھوں نے 2012 میں اجمل قصاب کو فوری طور پر پھانسی پر لٹکا دیا تا کہ اس ضمن میں تمام ثبوتوں کو مٹایا جا سکے ۔ وگرنہ کسے علم نہیں کہ راجیو گاندھی کے قاتلوں کو 27 برس سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال پھانسی نہیں دی گئی۔ راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث ساتوں ملزمان زندہ ہیں ۔ چند ماہ قبل ’’رابرٹ پیوس‘‘ سمیت ان ملزمان نے دہلی سرکار کو خط لکھ کر استدعا کی تھی کہ چونکہ وہ 27 برس سے قید کاٹ رہے ہیں ، لہٰذا وہ زندگی کا مقصد کھو چکے ہیں اور ان پر رحم کھا کر انھیں ’’پھانسی‘‘ کی سزا دے دی جائے۔ مبصرین کے مطابق ایسے میں اجمل قصاب کو جتنی عجلت میں سزائے موت سنائی گئی اور اس پر عمل کیا گیا ، وہ اپنے آپ میں بہت سے ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے جس پر دنیا کے باشعور حلقوں کو تشویش ہونی چاہیے۔ مگر آفرین ہے پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر کہ انھوں نے تمام تر ملبہ پاکستان کے کندھوں پر ڈال کر گویا اپنی جانب سے بھارت کو بری الذمہ قرار دے دیا۔ اس سارے معاملے پر افسوس کرتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے ۔

Google Analytics Alternative