Home » 2019 » March » 03

Daily Archives: March 3, 2019

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ تشویشناک صورتحال

سلطنت روما کا زوال تاریخ کا عبرتناک اور سبق آموز باب ہے روما کے ’خدابنے حکمران‘ اپنی طاقت قوت‘وحشت و ہیبت‘سطوت اور تکبرونخوت کے نشہ میں چورکمزور‘بے بس اور ناتواں انسانوں پرروما حکمرانوں نے کیسے کیسے مظالم نہیں ڈھائے وہ تو کمزور و ناتواں اقوام کو انسان سمجھتے ہی نہیں تھے، بلا آخر زوال پذیر ہوئے جن کے شرمناک اور ذلت آمیز شکست وریخت کے واقعات سے جدید عہد کے جدید سامراجیوں نے کچھ سیکھنا گوارا نہیں کیا، سلطنت روما کے زوال کے اسباب وہ جاننا چاہتے ہی نہیں اگر جاننے کی کوشش کرتے تو اْنہیں علم ہوتا سلطنت روما کے زوال کی ابتداء کی اصل وجہ کیا تھی محکوم اقوام پر اُن کے غاصبانہ اقتدار کی گرفت جب ڈھیلی پڑی تو اُنہیں پتہ چلا کہ افواج جو طاقت وقوت اور تحفظ کا واحد سرچشمہ ہوتی ہیں روما کے اقتدار کے کرتا دھرتاؤں نے اپنی قومی فوج کو اپنا ذاتی نوکر بنایا ہوا تھا اْن کی فوج جس کی پیشہ ورانہ لڑاکا مہارت کا شہرہ تھا اْن کی عسکری منظم جنگی مہارتوں کا جو شہرہ ایک عالم میں پھیلا ہوا تھا اُس وقت روما کی فوج کا جو رعب ودبدبہ تھا وہ فوج جب اپنے عسکری امور کے بنیادی اصولوں سے ہٹ گئی بادشاہوں کے خاندانوں اور اْن کے اشرافیہ کے نوکروں کی عاد ات روما کی فوج میں منتقل ہوگئیں فوج ریاست کی نوکربن کررہ گئی مطلب یہ کہ سلطنت روما کے بادشاہوں کا جاہ وجلال فوج کے نوکر بننے کے بعد صرف دکھاوے کا رہ گیا، پیشہ ور منظم فوج کی غیر موجودگی میں ظاہر ہے کہ بادشاہ اور اْن کے خاندان کے شاہی افراد خود کیا محفوظ رہتے؟ سابقہ سوویت یونین کی شکست وریخت کا انجام اُس کے سامنے ہے اِسی ’انڈین یونین‘ نے بھی اپنی فوج کو’ نئی دہلی کا نوکر بنا دیا گیا ‘ اُس کی ادارہ جاتی عسکری خود مختاری کے کردار کو ’ہندوتوائی نظام‘ میں ضم کردیا گیا ، اب بھارت کی فوج قرونِ وسطیٰ کے مہندم سلطنتِ روما جیسی ’نوکر فوج‘ کی شکل اختیار کرچکی ہے اپنے طور گو بعض بھارتی فوجی جنرلز کبھی کبھار کوئی اخباری بیان ’مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل ‘کے سلسلہ میں جاری کر دیتے ہیں مگر اُن کی سنتا کوئی نہیں‘ کشمیر کی موجودہ تشویشناک صورتحال بھارتی فوج کیلئے ایک بہت اہم سنگین ایشو بن گیا ہے، ہر دوماہ بعد نئی دہلی کے حکم پر تازہ دم فوجی دستے وادی میں بھیج دئیے جاتے ہیں مگر پھر بھی کشمیر نئی دہلی کی لاکھ کوششوں کے باوجود عالمی میڈیا کی سرخیوں میں رہتا ہے حال ہی میں اْس وقت بھارت کو بہت بڑی سفارتی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جب اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے پاکستان کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے رپورٹ جاری کر دی کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ظالمانہ خلاف ورزیاں ہورہی ہیں اقوام متحدہ کمیشن کی یہ رپورٹ 20 جون 2018 کو نئی دہلی کے حوالے کی گئی جس پر بھارت سخت چراغ پا ہوا لیکن حقائق سے مفر ممکن نہیں‘ جو سچ ہے وہ دنیا کے سامنے آگیا پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی طرف سے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی سفارشات کا مطالبہ کیا تھا، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 38 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو آگاہ کیا کہ ’اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق حالیہ رپورٹ اس حوالے سے پاکستان کے دیرینہ موقف کی واضح توثیق کرتی ہے، دوسری جانب اپنی ہی جاری کردہ رپورٹ میں اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاکیت کا معترف بھی نظرآتا ہے ساتھ ہی ’بے بسی‘ کا اظہار؟ عوامی جمہوریہ چین نے کسی لگی لپٹی کے بغیر اس بارے میں اپنی بجا تشویش کا اظہار کیا کیونکہ یہ انتہائی حساس معاملہ علاقائی امن وسلامتی سے تعلق رکھتا ہے جنوبی ایشیا کے امن سے ایشیا کا امن وابستہ ہے اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے سنگین سلگتے مسئلہ پر اپنی ‘بے بسی’ کی پالیسی سے نظرثانی کرنی پڑے گی کشمیر میں انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے منظور کردہ نکات کی خلاف ورزیوں کا جواب بھارت سے کرنا پڑے گا ایل اوسی کی خلاف ورزیاں روز کا معمول بنتی جارہی ہیں 19 جنوری کوکھوئی رٹہ اور اِس سے ملحق علاقہ میں بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں جوسنگین ناخوشگوار واقعات دنیا نے اخبارات میں پڑھے ٹی وی اسکرینیوں پر دیکھے اس پر مستقبل کی عظیم سپرپاور چین کی تشویش کی سنگینی سے پہلو تہی نہیں کی جاسکتی یہاں پر یاددلادیاجائے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پائمالی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد پر تحقیقاتی کمیشن کے فوری قیام کا مطالبہ کیا تھا، عالمی میڈیا سمیت مقبوضہ وادی سے آنے والی خبروں کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں وزیر اعظم پاکستان کے اس جائز مطالبہ کے فوراً بعد کشمیر میں غاصب بھارتی فوج کی کارروائی میں تین کشمیری حریت پسند جبکہ آٹھ نہتے معصوم شہری شہید کرد ئیے گئے ظلم و بربریت کا یہ واقعہ پلوامہ میں بھارتی فوج کی براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں رپورٹ ہوا نئی دہلی کے بزرجمہروں نے ہرقیمت پر کشمیر کو اپنے زیر نگیں رکھنے اور کشمیریوں پرظلم وستم کے پہاڑ توڑنے کے سفاکانہ حربے آزمانے کا جو ہتھکنڈا اپنی فوج کوازبر کرادیا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگے کہ ’یہ بھارت ہے ماضی کی سلطنت روما نہیں ہے لہٰذاء جیسے ’روما‘ کے حکمران اپنی فوج کوا پنا ذاتی ملازم سمجھ کر تباہ برباد ہوئے بھارت برباد نہیں ہوگا ؟یہ کیسے ممکن ہے نئی دہلی نے خود کو ’سلطنت روما سمجھا ہوا ہے کھل کر انسانیت کی تذلیل پر تذلیل ہورہی ہے کیا نئی دہلی کو چلانے والے تاریخ سے سبق سیکھنا نہیں چاہتے نہیں جانتے کہ تاریخ ہمیشہ ہر عہد میں اپنے آپ کو زندہ رکھتی ہے سلطنتِ روما کی طرح سے ’بھارتی یونین‘ نے بھی انسانیت کی بقاء اور احترام کی تاریخ سے روگردانی کا وطیرہ اپنا رکھا ہے۔

فی تولہ سونا 450 روپے سستا ہوگیا

کراچی :- عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی ہوئی ہے جس کے اثرات پاکستانی مارکیٹ میں بھی دیکھے گئے ہیں۔

سندھ صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 15 ڈالر کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد سونا 1294 ڈالر فی اونس ہوگیا ہے۔ سونے کی قیمت میں کمی کے اثرات پاکستان میں بھی دیکھے گئے ہیں اور فی تولہ سونا 450 روپے سستا ہو کر 68 ہزار 700 روپے کا ہوگیا ہے۔ سونے کی 10 گرام قیمت میں 385 روپے کی کمی ہوئی ہے اور یہ 58 ہزار 900 روپے کا ہوگیا ہے۔

پاکستانیوں کو بھارت کے ساتھ لڑائی پر لگا کر حکومت چپکے سے سب کے ساتھ ہاتھ کر گئی

اسلام آباد :-  پاکستان اور بھارت میں حالیہ کشیدگی کے باعث قوم اس معاملے کی طرف پوری طرح متوجہ ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے خاموشی کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا لیکن اس پر کوئی خاص رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔مین سٹریم کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی پاک بھارت کشیدگی کا ہاٹ ٹاپک ہونے کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خبر وہ توجہ نہیں حاصل کرپائی جو عام حالات میں پاتی ہے۔

بھارت کی جانب سے 26 فروری کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی جس کے جواب میں پاکستان نے 27 فروری کو اپنی دفاعی قوت کا مظاہرہ کیا۔ پوری قوم پاک فضائیہ کی کامیابی کا جشن منارہی تھی تو ایسے میں اوگرا نے وزارت خزانہ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھجوادی۔ 28 فروری کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی گئی لیکن اس روز بھی پاک بھارت کشیدگی ہی میڈیا پر موضوع بحث رہا جس کے باعث اس خبر کو مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر جگہ نہیں مل پائی۔

یکم مارچ کو بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی اور بھارت کو حوالگی ہی میڈیا پر بریکنگ نیوز بنی رہی جس کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خبر دب کر رہ گئی۔ اس حوالے سے بے خبری کا یہ عالم ہے کہ یکم مارچ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مسلم لیگ ن کی رکن عنیزہ فاطمہ نے پنجاب اسمبلی میں قرار داد بھی جمع کرائی لیکن بہت سے پاکستانی اس سے بھی لاعلم ہیں۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 2روپے 50 پیسے کااضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 92 روپے 88 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 75 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 111 روپے 43 پیسے ہوگئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کا تیل 4 روپے جبکہ لائٹ ڈیزل ڈھائی روپے فی لٹر مہنگا ہوا ہے۔یہاں یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق یکم مارچ 2019 سے ہوا ہے۔

عمرکا وہ حصہ جس میں زیادہ ٹی وی دیکھنا صحت کے لئے سب سے خطرناک ہوتا ہے

لندن:- یوں تو زیادہ ٹی وی دیکھنا عمر کے کسی بھی حصے میں فائدہ مند نہیں ہو سکتا تاہم اب نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے عمر کا وہ حصہ بتا دیا ہے جس میں زیادہ ٹی وی دیکھنا پوری زندگی میں سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوںنے تحقیقاتی نتائج میں بتایا ہے کہ ادھیڑ عمری میں زیادہ ٹی وی دیکھنا سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور ایسے شخص دماغی کمزوری، یادداشت کی کجی اور ڈپریشن جیسے امراض میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں اور ان کو ڈیمنشا(Dementia)لاحق ہونے کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں یونیورسٹی کالج لندن کے سائنسدانوں نے 18سے 60سال کی عمر کے 3600مردوخواتین کی ٹی وی دیکھنے کی عادت اور ان کے طبی ریکارڈ کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کے یادداشت کے بھی ٹیسٹ لیے گئے۔ نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ 45سے 60سال کی عمر کے وہ لوگ جو ساڑھے تین گھنٹے روزانہ ٹی وی دیکھنے تھے ان کی یادداشت کم ٹی وی دیکھنے والوں کی نسبت10فیصد تک زیادہ کمزور تھی۔ ان لوگوں کو کچھ الفاظ یاد کرنے کو دیئے گئے اور جب انہیں وہ الفاظ زبانی دہرانے کو کہا گیا تو ساڑھے تین گھنٹے روزانہ ٹی وی دیکھنے والوں نے 10فیصد کم کارکردگی دکھائی۔

یہ تجربات پہلی بار 2008-09ءمیں کیے گئے اور دوبارہ انہی افراد پر 2014-14ءمیں یہ عمل دہرایا گیا۔ دوسری بار کم عمر لوگوں پر زیادہ ٹی وی دیکھنے کے بہت کم مضر اثرات سامنے آئے۔ اس کے برعکس بڑی عمر کے لوگوں میں ان سالوں کے دوران زیادہ ٹی وی دیکھنے کے نقصانات واضح طور پر کھل کر سامنے آگئے۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈیزی فینکورٹ کا کہنا تھا کہ ”اب تک ٹی وی دیکھنے کے نقصانات پر بہت زیادہ تحقیقات کی گئیں تاہم ان میں سے زیادہ تر میں بچوں پر ٹی وی کے مضراثرات کو موضوع بنایا گیا، تاہم ہماری تحقیق میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ادھیڑ عمر کے لوگ سب سے زیادہ اس چیز سے متاثر ہوتے ہیں۔

5G انٹرنیٹ صارفین کے لئے کب متعارف کروایا جائے گا؟ اعلان ہوگیا

لندن:- موبائل فون صارفین کو 5جی کا بے صبری سے انتظار تھا تاہم اب ان کا انتظار ختم ہونے کو ہے۔میل آن لائن کے مطابق 5جی سروس اسی سال متعارف کروائی جا رہی ہے تاہم اس حوالے سے حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ رواں سال صارفین کا تیز ترین 5جی سروس کا انتظار تو ختم ہو جائے گا تاہم اس سے ان کی جیب پر بوجھ مزید بڑھ جائے گا کیونکہ فائیو جی سروس موجودہ تھری جی اور فور جی سے بہت مہنگی ہو گی اور انہیں 5جی کو سپورٹ کرنے والے موبائل فونز خریدنے کے لیے بھی 2ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 3لاکھ 66ہزار روپے)تک کی رقم خرچ کرنی پڑے گی۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں 5جی کنکشنز کی نیلامی بھی ہو گئی ہے اور ملک کے بڑے موبائل آپریٹرز نے 1ارب 40کروڑ پاﺅنڈ کی خطیر رقم بھی ادا کر دی ہے تاکہ وہ اپنے صارفین کو یہ تیز تر سروس مہیا کر سکیں۔ ان آپریٹرز میں ووڈا فون، او 2، تھری اور ای ای شامل ہیں۔ ای ای کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی بہت جلد لندن، کارڈف، ایڈنبرا، بیلفاسٹ، برمنگھم اور مانچسٹر میں فائیو جیسی سروس شروع کرنے والی ہے اور رواں سال کے اختتام تک اپنی سروس کا دائرہ مزید 10شہروں تک پھیلادے گی۔

اپنے طیارے کی تباہی اور پھرچھلانگ لگانے سے قبل بھارتی پائلٹ ابھی نندن نے ریڈار پر آخری بار کیا میسج کیا؟بھارتی میڈیا نے بتا دیا

نئی دہلی:- بھارتی طیارے گرائے جانے کے بعد بھارت نے دعویٰ کیا کہ ابھی نندن نے پاکستان کا ایک ایف سولہ طیارہ گرایا ہے تاہم پاک فوج نے اس کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کے دوران ایف سولہ طیارے استعمال ہی نہیں کیے گئے اور بھارتی طیاروں کو جے ایف تھنڈرز نے گرایا ۔

بھارتی میڈیا نے اب ایک اور دعویٰ کر دیا ہے جس میں کہا جارہاہے کہ طیارہ گرنے سے قبل ابھی نندن کا ریڈار پر موصول ہونے والا آخری پیغام بھی سامنے آ گیا ہے ۔بھارتی ویب سائٹ ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ ابھی نندن نے آخری پیغام میں بتایا کہ ” میزائل آر 73 منتخب کر لیا گیا ہے “ ،انہوں نے میزائل پاکستانی ایف سولہ پر چھوڑا اوراس کے فوری بعد ان کا طیارہ بھی تباہ ہو گیا ۔

بھارت کی جانب سے مسلسل یہ بے بنیاد دعویٰ کیا جارہاہے لیکن جب بھارتی میڈیا نے تینوں افواج کے نمائندوں سے پریس کانفرنس کے دوران ثبوت کا مطالبہ کیا تو ان کی جانب سے بات کو گول مول کر دیا گیا اور ایک میزائل کا بچا ہوا ٹکرا دکھایا گیا جبکہ بھارتی میڈیا اور دیگر افراد کی جانب سے بالاکوٹ میں کی جانے والی کارروائی کے ثبوت مانگے جارہے ہیں ۔

یاد رہے کہ پاک فضائی نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والے دو بھارتی طیاروں کو مار گرایا جس میں سے ایک کاملبہ مقبوضہ کشمیر میں جا گرا جبکہ دوسرے کا ملبہ پاکستان میں گرا اور اس کے پائلٹ بھی نندن نے خود کو ایجیکٹ کر لیا ۔بھارتی پائلٹ پاکستان کی سرزمین پر لینڈ کیا تواسے مقامی افراد نے پکڑ لیا تاہم پاک فوج کے جوانوں نے بر وقت وہاں پہنچ کر ابھی نندن کو اپنی تحویل میں لیا تاہم وزیراعظم عمران خان نے جذبہ خیر سگالی اور امن کے قیام کیلئے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کیا اور گزشتہ دو روز قبل اسے واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ۔

مودی کو ایک اور جھٹکا ، اہم رہنما پارٹی چھوڑ کر کانگرس میں شامل ہو گیا

نئی دہلی :- بھارتیہ جنتہ پارٹی کی ناراض رکن پارلیمنٹ ساوتری نے پارٹی چھوڑ دی ہے اور بی جے پی کی حریف جماعت کانگرس میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق بی جے پی کی سابق رہنما ساوتری بائی نے دسمبر میں پارٹی کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا جس کے بعد اب انہوں نے کانگرنس میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔پارٹی کے سربراہ راہول گاندھی نے انہیں پارٹی میں خوش آمدید کہا اور ان کے گلے میں پارٹی جھنڈا بھی پہنایا ۔

دوسری جانب بھارتی فوج نے معصوم کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں ، ہنداڑہ کے علاقے میں بھارتی فوج کا محاصرہ تیسرے روز بھی جاری ہے اور 60 گھنٹوں کے محاصرکے دوران دو کشمیر ی شہری شہید ہو گئے ہیں ۔

پاکستان میں فضائی کارروائی سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی، بھارتی وزیر نے تسلیم کرلیا

نئی دہلی:- بھارتی وزیر نے انتہا پسند میڈیا کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ پاکستان میں فضائی کارروائی سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پرزور مطالبہ کیا جارہا تھا کہ اگر پاکستان میں کارروائی کے دوران 300 دہشتگرد مارے گئے ہیں تو اس کے ثبوت کہاں ہیں، کارروائی کی ویڈیو یا تصاویر کیوں جاری نہیں کی جارہیں۔بھارتی وزیر سرندراجیت سنگھ اہلووالیہ نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں بھارتی فضائیہ کی کارروائی محض وارننگ تھی تاہم پاکستان میں بڑا نقصان نہیں ہوا۔

بھارتی وزیر نے انتہا پسند میڈیا کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب کرتے ہوئے کہا کیا نریندر مودی نے 300 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا؟، اور کیا بی جے پی کے ترجمان نے ایسا کچھ کہا۔اس سے قبل کانگریس کے اہم رہنما ڈگ وجے سنگھ نے مودی حکومت سے بالاکوٹ حملے کے تصویری شواہد دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کو مبارکباد دیتے ہیں جنہوں نے اچھا ہمسایہ ہونے کا نیا راستہ دکھایا۔پائلٹ کو واپس بھیجنے کے اقدام پر بھارتی ایوان بالا کے رکن نے وزیراعظم عمران خان کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

یاد رہے کہ بھارتی طیاروں نے 25 اور 26 فروری کی درمیانی شب لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہو کر ایمونیشن گرا کر فرار ہوئے جس کا بھرپور جواب دیتے ہوئے اگلے ہی روز پاک فضائیہ نے دو بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو بھی گرفتار کیا جسے بعدازاں بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔

Google Analytics Alternative