Home » 2019 » March » 03 (page 2)

Daily Archives: March 3, 2019

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک جملے نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا

واشنگٹن :- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر اتنا ہی ٹیکس عائد کرنے کا عندیہ دے دیا جتنا امریکی مصنوعات پر بھارت میں وصول کیا جاتا ہے۔

کنزر ویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بھارت میں ہماری مصنوعات کے ٹیرف بہت زیادہ ہیں۔ جب ہم انڈیا میں ایک موٹر سائیکل بھیجتے ہیں تو وہ اس پر 100 فیصد ٹیرف وصول کرتے ہیں لیکن جب انڈیا امریکہ میں موٹرسائیکل بھیجتا ہے تو ہم اس پر کچھ بھی چارج نہیں کرتے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ بھارتی مصنوعات پر برابری کی سطح پر ٹیکس عائد کرنا چاہتے ہیں، یعنی جس امریکی چیز پر بھارت جتنا ٹیکس وصول کرتا ہے اگر اسی کے مقابلے کی بھارتی چیز امریکہ جائے گی تو اس پر بھی اتنا ہی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر یہ ممکن نہ بھی ہوسکا تو سب سے کم ترین یہ ہے کہ وہ بھارتی مصنوعات پر کچھ نہ کچھ ٹیکس ضرور لگائیں گے۔

ایل او سی پر شہید ہونے والے حوالدارعبدالرب مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک

تونسہ:- لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے جوان عبدالرب کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔

شہید حوالدار عبدالرب کی نماز جنازہ تونسہ کے گاو¿ں بستی نتکانی میں ادا کی گئی جس میں پاک فوج کے افسران، شہید کے اہلخانہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 پاک فوج کے دستے نے شہید حوالدار عبدالرب کو سلامی پیش کی جبکہ وزیراعظم عمران خان اور سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے پھول بھی رکھے گئے۔

گزشتہ روز بھارتی فوج کی ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کے حوالدار عبد الرب اور نائیک خرم سمیت 4 افراد شہید ہوگئے تھے۔

بھارت کو پاکستان مخالف کرکٹ کے میدان میں بھی عالمی سطح پر ناکامی

دبئی:-  بھارت کو کرکٹ کے میدان میں بھی عالمی سطح پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انٹر نیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے بھارت کا پاکستان کو ورلڈ کپ سے بین کرنے کا موقف مسترد کر دیا ہے،بھارتی کھلاڑیوں کو اضافی سیکیورٹی دینے کا مطالبہ بھی آئی سی سی نے مسترد کر دیا ہے۔آئی سی سی حکام کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی کسی بھی ٹیم کو کوئی سیکیورٹی خدشات نہیں ہیں۔

  پلوامہ حملے میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ نے عندیہ دیا تھا کہ پاکستان کو ورلڈکپ 2019 سے باہر نکلوانے کیلئے آئی سی سی سے رابطہ کیا جائے گا۔آئی سی سی کو بھیجنے کیلئے لکھے گئے خط کے ایجنڈے میں شامل تھا کہ پاکستان دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اور بھارت میں ہونے والے حالیہ پلوانہ حملے میں بھی ملوث ہے۔بھارت کے سابق ممتاز بلے باز سارو گنگولی نے کہا تھا کہ بھارت چاہ کر بھی پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ سے باہر نہیں کرسکتا۔

 انہوں نے کہا تھا کہ اس بات کا ایک فیصد بھی امکان نہیں ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) بھارت کی بات مانے گا۔ ساروگنگولی کا کہنا تھا کہ آئی سی سی بھارت کے دباؤ میں آکر پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ سے باہر کرنے جیسا کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔بھارت کے سب سے پرانے کرکٹ کلب کی جانب سے کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں پاکستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

کوٹلی سیکٹر سے 375 خاندانوں کے 2599 افراد نقل مکانی کر کے محفوظ مقام پر منتقل

کوٹلی:- لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے باعث کوٹلی سیکٹر سے 375 خاندانوں کے 2599 افراد نقل مکانی کر کے محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے۔

ڈپٹی کمشنر کوٹلی ڈاکٹر عمر اعظم نےبتایا کہ کوٹلی کے 4 سیکٹرز چڑھوئی، کھوئی رٹہ، نکیال اور تتہ پانی سے 375 گھرانوں کے 2599 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، حکومت آزاد کشمیر کی ہدائت پر نقل مکانی کرنے والے افراد کو اپنے وسائل کے مطابق اکاموڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

 واضح رہے کہ 113 خاندان دندلی اسکول،166 چڑھوئی کالج جبکہ 96 گھرانے اپنے رشتہ داروں کے ہاں منتقل ہوئے ہیں۔

مودی کو بتایا تھا عمران خان پٹھان ہے،جوکہے گاوہ کرےگا،ڈاکٹر رمیش کمار

اسلام آباد :_ پاک بھارت کشیدگی پر اقلیتی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا ہے کہ مودی کو بتایا تھا عمران خان پٹھان ہے،جوکہے گاوہ کرےگا،نوازشریف کے دور میں بھی مذاکرات درست تھے اور آج بھی درست ہیں۔

پاک بھارت کشیدگی پر اقلیتی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

 ان کا کہناتھا کہ ملاقات کے ددوران مودی کو بتایا تھا عمران خان پٹھان ہے،جوکہے گاوہ کرےگا،انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے دور میں بھی مذاکرات درست تھے اور آج بھی درست ہیں۔

ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ پاکستان کو او آئی سی کا پلیٹ فارم خالی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا،کچھ وزرا نئے ہیں، انہیں سینئرارکان کی عزت کرنی چاہیے۔

لاہور ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق بحال

لاہور : _ پاک بھارت کشیدگی کے باعث لاہور ایئرپورٹ پر معطل ہونے والے فلائٹ آپریشن کو دوبارہ بحال کردیا گیا ہے۔

پاکستان میں ہوابازی کے نگراں ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے نوٹیفکیشن کے مطابق علامہ اقبال انٹر نیشنل ایئر پورٹ لاہور کے فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق بحال کردیے گئے ہیں اور فضائی آپریشن آج صبح 6 بجے سے دوبارہ شروع ہوچکے ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق تمام فضائی کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے سے متعلق آگاہ بھی کردیا گیا ہے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل فلائٹس کو ری شیڈول کیا گیا ہے اور مسافروں کی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ائیرپورٹ آنے سے قبل 0215 ہیلپ لائن پر کال کر کے معلومات حاصل کرلیں۔

ملک بھرمیں بارشیں، لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ

اسلام آباد :_ پاکستان کے طول وعرض میں بارشوں کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں کے سبب مالاکنڈ، ہزارہ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈ کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بارشوں کا سلسلہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ آج کے روز کم سے کم درجہ حرارت 9 ڈگری سینٹی گریڈ رہے گا۔

ہزارہ، راولپنڈی، گوجرانوالہ ڈویژن، کشمیر، گلگت بلتستان، پشاور، مالاکنڈ، مردان، سرگودھا اور لاہور ڈویڑن میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشیں برسانے والا سسٹم سوموار تک ملک کے بیشتر علاقوں پر موجود رہے گا۔

لاہور میں تیسرے روزبھی بادلوں کے ڈیرے ہیں اورآج بھی چند مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ لاہور کا درجہ حرارت آج کم سے کم آج کم ازکم درجہ حرارت11 ڈگری سینٹی گریڈ رہے گا۔

کراچی میں بارش برسانے والا سسٹم۔کمزور پڑگیا ہے اور آج بارش کا امکان نہیں لیکن مطلع جزوی ابر آلود رہے گا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج کراچی کا کم سے کم درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ رہے گا۔

مری میں دو فٹ کے قریب برف پڑچکی ہے اور برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ شدید برف باری سے نظام زندگی درہم برہم ہو گیا ہے۔

پاک بھارت کشیدگی۔۔۔ عالمی کوششیں عروج پر اور پاکستان کے امن اقدامات

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ کو واپس کرکے سفارتی سطح پر بھارت سے جنگ جیت لی ، یہ امن کی جانب ایک قدم ہے جس کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے چونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں ان کے مابین جنگ پوری دنیا کیلئے ہولناک ثابت ہوگی اور اتنی تباہی پھیلے گی جس کو ضابطہ تحریر میں لاکر بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی برادری اس حوالے سے سخت پریشان ہے اور عالمی سفارتی کوششیں عروج پر جارہی ہیں تاکہ پاک بھارت مسئلے کو حل کیا جاسکے۔ اب مسئلہ کیا ہے جیسا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ، مسئلہ کشمیر ہے اس کے حل ہونے تک خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اس سلسلے میں پاکستان نے ہمیشہ مثبت انداز میں قدم بڑھایا لیکن بھارت نے ان کوششوں کو ہمیشہ برباد کیا۔ مودی نے اب بھی محض الیکشن جیتنے کیلئے خطے کا امن تہہ و بالا کررکھا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا ہوچکی ہے اسی وجہ سے اس نے پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کی۔ پہلی خلاف ورزی پر پاکستان نے اس کو متنبہ کیا لیکن جیسے ہی دوسری دفعہ اس نے حرکت کی تو دشمن کا نہ صرف جہاز مار گرایا بلکہ ایک پائلٹ بھی زندہ گرفتار کرلیا۔ جذبہ خیر سگالی اور جنیوا کنونشن کے تحت بھارتی جنگی قیدی واپس بھی کردیا۔ جب بھی پاکستان پر جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں تو پوری قوم ،سیاسی و عسکری قیادت سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی جارحیت کیخلاف متفقہ قرارداد منظور کی گئی اور تمام پارلیمانی رہنماؤں نے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔ بھارت یہ نہ سمجھے کہ پاکستان اپنی آزادی اور استحکام کے سلسلے میں کسی بھی کوتاہی کا مرتکب ہوگا اگر بھارت نے کوئی بھی مذموم کوشش کی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں میں پاکستان نے روس کی ثالثی کی پیشکش کو قبول کرلیا جبکہ سعودی عرب، چین آسٹریلیا ، برطانیہ ،اردن پاکستان سے رابطے میں ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی یو ایس سینٹکام کے کمانڈر، برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف اور آسٹریلین چیف آف ڈیفنس فورس، امریکہ ،برطانیہ اور چین کے سفیروں سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر جنرل جوزف، برطانوی ڈیفنس سروسز کے کمانڈر جنرل نکلس کارٹر، آسٹریلوی ڈیفنس فورسز کے کمانڈر اور پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر، امریکی سفیر سے رابطے کرکے پاک بھارت موجودہ کشیدہ صورتحال اور اس کے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام پر اثرات کے بارے بات چیت کی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہم دفاع سے غافل نہیں پاکستان کسی بھی جارحیت پر اپنے دفاع میں بھرپور جواب دے گا۔ بین الاقوامی برادری بھی پاک بھارت کشیدہ صورتحال پر متفکر ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ بھی اس سلسلے میں پاکستان تشریف لارہے ہیں جبکہ فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے بھی ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مسائل مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ چین کے ایلچی بھی اسلام آباد آرہے ہیں۔ نیز روس کے وزیر خارجہ نے کہاکہ روس خطے میں قیام امن کا متمنی ہے۔پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون
پر بات چیت کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں ۔ علاوہ ازیں اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیلی فون کیا اور پاک بھارت بڑھتی کشید گی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مشکل صورتحال کو مدبرانہ طریقے سے ہینڈل کرنے پر وزیراعظم عمران خان کو مبارکباد دی اور ساتھ ہی ثالثی کی پیشکش بھی کی۔ وزیراعظم نے اس امر کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے مابین بنیادی تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے جس کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سفارتکاری کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کے مکروہ چہرے کو اور واضح کیا جائے۔ او آئی سی کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مدعو کرنے پر پاکستان نے احتجاجاً شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں ہم یہ حکومت سے کہیں گے کہ دشمن کیلئے کبھی بھی میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہیے ایسے میں جب عرب ممالک سے ہمارے تعلقات بہترین جارہے ہیں، سعودی ولی عہد کا دورہ اور ان کی سرمایہ کاری قابل ذکر ہے تو ایسے میں او آئی سی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان قابل فہم نہیں، وہاں جاکر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش کرنا چاہیے اور بھارت کے ظلم و ستم کا پردہ چاک کرنا چاہیے۔ او آئی سی کانفرنس میں جاکر بتایا جائے کہ بھارت کس طرح مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے، کوئی بوڑھا، جوان، بچہ، عورت کسی طرح بھی محفوظ نہیں، گھر گھر تلاشی کے بہانے پر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔ ساڑھے سات لاکھ سے زائد دہشت گرد بھارتی فوج نے نہتے کشمیریوں کا عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے ، پھر بات یہاں تک نہیں ٹھہرتی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جنگ کے فوبیا میں مبتلا ہیں، بھارتی اپوزیشن اور دیگر سیاسی رہنما مودی کے اقدامات کی سخت مخالفت کررہے ہیں مگر مودی میں نہ مانوں کے مصداق حالات کو خراب کرنے کے درپے ہے۔ ان تمام معاملات کو او آئی سی کے پلیٹ فارم کے ذریعے دنیا بھر کے مسلم ممالک تک پہنچانا انتہائی ضروری ہے۔ ایسے میں اگر بھارت کیلئے میدان خالی چھوڑ دیا گیا تو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ لہذا ہم یہ کہیں گے کہ او آئی سی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان دانشمندانہ نہیں حکومت کو چاہیے کہ اس پر دوبارہ غور کرے۔
مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے
عوام پہلے ہی سرحدی حالات کی وجہ سے سخت پریشان ہے ایسے میں حکومت نے پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا، بجلی مہنگی، ابھی اس مہنگائی کے چکر سے عوام نکل نہ پائی تھی کہ گیس مہنگی کرنے کی نوید سنا دی گئی۔ ساتھ ہی ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کردیا گیا۔ مہنگائی کی صورتحال یہ ہے کہ دو وقت کی روٹی پوری کرنا محال ہے اوپر سے گیس کی لوڈشیڈنگ نے زندگی کو اجیرن بنا رکھا ہے۔ لاکھوں بچے بغیر ناشتے کے سکول جانے پر مجبور ہیں کیونکہ گھریلو صارفین کے سوئی گیس کے چولہے موم بتی کی لو کی طرح ٹمٹماتے رہتے ہیں ، جب گیس کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل نہ ہوا تو عوام نے معاملات زندگی چلانے کیلئے ایل پی جی گیس کی جانب توجہ کی تو حکومت نے اسے بھی مہنگا کردیا۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ آخر غریب عوام کدھر جائے ایک طرف وہ سرحد پار دشمن کیخلاف پاک فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے اور دوسری جانب حکومت اسے مہنگائی کی چکی میں پیس رہی ہے۔ چکی کے ان دو پاٹوں میں تقسیم عوام کس طرح اپنی زندگی بسر کرسکے گی۔ یہی ہمارا حکمرانوں سے سوال ہے خدارا اس جانب توجہ دیں اور اس مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے۔

Google Analytics Alternative