Home » 2019 » March » 03 (page 3)

Daily Archives: March 3, 2019

بھارتی فورسز کی پریس کانفرنس، سفید جھوٹ

کہتے ہیں نہ کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اگر ایک بار جھوٹ بول دیں تو اس کو بچانے کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ آج کل بھارتی سرکار، فورسز اور میڈیا کا بھی یہی حال ہے۔ پلوامہ سانحہ پر پہلے پہل تو بغیر ثبوت الزامات پاکستان پر عائد کیے گئے ۔ اس کار خیر میں بھارتی میڈیا ، سیاستدان، سرکار اوربھارتی فوج نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پاکستان کو دھمکیاں دی گئیں۔ اسے دہشت گرد ملک ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا۔ یہ نریندر مودی تھے جنہوں نے چند روز قبل راجستھان میں جلسے کے دوران پاکستان کے ساتھ ’حساب برابر‘ کرنے کا نعرہ لگایا تھا اور اس کے بعد بالاکوٹ میں بھارتی فضائی حملہ کیا گیا۔پیر اور منگل کی درمیانی شب دو بھارتی طیارے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چار کلومیٹر اندر گھس آئے اور کھلی جگہ پر اپنا اسلحہ پھینک کر بھاگ گئے ۔ اس خود ساختہ حملہ میں صرف تین چار درخت ہلاک اور زخمی ہوئے۔اس کے برعکس بھارت نے شور مچا دیا کہ بھارتی طیاروں نے پاکستان میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ پر حملہ کیا اور تین سو سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ وزیر اعظم مودی نے بھی اپنے گجرات کے انتخابی جلسے میں اس اٹیک کو استعمال کرتے ہوئے خو ب بڑھکیں ماریں۔ سینہ چوڑا کر کے کہنے لگے کہ پاکستان کو سبق سکھادیا۔ لیکن جب بھارتی سرکار سے پوچھا گیا کہ جو حملہ کیا ہے وہ دکھائیں تو سہی۔ کہاں ٹریننگ سنٹر تباہ ہوا۔ تین سو بندے ہلاک ہوئے کوئی نشان، کوئی ثبوت تو بھارت کو ہر محاذ پر سانپ سونگھ گیا۔ پھر بھارتی میڈیا، سرکار اور فورسز آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ اس کے برعکس ہمارے میڈیا ، حکومت اور فورسز نے نہ صرف وہ جگہ دکھائی جہاں نام نہاد حملہ کیا گیابلکہ بھارتی جہازوں سے پھینکے جانے والے ہتھیار بھی دکھائے۔ قومی و بین الاقوامی میڈیا کو بھی وہ علاقہ دکھانے کی پیشکش کی گئی۔ لیکن نہ ہی کوئی ٹوٹی ہوئی عمارت نظر آئی اور نہ ہی کوئی لاش یا خون دکھائی دیا۔ ہماری حکومت اور فورسز نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ ہم جواباً اپنی مرضی کا بدلہ لیں گے۔ بھارت کو حیران کریں گے اور سب کو دکھائیں گے۔ لہذا 27 فروری کو پاکستان نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے بھارتی علاقہ میں چھ جگہوں پر نشانہ بازی کی۔ اس کے ساتھ ہی دو بھارتی مگ 21 جو ایک دفعہ پھرہماری فضائی حدود عبور کر کے اندر آگئے تھے، کو ہمارے شاہینوں نے نشانہ بنایا اور دونوں طیارے مار گرائے۔ ایک طیارہ آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا جس کا پائلٹ ابھی نندن گرفتار ہوا جبکہ دوسرا طیارہ مقبوضہ کشمیر میں گرا۔ طیارے گرنے پر بھی بھارتی سرکار نے جھوٹ کا دامن نہیں چھوڑا ۔ بھارت کی تینوں مسلح افواج کے نمائندے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی پاکستان میں دہشتگردوں کے کیمپ کے ثبوت فراہم نہ کرسکے۔ تینوں افواج کے نمائندوں نے پہلے سے لکھے ہوئے مختصر بیانات میڈیا کو پڑھ کر سنائے اور فوٹو سیشن کے بعد چلتے بنے۔ سب سے پہلے ایئر فورس کے نمائندے ایئر وائس مارشل اے وی ایم کپور نے پہلے سے لکھا ہوا بیان پڑھا۔جس میں کہا گیا کہ 27 فروری 2019 کو صبح 10 بجے انڈین ریڈار نے بڑی تعداد میں پاکستانی طیاروں کو بھارتی حدود میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے الزام دہرایا کہ انڈین ایئر فورس نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ گرایا ہے لیکن اس بارے میں کوئی واضح ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان ایئر فورس نے بھارت کی ملٹری انسٹالیشنز کو نشانہ بنایا ، ملٹری کمپا?نڈز میں پاکستانی بم گرے لیکن ان سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اس کے بھی کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ بھارتی ایئر وائس مارشل اے وی ایم کپور نے تسلیم کیا کہ پاک فضائیہ نے نہ صرف ان کا مگ 21 تباہ کیا ہے بلکہ اس کے پائلٹ کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا تھا کہ پاکستان نے کارروائی میں کوئی ایف 16 طیارہ استعمال نہیں کیا اور ان علاقوں کو ٹارگٹ کیا ہے جہاں سے کوئی جانی نقصان نہ ہو۔بھارتی آرمی کے نمائندے میجر جنرل سریندر سنگھ بہل نے بھی پہلے سے لکھا ہوا مختصر بیان پڑھا اور الزام عائد کیا کہ پاک فضائیہ نے کارروائی کے دوران بریگیڈ ، بٹالین ہیڈ کوارٹر اور لاجسٹک انسٹالیشن کو ٹارگٹ کیا۔اس پریس کانفرنس میں سب سے مختصر بیان بھارتی نیوی کے ریئر ایڈمرل دلبیر سنگھ گجرال نے پڑھا اور کہا کہ بھارتی نیوی تیار ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارتی فورسز کے نمائندے وہ صحافیوں کو پاکستان کے خلاف کارروائی کے شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ایک صحافی نے جب پاکستان میں کارروائی اور اس میں دہشتگردوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے سوال پوچھا تو بھارتی ایئر وائس مارشل نے کہا کہ انہوں نے کارروائی میں اپنا ٹارگٹ حاصل کرلیا۔انہوں نے کہا ہم نے پاکستان کا ایف سولہ طیارہ کو مار گرایا تھا لیکن جب ان کے ہی میڈیا نے سوال پوچھا کہ اس کا ثبوت کیا ہے تو بھارتی ائیر فورس کے سربراہ جواب تو نہ دے سکے لیکن ادھر اْدھر کی باتیں کرتے ہوئے ایک خاص میزائل کا کوئی پرانا پرزہ دکھا کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس آپریشن میں استعمال ہونے والا یہ میزائل صرف پاکستان کے ایف سولہ پر ہی لگا یا جا سکتا ہے اس طر ح ہم کہہ سکتے ہیں تباہ ہونے والا طیارہ پاکستان کا ایف سولہ ہی تھا۔یہ پریس کانفرنس شام پانچ بجے(پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے) ہونی تھی لیکن وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے اعلان کے بعد دو گھنٹے کے لیے ملتوی کردی گئی اور اب بھارتی وقت کے مطابق شام 7 بجے ہوگی۔اس پریس کانفرنس میں وزارت خارجہ کے ترجمان یا کسی دوسرے سویلین نمائندے کو شامل نہ کرنے پر بھارت میں سوال اٹھ رہے ہیں۔دوسری طرف بی جے پی رہنما نے مودی کے سیاسی ایجنڈے کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ بی ایس یادیو کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں سے انہیں 22 مزید نشستیں جیتنے میں مدد ملے گی کیونکہ پاکستان میں فضائی کارروائی سے پورے ملک میں مودی مخالف ہوا تھم گئی ہے۔ فضائی کارروائی مودی کے حق میں بہترین ثابت ہوئی جس کا نتیجہ انتخابات میں دیکھنے کو ملے گا۔ بی ایس یادیو نے مزید کہا بی جے پی کو لوک سبھا کی 22 سے 28 نشستیں جیتنے میں مدد ملے گی۔ بی جے پی دعویٰ تو مزید نشستوں کا کر رہی ہے مگر پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے گرانے پر شاید پہلے سے موجود سیٹوں سے ہاتھ دھونا پڑ جائے کیونکہ بھارت کی مودی سرکار فوج کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے پر شدید دباؤ میں ہے۔
***

پلوامہ واقعہ کے پیچھے بھارتی سازش

نریندرمودی کے دورحکومت میں توبھارت کو ٹوٹ جاناچاہئے تھا، مگر تعجب ہے کہ اَب تک بھارت کیوں نہیں ٹوٹا ہے؟ ابھی تک قائم کیوں ہے؟ بھارت کا شیرازہ تو مودی کی حکمرانی میں ہی بکھر جانا چاہئے تھا،تب نہیں تو لگتاہے کہ اَب بہت جلد بھارت ٹوٹنے والا ہے ،کیوں کہ آج مودی نے اپنی حکمرانی میں بھارت کو اندر سے اتناکھوکھلااور کمزور کردیاہے کہ اگراَب اِس کے اندر کہیں سے بھی بغاوت کی کوئی ایک بھی تحریک اُٹھی تو بھارت ٹوٹنے میں دیر نہیں کرے گا، افسوس ہے کہ بھارتی عوام کیوں اِس سے بے خبر ہیں، جو ابھی تک نریندرمودی کی بھارت کے اندر بھارت مخالف سازشوں اور چالوں کو سمجھ نہیں پائے ہیں ،بھارتی تاریخ گواہ ہے کہ نریندرمودی بھارت کے سب سے زیادہ ناکام وزیراعظم ثابت ہوئے ہیں۔ مودی کی حکمرانی میں بھارت معاشی ، اقتصادی ، سیاسی ، سماجی ، اخلاقی اور دیگر حوالوں سے پوری طرح مفلوج ہوگیاہے ،مودی حکومت نے نہ صرف بھارتی شہریوں میں رنگ و نسل اور مذہب کی نفرت کی آگ کو بھڑکا یاہے؛ بلکہ کھلم کھلابھارت کے تمام بڑے شہروں اور اہم علاقوں میں غیرسرکاری انتہاپسندہندو عسکری تنظمیں بھی قائم کی ہیں۔ جن کا کام بھارت کو خالصتاََ ہندوریاست کی حیثیت سے پہچان کراناہے۔ آج یہ تنظیمیں مودی اور بھارتی افواج کی سپورٹ سے اِس حد تک استحکام پاکر بھارت بھر میں پھیل چکی ہیں کہ اِن کے کارکنوں کی موجودگی میں دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی زندگیاں تنگ ہورہی ہیں،مقبوضہ کشمیر میں بھی نہتے کشمیریوں پر جتنے بھی ظلم و ستم کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ اِن کے پیچھے بھی بھارتی افواج کے ساتھ انتہاپسند ہندوعسکری تنظیموں کے دہشت گرد بھی بھارتی فوجی وردی میں ملوث ہیں، آج بھارت کشمیریوں پرلاکھ ظلم کے پہاڑ ڈھادے، مگر بھارت کبھی بھی کشمیریوں کے دل فتح نہیں کرسکتاہے ۔کشمیر جِسے قائد اعظم ؒ نے پاکستان کی شہ رگ کہا تھا ۔آج اِس کشمیر پربھارتی افواج نے قبضہ جمارکھاہے، کئی سالوں سے نہتے کشمیریوں پرہر پل بھارتی افواج اِنسانیت سوز مظالم ڈھارہی ہے،اِس کے باوجود بھارتیوں کا دعویٰ ہے کہ کشمیر اِن کا ہے،اگر اِن کا ہے تو پھر بھارتی افواج کشمیریوں پر اتنا ظلم کیوں ڈھارہی ہے؟بات صاف ظاہر ہے کہ ہندوستان کے دعوے کو کشمیر یوں نے پہلے دن سے ہی ماننے سے اِنکار کیا ہے،کشمیر کل بھی پاکستان کا تھا اور آج بھی پاکستان کا ہے اور آئندہ بھی پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل ایک ساتھ دھڑکیں گے ،کشمیر کو نہ ماضی میں کوئی پاکستان سے جُدا کرسکاہے اور نہ کوئی کبھی کرسکے گا،کہاجاتا ہے کہ جب تک کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتاہے۔ بیشک ، اُس وقت تک یقینی طور پر پاکستان کی تکمیل کا تصور پورا نہیں ہوگا۔زبردستی کوئی کشمیر پر قابض نہیں رہ سکتاہے۔اِس سے اِنکار نہیں کہ جب بھی بھارت میں الیکشن قریب آتے ہیں ، بھارتی حکمران، سیاستدان اپنی جیت کیلئے پاک بھارت جنگ کے آثار پیدا کردیتے ہیں۔ اور کشمیری عوام پر جدید اسلحہ سے لیس بھارتی افواج کو درندگی کے لئے بے لگام چھوڑدیا جاتا ہے۔ ا بھی بھارت میں انتخابات ہونے کو ہیں، اِسی لئے مقبوضہ کشمیر میں نہتے معصوم کشمیریوں پر بھارتی افواج کی ظلم و ستم کی داستان عروج پر پہنچ چکی ہے، اِس طرح بھارتی حکمران الیکشن تو جیت نہیں سکتے مگر اتنا ضرور ہے کہ اَب کشمیر یوں کی آزادی کا جشن دوگام پرہے۔آج چائے بیچنے والے بھارتی وزیراعظم کی پاکستان کو جنگ کی گیدڑبھبکیاں سمجھ سے بالاتر ہیں، کیوں کہ سانحہ پلوامہ بھارتی افواج کااپنا ڈرامہ ہے،آج جِسے رچا کر بھارتی حکمرانوں، سیاستدانوں، برقی و پرنٹ میڈیا اور ہندوستانی افواج کے سربراہان نے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈاجاری رکھاہواہے اور خطے میں جنگی جنون کو ہوادے رکھی ہے ،حالانکہ پلوامہ واقعہ کو جواز بنا کر بھارتیوں کی جانب سے خطے میں جنگی جنون کا ماحول پیدا کیا جانا ، جہاں باعث تشویش ہے تو وہیں ، ایک قوی خیال یہ بھی جنم لے چکا ہے کہ اِس واقعے میں جتنے بھی بھارتی فوجی مرے ہیں، یہ سب وہ بھارتی فوجی تھے۔ اکثرجو اپنی اعلیٰ فوجی قیادت اور بھارتی حکمرانوں کی پالیسی سے ناراض رہتے تھے ۔جن کے کئی حوالوں سے ریکارڈ خراب تھے۔ دوران ڈیوٹی یہ اپنے اعلیٰ افسران کے احکامات ماننے سے بھی انکار کرتے تھے۔ جن کی وجہ سے بھارتی افواج کا ماحول خراب ہورہاتھا،اور افواج میں اپنی اعلیٰ فوجی قیادت اور حکمرانوں و سیاستدانوں کے خلاف بغاو ت کا عنصر جنم لے رہاتھا ،سو بھارتی افواج کی اعلیٰ قیادت اور حکمرانوں نے مل کر اِنہیں راستے سے ہٹانے کے لئے پلوامہ کا سارا ڈرامہ رچایا ، یوں اپنے ہی ہاتھوں ایک ڈرامائی انداز سے باغی فوجیوں کاصفایا کردیا۔جنہیں بھارتیوں نے مارنے کا یہ وقت چنا جب پاکستان سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے میں مصروف تھا اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مذہبی ، سماجی، سیاسی، معاشی اوراقتصادی رشتوں کی مضبوطی کیلئے سعودی ولی محمد بن سلمان پاکستان کے تاریخی دورے پر آنے والے تھے ۔اِس ٹائم فریم کا فائدہ اُٹھا تے ہوئے ، سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد سے ٹھیک چند دنوں قبل بھارتی حکمرانوں اور افواج نے اپنے ایجنٹوں سے اپنی ہی فوجیوں کی بس پر حملہ کروایا اور اِنہیں مروا کر سارا الزام پاکستان کے سر مار دیا تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کا جواز پیداکیا جاسکے۔ اورہمیشہ کی طرح دنیا میں بھارت کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا کر بھی اچھا بنارہے ۔اور پاکستان کے حصے میں سِوائے بدنامی کے کچھ نہ آئے ، اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ امریکا کے سانحہ نائن الیون کی طرح بھارتیوں نے بھی سانحہ پلوامہ خود رچایا اور الزام پاکستان کو دے دیاہے۔تاہم گزشتہ منگل کو پلوامہ حملے کے بعد خطے میں سرچڑھتے بھارتی جنگی جنون کے آگے بندھ باندھتے ہوئے؛ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں دوٹوک انداز سے بھارتی وزیراعظم نرریندرمودی کو خبردار کرتے ہوئے کہہ دیاہے کہ ’’کسی بھی بھارتی حملے کی صُورت میں سُوچیں گے نہیں،پہلا اور آخری بھرپور جواب دیں گے، جنگ شروع کرناآسان ، ختم کرنا اِنسان کے بس میں نہیں‘‘ ہم خطے میں مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل اور کشیدگی کے دیر پاحل اوردونوں ممالک کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنانے کو ترجیح دیتے ہیں، بھارت کو پلوامہ واقعے کی تحقیقات کرنی چاہئے تھی ،بغیر تحقیقات کے الزام تراشی کرنا دونوں ممالک کے لئے مسائل پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے،وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں بھارتیوں کو یقینی دہانی کراتے ہوئے ، پلوامہ واقعے کی تحقیقات کی پیشکش بھی کی ہے۔ اور یہ بھی کہہ دیاہے کہ ثبوت دیئے جائیں تو خود ایکشن لوں گا،بھارت کو بھی سوچ بدلنی ہوگی، بھارت نے بغیرشواہد کے پاکستان پر الزام لگایااور یہ نہیں سوچاکہ اِس میں پاکستان کا کیا فائدہ؟جنگی جنون میں مبتلاایک سازش کے تحت پلوامہ واقعے کو پاکستان سے نتھی کرتے ہوئے۔ چائے بیچنے والے ایب نارمل بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے خطے میں پاک بھارت طبل جنگ بجادیاہے، اگرواقعی بھارت کی جانب سے کسی بھی وقت کسی بھی محاذ پرجنگ چھڑی تو یہ بھارت کی بقاء وسالمیت کے لئے چیلنج ہوگی، پاکستان اپنے دفاع میں ایک لمحہ ضائع کئے بغیر جنگ کا فیصلہ کُن وار کرنے میں حق بجانب ہوگا،کیوں کہ پاکستان پہلے ہی کہہ چکاہے کہ کسی بھی مسئلے کا حل سِوائے مذاکرات کے جنگ نہیں ہے، مگر پھر بھی ہٹ دھرمی پر قائم بھارتی حکمران ، سیاستدان ، میڈیا ، عسکری قیادت اور بھارتی عوام جنگ کے خواہشمند ہیں۔ تو پھر اپنی یہ خواہش بھی پوری کرکے دیکھ لیں، اگر بھارتی بچ گئے تو دیکھ لیں گے ، فتح پاکستان کا مقدر بنے گی اور شکست کی خاک بھارتیوں کے حصے میں آئے گی۔

ملک میں یکساں نظام تعلیم ہونا چاہیے

مسلما ن ملکوں میں مغرب کی مذہب بیزار نظامِ تعلیم نے اپنی جڑیں گہری کی ہوئی ہیں۔ برصغیر ہند و پاک اور دوسرے ملکوں میں، جہاں جہاں مسلمان عیسائیوں کے غلام رہے ہیں وہاں وہاں لارڈ میکالے کی عیسائی مذہبی سوچ کے مطابق نام نہاد جدیدنظامِِ تعلیم رائج کیا تھا، جو اب بھی جاری و ساری ہے۔لارڈ میکالے نے برطانوی دارلعلوم کے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ ’’ہمارے لیے یہ اشد ضروری ہے کہ ہم ہندوستانی نوجوانوں کے اذعان و قلوب کوبدل ڈالنے کی کوشش کریں۔ ہم ان کو ہندوستانی عوام اور اجنبی حکمرانوں کے درمیان رابطہ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ہمیں ان لوگوں کی تربیت اس انداز سے کرناہے کہ نسل و رنگ کے اعتبار سے تو یہ ہندوستانی رہیں، لیکن ان کا ذہنی انداز خالصتاً انگریزی ہونا چاہیے‘‘ مسلمانوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ نام نہاد جدیدنظامِ تعلیم کی ترویج میں پس پردہ عیسائیوں کے مقاصد کس قدر گھناؤنے تھے۔ عیسائیوں (مغرب) نے تعلیم کو روزگار سے جوڑ دیا۔ مغربی نظامِ تعلیم سے مادہ پرست تیار ہو کر نکلتے ہیں۔ جبکہ اسلامی نظامِ تعلیم ان کو انسانیت سے جوڑ نے کی ہدایات دیتا ہے ۔ اسلامی نظامِ تعلیم سے انسان بنتے ہیں ۔جب آدمی انسان بن جائے تو اسے چاہے کسی بھی فیلڈ میں کام کرنا پڑے وہ دوسروں سے انسانیت برتے گا، نہ معاشی جانور بن کر پیٹ کا بندا بن کر رہ جائے گا۔ پاکستان کی بنیاد، قراردادِ پاکستان میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ’’انسان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ انفرادی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق جو قرآن مجید اور سنت رسولؐمیں متعین تربیت دے سکیں‘‘ رسول ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جب رسالت پر مبعوث فرمایا تو کہا اللہ کا شکر ادا کرو جس نے انسان کو قلم سے علم سکھایا۔ رسول اللہؐ نے جب نبوت ملنے کے بعد اپنے کام کا آغاز کیا تو لوگوں سے کہا کہ کہو’’ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دی کہ ایک اللہ کے سوا کسی دوسرے کو اپنا اِلٰہ نہ بناؤ۔ اللہ کے سواتمہاراکوئی معبود نہیں۔ اسی کے سامنے اپنی حاجات رکھو، فلاح پاجاؤ گے۔ جب تم خود مانتے ہو کہ زمین، آسمان اور انسان کو اللہ نے پیدا کیا تو پھر اللہ کے سوا غیروں کو کیوں اپنا معبود بناتے ہوں اور کہا کہ میں اللہ کا پیغمبرؐ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری اصلاح کیلئے اپنا پیغمبرؐ منتخب کر بھیجا ہے۔ اس مختصر دعوت میں کہیں بھی مادیت نظر نہیں آتی ، کہ تم مجھے لیڈر بناؤ اور میں تمہارے لیے یہ فلاح بہبود کے کام کروں گا۔میں کامیاب ہو گیا تو تمہیں یہ مراعات ملیں گی۔ تمہارے لیے ندی نالے، سڑکیں ، صحت کیلئے ہسپتال، اسکول اور نوکریوں کیلئے کارخانے بنا دوں گا۔ بلکہ یہ کہا کہ اللہ کے مطلوبہ انسان بن جاؤ تو تمہیں جنت ملے گی اور دنیا کی معاش بھی بہتر انداز میں ملے گی۔کیااللہ تعالیٰ قرآن میں نہیں فرماتا ہے کہ اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے تو اللہ آسمان سے رزق برساتااورزمین اپنے خزانے اُگل دیتی۔ استاد مربی یعنی تربیت کرنے والا اور مزکی تزکیہ نفس کرنے والا ہوتا ہے۔ رسولؐ مربی اور مزکی تھے۔ جب رسولؐ لوگوں کو تعلیم دیتے تھے تو فرماتے تھے۔ لوگوں جو تعلیم میں تمہیں دے رہا ہوں اس کا مجھے تم سے اس کام کااَجر نہیں چاہیے بلکہ یہ کہا کہ میرا اَجر میرے رب کے پاس محفوظ ہے۔لہٰذا اسلامی تعلیم دینے والے کو دولت کی ہوس میں مبتلا نہیں ہونے چاہئیں۔رسولؐنے جاہل عربوں کو آدمی سے انسان بنایا اور جب عرب رسولؐ کی تعلیم سے انسان بنے تو ترقیوں نے ان کے قدم چومے اور انہوں نے دنیا کو تعلیم وتربیت اور تہذیب سکھائی اور دنیا کے غالب حصے پر حکمران بن گئے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے اندر لارڈ میکالے کا جدید نظامِ تعلیم رائج ہے، جو انگریزوں کی ضرورت کے مطابق تھا، جس نے پاکستان میں خودغرضی کی وجہ سے اب طبقاتی شکل بھی اختیار کر لی ہے۔ ایک طرف انگلش میڈیم اسکول ہیں۔ دوسری طرف اُردو میڈیم اسکول ہے۔ تیسری طرف دینی مدارس ہیں۔تینوں کے نصاب الگ الگ ہیں۔کہیں باہر کے ا ے لیول اور اولیول کے نصاب ہیں۔ کہیں درس نظامی کا دینی نصاب ہے۔ انگلش میڈیم سے مسٹر تیار ہو کر نکلتے ہیں ۔ دینی مدارس سے ملا بن کر نکلتے ہیں۔ درمیان میں اُردو میڈیم میں غریب لوگوں کے بچے نہ مسٹر اور نہ ہی مُلا بلکہ درمیان میں معلق رہتے ہیں۔مسٹر حکومت کے مقابلے کے امتحان پاس کر کے نوکر شاہی بن جاتے ہیں۔ دینی مدارس سے فارغ شدہ لوگ مسجدیں سنبھال لیتے ہیں۔ درمیان اُردو میڈیم والے کہیں کلرک لگ جاتے ہیں۔ دوسری طرف عیسائیوں کا بنایاہوا انسانی حقوق کا منشور اور کتابیں ہمارے اسکولوں میں اظہار آزادی اور انسانی حقوق کے منشور کے نام سے رائج ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ہر شخص کو مذہب بدلنے کی اجازت اور آزادی ہے۔ہر شخص کو باہمی رضا مندی سے تعلق رکھنے کی اجازت ہے وغیرہ۔یہ پڑھ کر ہمارے نوجوان سیکرلر اور لبرل بن رہے ہیں۔ پھر یہ پوچھتے ہیں مکہ اور مدینہ میں غیر مسلم کیوں نہیں جا سکتے؟۔ہندو اور قادیانی سے شادی کیوں نہیں ہو سکتی؟ ہمارے علما انگریزی سے واقف نہیں اس لیے اس برائی کے خلاف آواز نہیں اُٹھا رہے۔اے لیول اور اولیول کی کتابوں میں اُمہات المومنینؓ کی شان کے خلاف باتیں پڑھائی جا رہی ہیں۔نصاب میں اسلامی تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے ۔ نیک سیرت شہنشاہ اورنگزیب ؒ جو مسلمانوں کا ہیرو ہے اور جو ٹوپیاں سی کراپنا خرچ پورا کرتا تھا۔اسے رعایا،باپ اور بھائیوں کے خلاف ظالم پیش کر کے پڑھایا جا رہا ہے۔حقوق انسانی کا موجد امریکا کو پڑھایا جاتا ہے۔ جبکہ خطبہ حج الوادع میں پیغمبرؐ اسلام کئی صدیاں پہلے انسانی حقوق کا اعلان کیا تھا۔زبان علوم کی ماں ہے۔ لہٰذاسب سے پہلے پاکستان میں تعلیم کو قومی زبان اُردو میں ہونا چاہیے۔ تہذیب یافتہ قوموں نے اپنی اپنی قومی زبانیں رائج کر کے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ پھر ملک میں یہ جو تین نظامِ تعلیم چل رہے ہیں ان کو یکساں ہونا چاہیے۔
***

Google Analytics Alternative