Home » 2019 » March » 04 (page 2)

Daily Archives: March 4, 2019

چمن،مال روڈ پر دھماکا، 3 بچے زخمی

چمن کے علاقے مال روڈ پر دھماکے سے تین افراد زخمی ہو گئے۔

لیویز حکام کے مطابق مال روڈ پر دھماکہ کراچی بس ٹرمینل کے قریب ہوا۔ دھماکہ خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ دھماکے کے بعد موٹرسائیکل میں آگ لگ گئی۔

لیویز پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) نے علاقے کو گھیرے میں لےکر ملزمان کی تلاش شروع کر دی جبکہ دھماکے کے بعد پاک افغان شاہراہ پر آمدورفت معطل ہو گئی۔

دھماکہ کی وجہ سے قریب موجود گاڑیوں اور دکانوں کو نقصان پہنچا جبکہ کراچی جانے والے کوچز کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے کے بعد پولیس، لیویز اور ایف سی کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔

”عمران خان کو نوبل پرائز دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ۔۔۔“ وسیم اکرم نے حیران کن بیان جاری کر دیا

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھارتی فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کر کے پوری دنیا میں امن کا پیغام دیا تو انہیں نوبل انعام دینے کی مہم شروع ہو گئی۔

سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی اس مہم میں امریکی رائٹر نے بھی حصہ ڈالا جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے قومی اسمبلی میں قرارداد بھی جمع کرا دی تاہم آج وزیراعظم عمران خان نے خود ہی ایک ٹویٹ میں کہہ دیا کہ وہ نوبل انعام کے حق دار نہیں بلکہ جو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرے گا، وہ صحیح حقدار ہو گا۔

سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم بھی بالآخر میدان میں آئے اور وزیراعظم عمران خان کی اس ٹویٹ پر حیران کن جواب دیدیا کہ ہر پاکستانی ان کی خوب تعریف کر رہے ہیں۔ وسیم اکرم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں لکھا ”جب سے آپ لیڈر بنیں ہیں ہمارے ملک نے عظیم الشان طریقے سے صحیح سمت پکڑ لی ہے۔ عوام مثبت سوچ رہے ہیں اور کئی سالوں بعد پہلی مرتبہ خود کو محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ کپتان، آپ کو امن کا نوبل انعام دینے کی کوئی ضرورت نہیں، ہماری نظر میں آپ کے پاس یہ پہلے سے ہی موجود ہے۔۔۔“

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے درمیان ٹاس ہو گیا

ابوظہبی  پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فور کے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ وہ عمدہ کاکردگی کے ذریعے اچھا ہدف دینے کی بھرپور کوشش کریں گے تاکہ آج کے میچ میں کامیابی حاصل کر سکیں۔

پشاور زلمی کے کپتان ڈیرین سیمی نے کہا کہ اگر وہ ٹاس جیتتے تو فیلڈنگ کا فیصلہ ہی کرتے تاہم اچھا کھیل پیش کر کے میچ جیتنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

بلاشبہ بھارت آگ سے کھیل رہا ہے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے یہ بات سو فیصد درست کہی ہے کہ ہندوستان میں مقبولیت بڑھانے کاآسان طریقہ پاکستان دشمنی بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بھارت میں انتخابات کے بادل منڈلا رہے ہیں جارحیت کا خطرہ موجود رہے گا، جنگ مودی کی سیاسی ضرورت ہے جو خطے کو آگ میں دھکیل رہے ہیں،انہوں بتایا کہ ہمیں خدشہ تھا کہ بھارت میں انتخابات آرہے ہیں اور مودی سرکار اپنی مقبولیت کھو رہی ہے جس کی واضح نشاندہی پانچ ریاستوں میں نتائج تھے ۔ یہ صورتحال انہیں مجبور کر رہی تھی کہ ایسا راستہ تلاش کریں جس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو ، ہمیں خدشہ تھا کہ کوئی مس ایڈ ونچر ہو سکتا ہے اور مودی اس کے ذریعے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں،اسی لیے ہم نے اسلام آباد میں سفارتکاروں کو دفتر خارجہ بلانا شروع کر دیا تھا اور انہیں بریفنگ شروع کر دی تھی ۔ میری روس کے وزیر خارجہ سے گفتگو ہوئی اور میں نے انہیں اپنے خدشات سے پیشگی آگاہ کیا تھا اور ہمار ے خدشات صحیح ثابت ہوتے چلے گئے۔ ہم نے خطوط کے ذریعے دیگر فورمز کو بھی مطلع کیا کہ انہیں کردار ادا کرنا چاہئے۔ہمارے خطے کے اندر اور خطے سے باہر رابطے جاری ہیں او رانشا اللہ جاری رہیں گے۔انہوں ایک بار اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم بھارت کے ساتھ معاملات کو سفارتی فرنٹ کے ذریعے حل کر نا چاہتے ہیں ،فوجی فر نٹ کا استعمال آخری آپشن ہے لیکن جب ہمارے خلاف جار حیت ہوگی تو پھربھر پور جواب دینا ہمارا حق ہے۔انہوں نے بھی واضح کیا کہ بھارتی پائلٹ کی رہائی عالمی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ وزیر اعظم عمران خان کا فیصلہ ہے ،ہر ذی شعور کو معلوم ہے کہ ہماری طرف کوئی کمزور ی نہیں اور بھارت کو اس کا اشارہ مل چکا ہے ۔‘اس میں اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کہ پلوامہ کی آڑ میں اب تک جو کچھ ہو چکا ہے اس کے پیچھے بھارت میں دو تین ماہ بعد ہونے والے الیکشن ہیں جس میں بی جے پی کو واضح شکست ہونے والی ہے۔اس طریقہ واردات کو متعدد مرتبہ دوہرایا جا چکا ہے کہ بھارت میں جب بھی الیکن قریب آتے ہیں پاکستان اور اسلام دشمنی کے نقارے بج اٹھتے ہیں۔اس وقت بھی یہی حربہ آزمایا جا رہا ہے لیکن اس بار بی جے پی اس بھونڈے انداز میں اسے آزما رہی ہے کہ دونوں ممالک کے ڈیڑھ ارب انسانوں کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے۔مودی سرکار اور اس کے وحشی میڈیا کے گٹھ جوڑ سے کسی بھی وقت خدانخواستہ کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔یہ تو خطے کی عوام کی خوش قسمتی ہے کہ نریندر مودی کی وحشیانہ دھمکیوں کے مقابلے میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے انتہائی تدبر اور تحمل سے کام لیتے اشتعال انگیزی کا جواب اشتعال انگیزی سے نہیں دیا۔وزیر اعظم عمران نے بھارتی طیارے مار گرائے جانے کے بعد اپنے مختصر خطاب میں ایک بار پھر جو پیشکش کی اس نے بھارتی حزب اختلاف ہی نہیں وہاں کے سنجیدہ حلقوں کو بھی متاثر کیا۔ اب وہاں سے یہ آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں ہیں کہ مودی ’’الیکشن جنگ‘‘ جیتنے کیلئے فوج کو استعمال کرکے ملک کو کسی مصیبت میں ڈالنے سے گریز کریں۔دوسری طرف امریکہ روس اور برطانیہ سمیت دنیا کے اہم ممالک مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کا مشورہ دے رہے ہیں لیکن سرحد کے اس پار جنگ کا بھوت سوار ہے۔اس لئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا کہ بھارتی الیکشن تک جارحیت کا خطرہ موجود رہے گا بجا ہے۔عالمی برادری یقیناًاس ساری صورتحال کو دیکھ رہی ہے کہ بھارتی حکام کی پالیسی کا لیول کس حد تک گرچکا ہے۔انتخابات میں کامیابی کی خاطر انسانیت کو داؤ پر لاگانے کی ایسی سوچ کی جتنی بھی مڈمات کی جائے وہ کم ہے۔یہاں بھارتی سنجیدہ حلقوں کی بھی بھاری ذمہ دار ی بنتی ہے کہ آگے بڑھ کر اپنی قوم کو حقائق سے آگاہ کرے۔
اوآئی سی کے پلیٹ فارم سے بھارت کو سبکی
بھارت کو بین الاقومی سطح پر اس وقت ایک اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل ہوئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں جبکہ بھارتی وزیر خارجہسشما سوراج کو بڑے اعزاز کے ساتھ خصوصی مہمان کے طور پر بلایا گیا تھا۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم ورلڈ بھی سمجھتی ہے کہ بھارتی موقف درغ گوئی پر مبنی ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کو اپنی سالمیت کے دفاع کا حق حاصل ہے ۔یہ بات متحدہ عرب امارات کی جانب سے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے 46 ویں اجلاس میں کہی گئی اس موقع پر جاری اعلامیے میں او آئی سی نے بھارت کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یو این چارٹر اور بین الا قوامی قانون پاکستان کو اپنی سالمیت کے دفاع کا حق دیتا ہے، بھارت یو این چارٹر کے آرٹیکل2 کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے،بھارت مزید کسی ایسے ایکشن سے گریز کرے جو کہ جنوبی ایشیا کی صورتحال اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہو۔یہ بھی کہا گیا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات باہم مذاکرات سے حل کرے،بھارت کشیدگی کو بڑھاوا دینے کی بجائے پاکستان کی طرف سے مذاکرات کا مثبت جواب دے۔ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے بھارت کو مذاکرات کی دعوت اور پائلٹ حوالگی کے اقدام کا خیر مقدم کیا۔پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے،خوش آئند امر یہ بھی ہے کہ پاکستان کو ایشیا میں انسانی حقوق کمیشن کا مستقل رکن بھی منتخب کرلیا گیا ہے، مستقل رکن کا انتخاب انسانی حقوق کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کا اعتراف ہے۔ یہ پاکستان کے پوائنٹ آف ویو کے تناظر میں ایک بہت بڑا اقدام اور پیشرفت ہے۔ اختتامی سیشن میں پاکستان کے نمائندوں نے کھڑے ہوکر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی شرکت پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جب کہ اسی وجہ سے پاکستانی وزیر خارجہ نے احتجاجاً شرکت کرنے سے معذرت کرلی تھی۔یہ پاکستان کا حق تھا اور احتجاج صرف ایک غیر متعلقہ ملک بھارت کے خلاف تھا نہ کہ او آئی سی خلاف۔پاکستان او آئی سی کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

گجرات کے قصائی کا پائلٹ پروجیکٹ

بھارت کی تینوں فوجوں کے سربراہوں سے ملاقات کے بعد بھارتی سائنس دانوں کے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے، پاکستان کے وزیر اعظم کے جذبہ خیر سگالی اور جنگی ماحول کو نرم کرنے کے لیے گرفتاربھارتی پائلٹ ابھے نندن کو بھارت کے حوالے کرنے کے اعلان کے مقابلے میں اپنی پرانی گیڈر بھبکی دوھراتے ہوئے، بھارتی دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے بنیادی رکن اور گجرات کے قصائی اور جنگی جنون میں مبتلا دہشت گرد بھارتی وزیراعظم نریدرامودی نے الیکشن جیتنے کے لیے بیان دیا ہے کہ پاکستان پر بھارتی حملہ تو پائلٹ پروجیکٹ ہے جو مکمل ہوا ہے اب حقیقی کرنا باقی ہے۔ نہ جانے پاکستان سے اتنی مار کھانے کے بعد بھی دہشت گرد مودی خوابوں کی دنیا میں رہنے کی عادت کیوں درست نہیں ہوئی؟ بقول دہلی کے وزیر اعظم اردند کچری وال صاحب کہ مودی دوبارہ حکومت حاصل کرنے کے لیے کتنے بچے یتیم اور مذید کتنی خواتین کو بیوہ بنائے گا۔ انہوں نے جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں۳۰۰ سیٹیں حاصل کرنے کیلئے موددی دو ایٹمی طاقتوں کو لڑا رہے ہیں۔دوسری طرف بھارتی عوام نے ٹٹوئیٹر پر غم و غصے کا اظہار شروع کر دیا۔ جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم کے لیے نوبل انعام کے ٹویٹ نظر آتے ہیں۔بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ابھی تو تمھارے ایک پائلٹ کو پاکستان گرفتار کیا ہے۔ کیا طبل جنگ بجا کر اپنے مذید پائلٹوں کو گرفتار کرواناچاہتے ہو؟۔ پاکستانی حکومت نے تو خیر سگالی اور جنگ کے بڑھاوے کو کم از کم کرنے کی نیت سے بھارتی پائلٹ کو آج واہگہ باڈر سے بھارت کے حوالے بھی کر دیا۔ عالمی میڈیا میں اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ عمران خان کی سیاسی بصیرت نے مودی سیاست پر دو ڈینٹ ڈال دیے ہیں ۔ ایک سکھوں کو اُن کے مقدس مقام تک رہداری دے کر سکھوں کی ہمدردیاں حاصل کر لیں۔ ایک عین جنگ کے موقعہ پر گرفتار بھارتی پائلٹ کو بھارت کے حوالے کر کے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دے کر بھارت میں امن پسند طبقوں کی ہمدردیاں حاصل کر لیں ہیں۔ یہ اقدام عمران خان کی امن کی پالیسی کوواضع کرتے ہیں۔ دوسری طرف بھارت میں موددی کے ساتھ ہمدردیاں کم سے کم ہوتی جارہی ہیں۔ بھارت حکومت کی ایما پر بھارتی میڈیا اس سے بھی کئی قدم آگے بڑھ کرپلومہ میں کشمیری نوجوان کے فدائی حملے کو بغیرتحقیق کے پاکستان کے سر تھوپنے اور پاکستان کو سبق سکھانے اور جھوٹ کی بنیاد پر جنگ کا ماحول پیدا کیا ہوا ہے۔ ظاہر ہے بھارتی میڈیا دہشت گرد مودی کے حکم پر ہی یہ سب کچھ کر رہاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گرد مودی جب سے وزیر اعظم بناہے کشمیر میں جنگ آزادی لڑنے والے کشمیریوں کی نسل کشی پر اُتر آیا ہے۔د ہشت گردمودی بھارتی مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ دہشت گرد مودی نے بنگلہ دیش میں غدار پاکستان شیخ مجیب کی بیٹی بھارتی کٹ پتلی وزیر اعظم حسینہ واجد سے بنگلہ دیش بنانے میں بھارتی فوج کی مدد اور اس کام میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی تقریب میں سارے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے اعلانیہ کہہ چکا ہے کہ بھارت نے بنگلہ دیش بھارتی فوج کی مداخلت سے بنایا۔ بھارت کے یوم آزادی کے موقعہ پر یہ بھی کہہ چکا ہے کہ پاکستان کے بلوچستان اور گلگت بلتستان سے علیحدگی کی تحریکیں چلانے والوں کی مدد کے لیے مجھے ٹیلیفون کالز آرہی ہیں۔ پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کا ثبوت بھارتی نیوی کا حاضرسر ونٹ کلبھوشن پاکستانی قید میں ہے اور دہشت گرد کاروئیوں کی وجہ سے موت کی سزا پا چکا ہے۔ بھارتی حکومت کے سارے کل پُرزے جس میں وزیر داخلہ سب سے آگے آگے ہیں بھارت میں ہندو اکثریت کو پاکستان کے خلاف جنگ پر اُکساتے رہے ہیں۔ پاکستان کو دھمکیاں دیتے رہے ہیں کہ پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے اب دس ٹکڑے کریں گے۔ اس طرح اب بھارت کی پوری ہندو آبادی پاکستان سے جنگ پر آمادہ ہے۔ اس سے قبل بھارت کو پاکستان میں ایک غدار پاکستان الطاف حسین ٹاؤٹ مل گیا تھا۔ جس نے دہلی میں کہا تھا کہ پاکستان بننا ایک تاریخی غلطی تھی۔ بھارتیوں کومخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ کیا ہم پاکستانی مہاجروں کو واپس لینے کے لیے تیار ہو؟ الطاف حسین نے بھارت حکومت کی ایما پر پاکستان اور خاص کر کراچی، جو پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ہے میں، بندوق کے زور پر تباہی پھیلائے رکھی۔ پاکستان کی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا۔ ۹؍۱۱ کے من گھڑت واقعہ جو اسرائیل اور امریکی کے خفیہ اداروں کا مشترکہ مشن تھا۔ اس کے درجوں ثبوتوں میں سے ایک ثبوت یہ ہے کہ اُس دن چار ہزار سے زاہد امریکی یہودی ٹون ٹاور کام پر نہیں گئے تھا۔ اسلامی اور ایٹمی پاکستان گریٹ گیم کے کل پرزوں، جس میں یہود ی،عیسائی اور ہندؤ شامل ہیں قطعاً پسند نہیں۔ یہ تینوں پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔یہودیوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں دُ ھتکاری ہوئی قوم کہا ہے۔ ان کے جراہم پر ان کوچارج شیٹ کیا ہے۔ یہ انسانیت کے دشمن ہیں۔آج ہی کی اخباری خبر کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسرائیل انسانیت مخالف جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ امریکا کی سرکردگی میں پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کے لیے یہودی بین الاقوامی الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے لیے سر دھڑ کی کوششیں کیں۔
(جاری ہے)

محض الیکشن جیتے کی خاطر جنگ

بھارت میں اگلے ایک دو ماہ میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ مودی حکومت کو یقین ہے کہ وہ یہ انتخاب ہار جائے گی۔ اس کی مثال گزشتہ برس دسمبر میں ہونے والے پانچ ریاستوں کے انتخاب ہیں جس میں مودی سرکار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان دشمنی تو ہمیشہ سے ہی بھارت کاانتخابی نعرہ رہی ہے۔ اس مرتبہ مودی نے اسے جارحیت میں بدلنے کی کوشش کی۔پہلے پلوامہ سانحہ اور اس میں پاکستان پر الزام تراشی، پھر دو قدم آگے بڑھ کر پاکستان پر نام نہاد فضائی حملہ لیکن ہمارے بھرپور جواب کے بعد مودی کی جارحیت دودھ کے ابال کی طرح بیٹھ گئی۔ اس جارحیت کی وجہ سے بھارت کو جنگی اور سفارتی محاذ پر شدید شرمندگی اٹھانا پڑی۔ پاکستان کے بہتر اور پرامن برتاؤ نے نہ صرف بیرون ملک بلکہ اندرون ملک بھی مودی اور اس کی حکمران جماعت کو شکست فاش دی۔ بھارتی عوام نے بھی اپنی سرکار کا بھیانک چہرہ دیکھ لیا۔ یعنی اب تو انتخابات میں شکست یقینی ہوگئی ۔ بھلا دہشت گرد اور انتہا پسند بی جے پی اور مودی کب اس شکست کو برداشت کرنے والے ہیں،انہوں نے فیصلہ کیا کہ الیکشن کا جو بنے گا سو دیکھا جائے گا لیکن پاکستان کو ضرور جواب دینا ہے۔ لہذا جنگی اور سفارتی محاذ پر ناکامی کے بعد بھارت نے پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو تیز کرنیکے لئے اپنے پرانے دوستوں اور ایجنٹوں سے رابطے کئے گئے۔ایم کیو ایم لندن، براہمداغ بگٹی اور پی ٹی ایم سمیت دیگرکا لعدم تنظیموں کو اربوں روپے کی فنڈنگ کا فیصلہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھارت نے پاکستان کے خلاف 6321 فیک آئی ڈیز بنائی ہیں جن کے ذریعے مذہبی نفرت پھیلانے ، صوبائی عصبیت پیدا کرنے اور حساس اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے اور جعلی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کا کام کیا جائے گا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان آئی ڈیز کو افغانستان، ساؤتھ افریقہ، لندن اور بھارت سے آپریٹ کیا جائیگا۔اس کے ساتھ ساتھ جعلی مدارس اور دہشت گردی کے کیمپس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالی جائیں گی۔ اس خوفناک منصوبے کے لئیانتہا پسند ہندوؤں کو باقاعدہ تربیت دی جارہی ہے جنہوں نے مسلمانوں کی طرح داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں اوران کو مسلمان ظاہر کر کے پاکستان بھیجا جائے گا جہاں ان کی ایسی ویڈیوز بنائی جائیں گی کہ مسلمان دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں کو چلا رہے ہیں۔ اس ضمن میں ہمارے اہم اداروں کو اطلاع مل چکی ہے اور انہوں نے اس کے سدباب کیلئے کام بھی شروع کر دیا۔مودی منصوبے کے تحت ایم کیو ایم لندن کے وفد نے براہمداغ بگٹی سے حال ہی میں ملاقات بھی کی ہے۔ان ویڈیوز کی بنیاد پر پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کیا جائیگا۔ کہا یہ جائے گا کہ پاکستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے کیمپوں کی ویڈیوز ہیں ۔پھر ایک ڈرامہ کے تحت اپنے لوگوں کو خود ہی گرفتار کر کے ان سے پاکستان میں دہشت گردی کے کیمپوں کے بارے میں بیان دلوایا جائے گا کہ پاکستان ان کیمپوں کے ذر یعے مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے پاکستان سے بدلہ لینے کے لئے پاکستان میں خصوصی طور پر تربیت یافتہ دہشت گرد بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے جو مختلف شہروں میں اہم عمارات ، ہوائی اڈوں، مساجد اور دیگر مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بناسکتے ہیں۔جنگی جنون اور خطے کے امن کو تباہ کرنے کے خواہش مند مودی نے اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی پاکستان کو حملے کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے حملے کی مشق تھی اب اصلی ہوگا۔ جہاں تک ایم کیو ایم لندن کا تعلق ہے تو ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ ایم کیو ایم لندن اور را کے شروع دن سے تعلقات رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ پر یہ الزام کئی بار لگا کہ اس کے نہ صرف بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ اینجسی را کے ساتھ نہ صرف روابط رہے بلکہ یہ سچائی بھی بڑی حد تک کھل کر سامنے آتی رہی کہ ایم کیوایم بھارت سے خفیہ طور پر رقم بھی لیتی رہی۔ایم کیو ایم لندنکے کارکن بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے عسکری تربیت لیتے رہے ہیں اور ایم کیو ایم کے اہم رہنماؤں کے را کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے ایکاہم کارکن صولت مرزا نے پھانسی سے پہلے ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ ایم کیو ایم کے کارکن بھارت میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام نے صولت مرزا کے اس بیان کو اپنے کانوں سے سنا۔ ایم کیو ایم لندن کے را کے ساتھ رابطوں کے بارے میں دستاویزی ثبوت پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔بھارت بلوچستان کے باغیوں کی نہ صرف پیٹھ ٹھونک رہا ہے بلکہ انہیں مالی وسائل بھی مہیا کر رہا ہے۔ بھارتی سازشوں کا مرکز افغانستان کے صوبہ قندہار میں ہے اور اس کی بیشتر برانچیں اب افغانستان کے دوسرے صوبوں میں بھی میں کھل گئی ہیں۔ جہاں پاکستان سے اغوا کیے گئے بے روزگار پڑھے لکھے جوانوں کو معاشی ترغیبات سے اپنے ہی ملک کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے۔ بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو دس دس ہزار روپے تنخوادہ دے کر ملک دشمن سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ بھارت افغانستان میں پناہ گزین براہمداخ بگٹی کے علاوہ دیگر بلوچوں کو بلوچستان میں بدامنی کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت بلوچستان کے علیحدگی پسندبھارتی سرمائے سے یورپی ممالک برطانیہ، کینیڈا، دبئی، اومان کے ہوٹلوں میں رہائش پذیر ہیں۔ را کے زیر سرپرستی بلوچ علیحدگی پسندوں کو تخریبی کارروائیوں کیلئے افغانستان میں قائم مختلف تعلیمی اداروں میں ورغلا کرعظیم تر بلوچستان کے بارے میں گمراہ کن تھیوریاں بتائی جا رہی ہیں جس میں انہیں پاک فوج اور آئی ایس آئی سے متنفر کرنے کیلئے خصوصی سیمینار کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ بھارت تو اس انتظار میں ہے کہ نام نہاد بلوچ لیڈر ہندوستان میں پناہ کیلئے باضابطہ درخواست دیں تو چند ہفتوں میں انہیں پناہ دیدی جائے گی۔ کچھ بلوچ قوم پرست یہ سمجھتے ہیں کہ جنیوا میں مقیم بلوچ ریپبلیکن پارٹی کے جلاوطن سربراہ براہمداغ بگٹی کی طرف سے انڈیا میں سیاسی پناہ کی درخواست کے فیصلے کا بلوچوں کی آزادی کی تحریک پر منفی اثر پڑے گا اور یہ کہ اس سے پاکستان کے ان الزامات کو شاید تقویت ملے کہ بلوچستان میں آزادی کی کوئی تحریک نہیں بلکہ انڈیا بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے؟لہذا بھارت کے حالیہ منصوبوں میں ایم کیو ایم لندن اور بلوچ علیحدگی پسند وں کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں ۔البتہ ہمیں نہ صرف ان کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ہے بلکہ اپنے خلاف بچھائے گئے جال سے بھی سرخرو ہو کر نکلنا ہے۔ اس کے لئے ہمیں متحدہو کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا جس طرح حالیہ صورتحال میں حکومت، اپوزیشن، فوج اور عوام اپنے ذاتی وسیاسی اختلافات بھلا کر ایک ہوئے اور دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی اسی طرح ہم ایک ہو کر دشمن کو ملک کے اندر اور باہر ہر جگہ ناکام و نامراد کر سکتے ہیں۔

Google Analytics Alternative