Home » 2019 » March » 05 (page 2)

Daily Archives: March 5, 2019

امریکا نے پاکستان کیلئے نئی ویزہ پالیسی متعارف کرا دی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکا نے پاکستان کیلئے نئی ویزہ پالیسی متعارف کرا دی ہے،جس کے تحت پاکستان کے سفارتی اور سرکاری اہلکاروں کیلئے ویزہ مدت میں کمی کردی،ویزہ مدت پانچ سال سے کم کرکے 3 ماہ کردی گئی ۔

نجی ٹی وی چینل ڈان اور جیونیوز کے مطابق امریکا نے پاکستان کیلئے نئی ویزہ پالیسی متعارف کرا دی ہے،جس کے تحت پاکستان کے سفارتی اور سرکاری اہلکاروں کیلئے ویزہ مدت میں کمی کردی،ویزہ مدت پانچ سال سے کم کرکے 3 ماہ کردی گئی ۔

اب امریکا پاکستانی سرکاری حکام کو 3 ماہ کا ویزہ جاری کرے گاجبکہ صحافیوں کیلئے بھی ویزہ مدت پانچ سال سے کم کرکے 3 ماہ کردی گئی ۔اس کے علاوہ امریکا نے ویزہ فیس میں پانچ ہزارروپے کا اضافہ بھی کردیا ہے ۔

واضح رہے کہ پاکستان پہلے ہی امریکی شہریوں کیلئے ویزہ مدت میں کمی جیسے اقدامات کرچکا ہے

دوسرا ون ڈے ، آسٹریلیا کا بھارت کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

ناگ پور  آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میچ میں بھارت کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میچ کیلئے بھارتی ٹیم کی قیادت ویرات کوہلی کر رہے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں روہت شرما، شیکھر دھون، امباتی رائیڈو، مہندرا سنگھ دھونی، کیدر جادھو، وجے شنکر، رویندرا جدیجہ، کلدیپ یادیو، محمد شامی اور جسپریت بمرا شامل ہیں۔

آسٹریلیا ٹیم کی قیادت ایرون فنچ کر رہے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں عثمان خواجہ، شون مارش، مارکوس سٹوئنس، پیٹر ہینڈزکومب، گلین میکس ویل، ایلکس کیرے، نیتھن کولٹر نیل، پیٹ کومنز، نیتھن لیون اور ایڈم زامپا شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے فیاض الحسن چوہان سے استعفیٰ مانگ لیا ، نجی ٹی وی کا دعویٰ

لاہور  ہندو و برادری سے متعلق بیان دینا صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کو مہنگا پڑ گیا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ان سے استعفیٰ بھی طلب کر لیا ہے ۔

نجی ٹی وی جیونیوز نے ایوان وزیراعلیٰ کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ فیاض الحسن چوہان کو ایوان وزیراعلیٰ میں طلب کیا گیا اور ان سے استعفیٰ دینے کا کہا گیاہے اور وزیراعلیٰ کا کہناتھا کہ اس سے پہلے بھی آپ کی صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی کا معاملہ سامنے آیا تھا اور تنبیہ جاری کی گئی تھی ۔ نجی ٹی وی جیونیوز کا کہناتھا کہ فیاض الحسن چوہان کا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو بھجوایا جائے گا اور ان کا استعفیٰ منظورکرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بھی وہیں کریں گے ۔یاد رہے کہ فیاض الحسن چوہان نے اپنے بیان پر معافی بھی مانگ لی تھی

سانحہ ساہیوال کیس،جے آئی ٹی نے رپورٹ ہائیکورٹ میں جمع کرادی

لاہور جے آئی ٹی سربراہ نے سانحہ ساہیوال سے متعلق رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادی جس میں 6پولیس اہلکاروں کو ملزم قرار دےدیاگیا ہے ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونےوالاذیشان دہشتگردہے اور ذیشان کاتعلق داعش سے تھا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ساہیوال کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس سردار شمیم خان کی سربراہی میں2 رکنی بنچ نے سماعت کی،جے آئی ٹی سربراہ اعجاز شاہ نے سانحہ ساہیوال سے متعلق رپورٹ جمع کرادی ۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں 6پولیس اہلکار سانحہ ساہیوال کے ملزم قرارپائے ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونےوالاذیشان دہشتگردہے اورذیشان کاتعلق داعش سے تھا،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ذیشان ماراجاچکا ہے اورکیس داخل دفتر کردیاگیا۔

جے آئی ٹی نے گرفتار 6 اہلکاروں کیخلاف رپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کرادی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہلکاروں کیخلاف 63 گواہان کی فہرست ٹرائل کورٹ میں جمع ہے ۔

وکیل نے کہا کہ 7 مارچ کوساہیوال کی مقامی عدالت نے ملزمان کوطلب کیاہے،عدالت نے جوڈیشل انکوائری کاحکم دیاتھاوہ جاری ہے۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ ایک ماہ میں جوڈیشل انکوائری کاحکم دیاتھا،14 مارچ کوایک ماہ پوراہورہاہے،رپورٹ داخل کرائیں۔

عدالت نے سانحہ ساہیوال پرجوڈیشل کمیشن کی تشکیل پروفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیاہے اور سماعت 18 مارچ تک ملتوی کردی۔

ملک میں یکساں سٹینڈرزٹائم کے نفاذ کیلئے عدالت میں درخواست دائر

لاہور ملک میں یکساں سٹینڈرزٹائم کے نفاذ کیلئے عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ۔

درخواست گزار نے عدالت کے رو برو موقف اختیار کیا ہے کہ کسی کومعلوم نہیں ملک میں سٹینڈرڈٹائم کیاہے؟این پی ایس ایل یکساں سٹینڈرڈ ٹائم متعارف کرانے میں ناکام ہو گیا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ہرادارے کی گھڑی الگ الگ وقت بتاتی ہے،عدالت سے استدعا ہے یکساں سٹینڈرڈٹائم کے نفاذکاحکم جاری کرے۔

پاک بھارت کشیدگی، بین الاقوامی برادری ثالثی کیلئے تیار۔۔۔ بھارت ہٹ دھرمی پر قائم

بین الاقوامی برادری کو اس وقت پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے بہت فکر لاحق ہے کیونکہ دونوں ایٹمی ممالک ہیں اور اگر خدانخواستہ ان کے مابین باقاعدہ جنگ ہوتی ہے تو یہ اتنی ہولناک ہوگی کہ اس سے پوری دنیا متاثر ہوگی۔ اسی وجہ سے برطانیہ اور قطر نے بھی پاک بھارت کشیدگی ختم کرانے کیلئے ثالثی کی پیشکش کی ہے اور پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کو رہا کیے جانے کے اقدام پر عمران خان کو بہت سراہا ہے۔ پاکستان ابھی تک سفارتی محاذ پر بھارت کو بری طرح شکست دے چکا ہے۔ او آئی سی نے بھی کشمیر کے حق میں قرارداد منظور کی جبکہ اندرونی طورپر بھی بھارت شکست وریخت کا شکار ہے، مودی نے میں نہ مانوں کی رٹ لگا رکھی ہے کیونکہ وہ الیکشن جیتنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں جتنی بھی انسانی جانیں جائیں اس سے مودی کو کوئی حاصل وصول نہیں لیکن بھارتی وزیراعظم انتخابی انتہا پسندی نے پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، مودی اتنا ذلیل و خوار ہوچکا ہے کہ شاید کوئی بھارت کا لیڈر اتنا خوار ہوا ہو۔ اب مودی رافیل طیاروں کی خریداری کا رو رہا ہے جبکہ بالا کوٹ حملے کے ثبوت دینے سے بھی منکر ہوچکا ہے اسی وجہ سے اسے اپوزیشن نے آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے۔ ایک اور بھارتی پائلٹ جوکہ حملہ کرنے آیا تھا لیکن واصل جہنم ہوگیا اس کی بیوہ دہائی دے رہی ہے کہ مودی آخر اور کتنے انسانوں کی جانیں لو گے۔ امریکی تھنک ٹینک نے بھی بھارت کا بالا کوٹ میں تباہی کا دعویٰ مستر کردیا ہے۔ مگر بھارتی ہٹ دھرمی پوری دنیا دیکھ رہی ہے اس نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کی قرارداد کو بھی مسترد کردیا ہے۔ مودی کی اپنی صفیں تتر بتر ہوچکی ہیں۔ بھارتی وزیر سرند راجیت سنگھ نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان میں کی جانے والی فضائی کارروائی کے دوران کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اب بھارت کی حالت ایسے ہے جیسے کھسیانی بلی کھمبا نوچے اس نے مولانا مسعود اظہر کی وفات کے حوالے سے پروپیگنڈا شروع کیا اس کو منہ کی کھانی پڑی پھر ایک پاکستانی پائلٹ کی شہادت سے متعلق خبر چلائی اس میں بھی اسے سبکی کا ہی سامنا کرنا پڑا، ہر خبر اس کی جھوٹی، ہر بیان اس کا غلط، مودی راہ فرار اختیار کررہا ہے، اپوزیشن اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہے۔کانگریس کے رہنما راہول گاندھی جوکہ وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار ہیں انہوں نے بھی مودی کو آئینہ دکھا دیا ہے۔ بھارتی اقدامات کی وجہ سے مسئلہ کشمیر اجاگر ہوچکا ہے اور انشاء اللہ اب وہ وقت دور نہیں جب کشمیر آزاد ہوگا، مقبوضہ کشمیر کے رہنما بھی بھارت کیخلاف بیانات دے رہے ہیں، بین الاقوامی برادری اب اس بات کو باور کرائے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کیے جائیں اور جس طرح وہاں پر معصوم اور نہتے کشمیریوں کا عرصہ حیات رکھا گیا ہے اس کا بھی مداوا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گزشتہ روزامیر قطر نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور پاکستان کی طرف سے جنگی قیدی کو رہا کرنے کی تعریف کی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ پاکستان بھارت کشیدگی کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان اور امیر قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے درمیانی ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ شیخ تمیم بن حماد نے پاکستان بھارت کشیدگی کم کرنے کے وزیراعظم عمران خان کے اقدامات کو سراہا اور انہیں امن کیلئے ہرممکن تعاون کی پیشکش کی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان اور برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی، دونوں وزرائے اعظم نے ایک دوسرے کے ملکوں کے دوروں کی دعوت دیدی۔ عمران خان نے برطانوی ہم منصب کو پلوامہ واقعے کے بعد کی صورتحال سے متعلق اپنے موقف سے آگاہ کیا ۔ برطانوی وزیراعظم نے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے کہاکہ آپ کے اس اقدام کو عالمی برادری میں بھرپور پذیرائی ملی ہے ۔ تھریسامے نے پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ برطانیہ حالیہ صورتحال میں دونوں ملکوں سے رابطے میں ہے ۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی دنیا بھر کی 178 پارلیمان کے سربراہان اور سپیکرز کوخط ارسال کیے ہیں جس میں 26اور 27فروری کوبھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحدی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران متفقہ طور پر بھارت کی جانب سے جارحیت کے خلاف منظور کی گئی قرارداد بھی اس خط کے ذریعے بھجوائی ہے ۔اسپیکر نے کہا کہ بھارت مسلسل پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی حدود کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے جس نے اس خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچاہ دیا ہے 26فروری 2019کو بھارتی جنگی طیاروں نے پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملہ کرنے کی جسارت کی جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے دہشتگردوں کے تربیتی کیمپوں پر حملہ کیا ہے ۔ اسد قیصر نے عالمی برادری کو واضح کرتے ہوئے یہ کہا کہ بھارت کی جانب سے دہشتگرووں کے ٹھکانے پر حملہ کرنا غلط اور بے بنیاد ہے اور نا ہی اس دوران کوئی جانی نقصان ہوا ۔ اس دوران پاکستانی فضائیہ نے انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا ۔ وزیر اعظم پاکستان نے اس نیک مقصد خط کے ذریعے پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں منظور ہونے والی متفقہ قراداد کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی برادری کو مخاطب کیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کی خاطر اپنا کرداد ادا کریں اور وہ بھار ت کو اس بات پرآمادہ کریں کہ وہ اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی قرادادوں کے مطابق ان کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ انہوں نے اس امر پر ذور دیا کہ وہ بھارت کی جانب سے پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر مذمت بھی کریں۔
کراچی پی ایس ایل میچز ، سیکورٹی فول پروف بنائی جائے
پاکستان کرکٹ بورڈ نے آپریشنل چیلنجز کی وجہ سے لاہور میں ہونے والے پاکستان سپر لیگ کے تین میچوں کی میزبانی واپس لے لی اور اب فائنل سمیت تمام آٹھ میچز نئے شیڈول کے تحت نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہونگے۔ پاکستان میں اب یہ میلہ 7 کے بجائے ہفتہ 9مارچ سے سجے گا۔ کراچی کو پہلے 5میچز دئیے گئے تھے لیکن اب نیشنل اسٹیڈیم ٹورنامنٹ کے آخری آٹھ میچوں کی میزبانی کرے گا۔ کراچی میں سیکورٹی کے تمام تر انتظامات کرلئے گئے ہیں اور ٹکٹوں کی فروخت بھی دھڑا دھڑ جارہی ہے، شائقین کرکٹ نے اس بات پر کچھ نہ کچھ اطمینان کا اظہار کیا کہ میچ کم ازکم پاکستان میں ہی ہورہے ہیں، کراچی بھی پاکستان کا ہی حصہ ہے۔ چونکہ سرحدی حالات اس وقت دگرگوں ہیں انہی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے لاہور سے میچ کراچی شفٹ کیے گئے ہیں۔نیشنل اسٹیڈیم میں میچوں کیلئے ایک ارب روپے کا ترقیاتی کام جاری ہے ، گراؤنڈ اور بلڈنگ کو نئی شکل دی جارہی ہے، ان میچوں کے انعقاد سے دنیا بھر میں پاکستان کی جانب سے ایک مثبت پیغام جائے گا کیونکہ بھارت کی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے یہ اقدام اٹھانا پڑا ہے۔ پاکستان ہر لحاظ سے مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، پی ایس ایل کا میلہ شہر قائد میں سجنے سے پاکستانی عوام کو ان مشکل حالات میں ایک ریلیف بھی ملے گا ۔ یہ فیصلہ چیئرمین کرکٹ بورڈ احسان مانی نے کیا، ان کا کہنا ہے ہمارے لئے ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن موجودہ حالات میں تمام میچز کا کراچی میں انعقاد بہت ضروری ہے۔ تاہم مستقبل میں ہماری کوشش ہوگی کہ پی ایس ایل کے تمام میچز کا انعقاد پاکستان میں کیا جائے تاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو زیادہ سے زیادہ آمدن ہوسکے۔ یاد رہے پی ایس ایل کا جب سے انعقاد ہوا ہے اس کے زیادہ تر میچز شارجہ، دبئی اور ابو ظہبی میں کھیلے جارہے ہیں جس سے پی سی بی کو کروڑوں خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

کشیدگی کے خاتمے کیلئے بہترین سفارت کاری

جنگ ایسی بھیانک چیز ہے جو بعض اوقات دو ممالک کے ساتھ ساتھ پورے خطے کو یا پھر پوری دنیا کو ہی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم اس کا ثبوت ہیں۔ خاص طور پر آج کے دور کی جنگ جسے آپ محاذ پر کم اور اپنے گھر میں بیٹھ کر زیادہ لڑ سکتے ہو۔ میزائل، جوہری بم اور نہ جانے کیا کیا، سینکڑوں نہیں ہزاروں میل دوری سے بھی پھینکے جا سکتے ہیں اور ان کی تباہ کاریاں ، اللہ کی امان۔ ایک میزائل سے پورے کا پورا شہر ختم ہوجائے۔ اور جب یہ لڑائی دو جوہری طاقتوں کے درمیان ہو تو سمجھ لیجئے کیا کچھ ہو سکتا ہے۔حال ہی میں بھارت نے پاکستان سے پنجہ لڑانے کی کوشش کی۔ ایک دوسرے کے علاقے پر حملے کئے ۔ طیارے مار گرائے ۔ ایک جوہری جنگ کا ساماں بندھنے لگا ۔ بھارت جوش میں اندھا ہو رہا تھا لیکن شکر ہے پاکستان کے حواس بحال تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے پہلے دن ہی کہہ دیاتھا کہ امن کی جانب ایک قدم اٹھائیں ہم دو قدم بڑھائیں گے۔ ہم امن کے داعی تھے اور ہیں۔ بھارت دہشت گردی پر بات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔آپ (بھارت) خطے کے امن کو سیاست کی نذر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ آپ کی سیاسی ضرورت ہوسکتی ہے لیکن تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔ ہماری خواہش امن ہے اور ہماری ترجیح استحکام ہے۔اس موقع پر بہترین پاکستانی خارجہ پالیسی دیکھنے کو ملی۔ عمران خان، آرمی چیف اور شاہ محمود قریشی نے مختلف ممالک سے رابطہ کر کے بھارتی جارحیت اور جنون میں پاگل ہونے کے بارے میں بتایا۔ پاکستان پرلگنے والے بھارتی الزامات کی حقیقت سب سے سامنے بیان کی۔ یوں اصل حقیقت دنیا کے سامنے کھلی۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئے امریکہ چین ، روس ،متحدہ عرب امارات ، ترکی اور سعودی عرب نے کوششیں تیز کردیں تاکہ دو ایٹمی طاقت کے حامل ہمسایہ ملک تصادم کی راہ نہ اپنائیں۔ متحدہ عرب امارات کے ولی عہدشیخ محمد بن زاید النہیان نے جاری موجودہ کشیدگی کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاک بھارت قیادت حالیہ واقعات سے نمٹنے کیلئے پر امن مذاکرات کو ترجیح دیگی۔ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان اور بھارت کے درمیان مثبت تعلقات کے لیے ہر قسم کے اقدامات کی حمایت کرے گا کیونکہ یو اے ای پاکستان اور بھارت کے درمیان امن اور استحکام کو پروان چڑھتا دیکھنے کا خواہاں ہے اور پر امید ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پر امن مذاکرات کا راستہ اختیار کریں گے۔ ترک صدر طیب اردگان اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ میں عمران خان نے پاکستان کی امن کی کوششوں پر طیب اردگان کو اعتماد میں لیا جبکہ ترک صدر نے وزیراعظم عمران خان کی امن اور مذاکرات کی کوششوں کی تعریف کی۔سعودی عرب کے وزیر خارجہ بھی پا کستان کے ساتھ اظہار یکجہتی اور پاک بھارت کشیدگی ختم کرانے کیلئے عنقریب پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔آرمی چیف چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملٹری ڈپلومیسی بروئے کار لاتے ہوئے دنیا کے اہم عسکری قائدین اور پاکستان میں متعین سفراء سے رابطہ کر کے انہیں بھارت کے جارحانہ عزائم سے آگاہ کر کے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے مگر کسی بھی جارحیت کا لازماً جواب دے گا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل سر نکولس پیٹر، آسٹریلیا کے چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل اینگس جان کیمبل اور امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل جوزف سے بھی رابطہ کیا۔اس کے ساتھ ساتھ برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو، چینی سفیر یاؤ جنگ اور امریکی سفیر کی بھی آرمی چیف سے بات چیت ہوئی۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کشیدگی بارے چین کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی۔ کینیڈین وزیر خارجہ نے بھی مراسلے میں مذاکرات پر زور دیا ہے۔ پاکستان بڑھاوا دینا چاہتا ہی نہیں تھا۔ پاکستان کا راستہ امن کا راستہ ہے اور ہماری ضرورت استحکام ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہنا تھا انہیں پاکستان اور بھارت سے کچھ اچھی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ امید ہے پاکستان اور بھارت کشیدگی کا راستہ نہیں اپنائیں گے۔ وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے پاکستان بھارت وزرائے خارجہ سے رابطہ میں دونوں ممالک سے خطے میں امن و سلامتی برقرار رکھنے پر زور دیااور فوجی کارروائی سے پرہیز کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پڑوسی اور جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کے موجودہ صدر ملک نیپال نے بھی خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک سے انتہائی تحمل برتنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیوگوئٹرس نے پاکستان بھارت کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی ۔ دونوں فریق اگر مصالحت کے لیے تیار ہیں توسیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا آفس ثالثی کیلئے دستیاب ہے۔لیکن بھارت میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ روسی صدر پیوٹن نے بھی امید ظاہر کی کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین بحرانی کیفت کا جلد خاتمہ ہو گا۔ ماسکو میں بھارتی سفیر نے روس اور کسی دوسرے ملک کی ثالثی کو مسترد کردیا۔ بھارتی سفیر نے کہا کہ روس یا کسی دوسرے ملک کی ثالثی کی ضرورت نہیں۔برطانوی وزیر خارجہ جرمی ہنٹ کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون پر خطے میں جاری کشیدہ صورت حال پر تفصیل سے بات ہوئی۔پاکستان نے پلوامہ حملہ کے بعد اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا جواب دیتے ہوئے پیشکش کی تھی کہ اس واقعہ کی مشترکہ تحقیقات کیلئے ہم تیار ہیں۔ ہمیں واقعہ کے متعلق مواد فراہم کیا جائے۔ بھارت نے 15 دن بعد ہر محاذ پر ذلیل ہو کر آخر کار پلوامہ سے متعلق ڈوزیئر بھیج دیا۔ ہمارے وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ بھارت نے پلوامہ واقعے پر جو ڈوزیئر بھیجا اسے دیکھنے کا موقع نہیں ملا لیکن جو بھی ڈوزیئر ہے اس کو کھلے دل سے دیکھنے اور جانچنے کے لیے تیار ہیں۔ کاش بھارت یہ ڈوزیئر پہلے بھیج دیتا تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔ پہلے حملہ کیا گیا پھر ڈوزیئر بھیجا۔

گجرات کے قصاب کا پا ئلٹ پروجیکٹ

گزشتہ سے پیوستہ
گریٹ گیم کے تینوں کردار، مسلم دنیا کے ممکنہ لیڈر اور ایٹمی طاقت پاکستان کے خلاف ہیں اور اسے ختم کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت خاص کر اس مہم میں شامل ہے۔ مسلمانوں نے محمد بن قاسم سے لیکر مغلوں کی آخری حکومت تک ایک ہزار سال سے زیادہ ہندوستان پر جس میں ہند اکثریت میں تھے، حکومت کر چکے ہیں۔ ہندو لیڈر پاکستان کو توڑ کر اَکھنڈ بھارت بنانا چاہتے ہے۔وہ مسلمانوں سے ایک ہزار حکمرانی کا بدلہ لیناچاہتاے ہیں۔ جب پاکستان بن رہا تھا تو ہندو لیڈر کہتے تھے۔ جب قائد اعظمؒ کے دو قومی نظریہ کو ہم کمزور کرلیں گے تو پھر پاکستان کو اپنے ساتھ ملا لیں گے۔ ہندوؤں نے پاکستان کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ وہ پاکستان پر کئی جنگیں مسلط کر چکے ہیں۔بنگلہ دیش بنوا کر اس کا آغاز بھی کر چکے ہیں۔ہندو پاکستان کے بانی قائد اعظم ؒ کے دو قومی نظریہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے وہ پاکستان کے سیکولر عناصر کو استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب مشرقی پاکستان کو بھارت نے فوجی طاقت سے بنگلہ دیش بنایا تھا تو اُس وقت بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے تاریخی بیان دیا تھا۔’’کہ بھارت نے قائد اعظم ؒ کا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈوبو دیا ہے۔ مسلمانوں سے ہندوستان پر ایک ہزار سال کی حکمرانی کا بدلہ بھی لے لیا ہے‘‘۔بھارتی فوج کے چیف بھی بیان دے چکے ہیں کہ پاکستان کو سیکولر بننا ہو گا۔ ان حالت میں اگر پاکستان بھارت سے مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ تو اِسے قائد اعظم ؒ کے دو قومی نظریہ اور پاکستان میں مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے وژن کو سامنے رکھنا پڑھے گا۔ اس کا وعدہ عمران خان نے بھی اپنی منشور میں پاکستانی عوام کے سامنے رکھا تھا ۔ کہ وہ پاکستان کو علامہ اقبالؒ کے خوابوں اور تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کے مسلمانوں سے قائد اعظم ؒ کے دعدے کہ پاکستان کو مدینہ کی فلاعی ریاست کے مطابق بنائیں گے ۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے تحریک پاکستان کے دوران کہا تھا۔ جس دن ہندوستان میں پہلا ہندو مسلمان ہو اتھا تو پاکستان تو اسی دن سے بن گیا تھا۔ پھرقائد اعظم ؒ نے اپنی جمہوری جدو جہد اوردلیل کی بنیاد پر انگریزوں اور ہندوؤں کو شکست دے کر پاکستان حاصل کیا تھا۔ہندوؤں نے کہا تھا کہ قومیں اوطان (وطن ) سے بنتیں ہیں۔ اس لیے مسلمان اور ہندو ایک قوم ہیں۔ قائد اعظم ؒ نے ہندوؤں کے اِس بیانیہ کو رد کیا اور کہا کہ قومیں مذہب اورنظریات سے بنتیں ہیں۔ اس جاندار بیانیہ پر دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان بنایا تھا۔ قائد اعظم ؒ نے مسلمانوں کو نعرہ کہ پاکستان کا مطلب کیا ’’ لا الہ الا اللہ‘‘ بن کے رہے پاکستان۔ لے کے رہیں پاکستان اور مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔ قائد اعظمؒ نے ہندوؤں کو اپنے جد وجہد سے شکست دے کر دوقومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا تھا۔ ہندو قائد اعظمؒ کے دوقومی نظریہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ عیسائی اس لیے مسلمانوں کے مخالف ہیں کہ وہ اس وقت دنیا میں غالب ہیں۔ اس سے قبل مسلمانوں نے مدینہ کی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد ۹۹؍ سال میں رومی طاقت کو شکست دے کر اس وقت کی دنیا کے غالب حصہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ ایک ہزار سال سے زیادہ دنیا پر شاندار اور کامیاب طریقے سے حکومت کی۔آخرمیں عثمانی خلافت تین براعظموں پر حکومت کر رہی تھی۔ اس کے بعد عیسائیوں نے۱۹۲۴ء میں پہلی عظیم کے بعد عثمانی حکومت کو ختم کیا تھا۔ اسلامی دنیا کو چھوٹے چھوٹے راجوڑوں میں تقسیم کرکے پھرآپس میں بانٹ لیا۔عیسائیوں کا سرغنہ امریکا، اس وقت دنیا پر نیو ورلد آڈر مسلط کیا ہوا ہے۔اسلامی دنیا میں اس کے پٹھو حکمرا ن مسلمان عوام پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ ویسے بھی کوئی بھی غالب قوت کمزروں کو اپنے ایجنڈے پر زندہ رکھتے ہیں۔ یہ ساری کہانی سنانے کا مقصد اہل وطن کو یہ بتانا مقصد ہے کہ بھارت نے سوچی سمجھی پالیسی کے تحت پاکستان پر حملہ کیا ہے۔ پہلے گریٹ گیم کے تینوں ملکوں نے پہلے پاکستان کی معیشت کمروز کرنے کے پاکستان کی انسٹالیشن پر حملے کروائے۔ اسرائیل نے اپنا میڈیا استعمال کر کے دنیا میں پاکستان اور مسلمانوں کو انتہا پسند اور دہشت گرد ثابت کیا۔ امریکا نے دوستی کے روپ میں دشمنی کر کے پاکستان میں قوم پرستوں کو خرید کے کر تحریک طالبان پاکستان بنائی۔ امریکا نے بلیک واٹر اور اپنے دہشت گرد ریمنڈڈیوس جیسے جاسوسوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرواتا رہااور اس کوٹی ٹی پی( تحریک طالبان پاکستان) سے ذمہ داری قبول کرواتا رہا۔ قوم پرستوں کی برین واشنگ کی اور پاکستان کی فوجی انسٹالیشن پر حملے کروائے۔ بھارت نے الطاف حسین اور افغان قوم پرست ،امریکا اور بھارتی پٹھو حکومتوں کے ذریعے ن کو استعمال کر اور خود اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرائی۔ بھارت نے خود ہی اپنے ملک میں دہشت گردی کروا کے الزام پاکستان پر لا د کر بلا آ خر پاکستان پر حملہ کر دیا۔ صاحبو!یہ سوچا سمجھا منصوبہ ہے ۔ ان ساری باتوں کا بوجھ ڈکٹیٹر مشرف پر پڑھتا ہے۔ جس نے امریکا کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی۔ محب وطن پارٹیاں اور خود عمران خان ان باتوں کے خلاف تھا جس پر اسے اس کے مخالف طالبان خان بھی کہتے تھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب فوج نے بھی کہہ دیا ہے کہ ہم کسی کے لیے جنگ نہیں لڑیں گے۔ اب دنیا کو ڈو مور کرنا چاہیے۔ اللہ کا شکر ہے کہ حکومت فوج اور عوام گریٹ گیم کے تینوں ملکوں کے برخلاف ہے اور ایک پیج پر ہے۔پاکستانی عوام اور سیاسی پارٹیوں کو اپنی حکومت سے بھر پور یکجہتی کا مظاہرہ کرکے بھارت کے دانت کھٹے کرنے چاہییں۔ خوشی کی کا موقعہ ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی حملہ کے خلاف حکومت اور اپوزیشن یک جان ہو گئی ہے۔ اس وقت عمران حکومت ڈپلومیسی میں کامیاب جارہی ہے۔ انصاف پسند دنیا جو پاکستان کے خلاف منفی پرپیگنڈا کا شکار ہو گئی تھی۔ عمران خان کی امن کی کوششوں کی تعریف کرنے لگی ہے۔ خود بھارت میں سکھ اور انصاف پسند طبقے پاکستان کی امن پسندی کے تعریفیں کر رہے ۔ بھارت میں۱ ۲؍ اپوزیشن کی پارٹیوں نے موددی سے بیزاری ظاہر کر دی ہے۔ عمران خان نے کیا دانشمندانہ اور جرأت کی بات کی ہے کہ پاکستان کوناجائزتنگ نہ کرو کیونکہ پاکستان نے اپنے وطن کی حفاظت کے ٹیپو سلطان بننا پسند کیاہے نہ بہادر شاہ ظفر جس نے شکست قبول کر لی تھی۔ الحمد اللہ پاکستان ایک ایٹمی اور میزائل قوت ہے۔مسلمان جہادی پس منظر رکھنے والے لوگ ہیں۔ دنیا انہیں پہلے بھی آزما چکی ہے ۔ مسلمانوں کو جنگ سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ا ور اگر دشمن جنگ چھیڑ دے تو پھر اگر مسلمان نہیں تو پھر کوئی نہیں۔ اس نازک موقعہ پر او آئی سی کو دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے دشمن کو اپنی میٹنگ میں دی گئی دعوت واپس لی لینا چاہیے ورنہ ان پر بھی مشکل وقت آسکتا ہے۔ اگر بھارت پاکستان کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا تو خود بھی ختم ہو جائے گا۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔ ختم
***

Google Analytics Alternative