Home » 2019 » March » 05 (page 3)

Daily Archives: March 5, 2019

بھارتی جارحیت ،پاکستانی کردارکی دنیامعترف

معززقارئین ایک صاحب نے بچھو کو ڈوبتے ہوئے دیکھا تو انہیں ترس آ گیا ہاتھ بڑھا کر بچھو کو ہتھیلی پر بٹھایا اور خشکی پر اتار دیا ۔بچھو آخر بچھو تھا خشکی پر اترتے وقت اپنے محسن کی انگلی پر ڈنگ مار دیا ۔قریب کھڑے ہوئے چند افراد یہ تماشہ دیکھ رہے تھے ان میں سے ایک بولا تم جانتے ہو کہ بچھو کی فطرت ہی ڈنگ مارنا ہے پھر تم نے اس پر ترس کیوں کھایا ۔وہ صاحب ہاتھ سہلاتے ہوئے بولے وہ بچھو ہو کر اپنی عادت سے مجبور تھا اور میں انسان ہو کر اپنی عادت سے ۔۔۔سب واہ واہ کرنے لگے ۔ایک بزرگ وہیں سے گزر رہے تھے ان صاحب کا کندھا تھپکتے ہوئے بولے’’ شاباش بیٹا تم اور بچھو میں کوئی فرق نہیں ‘‘ واہ واہ کے نعرے ’’مطلب کیا مطلب‘‘ کے سوال میں بدل گئے بچھو نے اپنی عادت اور تم نے اپنی فطرت پر عمل کیا ۔بچھو کے پاس عقل نہیں تھی اس لئے اس نے اپنے محسن کو ڈنگ لیا تمہیں تو خدا نے عقل دی ہے بچھو کو ہتھیلی پر بٹھانے کی بجائے کسی چھڑی کے ذریعے بھی پانی سے نکالا جا سکتا تھا ۔یہ کہتے ہوئے بزرگ تو وہاں سے چلے گئے لیکن ان صاحب کو اپنے پورے جسم پر بچھو کے ڈنگ محسوس ہونے لگے ۔صرف انسان ہونا کافی نہیں ہوتا اس میں عقل کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اس عقل کا مناسب اور بر وقت استعمال بھی اہم ہے ۔معزز قارئین وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بمقابلہ اپنے ہم منصب نریندر مودی کے بچھو والا واقعہ یعنی ڈنگ کھائے بغیر کمال حکمت اور دانائی سے بھارت کی طرف سے مسلط کی گئی کشیدگی کے جواب میں میدان جنگ میں بھی دشمن کو مات دی اور بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا فیصلہ کر کے سفارت کاری کی دنیا میں بھی کامیابی حاصل کی ۔اس میں دو رائے نہیں کہ خطے میں پیدا ہونے والی پریشان کن صورت حال قومی قیادت کیلئے کڑی آزمائش سے کم نہیں تھی اور اس دوران پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت اور دفتر خارجہ نے پوری تندہی و صلاحیت کے ساتھ خطے اور عالمی برادری میں قومی مفادات کی بھرپور ترجمانی کی ۔پاکستان نے جس جرأت،تدبر اور متانت کا مظاہرہ کیا پوری دنیا کی طرف سے اس کی ستائش کی جا رہی ہے۔وزیر اعظم عمران خان امن جبکہ ان کے ہم منصب نریندر مودی جنگ کے خواہش مند ہیں ۔عمران خان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارت کے گرفتار پائلٹ رہا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سارا تنازعہ کشمیر کی وجہ سے ہے ۔وطن عزیز میں بعض کا خیال تھا کہ بہتر ہوتا کہ بھارتی پائلٹ کی رہائی کے بارے وزیر اعظم عمران خان چند دن انتظار کر لیتے تو زیادہ مناسب ہوتا تا کہ بھارت اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کے توسط سے معاملات طے کرتا۔اس کی واپسی کے مخالف حلقوں کا خیال ہے کہ پائلٹ کو قید میں رکھ کر بعض اہم مطالبات منوائے جا سکتے تھے ۔بھارت میں قید کسی پاکستانی قیدی کو رہا کرایا جا سکتا تھا ۔اس بارے میں چند حقائق کو سامنے رکھنا ضروری ہے ایک تو یہ کہ جنگی مجرم ،عام جاسوس اور دہشت گرد میں بہت فرق ہے ۔دہشت گرد اور جاسوس پر عالمی قوانین اور ضابطے لاگو نہیں ہوتے اس پر اس ملک کے قانون لاگو ہوتے ہیں جہاں وہ پکڑا جاتا ہے ۔جنگی مجرموں پر اقوام متحدہ کی 1960ء کے عشرہ کے جنیوا کنونشن کے ضابطے لاگو ہو سکتے ہیں ۔گرفتار شدہ مجرم سے صرف اس کا نام ،اس کی رجمنٹ کا نام اور سروس نمبر پوچھا جا سکتا ہے کوئی دوسری بات نہیں پوچھی جا سکتی اسے اچھا کھانا اور ضروری علاج معالجہ کی فراہمی ضروری ہے اسے نہ تو ہراساں کیا نہ ہی اس پر تشدد کیا جا سکتا ہے ۔جنگی قیدی کو دیر یا بدیر رہا ہی کرنا ہوتا ہے ۔اگر بھارتی پائلٹ دیر تک قید میں بھی رکھ لیا جاتا تو اس پرکھانے پینے ،اس کی سیکورٹی اور علاج معالجہ کے بھاری اخراجات برداشت کرنے کے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا تھا اور کشیدگی الگ بڑھتی رہتی۔اس کے برعکس اس کی محض تین دن میں رہائی سے نہ صرف بیرونی دنیا بلکہ خود بھارت میں سنجیدہ اور سیاسی حلقوں پر اچھے اثرات پڑے ہیں ۔متعدد سنئیر بھارتی صحافیوں کی طرف سے ابھے نندن کی رہائی کے خیر مقدمی پیغامات آ چکے ہیں ۔امریکہ ،جرمنی ،فرانس ،ترکی ،عرب امارات اور سعودی عرب سمیت پوری دنیا نے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے اعلان کی بے حد تعریف کی اور پاکستان کے اس خیر سگالی کے عمل کو خطے میں کشیدگی کی کمی سے تعبیر کیا ۔عمران خان کے فیصلے کو بھارت میں بھی بے حد پزیرائی حاصل ہو رہی ہے اور کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق ،محبوبہ مفتی، نوجوت سنگھ سدھو ،برکھادت،کیپٹن امریندرسنگھ سمیت بھارت کی معتبر شخصیات کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے ۔ترجمان اقوام متحدہ نے بھی عمران خان کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان قابل تعریف ہے ۔دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں جبکہ عالمی میڈیا نے بھی بھارت کو وزیر اعظم عمران خان کی پیشکش اور اس کے قیدی پائلٹ کو رہا کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے ۔بین الاقوامی جریدے گلف نیوز نے پاکستان کے فیصلے کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے بھارتی ہم منصب کے خلاف سفارتی جنگ جیت لی ۔الجزیرہ نے بھی پاکستانی وزیر اعظم کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دو نیوکلئیر طاقتوں میں تناؤ کم کیا ۔نیویارک ٹائمز کے مطابق عمران خان کا اعلان جنگ کا راستہ روک سکتا ہے جبکہ دی گارڈین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے اب تک خان کی پیشکش کا جواب نہیں دیا ۔عرب نیوز نے بھی پاکستان کے اقدام کو امن کی جانب ایک اور قدم قرار دیا۔بھارتی پائلٹ کی رہائی کے اعلان کے بعد نریندر مودی کواپنے لب و لہجے میں تبدیلی لاتے ہوئے پاکستان کا احسان مند ہونا چاہیے تھا لیکن نریندر مودی پھر عوامی جذبات کو بڑھکا رہے ہیں اور ان کی ہٹ دھرمی انتہاؤں کو چھو رہی ہے ۔پاک فوج کے دندان شکن اور منہ توڑ جواب کے بعد بھی ہندوستانی وزیر اعظم کی عقل ٹھکانے نہیں آئی بلکہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے پاکستان کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردوں کے کیمپ پر حملہ پائیلٹ پروجیکٹ تھا ،ابھی تو اصل کی طرف بڑھیں گے ۔بھارتی اپوزیشن کی 21جماعتوں نے مودی کے حالیہ طرز سیاست کو بھارت کیلئے تباہ کن قرار دیتے ہوئے اس کا ہر محاذ پر محاسبہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔سابق وزیر اعلیٰ یو پی اور بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایا وتی نے مودی کے خطاب کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اسے عوامی جذبات کے ساتھ مذاق کے مترادف قرار دیا ہے ۔بھارتی فنکاروں ،سیاستدانوں ،تاجروں اور عام طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے پاکستانی اقدام کی تعریف کی لیکن مودی ابھی تک آگ و خون سے کھیلنے کی باتیں کر رہا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے پاک بھارت تنازع میں خود کو ایک مدبر اور سلجھا ہوا سیاستدان ثابت کیا ہے۔پاک بھارت کشیدگی خطے میں امن کی فضا سازگار کرنے میں رکاوٹ تو بنی لیکن نریندر مودی کا ایجنڈا ضرور سامنے آگیا جبکہ ایک انتخابی مہم کے دوران ریاست کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما بی ایس یادیونے اپنی اور مودی صاحب کی دلی خواہش کو بیان کر ہی دیا کہ اس بار انتخابات کے موقع پر بھارت کی جانب سے پاکستان میں فضائی کاروائی پر ہماری جماعت کو انتخابات میں لوک سبھا کی 22سے 28نشستیں ملیں گی ۔پھر جب دوسرے دن پاکستان نے سرپرائز دیا ،دو بھارتی طیارے جموں اور آزاد کشمیر کی سرحد پر گرا لئے اور ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتا کر لیا گیا۔اپنے دو پائلٹوں کی ہلاکت کی خبر مودی کو جب ایک میٹنگ کے دوران ملی تو وہ کانپتے کانپتے وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔مودی کی حرکات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے عوام کو خون کی ہولی میں نہلا کر دوبارہ وزیر اعظم کی کرسی پر جلوہ افروز ہونا چاہتے ہیں ۔بھارتی میڈیا چودہ فروری سے مسلسل پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا تھا ۔پاکستان پر حملہ کرنے کیلئے عوام اور حکومت کو اکسا رہا تھا ۔اس کے مقابلے میں پاکستانی میڈیا نے ایک لمحے کیلئے بھی توازن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔پاکستان کے سیاستدانوں نے ثابت کیا کہ وہ بھارتی سیاستدانوں سے کہیں زیادہ سمجھدار ہیں ۔پاکستان کی فوج نے خود کو بھارتی فوج کے مقابلے میں ہر طرح سے بہتر ثابت کیا ۔اداروں اور افراد کا یہ مثبت تال میل اور باہمی اعتماد ہی پاکستان کی قوت ہے ۔بھارتی جارحیت سے پیدا ہونے والے اس بحران سے پاکستان ایک مضبوط اور پختہ کار ملک بن کر ابھرا۔

الیکشن کی’’ پیشگی تیاری‘‘ اصل ڈرامہ

اس میں اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے کہ پلوامہ ڈرامے کی آڑ میں اب تک جو کچھ ہو چکا ہے اس کے پیچھے بھارت میں دو تین ماہ بعد ہونے والے عام انتخابات ہیں، جسمیں مودی حکومت کو واضح شکست ہونے والی ہے۔قبل ازیں بھی بی جے پی کو پانچ اہم ریاستوں میں شکست ہو چکی ہے۔یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے۔ بھارت میں جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں پاکستان دشمنی کے نقارے بج اٹھتے ہیں۔اس بار بھی مودی انتظامیہ یہی حربہ آزما رہی ہے ،بس فرق صرف اتنا ہے کہ بی جے پی اِس بھونڈے انداز میں اِسے آزما رہی ہے کہ دو ایٹمی ممالک کے ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے۔ مودی حکومت اور اسکے زرخرید وحشی میڈیا کے گٹھ جوڑ سے کسی بھی وقت خدانخواستہ کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔اللہ نہ کرے اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے پورے جنوبی ایشیا پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔یہ تو اِس خطے کی عوام کی خوش قسمتی ہے کہ مودی کی وحشیانہ سوچ اور اَپروچ کے مقابلے میں پاکستان کی سیاسی قیادت نے انتہائی تدبر اور تحمل سے کام لیتے اشتعال انگیزی کا جواب اشتعال انگیزی سے نہیں دیا۔وزیر اعظم عمران خان نے دوسری بار لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے پر بھارتی طیارے مار گرائے جانے کے بعد خطاب میں دوبارہ بات چیت کی پیشکش کی تھی مگر جواب منفی۔دوسری جانب افواج پاکستان اور ان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی نہایت تحمل سے اس ساری صورتحال پر گہری نظر رکھی اور دشمن کی جارحیت کا ہر میدان میں ڈٹ کر جواب دیا۔یہ ایک مشکل صورتحال تھی اور ذرا سی اشتعال انگیزی مودی کے عزائم کی راہ ہموار کرسکتی تھی۔جنرل قمر جاوید باجوہ حکومت کی امن کوششوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے۔اس حوالے سے ان کی کوششوں کو بین الاقومی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔فرانسیسی میڈیا نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی عسکری صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے اعلیٰ سفارتی کوششوں کوبھی سراہا ہے جس کے باعث جاری کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی۔قبل ازیں جب سعودی عرب کے ولی عہد پاکستان کے دورے پر آئے تھے تب بھی پاکستان کی سفارتی کامیابی کا موجب جنرل باجوہ کی کوششوں کو قرار دیا گیا تھا۔اس سلسلے میں مشرق وسطیٰ کے ایک معروف مطبوعہ’’ دی مڈل ایسٹ آئی‘‘ نے لکھا کہ پاکستان کے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے تعلقات کو اس کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نئی شکل میں ڈھالا ہے۔ تفصیلی تجزیئے میں لکھا گیاکہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مشرق وسطیٰ سے پاک فوج کے تعلقات کا آغاز خاموشی کے ساتھ سعودی عرب اور یواے ای سے کر دیا ہے۔ برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے وزیٹنگ فیلو کمال عالم کے تحریر کردہ تجزیے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ پاکستان کو نہ صرف اسٹرٹیجک مضمرات کے تحت دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے طور پر دیکھا گیا بلکہ اسے مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے کردار کی اہمیت کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا، کیونکہ جنرل باجوہ نے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں ایک پراکسی کی بجائے پاکستان کو ایک سٹرٹیجک اور مساوی پارٹنربنایاہے۔قبل ازیں گزشتہ برس بھی انہوں نے اس طرح کے ایک تجزیہ میں لکھا تھا کہ جنرل باجوہ نے اپنی توجہ دفاعی ڈپلومیسی کو فروغ دینے پر مرکوز کر رکھی ہے۔ جنرل باجوہ خلیجی رابطہ کونسل ممالک اور ایران سے اپنے تعلقات مستحکم کرنے،افغانستان بارے امریکیوں سے واضح گفتگو اور بھارت سے بہترتعلقات کے لیے کوشاں ہیں ۔ اس سب کے باوجود مودی کی جانب سے پہلے کبھی کوئی مثبت جواب ملا ،نہ اب ایسا ہو رہا مگر ان کوششوں نے بھارتی حزب اختلاف اور وہاں کے سنجیدہ حلقوں کو متاثر کیا ضرور کیا ہے۔ وہاں سے اب یہ آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں ہیں کہ مودی الیکشن جیتنے کی خاطر فوج کو استعمال کرکے ملک کو کسی مصیبت میں ڈالنے سے گریز کریں۔بھارت کی معروف تجزیہ کار اروندھتی رائے نے اگلے روز اپنے ایک مفصل تجزیہ میں جو لکھا وہ مودی کے ہوش ٹھکانے لگانے کیلئے کافی ہے۔وہ لکھتی ہیں “عاقبت نا اندیش انداز سے کشمیر کے علاقے بالاکوٹ میں کیے جانیوالے پیشگی فضائی حملے سے وزیراعظم نریندر مودی نے نادانستگی میں وہ کچھ گنوا دیا ہے جو سابقہ بھارتی حکومتوں نے تقریباً معجزاتی انداز سے دہائیوں کے دوران حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی‘‘۔وہ مزید لکھتی ہیں کہ مودی نے مسئلہ کشمیر کو عالمی حیثیت دے ڈالی۔ انہوں نے دنیا کو یہ بتایاہے کہ کشمیر ممکنہ طور پر دنیا کا خطرناک ترین علاقہ بلکہ جوہری جنگ شروع ہونے کا مقام ہے‘‘۔ انہوں نے اہم بات یہ کی کہ ’’عقل ٹھکانے پر ہو تو کیا کوئی ایسا سوچ سکتا ہے کہ بدترین حد تک پیچیدہ اور بد ترین حد تک ظالمانہ سمجھے جانے والے اس مسئلے کو ایک ہی جھٹکے میں، جلد بازی میں، ڈرامائی انداز سے سرجیکل اسٹرائیک کرکے حل کیا جا سکتا ہے یا اس کی پیچیدگی کم کی جا سکتی ہے؟ حالانکہ اب واضح ہو چکا ہے کہ یہ سرجیکل اسٹرائیک تھی ہی نہیں۔2016ء میں اُڑی میں بھارتی فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد کی گئی سرجیکل اسٹرائیک سے اتنا کچھ ہی حاصل ہو پایا تھا جتنا ایک متاثر کن بالی ووڈ ایکشن فلم سے حاصل ہوتا ہے۔ بالاکوٹ میں کی گئی سرجیکل اسٹرائیک بھی ایک فلم سے متاثر ہو کر ہی کی گئی۔ مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ساری اچھل کود ’’پیشگی حملے‘‘ کی بجائے الیکشن کی’’ پیشگی تیاری‘‘ لگتی ہے۔
اس ملک کے وزیراعظم کیلئے بہادر فضائیہ کو خطرناک ڈرامے میں جھونکنا انتہائی حد تک بد تہذیبی ہے‘‘۔ اروندھتی نے تو اپنے تجزیے کی بنا پر اس ساری کارروائی کو الیکشن ڈرامہ قرار دیا ہے مگر بی جے پی کے ایک سابق رہنما اوی دندیا نے ایک آڈیو گفتگو لیک کرکے مودی دوول کھیل بے نقاب کر ڈالا ہے۔اس آڈیو گفتگو میں بھارتی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سربراہ پلوامہ میں بھارتی فوج پر ہی حملے کا منصوبہ بناتے ہوئے سنائی دیتے ہیں، آڈیو میں پہلے شخص جس کا تعلق بی جے پی سے ہے کہتا ہے کہ ملک کے عوام کو گمراہ کیا جاسکتا ہے،انتخابات میں کامیابی کیلئے ’’یُدھ ‘‘یعنی جنگ کرانے کی ضرورت ہے۔یہ کلپ سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکا ہے۔اس بھیانک منصوبے کی تفصیل ان شااللہ اگلے کسی کالم ہو گی۔

Google Analytics Alternative