Home » 2019 » March » 06

Daily Archives: March 6, 2019

اقوام متحدہ پاکستان کیخلاف ’’سہ ملکی حملہ سازش ‘‘کا نوٹس لے

بھارت اور خصوصی طورپر نریندر مودی پاکستان کے ایسے دشمن ہیں جوکسی وقت بھی کچھ کرسکتے ہیں،27فروری کو بھارت نے اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان پر میزائل حملے کا منصوبہ بنایا تھا اِس میں اُس نے 8 سے 9مقامات کو نشانے پر رکھا تھا، انڈیا نے راجستھان کی جانب سے کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی بنا رکھی تھی، جنگ مسلط کرنے کی کوشش میں ان دونوں کے علاوہ ایک اور ملک بھی شامل تھا، اسرائیل کی کوشش ہے کہ ہ کسی نہ کسی صورت پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو نقصان پہنچائے لیکن پاکستان کی انٹیلی جنس اطلاع پر ملک کی فضائی حدود کو بند کردیا گیا اور بھارت کو دوٹوک انداز میں بتایا گیا کہ اگر اس نے کوئی بھی ایسا مذموم قدم اٹھایا تو اس کو انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔ چونکہ ہندو بنیا بنیادی طورپر بزدل واقعہ ہوا ہے پاکستان کی وارننگ کے بعد بھارت کے ہوش اڑ گئے اور اس نے اپنا حملہ منسوخ کردیا۔ بھارت کے ممکنہ ٹارگٹ سے متعلق دوست ممالک کے ساتھ معلومات شیئر کی جاچکی ہیں، بھارت نے کراچی اور بہاؤلپور کو ہدف پر رکھا تھا لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں کسی طور بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ بھارت کی یہ ایک بین الاقوامی سازش اور خطے کو جنگ میں جھونکنے کے مترادف ہے، صرف نریندر مودی انتخابات جیتنا چاہتا ہے اس کو شاید یہ علم نہیں کہ جنگ کتنی بھیانک ہوتی ہے اور اس کے نتائج کتنے خطرناک نکلتے ہیں، چونکہ مودی کم عقل واقع ہوا ہے اور اس کو شاید یہ بھی پتا نہیں کہ اگر خدانخواستہ جنگ ہوتی ہے تو پاکستان کے پاس نقصان کرنے کیلئے کم اور بھارت کا بہت زیادہ نقصان ہوگا۔ جب دونوں طاقتیں ایٹمی صلاحیت کی حامل ہوں تو ان کے مابین کشیدگی سے صرف وہ دو ممالک ہی نہیں پوری دنیا کے متاثر ہونے کے خدشات ہوتے ہیں اسی وجہ سے بین الاقوامی برادری پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے متفکر ہے، ہر ایک کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کشیدگی کے بادل چھٹ جائیں اسی وجہ سے پاکستان نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو زندہ واپس کیا مگر اس کے جواب میں بھارت نے پاکستان کو شاکر اللہ کی نعش بھیجی۔ دنیا بھی جان چکی ہے کہ مودی ہر صورت میں خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنا چاہتا ہے مگر ہماری فورسز ہر طرح سے تیار ہیں اور کسی طرح بھی وہ ملک پر آنچ نہیں آنے دیں گی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور نے فارورڈ آپریٹنگ بیسز کا دورہ کیا اس دوران انہوں نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ابھی مشکل وقت ختم نہیں ہوا دشمن کو جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔ گفتگو کرتے ہوئے ایئر چیف نے دشمن کیخلاف حالیہ فضائی کامیابی پر عملے کے بلند حوصلے اور پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا۔ انہوں نے کہاکہ دشمن کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں مادر وطن کی سالمیت اور دفاع کے فریضے کو بطریق احسن انجام دینے پر پوری قوم پاک فضائیہ پر نازاں ہے۔ ہم خدائے ذوالجلال کے سربسجود ہیں جس نے ہمیں یہ طاقت دی اور ہم اپنی قوم کی امیدوں پر بھرپور انداز میں پورا اترسکتے ہیں۔دشمن نے پاک فضائیہ کے شاہینوں کی صلاحیت کو دیکھ لیا ہے اگر اس نے دوبارہ سرحد پار کرنے کی کوشش کی تو وہ بھارت کے اندر گھس کر اسے وہاں جاکر ماریں گے جس کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ بھارت جو اتنا اچھل رہا ہے اس کی حقیقت امریکی اخبار نے آشکارا کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت کا 68 فیصد اسلحہ بوسیدہ ہوچکا ہے جبکہ جنگ کرنے کیلئے صرف 10 روز کا ایمونیشن ہے، اپنے ملک کی فوج سے 50فیصد چھوٹے ملک سے شکست کھا گیا یعنی کہ پاکستان نے مودی اور انڈیا کے چودہ طبق روشن کردئیے تو یہ خاک چین کا مقابلہ کرے گا اسی طرح بھارتی فوج کی بھی صورتحال ہے جن کو نہ وردی ملتی ہے ، نہ کھانا، نہ چھٹیاں اسی وجہ سے وہ آئے روز خودکشیاں کرتے رہتے ہیں، لہذا امریکہ بھی اس بات کے بارے میں سوچ رہا ہے کہ وہ بھارت سے ہاتھ اٹھا لے مگر مودی ہے کہ آدھے گڑھے کی طرح اچھلا جارہا ہے ، پاکستان حملے کے بعد تو بھارتی فوجی صلاحیتیں بالکل بے نقاب ہوچکی ہیں۔ ان حالات میں دنیائے عالم کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کیلئے کردارادا کریں اور ان تمام حالات کا ذمہ دار بھارت اور مودی ہے، او آئی سی کے اجلاس میں بھی یہ چیز بھی آشکارا ہوچکی ہے کہ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے اور خطے میں امن اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب مسئلہ کشمیر حل ہوگا بصور ت دیگر اگر یہ مسئلہ موجود رہا تو یہ ایک ایسی سلگتی ہوئی چنگاری ہے جو کسی بھی وقت بھی ایٹمی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ بین الاقوامی برادری اور خصوصی طورپر اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ بھارت اور اسرائیل کے پاکستان پر حملہ کرنے کے گٹھ جوڑ کا فی الفور نوٹس لے۔
غیر ریاستی عناصر کو غیر مسلح کرنا ۔۔۔ایک احسن اقدام
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملک میں شدت پسند اور عسکری تنظیموں کیخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے آغاز کا فیصلہ کرلیا ہے اور غیر ریاستی عناصر کو غیر مسلح کرنے کیلئے بھی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ یہ بہت احسن اقدام ہے کیونکہ جب تک غیر ریاستی عناصر کے پاس اسلحہ رہے گا اس وقت تک سکون بھی نہیں ہوسکتا اور قتل و غارت گری کو بھی نہیں روکا جاسکتا۔ ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کیلئے بھی یہ اقدام ضروری ہے کیونکہ ریاست کے اندر ریاست کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی۔ تاہم حکومت کو یہ ہم تجویز دیں گے کہ اگر کوئی غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں گرفتار ہوتا ہے تو اسے سخت سے سخت سزا دی جائے جس طرح چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ آج سے جھوٹی گواہی کا خاتمہ کررہے ہیں ، قانون کہتا ہے جھوٹی گواہی پر عمر قید ہوتی ہے، 4مارچ 2019ء سے سچ کا سفر شروع کررہے ہیں ، تمام گواہوں کو خبر ہو جائے بیان کا کچھ حصہ جھوٹا ہوا تو سارا بیان مسترد ہو جائے گا، یہ ریمارکس انہوں نے ایک کیس کے دوران دئیے، جھوٹ کا خاتمہ بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح دہشت گردی اور غیر ریاستی عناصر کو ختم کرنا ضروری ہے۔ ان اقدامات پر عمل کرکے ملک میں امن و امان قائم ہوگا، مقدمات کا فیصلہ بھی درست اور صحیح سمت میں ہوگا ، جھوٹی گواہیوں کا رواج ختم ہو جائے گا اور انصاف کا بول بالا ہوگا۔حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پابندی کے شکار افراد اور تنظیموں کو کنٹرول میں لے کر ان کے اکاونٹ منجمد کرنے کے لیے سلامتی کونسل آرڈر 2019 جاری کر دیا۔ پیر کی شام دفترخارجہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایکٹ 1948کی روشنی میں سلامتی کونسل آرڈر 2019 جاری کر دیا گیا ہے۔آرڈر جاری کرنے کا مقصد افراد اور اداروں پر سلامتی کونسل کی عائد پابندیوں پرعمل درآمد کا طریقہ کار طے کرنا ہے۔ سلامتی کونسل آرڈر کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ان پابندیوں کے تحت حکومتوں کو افراد یا اداروں کے اثاثے منجمد کرنا ہوتے ہیں اور سلامتی کونسل آرڈر 2019 کو سلامتی کونسل اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سلامتی کونسل احکامات پر عمل درآمد سلامتی کونسل ایکٹ 1948 کے تحت کیا جاتا ہے۔سلامتی کونسل کے احکامات کا مقصد پابندی کی شکار تنظیموں اور افراد کو درست کرنا ہے۔

بھارت میں ہندو ازم کی ترویج

امریکی کانگریس نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں ہندوازم کے بڑھتے ہوئے رحجانات کے باعث سیکولرازم کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلتے پرتشدد واقعات سے بھارت میں سیکولرازم کی جڑیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ مذہبی شدت پسندی اور پرتشدد واقعات سمیت ریاستی سطح پر قانون سازی، گائے تحفظ بل، غیرسرکاری تنظیموں کو حاصل آزادای جیسے عناصر بھارتی ریاست کے بنیادی نظریے کو مسخ کررہے ہیں۔شائع ہونے والی رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی کے مسئلہ میں کہا گیا کہ ہندوازم باقاعدہ سیاسی طاقت کے روپ میں ابھر رہی ہے اور یہ طاقت گزشتہ چند دہائیوں سے بھارتی سیکولرازم کی جڑ کو کھوکھلا کررہی جس کے نتیجے میں مذہبی آزادی کا تصور خام خیال بن چکا ہے۔
ساوتھ ایشین اسپیشلسٹ ایلن کورانٹ نے رپورٹ مرتب کی جس کا مقصد امریکی کانگریس کو حالات سے متعلق آگاہی دینا تھا۔تاہم متعدد امریکی قانون سازوں نے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو پر دورہ پاکستان اور بھارت سے پہلے زور دیا تھا کہ وہ 6 ستمبر کو بھارت سے ملاقات میں مذہبی آزادی کے مسئلے پر بات چیت کرے۔20 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں پرتشدد واقعات کے پھیلنے میں بڑا سبب بھارتی سوشل میڈیا ہے جہاں احساسات کو بھڑکانے کے لیے بھرپور کام ہو رہا ہے۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ 2014 میں نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کی کامیابی کے بعد مذہبی آزاد کے مسائل نے جنم لینا شروع کیے۔اس حوالے سے کہا گیا کہ بی جے پی نے اترپردیش سمیت متعدد ریاستوں میں کامیابی حاصل جہاں 20 کروڑ میں سے ایک تھائی اکثریت مسلمانوں کی ہے۔سی آر ایس رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ بھارت میں مذہبی انتہاپسندی کے باعث امریکا اور بھارت کے مابین تعلقات میں تفریق پیدا ہوئی تھی۔
بھارت کی موجودہ حکومت میں ہونے والے مذہبی فسادات بھارتی نام نہاد سیکولرازم کا بھانڈہ پھوڑ رہے ہیں۔نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ بھارتی مسلمان رکن اسمبلی انجینئر رشید نے بھی قائد اعظم کے فیصلے کو بھارت کے موجودہ حالات میں سراہا ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت نریندر مودی کی سربراہی میں ترقی کی منازل طے کرنے کی بجائے مذہبی اور نظریاتی فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گائے کا گوشت کھانے پر پابندی، سکھوں کی مذہبی کتاب کی بے حرمتی اور دلتوں کی کتوں سے تشبیہ، بھارتی حکومت کے دل میں چھپی منافقت کو آشکار کرتی ہے
سابق آرمی چیف اور موجودہ وزیرجنرل وی کے سنگھ کا دلتوں کے بارے میں بیان دراصل فوج میں دلتوں سے متعلق پائی جانے والی سوچ کی بھی عکاسی ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بے جے پی کی حکومت ہی نہیں بلکہ بھارتی فوج بھی سیکولر نہیں، بلکہ سیکولرازم کا پردہ اوڑھے دیگر مذہبی اقلیتوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی کا وعدہ کر کے اقتدار میں آنے والے مودی مسلسل خاموش ہیں اور ان کی خاموشی ان کو اقتدار میں لانے والی پس پردہ قوتوں کے سامنے بے بسی ہے۔
بھارت میں گائے کا گوشت کھانے پر پابندی سے لیکر مسلمان مخالف حکومتی عہدیداروں کے بیانات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو آج بھی بھارت نے قبول نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز بھارتی مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
بنیادی طور پر ہندوستان ایک مختلف رنگوں کی چھتری ہے جسے سیکولر بھارت کا نام دیا گیا ہے۔ جسمیں مختلف مذاہب کے لوگ رہائش پذیر ہیں اور یہی سیکولر طرز سوسائٹی بھارت کو یکجا کئے ہوئے ہے۔ مگر موجودہ حالات و واقعات مستقبل میں بھارت کے کئی حصّے ہوتے دکھا رہے ہیں۔
بھارت کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات ملک میں مذہبی برداشت، نسلی امتیاز کے خاتمے اور آزاد خیالی کے لیے آواز بلند کرنے لگی ہیں۔ بھارتی دانشوروں نے ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں تنوع اور سیکولرازم کی حفاظت کی جائے۔ یہ مظاہرین ملک میں لادین افراد اور اقلیتوں کے خلاف شروع ہونے والی تشدد کی نئی لہر پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔
بھارت کے درجنوں مصنفین نے مذہبی عدم برداشت اور نسلی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے قومی انعامات و اعزازات واپس کر دیے ہیں۔ بھارتی معاشرے کے دانشور طبقے میں بے چینی کی یہ لہر اس وقت پیدا ہوئی تھی، جب ہندوؤں کے ایک مشتعل ہجوم نے ایک مسلمان کو مار مار کر ہلاک جب کہ اس کے بیٹے کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ گائے ذبح کرنے کے مرتکب ہوئے تھے۔ بعد ازاں معلوم ہوا تھا کہ اصل میں اس مسلمان کنبے نے گائے نہیں بلکہ ایک بکرا ذبح کیا تھا۔
یہ امر اہم ہے بھارت کے کئی حلقوں میں یہ خطرہ اسی وقت پیدا ہو گیا تھا کہ بھارت کے سیکولر تشخص کو خطرہ ہو سکتا ہے، جب ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی نے گزشتہ برس پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی نے بھارتی معاشرے میں ’برداشت اور تنوع‘ کے موضوع پر بیانات کم ہی جاری کیے ہیں۔
***

سی پیک ثمرات اور عالمی سیاحت !

asgher ali shad

پاکستان کی معیشت کو ماضی قریب میں گرچہ کافی دھچکے پہنچے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ امر باعث اطمینان ہونا چاہیے کہ مجموعیطور پر وطن عزیز میں مثبت پیش رفت کا آغاز ہو چکا ہے جس کے ثمرات ہر سطح پر محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ غیر جانبدار سنجیدہ حلقوں کے مطابق اگرچہ اس ضمن میں بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے مگر یہ کہنے میں غالباً کوئی عار نہیں کہ صورتحال قدرے خوش آئند ہے۔ اسی ضمن میں یہ بات توجہ کی حامل ہے کہ ایک جانب سیاحت کے شعبے میں ملک میں نمایاں ترقی کا آغاز ہو چکا ہے جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں میں چین سے پاکستان آنے والے سیاحوں کی تعداد خاصی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سی پیک کی بدولت بنیادی ڈھانچے میں قابل لحاظ حد تک بہتری آئی ہے ، یہ بات بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ عالمی اور علاقائی سطح پر سیاحت تب ہی فروغ پاتی ہے کہ جب سفر کرنے والوں کو سہولتیں میسر ہوں ،اس ضمن میں سی پیک نے گذشتہ کچھ عرصے سے جو کردار ادا کیا ہے اس کے نتیجے میں سیر و سیاحت کا شعبہ خاصی تیزی سے بہتری کی جانب راغب ہے۔ نہ صرف چین سے پاکستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ موجودہ حکومت کی چونکہ ترجیحات میں بھی سیاحت سر فہرست ہے، اسی لئے دو ہفتے قبل قریباً 57 ممالک نے اپنی ویزہ پالیسی میں پاکستان کے لئے خصوصی طور پر نرمی پیدا کی ہے اور اس ضمن میں مزید مثبت رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ درج ذیل باتوں پر توجہ دی جانی چاہیے۔ مثال کے طور پر گذشتہ 15 سے 20 برس کے دوران تھائی لینڈ، لاؤس، ویت نام، بنگلہ دیش، میانمر ، کمبوڈیا، فلپائن ،سنگاپور ،ملائشیا اور انڈو نیشیا میں جو قابل رشک حد تک معاشی ترقی ہوئی ہے اس میں سیاحت کے شعبے نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے، اس کے علاوہ بھی دنیا بھر میں سیر و سیاحت کے رجحانات تقویت پا رہے ہیں اور مجموعی طور پر دنیا میں ٹورازم ان چند شعبوں میں سر فہرست ہے جو سب سے زیادہ تیزی سے پھل پھول رہے ہیں۔ ایسے میں اس امر کو خوش آئند قرار دیا جانا چاہیے اور امید کی جانی چاہیے کہ وطن عزیز میں اس ضمن میں مزید پیش رفت ہو گی۔ یہاں یہ امر توجہ کا حامل ہے کہ اس حوالے سے بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں کو خصوصی کردار ادا کرنا ہو گا اور ٹورازم کو بھرپور معاونت فراہم کرنی ہو ہو گی۔ اس ضمن میں یہ امر خاص طور پر توجہ طلب ہے کہ مالدیپ جیسے ساڑھے 4 لاکھ سے کم آبادی پر مشتمل چھوٹے سے ملک میں بھی ہوٹل اور سیاحت کے مراکز ہی ملک کو زر مبادلہ فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ایسے میں پاکستان جہاں دنیا بھر کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں سے لے کر صحرا تک سبھی کچھ موجود ہے وہاں اگر توجہ دی جائے تو ہوٹلنگ کے شعبے میں خاطر خواہ مراعات اور سہولیات میسر کرا کر غالباً پاکستان کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ اس بابت البتہ یہ امر ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ اس بابت آگے بڑھتے ہوئے معاشرتی اور ملکی ماحول میں توازن برقرار رکھنا خاصا ضروری ہے، بہرحال یہ بات خاصی حوصلہ افزا ہے کہ وزیراعظم اس ضمن میں خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور کافی جانفشانی سے کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارتی حکمران پاکستان کے حوالے سے جس طرح توسیع پسندانہ عزائم رکھتے ہیں، انہی کے تناظر میں پاکستان کے خلاف طرح طرح کے بے بنیاد الزامات گھڑتے رہتے ہیں۔ اور بہت سی دیگر قوتوں کی آنکھوں میں بھی پاک چین دوستی کھٹکتی آ رہی ہے تبھی تو وہ اس حوالے سے سی پیک اور پاک چین تعاون کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ ان دنوں پر پوری شدت سے جاری و ساری ہے، حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ چین اور پاکستان کے مابین یہ تعلقات ایک مثالی نوعیت رکھتے ہیں اور ہر آنے والے دن کے ساتھ ان میں پختگی آتی رہی ہے۔ ایسے میں یہ توقع کی جانی چاہیے کہ مستقبل میں بھی پاک چین دوستی مزید گہری ہو گی اور مخالفین کی تمام سازشیں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔

***

بھارت نے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر پر پابندی لگا دی

بھارت کی وزارت داخلہ کے حکم پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی۔یہ پابندی کشمیر میں بھارت کی نظر آتی شکست کا آئینہ دار ہے۔ اصل میں بھارت نے کشمیریوں کی نسل کشی شروع کی ہوئی ہے۔ بھارت نے جموں و کشمیرجماعت اسلامی کے بہادر اور نڈر رہنما سید علی گیلانی صاحب کو ۸۰ سال عمر کے آدھے حصہ یعنی تقریباً۴۰ سال تک قید میں بند رکھا۔ ابھی بھی آئے روز اس کو گھر میں نظر بند کر دیتے ہیں مگر یہ صوفی مشن بہادر شخص بھارت کی آٹھ لاکھ سفاک فوج کے سامنے سر نگوں نہیں ہوا۔بھارتی فوج کی کشمیریوں پر جنگیزی سفاک مظالم پر جماعت اسلامی کے ۸۰ سالہ بزرگ رہنما سید علی گیلانی صاحب پُر زور طریقے سے سیاسی رہنمائی کر تے رہے اور کر رہے ہیں۔یہ بات بھارت کو ایک نظر نہیں بھاتی۔ سید علی گیلانی متحدہ حریت کانفرنس کے رہنما ہیں۔ یہ کشمیریوں کی سیاسی لیڈر شپ، جس میں میر واعظ عمر فاروق،یاسین ملک، شبیر شاہ اور دوسرے لیڈر اور سیاسی پارٹیوں شامل ہیں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔دوسرے لفظوں میں جماعت اسلامی نے کشمیریوں کی سیاسی قوت کو ایک اتحاد کی لڑی میں پررویا ہوا ہے۔ حریت کانفرنس میں شامل ساری سیاسی پارٹیاں یک جان ہو کر کشمیر کے نوجوانوں کو بھارت کی آٹھ لاکھ فوج کی سفاکیت کے خلاف ڈٹ جانے، بھارت سے آزادی چاہنے، ہم کیا چاہتے، آزادی کے نعرے لگانے، قربانیاں دینے، اپنی جانوں پر کھیل جانے، پاکستان کے جھنڈے لہرانے ، ہر سال یوم پاکستان منانے، شہید ہو کر پاکستان کے جھنڈے میں لپبٹ کر مدفن ہونے،بھارت کے یوم پر ہڑتال کرنے،بھارتی جھنڈا جلانے ، پاکستانی جھنڈے کو سلامی پیش کرنے اورپاکستان میں شامل ہونے پر آمادہ کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سیکڑوں اسکولوں سے تعلیم یافتہ کشمیری نوجوان تحریک آزادی کشمیر کے لیے اپنے قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ۱۹۴۱ء میں متحدہ ہندوستان کے زمانے میں لاہور میں قائم ہوئی تھی۔ جماعت اسلامی کا دستور پاکستان اور بلا آخر پوری دنیا میں حکومت الہیّا قائم کرنا ہے۔اس لیے جماعت اسلامی اسلام کی مبلغ ایک نظریاتی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان میں مدینہ کی اسلامی فلاحی اور جہادی ریاست قائم کرنے کی داعی ہے۔ اس طرح یہ قائد اعظم ؒ کے دو قومی نظریہ اور اسلامی ریاست کے قیام ک وژن کی جان نشین ہے۔ یہ پاکستان کی زمینی اور نظریاتی سرحدوں کی نگہبان ہے۔ یہ انسانیت کو اسلام کے آفاقی ،فلاحی اورپُر امن دین کی طرف بلاتی ہے۔ اس لیے وہ ہر دشمن اسلام کی نظر میں کھٹکتی ہے۔جماعت اسلامی کادستور مسلمانوں کو یاد کراتا ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کی طرح صرف پوجا پاٹ کا مذہب نہیں۔ اسلام انسانیت کے لیے ایک پورا ضابطہ حیات ہے۔ اس کی تشریع کے لیے جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الاعلیٰ موددی ؒ نے ایک جاندار لٹریچر بھی تیار کیا ہے۔ یہ لٹریچر دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو گا ہے۔ پوری دنیا میں جماعت اسلامی کے دعوتی حلقے قائم ہیں۔ جو اللہ کے بندوں کو اللہ کے بندے بنانے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ پاکستان جب۱۹۴۷ء میں دنیا کے نقشے پر وجود میں آیا۔ تو جماعت اسلامی، پاکستان اور جماعت اسلامی بھارت میں تقسیم ہو گئی۔ اسکے بعد جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر اور جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر وجود میں آئی۔سری لنکا میں بھی جماعت اسلامی کام کر رہی ہے۔ جب بھارت نے غدار پاکستان شیخ مجیب کے ساتھ مل کر اپنی فوجی مداخلت کے بعد مشرقی پاکستان کو بنگالی قوم پرست بنگلہ دیش میں تبدیل کیا۔ تو جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش میں اسی نام سے کام کرنا شروع کیا۔ جماعت اسلامی کی یہ ساری شاخیں مرکزی جماعت کے دستور کی اساس اور اپنے اپنے ملکوں کے قانون و آئین کے داہرے میں رہ کر جمہوری اور پر امن طریقے عوام میں اسلام کا آفاقی پیغام پہنچاتی ہیں اور الیکشن میں بھی حصہ لیتی ہیں۔جماعت اسلامی نے شروع سے انبیاء کی جماعتوں کی طرح ایک ایک فرد تک اللہ کا پیغام پہنچانے کا ذمہ اپنے سر لیا ہے ۔ جماعت اسلامی نے شروع سے یہ عہدکر رکھا ہے کہ اسی پُرامن پالیسی پر گامزن رہے گی۔ کسی بھی ملک کے دستور کے اندر رہ کر جمہوری طریقے سے لوگوں تک دینِ اسلام کا پیغام پہنچائے گی۔ کوئی بھی پُر تشدد یا انڈر گروئنڈطریقہ اختیار نہیں کرے گی۔ کوئی مانے نہ مانے کسی قسم کے اشتعال میں نہیں آئے گی۔ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر ، بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی جماعت اسلامی اسی بنیادی اساسی پالیسیوں پرگامزن رہی ہے۔مشرقی پاکستان میں بھی جماعت اسلامی نے پاکستان کے آئین اوربین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق پر عمل کرتے ہوئے اپنے ملکِ پاکستان کو بچانے کے لیے اوربھارت کے حملے سے محفوظ رکھنے کے لیے پاکستان کی فوج کا ساتھ دیا تھا۔بنگلہ دیش اَکھنڈ بھارت منصوبہ کے مطابق اب بھارت کی کالونی بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، بنگلہ دیش کے وزیر اعظم شیخ مجیب اور بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے درمیان سہہ فریقی معاہدہ ہوا تھا۔ جس میں تمام تلخیاں بھلا دیں گئی تھیں۔ اس کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش الیکشنوں میں حصہ لیتی رہی۔ کئی حکومتوں میں بھی شامل رہی۔مگر ایک عرصہ بعد بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد بھارتی حکومت کی ایماء پرنام نہاد جعلی یوڈیشنل ٹریبونل بنا کر من پسند فیصلے کرا کے جماعت اسلامی کے نصف درجن سے زائد مرکزی رہنماؤں کو پھانسیوں پر چڑھا چکی ہے۔سیکڑوں کارکنوں کو جیلوں میں بند کر چکی ہے۔ مگر جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے تشد اور انڈر گراؤنڈ رہ کر کوئی بھی غیر قانونی حرکت نہیں کی۔ اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں بھی جماعت اسلامی نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ صاحبو!کیا اقوم متحدہ کے منشور میں یہ شامل نہیں کہ ہر کوئی بھی اپنی بنیادی آزادی کے حق کے لیے جدو جہد کر سکتا؟ ۔کیا جماعت اسلامی بھارتی مقبوضہ کشمیر کے لوگ اگر بھارت سے آزادی چاہتے ہیں تو کوئی ان ہونی بات ہے؟۔کیا خود ہندوستان کے لوگوں نے انگریز سے آزادی حاصل کر دو آزاد ملک پاکستان اور بھارت حاصل نہیں کیے تھے؟کیا دنیا میں سیکڑوں قومیں استعمار سے آزاد نہیں ہوئیں؟۔ کیا برطانیہ سے آئر لینڈ کے لوگوں نے آزادی حاصل نہیں کی؟۔ کیا انڈونیشیا ء اور سوڈان کے عیسائی لوگوں نے اقوام متحدہ کے تحت آزادی نہیں؟۔ تو پھر بھارتی مقبوضہ کشمیر کی جماعت اسلامی اگر لوگوں کو بھارت سے آزاد کرانے کی جد و جہد کر رہی ہے تو کونسا جرم کیا ہے جوبھارت نے اس پر پابندی لگا دی ہے؟۔ کیا کسی نظریاتی جماعت پر ایسی پابندیاں لگا کر اسے ا س کے مشن سے رُوکا جا سکتا ہے؟۔ نہیں بلکل نہیں! بلکہ پابندی کے بعد جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کو پہلے سے بڑھ کر کشمیری عوام کی ہمدردیاں حاصل ہو جائیں گی اوربھارت منہ تکتا رہ جائے گا۔ اس سے قبل بھی بھارت مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی کے لوگوں کو قتل اورجیلوں میں ڈال چکا ہے۔ ان کے املاک ،زمینوں اور گھروں کو گن پاؤڈر سے خاکستر کر چکا ہے۔ ابھی تازی کاروائی میں جماعت اسلامی کے درجوں لیڈروں اور سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کر چکا ہے۔ جماعت اسلامی کے فلاحی اور تعلیمی اداروں کو سیل کر چکا ہے۔ حتہ کہ جماعت اسلامی کے لوگوں کے گھروں کو بھی سیل کر دیا ہے۔ بھارتی ظالموں یاد رکھو ۔ یہ اللہ والے لوگ ہیں۔ ان کو صبر کرنا بھی آتا ہے اور وقت پر رد عمل بھی دینا آتا ہے۔ اگرظلم کو نہیں رو گے تو ایک نہ ایک وقت تمھیں اس ظلم کا جواب دینا پڑھے گا۔
ساحر لدھیانوی نے کیا خوب کہا ہے:۔
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
****

سانحات کا ذمہ دار کون

افسوس کی بات ہے کہ کبھی بھی کسی نے قومی سانحات کی اصل حقائق جاننے اوراِن میں ملوث افراد کو کڑی سزا دینے اورآئندہ ایسے سانحات کے تدارک سے متعلق قا نون سازی کا نہیں سوچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم ستر سال سے سانحہ ساہیوال جیسے قومی سانحات سے دوچار ہورہی ہے ،اللہ جانے کب تک یہ سلسلہ جاری رہے ؟ کوئی کچھ نہیں بتا سکتا ہے کہ سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں نہتے شہری کب تک گولیوں کا نشا نہ بنتے رہیں گے؟اور سرکار اِن کے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اپنی پوری قوت کااستعمال اپنا حق سمجھ کر کرتی رہے گی؟۔ اِس سے بھی کسی کو انکار نہیں ہوناچاہئے کہ دنیا کے جن ممالک اور معاشروں میں پارلیمانی نظامِ حکومت قائم ہے۔ اُن کے ایوانوں کا کام تو وقت اور زمانے کے لحاظ سے پولیس اصطلاحات سمیت دیگر ضروری معاملات میں اصطلاحات کرناہوتا ہے۔ مگر ہمارے ایوانوں میں تو کسی قسم کی دائمی قانون سازی کی بجائے ، یہاں تونصف صدی سے زائد عرصے سے ایوان نمائندگان صرف سٹرکیں بنوانے ، گٹر صاف کروانے ، شہر شہراور گاؤں گاؤں گلی کوچوں کوبرقی قمقموں سے سجانے ، اپنے مخالفین کے گھر گرانے اور اپنے حامیوں اور ہم خیال افرادکے گھر بنانے کے احکاما ت جاری کرکے سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے معمولی کام کرکے اپنا قومی فریضہ ادا کردیاہے اور قوم کی خدمت کردی ہے ، عرض یہ کہ ہمارے ایوان تو جیسے چھوٹے موٹے سیاسی اور ذاتی مسائل حل کرنے اور پیدا کرنے کی ذمہ داریاں اداکرنے کیلئے محدود ہوگئے ہیں ،ایوان جہاں قانون سازی کی جانی چاہئے تھی۔جہاں چیخ چلاکر مسائل پیداکئے جاتے ہیں،پھراُنہیں حل کرنے کی کروڑوں ، اربوں اور کھربوں کی بولیاں لگائی جاتی ہیں، جو جتنی بھاری بولی دیتا ہے، اُسے مسائل حل کرنے کی آڑ میں مسائل پیدا کرنے کا ٹھیکہ دے دیاجاتا ہے ، کسی معاملے میں جس کی بولی کم لگتی ہے وہ اپنا کام کمیشن اور پرسنٹیج سے نکال لیتا ہے ، ایسا برسوں سے ہورہاہے ۔افسوس ہے کہ پاکستانی قوم ستر سال سے عام انتخابات میں جنہیں ووٹ دے کر اپنے بنیادی حقوق کے حصول کیلئے قانون سازی کرنے کی ذمہ داری سونپ کر ایوانوں میں پہنچاتی ہے۔ وہی قوم کے سوداگر ثابت ہوتے آئے ہیں۔معاف کیجئے گا ، آج عوام کو مہنگائی ، بھوک و افلاس ، کرپشن ، لوٹ مار اور قومی لٹیروں کا خاتمہ کرکے نیا پاکستان بنانے اور عوامی توقعات کے مطابق ریلیف دے کر تبدیلی کے نام پر اقتدار حاصل کرنے والی رواں پی ٹی آئی کی رواں حکومت بھی کوئی نیا کردِکھانے والی نہیں ہے۔ آج یہ بھی اپنے پیش رو کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی مہنگا ئی بے لگام ہوگئی ہے۔ بلکہ پہلے سے زیادہ آزاد ہوگئی ہے۔ صبح مہنگائی کچھ ہوتی ہے۔ تو دوپہراور شام تک اِس کا رنگ ہی کچھ اور ہو کربے قبول ہوجاتاہے ،حکومت بھی ہے کہ جو پہلے والوں کی طرح تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کے بوجھ تلے دباکر قوم و مُلک کی ترقی کی راہ دکھا کر اپنے گاڑی کا وزن کھینچ رہی ہے۔ کیوں کہ اِس نے اپنے پہلے چھ ماہ میں دو بجٹ پیش کرکے ثابت کردیا ہے کہ یہ عوام کیلئے اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں کرسکتی ہے۔ ا بھی تک حکومت ایک بھی ایسی قانون سازی کرنے سے قاصر رہی ہے جو مفاد عامہ کیلئے ہو ،یہ قانون سازی سے قاصر کیوں نہ ہو؟اِس نے ابھی تک سنجیدگی کا مظاہرہ ہی نہیں کیا ہے، نہ توسابق کرپٹ حکمرانوں نواز و زرداری اور اِن کے چیلے چانٹوں کو ابھی تک کڑی سزادِلوانے کیلئے اپنے تئیں کچھ کیا دکھایا ہے اور نہ ہی عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں اور دعوؤں کے مطابق مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر سمیت بے لگام مہنگائی اور پولیس گردی کے خاتمے کیلئے قانون سازی کی ہے۔ ابھی تک تو حکومت زبانی جمع خرچ کرکے قوم کو سبزباغ اور سُنہرے خواب دکھانے میں ہی لگی ہوئی ہے اِسے سوچنا چاہئے کہ بھلا گول مول باتوں سے حکومت نہیں چلاکرتی ہے۔بہر کیف، آج سانحہ ساہیوال پر اپوزیشن اور عوام جس طرح واویلا کررہے ہیں یہ بھی اپنی جگہ ہے ،سانحہ ساہیوال تو ایک بہانہ ہے اصل میں اپوزیشن بالخصوص ن لیگ اور پی پی پی والے سانحہ ساہیوال پر چیخ چلا کر اپنی کرپشن پر پردہ ڈال رہے ہیں اور پوزیشن والے نوازشریف، شہباز شریف ، زرداری ، مولانا فضل الرحمان سانحہ ساہیوال کے مرحومین کی لاشوں پر سیاست کرکے اپنا سیاسی قد اُونچا کررہے ہیں حالانکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور دیگر قومی سانحات پلٹ پلٹ کر باریاں لینے والی دونوں جماعتوں پی پی پی اور ن لیگ کے دورِ حکمرانی میں ہی رونما ہوئے ہیں۔ اِن سانحات کے متاثرین کو تو ابھی تک ایک رتی کا بھی انصاف نہیں ملا ہے ۔مگر آج یہی کرپٹ دونوں جماعتوں نے سانحہ ساہیوال کوچیل کی طرح چیخ چلاسر پر اُٹھا رکھاہے۔جیسے یہ بڑے انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔ اِس موقع کا وزیراعظم عمران خان بھر پور فائدہ اُٹھائیں اور تُرنت ایوان میں قانون سازی کی ابتداء پولیس اصطلاحات سے کردیں،پھرلگ پتہ جائے گاکہ کون سی جماعت ہے جو پولیس کو سیاسی اثرورسوخ سے پاک رکھنا چاہتی ہیں؟اور کون نہیں چاہتے کہ خالصتاََ عوامی مفادات اور تحفظات کیلئے پولیس اصطلاحات کی جائیں ؟ وزیراعظم عمران خان ساتھ ہی ایوان سے یہ بل بھی پاس کروا دیں کہ کسی بھی علاقے میں پیش آئے سانحہ کا ذمہ دار علاقے کا تھانہ انچارج ہوگا، اگر 72گھنٹوں میں کسی سانحہ یا واقعہ کے مجرم گرفتار نہ کئے گئے تو متعلقہ تھانے کے انچارج سمیت تین اہلکاروں کے ہاتھ کاٹے جا ئیں گے پھر دیکھیں مُلک کے کسی بھی تھانے کی حدود میں کسی قسم کی کوئی چھوٹی موٹی واردات بھی ہوجائے ۔کیوں کہ قوی اور قومی خیال یہی ہے کہ آج مُلک کے طول ارض میں جس قسم کے بھی جرائم رونماہورہے ہیں۔ اِن کی پست پناہی متعلقہ تھانے کرتے ہیں۔آج وزیراعظم عمران خان کی جتنے بھی دن کی حکومت باقی ہے۔اگرآج یہ سخت نوعیت کی پولیس اصطلاحات کرتے ہیں تو قوم کا اِن پر اعتماد بحال ہوجائے گا ورنہ ؟ قوم رواں حکومت پر کئی سیاہ سوالیہ نشانات لگا نے میں حق بجانب ہوگی ۔اگرچہ اَب تک کی آنے والی اطلاعات کے مطابق سانحہ ساہیوال کی ابتدائی رپورٹوں میں کئی سقم موجود ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ سا منے آرہے ہیں، جن کی وجہ سے ایک عام شہری تذبذب کا شکار ہے، کچھ کا یہ خیال ہے کہ مقتولین بے قصور اور بے گناہ تھے۔ مگر بہت سے پاکستا نی اِس سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کسی قسم کی نااہلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اَب جیسا بھی ہے سانحہ ساہیوال نے قوم کو دو حصوں میں بانٹ دیاہے۔ اصل حقائق سا منے آنے تک سارا مُلک ایک کشمکش میں مبتلاہے۔جبکہ مرحومین کے لواحقین سمیت مُلک کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سانحہ ساہیوال پر بنائی جانے والی جے آئی ٹی کے کسی نقطے اور فیصلے کو درست تسلیم کرنے سے صاف انکاری ہے ۔تاہم متاثرین سانحہ ساہیوال سمیت ایسے کروڑوں پاکستانی شہری بھی ہیں ۔اَب اِس پس منظر میں لازمی ہے کہ سانحہ ساہیوال کے مقتولین اور اِن کے لواحقین کو فوری انصاف کی فراہمی کیلئے حکومت جوڈیشل کمیشن بنائے جو غیر جانبداری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے تحقیقات کرے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرکے انصاف کے تقاضے پورے کرے ۔ بس ایسا اِسی صورت میں ہی ممکن ہوسکے گاکہ جب حکومت کی جانب سے سانحہ ساہیوال پر فی الفور جوڈیشل کمیشن بنایاجائے گا اور ذمہ داران کو کڑی سزا دی جائے تاکہ پھر ایسا کوئی قومی سانحہ قومی پولیس کے ہاتھوں نہ رونما ہونے پائے اور ایسی سنگین صورتِ حال پیدا نہ ہو جیسی کہ آج تک سا نحہ ساہیوال ،سانحہ ماڈل ٹاؤن اور دیگر قومی سانحات کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صُورٹِ حال سے نہیں نمٹا جا سکا ہے ۔
***

Google Analytics Alternative