Home » 2019 » March » 07

Daily Archives: March 7, 2019

پاک بھارت کشیدگی پہلے سے کم ہوئی لیکن خطرہ برقرار ہے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم  عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشید گی پہلے سے کم ہوئی لیکن خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

وزیراعظم کی زیرصدارت تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کامشترکہ اجلاس ہوا جس میں عمران خان نے کہا کہ بروقت اور درست فیصلوں سے جنگ کا خطرہ ٹل گیا، دونوں ممالک میں کشیدگی پہلے سے کم ہوئی لیکن خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پاک بھارت کشیدگی پر اٹھائے گئے اقدامات پر اراکین کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ عالمی دباؤ کے پیش نظر نہیں کیا جا رہا، دنیا پر واضح کر چکے ہیں کہ وہ فیصلہ کریں گے جو ملکی مفاد میں ہو گا۔

اس موقع پر پارٹی اراکین نے کہا کہ وزیراعظم کے اقدامات سے دنیا میں مثبت پیغام گیا جب کہ پارلیمانی پارٹی کے رہنماؤں نے بہترین سفارت کاری پر وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

قومی اسمبلی میں دوسرا منی بجٹ منظور، اپوزیشن کا احتجاج

اسلام آباد: حکومت نے رواں مالی سال کا تیسرا بجٹ قومی اسمبلی سے منظور کرالیا ہے جب کہ اپوزیشن کی تمام ترامیم کو مسترد کردیا گیا ہے۔

اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر اسد عمر نے رواں مالی سال کا دوسرا ضمنی بجٹ منظوری کے لیے پیش کیا۔ منی بجٹ کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی کی گئی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کے باوجود قومی اسمبلی میں فنانس بل 2019 کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جب کہ اپوزیشن کی تمام بجٹ تجاویز کو مسترد کردیا گیا۔

فنانس بل منظوری کے لیے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن نے اہم معاملات اٹھائے ہیں، شہباز شریف چاہتے ہیں سب مل کر میثاق معیشت کریں، ہم ان کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں، معیشت جن مشکلات کا شکار ہے، ان سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ملک کی لیڈر شپ ایک میثاق معیشت بنائے۔

اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن کی تقریروں میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ زیادہ ہوتی ہے، اپوزیشن کی جانب سے کوئی ایک تجویز ہمارے سامنے نہیں رکھی جاتی، پچھلے 10سال میں معیشت کا جو حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے، معیشت پر تنقید کرنے والے سیاستدان اپنے ادوار پر نظر ڈالیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ خوشی ہوئی شہباز شریف کو مہنگائی کی بھی فکر ہے، شہباز شریف معیشت کو گہری کھائی میں گرا کر گئے۔  انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ پرانے قرضے اتارنے کے لئے نئے قرض لے رہے ہیں،(ن) لیگ کی حکومت آئی تو 61 ارب ڈالر کے قرضے تھے لیکن جب ختم ہوئی تو قرضوں کا حجم 95 ارب ڈالر تک ہوگیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ آج تو بلاول بھٹو زرداری نے افراط زر کی بات کرکے کمال کردیا، کاش انہیں اپنی حکومت میں افراط زر کی فکر ہوتی، پیپلزپارٹی دور حکومت کے پہلے 6 ماہ میں افراط زر کی شرح 10 فیصد تھی جب کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں افراط زر میں سب سے کم اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ حکومت نے 23 جنوری کو قومی اسمبلی میں رواں مالی سال کا تیسرا بجٹ اور دوسرا منی بجٹ پیش کیا تھا، فنانس بل 2019 میں فائلرز کے لیے بینکنگ ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کے فوری خاتمے، شادی ہالوں کے ٹیکس میں کمی جب کہ موبائل اور سیٹلائٹ فونز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجاویز شامل ہیں۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد منی بجٹ سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، ایوان بالا سے منظوری کے بعد اس کی منظوری صدر مملکت دیں گے۔

تضحیک قبول نہیں عزت کی موت کو ترجیح دوں گا،نواز شریف

لاہور: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ عزت کی موت کو ترجیح دوں گا لیکن تضحیک قبول نہیں کروں گا۔

کوٹ لکھپت جیل میں اہل خانہ سے ملاقات کے دوران نواز شریف نے کہا کہ علاج کے نام پر سیاست ہورہی ہے، 5 میڈیکل بورڈز کی رپورٹس کے بعد بھی علاج شروع نہیں ہوا، حکومت نے اب تک علاج کی کوئی سہولت فراہم نہیں کی ، صرف تنگ کیاجارہا ہے۔ ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال گھمایا جارہا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ نا تو علاج کی بھیک مانگی ہے اور نا ہی مانگوں گا، جو اللہ کو منظور ہوا ہوجائے گا، تضحیک قبول نہیں عزت کی موت کو ترجیح دوں گا۔

اس سے قبل مریم نواز نے بھی ٹوئٹ کی تھی کہ دل کی تکلیف اور طبیعت خرابی کے باوجود میاں صاحب اسپتال جانے کے لیے راضی نہیں ہوئے۔ دادی اور میرے اصرار پر کہا کہ اسپتال اسپتال گھمانے اور علاج کے نام پر کی جانے والی تضحیک  کا نشانہ بننے کو تیار نہیں۔

دوسری جانب شہباز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے جمعرات کو پارٹی رہنما جیل میں ان سے ملاقات نہیں کرسکیں گے۔

 

بھارتی پائلٹ کو حوالے کرنے میں جلد بازی کی گئی، بلاول بھٹو زرداری

 اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہم سب کشیدگی میں کمی چاہتےہیں لیکن وزیر اعظم نے بھارتی پائلٹ کو حوالےکرنے میں جلد بازی کی۔ 

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مشکل کی گھڑی میں عسکری قیادت کا کردار قابل تحسین ہے، آرمی چیف کوسراہتے ہیں کہ جنہوں نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا، پاک فضائیہ نے ثابت کیا کہ وہ دنیا کی بہترین فورس ہے، قوم کو پائلٹ حسن صدیقی پر فخر ہے، ایل اوسی پر شہادت پانے والے جوانوں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں، خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کے معاملات پر ہم قومی مفاد میں حکومت کے ساتھ ہیں، ہم سب کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں لیکن وزیراعظم نے بھارتی پائلٹ کو حوالےکرنے میں جلدی کی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ بھارتی جارحیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، اس جارحیت کی ذمہ داری بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی پر عائد ہوتی ہے، مودی گجرات کےمسلمانوں کاقاتل ہے، گجرات کاقصاب کشمیریوں کاقتل عام کررہاہے، گجرات کے قصاب کو دنیا جلد بھولنے والی ہے۔

کشمیر کی صورت حال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں خودکش حملہ مقامی نوجوان نےکیا، کشمیریوں کو ان کا حق ملے تو وہاں خود ہی امن آجائے گا، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی فائلوں پردھول بیٹھ گئی ہے، حکومت نے او آئی سی اجلاس میں شرکت نہ کرکے غلط کیا، ہم نے او آئی سی میں اپنا کیس پیش کرنے کا موقع ضائع کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے بجلی گیس اور مہنگائی بم کی تبدیلی دی ہے ، ایک مالی سال میں 3 بجٹ پیش کیے گئے۔ اس حکومت نے تو ادویات کی قیمتیں بھی بڑھا دیں، اس ملک کے پاس بہت سے وسائل ہیں ، ہم نے حکومت کی جانب سے پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں دیکھے ، ہم نے کوئی اصلاحات نہیں دیکھی ، ہم نے کوئی اداراجاتی اصلاحات نہیں دیکھیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اچھے اور برے طالبان، پنجابی طالبان اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کا کیا ہوا،  کالعدم تنظیموں کو مرکزی دھارے میں لانے کی متضاد پالیسی کیوں منظور کی گئی، ہم کب تک دنیا کو کالعدم تنظیموں کے بارے میں معذرتیں پیش کرتے رہیں گے، کالعدم تنظیموں کو مرکزی دھارے میں لانے کی پالیسی ختم ہونی چاہیے، ہمیں دہشت گردی اور انتہا پسند کے خطرے سے جنگ کرنی ہوگی، کون سا خودمختار ملک ایسی تنظیموں کو برداشت کرتا ہے، پارلیمنٹ اور پاکستان کی یہ پالیسی نہیں ہونی چاہیے، ان کا ٹرائل کیوں نہیں کیا جاتا۔ ہم کیوں نیشنل ایکشن پلان پربھرپورعملدرآمد نہیں کررہے، کالعدم تنظیموں پر جے آئی ٹی کیوں نہیں بنائی گئی؟

وزیراعظم کو نوبل انعام دینے کی قرارداد سے متعلق بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ میں وزیر اعظم کو نوبل انعام دینےکی قرارداد جمع ہوئی، اچھا ہے کہ قرارداد واپس لے لی گئی، حکومت نے ایک اور یو ٹرن لے لیا، مجھے معلوم نہیں کہ نوبل امن انعام کے لئے کیوں قرارداد آئی، افواج بارڈر پر شہید ہورہی ہیں اور نوبل انعام انعام کا کہا جارہا ہے قرارداد ایوان میں منظور ہوتی یا مسترد، پاکستان کی جگ ہنسائی ہونی تھی۔

 

آرمی چیف سے چینی نائب وزیرخارجہ کی ملاقات

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے چینی نائب وزیرخارجہ کونگ ژوان یو نے ملاقات کی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے چینی نائب وزیرخارجہ کونگ ژوان یو نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشید گی پر بھی بات چیت گئی جب کہ چینی نائب وزیرخارجہ نے علاقائی امن واستحکام کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

بھارتی پائلٹ کو ملک و قوم کے بہترین مفاد میں رہا کیا، شاہ محمود قریشی

 اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو ملک و قوم کے بہترین مفاد میں حوالے کیا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کےدفاع کے لئے ہم سب متحد ہیں، شہبازشریف، بلاول بھٹو اور اسعد محمود کو دفتر خارجہ آنے کی دعوت دیتا ہوں اور خارجہ پالیسی پر مشورے اور تجاویز دیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو موثر پیغام دیا ہے، ایک طیارہ حسن صدیقی جب کہ دوسرا نعمان علی خان نے گرایا، بھارتی پائلٹ کی رہائی کو پوری دنیا نے سراہا، دنیا تسلیم کررہی ہے کہ پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، حکومت نے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے اُجاگر کیا ہے، او آئی سی وزارتی کونسل اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ پارلیمنٹ کا تھا۔ ہمارے افسران نے او آئی سی میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا ،پہلی مرتبہ کشمیر میں بھارت کی کارروائیوں کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا گیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک میں کالعدم تنظیمیں آج سے کام نہیں کر رہیں، یہ تنظیمیں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں بھی تھیں۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں مسلم لیگ (ن) کے دور میں شامل کیا گیا، نیشنل ایکشن پلان ساری سیاسی جماعتوں کا مشترکہ منصوبہ تھا، پی ٹی آئی کی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور عمل کرے گی، منی لانڈرنگ اور ٹیرر فناسنگ روکنے کے لئے بھرپور اقدامات کئے گئے ہیں۔ ہم تو پچھلے 40 سال کے بگاڑ کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے کالعدم تنظیموں کو کام کرنے کا موقع کیوں دیا؟، 40 سال تک اقتدار میں کون سی جماعتیں اقتدار میں رہیں؟

اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر بھارت کو اقوام متحدہ کی وارننگ

سان فرانسسكو: اقوام متحدہ نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر بھارت کو خبردار کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ مشیل باچلیٹ نے بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر تشدد اور ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کو اقلیتوں کو تحفظ اور بنیادی حقوق فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مشیل باچلیٹ نے مزید کہا کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور نشانہ بنانے کے واقعات کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ بالخصوص پلوامہ حملے کے بعد کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں تاریخی طور پر محروم اور نسلی امتیاز کی شکار برادریوں دلت اور آدیواسیوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک برتا جا رہا ہے۔

مشیل باچلیٹ نے بھارت کو خبردار کیا کہ ملک کو ذات، برادری اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے والی پالیساں بھارت کی اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ بھارت اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے۔ اقوام متحدہ بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے گا۔

واضح رہے کہ بھارت میں مودی سرکار کے دور حکومت میں مسلمانوں، سکھ اور نچلی ذات والے ہندوؤں کو بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے اور تشدد کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

حکومت کی کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی۔۔۔ایک احسن اقدام

adaria

حکومت نے ملک میں امن و امان کے قیام کو سامنے رکھتے ہوئے کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت مسعود اظہر کے بیٹے اور بھائی سمیت44افراد کو حکومتی تحویل میں لے لیا گیا۔نیز جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ ان افراد سے تحقیقات کی جائیں گی اگر یہ کسی مذموم سرگرمی میں ملوث ہوئے تو ان کیخلاف تادیبی کارروائی ہوگی ورنہ رہا کردیا جائے گا۔ یہ بات قابل ستائش ہے کہ حکومت نے یہ اقدام اٹھایا اور ساتھ یہ واضح کردیا کہ جو بھی جرم دار ہوا اس کیخلاف کارروائی ہوگی۔ نیز ملک بھر میں اس حوالے سے آپریشن بھی جاری ہے ، حکومت کے مطابق یہ آپریشن محدود مدت تک جاری رہے گا ساتھ یہ بھی وضاحت کردی گئی ہے کہ آپریشن اپنے ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اس فیصلے میں کوئی بھی بیرونی دباؤ شامل نہیں ہے، جہاں تک مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری کا تعلق ہے تو اس حوالے سے فیصلہ وزیراعظم کرینگے ابھی تک وزیراعظم کے ملک اور قوم کے حوالے سے جتنے بھی فیصلے ہیں وہ انتہائی مثبت انداز میں سامنے آرہے ہیں ، یہ بھی بتایا گیا کہ گرفتار ہونے والوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جن کے نام بھارتی ڈوزیئر میں شامل ہیں لیکن بھارتی ڈوزیئر میں ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے گئے، یہ بھارت کا وطیرہ ہے اس نے ہمیشہ الزام برائے الزام کا سہارا لیا، دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی اور ہمیشہ اس کو منہ کی ہی کھانا پڑی۔ جھوٹ کا ریکارڈ قائم کرنے میں تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دنیا بھر میں پہلا نمبر حاصل کرلیا ہے ، بھارت کے اندر سے ہی یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ ایک جانب سے جھوٹ اور دوسری جانب سے نریندر مودی آرہا ہو تو جھوٹ راستہ بدل لے گا کیونکہ نریندر مودی اس سے زیادہ سینئر ہے جس نے جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کیے ہوئے ہیں اب بھی ایسی صورتحال ہے لیکن پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر قد کاٹھ انتہائی مثبت انداز میں ابھر کر سامنے آیا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تمام تر فیصلے ملک اور قوم کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے ہیں۔وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے بھائی مفتی عبدالرؤف ا ور بیٹے حماد اظہر سمیت کالعدم تنظیموں کے 44کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے ، وزارت داخلہ کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کو لاگو کرنے کے حوالے سے وزارت داخلہ میں اعلی سطح کا ایک اجلاس ہوا جس میں ان گرفتاریوں کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ گرفتاریوں کا سلسلہ رکھا جائے۔ اس کے علاوہ کالعدم تنظیموں کے اثاثے بھی ضبط کیے جائیں گے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور سیکرٹری داخلہ سلیمان خان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ اقدامات کے حوالے سے تصدیق بھی کی۔ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے سلیمان خان نے کہا کہ ہم یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ یہ کارروائی صرف ایک تنظیم کے خلاف کی جا رہی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ کارروائیاں کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں، پاکستان کا اپنا فیصلہ ہے۔ ہر 6ماہ بعد پاکستان کے خلاف الزام تراشی نہیں چاہتے۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی 2ہفتے چلے گی، ان تنظیموں کے اثاثے بھی تحویل میں لیں گے۔ بھارتی ڈوزئیر میں پلوامہ حملے سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔ داخلہ، سکیورٹی حکام نے مسعود اظہر کی حراست کا معاملہ وزیراعظم کے سپرد کر دیا۔ 24گھنٹوں میں اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا، ان کی گرفتاری کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم ہی کریں گے۔کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قومی دھارے میں لانے کیلئے انہیں ہنر مند بنایا جائیگا۔ انہیں معقول روز گار فراہم کیا جائیگا۔ نیشنل ایکشن پلان کے مطابق کسی شخص کو دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جائیگا۔

سمندری پانیوں میں بھی بھارت کوپسپائی
بھارت کو پھر دراندازی کرنے پر منہ کی کھانا پڑی ،فضائی اور زمینی پسپائی کے بعد اس نے سمندر کے پانیوں میں پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن پاک بحریہ نے اسے مار بھگایا اور واضح کیا کہ چونکہ ہماری حکومت کی پالیسی پرامن رہنے کی ہے اور کوئی جنگی جنون نہیں اسی وجہ سے بھارتی آبدوز کو نشانہ نہیں بنایا گیا بصورت دیگر اس کوٹارگٹ کیا جاسکتا تھا۔ ترجمان نے نیوی نے بتایا کہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑنے کیلئے پاک بحریہ ہمہ وقت تیار ہے، اعلیٰ پیشہ وارانہ مہارتوں کے ساتھ ہم ہر دم چوکنا ہیں، کامیابی سے آبدوز کا سراغ لگایا اور پھر اس کو بھاگنے پر مجبور کردیا ، بھارت کو ہر سطح اور ہر محاذ پر شکست کا سامنا ہے، سفارتی سطح ہو یا جنگی سطح اب تو مودی کسی جگہ بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا ہے، بھارت کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ آخر وہ انتخابات جیتنے کیلئے کتنے انسانوں کی جان لے گا حتیٰ کہ بھارتی وزارت دفاع بھی پاکستان پر حملہ کرنے کے دعوے کو سچ ثابت نہ کرسکی جس میں اس نے ساڑھے تین سو لوگوں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ بھارتی وزارت دفاع اس کا جواب حکومت کے سر تھونپتی ہے اور حکومت راہ فرار اختیار کرتی ہے، مودی بھی اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دے پارہا اسی وجہ سے آئے دن کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کرتے ہیں جس سے حالات مزید دگر گوں ہوں۔ سمندری حدود کی خلاف ورزی بھی اسی کی ایک کڑی تھی لیکن پاکستان نے اسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا۔پاک بحریہ نے جدید ترین آلات اور ہتھیاروں سے لیس بھارتی آبدوز کی پاکستانی سمندری حدود داخل ہونے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔

فیاض الحسن چوہان کی فراغت کا درست فیصلہ
فیاض الحسن چوہان کے حوالے سے پنجاب حکومت کا فیصلہ انتہائی قابل ستائش ہے انہیں ہندو برادری کے حوالے سے نازیبا بیان دینے پر وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کو بے انتہا پذیرائی ملی، یہ پیغام واضح طورپر گیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کی قدر کی جاتی ہے جبکہ ہمارے دشمن ملک بھارت میں ایسی کوئی روایت نہیں وہاں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں کسی کی کوئی شنوائی نہیں، پاکستان نے یہ اقدام اٹھا کر ایک احسن فیصلہ کیا اور دنیا کو بتایا کہ ہمارے یہاں اقلیتیں نہ صرف آزاد ہیں بلکہ ان کے مذہب اور عقیدے کا بھی احترام کیا جاتا ہے، فیاض الحسن چوہان کی فراغت بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے اور یہ ایک تاریخی واقعہ ہے اس کا سہرا عمران خان کے سر جاتا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سے ایس کے نیازی کی ملاقات
روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی نے کہاکہ ہمارا چینل کبھی بھی انڈین اشتہار نہیں چلاتا، ہمیں بھارت کے کھانے پینے کی چیزوں کا بھی بائیکاٹ کرنا چاہیے، یہ بات بالکل درست ہے کہ ان اقدامات سے ہم اپنی وطن پرستی واضح کرسکتے ہیں ، بھارت کی ہمیں کوئی چیز بھی استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ نیز ایس کے نیازی نے یہ بھی کہاکہ ہماری عدالتیں کام کررہی ہیں ہمیں کسی قسم کی فکر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے بھی ملاقات کی اور بہترین طریقے سے اسمبلی چلانے پر مبارکباد پیش کی۔

Google Analytics Alternative