Home » 2019 » March » 08

Daily Archives: March 8, 2019

کسی بھی جارحیت کے خلاف مادر وطن کا بھر پور دفاع کیا جائے گا، آرمی چیف

راولپنڈی  : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی جارحیت اور مہم جوئی کی صورت میں مادر وطن کا بھر پور دفاع کیا جائے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں جیواسٹرٹیجک صورتحال، خطے میں پاک بھارت کشیدگی کے بعد کی صورتحال کاجائزہ لیا گیا اور کانفرنس میں مادروطن کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں ایل اوسی پر بھارتی فورسزکی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے پر اور مقبوضہ کشمیرمیں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنانے کاسلسلہ جاری ہے، خطے کے امن کے لیے شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے روکنا ضروری ہے جب کہ بھارت ایل او سی پر شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنا کر صرف آگ بھڑکارہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں نیشنل ایکشن پلان 2014 کا بھی جائزہ لیا گیا اور کہا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے ریاستی اداروں سے تعاون اور اس سے متعلق حکومتی اقدامات پر من وعن عمل کیا جائے گا۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فورسز کی کارکردگی، حوصلے کو سراہا اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جارحیت اور مہم جوئی کی صورت میں مادر وطن کا بھر پور دفاع کیا جائے گا، اللہ کے فضل وکرم سے پاک فوج مادر وطن کے دفاع کے لیے چوکس اور تیار ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق رہے گا، پاکستان امن، ترقی اور استحکام کی جانب گامزن ہے جب کہ کوئی بھی خطرہ یا رکاوٹ پاکستان کو ترقی سے نہیں روک سکتا۔

وزیراعظم کے زیرک فیصلوں سے جنگ کے بادل چھٹنے لگے

adaria

بھارت کسی صورت یہ نہیں چاہتا کہ خطے میں امن قائم ہو، پاکستان نے واہگہ بارڈر کے ذریعے اپنا وفد نئی دہلی بھیجنے کا فیصلہ کیا لیکن بھارت نے وفد کی آمد کو روک لیا جس سے اس کے عزائم واضح ہوگئے ہیں اس کے باوجود پاکستان اس بات کیلئے کوشاں ہے کہ خطے میں امن و امان قائم رہے پاک بھارت کشیدگی ہو، وزیراعظم کے بروقت اور درست فیصلوں کی وجہ سے وقتی طورپر جنگ ٹل گئی لیکن وزیراعظم نے کہاکہ ابھی جنگ کا خطرہ موجود ہے یہی بات ترجمان پاک فوج نے بھی ایک انٹرویو کے دوران کہی۔ وزیراعظم پاکستان کے زیرک اور دوررس فیصلوں کے نتائج سامنے آرہے ہیں اور بھارت کو ہر محاذ پر شکست ہوتی چلی جارہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بروقت فیصلوں سے پاک بھارت جنگ فی الحال ٹل گئی ہے مگر بھارتی رویے کی وجہ سے جنگ کا خطرہ بدستور موجود ہے۔تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ کالعدم تنظیموں پر پابندی لگانے کا فیصلہ عالمی دبا ؤپر نہیں کررہے، دنیا کو بتا چکے ہیں کہ وہی فیصلہ کریں گے جس میں پاکستان کا مفاد ہوگا۔ جبکہ پارٹی اراکین نے وزیراعظم کے امن اقدامات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کے اقدامات سے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت پیغام پہنچا ہے۔اجلاس میں وزارت خارجہ کے کردار کی تعریف کی گئی اور تحریک متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کو دیگر ممالک کے ساتھ روابط سے بھی آگاہ کیا۔اجلاس کے شرکا نے پاکستان کے موقف کو دنیا بھر کے سامنے بہترین انداز میں پیش کرنے پر شاہ محمود قریشی کو مبارکباد پیش کی۔ادھر پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بھی کہا ہے کہ پا ک بھا رت کشیدگی میں کمی ہو ئی ہے مگر جنگ کا خطرہ موجود ہے، پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا جواب دیا اور بھارت کی جارحیت کی وجہ سے دونوں ملک جنگ کے قریب تھے،کہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا خطے کے امن میں رکاوٹ ہے، اگر بھارتی مظالم جاری رہے تو کشمیریوں کا ردعمل لازمی ہے، اب بھارت پر منحصر ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے وہ کیا کرتا ہے کیونکہ خطے میں کشیدگی میں کمی کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، مقبوضہ کشمیر میں خواتین سے زیادتی اور لوگوں کو نابینا کرنے کیلئے پیلٹ گنز کا استعمال کیا جارہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی پائلٹ کی رہائی پاکستان کی طرف سے امن کا پیغام تھا، دیکھتے ہیں اب بھارت ہمارے امن کے پیغام کا کیا جواب دیتا ہے، الزامات سے بہتر ہے کہ بھارت اپنی اصلاح کے اقدامات کرے،انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور جارحیت کی جس کا پاکستان نے جواب دیا، بھارت کی جارحیت کی وجہ سے دونوں ملک جنگ کے قریب تھے،ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا خطے کے امن میں رکاوٹ ہے، اگر بھارتی مظالم جاری رہے تو کشمیریوں کا ردعمل لازمی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ کی کمیشن کی رپورٹ بھی موجود ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر مقامی افراد کا رد عمل فطری ہے، دنیا کو دیکھنا ہوگا کہ کشمیری نوجوانوں کو کس چیز نے تشدد کی طرف دھکیلا ہے، بھارت الزام تراشی کررہا ہے ، بھارت کو دیکھنا چاہیے یہ واقعات کیوں ہورہے ہیں۔ترجمان پاک فوج نے بھارتی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ حملے میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا لیکن اس کے باجود وزیراعظم نے تحقیقات کی پیشکش کی۔ اب بھارت کی جانب سے ڈوزیئر ملا، اس پر تحقیقات جاری ہیں۔ ڈوزیئر کو متعلقہ وزارت دیکھ رہی ہے۔ کوئی ملوث ہوا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔ ابھی تک بھارت کا ایک الزام بھی ثابت نہیں ہوسکا، مودی اپنے بیانات میں خود ہی پھنستا جارہا ہے، اب رافیل طیاروں کا شکنجہ بھی اس کے گرد سخت ہوگیا ہے، کیونکہ حکومت نے کہا ہے کہ رافیل طیاروں کے حوالے سے دستاویزات چوری ہوگئی ہیں، بھارتی حکومت کا یہ کمال حیرانگی کا بیان ہے، رافیل طیارے نہ ہوئے کوئی رکشے ہوگئے جن کی دستاویزات ہی گم ہوگئیں اسی لئے بھارتی اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ نریندر مودی کو رافیل طیاروں کے اسکینڈل میں شامل تفتیش کرکے اس کیخلاف مقدمہ درج کروایا جائے۔

اپوزیشن کے شور شرابے میں منی بجٹ کی منظوری
حکومت نے رواں مالی سال کا دوسرا منی بجٹ قومی اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور کروالیا اب نان فائلرز ہر مقامی گاڑی خرید سکیں گے ، نیز بیرون ملک اثاثے ڈھونڈنے کیلئے ادارہ بھی قائم کردیا گیا ہے، 17سو سی سی سے زائد گاڑیوں پر10 فیصد ایکسائز ڈیوٹی عائد، 46اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی، ڈائریکٹریٹ جنرل آف انٹرنیشنل ٹیکس آپریشنز غیر ظاہر شدہ آف شور اثاثوں پر ٹیکس عائد کرکے وصول کرے گا۔ درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھا دی گئی جس کے تحت3ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھا کر 30فیصد کردی گئی ، مقامی سطح پر تیار ہونے والی 1700سی سی سے اوپر کی تمام گاڑیوں پر10فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوگی۔فنانس بل کے ذریعے گرین فیلڈ پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے اضافی ٹیکس مراعات دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ ایسے صنعتوں سے حاصل ہونے والی کاروباری آمدن کو پانچ سال کیلئے ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے گا۔ گروپ ریلیف حاصل کرنے والی کمپنیوں کو ڈیویڈنڈ حصص کی مناسب سے ٹیکس سے چھوٹ دینے کی منظوری دی گئی۔ جبکہ بینک ٹرانزکشنز پر فائلرز کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے اور گھر بنانے کیلئے عوام کو قرضہ حسنہ فراہم کرنے کیلئے پانچ ارب روپے مختص کرنے، نیوز پرنٹ کی درآمد پر عائد پانچ فیصد ڈیوٹی بھی ختم کرنے کی منظوری دی گئی۔ حکومت نے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں ترمیمی فنانس بل منظور کر لیا۔ قبل ازیں حکومت اور اپوزیشن میں طے ہوا تھا کہ مالیاتی بل منطور کرایا جائے گا۔ ترمیمی فنانس بل کے مطابق لگژری گاڑیوں اور سمارٹ موبائل فونز پر ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ کر دیا گیا۔ نان فائلرز کو چھوٹی گاڑیاں خریدنے کی اجازت ہو گی۔ فائلرز کو اپنے چھوٹے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے متعدد مراعات ملیں گی۔ ترسیلات زرئی وصولی پر نان فائلرز کو بھی ود ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ دی گئی۔ بطور خام مال استعمال ہونے والی33اشیا پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی گئی۔ سالانہ 5کروڑ روپے سے زائد منافع کمانے والی کمپنیوں پر عائد3فیصد سپر ٹیکس ختم کر دیا۔ برآمدی صنعت کو 6ارب 80کروڑ ڈالر کا ریلیف ملے گا۔ نیوز پرنٹ پر5فیصد کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی گئی۔ کینسر کے علاج کے دوران بڑی آنت کیلئے بیگ کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس ختم کر دیا گیا۔ خام مال کی 220درآمدی اشیا پر عائد 5فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی کم کر کے 9فیصد کر دی۔ ٹیکسٹائل پلاسٹک، چمڑے ، شمسی توانائی ،الیکٹرانکس، فارمو سوٹیکل پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی گئی۔برآمدی صنعت کو 6ارب 80کروڑ ڈالر کا ریلیف ملے گا۔ سستا گھر سکیم اور زرعی قرضے دینے والے بنکوں کیلئے انکم ٹیکس 33سے کم کر کے 20فیصد کر دیا۔ نان فائلرز پر13سو سی سی گاڑی خریدنے پر پابندی ہٹا دی گئی ۔

آرمی چیف سے سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ کی ملاقات

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر نے ملاقات کی اور پاک بھارتی کشیدگی سمیت مختلف امور پر بات چیت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق  سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر پاک فوج کے ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) پہنچے جہاں انہوں نے آرمی چیف سے ون آن ون ملاقات کی۔

ملاقات میں پاک بھارت کشیدگی، علاقائی سیکیورٹی، خطے میں امن و امان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، سعودی وزیر نے علاقائی امن و استحکام  میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سعودی وزیر مملکت نے پاکستان کے لیے سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کیا جب کہ آرمی چیف نےانتہائی مشکل حالات میں امن کی کوشش پر سعودی وزیر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمیشہ سے پاکستان کا سچا دوست ثابت ہوا ہے۔ قبل ازیں سعودی وزیر مملکت نے وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

امریکہ سوچنے پر مجبور!

بھارتی سرکار نے انتخابات جیتنے کیلئے جو پلوامہ سے لے کر اب تک ڈرامے کئے اور ان کاذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا، پوری دنیا کے سامنے ان کی قلعی کھل گئی ہے۔ اور یہ سب کچھ پاکستان کی شرافت، امن پسندی، بہترین خارجہ پالیسی و سفارت کاری اور اپنے دفاع کیلئے مر مٹنے کی وجہ سے ہوا کہ آج دنیا میں پاکستان کی عزت ہے اس کی بات میں وزن ہے جو ہر جگہ ہر فورم پر سنی جا رہی ہے۔ بھارتی سرکار نے اپنے انتخابی مقاصدکیلئے اپنی فوج اور میڈیا کو استعمال کر کے منہ کی کھائی۔ اپنے ہی عوام میں فوج کا مورال تباہ کیا۔ دو جہاز بھی ختم کروائے اور میڈیا کو جس طرح خرید ا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اب کون بھارتی میڈیا پر بھروسہ کرے گا۔ ایسا کونسا محاذ ہے جہاں مودی سرکار نے ذرا سی بھی عزت کمائی ہو۔ اپنے ہی عوام اپنی ہی فوج کے خلاف بول رہے ہیں۔ بھارتی افواج کی جو تھوڑی بہت عزت عوام کے دل میں تھی وہ بھی گئی۔ اب کون اعتبار کر ے گا کہ بھارتی فوج ملک کا دفاع کر سکتی ہے۔ بھارتی دفاع کا اب تو یہ حال ہو گیا ہے کہ شاید نیپال اور بھوٹان کے دل میں بھی بھارت پر قبضہ کرنے کا خیال آجائے۔بھارتی فوج میں کرپشن اور دیگر معاملات جو پہلے ڈھکے چھپے تھے، پاکستان کے ساتھ جھڑپ کے بعد سامنے آنا شروع ہو گئے۔پلوامہ سے لے کر آبدوز کے پکڑے جانے تک کے بھارتی افواج کی ناقص کارکردگی پر دنیا بھر میں بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ ابھی چند روز پہلے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک خبر اس شہ سرخی کے ساتھ لگائی کہ بھارتی فوج فارغ ہے۔ امریکی اخبار کی خبر کے مطابق بھارتی فوج نے بہت عرصے بعد دو بدو مقابلے میں اس ملک کی فوج سے شکست کھائی ہے جو تعداد میں اس سے آدھی ہے اور اس کا بجٹ بھی بھارتی فوج کے بجٹ سے چوتھائی کم ہے۔ بری ، فضائی اور بحری تینوں شعبوں میں پاک فوج کے ہاتھوں بدترین شکست سے دنیا بھر میں بھارتی فوج کا امیج تباہ ہوا ہے۔ فضائیہ اور بری افواج میں کوئی تال میل دیکھنے میں نہیں آیا۔ اسی طرح بحریہ اور دیگر افواج میں عدم تعاون عروج پر ہے۔ اس نظر سے دیکھا جائے تو بھارتی فوج انتہائی غیر منظم ہے۔ بھارت کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ایسی فوج جس کو امریکی امداد حاصل تھی ، اس مختصر معرکے میں جو اس کیلئے ایک امتحان کی حیثیت رکھتا تھا، شکست کھا گئی جس پر دنیا بھر کے مبصرین حیران و پریشان ہیں۔ جدید ساز وسامان سے لیس اس فوج کی یہ کارکردگی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے تو یہاں تک اعداد و شمار کا حساب کتاب لگا لیا کہ اگر کل کو پاکستان و بھارت کے درمیان حقیقی جنگ چھڑ گئی تو بھارت اپنے فوجیوں کو صرف 10 دن تک اسلحہ و گولہ بارود فراہم کر سکتا ہے۔ بھارتی فوج کے پاس 68 فیصد ہتھیار پرانے ہیں۔ اور تو اور فضائیہ کے پاس پرانے ناکارہ لڑاکا جہاز ہیں جن کی کارکردگی ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ مودی حکومت اپنے شاہی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے اپنی فوج کا حجم کم کرنا چاہتی ہے۔ چونکہ بھارت میں فوج کا محکمہ عوام کو نوکریاں دینے کا ایک بڑا ذریعہ ہے لہذا سیاسی نقصان سے بچنے کیلئے حکومت ایسا نہیں کر سکتی۔بھارت ہر سال اربوں ڈالر نئے اور جدید اسلحہ خریدنے پر خرچ کرتا ہے لیکن اس جنگ میں تو وہ نظر نہیں آیا۔ دراصل دفاعی سودوں میں کرپشن کی وجہ سے بھارتی افواج کے آلات ناقص اور پرانے ہیں۔ ابھی کل ہی مودی رافیل طیاروں کے نہ ہونے کی وجہ سے فضائی شکست کا رونا رو رہے تھے مگر وہ یہ بھول گئے کہ انہی طیاروں کی خریداری کے سلسلے میں ان پر کمیشن لینے کے سنگین الزامات بھی لگ چکے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں ہی بھارت کو امریکی اسلحہ کی فروخت پندرہ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے مگر کرپشن اور کمیشن نے ہر جگہ کام خراب کیا۔ پھر دوسری بات بھارتی فوج کی ناقص تربیت بھی ہے۔ ماہراساتذہ کی غیر موجودگی میں بھارتی فوج کیسے ہیرو بن سکتی ہے۔ جدید اسلحہ خریدنے سے کام نہیں چلتا اس کو چلانا سیکھنا بھی ہوتا ہے بھارت کے پاس جدید اسلحہ کے بارے میں تربیت دینے والے استاد ہی نہیں۔ بھارتی افواج کی انہی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے امریکی حکام جو ہمیشہ سے بھارت کی پشت پر رہے ہیں ، اب تشویش کا شکار ہیں۔ بھارتی طیارے گرانے کیلئے پاکستان نے امریکی ایف سولہ نہیں بلکہ اپنے ہاں بنے ہوئے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے استعمال کئے۔ جس نے اس مختصر سے معرکے میں اپنی اہمیت اور افادیت کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ لہذا امریکی اب سوچنے لگے ہیں کہ کیا وہ اس فوج کی پشت پناہی کر رہے تھے جو تینوں میدانوں میں اپنے سے چھوٹے ملک سے ہار گئی ہے۔ بھارت کو چین کے مقابلے پر تیار کرنے والے امریکہ کیلئے یہ غیرمعمولی لمحہ ہے۔امریکہ تو اب تک چین کی راہ روکنے کیلئے جدید اور طاقتور اسلحہ سے لیس انتہائی منظم اور ماہر تربیت یافتہ بھارتی فوج پر انحصار کیے بیٹھا تھا۔ ان سب ترجیحات کا جائزہ لینے کے بعد امریکہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ ہر معاملہ میں بھارت کی پیٹھ ٹھونکنے کی بجائے پہلے معاملہ میں بھارتی و دیگر مؤقف دیکھا جائے ۔ باریک بینی سے جائزہ لے کر ہی کوئی قدم اٹھایا جائے۔ اسی لئے امریکہ نے بھارت کے سر سے اپنا شفقت بھرا ہاتھ اٹھانے کا سوچا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے لیے ترجیحی تجارتی درجے کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بھارت سے جنریلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (جی ایس پی) واپس لینے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر نے الزام لگایا کہ بھارتی حکومت نے اس بات کی یقین دہانی نہیں کروائی کہ وہ امریکا کو بھارت کی منڈیوں میں برابر اور معقول رسائی فراہم کرے گا۔جنریلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز ترقی پذیر ممالک کو امریکی منڈیوں تک آسان رسائی فراہم کرتا ہے اور بھارت 2017 میں اس پروگرام کا سب سے بڑا بینیفشری تھا۔ جی ایس پی کے تحت بھارت 5 ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کا سامان برآمد کرتا ہے اور اس پر سالانہ صرف 19 کروڑ ڈالر کا ڈیوٹی کا فائدہ ہوتا ہے۔اس فیصلے کے بعد بھارت کو امریکا کی جانب سے ملنے والا تجارتی فائدہ ختم ہوجائے گا جب کہ بھارت 5.6 بلین ڈالرکی برآمدات سے محروم ہو جائے گا۔ بھارت دنیا بھر میں فوج پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک میں اس وقت پانچویں نمبر پر ہے ۔ اس کے باوجود رواں سال اس کے فوجی بجٹ کا صرف ایک چوتھائی حصہ نئے اسلحے اور جنگی آلات کی خریداری پر خرچ ہوگا۔ اسلحے کی خریداری کا یہ عمل بھارت میں بہت سست رفتاری سے ہوتا ہے ۔ یہ بات بھی اکثر کہی جاتی ہے کہ دفاعی سامان کی خریداری میں کرپشن بہت ہوتی ہے۔ مودی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر بھارتی فضائیہ کے پاس رافیل جنگی طیارے ہوتے تو پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران بھارتی فضائیہ کی کارکردگی بہت مختلف ہوتی۔لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ آج کل اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم مودی پر رافیل طیاروں کی خریداری میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا الزام عائد کیا جارہا ہے اسی لئے ان کی خریداری میں دیر ہو رہی ہے۔

جب قوم متحد ہوجاتی ہے تو کوئی اسے شکست نہیں دے سکتا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کی زندگی بہتر بنانا اور ملک سے غربت کا خاتمہ کرنا ہے اورجب قوم متحد ہوجاتی ہے تو کوئی اسے شکست نہیں دے سکتا۔

آل پاکستان چیمبر آف کامرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کی زندگی بہتر بنانا ہے، میرا مقصد ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے، ملک سے غربت ختم کرنا اور غریبوں کے لیے اسپتال بنانا میرے مقاصد میں شامل ہے، قوم پر اعتماد ہے، جب قوم متحد ہوجاتی ہے تو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ تاجر برادری کے تعاون کے بغیر ترقی ممکن نہیں اس لیے  ہم بھرپور کوشش کریں گے تاجروں کی تمام مشکلات دور کی جائیں اور  حکومت تاجر برادری کو اوپر لانے کی پوری کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو ٹھیک کرنے میں مسائل آرہے ہیں، ایف بی آر میں اصلاحات تک ہم ٹیکس اکٹھا نہیں کرسکتے، ایف بی آر ٹھیک نہ ہوا تو نیا ایف بی آر بنادیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قرضے کی قسطیں دو ہزار ارب کی ہیں، وفاقی حکومت شروع ہی خسارے سے ہوئی، 10 سال میں پاکستان کا قرضہ 30 ٹریلین تک چلا گیا، قرضوں کی قسطیں واپس کرنی ہے اس لیے ہمارے لیے مشکل وقت ہے، ملک میں بہت سے سرمایہ کار آرہے ہیں، آنے والے دنوں میں مزید سرمایہ کاربھی آئیں گے، اگر ہم نے صرف سیاحت کا شعبہ ہی بہتر کرلیا تو خسارہ پورا ہوجائے گا۔

عمران خان نے کہا کہ لوگ ٹیکس نہیں دیں گے تو قوم آزاد ہی نہیں ہوگی، غلام ہی رہے گی، ٹیکس کا ایک ایک پیسا عوام پر خرچ کروں گا، ٹیکس نیٹ بہتر نہ ہوا تو یہ ملک کی  سلامتی کا مسئلہ ہے، حکومت نے اپنے اخراجات کم کر دیے ہیں، مانگنے والوں کی کوئی عزت نہیں کرسکتا لیکن جب تک ٹیکس نیٹ نہ بڑھایا جائےمالی خسارہ کم نہیں ہوسکتا۔

بھارتی حکام نے پی ایس ایل فائنل دیکھنے کیلیے پاکستان آنے کی دعوت مسترد کردی

بھارت سے تعلق رکھنے والے آئی سی سی کے صدر ششانک منوہر پی ایس ایل فور کے میچز دیکھنے پاکستان نہیں آئیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین احسان مانی کے مطابق بھارت سے تعلق رکھنے والے انٹر نیشنل کرکٹ بورڈ کے صدر نے  نجی مصروفیت کی وجہ سے پاکستان آنے سے معزرت کا اظہار کیا ہے تاہم آئی سی سی چیئرمین ڈیوڈ رچرڈسن سمیت دیگر غیرملکی شخصیات پی سی بی کی دعوت پر پاکستان آرہے ہیں۔

نیشنل اسٹیڈیم کے دورہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بورڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا اور بنگلادیش کرکٹ بورڈز کے سیکیورٹی ماہرین پاکستان آکر صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں احسان مانی نے کہا کہ پی ایس ایل فور کے کامیاب انعقاد سے دنیا میں پاکستان کا تصور تبدیل ہوگا۔

قبل ازیں انہوں نے اسٹیڈیم کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور جاری کام کا جائزہ لیا،این ایل سی کے کرنل صہیب اور نیشنل اسٹیڈیم کے جنرل منیجر ارشد خان نے ان کو تفصیلی بریفننگ دی، بورڈ کے سربراہ نے میڈیا سینٹر کا بھی دورہ کیا اور مقابلوں کے دوران اسپورٹس صحافیوں کو مکمل سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اس سے قبل پی سی بی نے پی ایس ایل فائنل دیکھنے کیلیے بھارت سمیت تمام آئی سی سی بورڈ ڈائریکٹرز کو مدعو کر کیا تھا،  کونسل کے بھارتی چیئرمین ششانک منوہر کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق جس وقت دعوت ارسال کی گئی تب جنگ کا ماحول نہیں بنا تھا، موجودہ صورتحال میں بورڈ خود انہیں مدعو کرنے سے گریز کرتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے افغانستان، آسٹریلیا، انگلینڈ، بنگلہ دیش،آئرلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے کرکٹ سربراہان کو بھی کراچی مدعو کیا ہے، حکام چاہتے ہیں کہ غیرملکی مہمان خود آکر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیں، اس سے انھیں ٹیمیں بھیجنے کے فیصلے میں بھی مدد ملے گی، گزشتہ دنوں ”کرکٹ پاکستان“ کو انٹریو میں ایم ڈی پی سی بی وسیم خان نے بتایا تھا کہ آسٹریلیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے سیکیورٹی منیجرز کو بھی فائنل دیکھنے کی دعوت دی جائے گی۔

وزیراعظم سے سعودی وزیرمملکت برائے خارجہ کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر نے ملاقات کی جس میں خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان دورے پر آئے سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر وزیراعظم ہاؤس ہاؤس پہنچے جہاں وزیراعظم نے ان کا استقبال کیا،  سعودی وزیر مملکت نے وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جب کہ  پاک سعودی تعلقات پر بھی بات چیت کی گئی۔

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سمیت دیگرحکام بھی موجود تھے۔

قبل ازیں سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں خطے کی سیکورٹی صورتحال اور امن و امان سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی، اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کے لیے سعودی ولی محمد بن سلمان کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔

رافیل کرپشن کیس میں نریندر مودی کو شامل تفتیش کیا جائے، کانگریس

نئی دلی: کانگریس نے رافیل جیٹ طیارے کے حساس دستاویزات چوری ہونے کے معاملے پر نریندر مودی کو شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کردیا۔

بھارت کی فرانس سے رافیل جیٹ طیارے خریدنے کے معاہدے کی حساس دستاویزات چوری ہونے کے انکشاف پر اپوزیشن مودی کیلئے درد سربن گئی۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی کا کہنا ہے دستاویزات چوری ہونے کے خلاف تحقیقات میں وزیراعظم مودی کو شامل کرنا چاہیے اور مودی کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔

نئی دلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے صدر راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ حساس دستاویزات چوری ہونا کوئی عام بات نہیں، اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور اس میں مودی کو بھی شامل کرنا چاہیے، وزیراعظم معاہدے کے بارے میں مکمل آگاہ تھے، اسی لیے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنی چاہیے۔

مسلسل ناکامیوں کےباعث حواس باختہ مودی سرکار کا ایک اور کارنامہ گزشتہ روز سامنے آیا جس میں بھارتی اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں رافیل ڈیل کی حساس دستاویزات چوری ہونے کا انکشاف کیا۔

واضح رہے کہ مودی سرکار نے 2016 میں فرانس سے 36 رافیل جیٹ طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا جس میں مودی حکومت پر کریشن کے الزامات لگائے گئے تھے۔

Google Analytics Alternative