Home » 2019 » March » 08 (page 2)

Daily Archives: March 8, 2019

’’ٹچ بٹن‘‘ کی شوٹنگ کا دوسرا اسپیل، سونیا حسین پاکستان پہنچ گئی

ڈائریکٹر قاسم علی مرید کی فلم’’ٹچ بٹن‘‘ کی شوٹنگ کادوسرا اسپیل شروع ہوگیا ہے۔

قاسم علی نے فلم’’ٹچ بٹن‘‘ کی شوٹنگ کا آغاز ننکانہ صاحب کی ایک حویلی سے کیا تھا جس میں ایمان علی،سونیاحسین،علی سکندر اور فیروزخان نے حصہ لیا تھا۔ اب اس فلم کی شوٹنگ لاہور کے نواحی علاقوں میں جاری ہے جب کہ فلم کی شوٹنگ کے لیے سونیاحسین دبئی سے پاکستان پہنچ گئی ہیں جو جلد ہی لاہورآئیں گی۔

واضح رہے کہ یہ فلم قاسم علی مرید،عروہ حسین اور فرحان سعید کی مشترکہ پروڈکشن ہے۔

مسلمان بچوں پر’’مودی ایفکٹ ‘‘

ایک ارب اکیس کروڑ آبادی کے دیش بھارت کے اقتدار اعلیٰ کی دہلیز کو انسانوں کا لہو پینے والے ایسے درندوں نے نہ صرف پار کرلیا ہے بلکہ انسانیت کے دشمن درندوں نے اپنے اردگرد اپنے جیسے درندوں کے غول بناکر اْس میں سے کئی گروہ پیدا کرلیئے جو دیش کے کونے کونے تک پھیل چکے ہیں، جنہوں نے اپنے خونی پنجے بھارت میں اس طرح سے گاڑ دئیے ہیں جن کا ادراک نجانے انسانیت کا درد رکھنے والے کسی بھارتی قائد کو کب ہوگاجو بھارت کو جنونی’وحشیانہ اور متشدد پاگل پن کے دیوالیہ ہونے سے بچا سکے گا، زیر نظر کالم میں ہمارامطمع نظراتنا اہم ہے کہ اْس پر عالمی سطح پر فی الفورغوروخوض کیا جانا بہت ضروری ہے کیونکہ بچے سانجھے ہوتے ہیں معصوم بچوں میں ذات پات رنگ ونسل اورمذہبی تفریق کی کوئی حد بندی یا تخصیص نہیں ہوتی، بچے تو صرف بچے ہوتے ہیں ،جنہیں معاشرہ کے پیدا کردہ جبروقہر کا نشانہ بننا پڑجاتا ہے اور وہ معصومیت کے تحیر کے عالم میں آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کے سوالوں کے جوابات تلاش کرنے لگتے نائین الیون کے واقعہ کے بعد ایسی صورتحال امریکا اور مغربی ممالک کے اسکولوں میں دیکھی گئی تھی مسلمان اور غیر مسلم بچے جو ایک دوسرے کے دوست تھے کلاس فیلو تھے یکا یک اور یکدم باہم دور ہوگئے بالکل ایسے ہی جیسے بھارت میں جب سے آر ایس ایس کی سرکارقائم ہوئی بھارت کے سیکولرازم کے سیاسی وجمہوری فلسفہ کی جگہ ہندوتوا اور سنگھ پریوار کے منافرت پر مبنی نظام نے لے لی بھارت کے ہندو اور غیرہندووں کے مابین فاصلے پیدا ہوئے بی جے پی کی مادر تنظیم آرایس ایس جس جنونی انتہا پسندی کی شاونیت ازم کو بھارت میں پچھلے پانچ برس میں عروج ملا اپنے طور پر کسی حد تک کانگریس نے بھی اس میں اپنا حصہ ضرور ڈالا ہے روش خیال اور اعتدال پسند عالمی مبصرین کی یہ رائے بڑی ثقہ ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتی نژ اد مسلمانوں کو بڑی بیدردی کے ساتھ انہوں نے اپنے ریاستی ظلم وستم کا نشانہ بنایا ہے اوراپنے سیاسی مکارانہ قول وفعل سے اس امرکا واضح ثبوت دیا ہے کہ بھارتی نژاد مسلمان بھی دلتوں کی طرح مفلس ‘بے یارومد دگاراور بالکل غیر محفوظ ہیں یقیناًآپ سمجھ چکے ہیں راقم کا اشارہ نائین الیون کے واقعہ کے بعد سے امریکا اور مغربی ممالک میں جو جارحانہ یکطرفہ سلوک مسلمان بچوں کے ساتھ روا رکھا گیا بھارت میں آج کل مسلمان بچے اپنے آپ کو ان ہی خطوط پر اسکولوں میں اجنبی سمجھتے ہیں محلوں میں بھی اْن کے ساتھ اچھوتوں جیسا کیا جاتا ہے عدم برداشت ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنا رواداری اور تحمل بھارت کے آرایس ایس سماج میں اب تو نام کو بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا، بھارت سے اْٹھنے والی یہ آواز تو آج سے ڈھائی برس قبل پوری دنیا نے سنی تھی یاد دہانی کے لئے یہاں دہرائے دیتے ہیں بھارت کے ممتاز ادیب اور استاد گنیش دیوی کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد سارے بھارت میں عدم برداشت کو مذہب اور کلچر میں تطہیر کے نام پرجس نچلی دھوکہ دہی کے جانبدارانہ انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے استاد گنیش کے مطابق یہ رویے بھارتی سیکولر معاشرتی جہتوں کے منافی ہیں ،گنیش دیوی اْن 41 ادیبوں میں شامل ہیں، جنہوں نے آزادی اظہار کے منافی پرتشدد واقعات اورعدم برداشت میں اضافے کے تناظر میں اکیڈمی آف لیٹرز یا ساہتیہ اکیڈمی کے اعلیٰ ملکی ایوارڈز واپس کر دئیے تھے، اْنہوں نے کہا تھا کہ انتہا پسند ہندوؤں کے حملوں میں شامل افراد کا تعلق بی جے پی کی نظریاتی اساس رکھنے والے گروپ راشٹریہ سوائم سیوک سَنگھ کے علاوہ کئی دوسرے کٹر گروپس سے ملتا ہے، دیکھئے جناب والہ‘ بات کتنی بڑھ گئی ہے بھارت میں بڑے تو بڑے معصوم بچے بھی نسل پرستی کی منافرت کا شکار ہونے لگے بھارت میں مسلمان بچے مسلمان ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں، عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیا میں شائع ہونے والی نئی کتاب ‘مدرنگ اے مسلم‘ کے مطابق انڈیا اور پوری دنیا میں بڑھنے والے اسلاموفوبیا کی وجہ سے ا سکولوں میں بچوں کو ان کے مذہب کی وجہ سے زیادتی کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے‘مدرنگ اے مسلم‘ کی مصنفہ نازیہ ارم اس کتاب کو لکھنے کے لیے دیش کے بارہ شہروں میں گئیں، جہاں وہ 145 خاندانوں سے ملیں اس کے علاوہ انہوں نے دہلی کے 25 بڑے سکولوں میں پڑھنے والے 100بچوں سے بات کی وہ سوال کرتی ہیں کہ ‘جب پانچ اور چھ برس کے بچے کہتے ہیں کہ انہیں پاکستانی یا شدت پسند کہا جا رہا ہے تو آپ کیا جواب دیں گے؟ آپ اسکولوں سے کیا شکایت کریں گے؟ وہ بتاتی ہیں کہ ‘ان میں سے بہت ساری باتیں مذاق میں کہی جاتی ہیں کیا ایسا لگتا ہے کہ اس مذاق سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا ہے ایسا نہیں ہے بچوں کو ہراساں کیا جانا انسانیت کا بدترین استحصال ہے، ارم نے اپنی کتاب کے لیے جن بچوں سے باتیں کی انھوں نے بتایا کہ ان سے ایسے سوالات باربار کئے جاتے ہیں مثلاً کیا تم مسلمان ہو؟ میں تو مسلمانوں سے نفرت کرتا ہوں ،کیا تمہارے پاپا گھر پر بم بناتے ہیں؟ کیا تمہارے پاپا طالبان ہیں؟ کیا تم پاکستانی ہو؟ کیا تم شدت پسند ہو؟ کوئی دوسرا کہتا ہے ارے یاراسے غصہ مت دلاؤ یہ تمہیں بم سے اڑا دے گا ،اس کتاب کے بازار میں آنے کے بعد سے سکولوں میں مبینہ طور پر موجود مذہبی منافرت کی بنیاد پربچوں میں تعصب کے بارے میں اب انڈیا میں بحث جاری ہے، انڈیا کی 1.3ارب آبادی میں سے 80 فیصد آبادی ہندو اور 14.2 فیصد آبادی مسلمان ہے ویسے تو انڈیا میں دونوں مذاہب کے افراد امن کے ساتھ رہتے آئے ہیں لیکن 1947میں جب ایک ملک دو حصوں انڈیا اور پاکستان میں تقسیم ہوا، تب سے مذہب کے بنیاد پر اختلافات اندر ہی اندر ابل رہے تھے تقسیم کے دوران بہت ستم زدہ خون خرابا ہوا اور پانچ سے دس لاکھ کے درمیان ہلاکتیں ہوئیں، بقول کتاب کی مصنفہ ارم کے مسلم مخالف رویہ تو 1990 کی دہائی میں بابری مسجد کو شہید کیے جانے کے بعد سے ہی محسوس کیا جا نے لگا تھا لیکن حال میں اس رویے میں بڑی تیزی اور شدت سے اضافہ ہوا ہے انھوں نے بتایا کہ 2014 میں جب وہ پہلی مرتبہ ماں بنیں تب سے اس بارے میں زیادہ محتاط ہو گئی ہیں ارم کہتی ہیں کہ وہ بیٹی کا نام مائرہ رکھنے سے بھی گھبرا رہی تھیں اس دور میں انڈیا میں بی جے پی ملک کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی مہم چلا رہی تھی ان کے مطابق وزیراعظم مودی کو حکومت میں آنے کے بعد اس سے فائدہ بھی ہوا، اس وقت ہندو قوم پرست احساسات کو بڑھاوا مل رہا تھا کچھ ٹی وی چینل مسلمانوں کا امیج خراب کر کے پیش کر رہے تھے ارم کہتی ہیں کہ ‘ 2014 سے ایک مسلمان کے طور پر میری پہچان آگے ہوگئی اور میری دوسری کوئی بھی اور پہچان پیچھے رہ گئی پوری مسلمان برادری میں کل بھی ایک خوف صاف محسوس کیا جا رہا تھا آج بھی صورتحال جوں کی توں ہے اس کے بعد سے اب تک دراڑیں بڑھتی چلی جارہی ہیں ٹی وی پر لوگوں کو تقسیم کرنے والے بیانات اور بحثوں نے تعصب کی منافرت کو بڑھاوا دیا ہے جو والدین کے ساتھ ساتھ اب بچوں تک بھی پہنچ گیا ہے ارم کہتی ہیں کہ ‘کھیل کے میدان، کلاس اور اسکول بس تک میں مسلمان بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، انہیں دوسرے بچوں سے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے انہیں پاکستانی، آئی ایس، بغدادی اور شدت پسند کہہ کر بلایا جاتا ہے اپنی کتاب میں انھوں نے کچھ بچوں کی زبان سے بتائی گئی باتیں لکھی ہیں ایک مسلمان بچی اس بات سے خوفزدہ ہے کہ مسلمان آرہے ہیں اور واْسے مار ڈالیں گے جبکہ بچی کو نہیں معلوم کہ وہ خود ایک مسلمان ہے، مذہب کی بنیاد پر پریشان کیے جانے کے معاملے صرف انڈیا تک محدود نہیں ہیں پوری دنیا میں ایسا ہو رہا ہے، امریکہ میں اسے ‘ٹرمپ افیکٹ‘ کہا جاتا ہے ان کے یہاں ایسی رپورٹز آئی تھیں کہ امریکی صدارتی انتخابات کے دوران بچوں میں خوف اور فکر میں اضافہ ہوا تھااس کے علاوہ کلاسوں میں نسلی بنیاد پر دباؤ بھی بڑھ گیا تھا تو کیا انڈیا کے ا سکولوں میں مذہبی تفرق کی بنیاد پر مسلم بچوں کو پریشان کیے جانے کے واقعات میں اضافے کو ‘مودی افیکٹ‘ کہا جاسکتا ہے ۔

***

مولانا مسعود اظہر،بھارت اور چین

جب بھی کشمیر کے ایشو پر پاک بھارت کشیدگی بڑھتی ہے اسمیں بلاوجہ چین کو بھی گھسیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بھارت اور امریکہ اس معاملے میں پیش پیش رہتے ہیں۔پلوامہ کے ’’مودی دوول‘‘ ڈرامے کے بعدطے شدہ پلان کے تحت بھارت فرانس، برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ مل کر رواں ماہ کے وسط میں اس معاملے کو یو این میں لے جا رہے ہیں۔بھارت بضد ہے کہ پلوامہ جیش محمد کا کیا دھرا ہے اور اسکا ماسٹر مائنڈ مسعوداظہر ہے جو پاکستان کی پشت پناہی کی وجہ سے یہ سب کچھ کررہا ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ یو این کی قرار داد کے تحت مولانا مسعود اظہر کا نام عالمی دہشت گرد فہرست میں ڈلوا کر پاکستان کو سبق سکھایا جائے مگر چین کی وجہ سے وہ اس سلسلے میں مسلسل ناکامی سے دوچار ہوتا چلا آ رہا ہے۔ماضی کے واقعات کی طرح پلوامہ کے واقعہ کے بعد چین نے شدید الفاظ میں مذمت کی تاہم اس نے بھارت پر ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ وہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو اقوام متحدہ میں دہشت گرد قرار دلوانے کے لیے ٹھوس شواہد فراہم کرے۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ چین مقصدیت، غیر جانبداری اور پیشہ وارانہ اصولوں کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، ہمارا معیار اور طریقہ کار صرف یہی ہے کہ ہمیں ٹھوس شواہد فراہم کیے جائیں اور اگر ثبوت ہوں گے تو درخواست کو قبول کرلیا جائے گا ورنہ اس پر اتفاق رائے کرنا مشکل ہوجائے گا۔ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت قائم کمیٹی میں کسی بھی شخص کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا واضح طریقہ کار ہے۔ جیش کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں پہلے ہی موجود ہے۔ چین پابندیوں کے معاملے پر ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ جاری رکھے گا۔

بھارت اقوام متحدہ میں کئی بار ایسی قرارداد لا چکا ہے اور ہر بار چین بھارتی قرارداد کو تکنیکی بنیادوں پر ویٹو کر دیتا ہے۔ بلاشبہ چین پاکستان کا دوست ملک ہے مگر وہ بھارت کے شاطر مائنڈ سیٹ کو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔اُسے معلوم ہے کہ یہ ساری کوششیں کیوں کی جا رہی ہیں اور کس کی شہ پر کی جا رہی ہیں۔فرانس برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے چین پر دبا ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس بار رکاوٹ نہ بنے تاہم پاکستان کو امید ہے چین اس معاملے کو خطے کے مفاد میں دیکھتے ہوئے کسی کے بہکاوے میں نہیں آئے گا۔چین اور پاکستان خطے کے آزمودہ دوست ہیں۔یہ دوستی 21 مئی1951کو قائم ہوئی تھی جسے68سال ہوگئے۔ اس عرصہ میں چین اور پاکستان میں کئی حکومتی ادوار آئے دنیا میں کئی واقعات رونما ہوئے لیکن کبھی بھی پاکستان اور چین کے تعلقات میں فرق نہیں پڑا۔یہ دوستانہ تعلقات صرف حکومتی سطح تک ہی محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور عالمی امور میں باہمی احترام کے حوالے سے خیالات بھی یکساں ہیں ۔تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان اقتصادی یا دفاعی حوالے سے جب بھی کسی مشکل سے دو چار ہوا اور اس نے عالمی برادری کی طرف نگاہ ڈالی تو جو ملک ہمیشہ سب سے قریب تر نظر آتا ہے وہ چین ہوتا ہے۔کسے یاد نہیں کہ 1965کی پاک بھارت جنگ میں اُس وقت کے چینی وزیر دفاع مارشل چن یی،جنگ کے دوران کراچی آئے اور بھٹو کی رہائش 70کلفٹن پر رات کو ایک بجے ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران بھارت کو تنبیہ کی کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے دلی کو نقصان ہوگا۔
اقتصادی تعاون کے حوالے سے بھی چین کبھی پیچھے نہیں رہا ہے۔عمران خان نے جب اقتدار سنبھالا تو شدید قسم کے اقتصادی بحران سے نکلنے کیلئے چین نے پاکستان کی بھر پور مدد کی جبکہ سی پیک جیسے عظیم منصوبے پر پہلے ہی کام جاری ہے۔اقتصادی راہداری کے بڑے منصوبے سے پاکستان کی کثیر آبادی مستفید ہوگی جس میں توانائی، ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی زونز کی تعمیر کے کئی منصوبے شامل ہیں۔دوسری طرف زمینی آسمانی آفات میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کو لپکتے ہیں۔ اکتوبر 2005 کے ہولناک زلزلہ کے دوران بھی چین پہلا ملک تھا جو پاکستان کی مدد کیلئے سب سے پہلے مطلوبہ امدادی سامان لے کر پہنچا۔ اس موقع پر چین نے 62 کروڑ ڈالر اور ریسکیو عملہ کے ساتھ متاثرین زلزلہ کی بھر پور امداد کی اسی طرح2008میں چین کے جنوبی مغربی صوبے میں شدید زلزلے کے بعد پاکستان نے فوری طور پر اپنی امداد روانہ کی جسے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔ یمن جنگ کے آغاز پر چین کی بحریہ کے جنگی جہاز نے یمن میں پھنسے176پاکستانی باشندوں کو بحفاظت پاکستان پہنچایا ۔اس طرح کی بے شمار مثالوں سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی فولاد سے مضبوط ہے ۔شاہراہِ ریشم ، چشمہ کا ایٹمی بجلی گھر، سی پیک اورگوادر کی ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر نیز پاکستان کے طول و عرض میں کئی میگا پراجیکٹس چین کے پاکستان کیساتھ لائقِ فخراور مثالی تعاون کے جیتے جاگتے انمٹ نقوش ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک جہاں پاک چین دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہیں کچھ ممالک کو یہ دن بدن مضبوط ہوتی دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی اور مختلف شازشوں کے ذریعے ان دونوں دوست ممالک کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے میں مصروف ہیں تاہم پاک چین دوستی کے مابین دراڑیں ڈالنے کی مذموم کوششیں ہمیشہ ناکام رہی ہیں۔
***

قوم کے شاہینوں کے عزم و ہمت کو اجاگر کرتی فلم ’شیر دل‘ کا ٹریلر جاری

اسلام آباد: پاک فضائیہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی فلم’ شیر دل‘ کا ٹریلر جاری کردیا گیا ہے۔

وطن عزیز کی فضاؤں کو دشمن کے ناپاک وجود سے بچانے پر مامور پاک فضائیہ کے شاہینوں کے عزم و حوصلے کو اجاگر کرتی فلم ’شیر دل‘ کا ٹریلر جاری کردیا گیاہے ۔ فلم میں میکال ذوالفقار اور ارمینا خان مرکزی کردار ادا کررہی ہیں۔ ٹریلر کے اجرا کی تقریب اسلام آباد میں ہوئی جس میں فنکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

2 منٹ 26 سیکنڈز دورانیے کے ٹریلر میں میکال ذوالفقار  پاک فضائیہ کے پائلٹ کے کردار میں نظر آرہے ہیں۔ ٹریلر کی ابتدا چند سین دکھانے کے بعد  جاندار ڈائیلاگ سے ہوتی ہے جس میں اداکارہ ثمینہ احمد کہتی ہیں کہ ’ یہ وردی میں چلتے پھرتے لوگ عام سے دکھتے ہیں لیکن وقت آنے پر اپنا سب کچھ قربان کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں‘۔

ٹریلر میں دکھایا گیا ہے کہ میکال ذوالفقار پاکستان ایئر فورس میں کمیشن ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور پھر جذبے کے لبریز ہوکر ایئر فورس اکیڈمی جوائن کرتے ہیں۔ ٹریلر میں پائلٹ کی حیثیت سے تربیت کے مراحل بھی دکھائے گئے ہیں۔

’شیر دل‘ کا ٹریلر مختلف حصوں پر مشتمل ہے۔ فلم کے ٹریلر میں دلچسپ موڑ اُس وقت دیکھنے میں آتا ہے جب متحدہ عرب امارات میں کثیر الملکی مشترکہ مشقوں کا آغاز کیا جاتا ہے جس میں پاکستان ایئر فورس کی طرف سے میکال اور بھارت کی جانب سے ارون ویرانی کا کردار ادا کرنے والے حسن نیازی نمائندگی کرتے ہیں۔

ٹریلر میں بھارت کی روایتی جنگی سوچ کو دکھایا گیا ہے جسے ناکام بنانے کے لئے پاکستان ائیر فورس کے شاہین اپنی ماہرانہ صلاحیتوں سے دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیتے ہیں۔ معرکے پر جانے سے قبل میکال ذوالفقار ڈائیلاگ کہتے ہیں کہ ’اگر میں واپس نہ آیا تو میرے والد کو کہہ دینا کہ شہید کبھی مرا نہیں کرتے‘۔

واضح رہے کہ اظفر خان کی ہدایت کاری میں بننے والی ’شیر دل‘ میں 1965 کی پاک بھارت جنگ کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فلم رواں ماہ 22 مارچ کو سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔

افغانستان: اعلیٰ حکام کی موجودگی میں برسی کی تقریب میں دھماکے، متعدد ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منعقدہ برسی کی ایک تقریب میں متعدد دھماکوں کے نتیجے میں درجن سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ میں افغان حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ تقریب میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور صابق صدر حامد کرزئی سمیت حکومت کی اہم شخصیات موجود تھیں۔

شہر کی ایمبولنس سروس کے عہدیدار محمد عاصم کا کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ متعدد ایمبولنسز جائے وقوع پر موجود ہیں۔

ایک اور افغان عہدیدار، جو مذکورہ تقریب میں موجود تھے، نے نام شائع نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 10 زخمی ہیں۔

خیال رہے کہ کابل میں جس تقریب میں دھماکے ہوئے، یہ 1995 میں ہلاک ہونے والے اور ہزارہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما عبدالعلی مزاری کی برسی کی تقریب تھی، جو طالبان حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق تقریب کی لائیو نشریات کے دوران محمد یونس قانونی نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘پُر سکون رہیں، دھماکا یہاں سے دور فاصلے پر ہوا ہے’۔

اور اس کے کچھ ہی دیر بعد دوسرے دھماکے کی آواز سنی گئی، جس کے بعد تقریب میں افراتفری پھیل گئی اور لوگوں نے جانیں بچانے کے لیے خارجی راستے کی جانب بھاگنا شروع کردیا۔

دوسرے دھماکے کے بعد ایک نامعلوم فرد کی آواز تقریب میں گونجی، جو لوگوں کو پُرسکون رہنے کا کہہ رہے تھے کہ ‘مارٹر حملہ یہاں تقریب سے بہت دور ہوا ہے’۔

واقعے کے بعد افغان وزیر خارجہ صلح الدین ربانی، جو اس تقریب میں موجود تھے، نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ دہشت گردوں نے برسی کی تقریب میں راکٹوں سے حملہ کیا۔

وزیر صحت محب اللہ کا کہنا تھا کہ ہسپتال سے ملنے والی ابتدائی معلومات کے مطابق حملے میں 3 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں، لیکن یہ تعداد مصدقہ نہیں۔

افغان وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا تھا کہ دھماکے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ دھماکا مارٹر شیل کی وجہ سے ہوا جبکہ ایک فرد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

تاہم ترجمان نے ہلاکتوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب نہیں دیا۔

بعد ازاں پاکستان میں دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ پاکستان، افغانستان میں ہونے والے راکٹ حملے کی مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان، افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے’۔

گزشتہ روز افغانستان میں مشترقی علاقے میں واقع تعمیراتی کمپنی میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 16 مزدور ہلاک ہو گئے تھے جبکہ حملے میں ملوث پانچوں شدت پسند بھی مارے گئے تھے۔

اس حملے سے چند دن قبل ہی مذاکراتی عمل کے دوران صوبہ ہلمند میں امریکا اور افغانستان کے مشترکہ فوجی اڈے پر حملے میں سیکیورٹی فورسز کے کم از کم 23 اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

افغانستان میں شدید سردی اور برف باری کے سبب حملوں کی رفتار اور پرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے لیکن سردی کی شدت میں کمی کے ساتھ ہی حملوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔

آسٹریلیا کیخلاف سیریز کیلیے قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کل ہوگا

لاہور: آسٹریلیا کے خلاف سیریز کیلیے قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کل کیا جائے گا۔

جنوبی افریقا کےخلاف کھیلنے والی ٹیم میں پانچ تبدیلیاں متوقع ہیں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پانچ ایک روزہ میچز کی سیریز 22 مارچ سے یو اے ای میں کھیلی جائے گی جس کے لیے چیف سلیکٹر انضمام الحق جمعے کی سہ پہر نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں قومی ٹیم کا اعلان کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ ڈومیسٹک اور اے ٹیم کے پرفارمر عابد علی اور سعد علی کو سلیکٹرز نے قومی سینئر ٹیم کی نمائندگی دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

مولانا مسعود اظہرکےحوالے سے فیصلہ قومی مفاد میں کیا جائے گا، ترجمان دفترخارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت ہماری امن کی خواہش کو کمزوری سمجھتا ہے لیکن ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ بالاکوٹ میں پے لوڈ گرا کر 300 دہشتگردوں کو مارنے کا دعوی کیا گیا لیکن ثبوت نہیں دیے گئے، پاکستان نے دو بھارتی طیاروں کو گرایا اور 27 فروری کو بھارتی پائلٹ کو سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا، وزیراعظم نے بھارتی پائلٹ کو جذبہ خیرسگالی کے طور پر رہا کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ڈوزئیر آیا ہے، اس ڈوزیئر کا جائزہ لیا جا رہا ہے جس کا جلد جواب دیا جائے گا، پاکستانی وفد 14 مارچ کو بھارت کا دورہ کرے گا جب کہ ہماری خواہش امن ہے لیکن جب بات کرتے ہیں تو اس کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، ہم بتا رہے ہیں بھارت ہماری امن کی خواش کو کمزوری نہ سمجھے ورنہ ہم نے دکھا دیا ہم دفاع کرنا جانتے ہیں، مولانا مسعود اظہر کے حوالے سے فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد میں کیا جائے گا۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ کرتار پور وزیراعظم اور آرمی چیف کا شروع کردہ منصوبہ ہے، بھارت نے اٹاری میں مذاکرات کا کہا اور ہم اس پر تیار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جیل میں پاکستانی قیدی شاکر اللہ کی ہلاکت پر شدید احتجاج کیا۔

اداکارہ میرا کی فلم ’’باجی‘‘ کا پہلا پوسٹر جاری

کراچی: نامور پاکستانی اداکارہ میرا کی فلم ’’باجی‘‘ کا پہلا پوسٹر جاری کردیا گیا پوسٹر میں میرا گولڈن گرل بنی نہایت خوبصورت لگ رہی ہیں۔

اسکینڈل کوئن اداکارہ میرا طویل عرصے بعد فلم ’’باجی‘‘ کے ذریعے بڑی اسکرین پر واپسی کررہی ہیں، فلم کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا ہے جس میں اداکارہ میرا اور ماڈل آمنہ الیاس جلوے بکھیرتی نظر آرہی ہیں۔ اداکارہ میرا نے فلم کا پوسٹر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کراتے ہوئے لکھا ’’ہر خواب کی ایک قیمت ہوتی ہے۔‘‘

فلم ’’باجی‘‘ کے مصنف عرفان احمد عرفی نے  اداکارہ میرا کے کردار سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اس فلم میں  میرا کا کردار ان کے کیریئر کا اب تک کا بہترین کردار ہے۔ فلم کی کہانی 70 اور80 کی دہائی کی پاکستانی فلم انڈسٹری اور آج کے ماڈرن سینما کے گرد گھومتی ہے۔

ہدایت کار ثاقب ملک کی فلم ’’باجی‘‘ میں اداکارہ میرا اور آمنہ الیاس کے علاوہ اداکار عثمان خالد بٹ، محسن عباس حیدر، علی کاظمی، نشو بیگم اور نیر اعجاز اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔ فلم ’’باجی‘‘ عید الفطر کے موقع پر سینما گھروں کی زینت بنے گی۔

Google Analytics Alternative