Home » 2019 » March » 08 (page 3)

Daily Archives: March 8, 2019

ہواوے کامصنوعات پر پابندی کے خلاف امریکی حکومت پر مقدمہ

چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ’ہواوے‘ نے امریکی حکومتی اداروں کو اسکی مصنوعات خریدنے سے روکنے والے قانون کے خلاف قانونی محاذ آرائی کا آغاز کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی ‘ کے مطابق مذکورہ کمپنی پر امریکی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ چینی خفیہ اداروں کو معلومات فراہم کرسکتی ہے۔

ہواوے کی جانب سے بتایا گیا کہ ٹیکساس کی ڈسٹرک عدالت میں 2019 کے دفاعی بل کو چیلنج کردیا گیا ہے جس میں حکومتی اداروں کو کمپنی کے آلات خریدنے اور ایسی تھرڈ پارٹی کے ساتھ کام کرنے سے منع کیا گیا تھا جو ہواوے کے صارفین ہوں۔

ہواوے کی جانب سے یہ اقدام عالمی سطح پر اس جانب اشارہ ہے ہائی اسپیڈ ٹیلی کمیونیکیشن کے مستقبل، 5 جی ٹیکنالوجی کی دوڑ سے روکے جانے پر کمپنی عدالتوں سمیت ہر راستہ اپنانے کو تیار ہے۔

ہواوے کے چیئرمین کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’امریکی کانگریس ہواوے کی مصنوعات پر پابندی عائد کرنے کی وجہ بننے والے شواہد پیش کرنے میں باربار ناکام ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس قانون کو ہٹا دیا جائے تو ہواوے امریکا میں بہترین 5 جی نیٹ ورک بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کرسکتی ہے جبکہ اس پابندی سے کمپنی کو ناقابلِ شمار نقصان ہورہا ہے۔

چین میں کارپوریٹ ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی حکومت نے کمپنی کو محدود کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا‘۔

اس کے ساتھ انہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے امریکی حکومت پر ہیکرز کی مدد سے اپنے سرورز کو ہیک کرنے اور ای میل اور سورس کوڈ چرانے کا الزام عائد کیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی حکومت طویل عرصے سے ہواوے کو اس کے بانی رین زینگفائی کے سابقہ فوجی انجینئر ہونے کی وجہ سے بڑا خطرہ قرار دیتی رہی ہے۔

یہ خدشات اس وقت مزید زور پکڑ گئے جب ہواوے نے دنیائے ٹیلی کام میں ترقی کرتے ہوئے ایپل اور سام سنگ کے ساتھ تیسری بڑی کمپنی بن کر ابھری۔

ہواوے کی جانب سے امریکی حکومت کے خلاف کیے گئے مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’یہ عدالتی یا حکومتی طاقت کا غیر آئینی مظاہرہ تھا‘۔

واضح رہے کہ بیجنگ کی جانب سے چینی کمپنیوں کو قومی سلامتی کے امور میں حکومت کی معاونت کرنے کے قانون نے امریکی خدشات میں مزید اضافہ کردیا تھا۔

جس پر امریکی حکومت نے دیگر اقوام کو خبردار کیا تھا کہ چین کی کمیونسٹ حکومت ہواوے کے آلات میں گڑبڑ کرے دوسرے ممالک میں جاسوسی کے لیے استعمال کرسکتی ہےلہٰذا اس کمپنی سے بچا جائے۔

امریکا کا اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا الٹرا فاسٹ 5 جی ٹیکنالوجی کی طرف پیش قدمی کررہی ہے جس میں مصنوعی ذہانت کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے ہواوے اہم کردار ادا کرے گی۔

ایبٹ آباد: افضل کوہستانی قتل کیس میں بھتیجا گرفتار

ایبٹ آباد پولیس نے کوہستان ویڈیو اسکینڈل منظر عام پر لانے والے افضل کوہستانی کے قتل کے ’جرم‘ میں مقتول کے بھتیجے کو گرفتار کرلیا۔

اس حوالے سے پولیس نے دعویٰ کیا کہ افضل کوہستانی کے بھتیجے فیض الرحمن کے قبضے سے قتل میں استعمال ہونے والی پستول بھی برآمد کرلی۔

دوسری جانب زیر حراست ملزم کے اہلخانہ نے پولیس کے خلاف فیض الرحمن کی گرفتاری پر احتجاج کیا۔

خیال رہے کہ افضل کوہستانی کو گزشتہ رات 8 بجکر 10 منٹ پر ابیٹ آباد کے سربان چوک پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

فیض الرحمن کے اہلخانہ نے موقف اختیار کیا کہ مقتول افضل کوہستانی کو مسلسل جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں جس کے بعد فیض الرحمن بطور گارڈ تحفظ فراہم کررہا تھا۔

واضح رہے کہ مقتول کے اہلخانہ اور ان کے قبائلی بزرگوں نے کینٹ پولیس اسٹیشن کے سامنے دھرنا دیا اور 20 گھنٹے پر مشتمل سلسلہ وار مذاکرات اور بات چیت کے بعد دھرنا ختم ہوا۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ ہری پور کے ایس پی انویسٹی گیشن شاہ نذیر کو خصوصی طور پر طلب کیا گیا جنہوں نے احتجاجی مظاہرین میں شامل مقتول کے بھائی بن یاسر اور ان کے وکیل عبدالودود سے مذاکرات کے احتجاجی دھرنا ختم کرایا۔

مظاہرین کی جانب سے مقتول کے زیر حراست بھیجے کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔

بتایا گیا کہ ’پولیس کی جانب سے جوڈیشل انکوائری اور افضل کوہستانی کے باقی ماندہ اہلخانہ بیوی اور 5 بچوں کے تحفظ کی یقین دہانی پر احتجاجی دھرنا ختم کیا گیا‘۔

بعدازاں پولیس نے افضل کوہستانی کے بھتیجے کا بیان ان کے وکیل کی موجودگی میں ریکارڈ کیا جسے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

تاہم پولیس نے ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے بعد اپنی تحویل میں لے لیا۔

مدعی کا قتل ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے، بلاول بھٹو

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے افضل کوہستانی کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اہم ترین کیس کے مدعی کا یوں قتل ہونا ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے حکومت پر کڑی تنقید کی اورکہا کہ ’ نئے پاکستان میں انصاف تو دور کی بات مدعی کو ہی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انتہائی ہائی پروفائیل کیس کے مدعی کا قتل نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کے لیے زہر سے کم نہیں، یہ قتل خیبرپختونخواہ میں امن و امان کے متعلق دعوَوں کے منہ پر بھی تمانچہ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’مقتول افضل کوہستانی تحفظ کے لیے منتیں کرتا رہا لیکن حکمران بے حِس رہے‘۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات ہونی چاہیے کہ پی ٹی آئی حکومت نے ایسے کونسے اقدامات کیے کہ افضل کوہستانی آسان حدف بن گیا۔

کوہستان ویڈیو کیس

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کے ایک نوجوان نے 2012 میں میڈیا پر آکر یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کے 2 چھوٹے بھائیوں نے شادی کی ایک تقریب میں رقص کیا تھا اور وہاں موجود خواتین نے تالیاں بجائی تھیں۔

تقریب کے دوران موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو بعد میں مقامی افراد کے ہاتھ لگ گئی، جس پر مقامی جرگے نے ویڈیو میں نظر آنے والی پانچوں لڑکیوں کے قتل کا حکم جاری کیا اور بعد میں ان لڑکیوں کے قتل کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

قبائلی افراد کی جانب سے ویڈیو میں موجود لڑکوں اور لڑکیوں کو قتل کرنے کے احکامات جاری ہونے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے 2012 میں معاملے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

اس وقت کی وفاقی اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے واقعے کی تردید کی تھی، جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر کوہستان جانے والی ٹیم کے ارکان نے بھی لڑکیوں کے زندہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں زیر سماعت کوہستان ویڈیو اسکینڈل کے معاملے پر سماجی رضاکار فرزانہ باری نے لڑکیوں کے قتل سے متعلق شواہد پر مبنی دستاویزات اور ویڈیو عدالت میں جمع کرائی تھیں، جس کے مطابق جو لڑکیاں کمیشن کے سامنے پیش کی گئی تھیں وہ ویڈیو میں نہیں تھیں۔

ویڈیو میں دکھائی دینے والے لڑکوں میں سے ایک لڑکے کے بھائی محمد افضل کوہستانی نے قتل سے قبل بذریعہ میڈیا اپنے بھائی کی جان بچانے کی درخواست بھی کی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ نے 28 مارچ 2017 کو کوہستان سیش کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 3 لڑکوں کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث گرفتار ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ کوہستان کی سیشن عدالت نے مکمل ٹرائل کے بعد گرفتار 6 ملزمان میں سے ایک کو سزائے موت اور 5 کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اور ملزمان کو 2،2 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

رواں سال 2 جنوری کو کوہستان ویڈیو کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں خیبر پختونخوا (کے پی) کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے انکشاف کیا تھا کہ پولیس نے اپنی تفتیش میں کہا ہے کہ 2011 میں کوہستان میں سامنے آنے والی ویڈیو میں رقص کرنے والی پانچوں لڑکیوں کو قتل کردیا گیا تھا۔

جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ عدالت نے اس وقت تین کمیشن مقرر کیے تھے ان کی کیا رپورٹ تھی، جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کمیشن کے سامنے جعلی لڑکیاں پیش کرکے کہا گیا تھا کہ کسی کو قتل نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ایک کمیشن میں فرزانہ باری کو بھی شامل کیا گیا تھا، ان کی کیا رائے تھی، جس پر انہیں بتایا گیا کہ فرزانہ باری نے اس رپورٹ سے اختلاف کیا تھا اور اب ثابت ہوگیا ہے کہ ان کا اختلاف درست تھا اور لڑکیاں قتل ہوئی تھیں۔

عدالت عظمیٰ نے ملزمان کے خلاف 10 روز میں چالان پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا تھا کہ مقتولین کے لواحقین اگر چاہیں تو مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں چلانے کی درخواست ہائی کورٹ میں دے سکتے ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بم دھماکے میں ایک شخص جاں بحق، 18 زخمی

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بم دھماکے میں ایک شخص جاں بحق اور 18 زخمی ہوگئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے شہر جموں میں بس اسٹاپ کے قریب دھماکے میں 18 افراد زخمی ہوگئے۔ امدادی اداروں نے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں ایک زخمی چل بسا جبکہ 4 افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

بھارتی پولیس کے مطابق بس اسٹینڈ کے قریب ہونے والا دھماکا گرینیڈ کا تھا۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ نامعلوم حملہ آور دستی بم پھینک کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ دھماکے کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔

کرپشن کیلئے اتحاد

کazam_azim

وئی موجودہ حکومت اور وزیراعظم سے متعلق کچھ بھی کہے مگر کم از کم اِتنا تو یہ سچ ہے اور اِس سے کسی کو اِنکار بھی نہیں ہے کہ بظاہر ہمارے وزیراعظم عمران خان جو اپنے قول وعزم کے پکے اور ثابت قدم سنجیدہ شخصیت کے حامل بھلے اِنسان ہیں یہ جو کہہ دیں اور جس پر اڑجا ئیں وہ کرکے ہی رہتے ہیں جیسا کہ یہ با ئیس سال پہلے مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر کے خاتمے، اداروں کو آزاد اور خود مختاربنانے کے ساتھ نئے پاکستان کے خواب ا ور اعلان کو لے کر چلے تھے یہ اِس پر ابھی قا ئم ہیں آج اِسی بنیاد پر اِنہیں عوام نے اقتدار کی کُنجی سونپ دی ہے مگر اِن کی حکومتی ٹیم میں شامل کئی گُھسر پُھسرکرتے وفاقی وزراء اور صوبائی حکومتوں میں شامل بہت سے ذمہ داران کا غیر سنجیدہ رویہ اِن کی حکومت میں مشکلات کا باعث بن رہاہے جس سے وزیراعظم کو بہت سے فیصلے کرنے میں پریشانی کا سامنا ہے اِس کی خام وجہ کئی اہم وفاقی وزراء بالخصوص اور حکومت میں شامل دیگر اہم اشخاص بھی ہیں جو وقت سے پہلے بول کر سارا کھیل خراب کررہے ہیں تب ہی کچھ دِنوں سے اہلِ سیاست کا پاکستان تحریک اِنصاف اور اِس کی موجودہ حکومت سے متعلق یہ خیال یقین میں بدلتا جارہاہے کہ پی ٹی آئی کی جدوجہد کا سفر سے صِفر تک کا دورانیہ ہے،اگرابھی وزیراعظم عمران خان نے اپنے اِردگرد ایسے افراد کا احتساب نہ کیا تویہ پھر بھول جا ئیں کہ یہ قومی خزانہ لوٹ کھانے والے سابق حکمرانوں اور سیاستدانوں کا کڑا احتساب کرکے مُلک سے کرپشن کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوپا ئیں گے۔بیشک ،جب پچھلے انتخابات میں پی ٹی آئی کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور اِس کے سر پر اقتدار کا تاج سجا تو اِس کے چاہنے والوں(ووٹروں) کو ایسا لگا کہ آنے والا کل اِن کے آج سے بہتر ہوگا،مُلک میں چار سو تبدیلی کا رقص ہوگا، پرانا فرسودہ نظام منوں مٹی تلے دفن ہوجائے گا، اِنصاف کا بول بالا ہوگا، کرپشن اور کرپٹ عناصرکا منہ کالا ہوگا، مہنگائی مُلک سے غرق ہوجائے گی،ہر طرف سستائی کا راج ہوگا، روز مرہ کی اشیاخوردونوش ملاوٹ سے پاک دستیاب ہوں گی، ڈالر ز زمین کی خاک چاٹے گا اور پاکستا نی کرنسی آسمان کی بلندیوں کو بوسے دے گی، لوڈشیڈنگ ختم ہوجا ئے گی ، بجلی کی فراوانی ہوگی ،جمہوریت کا لبادہ اُوڑھ کر قومی خزا نہ لوٹ کھانے والوں کا کڑا احتساب ہوگا ، سب اپنے کئے کی سزا پائیں گے مگر اَب جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت چھ ماہ کی ہوچکی ہے، پی ٹی آئی کی جدوجہدکا سَفر سے سفرتک کا دورانیہ صِفر معلوم دیتا ہے۔

آج سب کچھ عوامی توقعات کے اُلٹ ہی ہوتاجارہاہے، عوامی ریلیف کا خیال حکومت کے پروگراموں میں کہیں نظر نہیں آرہاہے ، اگر کچھ ہے تو بس اتناہے کہ عوام قربانیوں کے لئے تیار رہیں، ابھی سخت امتحانات اور کڑی آزمائشوں سے عوام کو گزرنا ہوگا بس عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبنے کو تیار رہیں یہ عوام کے امتحان اور آزمائش کا وقت ہے اِس کے بعد سب بچ گئے یا کوئی بچ گیا تو نیاپاکستان دیکھے گا حکومت نے سیراب نما خوابوں میں عوام کو بہلا رکھاہے، عرض یہ کہ ابھی تک پی ٹی آئی کی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک رتی کی بھی قانون سازی نہیں کی ہے ، اِدھر اُدھر کے بے جا احکامات اور اقدامات سے لگتا یہی ہے کہ ابھی تک پی ٹی آئی کی حکومت کو یقین نہیں آیا ہے کہ یہ حکمران جماعت ہے اَب اِسے دھرنا سیاست اور احتجاجی جلسے جلوسوں والی سیاست سے نکل کر حقیقی معنوں میں سنجیدگی سے ایسے چلنا ہوگا جیسے حکمران جماعت اپنے اندرونی اور بیرونی اقدامات اور منصوبوں سے سنجیدگی سے چلاکرتی ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ آج پی ٹی آئی کی چھ ماہ کی اچھی یا بُری جیسی بھی حکومتی کارکردگی ہے اِس نے اِس کے ووٹروں کو مایوسی اور نااُمیدی کی چادر میں جس طرح ڈھانپ رکھاہے،اِس موقع پر اِس کا کیا تذکرہ کرنا؟جو بھی ہے سب کے سامنے ہے، ہاں اِتنا ضرور ہے کہ عوا م مایوسیوں کے سمندر میں غوطہ زن رہ کر بھی اُمید کا دامن تھامے ہوئے ہیں کہ اَب کوئی انہونی ہوجائے، تو اِس کے ووٹرز کا اِس پر اعتماد بحال ہو ورنہ ؟ ایسا کچھ اچھا ہوتا دور دور تک دِکھائی نہیں دے رہاہے کہ حکومتی ذمہ دارن اور وزراء کچھ سنجیدگی کا مظاہر ہ کریں تو آنے والے وقتوں میں کچھ بہتری کے اثار نمودار ہوں اور پی ٹی آئی کے ووٹرزمایوسیوں اور نااُمیدوں کے سیاہ اندھیرے سے نکل جائیں اور حکومت کے اقدامات اور کا رکردگی پر خوشی کا اظہار کریں اور جب کبھی اپنے ووٹرز کو حکومت ایک آواز دے تو یہ اِس پر لبیک کہیں ،اِس کے شانہ بشانہ آکھڑے ہوں جیسا کہ اَب لگتا ہے کہ اپنی کرپشن سے منہ چراتی ا پوزیشن کے اتحاد ہونے کی صورت میں بہت جلد یہ لمحہ آنے والا ہے جب پی ٹی آئی کے وزراء اپنے وجود کو قائم رکھنے کیلئے اپنے ووٹرز سے مدد طلب کرنے والے ہیں مُلکی شاہراہوں، چوکوں چراہوں پر دونوں جانب سے دمادم مست قلندر کا اکھاڑا سجنے والاہے۔قبل اِس کے کہ ایسی نوبت آئے حکومت کو اپنے وجود میں سنجیدگی کا لاوا بھرتے ہوئے ایسے اقدامات اور احکامات کرنے ہوں گے جس سے اپوزیشن کو سمجھ آجائے کہ حکومت پر حکومتی رنگ چڑھ گیاہے اور اَب اِس سے پنگے بازی مہنگی پڑ سکتی ہے حزبِ اختلاف کو لگ پتہ جائے ابھی تک یہ بھی مذاق مذاق میں اپوزیشن کا رول اداکرتی رہے ہے مگر اَب اِسے اپنے اندر بھی سنجیدگی کا مظاہرہ پیدا کرتے ہوئے اپنا کردار سنجیدگی سے ادا کرنا ہوگا۔ بہر کیف لگتاہے کہ پی ٹی آئی 22سال سے جس سفر میں سرگرداں ہے یہ آج بھی وہیں کھڑی ہے جہاں سے چلی تھی یعنی کہ آج بھی اِس کا سفر سے صِفر تک کا دورانیہ ہے اِس کے ہاتھ سیراب اور خوابوں کے کچھ نہیںآیا ہے تب ہی یہ اِس سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے، اِس سے بھی اِنکار نہیں کہ بائیس سال سے مُلک میں کرپشن سے پاک نظام کی تلاش میں سرگرداں پی ٹی آئی کو منزل مل کر ابھی تک یہ اپنے خواب کی تعبیر سے کوسوں دور لگتی ہے،جیسا کہ پچھلے دِنوں وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کے دوران ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھرکہا ہے کہ منتخب نمائندوں کو کرپشن کا لائسنس ملنا ہی اِن کی جمہوریت ہے، کسی کی کرپشن کو چھپانے کیلئے پارلیمنٹ کو استعمال نہیں ہونے دیں گے ، احتساب پر کسی کا سمجھوتہ نہیں ہوگا، اپوزیشن کا واک آوٹ این آر اُو کے لئے ہے، پارلیمنٹ پر عوام کے کروڑوں خرچ ہوتے ہیں، اپوزیشن کا بائیکات جیسے کام دبا وڈالنے کا گھناؤنا حربہ ہے،اور ایسے بہت سے سُنہرے الفاظ اور جملے کہے ہیں جو ہر بار کی طرح حقیقی عمل سے عاری مگراِن کے چاہنے والوں کے نزدیک تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ارے بھئی بے عمل کے تاریخی جملے سُن سُن کر قوم کا اعتبار حکومت پر سے ختم ہوتا جارہاہے اَب بہت ہو چکی ہے وزیراعظم صاحب، اپنی ٹیم کے لئے عملی مظاہرہ بھی کردکھائیے ورنہ قوم حکمران جماعت کو بھی تاریخ کا حصہ بنانے میں دیرنہیں کرے گی۔جبکہ اُدھر اپنے گردنوں کے گرد تنگ ہوتے احتساب کے طوق سے خوفزدہ اور اپنی کرپشن کے نشیب وفراز کے تھپڑے کھاتی اپوزیشن نے تُرنت اپنے مفاد کا تحفظ مقدم جانتے ہوئے اتحاد قائم کرلیا ہے حکومت کے خلاف احتجاجی تحاریک چلانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے لگے ہاتھوں حکومت کو دھمکی آمیز لہجے میں یہ عندیہ بھی دے دیاہے کہ اَب حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے،اپنے ذاتی مفادات کی کشتی میں سوار کرپشن کی گُھٹی میں سر سے پیر تک ڈوبے کرپٹ سیاسی ٹولے نے یہ بھی باور کردیاکہ فوجی عدالتوں سمیت اہم معاملات پر مشترکہ حکمت عملی کے لئے کمیٹی قائم کردی ہے ‘ کرپشن کی دلدادہ اپوزیشن کا قائم ہونے والا اپنی نوعیت کا یہ انوکھا اتحاد حکومت کے لئے پریشانیاں پیدا کرنے کے لئے کیا کیا گُل کھلا ئے گا؟آج شائد حکومت کو پتہ بھی نہیں ہے مگر اَب موجودہ صورتِ حال میں حکومت کو چاہئے کہ یہ اپنے اندر اتحاد برقرار رکھے اور اپنے غیر سنجیدہ پن سے چھٹکارہ پاتے ہوئے سنجیدگی سے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کرپٹ عناصر کے ذاتی مفادات اور سیاسی اتحاد کا ڈٹ کر مقابلہ کرے تو ممکن ہے کہ حکومت کی ثابت قدمی اِس کے کچھ کام آسکے کیوں کہ اَب عوام کی کرپشن سے پاک پاکستان کی آخری اُمیدیں حکومت سے ہی لگی ہوئیں ہیں اگر اَب نہیں تو پھر کبھی بھی سرزمین پاکستان کرپشن اور کرپٹ عناصر سے پاک نہیں ہوسکے گا۔

Google Analytics Alternative