Home » 2019 » March » 09

Daily Archives: March 9, 2019

بھارت غلط فہمی میں نہ رہے، ہم آخری دم تک لڑیں گے، وزیراعظم

تھرپارکر: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی سپر پاور یا بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمیں غلام بنا لیں گے، یہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں ہم آخری دم تک لڑیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے تھر پارکر سندھ کے علاقے چھاچھرو کے عوام میں صحت کارڈز تقسیم کیے۔ اس موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نریندر مودی کی سیاست انسانوں کو تقسیم کرنا اور نفرتیں پھیلانا ہے اس لیے  پلوامہ کے بعد کشمیریوں کے ساتھ ظلم کیا اور مشتعل ہجوم نے مسلمانوں پر تشدد کیا، الیکشن میں کامیابی کے لیے نریندر مودی نے پاکستان کیخلاف جنگ کا ماحول بنایا، ہم نے بار بار واضح کیا کہ جنگ نہیں چاہتے ہم امن چاہتے ہیں اس لیے بھارتی پائلٹ کو رہا کیا، کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اب چاہے بھارت ہو یا کوئی سپر پاور، میں اور قوم آخری گیند تک اپنی آزادی کےلیے لڑیں گے، فوج اور عوام دونوں تیار ہیں، بھارت اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ کچھ کیا تو جوابی کارروائی نہیں ہوگی۔

مسلح تنظیموں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے

وزیراعظم نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کسی مسلح گروہ یا کالعدم تنظیموں  کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جب سے ہماری حکومت آئی تو ہم نے اس پر معاملے پر کام کیا، اس کا صرف مقصد پاکستان کی بہتری ہے،  پاکستان کی زمین کو کسی قسم کی دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

اقلیتوں کو پورے حقوق دیے جائیں گے

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو ان کے پورے حقوق دیے جائیں گے، اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے برابر کے شہری  ہیں ان کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی یا ظلم نہیں ہونے دیں گے، نفرتوں اور تقسیم کرنے کی سیاست کو ختم کریں گے،اب وہ دور نہیں رہا کہ لوگوں کو تقسیم کرکے ووٹ حاصل کیے جائیں،ایک آدمی نے اقتدار کے لیے لوگوں میں نفرتیں پھیلائیں جس سے کراچی کی تباہی ہوئی اور سرمایہ کار ملک چھوڑ کر چلے گئےاگر ایسی سیاست نہ ہوتی تو کراچی دبئی کا مقابلہ کررہا ہوتا۔

زرداری نے اپنے بیٹے کو بھی پھنسادیا ہے

وزیراعظم نے پیپلزپارٹی کی قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک لیڈراپنا نام زرداری سےتبدیل کرکے بھٹو بن گیا، بلاول اور ان کے والد یوٹرن کا مطلب سمجھتے تو مشکل وقت سے نہ گزرتے اورآصف زرداری کرپشن سے یوٹرن لے لیتے تو عدالتوں کے چکر اور نیب مقدمات نہ بھگت رہے ہوتے، آصف زرداری نے اپنے بیٹے کو بھی پھنسادیا ہے، بلاول بھٹو نے انگریزی میں جو تقریر کی وہ شاید ایوان میں بیٹھے بہت سے لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آئی ہوگی جب کہ ن لیگ اور جے یو آئی (ف) کے ارکان قومی اسمبلی بلاول کی انگریزی میں تقریر سن کر گھبراگئے اور غلط سمت منہ کرکے نماز پڑھ لی۔

غربت ختم کرنا سب سے بڑا مقصد

وزیراعظم نے کہا کہ تھرپارکر پاکستان کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے جو سب سے پیچھے رہ گیا ہے،75 فیصد تھرپاکرکے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، 3 سے چار سال میں15سو بچے خوراک اور غذائی قلت سے انتقال کرچکے ہیں، میرا اقتدار میں آنے کا سب سے بڑا مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنے کی کوشش کرنا ہے کیونکہ تھرپارکر میں سب سے زیادہ غربت ہے اس لیے سب سے پہلے یہاں آیا ہوں۔

تھرپارکر کیلیے اعلانات

وزیراعظم نے 2موبائل اسپتال اور 4 ایمبولینس دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موبائل اسپتال میں  علاج کے  ساتھ آپریشن سمیت  دیگر سہولیات مہیا ہوں گے جب کہ  1لاکھ 12 ہزار گھرانوں کو ہیلتھ کارڈ دیا جائے گا، جس میں وہ7 لاکھ 20 ہزار روپےمیں   ہر قسم کی بیماری کا علاج کسی بھی اسپتال سےکراسکیں گے، وزیراعظم نے صاف پینے کے پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری طور پر 100 آر او پلانٹ بنانے کا اعلان بھی کیا۔

پاکستانی ہائی کمشنر کو واپس بھارت بھیجنے کا فیصلہ

 لاہور: پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے باعث پاکستان نے بھارت میں تعینات اپنے ہائی کمشنرکو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، سہیل محمود ہفتے کو واہگہ بارڈر کے راستے بھارت روانہ ہوں گے۔

پلوامہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور بھارتی الزام تراشیوں کے بعد پاکستان نے 18 فروری کو اپنے ہائی کمشنر سہیل محمودکو نئی دہلی سے مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا۔ یہ اقدام بھارت کی طرف سے اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلائے جانے کے بعد اٹھایا گیا تھا تاہم چند روز قبل پاکستان نے اپنے ہائی کمشنر کو واپس بھیجنے کا عندیہ دیا تھا۔ سہیل محمود آج 8 مارچ کو واہگہ کے راستے امرتسر پہنچیں گے اور وہاں سے بذریعہ ہوائی جہاز نئی دہلی جائیں گے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق سہیل محمود 14 مارچ کو کرتار پور کوریڈور کے حوالے سے ہونے والے پاک بھارت حکام کے پہلے اجلاس کی تیاریاں بھی کریں گے۔ یہ اجلاس 14 مارچ کو واہگہ اٹاری بارڈر پر بھارتی علاقے میں ہوگا۔ اس اجلاس کے بعد 28 مارچ کو بھارتی وفد پاکستان آئے گا۔

بزدل لوگ پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہیں، بلاول بھٹو کا وزیراعظم کی تقریر پر ردعمل

کراچی: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بزدل لوگ پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے ٹویٹر پر لکھا کہ قومی اسمبلی میں میری تقریر پر عمران خان اسی وقت میرے سامنے ردعمل دیتے،وزیراعظم کو چاہیے اپوزیشن پر تنقید کی بجائے مودی کو جواب دیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید لکھا کہ عمران خان کا لب ولہجہ اپوزیشن کے لئے ہی سخت ہوتا ہے، وزیراعظم کالعدم تنظیموں کے خلاف بھی اسی لب و لہجے میں بات کریں  جب کہ بزدل لوگ پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ تھرپار کر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم نے پیپلزپارٹی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ایک لیڈراپنا نام زرداری سےتبدیل کرکے بھٹو بن گیا، بلاول اور ان کے والد آصف زرداری کرپشن سے یوٹرن لے لیتے تو عدالتوں کے چکر اور نیب مقدمات نہ بھگت رہے ہوتے۔

مودی کیلئے بری خبر، سلمان خان کی کانگریس میں شمولیت کی اطلاعات

بھارتی الیکشن سے پہلے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کیلئے ایک اور بری خبر ہے اور وہ یہ کہ بالی وڈ کے ہیرو سلمان خان کی کانگریس میں شمولیت کی اطلاعات آنی شروع ہوگئی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھوپال میں مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے کچھ ایسے ہی اشارے دیے ہیں ہیں لیکن صاف صاف کچھ نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ سلمان خان اپریل میں 18 دن تک مدھیہ پردیش میں رہیں گے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سلمان خان الیکشن لڑ بھی سکتے ہیں یا پھر کانگریس کیلئے مہم بھی چلا سکتے ہیں

دوسری جانب یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ سلمان خان سیاست میں حصہ لینے نہیں بلکہ مدھیہ پردیش میں سیاحت اور ثقافتی ورثے کے فروغ کیلئے ریاست میں قیام کریں گے۔

خیال رہے کہ بھارت میں عام انتخابات اپریل مئی 2019 کے دوران ہوں گے اور وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔

تاہم اپوزیشن جماعت کانگریس نے بی جے پی کو ٹف ٹائم دیا ہوا ہے اور پاک بھارت موجودہ کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے مطالبہ کیا ہے کہ رافیل طیاروں کے متنازع معاہدے اور دستاویزات کی چوری کی تحقیقات وزیراعظم نریندر مودی سے کی جائے۔

راہول گاندھی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ رافیل طیاروں سے متعلق دستاویزات چوری ہوگئیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دستاویزات میں جو لکھا تھا وہ درست ہے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ دستاویزات میں صاف لکھا ہے کہ رافیل طیاروں کی ڈیل کے لیے نریندر مودی اور وزیراعظم آفس براہ راست بات چیت کر رہے تھے اور نریندری مودی نے اپنے دوست انیل امبانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے رافیل ڈیل کا بجٹ بڑھایا۔

بھارت نے جنگ کا مکا دکھایا تو ہاتھ توڑدیں گے، وزیر خارجہ

تھر پارکر: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ میرا پیغام مودی سرکار کے لیے ہے، اگر بھارت نے جنگ کا مکا دکھایا تو ہاتھ توڑدیں گے۔

تھرپارکر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کی جارحیت کے باوجود امن چاہتے ہیں، یہ 71 نہیں نیا پاکستان ہے جس کا وزیراعظم عمران خان ہے، وزیراعظم نے عزم کیا ہے کہ ہم نیا پاکستان بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تھر کا ایک ایک بچہ پاکستان کی حفاظت کو تیار ہے، میرا پیغام مودی سرکار کے لیے ہے، بھارت نے جنگ کا مکا دکھایا تو ہاتھ توڑدیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کے عوام جنگ سے پناہ چاہتی ہے تاہم مودی سرکار ہندوستان کو دفن کرنے کی کوشش کر رہی ہے جب کہ تھر کےعوام مظلوم کشمیریوں کا ساتھ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج سندھ میں انصاف کارڈ کا اجرا تھر سے کیا جارہاہے، تھر کے اسپتالوں میں سانپ کاٹے کی ویکسین بھی نہیں ہے، تھر کے لوگ آج بھی میٹھا پانی مانگتے ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد تنازع کے حل کیلئے ثالثی پینل بنادیا

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد یا رام مندر تنازع کو ثالثی سے حل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک تین رکنی پینل تشکیل دے دیا جو 8 ہفتے میں مصالحت کا عمل مکمل کرے گا۔

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس رانجن گوگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے اپنے حکم میں بابری مسجد تنازع کے حل کے لیے سابق جج جسٹس (ر) خلیف اللہ کی سربراہی میں تین رکنی ثالثی پینل بنا دیا جو ایک ہفتے میں اپنے کام کا آغاز کرے گا۔

ثالثی پینل کے دیگر دو ارکان میں شری شری روی شنکر اور سینئر وکیل شری رام پانچو شامل ہیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ ثالثی پینل بابری مسجد یا رام مندر کا تنازع 8 ہفتے میں حل کرے اور ثالثی کا عمل اترپردیش کے شہر فیض آباد میں ہوگا۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ثالثی کا عمل خفیہ طریقے سے ہوگا جس کی میڈیا کو رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام معاملے کی نگرانی اعلیٰ عدالت خود کرے گی۔

ثالثی پینل کے چیئرمین جسٹس (ر) خلیف اللہ کا کہنا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں گی اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

بابری مسجد/ رام مندر کا پس منظر

1528 میں مغل دور حکومت میں بھارت کے موجودہ شہر ایودھا میں بابری مسجد تعمیر کی گئی جس کے حوالے سے ہندو دعویٰ کرتے ہوئے اس مقام پر رام کا جنم ہوا تھا اور یہاں مسجد سے قبل مندر تھا۔

برصغیر کی تقسیم تک معاملہ یوں ہی رہا، اس دوران بابری مسجد کے مسئلے پر ہندو مسلم تنازعات ہوتے رہے اور تاج برطانیہ نے مسئلے کے حل کے لیے مسجد کے اندرونی حصے کو مسلمانوں اور بیرونی حصے کو ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے معاملے کو دبا دیا۔

تقسیم ہندوستان کے بعد حکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دیے، جس کے بعد معاملے کے حل کے لیے کئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن آج تک کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

کور کمانڈرز کانفرنس۔۔۔ مسئلہ کشمیر پر اظہار تشویش

adaria

بھارت کے فضائی حملے کے جواب میں پاکستان نے جو اس کو سبق سکھایا اس کے بعد پوری دنیا جان گئی کہ ہماری پاک فوج بے انتہا صلاحیتوں کی مالک ہے ۔گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان مسلسل حالت جنگ میں ہی ہے، دہشت گردی کیخلاف آپریشن اور ان کی بیخ کنی کیلئے پاک فوج اور اس سے متعلقہ تمام ادارے ہر وقت ہی ریڈ الرٹ رہتے ہیں ایسے میں بھارت نے ایسی بیوقوفی کی جس پر اس کو منہ کی کھانا پڑی ، پوری دنیا معترف ہوچکی ہے کہ پاکستان نے بھارت کو اوندھے منہ دے کر مارا ہے اب مودی کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچ رہا ہے اس کے ہاتھ میں اور منہ میں کہنے کیلئے کچھ بھی نہیں محض الزام تراشی اور ہرزہ سرائی اس کا وطیرہ ہے ، پاکستان کے جے ایف تھنڈر17 نے بھرپور جواب دیا تو اس نے کہاکہ پاکستان نے ایف 16 کو استعمال کیا ہے جبکہ ہمارا ایف 16 ایئر بورن ہوا ہی نہیں، اس کے ان الزامات پر ایف 16 بنانے والی کمپنی نے بھی بھارت کیخلاف ہرجانہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس نے ایف 16 کی ساخت کو خراب کیا ہے ۔ نیز امریکہ نے بھی اس حوالے سے بھارت کو کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔ حد درجہ ذلیل و خوار ہونے کے باوجود بھی بھارت راہ راست پر نہیں آرہا ، آئے دن ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کرتا رہتا ہے لیکن پاک افواج نے فیصلہ کیا ہے کہ شہری آبادی کو کسی صورت میں نشانہ نہیں بنائیں گے جبکہ بھارت معصوم شہریوں پر ہی فائرنگ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر پر بھی نہتے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے لیکن اب تحریک آزادی کشمیر کی جنگ ان بلندیوں پر پہنچ چکی ہے جن کا واپس ہونا بہت مشکل ہے، بین الاقوامی برادری کو بھی جان لینا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی ایٹمی قوتیں ہیں اور مسئلہ کشمیر کسی وقت بھی ایسی بھیانک جنگ کا سبب بن سکتا ہے جس کے بہت ہی ہولناک نتائج برآمد ہونگے۔ بھارت کسی صورت بھی امن کی طرف آنا ہی نہیں چاہتا ۔ پاکستان کی جانب سے ہر کی جانے والی پیشکش کو وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ٹھکرا دیتا ہے۔ پاکستان اپنے تحفظ اور استحکام کیلئے ہمہ وقت تیار ہے اور اس کی مسلح افواج کسی بھی دشمن کو بروقت اور درست انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ عسکری قیادت نے مادر وطن کے بھرپور دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں کوئی دھمکا یا جھکا نہیں سکتا، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ کسی بھی خطرے کا جواب دینے کیلئے چوکس اور تیار رہنے کی ضرورت ہے۔پالیسی اور طاقت کا استعمال صرف ریاست کا  اختیار ہی رہے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق جمعرات کو پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت 219ویں کور کمانڈرز کانفرنس راولپنڈی میں ہوئی، کانفرنس میں پاک بھارت جاری کشیدگی سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے اس پختہ خواہش ،عزم اور ارادے کا اظہار کیا کہ کسی بھی جارحیت اور مہم جوئی کی صورت میں مادر وطن کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔ پلوامہ واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیری عوام پر بھارتی فوج کے بڑھتے مظالم، ایل او سی پر دانستہ اور مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے واقعات اور ان میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ کانفرنس میں موقف اختیار کیا گیا کہ بھارت کا ایل او سی پر شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا صرف آگ بھڑکانے کا باعث ہے۔ بھارتی مظالم مقبوضہ کشمیر میں جلتی پر تیل کا کام کررہے ہیں، شرکاء نے کہاکہ علاقائی امن کیلئے ان واقعات کو روکنا نہایت ضروری ہے جبکہ یہ واقعات عالمی برادری کی بھرپور توجہ کے متقاضی ہیں۔ نیز کور کمانڈرز کانفرنس میں نیشنل ایکشن پلان 2014ء کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ آرمی چیف نے اس موقع پر ہدایت کی کہ نیشنل ایکشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد ممکن بنانے کیلئے حکومتی فیصلوں کے نفاذ کے لئے کوششوں کو بڑھایا جائے اور اس سلسلے میں دیگر ریاستی اداروں سے بھرپور تعاون کیا جائے۔ سربراہ پاک فوج نے فورسز کے بلند حوصلے اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہاکہ یہ سب عوام کی حمایت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بدولت ہے۔ فوج کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر بدستور چوکنا اور مستعد رہنے کی ہدایت کی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ طاقت کے استعمال کی پالیسی یا اختیار صرف اور صرف ریاست کا استحقاق ہے اور رہے گا۔آرمی چیف کی یہ بات 100فیصد درست ہے کہ نیشنل ایکشن پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے اس پر مربوط عملدرآمد کی ضرورت ہے اس وقت حکومت اس حوالے سے عملی طورپر مظاہرہ کررہی ہے اور اسی وجہ سے ملک میں دہشت گردی کافی حد تک کنٹرول ہوچکی ہے۔ پاکستان میں امن و امان کا دور دورہ انشاء اللہ واپس آئے گا، سرحدی حالات بھی بہتری کی جانب گامزن ہیں اور فی الحال جنگی ماحولٹل گیا ہے تاہم جو خطرہ موجود ہے وہ صرف بھارت کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ اپنی اشتعال انگیزیوں سے کسی صورت باز نہیں آرہا۔ عالمی دنیا خطے میں قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرائے۔

ٹیکس کا نظام بہتر کرنے کیلئے مزید اصلاحات کی ضرورت
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جمہوریت بہترین انتقام کی باتیں کرنے والوں نے پاکستان سے ایسا انتقام لیا گزشتہ 10سالوں میں پاکستا ن کا قرضہ ٰ6ٹریلین سے بڑھ کر 30ٹریلین تک پہنچ گیا،معتبر شکل بنا کر باتیں کرنے والے پرانے سیاستدانوں کو شرم آنی چاہیے، بدقسمتی سے پاکستان میں جھوٹی گواہی کو برا نہیں سمجھا جاتا، ہمیں سچ بولنا ہوگا سچ بولنے والے معاشرے ہی ترقی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے مشکل وقت میں پاکستان کی عزت رکھ لی۔ انہوں نے مزید کہاکہ ٹیکس دینا ہوگا اگر ٹیکس نہیں دینگے تو قوم آزاد نہیں ہوگی، غلام ہی رہے گی، عوام متحد ہوں تو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی، ایف بی آر ٹھیک نہ ہوا تو نیا ادارہ بنا دینگے ، میرا مقصد ملک سے غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔تاجر برادری کے ساتھ مکمل طورپر تعاون کرینگے جس قوم میں جذبہ ہو اسے کوئی بھی شکست نہیں دے سکتا ۔وزیراعظم کی یہ گفتگو بالکل درست ہے کیونکہ ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر ملک کا نظام چلانا ناممکن ہے۔ جہاں تک ایف بی آر کا تعلق ہے تو اس کے حوالے سے بھی عمران خان کے تحفظات غلط نہیں۔ تقریباً 70دہائیوں سے اس ملک میں ٹیکس کے معاملات چل رہے ہیں اور اتنے بڑے بڑے مگر مچھ ہیں جن کے ممکنہ طورپر کروڑوں اربوں کے ٹیکس ہونگے وہ نادہندہ ہیں، ٹیکس چور ہیں مگر پھر بھی اس ملک میں سر اٹھا کر اپنی زندگی بسر کررہے ہیں۔ٹیکس چوری انتہائی خطرناک جرم ہے یہ ملک و قوم سے غداری کے مترادف ہے۔ اگر ملک نے ترقی کرنی ہے تو ٹیکس دینا ہوگا۔ اس کیلئے حکومت کو مزید اصلاحات کرنا پڑیں گی اور سب سے ضروری عمل یہ ہے کہ ایسے بڑے بڑے لوگوں کو فوری پابند سلاسل کردیا جائے جو کہ ٹیکس چور ہیں اس سلسلے میں ایف بی آر کا کلیدی کردار ہے ، ٹیکس چوروں کو گرفتار کرکے ان کی جائیداد کو فوری طورپر قرق کرکے جو رقم حاصل ہو اسے قومی خزانے میں ڈال دینا چاہیے۔

وسط ایشیائی ممالک تک رسائی کی خواہش

اس سچائی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ بھارت نے صرف پاکستان کو نقصان پہنچانے، چین کو نیچا دکھانے‘ اس کا مقابلہ کرنے اور پاکستانی بندرگاہ گوادر کی اہمیت کم کرنے کے لیے چابہار پورٹ کی تعمیر میں دلچسپی لی اور اس پر اربوں روپے خرچ کر دیئے۔ حقیقتاً بھارت کو اس ایرانی بندرگاہ سے خاص فائدہ نہیں ہو گا۔ اعداد و شمار اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

قبل ازیں بتایا گیا کہ چابھار بندرگاہ کے ذریعے بقول بھارتی حکومت کے بھارت افغانستان ‘ وسط ایشیائی ممالک اور روس تک رسائی چاہتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ چابھار پورٹ یہ مقصد پورا کرتا ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ بھارت اور درج بالا علاقوں کی باہمی تجارت کا حجم کیا ہے؟ کیا وہ اتنا زیادہ ہے کہ چابھار پورٹ پر خرچ کر دہ رقم سے بھارت کو فائدہ ہو گا؟ اور کیا اس نئی بندرگاہ سے بھارت اور وسط ایشیائی ممالک کے مابین باہمی تجارت بڑھ پائے گی؟
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سترہ سال قبل یعنی 2001ء میں چین وسط ایشیائی ممالک بشمول افغانستان کو تقریباً 50 کروڑ ڈالر مالیت کا سامان بجھواتا تھا۔جبکہ بھارت بھی 10 کروڑ ڈالر کا سامان انہی علاقوں کو بھجوا رہا تھا۔ آج چین اور ان علاقوں کی باہمی تجارت ’’32 ارب ڈالر‘‘ سے زائد ہو چکی۔ چین درج بالا ممالک کو ہر سال 19 ارب ڈالر کا سامان برآمد کرتا ہے۔ جبکہ انہی ملکوں سے 13 ارب ڈالر کا سامان منگواتا ہے۔ قازقستان ‘ کرغستان‘ ترکمانستان ‘ ازبکستان اور تاجکستان اس کے بڑے تجارتی ساتھی ہیں۔ چین افغانستان کو 43کروڑ ڈالر کا سامان بھجواتا اور صرف ساڑھے چار کروڑ ڈالر کا افغان مال منگواتا ہے۔بھارت اور وسط ایشیائی ممالک کی باہمی تجارت کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں‘ تو وہ بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کی رو سے بھارت اور وسط ایشیائی ممالک کی باہمی تجارت کاحجم صرف ’’سوا چار ارب ڈالر‘‘ ہے یعنی چین اور وسط ایشیائی ممالک کی باہمی تجارت سے کئی گنا کم !بھارت ان ممالک کو 3 ارب 14 کروڑ ڈالر کا مال بھجواتا جبکہ 1 ارب 24 کروڑ ڈالر کا سامان درآمد کرتا ہے۔

اس خطے میں صرف افغانستان ایسا ملک ہے جس سے بھارت کی باہمی تجارت کا حجم چین سے زیادہ ہے۔ بھارت افغانستان کو 47 کروڑ زائد رقم کا سا مان بھجواتا ا ور 28 کروڑ ڈالر کا منگواتا ہے۔گویا ان دونوں ممالک کی باہمی تجارت کا حجم 75 کروڑ ڈالر ہے۔ بھارتی حکومت ایران اور افغانستان میں بندرگاہ، ریل پٹڑیوں اور سڑکوں کی تعمیر پر یہ دعویٰ کرکے اربوں روپے خرچ کررہی ہے کہ اس طرح نہ صرف وسط ایشیائی ممالک سے بھارت کی باہمی تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ درج بالا ممالک اور روس کو بھی بحرہند تک رسائی مل جائے گی۔ یہ دونوں دعویٰ کیا حقائق پر مبنی ہیں؟
چین اس لیے گوادر بندرگاہ تعمیر کررہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ سے تیل منگواتا ہے۔ گوادر بندرگاہ کے راستے اسے یہ تیل منگوانا سستا پڑے گا۔مزید براں اسے ایک متبادل راستے کی بھی تلاش ہے کیونکہ بحیرہ جنوبی چین میں چین اور امریکا کے تصادم کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ افریقی ممالک سے بھی چین کی باہمی تجارت بڑھ رہی ہے لہٰذا گوادر بندرگاہ افریقہ جانے کے لیے بھی چینی جہازوں کے کام آئے گی۔

وسط ایشیائی ممالک تیل و گیس کی دولت سے مالا مال ہیں۔ یہ ذرائع ایندھن پانے کے لیے انہیں مشرق وسطیٰ جانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے پانچوں وسط ایشیائی ممالک کے اہم تجارتی ساتھیوں میں چین، روس اور قریبی یورپی ممالک مثلاً جرمنی، اٹلی، فرانس، ترکی وغیرہ شامل ہیں۔ایک بھی عرب ملک ان کا اہم تجارتی ساتھی نہیں۔ گویا وسط ایشیائی ممالک کو چابھار بندرگاہ استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ البتہ فعال ہونے کے بعد وہ کبھی کبھار اسے استعمال کرلیں گے۔
درج بالا حقائق سے عیاں ہے کہ بھارتی حکمرانوں کا یہ پہلا دعویٰ بالکل بودا ہے کہ چابھار بندرگاہ کی تعمیر سے وسط ایشیائی ممالک اپنا سامان تجارت اس کے راستے بیرون ملک بھجوانے لگیں گے۔ ان ممالک کی بیشتر تجارت روس، چین اور یورپی ممالک کے ساتھ ہوتی ہے۔ چین اور روس تو پڑوسی ہیں، یورپی ممالک کی طرف وہ روس اور ترکی کے راستے اپنا مال بھجوا دیتے ہیں۔
اب آئیے بھارتی حکمرانوں کے دوسرے دعویٰ کی طرف۔ اس میں شک نہیں کہ بھارت وسطی ایشیا میں اپنا اثرو رسوخ پھیلانے کی بھر پور کوششیں کررہا ہے۔ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بھی بن چکا جس میں پاکستان بھی شامل ہو گیا ہے۔ لیکن حقائق سے آشکارا ہے کہ وسط ایشیائی ممالک میں روس اور چین کا اثرورسوخ بہت زیادہ ہے۔ یہ دونوں سپرپاور ایک حد تک تو بھارت کو وسط ایشیا میں پر پھیلانے کی اجازت دے سکتی ہیں، لیکن بھارتی حکمران اس خطّے میں کبھی اتنی بڑی طاقت نہیں بن سکتے کہ معاشی، سیاسی اور معاشرتی طور پر معاملات پہ اثر انداز ہوسکیں۔
وسط ایشیائی ممالک میں روس اور چین کے اثرورسوخ کی وجہ سے بھارت ان ملکوں کے ساتھ باہمی تجارت میں اضافہ نہیں کرسکا۔ چناں چہ بھارتی حکمران ایران اور افغانستان میں ذرائع آمدورفت کا انفراسٹرکچر کھڑا کرلیں، تب بھی وسط ایشیائی ممالک اور بھارت کی باہمی تجارت کا حجم چین اور روس کے حجم جتنا کبھی نہیں ہوسکتا۔ وجہ یہی ہے کہ وسط ایشیائی ممالک کے لیے بھارت کی نسبت روس، چین اور قریبی یورپی ممالک سے تجارت کرنا آسان اور نسبتاً سستا عمل ہے۔ جو شے انہیں چین اور روس سے بالفرض ایک ڈالر میں مل رہی ہے، وہ سوا ایک ڈالر میں بھارت سے کیوں منگوائیں؟ (دور ہونے کے باعث بھارت سے مال منگوانے کا خرچ بڑھ جاتا ہے)
***

Google Analytics Alternative