Home » 2019 » March » 09 (page 2)

Daily Archives: March 9, 2019

پاکستان اوربھارت کےدرمیان ایٹمی جنگ کا خدشہ ہے، نیویارک ٹائمز

نیویارک: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری کی مداخلت کی تجویز دے دی۔

امریکا کے معروف اخبارنیویارک ٹائمزنے پاک بھارت کشیدگی اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے اداریئے میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دنیا کی نظریں شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے خطرے پرہیں لیکن  شمالی کوریا نہیں بلکہ پاک بھارت تنازعہ ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت میں حالیہ کشیدگی کے بعد کسی حد تک سکون اورکمی آگئی ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں۔

امریکی اخبارنے اداریئے میں خدشہ ظاہر کیا کہ اگرپاکستان اور بھارت میں مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تو اس کے ناقابل توقع اورخوفناک نتائج ہوسکتے ہیں۔ مسئلہ کشمیرکے ہوتے ایٹمی جنگ کا خطرہ برقراررہے گا، ہوسکتا ہے آئندہ تصادم اتنی آسانی سے نہ ٹلے۔

نیویارک ٹائمز نے اپنے ادارائیے میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری کی مداخلت کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مداخلت کرے، عالمی برادی کے دباؤ کے بغیر مسئلہ کشمیر کا دیرپا حل ممکن نہیں اور ایٹمی جنگ کا خطرہ برقرار رہے گا، دونوں ملک خطرناک حدود میں داخل ہوچکے ہیں لہذٰا اگلے تصادم کے نتائج بعید از قیاس ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 3 روز قبل امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں تجزیہ کاروں نے بھی بھارت کے بلند و بالا دعوؤں کے غبارے سے ہوا نکال دی تھی۔ ایک آرٹیکل میں لکھا گیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی وجہ کشمیر ہے ، جس پر بھارت قابض ہے جب کہ جارحیت پسند مودی کے وزارت عظمیٰ پر براجمان ہونے کے بعد سے ناصرف مقبوضہ کشمیر میں مظالم میں شدت آئی بلکہ لائن آف کنٹرول پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

زیرالتواء مقدمات کی قصور وار عدالتیں نہیں کوئی اور ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ زیرالتواء مقدمات کی قصور وار عدالتیں نہیں کوئی اور ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک دیوانی مقدمے کی سماعت کے دوران اہم ریمارکس دیے کہ عدالتوں کو زیرالتواء مقدمات کا طعنہ دیا جاتا ہے، لیکن اس کی قصور وار عدالتیں نہیں کوئی اور ہے، ججز کی 25 فیصد خالی آسامیاں پُر کر دی جائیں تو دو سال میں زیر التواء مقدمات ختم ہوجائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے ججز زیر التواء مقدمات نمٹانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، ایک سال میں 31 لاکھ مقدمات نمٹائے گئے ہیں جن میں سے صرف سپریم کورٹ نے 26 ہزار مقدمات نمٹائے ہیں، اس کے مقابلے میں امریکا کی سپریم کورٹ نے ایک سال میں 80 سے 90 مقدمات نمٹائے ہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ 21 سے 22 کروڑ کی آبادی کے لئے صرف 3 ہزار ججز ہیں اور عدالتوں میں اب زیر التواء مقدمات کی تعداد 19 لاکھ ہوگئی ہے۔

برطانوی فوج کےلیے دنیا کے سب سے چھوٹے جاسوس ڈرون تیار

لندن: برطانیہ کے محکمہ دفاع نے جاسوسی کے لیے دنیا کے سب سے چھوٹے ڈرون تیار کیے ہیں جو میدانِ جنگ میں فوج کے لیے جاسوسی کریں گے۔

وزارتِ دفاع نے اس مقصد کےلیے 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم رکھی ہے جس کے تحت کم سے کم 200 ڈرون بنائے جائیں گے۔ ان میں سرِ فہرست انسانی ہاتھ سے چھوٹے ’بلیک ہورنیٹ تھری‘ جاسوس ڈرون ہیں جنہیں دنیا کے سب سے چھوٹے ڈرون قراردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سامان پہنچانے والے خودکار ڈرون بھی بنائے جائیں گے۔

ہورنیٹ کا وزن 200 گرام سے بھی کم ہے جو ایک وسیع علاقے کی ایچ ڈی ویڈیو بناکر براہِ راست سپاہی کے اسمارٹ فون پر نشرکرسکتا ہے۔

برطانوی سیکریٹری دفاع گیوون ولیم سن نے کہا کہ جاسوس ڈرون آسمانی آنکھ کا کام کرے گا اور اس سے اوجھل دشمنوں کا پتا لگایا جاسکے گا۔ جاسوس طیارے ہر فوجی کو جنگ کا ایک خاص زاویہ فراہم کریں گے۔ برطانیہ اگلے مرحلے میں مزید تین کروڑ ڈالر خرچ کرکے افواج کو کمک پہنچانے والی خود کار زمینی اور ہوائی سواریاں بھی بنائے گا۔

برطانیہ کے مطابق خطرناک اور دشوار گزار علاقوں میں جدید اور چھوٹے جاسوس ڈرون اہم کردار ادا کرتے ہوئے افواج کی رہنمائی کرسکتے ہیں۔ برطانوی تجزیہ کاروں کے مطابق انہیں بھرپور مواقع پر آزمایا گیا ہے۔ ولیم سن کے مطابق برطانیہ ، ایسٹونیا اور عراق میں  بلیک ہورنیٹ نینو ڈرون کو حقیقی جنگ میں آزمایا گیا ہے۔

آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیریز کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان، شعیب ملک قیادت کریں گے

لاہور: آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے 16 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا جب کہ شعیب ملک ٹیم کی قیادت کریں گے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 5 میچز پر مشتمل ون ڈے سیریز 22 مارچ سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہورہی ہے۔

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو آرام دیا گیا ہے جن کی جگہ شعیب ملک قومی ٹیم کی قیادت کے فرائض انجام دیں گے۔

آسٹریلیا کے خلاف اسکواڈ میں بلے باز عابد علی جگہ بنانے میں کامیاب رہے اور سرفراز احمد کی غیرموجودگی میں وکٹ کیپنگ کے فرائض محمد رضوان انجام دیں گے۔

اسکواڈ میں شامل دیگر کھلاڑیوں میں امام الحق، شان مسعود، عمر اکمل، حارث سہیل، عماد وسیم، فہیم اشرف، محمد عامر، جنید خان، محمد عباس، عثمان خان شنواری، یاسر شاہ، سعد علی اور محمد حسنین شامل ہیں۔

قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد، بابر اعظم، فخر زمان، شاہین آفریدی، شاداب خان اور حسن علی کو آرام دیا گیا ہے جب کہ حسین طلعت کو ڈراپ کیا گیا ہے۔

چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ قریب ہے اور اس سے قبل آسٹریلیا کی سیریز بڑی ہے، اس وجہ سے شعیب ملک کو کپتان بنایا تاہم کسی کھلاڑیوں کو فٹنس کی وجہ سے آرام نہیں دیا۔

حکومت نے 5 سال میں 48 قومی اداروں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کرلیا

اسلام آباد: حکومت نے 5 سال میں 48 قومی اداروں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، وزارت نجکاری کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے 15 کمپنیوں کو نجکاری کی فہرست سے نکال دیا ہے جبکہ 8 کمپنیوں کو نجکاری کی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے۔

جن اداروں کی اب نجکاری نہیں کی جائے ان میں نیشنل بینک، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، سوئی سدرن، سوئی ناردرن، سول ایوی ایشن اتھارٹی، پی آئی اے، یوٹیلٹی اسٹورز، پاکستان اسٹیل ملز، پاکستان اسٹیل فیبریکیٹنگ کمپنی، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، پاکستان ریلوے، نیشنل کنسٹرکشن لمیٹڈ اور پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان شامل ہیں۔

حکومت نے پی آئی اے سی، یوٹیلٹی اسٹورز ، پاکستان اسٹیل ملز سمیت 15 کمپنیوں کو نجکاری کی فہرست سے نکال دیا— فوٹو: نوشین یوسف

مالی سال 20-2019 میں حویلی شاہ بہادر، بلوکی پاور پلانٹس، ایس ایم ای بینک، ماڑی پیٹرولیم کے پاکستانی حصص اور سروسز انٹرنیشنل ہوٹل کی نجکاری حدف میں شامل ہیں۔

ایکٹو نجکاری کی فہرست میں ایس ایم ای بینک، فرسٹ ویمن بینک، بلوکی پاور پلانٹ، حویلی بہادر شاہ پلانٹ، ماڑی پیٹرولیم ، جناح کنونش سینٹر، لاکھڑا کول مائنز اور سروسز انٹرنیشنل ہوٹل شامل ہیں۔

نجکاری کمیشن نے پی ٹی آئی حکومت کے نجکاری پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پانچ سال میں 48 ادارے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے پہلے مرحلے میں ایک سے ڈیڑھ سال میں 7اداروں کو فروخت کیا جائے گا جن میں ایل این جی کے دو پاور پلانٹ، ویمن بینک، ایس ایم ای بینک، جناح کنونشن سینٹر، لاہور انٹرنیشنل ایئر پورٹ، ماڑی، لاکھڑا کی پہلے مرحلے میں نجکاری کی جائے گی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس کو سیکریٹری نجکاری رضوان ملک نے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں 3 سے 5 سال میں 41 اداروں کو فروخت کیا جائے گا۔

انرجی ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کافیصلہ کیا جائے گا، یہ ٹاسک فورس 31 مارچ تک سفارشات پیش کرے گی۔

کنونشن سینٹر کابینہ ڈویژن سی ڈی اے سے خریدے گا جبکہ جناح کنونشن سینٹر کی نجکاری رکوانے میں سی ڈی اے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔

خیال رہے کہ پی آئی اے اور اسٹیل ملز کے خسارے 600ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

بھارت کا جنگی جنون، کرکٹ ٹیم نے فوجی کیپ پہن کر میچ کھیلا

رانچی: جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے کرکٹ کو بھی اپنی جارحیت پسندی سے نہ بخشا۔

بھارتی کرکٹ ٹیم جھاڑ کھنڈ کے شہر رانچی میں آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ایک روزہ میچ کے لیے روایتی کرکٹ کٹ سے ہٹ کر آرمی کیپ پہن کر میدان میں اتری۔ سابق کپتان اور موجودہ سینیئر کھلاڑی دھونی نے میچ سے قبل کھلاڑیوں میں فوجی کیپ تقسیم کیے۔

جنگ کی میدان میں دو طیاروں کی تباہی اور ایک پائلٹ کی گرفتاری کے بعد بھارت نے کرکٹ اسٹیڈیم میں بھی جنگ کا میدان سجالیا۔ کرکٹ کی تاریخ کے اس انوکھے واقعے نے اسپورٹس مین اسپرٹ کے بجائے جنگی سپاہیوں کا منظر پیش کیا۔

Cricket

کپتان ویرات کوہلی ٹاس کے لیے میدان میں آئے تو فوجی کیپ پہنے ہوئے تھے، ٹاس جیتنے کے بعد انہوں نے انکشاف کیا کہ اپنی فوج سے اظہار یکجہتی کے لیے یہ کیپ پوری ٹیم پہنے گی جب کہ ٹیم نے میچ کا معاوضہ پلوامہ میں ہلاک ہونے والے سپاہیوں کے اہل خانہ کو عطیہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کرکٹ میچ کے دوران امن اور کینسر جیسے امراض وغیرہ سے آگاہی کے لیے ٹیمیں مختلف رنگ کی شرٹس پہنتی آئی ہیں یا کوئی نمائندہ بیجز لگاتی ہیں لیکن جنگی جارحیت کو ہوا دینے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

پاکستان کی 12 باصلاحیت خواتین

آج 8 مارچ ہے، خواتین کا عالمی دن! لیکن 28 فروری 1909 کو جب خواتین کا پہلا عالمی دن منایا گیا تو اُس وقت خواتین کو امریکا سمیت زیادہ تر ملکوں میں ووٹ ڈالنے کا حق بھی نہیں تھا.

یاد رہے کہ خواتین کا پہلا عالمی دن 1908 میں ہونے والے انٹرنیشنل خواتین گارمنٹس ورکرز یونین کے احتجاج کی یاد میں منایا گیا تھا.

کئی سالوں بعد 1977 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے خواتین کا عالمی دن 8 مارچ کو منانے کا اعلان کردیا. اب ہر سال اس دن خواتین کی سماجی، اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی کامیابی کا جشن منایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ان تمام شعبوں میں خواتین کی پیش رفت کی ضرورت ہے، اگرچہ خواتین نے بہت کچھ حاصل بھی کرلیا ہے، جس کی وجہ ان کی محنت، مہارت اور عزم ہے۔

آج ہم پاکستان کی کچھ خواتین کی کامیابیوں کا جشن منائیں گے جن پر پاکستان کو فخر ہے۔ اس فہرست میں چند خواتین کا نام شامل کیا گیا ہے، تاہم وہ خواتین جن کا نام جگہ کی تنگی کے باعث شامل نہیں کیا جاسکا ہماری تعریف اور فخر کی قابل ہیں۔ سچ تو یہ ہے، پاکستان اور دنیا بھر کی تمام خواتین نے دنیا کو ایک بہتر جگہ بنایا ہے۔

ارفع کریم رندھاوا

ارفع کو سب ہی جانتے بھی ہوں گے اور انہیں ارفع یاد بھی ہوں گی۔

یہ وہ لڑکی ہے جس نے 2004 میں سب سے کم عمر مائیکروسافٹ سرٹیفائڈ پروفیشنل کا خطاب حاصل کرکے دنیا کو حیران کردیا تھا۔

وہ لڑکی جس نے سب سے کم عمر صدراتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی حاصل کرنے کے ساتھ پاکستان اور دوسرے ممالک میں متعدد ایوارڈز حاصل کیے۔

ارفع نے متعدد بین الاقوامی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کی۔

ایک ایسی لڑکی جس کا مستقبل بہت روشن تھا لیکن وہ ہم سب کو صرف 16 برس کی عمر میں 14 جنوری 2012 کو چھوڑ کر اس دنیا سے گزر گئی۔

ارفع اُس ستارے کی طرح تھی جو خود تو بہت کم عرصے کے لیے چمکی لیکن اس کی روشنی آج بھی متاثر کن ہے۔

ارفع تمہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا!

عائشہ فاروق

28 سالہ عائشہ فاروق پاکستان اور جنوبی ایشیا کی پہلی فائٹر پائلٹ ہیں۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والی عائشہ پاکستان ایئر فورس کے لیے چینی کمبیٹ F-7PG طیاروں پر پرواز کرتی ہیں۔

تین سال کی عمر میں والد کو کھو دینے کے بعد، عائشہ نے اپنی والدہ کو ہمیشہ ایک رول ماڈل کے طور پر دیکھا اور پرواز کے لیے ان کی چاہت میں اضافہ اپنے انکل اور کزن کو دیکھ کر ہوا جو پاکستان ایئرفورس میں تھے۔

عائشہ نے سخت عملی اور جسمانی ٹریننگ حاصل کرکے دکھایا کہ خواتین کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ عائشہ کا نوجوان لڑکیوں کو مشورہ ہے کہ’ کسی رول ماڈل کو دیکھنے کے بجائے خود ایک رول ماڈل بن جانا چاہیے‘۔

پاکستان ایئر فورس میں گزشتہ دہائی سے تقریباً 19 خواتین پائلٹ ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں، جن میں پانچ فائٹر پائلٹ ہیں لیکن اب تک وہ کمبیٹ پرواز کرنے کی ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں۔

نسیم حمید

جب نسیم حمید کو 2010 میں ساﺅتھ ایشین گیمز میں جنوبی ایشیاء کی تیز ترین خاتون کا اعزاز حاصل ہوا تو اُس وقت اُن کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ 22 سالہ ایتھلیٹ نے سو میٹر کا فاصلہ صرف 11.81 سیکنڈز میں طے کرکے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں ہونے والے مقابلوں میں طلائی تمغہ جیتا تھا.

کراچی سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی کا گمنامی سے شہرت کی جانب سفر کا آغاز اسکول اور کالج میں پہنچنے کے بعد ہوا، جب اس کی ایتھلیٹکس میں دلچسپی اور صلاحیت بڑھی۔ اُس وقت تک نسیم کا انحصار صرف اپنی سخت محنت، عزم اور صلاحیت پر تھا تاکہ وہ ایتھلیٹ کی حیثیت سے ابھر سکیں تاہم وہ مناسب کوچنگ یا کٹ کا بوجھ نہیں اٹھاسکتی تھیں۔

آخرکار ایک کالج ایونٹ کے دوران آرمی کوچز کی نگاہ نسیم پر ٹھہری اور انھیں تربیت کے لیے آرمی گراﺅنڈ کو استعمال کرنے کی اجازت مل گئی۔ متعدد مقامی ایونٹس میں شاندار کارکردگی پر نسیم کو پاکستان ریلویز سے کانٹریکٹ ملا اور پھر اس ابھرتی ہوئی اسٹار کو سیف گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا اور جنوبی ایشیاء کی تیز ترین خاتون کی حیثیت سے ان کا نام ریکارڈ بکس کا حصہ بن گیا۔

شہرت نے اُن کے لیے مالی محاذ پر کچھ آسانی پیدا کردی اور انھیں مشق اور اپنی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے معاونت ملی مگر یہ شہرت نسیم کو مغرور نہیں بناسکی اور اپنے جیسے دیگر ایتھلیٹس کے خواب پورا کرنے کے لیے انھوں نے نسیم حمید اسپورٹس اکیڈمی قائم کی جہاں نوجوان ایتھلیٹس کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

شرمین عبید چنائے

صحافی، سماجی کارکن اور فلمساز شرمین عبید چنائے نے پاکستان کے لیے دو آسکر ایوارڈز جیت کر ہمیں فخر کا موقع دیا ہے۔ شرمین کی ڈاکیومینٹریز ‘سیونگ فیس’ (2002) تیزاب کے حملے سے متاثرین کی کہانی تھی جبکہ ‘اے گرل ان اے ریور: دی پرائس آف فار گیونس’ (2015) غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے تھی.

دونوں متنازع موضوعات ہیں مگر انہوں نے ‘بیسٹ ڈاکومینٹری شارٹ سبجیکٹ’ میں آسکر ایوارڈ اپنے نام کیے۔ شرمین عبید چنائے نے کراچی گرامر اسکول سے اے لیولز تک تعلیم حاصل کی جس کے بعد اسمتھ کالج، امریکا سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے متعدد اخبارات کے لیے لکھا اور بحیثیت فلمساز کیریئر کا آغاز کیا۔

وہ اُن گیارہ خواتین ڈائیریکٹرز میں سے ایک ہیں جنھوں نے نان فکشن فلم پر آسکر جیت رکھا ہے۔

آسکر کے ساتھ ساتھ شرمین نے دو ایمی ایوارڈز بھی جیتے ہیں، جبکہ وہ 2012 میں ٹائم میگزین کی دنیا کے سو بااثر ترین افراد کی فہرست میں بھی شامل تھیں۔ انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے بھی 2012 میں ‘ہلال امتیاز’ کا اعزاز دیا گیا۔

ماریہ طور پکئی وزیر

‘میں ایک جنگجو ہوں، میں پیدائشی جنگجو ہوں ، میری موت بھی ایک جنگجو کی طرح ہوگی’۔ ان الفاظ کے ذریعے 25 سالہ پاکستانی اسکواش کھلاڑی ماریہ طورپکئی نے اپنی شخصیت کی وضاحت بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کی۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی اس جنگجو نے نوعمری سے ہی اپنے آبائی علاقے میں لڑکیوں پر نافذ کی جانے والی پابندیوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ وہ ایک لڑکے جیسے انداز، ملبوسات اور مختصر بالوں کے ساتھ لڑتی جھگڑتی اور کھیلوں کا حصہ بنتی تھیں۔

ان کے خاندان نے کھیلوں میں ماریہ کی دلچسپی کی حمایت کی اور ان کے والد نے لڑکیوں پر روایتی پابندیوں سے بچنے کا ایک طریقہ اپنی بیٹی کو ایک لڑکے کی شکل میں پیش کرکے نکالا جس سے ماریہ کو کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت میں مدد ملی۔ بارہ سال کی عمر میں ماریہ نے جونیئر ویٹ لفٹنگ ٹورنامنٹ میں ‘چنگیز خان’ کے نام سے شرکت کرکے جیتا۔

اُس وقت ماریہ کو اسکواش سے اپنی محبت کا احساس ہوا اور والد نے پریکٹس کے لیے بیٹی کا داخلہ پشاور کی ایک اکیڈمی میں کروا دیا جہاں وہ لڑکے کے روپ میں تھیں، لیکن یہ فریب زیادہ لمبے عرصے تک نہیں چل سکا اور جلد ہی سب کو معلوم ہوگیا کہ چنگیز درحقیقت ماریہ ہے۔ اس کے بعد ماریہ کو اکیڈمی میں مذاق کا نشانہ بنایا جانے لگا جبکہ گھر والوں کو علاقے میں ہراساں کیا گیا، مگر جتنا زیادہ ماریہ کو تنگ کیا گیا، اتنی ہی زیادہ انھوں نے پریکٹس اور سخت محنت کی اور نیشنل جونیئر چیمپئن شپس جیتنا شروع کردیں اور 2006 میں وہ پروفیشنل سرکٹ کا حصہ بن گئیں۔

اگلے سال انہیں اُس وقت کے صدر پاکستان کی جانب سے سلام پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ ویمن انٹرنیشنل اسکواش پلیئرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ینگ پلیئر آف دی ایئر کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔

بتدریج خطرات سنگین ہوتے گئے اور ماریہ نے اکیڈمی میں پریکٹس روک دی۔ انہوں نے اپنے کمرے میں پریکٹس شروع کردی اور بیرون ملک کلبوں، اکیڈمیوں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو ای میلز بھیجنا شروع کردیں تاکہ باہر جاکر وہ محفوظ ماحول میں پریکٹس کرسکیں۔

ایک ای میل سابق اسکواش کھلاڑی جوناتھن پاور کو بھیجی گئی جو ماریہ کی صلاحیت اور عزم سے متاثر ہوئے، جس کے بعد انہوں نے 2011 میں پاکستانی کھلاڑی کو کینیڈا میں اپنی اکیڈمی میں تربیت کی پیشکش کی۔ ماریہ اس وقت کینیڈین شہر ٹورنٹو میں مقیم اور تربیت حاصل کررہی ہیں، جبکہ پاکستان کی ٹاپ خاتون اسکواش کھلاڑی ہیں جو عالمی درجہ بندی پر 49 ویں نمبر پر موجود ہیں۔

ملالہ یوسف زئی

ملالہ اس وقت دنیا بھر میں پاکستان کی سب سے مقبول نوجوان خاتون ہیں۔ سوات سے تعلق رکھنے والی وہ لڑکی جو اُس وقت اسکول جانا چاہتی تھی جب لڑکیوں پر اسکول جانے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ ملالہ نے بی بی سی کو لکھے اپنے ایک بلاگ سے مقبولیت حاصل کی۔

ملالہ نے اسکول جانا شروع کیا لیکن اسی دوران ان پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئیں، لیکن ملالہ اس حادثے میں سلامت رہیں، اب وہ برطانیہ میں رہتی ہیں اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ اپنی کوششوں کے باعث وہ نوبل انعام حاصل کرنے والی سب سے کم عمر لڑکی قرار پائیں۔ انہیں یہ ایوارڈ دسمبر 2014 کو دیا گیا تھا۔

مہک گل

مہک 15 سالہ پاکستانی شطرنج کی کھلاڑی ہیں جنہوں نے 6 سال کی عمر میں شطرنج کھیلنا شروع کیا، جس کے بعد سے آج تک وہ پاکستان اور دوسرے ممالک میں اس کھیل میں حصہ لے رہی ہیں۔

12 سال کی عمر میں مہک ورلڈ چیس اولمپک میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی سب سے کم عمر کھلاڑی تھیں جس کے ساتھ ہی وہ اپنا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی لکھوا چکی ہیں۔

یہ چیمپیئن بہت جلد اپنے والد اور کوچ محمد زاہد کی رہنمائی میں شطرنج کی گرینڈ ماسٹر بننے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ہمیں امید ہے ایسا بہت جلد ہوگا۔

نمیرا سلیم

کراچی سے تعلق رکھنے والی نمیرا سلیم پہلے متحدہ عرب امارات اور پھر موناکو میں مقیم رہیں. ایک بہادر، پیشہ ور خلاباز، آرٹسٹ اور ان کے اپنے الفاظ میں ایک عالمی شہری ہیں۔

اپریل 2007 میں قطب شمالی پر پہنچنے والی وہ پہلی پاکستانی تھیں۔ کچھ ماہ بعد جنوری 2008 کو وہ جنوبی قطب پہنچنے والی پہلی پاکستانی بھی قرار پائیں۔ انہوں نے دونوں مقامات پر پاکستان کا جھنڈا بھی لہرایا۔

اُن کے ایڈونچرز مزید جاری رہے اور 2008 میں وہ ماؤنٹ ایورسٹ پر اسکائی ڈائیو کرنے والی پہلی پاکستانی کے ساتھ ساتھ پہلی ایشین بھی بن گئیں۔

2011 میں نمیرا نے تمغہ امیتیاز بھی حاصل کیا اور اسی سال وہ موناکو میں پاکستان کی پہلی اعزازی قونصل بھی قرار پائیں۔

صابیہ ابت

صابیہ ہری پور سے تعلق رکھنے والی ایک سائیکلسٹ ہیں، جنہوں نے اپنے نانا نانی کے گھر اپنے ماموں سے اس کی ٹریننگ لینا شروع کی، تاہم بڑے ہونے کے بعد بھی خوف کے باعث وہ گھر کے باہر سائیکل نہیں چلا سکتی تھیں تاہم 2 سال کے اندر اندر 2013 میں انہوں نے نیشنل سائیکلنگ چیمپئن شپ کا خطاب جیت کر سب کو حیران کردیا تھا۔

ان کے عزم کو دیکھ کر سائیکلنگ فیڈریشن نے صابیہ کو ٹریننگ میں مدد دی اور وہ قومی، صوبائی اور آرمی کی ٹیم کی رکن بھی بن گئیں۔ صابیہ کو صرف اپنی فیملی ہی نہیں اپنے شوہر کی بھی مکمل سپورٹ ملی، جس سے وہ اپنے خوابوں کو پورا کرسکیں اور انہوں نے انٹرنیشنل سائیکلنگ ایونٹس میں بھی حصہ لیا.

زینتھ عرفان

زینتھ عرفان لاہور سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ طالبہ ہیں، جنہوں نے لاہور سے آزاد کشمیر تک 6 روز میں بائیک پر اکیلے سفر کرکے سب کو حیران کردیا۔ اس سفر کا اعلان انہوں نے گزشتہ سال اپنے فیس بک پیج پر کیا تھا اور ثابت کردیا کہ ایسا کچھ نہیں جو ایک لڑکی نہیں کر سکتی۔

اپنی والدہ کی حوصلہ افزائی پر زینتھ نے 2013 میں بائیک چلانا سیکھی جب ان کا چھوٹا بھائی اسے گھر لے کر آیا۔ یہ زینتھ کے والد کا خواب تھا کہ وہ ایک موٹر بائیک پر دنیا کی سیر کریں اور اس نے ہی زینتھ کو متاثر کیا۔ انہیں امید ہے کہ وہ ایک دن ایسا ضرور کریں گی۔

ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ہم زینتھ کے مزید سفر کی خبریں سنیں گے۔

نرگس ماولوالا

بین الاقوامی خبروں میں جگہ بنانے والی کئی خواتین میں سے ایک فلکی طبیعیات دان نرگس ماولوالا بھی ہیں۔ میساچوسٹس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں شعبہ طبیعیات کی سربراہ ماولوالا سائنسدانوں کی اُس ٹیم کی ایک رکن تھیں، جنھوں نے خلاء میں کشش ثقل کی لہروں کی موجودگی سے متعلق آئن اسٹائن کے نظریئے کو درست ثابت کیا.

ڈاکٹر ماولوالا امریکا کے سائنس دانوں کے ہمراہ کام کر رہی ہیں۔ امریکا جانے سے قبل انہوں نے کراچی میں موجود کانونٹ جیسز اور میری میں تعلیم حاصل کی۔

منیبہ مزاری

منیبہ مزاری ایک لکھاری، فنکار، اسپیکر، سرگرم کارکن اور ٹی وی اینکر ہیں اور معذوری بھی انہیں کبھی کامیابی سے نہیں روک پائی۔

2007 میں ہونے والے ایک کار حادثے میں منیبہ کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی تھی، اس وقت ان کی عمر صرف 21 سال تھی۔ اس حادثے میں منیبہ نے اپنے چلنے کی صلاحیت تو کھو دی لیکن اپنا عزم اور حوصلہ نہیں کھویا۔ اس دوران وہ فنون لطیفہ کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں اور انہوں نے اپنا ذاتی برانڈ ‘منیبہ کینوس’ بھی قائم کیا۔

منیبہ نے یہ ثابت کیا کہ طاقت روح میں موجود ہے اور حدود صرف وہی ہیں جو آپ خود اپنے آپ پر لگاتے ہیں۔

منافع بخش قومی اداروں کی فروخت !!

تعجب کی بات ہے کہ پاک بھارت غیر اعلانیہ جنگ کے ٹینشن کے ماحول میں پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن روایتی سیاست کررہی ہیں، حالانکہ یہ وقت متحد ہونے اور دُشمن کو اپنے اتحاد سے خوف دِلانے کاہے۔ کم از کم ابھی تو حکومت اور اپوزیشن کو ایک پیچ پر ہونا چاہئے تھا۔ مگر چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے، حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات اور مسائل کو ایوانوں میں لا کر چیخ چلا رہے ہیں، جس کا فائدہ دُشمن کو ہوگا ۔جبکہ حکومت ہے کہ یہ جنگی جنون میں مبتلا دُشمن بھارت کی طرف سے سرحدوں پر ٹینشن ہونے کے باوجود بھی منافع بخش قومی اداروں کی فروخت کا منصوبہ بنارہی ہے،وزیراعظم عمران خان اپنے پیشرو نوازشریف، آصف علی زرادی اور پرویز مشرف کی حکومتوں سے آج تک قرضوں کے بوجھ تلے دبی پاکستانی قوم کو قرضوں سے نجات دِلانے کے لئے ڈیڑھ سال کے عرصے میں پہلے مرحلے میں ایس ایم ای بینک ، فرسٹ وومن بینک، بلوکی پاور پلانٹ ، حویلی بہادر پاور پلانٹ ، مری پٹرولیم، جناح کنونشن سینٹر، لاکھڑاکول مائنز اورسروسز انٹرنیشنل ہوٹل سمیت8 قومی ادارے جبکہ دوسرے مرحلے میں یعنی کہ 5سال میں 49 منافع بخش ادارے اسٹیٹ لائف ، اوجی ڈی سی ایل، پاورکمپنیاں ،پی این ایس سی ، پورٹ قاسم، کے پی ٹی( کراچی پورٹ ٹرسٹ جیسا منافع بخش وہ ادارے جو صدیوں سے اپنے قیام سے آج تک خسارے میں کبھی نہیں گیا ہے۔ موجود حکومت نے اِسے بھی خسارے کا ادارہ ظاہر کرکے اِسے بھی نج کاری کی بھینٹ چڑھانے کا پروگرام بنا لیا ہے) شامل ہیں۔ یہاں یہ امر یقیناًقابل توجہ اور غور طلب ضرور ہے کہ کس طرح وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت میں کے پی ٹی جیسے منافع بخش قومی اداروں کی نج کاری کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ اِنہیں اِس ادارے کی نج کاری کے فیصلے پر لازمی نظر ثانی کرنی چاہئے جبکہ سیاسی بنیادوں پر تقرریوں کے باعث ازل سے ہی خسارے میں چلنے والے قومی اداروں اسٹیل ملز ، پی آئی اے، سی اے اے، ریلویز سمیت 15اداروں کو خود پالنے کا ادارہ رکھتے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو ادارے خسارے والے ہیں۔ حکومت پہلے اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے۔اِنہیں خسارے سے نکالنے کی کوشش کرے۔ اگر یہ پھر بھی خسارے میں ہی رہیں۔ تو پھر بیشک، حکومت اِن کی نج کاری کرے ۔مگر افسوس کی بات ہے کہ آج وزیراعظم عمران خان اپنی نئی مظق لے کر چل رہے ہیں ۔نواز شریف ، آصف علی زرداری اور پرویز مشرف کی حکومتوں میں لیئے گئے قرضوں کی وجہ سے قرضوں کے بوجھ تلے دبی پاکستانی قوم کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دِلانے کے لئے اوجی ڈی سی ایل ، پورٹ قاسم اور کے پی ٹی جیسے منافع بخش اداروں کو ہی فروخت کرکے آخر کیا چاہتے ہیں؟ منافع بخش اداروں کی نج کاری کے بعد اِنکے ملازمین کا کیا ہوگا؟کیا اداروں کی نج کاری سے مُلک میں بے روزگاری میں اضاضہ نہیں ہوگا؟وزیراعظم نے تو کروڑوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا ہے۔!!بہر کیف ،بھارت میں جاری انتخابات کے دوران پلوامہ حملہ سمیت دیگر پرتشدد واقعات تو محض ایک بہانہ ہیں ، اصل بات یہ ہے کہ بھارت کو پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا جواز چاہئے تھا ، جو پلوامہ حملے کی بھارتی ڈرامہ بازی کے بعد اِس کے ہاتھ لگ گیا ، جس کو بنیاد بنا کر دہشت گردِ اعظم بھارتی وزیراعظم نرریندر مودی کے اشارے پر رات کی تاریکی کا فائدہ اُٹھا کر بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کی سرحدی حدو دکی خلاف ورزی کی اور دراندازی کرنے کے بعداپنا پے لوڈگرا کر بھاگ گئے ۔جسکے اگلے ہی روز پاک فضائیہ نے جنگی جنون میں مبتلا بھارتیوں کو دن کی روشنی میں اِن کے وطن میں گُھس کر جو سبق سیکھایا ہے۔ اِسے بھارتی تاقیامت یاد رکھیں گے،جب بھی بھارتیوں میں جنگ کی تاریخ دُہرائی جائے گی۔ سارے بھارتی ہاتھ لگا کر روئیں گے، اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ پاکستان کی افواج کی جنگی صلاحتیں پیشہ وارانہ ہیں ، جو جذبہ جہاد اور جذبہ شہادت سے سرشاراور بہرامند ہیں، مگر پھر بھی خطے کا بھارت جیسا کوئی پڑوسی مُلک یہ سمجھے کہ یہ طاقت میں زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان پر جنگی سبقت لے جائے گا ؛تو یہ اِس کی کم خیالی ہے۔ کسی بھی بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان چاہے، تو بھارت کو چند گھنٹوں میں صفحہ ہستی سے مٹاسکتاہے۔ مگر پھر بھی پاکستان کی امن پسندی ہے کہ یہ بھارت کو قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ اَب اِس پر پھر بھی بھارت اِسے پاکستان کی کمزروی سمجھے تو یہ اِس کا پاگل پن ہے۔بظاہرغیر اعلانیہ پاک بھارت جاری جنگ میں پاکستان کے بروقت اور درست فیصلوں سے جزوقتی طور پر جنگ ٹل تو گئی ہے۔ مگر بھارتی ہٹ دھرمی کم نہیں ہوئی ہے، کیوں کے بھارت کو پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا امریکا ٹاسک ملا ہوا ہے۔ بھارت کے ساتھ اسرائیل اور درپرہ امریکا بھی شامل ہیں ،جسکی چال ہے کہ بس کسی بھی طرح سے بھارت پاکستان پر جنگ مسلط کردے ،پھر باقی کا کام وہ سنبھال لے گا، بیشک ، افغانستان سے امریکا کی واپسی کے بعدافغانستان میں نمایاں تبدیلیاں تو آئیں گی ۔ تو وہیں پاکستان بھی حالتِ جنگ سے نکل جا ئے گا، اقتصادی اور معاشی اعتبار سے اپنے تابناک مستقبل کیلئے کوششیں تیز کردے گا ۔جو امریکا کبھی نہیں چاہتاہے کہ پاکستان کسی بھی حوالے سے معاشی اور اقتصادی لحاظ سے مستحکم ہو اور معاشی بحرانوں سے نکل کر اپنے پیروں پر کھڑا ہو، اِسی لئے پاک چین راہداری منصوبہ امریکا اور اِس کے حوارویوں بھارت اور اسرائیل کی آنکھ میں کھٹک رہاہے ، جنہیں لگ پتہ گیاہے کہ پاک چین راہداری منصوبہ اور پاکستانی سمندری حدود میں تیل کی تلاش کا کام تکمیل کو پہنچ کر کامیابیوں سے ہمکنار ہوگیاجیسا کہ تیزی سے کامیابی کے منازل طے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہاہے۔ تو پاکستان اقتصادی و معاشی حوالوں سمیت پیٹرولیم مصنوعات کے شعبے میں خطے کا کامیاب ترین مُلک بن جائے گا اور امریکی تسلط سے آزاد ہوکر اپنے فیصلے خود کرے گا۔یہی وہ خدشتہ ہے جو امریکا کوکھٹک رہاہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکا بھارت کو درپردہ پاکستان سے جنگ پر اُکسا رہاہے،بھارت کی جانب سے جارحیت کے خطرات موجود ہیں، جنگ ٹلی نہیں ہے ، خطرہ موجود ہے، مشکل وقت ختم نہیں ہوا ہے ،کشیدگی میں کمی کا آغاز تو ہوگیاہے، مگر بھارتی جارحیت متوقعہ ہے،دُشمن کا دندان شکست جواب دینے کیلئے پاک فوج ہمہ وقت تیار ہے، اگرچہ، وزیر اعظم عمران خان اور عسکری قیادت کے بر وقت فیصلے سے دنیا میں پاکستان کی امن پسندی کا مورال بلند ہوا ہے ، پاکستان کی امن پسندی کی حکمتِ عملی نے بھارت کو بتادیاہے کہ کسی بھی سمت سے بھارتی جارحیت کا کئی گنا زیادہ قوت سے جواب دیا جائے گا۔مگر افسوس ہے کہ ہمارے ایوانوں میں حکومت اور اپوزیشن بی جمالو والی روایتی سیاست کرنے سے باز نہیں آرہی ہیں، نہ صرف یہ بلکہ سونے پہ سہاگہ کہ وزیراعظم عمران خان بھارت کی جانب سے غیر اعلانیہ جنگی ماحول میں بھی منافع بخش قومی اداروں کی فروخت کے لئے اپنی دُکان کھولے بیٹھے ہیں۔

***

Google Analytics Alternative