Home » 2019 » March » 09 (page 4)

Daily Archives: March 9, 2019

عقلمندی اورڈر!!!

اگرآپ اپنی زندگی میں ترجیحات کی ایک فہرست تیار کریں تو اس میں یقیناً دانائی شامل ہو گی۔دانائی ایک ایسی چیز ہے جس سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کرتا۔دانائی کا مطلب عقلمندی ہے ۔یعنی جس آدمی میں عقل ہو گی اس میں دانائی بھی ہوگی ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی شخص اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ وہ عقل سے پیدل ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ دنیا کے کسی بھی پاگل خانے چلے جائیں آپ کوایک بھی پاگل نہیں ملے گا کہ جو یہ کہے کہ مجھ میں عقل نہیں ہے ۔یعنی کوئی ’’سرٹیفائیڈ ‘‘ پاگل بھی خود کو پاگل نہیں کہتا۔صوفی برکت علی لدھیانوی اس بات کو معرفت کا پہناوا اوڑھاتے ہوئے کہاکرتے تھے ’’ انسان ’’گل پا‘‘ کر ہی ’’ پا گل‘‘ بنتا ہے۔خیر بات دوسری طرف نکل گئی ۔بات یہ ہورہی تھی کہ ہر انسان خود کوہی دانائے کل سمجھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کو حکومت کا ہر کام پاگل پن نظر آتا ہے جبکہ حکومت سمجھ رہی ہوتی ہے کہ اس کا ہر کام دانائی پر مبنی ہے اورملکی اور عوامی مفاد میں ناگزیرہے۔جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو ان کے بقول ڈالر کا اوپر جانا، مہنگائی کابڑھ جانااوربجلی ، گیس اورڈیزل وغیرہ کے ریٹ بڑھنا کرپشن کی نشانی تھی ۔ وہ اوران کے ماننے والے ان باتوں کو حکمت کہا کرتے تھے بلکہ اسد عمر کو تو ’’برین آف ایشیا‘‘ کا لقب تک عطا ہوگیاتھا۔ معلوم نہیں مہاتیر محمد تک یہ بات پہنچی تھی یا نہیں اوراگر پہنچی تھی تو ان پر کیاگزری تھی؟ اس وقت یہ دانائی کی باتیں تھیں لیکن اب جب کہ وہ خود یہی کام دس قدم آگے بڑھ کر ،کررہے ہیں تو انہیں اپوزیشن کا شور بیوقوفی جبکہ اپنی کارروائیاں ایک بار پھر دانائیاں لگ رہی ہیں۔یعنی انسان کسی بھی حال میں خود کو دانائی سے خالی نہیں سمجھتا۔اس بات کا نفسیات سے بھی گہرا تعلق ہے۔اسلام نے اس بات کاایک ابدی پہلو پیش کیا ہے۔

ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ میں دنیا کا دانا ترین انسان بننا چاہتا ہوں(اس کے لیے کیا کروں؟)۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عقلمند کہلانا انسان کی ازل سے خواہش رہی ہے۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو۔بلکہ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ڈر حکمت کی بنیاد ہے۔یعنی حکمت کے سارے سوتے اللہ کے ڈر سے پھوٹتے ہیں۔اس فرمان میں ’’ڈر‘‘ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔آئیے اس بات کو ایک اورپہلو سے دیکھتے ہیں تاکہ بخوبی سمجھ آجائے۔آپ گاڑی سے باہر نکلتے ہیں تو اسے لاک کردیتے ہیں ۔کیوں؟ ڈر ہے کہ کوئی چرانہ لے جائے۔آپ گھر سے نکلتے ہیں ۔اگر گھرمیں کوئی نہ ہوتو اسے لاک کردیتے ہیں ۔اگر کوئی گھر میں ہوتوبھی جونہی آپ گھر سے باہر جاتے ہیں اسے اندر سے لاک کردیاجاتا ہے۔آپ گھر کے دروازے پر آتے ہیں اوربیل دیتے ہیں تو اندر سے پوچھاجاتا ہے :کون؟ تسلی ہونے پر ہی دروازہ کھولا جاتا ہے۔کیوں؟ ڈر ہے کہ کہیں دروازہ کھلا ہونے کی صورت میں کوئی اندر نہ گھس آئے ۔آپ سڑک پر ہیں اور گاڑی چلا رہے ہیں۔اشارہ بند ہے تو آپ رک جائیں گے اگر آپ ایک ذمہ دار شہری ہیں۔آپ کیوں رکے ؟ ڈر ہے کہ کہیں چالان نہ ہو جائے۔اگر آپ ایک غیر ذمہ دار شہری ہیں اور ٹریفک پولیس بھی موجود نہیں ہے توآپ نہیں رکیں گے۔کیوں؟ کیونکہ ڈر ختم ہوگیا ہے۔ لیکن اگر اشارے پر نہیں بھی رکیں گے تو آگے بڑھنے سے پہلے دائیں بائیں ضرور دیکھیں کہ کہیں کوئی گاڑی تو نہیں آرہی ؟ چالان کا ڈر تو ختم ہو گیا تھا لیکن پھر بھی اشارہ توڑنے سے پہلے آپ نے دائیں بائیں کیوں دیکھا؟ ایسا ڈر کی وجہ سے ہوا ہے۔اس بات کا ڈر کہ کہیں دائیں یابائیں سے آکر کوئی میری گاڑی کو ٹکر نہ دے مارے۔میری گاڑی کا نقصان ہو گااور جان بھی جا سکتی ہے۔آپ ایک والد ہیں تو کئی ایک حرکتیں ایسی ہیں جو بالکل جائز ہیں لیکن آپ انہیں اولاد کے سامنے کرنے سے ازحد پرہیز کریں گے۔ کیوں؟ڈر ہے کہ اگر اولاد نے دیکھ لیا تو آنکھ ملانے کابھی یارا نہیں رہے گا۔اسی بات کو ملکی تناظر میں سمجھتے ہیں۔پچھلے دنوں آپ نے دیکھا ہوگا کہ ملکی سیاست میں کچھ عدالتی فیصلوں پر بڑی ہلچل مچی رہی۔بہت سوں کو یہ فیصلے منظورنہیں تھے لیکن حکومت اور اپوزیشن سب نے کہا:ہم عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔فیصلے ہضم نہیں ہوئے لیکن پھر بھی کسی نے انہیں غلط نہیں کہا۔کیوں؟ڈر تھا کہ کہیں توہیں عدالت کی تلوار کام تمام نہ کردے۔بلکہ میڈیا اوراخبارات میں تو باقاعدہ یہ شرط طے کی جاتی ہے کہ عدالت کے خلاف کچھ لکھا یا چھاپانہیں جائے گا۔وہاں بھی تو انسان بیٹھے ہیں اور اگر سیاستدان کے خلاف کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے تو جج کے خلاف کیوں نہیں ؟وجہ ایک ہی ہے اوروہ ہے توہیں عدالت کا ڈر۔اس بحث سے معلوم ہوا کہ ڈر کاانسانی زندگی میں سب سے اہم رول ہے۔دنیا کا کوئی بھی مذہب پڑھ لیں یا کسی بھی ملک کے قانون کو اٹھا لیں وہاں آپ کو سزاکا تصورضرور ملے گا۔ایسا کیوں ہے؟ تاکہ انسان کے دل میں ان سزاؤں کا ڈر موجود رہے اوران سے بچنے کے لیے وہ کوئی بھی ایسی حرکت نہ کرے جس کی وجہ سے وہ اپنے مذہب یا قانون کی نظر میں گناہ گارر ٹھہرے۔اسی لیے پیغمبر اسلام نے دانائی اور حکمت کے لیے اللہ تعالیٰ کا ڈر اہم قراردیا۔یہی وجہ ہے اگرچہ مادیت پرستی نے انسان کو مذہب اور خداسے دور کردیا ہے لیکن پھر بھی انسان نے دنیاکانظام درست کرنے کے لیے ڈرکوبنیادی ہتھیار بناکر اسے قانون کی شکل میں نافذ کیا۔آپ تصور کریں کہ پورے ملک میں اگرہرجرم پر سزامعطل ہوجائے اورحکومت یہ اعلان کردے کہ کل سے حکومت کی طرف سے کسی بھی جرم پر کوئی بھی سزایا پوچھ گچھ نہیں ہوگی توکیاہوگا؟یقیناًآپ کو انگریزی فلم ’’The Purge‘‘ یاد آجائے گی۔حکمت بمعنی حکم کا ایک انصاف بھی ہے۔یعنی انسان کی حیثیت کوئی بھی ہواسے انصاف کرتے ہوئے ڈرنا چاہیے۔جدید دنیابے شک اس ڈر کو قانون کا ڈر قرار دے کر اسلام کی ابدی تعلیمات کا انکارکرتی پھرے لیکن یہ تصور اسلام ہی کا دیا ہوا ہے۔

بالاکوٹ میں بھارتی پے لوڈ گرانے کے خلاف ایف آئی آردرج

بالاکوٹ میں بھارتی پے لوڈ گرانے کے خلاف محکمہ جنگلات نے ایف آئی آردرج کرلی۔

بالاکوٹ میں بھارتی پے لوڈ گرا نے کی محکمہ جنگلات نے ایف آئی آردرج کرلی۔ ابتدائی رپورٹ ایس ڈی ایف او مانسہرہ عارف خان کی مدعیت میں درج کی گئی۔

ایف آئی آرمیں نامعلوم بھارتی پائلٹس کو ملزم قراردیا گیا ہے اور 19 چھوٹے بڑے درختوں کو پہنچنے والے نقصانات کا واضح ذکرکیا گیا ہے۔

بھارت نے ایئر اسٹرائیک کا دعوی کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی جنگی طیارے 21 منٹ تک پاکستان میں رہے اورانہوں نے 350 سے زائد افراد کو ہلاک کیا۔

پاک فوج نے بھارت کو کرارا جواب دیتے ہوئے دوسرے ہی روز 2 بھارتی طیاروں کو مار گرا کرایک پائلٹ ابھی نندن کو گرفتارکرلیا تھا جسے 2 دن بعد رہا کردیا گیا تھا۔

بھارت میں بے گناہ کشمیریوں پرہندوانتہاپسندوں کا تشدد، بھارتی اداکارہ پھٹ پڑیں

ممبئی: نامور بالی ووڈ اداکارہ اوربگ باس کی فاتح گوہر خان نے لکھنو میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے معصوم اور بے گناہ کشمیریوں پر ہونے والے تشدد پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نفرت پھیلانا بند کرو۔

گزشتہ روز بھارتی شہرلکھنو میں دوکشمیری نوجوان سڑک پرروزگارکمانے کے لیے ڈرائی فروٹ بیچ رہے تھے کہ اچانک زعفرانی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس بی جے پی اور وشوا ہندودل کے انتہا پسند کارکنوں نے ان پر حملہ کردیا اورانہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ کشمیری نوجوان مسلسل رو رو کر اپنی جان بخشنے کی بھیک مانگتے رہے لیکن ہندو انتہا پسندوں کو بالکل بھی ترس نہیں آیا اور وہ انہیں ڈنڈوں، لاتوں اور تھپڑوں سے تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔

معصوم اوربے گناہ کشمیریوں پرہونے والے ظلم کو دیکھ کر جہاں ہر آنکھ اشک بار ہوگئی وہیں بھارتی اداکارہ گوہر خان بھی یہ ظلم دیکھ کرپھٹ پڑیں اور ٹوئٹر پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہر داڑھی والا شخص دہشتگرد نہیں ہوتا، امید ہے درست سوچ اور ذہنیت رکھنے والے ہندو بھی یہ سب دیکھ کر اورزعفرانی رنگ کی غلط وضاحت سے خوفزدہ ہوں گے۔ گوہر خان نے ہندو انتہا پسندوں پر غصہ کرتے ہوئے کہا نفرت پھیلانا اورعقیدے کے نام پر دہشتگردی پھیلانا بند کرو۔

واضح رہے کہ گزشتہ روزبھارتی اداکارجان ابراہم نے بھی بھارتیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت پاکستان سے متعلق دقیانوسی سوچ رکھتا ہے جو بہت خطرناک ہے اور اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

ٹیکس نیٹ سے باہر 2 ہزار جائیدادوں اور سرکاری افسران کی نشاندہی

کراچی:  فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے تعلیمی اداروں کے بعد قابل ٹیکس آمدنی وجائیدادوں کے حامل سرکاری ملازمین کو بھی نوٹس ارسال کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔

ذرائع نے ایکسپریس کو بتایاکہ ایف بی آرکے ماتحت ریجنل ٹیکس آفس ان لینڈ ریونیو سروس کے اسپیشل یونٹ نے غیر رجسٹرڈ 16000 انفرادی تنخواہ داروں، 2000 غیررجسٹرڈ پراپرٹی مالکان اور پبلک سیکٹرکے غیررجسٹرڈ 200 افسران کی نشاندہی کی ہے جو قابل ٹیکس آمدنی کے باجود ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہیں۔

ایف بی آر نے وفاق وسندھ حکومت سے تعلق رکھنے والے قابل ٹیکس آمدنی کے حامل افسران کے خلاف بھی گھیرا تنگ کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ کراچی میں خدمات انجام دینے والے وفاق وسندھ حکومت کے 200 غیر رجسٹرڈ افسران کی نشاندہی ہوئی ہے جنھیں ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے نوٹس تیار کرلیے گئے ہیں۔ ایف بی آر نے سرکاری افسران کی جائیدادوں ودیگر املاک سے متعلق معلومات بھی حاصل کرلی ہیں۔

اسی طرح شہر بھر میں ایسی 2000 جائیدادوں کے مالکان کی نشاندہی کی ہے جو اب تک ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہیں انھیں پہلے مرحلے میں انکم ٹیکس آرڈیننس مجریہ2001کی شق 114 کے تحت نوٹسز جاری کیے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں انفرادی نوعیت کے تنخواہ داروں اور سرکاری افسران کو نوٹس ارسال کیے جائیں گے۔

اڑن موٹرسائیکل تیار، کمپنی نے آرڈر لینا شروع کردیئے

کیلیفورنیا: اگر آپ مسلسل ٹریفک جام سے اکتاگئے ہیں تو اڑن کٹھولے کی طرح اڑن موٹرسائیکل کا آرڈر دے سکتے ہیں۔ اس سواری کو جیٹ پیک کمپنی نے ڈیزائن کیا ہے اور ’دی اسپیڈر‘ نامی موٹرسائیکل کو دنیا کی پہلی پرواز کرنے والی موٹرسائیکل قرار دیا جاسکتا ہے۔

دی اسپیڈر کی قیمت تین لاکھ 80 ہزار ڈالر یعنی پانچ کروڑ پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ یہ دورانِ پرواز ازخود سیدھا ہوتا ہے جس کے لیے اسٹیبلائزر اور جائرواسکوپ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ یہ موٹرسائیکل جیٹ ٹربائن انجن کی بدولت اڑتی ہے اور زیادہ سے زیادہ 150 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک جاپہنچتی ہے۔ دی اسپیڈر مسلسل 20 منٹ تک 15 ہزار فٹ کی بلندی پر محوپرواز رہ سکتی ہے۔

اسے ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ ( وی ٹی او ایل) سواری کہا جاسکتا ہے جس کی پرواز کے لیے ٹیک آف کی ضرورت نہیں رہتی۔ اب جیٹ پیک کمپنی نے اس اہم سواری کے آرڈر لینا شروع کردیئے ہیں۔ پرواز کے لیے دی اسپیڈر مٹی کا تیل، جیٹ اے اور ڈیزل ایندھن استعمال کرتی ہے۔

اسے بنانے والی کمپنی نے مسلسل کئی برس سے اسے مختلف آزمائشوں سے گزارا ہے جس میں اب چار ٹربوجیٹ انجن نصب ہیں۔ پوری گاڑی کا وزن 105 کلوگرام ہے جبکہ 109 کلوگرام وزنی پائلٹ کو لے کر یہ پرواز کرسکتی ہے۔ پوری سواری ہاتھوں سے کنٹرول ہوتی ہے ۔ نیوی گیشن کے لیے 12 انچ ٹچ اسکرین لگایا گیا ہے۔  اس کے فی الحال دو ورژن استعمال کیے گئے ہیں۔ ایک فوجی مقاصد کے لیے ہے اور دوسری عام تفریح کی سواری ہے۔

تاہم ان دونوں اقسام کی اڑن موٹرسائیکل کے لیے آپ کو کم ازکم امریکا میں تو لائسینس کی ضرورت ہوگی۔

کانگریس، مودی کی چال کوسمجھے

بی بی سی ہندی کے تجزیہ نگار سوتک بسواس نے اگلے روز بہت ہی خوبصورت انداز میں مودی کی سیاسی چالبازی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ امریکی صحافی مائیکل کنرلی کا کہنا ہے کہ جب کسی سیاست دان کے منہ سے سچ نکل جائے تو اسے زبان کی لغزش کہا جا سکتا ہے۔گزشتہ ہفتے انڈیا کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما سے یہ ہی حرکت سر زد ہو گئی۔ بی ایس یدیورپا نے کہا کہ پاکستان پر انڈیا کے فضائی حملے سے انکی جماعت آئندہ عام انتخابات میں دو درجن سے زیادہ نشستیں حاصل کرے گی۔ کرناٹک کی ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ یدیورپا کی یہ بات حیران کن طور پر صاف گوئی پر مبنی تھی لیکن ان کا یہ بیان فوراً ہی حزب اختلاف کی جماعتوں نے اچک لیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ نریندر مودی کی جماعت کی طرف سے کھلا اعتراف ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے صرف ایک ماہ قبل وہ جوہری صلاحیت رکھنے والے اپنے ہمسایہ ملک سے کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ نریندر مودی مسلسل دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کی کوششوں میں ہے‘‘۔بسواس لکھتے ہیں کہ’’یدیورپا کی صاف گوئی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی شرمندگی سے دوچار کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر وی کے سنگھ کو اس بارے میں ایک بیان دینا پڑا جس میں کہا گیا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے خلاف فضائی حملہ ملک کے دفاع اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا نہ کہ انتخابات میں چند نشستیں جیتنے کیلئے۔ کوئی سیاسی جماعت یہ اعتراف کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ وہ جنگ کی سی کیفیت پیدا کر کے انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی اس وقت بھی نریندر مودی بہت اطمینان سے اپنے معمولات میں مشغول تھے۔ انڈین فضائیہ کے بالاکوٹ پر حملے کے چند گھنٹوں بعد ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف اب بے بسی کا شکار نہیں ہوگا۔ ملک کے کئی شہروں میں مودی کے فاتحانہ پوسٹر لگائے گئے جن میں انھیں فوجیوں کے درمیان ایک جدید ترین گن اٹھائے ہوئے دکھایا گیا اور پس منظر میں لڑاکا طیاروں اور زمین سے اٹھتے ہوئے شعلے دکھائے گئے۔انڈیا کی مشہور ٹی وی اینکر برکھا دت نے اس پوسٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ فوجیوں کی تصویریں انتخابی پوسٹر اور سٹیج پر لگی دیکھ کر وہ یقینی طور پر پریشان ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس پر پابندی ہونی چاہیے کیونکہ وردی کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے سے وردی کی حرمت پر حرف آتا ہے‘‘۔بسواس کے اس تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کے اندر اب یہ بات سمجھی جا چکی ہے کہ مودی سیاسی مفاد کی خاظر ملکی مفاد کو داؤ پر لگا چکا ہے۔

14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے اہم علاقے پلوامہ میں بھارتی فوجی دستے پر علیحدگی پسندوں کے حملے اور بعد ازاں وزیر اعظم نریندر مودی کے اشتعال انگیز آگ اگلتے بیانات نے بھارت بھر میں پاکستان مخالف جذبات کو عروج پر پہنچا یا ۔’’مودی دول‘‘ شیطانی گٹھ جوڑ حریت پسندوں کے اصل مطالبے سے توجہ ہٹا کر اسے پاکستان کی کارستانی قرار دلوانے میں مصروف تھا اور اب تک ہے۔ ان کی یہ کوشش ایک ایسے ماحول میں جب چند ماہ بعد بھارت میں الیکشن ہونے جا رہے ہی کسی حد تک کامیاب بھی دکھائی دیتی ہے کہ سارا بھارت سیخ پا اور ہندو انتہا پسند حلقوں میں پاکستان کو سبق سکھانے کا موقع غنیمت سمجھا جا رہا ہے۔بی جے پی کو’’ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا‘‘ کے مصداق یہ ایک سنہری موقع مل گیا ہے کہ اس طرح وہ پاکستان اور اسلام مخالف جذبات کو ہوا دے کر اپنے بکھرتے ووٹ بنک کو اکٹھا رکھ سکتی ہے۔بی جے پی کی یہ چال کانگریس کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہونی چاہیے کہ جس نے حالیہ ریاستی انتخابات میں پانچ ریاستوں میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔اگر لبرل اور معتدل مزاج جماعت ’’مودی دوول‘‘ چال کا شکار ہو گئی تو پھر وہ اپنا سیاسی مستقبل تاریک سمجھے۔یہ بات دیگر بھارتی سیاسی جماعتوں کو بھی سمجھنی چاہیے کہ مسئلہ کشمیر ایک حقیقت اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت ابھی حل طلب ہے۔ کشمیر کی لوکل سیاسی و مذہبی جماعتیں بھارتی قبضے کو اول روز سے مسترد کرتی آ رہی ہیں۔یہ مسئلہ نہ پاکستان کا پیدا کردہ ہے نہ کسی اور پڑوسی ملک کا بلکہ تقسیمِ ہندکے فارمولے کی خلاف ورزی کی وجہ سے یہ تنازعہ پیدا ہوا اور پھرخود بھارت ہی اسے یواین میں لے گیا تھا۔اس حقیقت سے روگردانی ہی فساد کی اصل جڑ ہے۔ہندوستانی حکمران اگر اپنے گریبان میں جھانکتے تو یقیناًیہ حالات پیدا نہ ہوتے اور مقبوضہ وادی میں بھارت اور سکیورٹی فورسز کی یوں روز چھترول نہ ہوتی۔اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اصل فتح دلوں کی ہوتی ہے جغرافیہ کی نہیں ۔کشمیری نوجوان، بچے اور بوڑھے اگر بھارت کے قبضے کو قبول کرنے والے ہوتے تو پون صدی کے بعد وہاں جے ہند کے نعرے لگ رہے ہوتے اور ترنگے کی حرمت کی خاطر وہ جان دے رہے ہوتے لیکن آج وہاں سب برعکس ہورہا ہے۔ترنگا پیروں تلے روندا جا رہا ہے جبکہ سبز ہلالی پرچم سینوں پر سجایا جاتا ہے، عقل مندوں کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔ جہان تک پلوامہ حملے اور مودی کی دھمکیوں کا تعلق ہے تو پاکستان نے دو ٹوک الفاظ میں اسے مسترد کرتے ہوئے تحقیقات میں مکمل تعاون کی پیشکش کی ہے مگر ساتھ ہی اسے یہ بھی باور کرادیاہے کہ اگر بھارت نے کوئی حرکت کی تو پھر پاکستان سوچے گا نہیں جواب دے گا۔پاکستان کی طرف سے ایسا سخت جواب اس لیے بھی ضروری ہو گیا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مودی حکومت اپنے عزائم کا کھل کر اظہار کر چکی ہے۔14فروری سے اب تک سامنے آنے والے حقائق سے یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ ماضی کے واقعات کی طرح پلوامہ کا واقعہ بھی ’’مودی دوول‘‘ منظم پلان ہے۔اس پلان کا بھانڈہ اس وقت پھوٹتا ہے جب اتنے بڑے واقعہ کے بارے اس کے ماسٹر مائنڈ جلد بازی میں الزامات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔حیران کن حد تک جلد بازی کی گئی کہ اگلے پانچ منٹ میں سوشل میڈیا پر حملہ آور کی ویڈیو اور تصویر لوڈ کر دی گئی۔اس سے بھی بڑی ششدر کردینے والی بات یہ سامنے آئی ہے کہ اگلے ہی پانچ منٹ میں اتنی بڑی تعداد میں ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں انہیں کس نے الرٹ رکھا تھا ۔اسی طرح اگلے پانچ منٹ میں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ350 کلو بارودی مواد استعمال ہوا۔ تحقیق کیے بغیر اگلے پانچ منٹ پاکستان پر الزام دھر دینے سے واضح ہوتا ہے کہ پلان بنانے والے کچھ زیادہ جلدی میں تھے۔

پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز: وارنر اور اسمتھ آسٹریلین ٹیم میں جگہ نہ بناسکے

آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے اپنے اسکواڈ کا اعلان کردیا ہے اور سیریز سے قبل پابندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود اسٹیون اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر کو اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

رواں ماہ پاکستان کے خلاف سیریز کے لیے دونوں آسٹریلین بیٹنگ اسٹارز کو ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا اور سلیکٹر ٹریور ہونز کے مطابق انہیں ٹیم میں منتخب نہ کر کے 23 مارچ سے شروع ہونے والی انڈین پریمیئر لیگ میں شرکت کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں بال ٹیمپرنگ پر اسمتھ اور وارنر پر ایک، ایک سال کی پابندی عائد کردی گئی تھی اور اس پابندی کا خاتمہ رواں ماہ ہو رہا ہے۔

یہ دونوں کھلاڑی پاکستان کے خلاف سیریز کا آخری ون ڈے میچ کھیلنے کے اہل تھے لیکن اس کی جگہ انہیں فارم کے حصول کے لیے انڈین پریمیئر لیگ میں شرکت کی اجازت دی گئی۔

پاکستان کے خلاف وہی آسٹریلین اسکواڈ سیریز کھیلے گا جس نے ابھی بھارت میں میزبان ٹیم سے ون ڈے سیریز کھیلی تھی اور گزشتہ ماہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران انجری کا شکار ہونے والے مچل اسٹارک بھی سیریز نہیں کھیل سکیں گے۔

ان دونوں کھلاڑیوں کو اسکواڈ کا حصہ نہ بنانے سے ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے آسٹریلین اسکواڈ پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے جہاں عالمی کپ کے لیے اسکواڈ کے انتخاب کی حتمی تاریخ 23اپریل ہے اور اس وقت انڈین پریمیئر لیگ چل رہی ہو گی۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 22مارچ سے کھیلا جائے گا۔

سیریز کے لیے آسٹریلین اسکواڈ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔

ایرون فنچ(کپتان)، عثمان خواجہ، شان مارش، پیٹر ہینڈزکومب، گلین میکسویل، ایشٹن ٹرنر، مارکس اسٹوئنس، ایلکس کیری، پیٹ کمنز، نیتھن کاؤلٹر نائل، جھائے رچرڈسن، کین رچرڈسن، جیسن بہرن ڈروف، نیتھن لایون، ایڈم زامپا۔

مسئلہ کشمیر کے حل تک ایٹمی جنگ خارج ازامکان نہیں، امریکی اخبار

امریکی اخبار نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کے خطرات کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطرات اس وقت تک موجود رہیں گےجب تک دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کرتے ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلواما میں حملے کے بعد دونوں ایٹمی طاقت کے حامل ہمسایہ ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی میں کمی آئی ہے لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں تک ایک اور خطرناک کشیدگی کے خطرات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ ‘مسئلے کے ساتھ مذہبی اور قومی پہلو جڑے ہوئے ہیں جس کا حل بھارت، پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے درمیان مذاکرات سے ہونا چاہیے، یہ ایک طویل عمل ہے جس کے لیے مرکزی فریقین نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی لیکن یہ حقیقت کے سوا کچھ نہیں ہے’۔

پاک-بھارت حالیہ کشیدگی کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کوامن کی خاطر خیر سگالی کے طور پر گرفتاری کے دو روز بعد ہی رہا نہیں کیا جاتا تو تنازع قابو سے باہر ہوسکتا تھا۔

یاد رہے کہ14 فروری کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلواما میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر حملے میں 44 پیراملٹری اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور بھارت کی جانب سے اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا گیا تھا جبکہ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

بھارت نے 26 فروری کو دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کی حدود میں در اندازی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مبینہ کیمپ کو تباہ کردیا ہے حالانکہ تباہی کے کوئی آثار نہیں ملے تھے۔

اگلے روز 27 فروری کو بھارتی فضائیہ نے کنٹرول لائن (ایل او سی) میں ایک مرتبہ پھر درانداز کی کوشش کی تو پاک فضائیہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دو بھارتی طیاروں کو مار گرایا اور ایک پائلٹ کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔

گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں کہا تھا یہ فیصلہ خطے میں امن کی خاطر خیر سگالی کے طور کیا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا کہ ‘وزیراعظم عمران خان نے پائلٹ کو بھارت واپس بھیج دیا جس کو خیرسگالی کے جذبے کے طور پر دیکھا گیا اور انہوں نے مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے حملے کی تحقیقات کا وعدہ کیا، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے موقع کو مزید جارحیت کے لیے استعمال کیا’۔

پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کو خیرسگالی کے طور پر واپس بھیجنے کے بعد بھی بھارتی جارحیت کا سلسلہ جاری رہا اور ایل او سی کے اطراف میں آزاد کشمیمر کے مختلف سیکٹرز کونشانہ بنایا گیا جہاں دو پاکستانی فوجیوں سمیت عام شہری بھی شہید ہوئے۔

بھارتی بحریہ نے 5 مارچ کو پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کی تھی جس کو پاک بحریہ نے ناکام بنا دیا تھا۔

ترجمان پاک بحریہ کے جاری بیان میں بتایا گیا کہ بھارت کو فضائی محاذ کے بعد سمندری محاذ پر بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاک بحریہ نے گزشتہ روز اپنے سمندری زون میں موجود بھارتی آبدوز کا سراغ لگایا اور پاکستان کی سمندری حدود میں اس کے داخلے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ ہر دم چوکنا رہتے ہوئے کامیابی سے بھارتی آبدوز کا سراغ لگا کر اُسے پاکستان کے پانیوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔

نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ ‘دونوں ممالک خطرناک سرحد پر ہیں جہاں بھارت، پاکستان پر حملہ کرتا ہے اور دونوں ممالک فضائی طور پر بھی آمنے سامنے آتے ہیں، اگلی کشیدگی یا اس کے بعد مزید ناقابل تصور ہوسکتی ہے’۔

Google Analytics Alternative