Home » 2019 » March » 10

Daily Archives: March 10, 2019

پاکستان اور بھارت نے اپنے ہائی کمشنر ایک دوسرے کے ملک بھیج دیے

لاہور: پاک بھارت تناؤ میں کمی کے بعد دونوں ملکوں نے اپنے ہائی کمشنر ایک دوسرے کےملک واپس بھیج دیئے ہیں۔

پاکستانی ہائی کمشنرسہیل محمود واہگہ بارڈرکے راستے نئی دہلی روانہ ہوئے جہاں وہ وزیراعظم عمران خان کا اہم پیغام بھارتی وزیراعظم تک پہنچائیں گے، پلوامہ حملوں کے بعد پیداہونیوالی کشیدگی اوربھارتی الزام تراشیوں کے بعد پاکستان نے 18 فروری کو ہائی کمشنرسہیل محمودکو نئی دہلی سے مشاورت کے لئے واپس بلالیاتھا۔ یہ اقدام بھارت کی طرف سے اپنے ہائی کمشنر اجے بساریہ کو واپس بلائے جانے کے بعد اٹھایا گیا تھا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق سہیل محمود نے بھارت روانگی سے قبل جمعہ کے روزوزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے انہیں خاص ہدایات اور بھارتی وزیراعظم مودی کے حوالے سے خاص پیغام بھی دیا

سفارتی ذرائع کے مطابق  سہیل محمود 14 مارچ کوکرتارپور کوریڈورکے حوالے سے پاک بھارت حکام کے پہلے اجلاس کی تیاریاں بھی کریں گے ۔ یہ اجلاس 14 مارچ کو واہگہ اٹاری بارڈرپربھارت میں ہوگا جس کے بعد 28 مارچ کو بھارتی وفد پاکستان میں اجلاس میں شرکت کرے گا۔

پاکستان کے منہ توڑجواب کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا جنگی جنون بھی  ٹھنڈا پڑتا نظر آرہا ہے اور انہوں نے بھی اپنے ہائی کمشنر کو واپس پاکستان بھیج دیا ہے ، اجے بساریہ گزشتہ رات اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا جیل میں نواز شریف سے ملاقات کا فیصلہ

لاہور: پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔

ملک میں دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی منظر نامے پر بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق بلاول بھٹو کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کریں گے اور پیپلز پارٹی نے ملاقات کے لئے محکمہ داخلہ پنجاب کو درخواست دیدی ہے جس میں نواز شریف سے بلاول بھٹو کی ملاقات کی اجازت مانگی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے بلاول بھٹو کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں نوازشریف کی عیادت کی اجازت دے دی ہے ۔ بلاول پیر کے روز 2 سے 4 بجے کے دوران نوازشریف کی عیادت کے لئے کوٹ لکھپت جیل جائیں گے۔

بلاول بھٹو کوٹ لکھپت جیل میں نوازشریف کی صحت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں اور وہ اپنے ٹویٹ میں بھی ان کی صحت پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری نے ایک دوسرے کے خلاف تند و تیز بیانات دیے تھے۔

ملکی مفادات کو دیکھ کر نیشنل ایکشن پلان پر عمل کا فیصلہ کیا، شاہ محمود قریشی

سکھر: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ملک کے اندرونی و بیرونی مفادات کو دیکھ کر نیشنل ایکشن پلان پر عمل کا فیصلہ کیا ہے۔

سکھر میں میڈیا سے گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم اپنی افواج کی کارروائی کے ذریعے بھارت کو امن کا واضح پیغام دے چکے ہیں۔ ہم بھارت کو جارحیت کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتے اور اگر اس نے جارحیت کی تو بھرپورجواب دیں گے، ہمیں مودی کی مجبوری کا ادراک ہے، نریندرا مودی اپوزیشن کی تنقید کی وجہ سے دباؤ میں ہیں، ان کابیانیہ بھارتی عوام بھی تسلیم نہیں کررہے، بھارتی عوام بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم کشمیر کھو چکے ہیں۔ بھارت میں انتخابات تک نریندرا مودی کا لب و لہجہ ایسا ہی رہےگا۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ میں 1948 سے کشمیر کا مسئلہ 1948 سے زیرِ بحث ہے، اس مسئلے پر اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی موجود ہیں، پاکستان ان قراردادوں پر عمل درآمد کی بات شد و مد کے ساتھ کرتا آیا ہے لیکن بھارت وعدہ کرکے فرار اختیار کررہا ہے، آج دنیا کی نظر میں ایک بار پھر اہم ہوگیا ہے، اقوام متحدہ نے کشمیر کی صورتحال پر رپورٹ بنائی ہے جس میں بھارتی مظالم کا ذکر ہے اور یہ سفارش کی ہے کہ وادی میں حالات کے جائزے کے لیے کمیشن بنایا جائے۔
کرکٹ میں سیاست کو شامل کرنے کے کی ایک اور بھارتی کوشش پر وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی کھلاڑیوں نےمیچ میں فوجی ٹوپیاں پہن لیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ بھارتی کرکٹ ٹیم کے اس اقدام پر نوٹس لے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت ملکی ادارے اور معیشت بہتر کررہی ہے، نیشنل ایکشن پلان پر سب کا اتفاق تھا لیکن عمل پیرا ہونے کی جرات نہیں تھی، پی ٹی آئی نے ملک کے اندرونی و بیرونی مفادات کو دیکھ کر نیشنل ایکشن پلان پر عمل کا فیصلہ کیا ہے، قومی قیادت کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس حوالے سے اپنی تجاویز دیں، ہم انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے مشاورت جاری رکھیں گے۔

ہٹ دھرم بھارت کی ’میں نہ مانوں‘ ضد برقرار ، پاکستان سے مطالبات کی تکرار

نئی دلی: پاکستان کی جانب سے جذبہ خیرسگالی کے تحت پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے باوجود بھارت میں نہ مانوں کی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور پاکستان سے ایک بار پھر بوسیدہ اور پرانے مطالبات دہرانے لگا۔

ڈھٹائی کی حدوں کو چھوتا بھارت اپنے منفی اور جارحیت پسند رویے پر نظر ثانی کرنے کے بجائے پاکستان سے طوطے کی طرح پرانے مطالبات دہرانے لگا، بھارت پاکستان کے مثبت اور دانشمندانہ اقدامات کے باوجود کشیدگی کم کرنے کو تیار نہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے پریس بریفنگ کے دوران ایک مرتبہ پھر پروپیگنڈے کو ہوا دی اور پاکستان سے بے تکے مطالبے کرتے ہوئے کہا کہ نیا پاکستان ہے، نئی حکومت ہے تو دہشت گردوں کے خلاف اقدامات بھی نئے ہونے چاہییں جو نا صرف نظر آئیں بلکہ ان کی تصدیق بھی کی جا سکے۔

ترجمان بھارت وزارت خارجہ پاکستان کے جذبہ خیر سگالی کے تحت پائلٹ کی رہائی اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے خود اپنے ملک کی سبکی کا سامان کرتے رہے اور پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے کو تباہ کرنے میں ایف-16 کے استعمال کے بے بنیاد الزامات کی تکرار کرتے رہے۔

رویشن کمار نے دنیا کا سب سے بڑا یوٹرن لیا اور اپنے میڈیا کو تسلی کی چوسنی دیتے ہوئے کہا کہ ابھی نندن پاک فضائیہ کی بھارتی تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے لاپتہ ہوئے جب کہ بھارتی فضائیہ کے حملے میں جیش محمد کا مدرسہ تباہ ہوا جہاں پاکستان عالمی میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دے رہا۔

واضح رہے کہ پلوامہ حملے میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر قسم کی تعاون کی پیشکش کی ہے تاہم مودی سرکار انتخابات میں کامیابی کے لیے جنگی جنون کو ہوا دے رہی ہے جس کا ادراک عالمی سطح پر بھی کیا جا چکا ہے۔ یہی وجہ کہ عالمی قوتیں پاکستان کے اقدامات کی معترف ہیں۔

میچ میں فوجی کیپس پہننے پر بھارتی کرکٹ ٹیم کیخلاف کارروائی کی جائے، فواد چوہدری

لاہور: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے آئی سی سی سے کرکٹ میچ کے دوران فوجی کیپ پہننے پر بھارتی کرکٹ ٹیم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹوئٹر پر اظہار خیال کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ یہ کرکٹ نہیں ہے، میں امید کرتا ہوں کہ جینٹل مینز گیم کو سیاست کی نذر کرنے پر آئی سی سی کارروائی کرے گی۔ اس حوالے سے پی سی بی بھی آئی سی سی میں باقاعدہ احتجاج کرے۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اگر بھارتی کرکٹ ٹیم کو نہیں روکا گیا تو پاکستان کرکٹ ٹیم کو بھی کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ لینی چاہئیں تاکہ دنیا کو اس حوالے سے باور کرایا جاسکے۔

گزشتہ روز بھارتی شہر رانچی میں آسٹریلیا کے خلاف میچ میں بھارتی ٹیم نے فوجی کیپس پہن رکھی تھیں۔ اس حوالے سے بھارتی کرکٹ بورڈ نے ٹوئٹ کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بھارتی ٹیم پلوامہ حملے پر بھارتی افواج سے اظہار یک جہتی کے لیے کیمو فلاج کیپ پہنے گی۔

میچ میں فوجی کیپس پہننے کے بعد بھارتی ٹیم کا بھی وہی حشر ہوا جو پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی پر بھارتی فوج کا ہوا تھا یعنی دونوں مرتبہ شکست بھارت کا مقدر بنی۔

بھارت کاجنگی جنون۔۔۔وزیراعظم نے ایک بارپھرمتنبہ کردیا

adaria

بھارت کو ایک دفعہ پھر وزیراعظم نے واضح کردیاہے کہ ملکی سالمیت اور آزادی کی خاطر ہم آخری حد تک لڑیں گے اور ہر صورت میں ملکی تحفظ کویقینی بنایاجائے گا، بار بار یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ ہم امن کے داعی ہیں اسی وجہ سے بھارتی پائلٹ کو رہا کیا۔ پاکستان کے امن اقدام کی ہمیشہ ہی ہرزہ سرائی کی جبکہ انڈیا کے مقابلے میں پاکستان میں نہ صرف اقلیتیں محفوظ ہیں بلکہ ان کو تمام حقوق بھی حاصل ہیں جبکہ بھارت میں اتنے نسل کش فسادات ہوتے ہیں کہ جن کی مثال شاید ہلاکوخان کے دورمیں بھی نہ ملتی ہو۔وزیراعظم عمران خان نے چھاچھرو میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہاں حکومت اقلیتوں کی حفاظت نہیں کررہی۔ ہم اقلیتوں سے کسی قسم کا ظلم نہیں ہونے دیں گے۔ملک میں ہندوؤں کومکمل تحفظ دیں گے ۔ جو آج ہندوستان میں ہو رہا ہے لوگ کہتے ہیں کہ قائداعظم جوکہتے تھے وہ بالکل ٹھیک ہے۔ اقلیتوں کو حقوق نہیں ملتے۔ پاکستان میں ہم ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ انسانوں کو تقسیم کرکے ووٹ لینا نفرت کی سیاست ہے۔ کہاں مہاتما گاندھی جس نے مسلمانوں کیلئے بھوک ہڑتال کی کہ انہیں نہ مارا جائے اور کہاں مودی کا ہندوستان جس میں مسلمانوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے۔ مودی کا مقصد نفرتیں پھیلا کر ووٹ لینا ہے۔ اس لئے جنگ کا ماحول بنارہے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ہمارا ہیرو ٹیپو سلطان ہے۔ بہادر شاہ ظفر نہیں۔ ٹیپو سلطان آخری دم تک لڑا۔ میں اور میری قوم آخری دم تک آزادی کیلئے لڑے گی۔ آج بھارت کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے۔ مودی کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔ اپنے دفاع کا پورا حق رکھتے ہیں۔ بھرپور جواب دیں گے۔ الیکشن جیتنے کیلئے مسلمانوں کا خون نہیں بہے گا۔کوئی بھی ملک مسلح گروپوں کو اجازت نہیں دیتا۔ کوئی سمجھتا ہے پاکستان کو غلام بنا لے چاہے وہ بھارت ہو یا کوئی سپر پاورسن لے ہم آخری حد تک آزادی کی جنگ لڑیں گے۔نیز وزیراعظم نے کہاکہ تھرپارکر کے75 فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے ہیں۔ پچھلے تین چار سال میں 13 سو بچے خوراک کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ میرا اقتدار میں آنے کا سب سے بڑا مقصد پاکستان میں لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے۔ تھرپارکر میں سب سے زیادہ غربت ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد سارے اختیارات صوبوں کو چلے گئے۔ تھرپار کر کیلئے صحت پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہیلتھ کارڈ ایک لاکھ 12 ہزار گھرانوں کو ملے گا۔ کسی قسم کی بیماری ہو تو 7 لاکھ 50 ہزار روپے کا علاج انہیں ملتا ہے۔ دو موبائل ہسپتال ہونگے جس میں آپریشن بھی ہو سکے گا۔ دوائیاں ملیں گی۔ اس کے علاوہ 4 ایمبولینسز دوں گا۔ تھر کا کوئلہ سارے پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔ جن پسماندہ علاقوں سے معدنیات ملیں گی پہلے ان علاقوں کو روزگار ملے گا۔ ہم نے غریب طبقے کو اوپر لیکر آنا ہے۔ آپ کے کوئلے کا آپ کو فائدہ پہنچے۔ ہم تھرپارکر کو سولر انرجی دیں گے۔ یہ سب سے سستا اور آسان طریقہ ہے۔ یہاں تقریبا آدھی آبادی ہندو مذہب کے لوگوں کی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امن کا ہاتھ بڑھایا تو تھام لیں گے مکا دکھایا تو توڑ دیں گے، ہم امن کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں تم جنگ کا طبل بجا رہے ہو، ہم نے تمہارے پائلٹ کو صحیح سلامت بھیجا جبکہ تم نے ہمارے شاکر کی لاش بھجوا دی، بھارتی جارحیت کے باوجود ہم امن چاہتے ہیں، انہوں نے 1971 میں یہاں ہندوستان کی فوج نے قبضہ کر لیا تھا مگر میں مودی کو کہنا چاہتا ہوں کہ مودی اس بار سوچنا ضرور کیونکہ اس وقت یہاں یحییٰ خان وزیر اعظم تھے اب عمران خان ہیں اور یہ نیا پاکستان ہے اور قیادت بھی نئی ہے ۔ عمران خان مغرب کی جانب دیکھ رہے تھے اور تم نے مشرق سے وار کر دیا اور اگر مودی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو اس ملک کا بچہ بچہ حفاظت کیلئے کھڑا ہو گا ۔ مودی کی نظر الیکشن پر لگی ہوئی ہے مگر ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اس لئے یہ واضح کر رہے ہیں اگر دوبارہ جارحیت کی تو پھر ہماری طرف سے ایسا جواب آئے گا کہ تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا۔ دوسری جانب انسانی خون کی بھوکی مودی سرکار کا جنگی جنون تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ پاکستان سے بحری اور فضائی محاذ پر شکست کے بعد بھارت حواس باختہ ہو گیا۔ روس سے 3 ارب ڈالر کی اکھولا ٹو نیوکلیئر آبدوز لینے کا معاہدہ کر لیا۔ دفاتر میں تعینات 20 فیصد فوجی افسران کو پاکستان اور چائینہ بارڈر پر تعینات کرنے کا فیصلہ اور مقبوضہ کشمیر کے علاقے راجوری میں سرحد پر مزید 200 بنکرز بنانے کی منظوری دیدی۔ ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق وزیردفاع نرملا ستھارمن نے فوج میں اصلاحات کے پہلے مرحلے کی منظوری دیدی جس کے تحت آرمی ہیڈکوارٹرز سے 229 آفیسرز کی دوسری جگہ تقرری کی جائے گی۔ ڈپٹی چیف فار ملٹری آپریشنز اینڈ سٹرٹیجک پلاننگ کا نیا عہدہ بنایا جائے گا جبکہ انسانی حقوق کی صورتحال کے جائزے کیلئے ایک نیا ونگ بھی تشکیل دیا جائے گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق آرمی ہیڈکوارٹر سے 20 فیصد بھارتی فوجیوں کو چین اور پاکستان کی سرحد پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے راجوری میں سرحد کے قریب 200 مزید بنکرز بنانے کی منظوری دیدی جن میں 180 انفرادی اور 20 کمیونٹی بنکرز ہیں۔ بھارت سرحد کے قریب 14 ہزار بنکرز تعمیر کر رہا ہے۔

حج تربیت میں تھری ڈی ایپلی کیشن کی شمولیت خوش آئند
اسلام میں حج ایک ایسافریضہ ہے جس کو ہرمسلمان شخص ادا کرنے کی خواہش رکھتا ہے جس دن سے کلمہ گو آنکھ کھولتاہے تو آخری دم تک اس کی رب کے حضوریہی التجاء ہوتی ہے کہ اے رب کریم میرے نصیب میں حرم پاک کادیدار اورروضہ رسولﷺ پر حاضری یقینی بنادے تاکہ میری آخرت سنورجائے۔دنیابھرسے ہرسال مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ عازمین حج کے لئے جاتے ہیں خاص کرپاکستان میں ساری عمرلوگ اپنی روزمرہ کی زندگی کے اخراجات سے بچت کرکے رقم حج کے لئے جمع کرتے ہیں تاکہ وہ حج کی سعادت حاصل کرسکیں۔یوں تو حج صاحب استطاعت پرفرض ہے تاہم اس مرتبہ حج بہت مہنگا ہوگیا ہے کیونکہ حکومت نے سبسڈی ختم کردی ہے۔یہ ایک علیحدہ موضوع ہے اس وقت یہاں پرحج کے حوالے سے بات اہمیت کی حامل ہے کہ عازمین حج کو حج ادا کرنے کاصحیح طریقہ آنالازمی ہے اس سلسلے میں حکومت کی کاوشیں قابل تحسین ہیں اور وہ حجاج کرا م کی تربیت کے سلسلے میں تھری ڈی ایپلیکشن کوبھی حج تربیت کاحصہ بنائیں گے۔عازمین حج کی تربیت اخبارات،سوشل میڈیا کے ذریعے بھی کی جائے گی۔سرکاری کے علاوہ پرائیویٹ میڈیا کوبھی حج تربیت آگاہی میں حصہ ڈالناچاہیے۔تھری ڈی ایپلیکشن عازمین حج کے لئے بہت ممدومعاون ثابت ہوگی اس کے ذریعے حاجی صاحبان دیکھ سکیں گے کہ طواف کرنے کا،رمی کرنے کا،میدان عرفا ت جانے کا،مزدلہ جانے کا،نیزدیگرارکان کیسے ادا کئے جائیں گے اس سلسلے میں وزارت کام کررہی ہے ۔حکومت کو چاہیے کہ وہ حج تربیت کی ورکشاپوں کااضافہ کرے اورخاص کرملک کے دوردرازعلاقوں کو اس سلسلے میں ترجیح دی جائے۔

اب اسکائپ کے ویب ورژن پر ایچ ڈی ویڈیو کالز کرنا ممکن

گوگل ڈو کی جانب سے ویڈیو چیٹ کے لیے ویب ورژن متعارف کرانے پر مائیکرو سافٹ نے اسکائپ کی ویب ورژن سروس کو ری ڈیزائن کردیا ہے۔

اسکائپ فار ویب میں اب پرائیویٹ اور گروپ کالز کے لیے ایچ ڈی ویڈیو سپورٹ دی گئی ہے۔

مگر یہ سہولت صرف کروم اور ایج براﺅزر استعمال کرنے والوں کے لیے ہی ہے، فائر فوکس یا کسی اور براﺅزر میں ایسا ممکن نہیں ہوگا۔

ایچ ڈی ویڈیو سپورٹ سے ہٹ کر بھی اسکائپ میں انٹرفیس ڈیزائن کو پہلے سے بہتر بنایا گیا ہے اور بات چیت کے مواد کو ٹریک کرنا بھی آسان کردیا گیا ہے۔

ایک نیا نوٹیفکیشن پینل دیا گیا ہے جس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کسی نے کب آپ کو مینشن کیا ہے۔

اسی طرح نئی میڈیا گیلری بھی دی گئی ہے جس میں ہر لنک اور میڈیا موجود ہوتا ہے جو ٹیکسٹ چیٹ میں آپ نے شیئر کیا ہو یا کسی نے آپ کے ساتھ شیئر کیا ہو، تاکہ اسکرول کیے بغیر کوءیتصویر تلاش کرسکیں۔

ایک اور فیچر کے ذریعے آپ کسی دوست کی بات چیت میں مخصوص گفتگو سرچ کرسکتے ہیں۔

ری ڈیزائن اسکائپ فار ویب ونڈوز 10 یا میک 10 آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والے کمپیوٹرز پر ہی قابل استعمال ہے اور کروم اور ایج پر ہی اسے استعمال کرسکتے ہیں، دیگر براﺅزرز پر ابھی اس کی سپورٹ نہیں دی گئی۔

ہمیں متحدہو کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا

پاکستان دشمنی تو ہمیشہ سے ہی بھارت کاانتخابی نعرہ رہی ہے۔پاکستان کے بہتر اور پرامن برتاؤ نے نہ صرف بیرون ملک بلکہ اندرون ملک مودی اور اس کی حکمران جماعت کو شکست فاش دی۔ بھارتی عوام نے بھی اپنی سرکار کا بھیانک چہرہ دیکھ لیا۔ جنگی اور سفارتی محاذ پر ناکامی کے بعد بھارت نے پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے کی منصوبہ بندی شروع کردی۔ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو تیز کرنے کیلئے اپنے پرانے دوستوں اور ایجنٹوں سے رابطے کئے گئے۔ایم کیو ایم لندن، براہمداغ بگٹی اور پی ٹی ایم سمیت دیگرکا لعدم تنظیموں کو اربوں روپے کی فنڈنگ کا فیصلہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھارت نے پاکستان کے خلاف 6321 فیک آئی ڈیز بنائی ہیں جن کے ذریعے مذہبی نفرت پھیلانے ، صوبائی عصبیت پیدا کرنے اور حساس اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے اور جعلی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کا کام کیا جائے گا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان آئی ڈیز کو افغانستان، ساؤتھ افریقہ، لندن اور بھارت سے آپریٹ کیا جائیگا۔اس کے ساتھ ساتھ جعلی مدارس اور دہشت گردی کے کیمپس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالی جائیں گی۔ اس خوفناک منصوبے کیلئے انتہا پسند ہندوؤں کو باقاعدہ تربیت دی جارہی ہے جنہوں نے مسلمانوں کی طرح داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں اوران کو مسلمان ظاہر کر کے پاکستان بھیجا جائے گا جہاں ان کی ایسی ویڈیوز بنائی جائیں گی کہ مسلمان دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں کو چلا رہے ہیں۔ اس ضمن میں ہمارے اہم اداروں کو اطلاع مل چکی ہے اور انہوں نے اس کے سدباب کیلئے کام بھی شروع کر دیا۔مودی منصوبے کے تحت ایم کیو ایم لندن کے وفد نے براہمداغ بگٹی سے حال ہی میں ملاقات بھی کی ہے۔ان ویڈیوز کی بنیاد پر پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کیا جائیگا۔ کہا یہ جائے گا کہ پاکستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے کیمپوں کی ویڈیوز ہیں ۔پھر ایک ڈرامہ کے تحت اپنے لوگوں کو خود ہی گرفتار کر کے ان سے پاکستان میں دہشت گردی کے کیمپوں کے بارے میں بیان دلوایا جائے گا کہ پاکستان ان کیمپوں کے ذر یعے مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے پاکستان سے بدلہ لینے کیلئے پاکستان میں خصوصی طور پر تربیت یافتہ دہشت گرد بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے جو مختلف شہروں میں اہم عمارات ، ہوائی اڈوں، مساجد اور دیگر مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بناسکتے ہیں۔جنگی جنون اور خطے کے امن کو تباہ کرنے کے خواہشمند مودی نے اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی پاکستان کو حملے کی دھمکی دی ہے۔ جہاں تک ایم کیو ایم لندن کا تعلق ہے تو ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ ایم کیو ایم لندن اور را کے شروع دن سے تعلقات رہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ پر یہ الزام کئی بار لگا کہ اس کے نہ صرف بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ اینجسی را کے ساتھ نہ صرف روابط رہے بلکہ یہ سچائی بھی بڑی حد تک کھل کر سامنے آتی رہی کہ ایم کیوایم بھارت سے خفیہ طور پر رقم بھی لیتی رہی۔ایم کیو ایم لندن کے کارکن بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے عسکری تربیت لیتے رہے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے ایک اہم کارکن صولت مرزا نے پھانسی سے پہلے ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ ایم کیو ایم کے کارکن بھارت میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام نے صولت مرزا کے اس بیان کو اپنے کانوں سے سنا۔ ایم کیو ایم لندن کے را کے ساتھ رابطوں کے بارے میں دستاویزی ثبوت پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔بھارت بلوچستان کے باغیوں کی نہ صرف پیٹ ٹھونک رہا ہے بلکہ انہیں مالی وسائل بھی مہیا کر رہا ہے۔ بھارتی سازشوں کا مرکز افغانستان کے صوبہ قندھار میں ہے اور اس کی بیشتر برانچیں اب افغانستان کے دوسرے صوبوں میں بھی میں کھل گئی ہیں۔ جہاں پاکستان سے اغوا کیے گئے بے روزگار پڑھے لکھے جوانوں کو معاشی ترغیبات سے اپنے ہی ملک کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے۔ بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو دس دس ہزار روپے تنخوادہ دے کر ملک دشمن سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ بھارت افغانستان میں پناہ گزین براہمداخ بگٹی کے علاوہ دیگر بلوچوں کو بلوچستان میں بدامنی کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت بلوچستان کے علیحدگی پسندبھارتی سرمائے سے یورپی ممالک برطانیہ، کینیڈا، دبئی، اومان کے ہوٹلوں میں رہائش پذیر ہیں۔بھارت تو اس انتظار میں ہے کہ نام نہاد بلوچ لیڈر ہندوستان میں پناہ کیلئے باضابطہ درخواست دیں تو چند ہفتوں میں انہیں پناہ دیدی جائے گی۔ کچھ بلوچ قوم پرست یہ سمجھتے ہیں کہ جنیوا میں مقیم بلوچ ریپبلکن پارٹی کے جلاوطن سربراہ براہمداغ بگٹی کی طرف سے انڈیا میں سیاسی پناہ کی درخواست کے فیصلے کا بلوچوں کی آزادی کی تحریک پر منفی اثر پڑے گا اور یہ کہ اس سے پاکستان کے ان الزامات کو شاید تقویت ملے کہ بلوچستان میں آزادی کی کوئی تحریک نہیں بلکہ انڈیا بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے؟لہٰذا بھارت کے حالیہ منصوبوں میں ایم کیو ایم لندن اور بلوچ علیحدگی پسند وں کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں ۔ہمیں متحدہو کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا جس طرح حالیہ صورتحال میں حکومت، اپوزیشن، فوج اور عوام اپنے ذاتی وسیاسی اختلافات بھلا کر ایک ہوئے اور دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی اسی طرح ہم ایک ہو کر دشمن کو ملک کے اندر اور باہر ہر جگہ ناکام و نامراد کر سکتے ہیں۔
Google Analytics Alternative