Home » 2019 » March » 10 (page 2)

Daily Archives: March 10, 2019

اسٹیٹ بینک اور ابو ظہبی فنڈ کے درمیان 2 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط ہوگئے

اسٹیٹ بینک اور ابو ظہبی فنڈ فار ڈیولپمنٹ کے درمیان 2 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک اور ابوظہبی فنڈ فار ڈیولپمنٹ فنڈ کے درمیان یہ معاہدہ ابوظہبی کی پاکستان کے لیے مالی معاونت کے اعلان کی دوسری قسط ہے۔

پاکستان ابو ظہبی کی جانب سے اس معاہدے کے تحت ایک ارب ڈالر جنوری میں حاصل کرچکا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہےکہ 2 ارب ڈالر کا فنڈ جلد ہی ملنے کی توقع ہے۔

واضح رہےکہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس اکتوبر میں سعودی عرب کے فوری بعد متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے یو اے ای سے مالی معاونت کی درخواست کی تھی۔

21 دسمبر کو ابو ظہبی ڈیولپمنٹ فنڈ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اکاؤنٹ میں 3 ارب ڈالر جمع کرانے کا اعلان کیا تھا جن میں سے پہلی قسط 24 جنوری کو موصول ہوئی۔

جنسی ہراسانی الزام؛ علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ایک اور درخواست دائر کردی

لاہور: گلوکار واداکار علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔

لاہور کی سیشن عدالت میں گلوکار علی ظفر کی میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعویٰ کی سماعت ہوئی۔ علی ظفر نے اپنے وکیل رانا انتظار حسین کی وساطت سے میشا شفیع کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں علی ظفر کے وکیل نے استدعا کرتے ہوئے کہا میشا شفیع نے عدالت میں ہتک عزت کے دعویٰ کے جواب میں جھوٹ بولا اور عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، لہٰذا عدالت میشا شفیع کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

واضح رہے کہ میشا شفیع کے خلاف گلوکارعلی ظفر نے پہلے ہی ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا ہوا ہے جس میں یہ موقف اختیار کیاگیا تھا کہ میشا شفیع کی جانب سے ان پر لگائے جانے والے جنسی ہراسانی کے الزامات درست نہیں ہیں۔ میشا شفیع نے ان پر الزامات سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے لگائے لہٰذا عدالت میشاشفیع کو بے بنیاد الزامات لگانے کے لیے ہرجانہ اداکرنے کا حکم جاری کرے۔

کیس کا پس منظر

گزشتہ برس میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ علی ظفر نے انہیں ایک بار نہیں کئی بار ہراساں کیا ہے جس کے جواب میں علی ظفر نے میشا شفیع پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے انہیں ایک ارب ہرجانے کا نوٹس بھجوایاتھا۔

بین الاقوامی پروازوں کیلیے پاکستانی فضائی حدود کھولنے کا اعلان

کراچی: سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے جنوبی ایشیا کی جانب سے بین الاقوامی پروازوں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود کھولنے کا اعلان کردیا۔

سی اے اے نے بین الاقوامی ٹرانزٹ پروازوں کے لیے فضائی حدود کی بندش میں مزید 3 روز کی توسیع کرتے ہوئے 11 مارچ کی دوپہر 3 بجے تک فضائی حدود بند رکھنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اب جنوبی ایشیا کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کھول دی گئی جس کا نوٹم جاری کردیا گیا ہے۔

مشرق کی طرف سے پاکستان میں داخل ہونے والی فضائی حدود بند رہے گی اور بھارت کی سمت سے کوئی پرواز پاکستان میں داخل نہیں ہوگی۔

سی اے اے کے مطابق ملک کے فعال ہوائی اڈوں پر 15 مارچ تک جزوی طور پر آپریشن بحال رہے گا جبکہ سیالکوٹ، رحیم یار خان اور بہاولپور ائیر پورٹ بند رہیں گے۔

غیر فعال ہوائی اڈے پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے 27 فروری سے فضائی آپریشن کے لیے مکمل طور پر بند ہیں۔ فضائی حدود پر پابندی کے باعث بنکاک، سنگاپور، بیجنگ، کوالا لمپور، ٹوکیو سمیت متعدد مقامات پر ہزاروں پاکستانی وطن واپسی میں تاخیر کا شکار ہوگئے ہیں جبکہ ویزے کی مدت ختم ہو جانے والے زیادہ پریشان ہیں۔

پاکستان اہم ترین اتحادی ہے اور ہمیشہ رہے گا، چین

چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی ثالثی کا خیرمقدم کرتا ہے لیکن بھارت گریزاں نظر آتا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بیجنگ میں نیشنل پیپلز کانگریس کے دوسرے سیشن کی سائڈ لائنز پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چینی وزیرخارجہ نے پاکستان کے قیام امن اور کشیدگی کے خاتمے کیلیے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی ثالثی کاخیرمقدم کرتا ہے لیکن بھارت گریز کرتا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان ہمارا اہم ترین اتحادی ہے اور ہمیشہ رہے گا تاہم چین امید کرتا ہے کہ پاکستان اور بھارت تصادم کا راستہ اختیار کرنے کی بجا ئے مذاکرات سے مسائل کا حل نکالیں تاکہ خطے میں امن کے لیے سازگار ماحول میسر آئے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ژو نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کے خواہش مند ہیں، پاکستان اور بھارت کو ماضی کی تلخیاں بھلا کر اچھے تعلقات استوار کرنے چاہیئے، اس حوالے سے پاکستان کے اقدام خوش آئند اور قابل ستائش ہیں۔

 

23 میٹرک ٹن مصنوعی زیورات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

کراچی: پاکستان کسٹمز اے ایس او نے بھارت سے ایران کے راستے کراچی پہنچنے والی 23 میٹرک ٹن مصنوعی زیورات اسمگل کرنیکی کوشش ناکام بنادی۔

ڈپٹی کلیکٹر اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن فیصل خان نے ایکسپریس کو بتایا کہ ملک میں پہلی بار بھارتی مصنوعی زیورات کی اتنی بڑی مقدار پکڑی گئی ہے جس کی مالیت 1کروڑ 75لاکھ 60ہزار روپے ہے۔

کسٹمز اے ایس او کو ایک خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کوئٹہ سے آنے والے ٹرک نمبر زیڈ 2063 پر لدے 40 فٹ کے کنٹینر میں بھارتی آرٹیفیشل جیولری موجود ہے جس کی بناوٹ ایرانی طرز کی ہے اس اطلاع پر کسٹمز پریونٹو اے ایس او حکام نے سپرہائی وے پر جانچ پڑتال سخت کر دی، اس دوران مذکورہ نمبر کے ٹرک کو روک کر ایگزامنیشن کی گئی تو کنٹینر میں رکھے گئے 390 کاٹنز میں بھارتی مصنوعی زیورات اور تقریباً 17لاکھ روپے مالیت کے بھارتی ہیئر ربنز کی برآمدگی ہوئی، حکام نے ٹرک ڈرائیور سے متعلقہ دستاویزات طلب کیے۔

دستاویزات میں صرف مصنوعی جیولری کا اندراج تھا لیکن پروڈکٹ کا اوریجن درج نہیں تھا جس پر حکام نے مقدمہ درج کر کے مال ضبط کر لیا اور ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔

اسی طرح پاکستان کسٹمز اپریزمنٹ ویسٹ آر اینڈ ڈی نے کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل پر جمعے کو ایک کارروائی کے دوران متحدہ عرب امارات سے ٹرانس شپمنٹ کنسائمنٹ کی موصولہ ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کی تو اس بات کا انکشاف ہوا کہ ٹرانس شپمنٹ کنٹینر میں پرانے آٹو پارٹس کی آڑ میں موبائل فونز، ٹیبلٹس، سیٹلائٹ ڈش ریسیورز، سی سی ٹی وی کیمرے، کاپر ریفریجریشن ٹیوب، بال بیرنگز، سرکٹ بریکرز، فنگر پرنٹس اسکینرز، ڈائلیسس مشینز کو اسمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے قومی خزانے کو ریونیو کی مد میں 6 کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ کلکٹر کسٹم اپریزمنٹ ویسٹ واجد علی کو موصول ہونے والی ایک خفیہ اطلاع پرمذکورہ چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔

پاکستان نے اب تک شدت پسند تنظیموں کےخلاف ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے، امریکی جنرل

واشنگٹن: امریکا کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ پاکستان نے ابھی تک ملک کے اندر موجود شدت پسند تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔

برطانوی ویب سائیٹ کے مطابق واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کمیٹی برائے دفاعی امور ’’ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی‘‘ کے اجلاس کے دوران جنرل جوزف ووٹل نے کہا کہ پاکستان نے امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے افغان امن زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں معاونت کے لیے مثبت اقدامات کیے، پاکستان نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران جس قدر تعاون کیا ہے وہ اس سے پہلے 18 برس میں دکھائی نہیں دیا تھا۔ خطے میں امن پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفادات کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے اگر افغان تنازع کے حل میں پاکستان مثبت کردار ادا کرتا ہے تو امریکا بھی پاکستان کی مدد کرے گا۔ افغانستان میں مصالحتی امن کے لیے ہماری کوششوں کے باوجود اب تک وہاں وہ سیاسی ماحول پیدا نہیں ہوا جس کی بنیاد پر امریکی فوجی انخلا ہوسکے۔

امریکا کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم اپنی وزارت خارجہ کی مدد کرتے ہیں کہ وہ افغان تنازع کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جائے اور مستقبل کے معاہدوں میں اس کردار کا خیال رکھا جائے۔ خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے جوہری صلاحیت کا حامل پاکستان ہمیشہ اہم رہے گا کیونکہ یہ روس، چین، انڈیا اور ایران کے سنگم پر واقع ہے تاہم پاکستان کے کئی اقدامات امریکا کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔

جنرل جوزف ووٹل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ابھی تک ملک کے اندر موجود شدت پسند تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کیے ہیں اور اسی طرح افغانستان میں موجود ایسے گروہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ سرحد کی دونوں طرف ایسے گروہوں کی کارروائیوں سے دونوں ممالک میں تشدد اور کشیدگی کو فروغ ملتا ہے۔

مودی کاجنگی جنون

پلوامہ واقعے کے بعد پاکستان کو بھارت کی جانب سے جنگ کی دھمکیوں کے بعد خطے میں صورت حال کشیدہ ہو گئی جبکہ بھارتی حکمران طبقہ نے اس صورت حال پر قابو پانے کے بجائے جنگی جنون کو مزید ہوا دی ۔بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی اور بے جی پی کے لیڈر عوام میں جنگی جنون پیدا کرنے میں مصروف ہیں جبکہ بھارتی میڈیا اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہاہے۔پاکستان بھارت پر بار بار واضح کر چکا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو پھر وہ اس کا بھرپور جواب دے گا۔پاکستان بھارت کو پلوامہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کر چکا ہے مگر بھارت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا مثبت جواب دینے کے بجائے منفی رویہ اپناتے ہوئے دھمکیوں پر اتر آیا ہے جس کی وجہ سے بھارتی عوام میں انتہا پسندانہ رویہ جنم لے رہا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں جہاں بھارت نے دس ہزار فوجیوں کو بھیجا ہے وہاں وادی میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے حریت رہنماؤں سمیت سینکڑوں کارکنوں کو بھی گرفتار کیاگیا ۔دراصل بھارت پر جنگی جنون سوار ہے اور مودی سرکار اپنی الیکشن مہم میں ہر چیز جھونکنے پر بضد ہے اور جنگی جنون کو ہوا دے کر مودی کی شکل میں انتہا پسند اور مکار گروہ آنے والے الیکشن میں عوام کے جذبات سے کھیل کر اقتدار کا حصول چاہتا ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی خطرناک صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالات کی سنگینی پر سخت تشویش میں مبتلا ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ ایشیاء کی دو جوہری طاقتوں کے درمیان حالات بہت خراب اور انتہائی خطرناک ہیں۔راجھستان میں پاکستانی سرحد کے قریب وسیع پیمانے پر جنگی مشقوں نے حالات کی کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ۔ بھارتی ائیر فورس کے جنگی طیاروں کے مظفر آباد سیکٹر میں آزاد کشمیر کی حدود کے اندر گھس آنے اور ہمہ وقت مستعد اور چوکس پاک فضائیہ کے شاہینوں کی بروقت جوابی کاروائی پر بدحواسی میں بالا کوٹ کے قریب ہتھیاروں اور ایمونیشن پر مشتمل اپنا پے لوڈ پھینک کر واپس فرار ہونے سے پلوامہ میں رچائے جانے والے خود کش حملے کے بھونڈے ڈرامے کے وہ مکروہ پس پردہ بھارتی عزائم کھل کر سامنے آ گئے۔بھارتی وزارت خارجہ نے فضائی خلاف ورزی کے اس واقعے سے پہلے لاعلمی کا اظہار کیا لیکن بعد میں دعویٰ کیا کہ بالاکوٹ کے قریب دہشت گردوں کے مبینہ کیمپ کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔پاکستان نے یہ دعویٰ مسترد کر دیا ۔بھارتی فوج نے سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر بجوات سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں رینجرز کا ایک جوان شہید اور ایک شہری زخمی ہو گیا ۔ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان نے بھارت کو سرپرائز اور بدلہ لینے کا کہا تھا۔ پاکستان نے بھارت کو سرپرائز دیتے ہوئے پاکستانی ائیر فورس نے صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔بھارتی طیاروں نے بارڈر کراس کیا تو دو بھارتی طیارے مار گرائے گئے ۔ایک طیارے کا ملبہ آزاد کشمیر دوسرے کا مقبوضہ کشمیر میں گرا ۔دو بھارتی پائلٹس کو گرفتارکیاگیا ۔ڈی جی ایس پی آر نے کہا کہ ہمارے پاس جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔اس واقعے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے اپنی مختصر نشری تقریر میں اس بات کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ۔ہم ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔پلوامہ حملے میں آپ کو دکھ پہنچا ۔پاکستان کے مفاد میں قطعاً نہیں کہ ہماری سرزمین استعمال کی جائے ۔ بھارت سے کہتا ہوں کہ عقل مندی دکھانا ہو گی ۔جو ہتھیار ہم دونوں کے پاس ہیں ان کے ہوتے ہوئے غلط اندازے لگائے جا سکتے ہیں ۔بھارت سے مکمل تعاون کیلئے تیار تھے ۔بھارت کو کہا ہمیں اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرنا ہو گی ۔بھارتی طیاروں نے بارڈر کراس کیا تو انہیں شاؤٹ ڈاؤن کیا ۔معزز قارئین بھارتی حکومت کے ہیجان انگیز طرز عمل نے پورے بھارت میں ’’ بدلہ لو‘‘ کی لہر چلا دی ہے ۔پاکستان کا بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کرنا مثبت انداز فکر کی غمازی کرتا ہے۔قبل ازیں لڑی گئی جنگوں کا اختتام مذاکرات پر ہی ہوا تو کیا بہتر نہیں کہ یہ خونیں کھیل کھیلنے کی بجائے مذاکرات ہی کی راہ اپنائی جائے اگرچہ پاکستان موجودہ حالات میں کسی بھی طرح کی جنگ کا خطرہ مول لینے کا متحمل نہیں ۔ہم دہشت گردی کی جنگ میں باقاعدہ شریک ہیں ۔بھارت کی یہ روائت رہی ہے کہ جب حکومت داخلی مسائل کا شکار ہونے لگتی ہے تو پاکستان کے ساتھ جنگ کی سی صورت حال پیدا کر کے اپنی سیاسی حیثیت مستحکم کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔یہ ایک حقیقی خدشہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ جنگ شروع ہوتی ہے تو اسے ایٹمی جنگ میں بدلنے سے روکنا مشکل ہو گا کیونکہ پاکستان بھارت کے ساتھ روایتی جنگ میں فتح یاب ہونے کی توقع نہیں کر سکتا اور نہ ہی جنگ کو طول دینے کی پوزیشن میں ہے ۔کھلی جنگ کی صورت میں یقینی دفاع کیلئے ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال پاکستان کی مجبوری بن جائے گا امریکہ نے ایک بار پھرمشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بھارت فوجی کاروائی سے گریز کریں ۔امریکہ کے محکمہ دفاع کی خفیہ ایجنسی نے پاک بھارت جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ایک رپورٹ تیار کی۔ رپورٹ کے مطابق پاک بھارت ایٹمی جنگ میں نوے لاکھ سے لیکر ایک کروڑ چالیس لاکھ تک لوگ ہلاک ہو جائیں گے جبکہ بڑی تعداد میں ان ہلاکتوں کو شامل نہیں کیا گیا جو ایٹمی جنگ کے بعد انتہائی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں گے جو پانی خوراک اور ہوا کی تابکاری سے آلودہ ہونے کے باعث ہوں گی ۔پاکستان اور ہندوستان کے پاس وافر مقدار میں یورینیم موجود ہے جو دونوں ممالک کے تمام بڑے شہروں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہے ۔دونوں ممالک کو ایٹم بم چلانے اور استعمال کرنے میں صرف دو سے تین منٹ درکار ہیں ۔میزائل کا جوابی میزائل حملہ اسی وقت ہو گا ، لوگ بے حس اور سکتے کی کیفیت میں ہو ں گے ۔ ہر بڑے شہر کی چھوٹی بڑی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن جائیں گی ۔حتیٰ کہ ہر جاندار ختم ہو جائے گا ۔طبی سہولتیں بالکل نہ ہو ں گی اور نہ کوئی طبی سہولت مہیا کرنے والا ہو گا ۔ایٹم بم چلنے کے تقریباًایک گھنٹے بعد جو لوگ بچے ہوں گے وہ تابکاری سے لگنے والی بیماریوں سے موت کے منہ میں جا پہنچیں گے ۔قحط اور فاقہ زدگی کا عالم ہو گا ۔خوراک کے ذخائر خاک کا ڈھیر بن جائیں گے ۔سخت قسم کا موسمیاتی خلل کئی سالوں تک موجود رہے گا ۔دھماکہ لاکھوں ٹن خطرناک گیسیں فضا میں چھوڑے گا جو کہ سورج کو ڈھانپ لے گا ۔سورج کئی ہفتوں تک آسمان پر نظر نہیں آئے گا ۔فتح کا جشن منانے کیلئے کوئی زندہ نہیں بچے گا ۔اب تک دنیا میں ایٹم بم پہلی اور آخری بار 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے دوران استعمال کیا گیا ۔یہ دو ایٹم بم جو جاپان اور جرمنی کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر گرائے گئے تھے ان سے اب ہزاروں گنا جدید اور بڑی قوت کے ایٹم بم موجود ہیں ۔اگر ایٹمی جنگ ہوتی ہے تو نہ صرف دونوں ممالک کا نقصان ہو گا بلکہ نزدیکی ہمسائیہ ممالک بھی متاثر ہوں گے۔ایٹم بم کا استعمال صرف اسی وقت کیا گیا جب دوسرے فریق کے پاس یہ ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی ۔دو ایٹمی قوت کی حامل طاقتیں اس کا ا ستعمال نہیں کر سکتیں کیونکہ ایٹمی جنگ کا مطلب دو طرفہ تباہی ہے ۔ اس وقت دنیا میں جتنی بھی ایٹمی قوتیں موجود ہیں ان میں امریکہ دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی قوت ہے اس نے بھی ویت نام کی طویل جنگ میں ایٹم بم استعمال نہ کیا ۔روس کو افغانستان میں بہت بڑی شکست وہزیمت اٹھانا پڑی لیکن ایٹم بم استعمال نہ کیا گیا ۔سوویت یونین اور امریکہ سیاسی چالوں سے ہی ایک دوسرے سے نمٹتے رہے جبکہ ایٹمی ہتھیار چلانے سے گریزاں ہی رہے ۔جاپان اور جرمن اقوام جو کبھی جنگجوئی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں اس وقت امن کی سفیر ہیں ،وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے ایٹم بم سے ہونے والی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے ۔دنیا کی با اثر قوتیں پاک بھارت ایٹمی جنگ کے حوالے سے اپنی تشویش تو ظاہر کرتی ہیں لیکن جنگ کے خطرے کی جڑ یعنی تنازعہ کشمیرکے حل میں کردار ادا کرنے سے گریزاں ہیں ۔بھارت اپنے ملک کے عوام میں جنگی جنون پیدا کر رہا ہے اور ہمیشہ اس ملک کے صاحبان اقتدار دھمکی کے لہجے میں بات کرتے ہیں ۔لہٰذا نریندر مودی سرکار اپنے سیاسی مفاد کو مدنظر رکھ کر بے گناہ عوام کو تباہی و بربادی کی بھٹی میں نہ جھونکے ۔دونوں ممالک کے مسائل کی فہرست بڑی طویل ہے اگر بھار ت کو جنگ کرنا ہی ہے تو اپنے ملک میں بے روزگای ،جہالت اور غربت کے خلاف کرے۔

*****

کرکٹ کی بہار نے کراچی میں رنگ بکھیر دیے

کراچی: کرکٹ کی بہار نے کراچی میں رنگ بکھیر دیے جب کہ شاہراہوں اور نیشنل اسٹیڈیم کے اطراف میں میلے کا سماں ہے۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی کو پی ایس ایل 4کے فائنل سمیت 5میچز کی میزبانی کرنا تھی۔ بعد ازاں بھارتی دراندازیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال اور انتظامی مشکلات کی وجہ سے لاہور میں شیڈول تینوں میچز بھی شہر قائد منتقل کردیے گئے، پہلا مقابلہ ہفتے کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرزکے مابین ہوگا۔

نیشنل اسٹیڈیم ہی نہیں بلکہ پورے کراچی میں کرکٹ کی بہار رنگ جما چکی ہے، شاہراہوں اور وینیو کے اطراف میں میلے کا سماں ہے،تزئین و آرائش کے بعد اسٹیڈیم خوبصورت منظر پیش کرنے لگا، روشنیوں نے اس کا حسن مزید نکھار دیا ہے۔

مقابلوں کیلیے مختص پچز مکمل تیار اور ڈھانپ دی گئی ہیں،چھت کا بعض حصہ مکمل نہیں کیا جا سکا،وینیو سیکیورٹی اداروں کے سپرد کیے جانے کے بعد کام روک دیا گیا تھا، اسٹیڈیم اور اطراف میں سخت حفاظتی حصار قائم کردیا گیا، اطرف میں ہر طرح کی نقل و حرکت کی بھی کڑی نگرانی ہورہی ہے۔

گزشتہ روز اسلام آباد یونائیٹڈ،لاہور قلندرز،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اورکراچی کنگز کی ٹیموں نے پریکٹس کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا سلسلہ جاری رکھا، دوسری جانب شائقین کا جوش و خروش بھی عروج پر پہنچ چکا ہے، بیشتر ٹکٹ فروخت ہوچکے اور اسٹیڈیم میں خوب رونقیں نظر آنے کا امکان ہے۔

ہفتے کا میچ لاہور قلندرز کیلیے بقا کی جنگ ہے، یواے ای میں میچز کا مرحلہ مکمل ہونے پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز14اور پشاور زلمی 12پوائنٹس کے ساتھ پلے آف میچ کھیلنے کا حق حاصل کرچکے ہیں، تیسرے نمبر پر دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ کے9 میچز جبکہ کراچی کنگز کے8 مقابلوں میں8،8 پوائنٹس ہیں، لاہور قلندرز نے 8میں سے صرف 3میچز جیتے اور 6پوائنٹس کے ساتھ پانچویں پوزیشن پر ہے، ملتان سلطانز کا صرف ایک میچ باقی اور پوائنٹس4ہیں۔

شعیب ملک الیون کا ایونٹ میں سفر تمام ہو چکا،اس صورتحال کے مطابق کراچی کنگز کو2 میں سے ایک میچ میں فتح بھی پلے آف مرحلے میں رسائی دلاسکتی ہے جبکہ امیدیں زندہ رکھنے کیلیے لاہور قلندرز کو اسلام آباد اور ملتان سلطانز دونوں کو شکست دینا ہوگیْ

کراچی میں ہفتے کولاہور قلندرز کو مات دے کر  دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ 10پوائنٹس کے ساتھ پلے آف مرحلے تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں،دوسری صورت میں قلندرز کی ملتان سلطانز کے ہاتھوں شکست سمیت کراچی کنگز کے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی سے میچز کے نتائج کا بھی انتظار کرنا ہوگا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان محمد سمیع کو غیر ملکی کرکٹر جارح مزاج لیوک رونکی،کیمرون ڈیلپورٹ، فل سالٹ اور تجربہ کار اسپنر سمت پٹیل کی خدمات میسر ہوں گی، ملکی بیٹسمینوں میں آصف علی اچھی فارم میں ہیں، فہیم اشرف بیٹ اور بال دونوں سے مفید ثابت ہوسکتے ہیں،لیگ اسپنر شاداب خان کی گھومتی گیندیں بیٹسمینوں کیلیے مسائل پیدا کرسکتی ہیں۔

پیسر عماد بٹ نے بھی گزشتہ میچز میں اپنی ورائٹی سے حریفوں کو پریشان کیا ہے، نوجوان فاسٹ بولر محمد موسیٰ نے اچھی بولنگ سے اپنے روشن مسقبل کی نوید سنائی۔ لاہور قلندرز کے کپتان فخرزمان کو غیر ملکی کرکٹرز اسٹروک میکر اینٹن ڈیوچ، قابل بھروسہ آل راؤنڈر ڈیوڈ ویز، ان فارم اسپنر سندیپ لامی چینے اور ہارڈس ویلجوئن کا ساتھ میسر ہے،آل راؤنڈر ریان ٹین ڈوئچے کا خلا پُر کرنے کیلیے انگلش وکٹ کیپر بیٹسمین رکی ویسلز بھی کراچی پہنچ چکے ہیں،سری لنکن آل راؤنڈر اسیلا گونارتنے کی جلد آمد بھی موقع ہے ۔

مقامی کرکٹرز میں حارث سہیل انٹرنیشنل کرکٹ کا تجربہ رکھتے ہیں،سہیل اختر بھی جارحانہ اسٹروکس کھیلنے کے ماہر ہیں، بولرز میں شاہین شاہ آفریدی اپنی دھاک بٹھا چکے، راحت علی پی ایس ایل 4میں ایک بہتر بولر کے طور پر ابھرے ہیں،دونوں ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلہ متوقع ہے۔

Google Analytics Alternative