Home » 2019 » March » 10 (page 4)

Daily Archives: March 10, 2019

دہلی ہوش کے ناخن لے

سلطنت روما کا زوال تاریخ کا عبرتناک اور سبق آموز باب ہے روما کے ’خدابنے حکمران‘ اپنی طاقت قوت‘وحشت و ہیبت‘سطوت اور تکبرونخوت کے نشہ میں چورکمزور‘بے بس اور ناتواں انسانوں پرروما حکمرانوں نے کیسے کیسے مظالم نہیں ڈھائے وہ تو کمزور و ناتواں اقوام کو انسان سمجھتے ہی نہیں تھے، بلا آخر زوال پذیر ہوئے جن کے شرمناک اور ذلت آمیز شکست وریخت کے واقعات سے جدید عہد کے جدید سامراجیوں نے کچھ سیکھنا گوارا نہیں کیا، سلطنت روما کے زوال کے اسباب وہ جاننا چاہتے ہی نہیں اگر جاننے کی کوشش کرتے تو اْنہیں علم ہوتا سلطنت روما کے زوال کی ابتداء کی اصل وجہ کیا تھی محکوم اقوام پر اُن کے غاصبانہ اقتدار کی گرفت جب ڈھیلی پڑی تو اُنہیں پتہ چلا کہ افواج جو طاقت وقوت اور تحفظ کا واحد سرچشمہ ہوتی ہیں روما کے اقتدار کے کرتا دھرتاؤں نے اپنی قومی فوج کو اپنا ذاتی نوکر بنایا ہوا تھا اْن کی فوج جس کی پیشہ ورانہ لڑاکا مہارت کا شہرہ تھا اْن کی عسکری منظم جنگی مہارتوں کا جو شہرہ ایک عالم میں پھیلا ہوا تھا اُس وقت روما کی فوج کا جو رعب ودبدبہ تھا وہ فوج جب اپنے عسکری امور کے بنیادی اصولوں سے ہٹ گئی بادشاہوں کے خاندانوں اور اْن کے اشرافیہ کے نوکروں کی عاد ات روما کی فوج میں منتقل ہوگئیں فوج ریاست کی نوکربن کررہ گئی مطلب یہ کہ سلطنت روما کے بادشاہوں کا جاہ وجلال فوج کے نوکر بننے کے بعد صرف دکھاوے کا رہ گیا، پیشہ ور منظم فوج کی غیر موجودگی میں ظاہر ہے کہ بادشاہ اور اْن کے خاندان کے شاہی افراد خود کیا محفوظ رہتے؟ سابقہ سوویت یونین کی شکست وریخت کا انجام اُس کے سامنے ہے اِسی ’انڈین یونین‘ نے بھی اپنی فوج کو’ نئی دہلی کا نوکر بنا دیا گیا ‘ اُس کی ادارہ جاتی عسکری خود مختاری کے کردار کو ’ہندوتوائی نظام‘ میں ضم کردیا گیا ، اب بھارت کی فوج قرونِ وسطیٰ کے مہندم سلطنتِ روما جیسی ’نوکر فوج‘ کی شکل اختیار کرچکی ہے اپنے طور گو بعض بھارتی فوجی جنرلز کبھی کبھار کوئی اخباری بیان ’مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل ‘کے سلسلہ میں جاری کر دیتے ہیں مگر اُن کی سنتا کوئی نہیں‘ کشمیر کی موجودہ تشویشناک صورتحال بھارتی فوج کیلئے ایک بہت اہم سنگین ایشو بن گیا ہے، ہر دوماہ بعد نئی دہلی کے حکم پر تازہ دم فوجی دستے وادی میں بھیج دئیے جاتے ہیں مگر پھر بھی کشمیر نئی دہلی کی لاکھ کوششوں کے باوجود عالمی میڈیا کی سرخیوں میں رہتا ہے حال ہی میں اْس وقت بھارت کو بہت بڑی سفارتی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جب اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے پاکستان کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے رپورٹ جاری کر دی کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ظالمانہ خلاف ورزیاں ہورہی ہیں اقوام متحدہ کمیشن کی یہ رپورٹ 20 جون 2018 کو نئی دہلی کے حوالے کی گئی جس پر بھارت سخت چراغ پا ہوا لیکن حقائق سے مفر ممکن نہیں‘ جو سچ ہے وہ دنیا کے سامنے آگیا پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی طرف سے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی سفارشات کا مطالبہ کیا تھا، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 38 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو آگاہ کیا کہ ’اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق حالیہ رپورٹ اس حوالے سے پاکستان کے دیرینہ موقف کی واضح توثیق کرتی ہے، دوسری جانب اپنی ہی جاری کردہ رپورٹ میں اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاکیت کا معترف بھی نظرآتا ہے ساتھ ہی ’بے بسی‘ کا اظہار؟ عوامی جمہوریہ چین نے کسی لگی لپٹی کے بغیر اس بارے میں اپنی بجا تشویش کا اظہار کیا کیونکہ یہ انتہائی حساس معاملہ علاقائی امن وسلامتی سے تعلق رکھتا ہے جنوبی ایشیا کے امن سے ایشیا کا امن وابستہ ہے اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے سنگین سلگتے مسئلہ پر اپنی ‘بے بسی’ کی پالیسی سے نظرثانی کرنی پڑے گی کشمیر میں انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے منظور کردہ نکات کی خلاف ورزیوں کا جواب بھارت سے کرنا پڑے گا ایل اوسی کی خلاف ورزیاں روز کا معمول بنتی جارہی ہیں 19 جنوری کوکھوئی رٹہ اور اِس سے ملحق علاقہ میں بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں جوسنگین ناخوشگوار واقعات دنیا نے اخبارات میں پڑھے ٹی وی اسکرینیوں پر دیکھے اس پر مستقبل کی عظیم سپرپاور چین کی تشویش کی سنگینی سے پہلو تہی نہیں کی جاسکتی یہاں پر یاددلادیاجائے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پائمالی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد پر تحقیقاتی کمیشن کے فوری قیام کا مطالبہ کیا تھا، عالمی میڈیا سمیت مقبوضہ وادی سے آنے والی خبروں کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں وزیر اعظم پاکستان کے اس جائز مطالبہ کے فوراً بعد کشمیر میں غاصب بھارتی فوج کی کارروائی میں تین کشمیری حریت پسند جبکہ آٹھ نہتے معصوم شہری شہید کرد ئیے گئے ظلم و بربریت کا یہ واقعہ پلوامہ میں بھارتی فوج کی براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں رپورٹ ہوا نئی دہلی کے بزرجمہروں نے ہرقیمت پر کشمیر کو اپنے زیر نگیں رکھنے اور کشمیریوں پرظلم وستم کے پہاڑ توڑنے کے سفاکانہ حربے آزمانے کا جو ہتھکنڈا اپنی فوج کوازبر کرادیا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگے کہ ’یہ بھارت ہے ماضی کی سلطنت روما نہیں ہے لہٰذاء جیسے ’روما‘ کے حکمران اپنی فوج کوا پنا ذاتی ملازم سمجھ کر تباہ برباد ہوئے بھارت برباد نہیں ہوگا ؟یہ کیسے ممکن ہے نئی دہلی نے خود کو ’سلطنت روما سمجھا ہوا ہے کھل کر انسانیت کی تذلیل پر تذلیل ہورہی ہے کیا نئی دہلی کو چلانے والے تاریخ سے سبق سیکھنا نہیں چاہتے نہیں جانتے کہ تاریخ ہمیشہ ہر عہد میں اپنے آپ کو زندہ رکھتی ہے سلطنتِ روما کی طرح سے ’بھارتی یونین‘ نے بھی انسانیت کی بقاء اور احترام کی تاریخ سے روگردانی کا وطیرہ اپنا رکھا ہے۔ نئی دہلی کے زیر قبضہ کئی حصوں میں وہاں کے ثقافتی وسماجی کلچر کی آزادی کیلئے لوگوں نے مسلح جدوجہد شروع کی ہوئی ہے تو پھر کیوں یہ نہ سوچا کہ ‘بھارتی یونین’ سلطنت روما کی طرح سے آج نہیں تو کل بکھر ے گی ضرور ‘نئی دہلی کے بزرجمہروں کو سمجھایا دیا جائے۔ لہٰذا نئی دہلی کے پاس ابھی بھی وقت ہے وہ عقل کے ناخن لے۔

*****

بالاکوٹ حملہ ووٹرز کو لبھانے کے لیے تھا، سابق سربراہ بھارتی بحریہ

نئی دلی: بھارتی بحریہ کے سابق سربراہ رام داس نے مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سازش کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالاکوٹ کارروائی ووٹرز کو لبھانے کے لیے رچائی گئی تھی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا چہرہ عالمی میڈیا کے بعد اب خود بھارتیوں کے ہاتھوں بے نقاب ہوتا جا رہا ہے۔ سابق فوجی افسران بھی مودی کو آڑے ہاتھوں لینے لگے۔

بھارتی بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل ریٹائرڈ رام داس نے الیکشن کمیشن کو لکھے خط میں وزیراعظم مودی کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  بھارتی فوج ہمیشہ سے غیر سیاسی اور سیکولر اقدارکی حامل رہی ہے لیکن حالیہ واقعات میں فوج کے سیاسی استعمال سے فوج میں ہندو انتہا پسندی پھیلنے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

ایڈمرل ریٹائرڈ رام داس نے انکشاف کیا کہ بالاکوٹ کارروائی ووٹروں کو لبھانے کے لیے کی گئی، صرف سیاسی فائدے کے لیے پاکستان میں کارروائی کی گئی جس کے لیے بھارتی فضائیہ کاغلط استعمال کیا گیا تھا، بالاکوٹ کی فضائی کارروائی فوج کی اقدار کے خلاف ہے۔

بھارتی بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل رام داس نے الیکشن کمیشن سے ایسے اقدامات اُٹھانے کا مطالبہ کیا جس سے کوئی سیاسی جماعت جنگجو والا پیغام یا جنگ پر بغلیں بجانے کا کام نہ کرے تاکہ فوج کے سیاسی فائدے اُٹھانے کے عمل کو روکا جا سکے ورنہ یہ آگ سب کو جلا دے گی۔

قیلولے کا بہترین وقت کیا ہے اور اس کا فائدہ کیسے حاصل کریں؟

دوپہر کو کچھ دیر کی نیند صرف مزاج ہی خوشگوار نہیں بناتی بلکہ یہ زندگی کو طویل کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

گزشتہ روز یونان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ 20 منٹ کا قیلولہ عادت بنالینا درمیانی عمر میں دل کے دورے کا خطرہ کم کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کچھ دیر کی یہ نیند بلڈپریشر کی سطح کم کرتی ہے جس سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوتا ہے اور ہر عمر کے افراد اس عادت سے یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ قیلولہ یا دوپہر کو کچھ دیر سونا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔

قیلولے کا بہترین وقت کونسا ہے؟

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ رات بھر 8 گھنٹے کی نیند، صبح کی متحرک سرگرمیاں اور دوپہر کا صحت بخش کھانے کے بعد اچانک طبیعت سست اور غنودگی چھانے لگتی ہے؟

تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سہ پہر تین بجے کے قریب انسانی جسمانی گھڑی سست ہوجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ غنودگی یا سستی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔

امریکا کی سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کی نیند یا قیلولے کا بہترین وقت بھی دوپہر تین بجے کا ہے اور اس وقت بیس سے تیس منٹ کی نیند صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کو بیس سے تیس منٹ کی نیند ہی بہترین ہوتی ہے، اس سے زیادہ دورانیہ ذہن کو زیادہ غنودگی کا شکار کردیتا ہے، جبکہ رات کو سونا بھی مشکل ہوتا ہے۔

دفتر میں قیلولہ کیسے ممکن ہے؟

یقیناً گھر میں تو کچھ دیر کی نیند ایک اچھا خیال ہے مگر دفتر میں ایسا کیسے ممکن ہے ؟ تو اس کا جواب ہے کہ بس آرام کرنا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض خاموشی سے بیٹھ کر آنکھیں بندکرکے آرام کرنا بھی صحت کو قیلولے جیسے فوائد پہنچاسکتا ہے، اب یہ آپ اپنی کرسی میں کریں یا کچھ دیر کے لیے ٹوائلٹ جاکر، یہ آپ کی اپنی مرضی ہے۔

ہلکی سی غنودگی یا نیند کا یہ دورانیہ 10 منٹ تک ہونا چاہئے جس سے تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمونز کی سطح کم ہوتی ہے جبکہ جنک فوڈ کی خواہش سے بچنا بھی ممکن ہوتا ہے۔

زیادہ دیر تک سونے سے گریز کریں

2016 میں مشی گن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران 3 لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ لے کر یہ نتیجہ نکالا گیا جو افراد دن میں ایک گھنٹے سے زیادہ دوپہر کی نیند لینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں تھکاوٹ کا احساس بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جس کے باعث ذیابیطس کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح ایک گھنٹے سے زائد قیلولہ اور تھکاوٹ میٹابولزم کے نظام کو بھی نقصان پہنچا کر امراض قلب کے عوامی جیسے موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر وغیرہ کا خطرہ 50 فیصد پہنچا دیتا ہے۔

تاہم تحقیق میں طویل قیلولے اور امراض کے خطرات کی وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا یعنی محققین یہ بتانے سے قاصر رہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ دوپہر میں بہت زیادہ سونا اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ جسم میں سب کچھ ٹھیک نہیں۔

کراچی میں زیرِ تعمیرعمارت سے گرکر 5 مزدور جاں بحق، 6 زخمی

کراچی: بوٹ بیسن میں زیرِ تعمیرعمارت سے گرکر 5 مزدور جاں بحق اور 6 زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے بوٹ بیسن میں 3 مزدور زیرتعمیر عمارت سے گرکر زخمی ہوگئے تھے جنہیں زخمیوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب جناح اسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ 3 مزدوروں کو مردہ حالت میں جناح اسپتال لایا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عمارت کی چوتھی منزل پر تعمیراتی کام کے دوران واقعہ پیش آیا جہاں شیشہ لگانے کے دوران لفٹ گرگئی، جس پر مزدور کام کررہے تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بوٹن بیسن کے علاقے میں زیرِ تعمیر عمارت کے گرنے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے جاں بحق مزدوروں کے ورثاء کے لواحقین کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی زخمی ہے تورفوری علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

’ماں ہوں، بہن ہوں، گالی نہیں ہوں‘

دنیا بھر میں 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس ہی دن کی مناسبت سے پاکستان کے مختلف شہروں میں ریلییاں بھی نکالی جاتی ہیں جنہیں ’عورت مارچ‘ کا نام دیا گیا۔

ان ریلیوں میں خواتین کی تنظیمیں خواتین کے مسائل کی جانب توجہ مبذول کرواتی ہیں۔

عورت مارچ کراچی کے ساتھ ساتھ اسلام آباد اور لاہور میں بھی منعقد کیا گیا، جہاں نوجوان خواتین سمیت مردوں نے بھی ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔

اس مارچ میں سے سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے چند پلے کارڈز یہاں دیکھیں:

گھر کا کام سب کا کام
میرے کپڑے میری مرضی
ہم سب فیمنسٹ ہیں
ماں ہوں، بہن ہوں، گالی نہیں ہوں
لوگ کچھ نہیں کہیں گے
چائے چاہیے؟ ہمیں بھی دو جناب
میں اپنی چائے خود گرم کرتا ہوں
آؤ کھانا ساتھ بنائیں
میں بہت ناراض ہوں
مجھے کیا معلوم تمہارا موزا کہاں ہے؟
آج واقعی ماں بہن ایک ہورہی ہیں
خطرناک خواتین کا زمانہ

افریقی ملک ملاوی میں سیلاب سے 23 افراد ہلاک

افریقی ملک ملاوی میں سیلاب سے 23 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جب کہ 11 افراد لاپتہ ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افریقی ملک ملاوی میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب کے نتیجے میں 23 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ 11 شہری لاپتہ ہیں، سیلاب سے 22 ہزار مکانات اور ایک لاکھ 10 ہزار افراد متاثر ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

Flood 3

بارشوں اور سیلاب کے باعث کئی شہروں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا جب کہ 20 ہزار افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پینے کا صاف پانی اور خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔

Flood 2

اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ سرکاری عمارتوں میں ریلیف کیمپ قائم کر دیئے گئے ہیں۔ چاروں اطراف سے خشکی میں گھرے ملک ملاوی کی معیشت کا زیادہ تر انحصار غیر ملکی امداد پر ہے۔

مودی پورے خطے کادشمن

لگتا اایسا ہے کہ مودی پاگل ہو گیا ہے راتوں رات اس نے پاکستان کی سالمیت پر حملہ کیا ہے اور یہ بھول گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے اور کسی بھی جارحیت کا جواب پاکستان کی فوج کے پاس موجودہے اور بھارت کی جارحیت کے بعد قوم میں مکمل یکجہتی ہے اور عوام کا جذبہ مثالی ہے پاک فوج، عوام اور سیاست دان ایک پیج پر ہیں۔ کی عوام پاک وطن کی حفاظت سلامتی بقاء و حفاظت کی خاطر تمام تمام طبقے پاک افواج کے شانہ بشانہ اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہے پاک افواج نے پاکستانی حدود میں گھس آنیوالے بھارتی طیارے مارگرا یا اور ایک بھارتی پائلٹ گرفتار کرکے دشمن منہ توڑ جواب دے کر قوم کاسر فخرسے بلند کردیا ہے ۔مودی سرکار صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور بھارتی عوام کا بھی دشمن ہے اس نے خطے کے خوابوں تک کو چھلنی چھلنی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔وہ کروڑوں انسانوں کو سلگتی ، سسکتی کراہوں اور بھیانک اندھیروں میں جھونک دینے کے درپے ہیں۔ مودی موت کا سوداگر ہے ۔ پاکستان کے خلاف محاذ کھول کر گویا اس نے بھارت میں غربت کے دروازے کھول دیئے ہیں اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کی پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجاکر اس کا جغرافیہ تبدیل کر سکتے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستانی فوج ناقابل تسخیر ہے۔اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی پاس اتنی استطاعت موجود ہے کہ وہ اپنی دفاع بھی کر سکتا ہے اور دشمن کی جغرافیہ اور معیشت کو بھی تباہ کر سکتا ہے مودی کو یہ جاننا چاہیے کہ پاکستان پر مسلط جنگ کا آخری نتیجہ بھارت میں بھوک اور غربت ہوگا۔ نیشنل کمانڈاتھارٹی نے بھارت کو جواب دینے کیلئے اہم فیصلے کئے ہیں،نیشنل کمانڈ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستانی حدود میں بھارتی دراندازی کا فوری اور موثرجواب دیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں بجا فرمایا کہ بھارتی جارحیت کے بعد جواب دینا ہماری مجبوری تھی اور اس کا مقصد اپنی صلاحیت بتانا تھا۔ انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تھوڑی سی عقل اور حکمت کا استعمال کریں، آئیں مذاکرات سے مسائل کو حل کرتے ہیں۔دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں ، سب میں غلط اندازے لگائے گئے اور کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ جنگ کدھر جائے گی۔ پہلی جنگ عظیم جسے 6 ماہ میں ختم ہونا تھا، اسے 6 سال لگ گئے، دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر نے سوچا کہ روس کو فتح کر لوں، ویت نام کی جنگ میں بھی غلط اندازے لگائے گئے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کیا امریکہ نے سوچا تھا کہ وہ 17 سال تک افغانستان میں پھنسے رہیں گے؟ دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگوں میں غلط اندازے لگائے جاتے ہیں۔ میں بھارتی حکومت سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جو ہتھیار آپ کے اور میرے پاس ہیں، کیا ہم غلط اندازوں کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ اگر یہ معاملہ یہاں سے آگے بڑھتا ہے تو پھر کہاں جائے گا؟ معاملہ میرے کنٹرول میں رہے گا اور نہ ہی مودی کے کنٹرول میں رہے گا، میں پھر سے دعوت دیتا ہوں کہ ہم سانحہ پلوامہ میں ہر طرح کے تعاون کیلئے اور دہشت گردی سمیت ہر معاملے پر بات چیت کیلئے تیار ہیں ، اس وقت ہمیں بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کرنے چاہئیں۔سعادت حسن منٹو نے ’’تماشا‘‘ جیسا افسانہ لکھ کر بتایا تھا کہ جنگ سے لوگوں اور خاص کر بچوں کی نفسیات پر کیا اثر پڑسکتا ہے؟ اور ایک مشہور ترقی پسند ادیب نے کہا تھاکسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کیپٹلزم کے نام پر یا سوشلزم کے نام پر کسی تعصب یا غیر ملکی مفاد کے نام پر لوگوں کے سرپر بندوق لے چڑھ دوڑے۔ انہوں نے یہ گتھی سلجھانے کی کوشش کی کہ کس طرح انسان کے ہاتھ سے بندوق چھین لی جائے اور اس کے ہاتھ میں ایک پھول دیا جائے۔

گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں
گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں
مودی نے سیاسی مقاصد اور عوام سے ووٹ کے حصول کیلئے پاکستان پر جنگ مسلط کی۔ آج یہ سوال دور حاضر کے ہر حساس ذہن کیلئے سوہان روح ہوا ہے کہ س عہد کے بڑھتے ہوئے انتشار کا انجام کیا ہوگا؟ مودی نے گویادنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے وہ خطے کو جنگ کی طرف لے جارہے ہیں لیکن نہ تو جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔ سرد جنگ ہو ، کورین وار ہو ویت نام کی جنگ ہو یا افغانستان پر حملہ دنیا غیر محفوظ ہوتی جارہی ہے۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے جائیں تو معلوم ہوگا کہ جنگ نے انسان تباہی کے علاوہ کیا دیا ہے؟پہلی جنگ عظیم میں انسانیت کس قتل ہوا کونسی خوشی حاصل کی گئی؟ ہیروشیما ، عراق، لیبیا، اور افغانستان میں کھوپڑیوں کے مینار بنانے سے انسان کو کس بات کی تسلی ہوئی۔اس وقت میڈیا مغرب کے زیر اثر ہے اور اس پرکچھ مخصوص طبقوں کا تسلط ہے جو نہیں چاہتے کہ حالات بہتر ہو جائیں۔ خاص کر بھارتی میڈیاکا کام سوائے اشتعال پھیلانے کے اور کچھ نہیں ۔ میڈیا کی زمہ داری ہے اس منفی امیج کو مثبت رخ دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا میں صرف ان لوگوں کو زندہ رہنا ہے جو زندگی کے نغمہ گر ہیں نہ کہ موت کے سودا گر۔ یہی تاریخ کا سبق ہے ۔ آج ہم جس جنگی صورتحال سے دوچار ہیں اس سے نمٹنے کیلئے تحریر و تقریر سے جڑے ہر شخص کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ اپنا مثبت کردار ادا کرکے آگے بڑھے اور معاشرے کو نئی منزلوں کے راستے دکھا دے!۔

ایرانی تیل کی خریداری پر امریکی پابندی، بھارت کی مزید رعایت کے حصول کی کوششیں

نئی دہلی: بھارت، ایران سے 3 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی خریداری جاری رکھنا چاہتا ہے جس کے لیے امریکا کے ساتھ پابندیوں سے رعایت کی مدت میں توسیع کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں۔

بین الاقومی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ بھارت نے ایرانی تیل کی خریداری میں کمی ضرور کی ہے لیکن پابندیوں سے رعایت کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

یہ مذاکرات، حال ہی میں واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان مسئلہ بن کر سامنے آئے اور امریکا نے بھارت کا ترجیحی درجہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے تـحت امریکا کو جانے والی بھارت کی 5 ارب 60 کروڑ ڈالر سے زائد کی برآمدات پر ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل تھا۔

واضح رہے کہ بھارت کو جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنس (جی ایس پی) کا بہت زیادہ فائدہ پہنچتا تھا جو 1970 میں متعارف کروایا گیا تھا اور اب اس کی شمولیت ختم کرنے کا فیصلہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک بھارت کے خلاف سب سے سخت اقدام ہے۔

دوسری جانب نئی دہلی کی جانب سے کوششیں جاری ہیں کہ امریکا اسے 12 لاکھ 50 ہزار ٹن ماہانہ کی موجودہ مقدار پر ہی ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دے۔

خیال رہے کہ امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور دیگر 6 ممالک کے درمیان 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کے بعد گزشتہ برس نومبر میں ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کردیں تھیں۔

تاہم امریکا نے ایرانی تیل کے بڑے خریداروں، چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، ترکی، اٹلی اور یونان کو پابندیوں سے رعایت دیتے ہوئے محدود پیمانے پر ایران سے تیل خریدنے کی اجازت دی تھی لیکن امریکا کی جانب سے ان ممالک پر تیل کی خریداری ختم کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ اس پابندی سے رعایت کی مدت 4 مئی کو اختتام پذیر ہوگی۔

دوسری جانب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے شعبہ توانائی کے ترجمان ونسیٹ کیمپوس نے بھارت کی جانب سے کی گئی اس درخواست کی تصدیق نہیں کی لیکن کہا کہ ایرانی تیل کے 8 صارفین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ’ہم اس معاملے پر بھارت سمیت ہر ملک کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں گے‘۔

اس حوالے سے جنوبی کوریا کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ رواں ہفتے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار جنوبی کوریا کا دورہ کررہے ہیں، واضح رہے کہ جنوبی کوریا ایشیا میں ایرانی تیل کا چوتھا بڑا خریدار ہے۔

اس ضمن میں امریکی نائب معاون سیکریٹری برائے انسدادِ مالی خطرات و پابندی، ڈیوڈ پےمین نے جنوبی کوریا کے دفترِ خارجہ میں ماہرِ مشرقِ وسطیٰ اور افریقی امور ہونگ جن ووک سے چند روز قبل ملاقات کی تھی۔

Google Analytics Alternative