Home » 2019 » March » 10 (page 5)

Daily Archives: March 10, 2019

پروٹین سے بھرپور یہ مشروب موٹاپے سے نجات دلانے کیلئے فائدہ مند

اگر آپ جسمانی وزن اور توند سے نجات چاہتے ہیں تو کچن میں موجود 3 چیزوں سے بننے والا مزیدار مشروب اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

یقیناً توند سے نجات آسان نہیں مگر یہ مشروب بہت تیزی سے چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ یہ کام راتوں رات نہیں ہوتا، اس کے لیے اپنی غذا پر نظر رکھنے کے ساتھ ورزش کی بھی ضرورت ہوتی ہے مگر چند غذائی عادات طویل المعیاد بنیادوں پر موٹاپے کو دور رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

اگر آپ توند سے نجات چاہتے ہیں تو اس کے لیے پروٹین کی اہمیت جاننا ضروری ہوتا ہے۔

پروٹین ایسا جز ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتا ہے جس سے بے وقت منہ چلانے کی خواہش پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

پروٹین سے بھرپور مشروب روزانہ پینا توند کی چربی گھلانے کی رفتار کو تیز کرسکتا ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ اس کے لیے اجزا لگ بھگ ہر کچن میں ہی موجود ہوتے ہیں۔

اجزا

تخ ملنگا

لیموں

شہد

طریقہ کار

تخ ملنگا کے فوائد بتانے کی ضرورت نہیں جو نظام ہاضمہ بہتر کرتا ہے اور اچھا نظام ہاضمہ موٹاپے سے نجات کے لیے موثر ہتھیار ثابت ہوتا ہے، اسی طرح اس میں موجود فائبر آنتوں کے افعال بہتر کرتا ہے جبکہ بلڈشوگر لیول کو بھی مستحکم کرتا ہے۔

اس مشروب کو بنانے کے لیے آدھا چائے کا چمچ تخ ملنگا، ایک یا ڈیڑھ کپ پانی، ایک چائے کا چمچ شہد اور ایک چائے کا چمچ لیموں کا عرق لیں۔

سب سے پہلے ایک برگن میں پانی ڈالیں اور پھر اس میں تخ ملنگا کا اضافہ کرکے اسے 30 سے 45 منٹ کے لیے ایک طرف رکھ دیں، جس دوران تخ ملنگا کے بیج جیل جیسے ہوجائیں گے۔

اس کے بعد شہد اور لیموں کے عرق کا اضافہ کرکے ان اجزا کو اچھی طرح مکس کریں اور پھر اس میں تھوڑا سا پانی مزید ڈال لیں اور پھر اس کو پی لیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آئی سی سی سیکیورٹی ایکسپرٹ کا نیشنل اسٹیڈیم کراچی کا دورہ

کراچی: آئی سی سی سیکیورٹی ایکسپرٹ ریگ ڈکسن نے نیشنل اسٹیڈیم کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔

سیکیورٹی ایکسپرٹ ریگ ڈکسن نے نیشنل اسٹیڈیم کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا جب کہ ان کے ہمراہ ای این ڈیوڈ بھی تھے، ریگ ڈکسن کی سربراہی میں 6رکنی ٹیم پی ایس ایل فور میچز کے موقع پر بھی موجود رہے گی۔

دریں اثنا ڈکسن نے سیکیورٹی انتظامات پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خوشی ہورہی ہے کہ پی ایس ایل کے انتظامات اچھے کیے گئے، پاکستان میں اب کرکٹ واپس آرہی ہے، کراچی والے بھی پی ایس ایل کو کافی سپورٹ کررہے ہیں۔

سائنسدانوں نے انٹار کٹیکا کا ایک اور راز جان لیا

انٹارکٹیکا ایسا براعظم ہے جسے اسرار سے بھرپور کہا جائے تو کم نہیں ہوگا کیونکہ وہاں ایسے قدرتی عجوبے موجود ہیں جو دہائیوں سے سائنسدانوں کے لیے الجھن کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

ان میں سے ہی ایک سبز رنگ کے متعدد آئس برگ (برف کی چٹان) کی موجودگی ہے جو دہائیوں سے اس براعظم کو دیکھنے جانے والے سیاحوں اور سائنسدانوں کے لیے معمہ بنا ہوا تھا اور اس پر متعدد سائنسی مقالے بھی شائع ہوئے۔

سائنسدان جاننا چاہتے تھے کہ آخر برف کی اس رنگت کی وجہ کیا ہے اور یہ اب تک برقرار کیوں ہے۔

اب جاکر سائنسدانوں نے ایک نیا خیال پیش کیا ہے جس کی تصدیق ہوگئی تو دہائیوں سے دنیا بھر کو الجھن میں ڈالنے والے اس معمے کو حل کرنا ممکن ہوجائے گا۔

یہ آئس برگ 1988 میں ایک آسٹریلین مہم کے دوران اس وقت دریافت کیا گیا،اسی طرح واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہر ارضیات اسٹیفن وارن نے اس طرح کی ایک چٹان پر چڑھ کر اس کا قریب سے جائزہ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان برفانی چٹانوں میں حیران کن چیز ان کی رنگت نہیں بلکہ ان کی شفافیت تھی کیونکہ اس میں بلبلے نہیں، عام آئس برگ قدرتی برفباری سے بنتے ہیں، یہ برف اپنے وزن سے جم کر ٹھوس ہوجاتی ہے، برفباری میں ہوا بلبلے کی شکل میں مقید ہوتی ہے ، تو گلیشیئر کی برف میں لاتعداد بلبلے ہوتے ہیں، جبکہ آئس برگ روشن اور دھندلے ہوتے ہیں۔

مگر ان انوکھے آئس برگز کی زمرد رنگ برف میں کوئی بلبلے نہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ کوئی عام گلیشیئر آئس نہیں۔

اسٹیفن وارن نے اس طرح کے 2 آئس برگز کی سطح کے نمونوں کا موازنہ کیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ اس کی شفاف رنگت کی وجہ گلیشیئر آئس نہیں بلکہ سمندری ٹھوس برف ہے۔

انٹارکٹیکا میں اکثر آئس برگ سفید یا نیلے رنگ کے ہیں جبکہ کچھ میں دھاریاں بھی ہیں مگر سبز رنگ نایاب ہے اور آغاز میں اسٹیفن وارن کی ٹیم کا خیال تھا کہ اس کے نیچے موجود سمندری پانی میں پھنسے مردہ سمندری پودوں اور جانوروں کے ننھے ذرات کے نتیجے میں برف سبز ہوئی، مگر برف کے نمونے نے اس خیال کو غلط ثابت کیا۔

درحقیقت سبز اور نیلی سمندری برف میں اس طرح کے مواد کی یکساں مقدار دریافت کی گئی۔

چند سال بعد اسٹیفن وارن نے ایک اور خیال پیش کیا جس میں کہا گیا کہ ان آئس برگز کی رنگت کی وجہ اس علاقے میں آئرن کی سطح بہت زیادہ ہونا ہے۔

اس سے پہلے تسمانیہ یونیورسٹی کی ایک تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا تھا کہ ان انوکھے آئس برگز والے خطے کی برفانی سطح میں آئرن کی مقدار 500 گنا زیادہ ہے اور اسی کو دیکھ کر یہ خیال پیش کیا گیا۔

اسٹیفن کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ گلیشیئر سے تہہ میں موجود چٹانوں کا پس جانا ہے، جن کے آئرن سے بھرپور ذرات سمندر میں تیرتے ہوئے برف کی تہہ کے نیچے قید ہوگئے اور اس طرح برفانی برف بنی۔

سائنسدان اس خیال کو درست ثابت کرنے کے لیے ابھی مختلف آئس برگ کی سطح کے تجزیے کریں گے جس کے بعد اس کا فیصلہ ہوگا۔

Google Analytics Alternative