Home » 2019 » March » 11

Daily Archives: March 11, 2019

پاکستان کے خلاف ایک اور بین الاقوامی سازش

adaria

پاکستان کے خلاف ایک اور بین الاقومی سازش ایشیا پیسفک مشترکہ گروپ میں بھارت کو شریک چیئرمین کی ذمہ داری سونپی جانے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔جس سے نمٹنے کیلئے وزیر خزانہ اسد عمر نے فنانشنل ایکش ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے صدر کو ایک خصوصی مراسلہ لکھا ہے۔ایشیا پیسفک گروپ میں بھارت کی شمولیت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسد عمر نے ایف اے ٹی ایف کے صدر مارشل بیلنگزیا کو خط میں واضح کیا کہ ایف اے ٹی ایف کا جائزہ صاف، غیر جانبدار اور معروضیت پر مبنی ہونا ضروری ہے۔ اقتصادی مفادات کو زک پہنچانے کے بھارتی عزائم کے بعد مشترکہ گروپ میں جائزہ کار کی حیثیت سے بھارتی موجودگی شفافیت پر مبنی جائزہ عمل کو ختم کر دے گی، پاکستان ایف اے ٹی ایف،آئی سی آر جی و مشترکہ گروپ کیساتھ کام کرنے اور ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے پر عزم ہے، تکنیکی بنیادوں پر اسیسمنٹ چاہتے ہیں۔ایک ایسے ماحول میں جب پاکستان اور بھارت جنگ کی سی صورتحال سے دوچار ہیں اور دنیا کودونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے تصادم کا خطرہ ہے ،جبکہ دوسری طرف پاکستان کا کیس ایف اے ٹی ایف کے سامنے چل رہا ہے اس میں پاکستان کے ازلی دشمن کو اہم ذمہ داری تفویض کرنا جہاں غیرجانبدارانہ تقاضوں کے منافی ہے وہاں اس ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے بھی مترادف ہے۔وزیر خزانہ نے اپنے خط میں واضح کیاکہ بھارت، پاکستان کے بارے میں جانبدرانہ رائے اور عزائم رکھتا ہے جبکہ نئی دہلی کی جانب سے پاکستان کی حالیہ فضائی حدود کی خلاف ورزی اور دراندازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور پاکستانی حدود میں بم گرانے کا جارحانہ اقدام اس دشمنی کا ایک اورمنہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے بھارتی تعصب سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ بھارتی وزیر خزانہ کی جانب سے 18 فروری 2019 کو آئی سی آر جی کی عالمی کانفرنس میں پاکستان کو عالمی سطح پر بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس سے پاکستان کے معاشی مفاد کے خلاف نئی دہلی کے ارادوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پاکستان کے معاشی مفاد کو نقصان پہنچانا بھارت کے ارادوں میں شامل ہے اور مشترکہ گروپ میں بھارت کی بطور نگراں موجودگی سے تمام مراحل جانبدار ہوجائیں گے۔وزیر خزانہ مراسلے میں ایف اے ٹی ایف کے صدر کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا مگر ہم بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف اس امر کو یقینی بنائے کہ آئی سی آر جی کا عمل شفاف، غیر جانبدار اور غیر متعصب ہو۔پاکستان کا یہ مطالبہ سوفیصد درست ہے کہ پاکستان اگر ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کو یقینی بنانے کو عملی کوششیں کر رہا ہے تو دوسری طرف ادارہ بھی اپنی غیر جانبداری کو یقینی بنائے۔اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر پاکستان کو یہ حق حاصل ہو جائے گا کہ وہ تعصب پر مبنی کسی بھی فیصلے کو یکسر مسترد کردے۔پاکستان نے گزشتہ برس جون میں بھی ایشیا پیسفک گروپ سے مذکورہ خدشہ کا اظہار کیا تھا مگر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔اس لیے گروپ میں بھارت کے بجائے کسی اور ملک کوچیئرمین شپ دی جائے کیونکہ بھارت پاکستان سے متعلق کھلم کھلاجانبدارانہ رائے اور مخاصمانہ عزائم رکھتا ہے۔FATF کا اگلا جائزہ اجلاس مئی یا جون میں ممکنہ طور پر کولمبو میں ہونے والا ہے۔ بھارتی مخالفت کے باوجود پاکستان پیرس میں ہوئے گزشتہ جائزے میں کامیاب رہا ہے۔جہاں تک ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پر عمل درآمد کا تعلق ہے تو حکومت نے کالعدم تنظیموں کی درجہ بندی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے انہیں شدید خطرہ قرار دینے اور فنانشنل ٹاسک فورس کے مطالبات کو پورا کرنے کیلئے سخت سیکیورٹی کے قانونی، انتظامی، مالی اور تفتیشی پہلوؤں کے تحت تمام افراد اور ان کی حرکات و سکنات کی از سرِ نو جانچ کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاکستان بین الاقومی اداروں کی پابندیوں پر دل جان سے کاربند رہتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس سلسلے میں شکایات پیدا نہ ہوں۔ایف اے ٹی ایف ایک فورم ہے کے فیصلوں کی پابندی لازم نہیں مگر اس باوجود پاکستان کوشش کررہا ہے کہ مہذب قوموں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہے،تاہم دوسری طرف ناانصافی اور اعلامیہ جانبداری کی کسی بھی کوشش پر احتجاج اس کا بنیادی حق ہے۔ہمیں امید ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے صدر مارشل بیلنگزیا پاکستان کے اعتراض اور اس کے ٹھوس حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کو یہ اہم ذمہ داری سونپنے سے اجتناب کریں گے ۔

ہسپتالوں میں شیلٹر ہومزبنانے کا لائق تحسین فیصلہ
وفاقی حکومت نے فلاحی ریاست کی جانب ایک اور بڑا قدم اُٹھاتے ہوئے پنجاب کے بڑے ہسپتالوں میں شیلٹر ہومزبنانے کی منظوری دیدی ہے۔وزیراعظم اپنے دو روزہ دورے کے دوران لاہور میں ایوان وزیراعلیٰ کا دورہ کیا،جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ون آن ون ملاقات کی، اس دوران وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیراعظم عمران خان کوصوبے کے امور پر بریفنگ دی، ذرائع کے مطابق عثمان بزدار نے عمران خان کو مختلف صوبائی وزرا کی کارکردگی پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا تحریک انصاف حکومت کی اولین ترجیح ہے، انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہدایت جاری کی کہ ایسے تمام اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں جن میں عوامی مفادشامل ہو۔اس سلسلے میں انہوں نے پنجاب کے بڑے اسپتالوں میں شیلٹر ہومز بنانے کی منظوری بھی دی جو لائق تحسین اقدام ہے۔ پہلے مرحلے میں لاہور کے پانچ بڑے اسپتالوں میں شیلٹر ہومز بنائے جائیں گے۔ شیلٹر ہومز بنانے کیلئے اپٹما کے گروپ لیڈر گوہر اعجاز کی سربراہی میں پانچ ممبر پر مشتمل بورڈ بھی تشکیل دے دیا گیا ہے، وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے کمزور طبقوں کی دیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست احساس کا نام ہے جو کمزور طبقوں کا سہارا بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بے گھر اور مستحق افراد کا سہارا بننے کی مہم میں مخیر حضرات کا بڑھ چڑھ کر حصہ لینا حوصلہ افزا ہے۔قبل ازیں بھی حکومت نے بڑے شہروں میں شیلٹر ہوم بنا رکھے ہیں جہاں روزانہ سیکڑوں لاواراث اور بے سہارا لوگوں کو چھت میسر ہوتی ہے۔جہاں تک ہسپتالوں میں شیلٹر ہومز بنانے کا فیصلہ ہے یہ بھی نہایت اہم اور خوش آئند اقدام ہے۔ہمارے ہاں ہسپتالوں میں مریضوں کیساتھ آئے ہوئے تیماردار مریض سے زیادہ مصیبت سے دوچار رہتے ہیں جہاں انہیں کئی کئی دن اورراتیں کھلے آسمان کے نیچے گزارنا پڑتیں ہیں،خصوصاً موسم کی شدت اور خرابی کی صورت میں تیمار دار کے مسائل دوگنا ہو جاتے ہیں۔حکومت کوان شیلٹرہومز کا دائرہ کار مزید بڑے شہروں کی ہسپتالوں تک بڑھانا چاہئے۔

سکھ بھی بھارتی انتہا پسندی کا شکار

جب سے بھارت میں انتہا پسند بی جے پی برسراقتدار آئی ہے۔بھارت میں انتہا پسندی عروج پر ہے۔یہاں گائے ذبح کرنے کے معاملے پر کئی افراد کو مار دیا گیا جبکہ مسلمانوں کے نام سے منسوب شاہراہوں اور عمارتوں کے نام تبدیل کیے گئے۔ کئینامور افراد کوانتہا پسند ہندؤوں کی جانب سے دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ظالم فوج نے مقبوضہ کشمیر میں بھی ظلم و ستم کی انتہا کرتے ہوئے کئی افراد کو شہید کیا۔ مئی 2014ء میں نریندر مودی کی حکومت بنتے ہی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس نے اقلیتوں کے خلاف محاذ سنبھال لیا۔ آرایس ایس نے غریبوں کے راشن کارڈز پر ڈاکہ ڈالا۔ سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدارملک نے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھی ظلم کی سیکڑوں داستانیں رقم کیں۔ 1989 سے لے کر اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کیا گیا۔ آٹھ ہزار سے زائد افراد کو چھروں کا نشانہ بھی بنایا۔کشمیریوں پربھارتی فورسز کے ظلم وستم، بی بی سی، واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز جیسے کئی عالمی اخبارات کی شہہ سرخیاں بنے۔ قابض افواج کے تشدد اور بربریت کا اعتراف سابق بھارتی انٹیلیجنس چیف” اے ایس دلت نے بھی کیا۔ مگر ان سب کے باوجودآج بھی مقبوضہ وادی میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔بھارت میں انتہا پسندی کی آگ ننھے پھولوں کو جھلسانے لگی۔مسلم بچے ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ تنقید و تمسخر کے وارانتہا پسندی کی شکار بھارت سرکار کے تعلیمی اداروں میں مسلمان بچوں کو ایسی آوازوں نے جھنجھلا کر رکھ دیا۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک نئی کتاب ’مدرنگ اے مسلم‘ کے مطابق انڈیا اور پوری دنیا میں بڑھنے والے اسلام فوبیا کی وجہ سے سکولوں میں بچوں کو ان کے مذہب کی وجہ سے زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اس کتاب کی مصنفہ نازیہ ارم اس کتاب کو لکھنے کے لیے بھارت کے بارہ شہروں میں گئیں جہاں وہ 145 خاندانوں سے ملیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دہلی کے25 بڑے سکولوں میں پڑھنے والے 100بچوں سے بات کی۔مصنفہ کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کے بڑے بڑے سکولوں میں ہندو مسلم تفریق دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ ایسے سکول اور کھیل کے میدان بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں جہاں انھیں باقی بچوں سے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے اور پریشان کیا جاتا ہے۔سکولوں میں ہراساں کیے جانے کے بیشتر معاملات میں بچے اکثر دکھاوے، رنگت، کھانے پینے کی عادات، خواتین کے لیے تنگ نظری، ہوموفوبیا اور نسل پرستی کے ذریعے اپنے ساتھ پڑھنے والے بچوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔آپ خود سوچیں جب پانچ اور چھ برس کے بچے کہتے ہیں کہ انہیں پاکستانی یا شدت پسند کہا جا رہا ہے تو آپ کیا جواب دیں گے؟ آپ سکولوں سے کیا شکایت کریں گے؟ان میں سے بہت ساری باتیں مذاق میں کہی جاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس مذاق سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ ہراساں کیا جانا اور استحصال ہے۔مصنفہ نے اپنی کتاب میں جن بچوں سے بات کی انہوں نے بتایا کہ ان سے سوالا ت کئے جاتے ہیں کہ کیا تم مسلمان ہو؟ میں مسلمانوں سے نفرت کرتا ہوں۔ کیا تمہارے پاپا گھر پر بم بناتے ہیں؟کیا تمہارے پاپا طالبان ہیں؟کیا تم پاکستانی ہو؟کیا تم شدت پسند ہو؟اسے غصہ مت دلاؤ وہ تمہیں بم سے اڑا دے گا۔صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہربھارتی اقلیت کا موجودہ حکومت میں یہی حال ہے۔خاص طورپر آج کل کے حالات میں جب مودی حکومت ہر مذہب ہر فرد پر الزام دھرتی پھر رہی ہے۔ مودی کو ہر غیر ہندو دہشت گرد اور انتہا پسند نظر آتا ہے۔ بھارتی سکھ جو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سے زیر عتاب آئے آج بھی بھروسہ کے قابل نہیں سمجھے جاتے۔ بھارتی پنجاب میں تمام سرحدی علاقوں، اہم سرکاری دفاتر، فوجی چھاؤنیوں کے باہر ناکوں پر تعینات سکھ پولیس اہلکاروں کو ہٹا کر ہندوؤں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے باقاعدہ احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ سکھ پولیس اہلکار کشمیری مجاہدین، حریت پسندوں اور بھارت مخالف قوتوں کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ ان احکامات کے بعد نوے فیصد ناکوں سے سکھ جوانوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اہم پوسٹوں پرتعینات سکھوں کی خفیہ نگرانی بھی شروع ہو چکی ہے۔ سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کے ایک لاکھ باون ہزار ٹیلی فون نمبرز کی ریکارڈنگ شروع ہو چکی ہے۔ بھارتی پنجاب اور دیگر صوبوں میں سکھ کمیونٹی کے اہم لیڈروں نے موجودہ حالات پر کھل کر بولنا شروع کر دیا ہے۔ خوف زدہ مودی سرکار نے بھارتی پنجاب میں سکھ کمیونٹی کے دو ٹی وی چینلز بھی بند کروادیئے ہیں جبکہ مودی کے خلاف بولنے اور سوشل میڈیا پر شور ڈالنے کے الزام میں 113 سکھ طالبات اور دیگر 224 افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مودی کی بیوقوفیوں کی وجہ سے بھارتی پنجاب میں بھی کشمیر جیسی بڑی تحریک کسی وقت بھی شروع ہو سکتی ہے۔ سکھوں کی عالمی تنظیم ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کے سربراہ رجیت سنگھ نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور اپوزیشن لیڈرز کو لکھے گئے کھلے خط میں مودی سرکار کی نفرت آمیز متعصبانہ پالیسیوں کو نہ صرف بھارت بلکہ خطے کیلئے خطرہ قرار دیا۔خط میں رجیت سنگھ کا پاک بھارت کشیدگی کی وجہ بھارتی جنونیت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کی موجودہ صورتحال میں ہندو انتہا پسندوں کا ہاتھ ہے۔ اس لئے سکھ سپاہی پاکستان پر حملے کے بھارتی فوج کا حکم ماننے سے انکار کردیں اور کسی ایسے کھیل کا حصہ نہ بنیں جس میں الیکشن کے لیے قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہو۔ بھارتی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے مودی سرکار سے سرجیکل اسٹرائیک اور بالاکوٹ حملے میں نقصانات کا ثبوت مانگنے پر بی جے پی کے کارکنوں کو کانگریس کے خلاف ملک بھر میں مہم چلانے کی ہدایت کردی۔بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی اپوزیشن کی جانب سے بالاکوٹ میں نقصانات کا ثبوت مانگنے پر شدید برہم ہے اور اب بی جے پی کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔بھارتی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے پاکستان کے خلاف کی گئی کارروائی کے ثبوت مانگنے پر کانگریس کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کانگریس رہنما انڈین ایئرفورس کی کارروائی کو مشکوک بنا کر سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست کر رہے ہیں۔وزیر قانون نے کہا کہ جب سرجیکل سٹرائیک کیا تھا تو ثبوت مانگے گئے اور اب بالاکوٹ پر حملہ کیا تو نقصان کا کانگریس کے لیڈرز ثبوت مانگتے ہیں، کیا انہیں اپنی ایئر فورس پر اعتماد نہیں۔ریاست کرناٹک کے پروفیسر کو بھارتی پائلٹ کی رہائی پر بیان دینا مہنگا پڑ گیا۔ انہوں نے غلطی سے عمران خان کی تعریف کر دی بس پھر کیا تھا ہر طرف سے انتہا پسند ٹوٹ پڑے اور استاد کو گھٹنوں کے بل بیٹھ کر معافی مانگنا پڑی۔ یہی نہیں سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر بھی ایسے واقعات سیکولر بھارت کا مکروہ چہرہ عیاں کررہے ہیں۔

بھارتی سیکولر الیکشن کمیشن کہاں ہے۔۔۔؟

پاکستان میں بھارتیسیکولر لابی کی زبانی دوسری تعریفی باتوں کے علاوہ یہ بھی سنتے آئے ہیں کی بھارتی الیکشن کمیشن با لکل آزاد اور سیکولر ہے۔ ظاہر ہے کہ بھارتی سیکولر آئین کے مطابق، بھارتی الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط میں بھی اس کے سیکو لر نظریہ کو سامنے رکھتے ہوئے سیاست میں مذہب کے استعمال نہ کرنے کے پر ضرور پابند ہو گا۔کیا بھارتی سیکولر آئین کی موجودگی میں ، بھارتی دہشت گرد انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا بنیادی رکن، گجرات کاقصائی ،مسلمانوں کا دشمن ، بھارت کا دہشت گرد انتہا پسند وزیر اعظم،نرنیدرا مودی کو بھارتی الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف وردی پر روک نہیں سکتا؟ کیا دہشت گرد مودی گجرات میں چار ہزار مسلمانوں کا قتل عام کروا کے گجرات کا وزیر اعلیٰ نہیں بنا تھا؟اور اب جب وہ سیکولربھارت کا وزیر اعظم ہے مذہب کو استعمال کر کے ووٹ نہیں مانگ رہا ؟ کیا مودی اور اس کی دہشت گرد نام نہادسیاسی پارٹی نے ہندو اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف اُکسا کر مسلمانوں کا جینا حرام نہیں کر دیا؟ مودی اور اس کی دہشت گرد حکومتی نام نہاد سیاسی پارٹی نے ہندو اکثریت کو پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نہیں کر دیا ہے؟ ملک میں بھارتی میڈیا اور انتہا پسند ہندوؤں نے جنگ کا ماحول پیدا نہیں کر دیا؟ کیا اس کی بنیاد پر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی عام نہیں ہو گئی ہے؟ اب ایک عرصہ خاموشی کے بعد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے رپورٹ شائع کی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص کر مسلمانوں کو مذہب کی بنیا دپر تشدد کا نشان بنایا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ مودی سرکار الیکشن جیتنے کیلئے کر رہی ہے۔ مثلاًایک ویڈیو وائرل ہو چکی ہے۔ اس میں دکھایا جا رہاہے کہ ایک مسلمان کو ایک پلر کے ساتھ باندھا ہوا ہے۔ ایک دہشت گرد انتہا پسند ہندو اسے ڈنڈے ماررہا ہے۔ اورکہتا جا رہا ہے کہ بولو’’ جے شری رام۔ جے شری رام‘‘ ادھ موہ زخموں سے چور چورمظلوم مسلمان اس کا انکار کر رہا ہے۔ دہلی میں ایک مسلمان کو شک کی بنیاد پر کہ اس کے فریج میں گائے کا گوشت رکھا ہوا ہے دہشت گردانتہا پسند ہندوؤں کے ایک گروہ نے اسے اذیتیں دے دے کر شہید کر دیا۔ بعد میں تحقیقی کمیشن نے ثابت کیا کہ مسلمان کے گھر فریج میں رکھا ہوا گوشت گائے کا نہیں بلکہ بکرے کا تھا۔ایک مسلمان ڈرائیور اپنی گاڑی میں میں گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسپورٹ کرنے کی وجہ سے شک کی بنیاد پر کہ گائے کو ذبح کرنے کیلئے جا رہاہے شہید نہیں کر دیا؟ بھارتی مقامی انتظامیہ کی طرف سے مسلمانوں کووارننگ دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اپنے مردوں کو دفنانے کے بجائے ہندوؤں کی طرح جلا دیاکرو۔ کیونکہ بھارت میں مسلمانوں کے قبرستانوں کی وجہ سے زمین کم پڑتی جا رہی ہے۔ اس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے، مسلمانوں کے قبرستانوں میں قبروں سے مردے نکال زمین ہموار کی جا رہی ہے۔ بستیوں میں اعلان کر دیا گیاکہ فلاں دن ہندوؤں کا کوئی تہوار ہے۔ لہٰذا راستے کی مساجد میں اذان نہیں دی جائے گی۔ کوئی مسلمان نماز پڑھنے بھی نہیں جائے گا۔اُس دن اس علاقے میں کوئی مسلمان ٹوپی پہن کر بھی باہر نہیں نکلے گا۔ اگر ان احکامات کی پابندی نہ کی گئی تو نقصانات کے خود ذمہ دار خود مسلمان ہونگے انتظامیہ نہیں ہو گی۔کئی برس پہلے بابری مسجد کو یہ کہہ کر دہشت گرد انتہا پسند ہندوؤں نے شہید کر دیا کہ جہاں پر ہندوؤں کا مندر تھا۔ مقدمہ بھارت کی سپریم کورٹ میں چل رہا ہے ۔ متعصب بھارتی عدلیہ آج تک اس کا فیصلہ نہیں کر سکی۔ بھارت میں کئی مساجد کیلئے کہا جا رہا ہے یہ مندر توڑ کر بنائی گئی تھیں۔ پورے بھارت میں کئی مساجد کے خلاف دہشت گرد انتہا پسند ہندوؤں یہ مہم چلائی ہوئی ہے۔یہ مہم اُس وقت جب یہ مساجد بنائی جا رہی تھیں کیوں نہیں چلائی گئی؟ دنیا کے آٹھویں عجوبہ تاج محل آگرہ کیلئے بھی کہاجا رہا ہے کہ یہ بھی ایک مندر کو توڑ کر مغل بادشاہ نے اپنی بیگم ملکہ ممتاز محل کی محبت کی یاد میں تعمیر کیا تھا۔ طارق فتح نامی ایک مرتد مسلمان کے ذریعے بھارتی میڈیامیں مہم چلا ئی جا رہی ہے کہ ہندوستان پر ہزار سال سے زیادہ حکومت کرنے والے مسلمان حکمران لٹیرے اور غاصب تھے۔ آریہ بھی ہندوستان پر حملہ آور ہوئے تھے کیا وہ بھی لٹیرے اور غاصب نہیں ہیں؟بھارتی مسلمانوں کے خلاف پر تشدد واقعات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ جس میں تاجروں، کھلاڑیوی،م صنفین، گلوگاروں، فلم سازوں ، فلمی ادکاروں اور بھارت میں رشتہ داروں سے ملنے کیلئے جانے والے عام مسلمان شامل ہیں۔ان کے خلاف ایک دہشت گردانہ مہم ہے جو بھارتی دہشت گردوں نے چلائی ہوئی ہے۔ سب سے بڑی مہم دہشت گرد مودی نے ملکی الیکشن جیتنے کیلئے چلائی ہوئی ہے۔ پاکستان پرموجودہ فضائی حملہ کرنے سے پہلے بھی ایئر اسٹرائیک کا شوشہ چھوڑا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ایک پاکستان کے اندر کھس کرکئی لوگوں کو شہید کیا ۔اس جھوٹ کے مقابلے میں پاکستانی فوج نے بین الاقوامی صحافیوں کو جائے وقوع کا دورہ کرایا۔ آزادصحا فیوں نے جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی تھی کہ پاکستان میں کوئی بھی شہادت نہیں ہوئی بھارت کی طرف سے سب کچھ جھوٹ ہے۔ کشمیر میں نسل کشی اور کشمیری عزت مآب خواتین کے ساتھ بھارتی سفاک فوجیوں کی اجتماہی آبرو ریزی سے تنگ آکر آخر ایک کشمیری نوجوان نے بھارتی فوجی قافلہ پر کشمیر پلومہ میں فدائی حملہ کیا اور بھارت کے چالیس سے زیادہ فوجیوں کوجہنم رسید کیا تو فوراً بغیر تحقیق کے مودی نے الزام پاکستان کے سر لگا دیا۔ اپنے انتخابی جلسوں میں اعلان کیا کہ پاکستان کو اس کا سبق سکھایا جائے گا۔ پھر پلاننگ سے پاکستان پر کئی سمتوں ہوئی حملے کی کوشش کی۔کچھ جگہوں پر پاکستان فضائی فوج نے بھارتی طیاروں کو مار بھگایا۔ کشمیر میں تین جگہوں پر حملہ کرتے ہوئے جب پاکستانی کی بین الاقوامی حدود کی خلاف دردی کرتے ہوئے ،بھارتی پائلٹ اپنے پے لوڈ بالاکوٹ کے میدان میں گرا کر بھاگ گئے۔ بھارتی حکومت اور میڈیا نے دعویٰ کیا کہ بالاکوٹ میں جیش محمد کے دہشت گردٹھکانے کو تباہ کر دیا گیا اور ۳۵۰ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ مگر پاکستان اور بین الاقوامی میڈیا نے جائے وقوعہ کا مشاہدہ کیا۔ میڈیا کے مطابق وہاں کچھ صنوبر کے درختوں کو نقصان پہنچا اور ایک گھڑے میں ایک کوہ مرا ہوا پایا گیا۔ امریکی سیٹلائٹ نے بھی فضا ء سے لی گئی تصاویر میں بھارتی جھوٹ کو آشکار کیا۔ بھارت کی اپوزیشن ثبوت مانگ رہی ہے اور مودی کہتا کہ بھارتی فوج سے ملک دشمن ثبوت مانگ رہے ہیں۔اس سے بھارت فوج کا مورال متاثر ہو گا۔ پاکستان پر بھارت فضائی حملے پر پاکستان کی فوج اور پاکستان کے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ بھارت نے ہماری ملک پر حملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کاہم بدلہ لیں گے۔ اس کے بعد پاکستان فضائی فوج نے کشمیر میں بھارت پر فضائی حملہ کیا۔ پاکستانی جہازوں کی زد میں بھارتی گولا بارود کا ڈیپو تھا۔ مگر پاکستان نے فضائی حملہ ایک خالی جگہ پر کیا۔ بھارتی جہازوں نے پاکستانی جہازوں کا پیچھا کیا اور پاکستان کی فضائی حدود کو جب کراس کیا تو پاکستانی جہازوں نے دو بھارتی جہازوں کو مار گرایا۔ ایک جہاز کاملبہ بھارتی اور ایک کاپاکستانی علاقے میں گرا۔ پاکستان نے ایک بھارتی پائلٹ ابھے نندن کو بھی زندہ گرفتار کر لیا۔ پاکستان نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں پاکستان نے اس کا ثبوت دیتے ہوئے بھارتی پائلٹ کو رہا کر دیا۔ پاکستان کی پر امن پالیسی کی پاکستان ،بھارت اور دنیا کے امن پسند حلقوں نے تعریف اورکی بھارت کی مذمت کی مگر دہشت گردد مودی انتہا پسند مودی اپنی انتخابی جلسوں میں کہتا ہے کہ پہلے حملہ تو صرف پائلٹ پراجیکٹ تھا اصل ابھی کرنا باقی ہے۔ ایسی صورت حال میں میں دو ایٹمی ملکوں کے درمیان بین الاقوامی میڈیا نے جنگ کی پیش گوئی کی ہے۔ جس کاذمہ داردہشت گرد مودی کے ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کے دہشت گردانتہا پسند وزیر اعظم مودی کو اپنی مسلم اور پاکستان مخالف مہم کو ختم کر کے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن لڑنا چاہیے مگر مودی پہلے بھی مسلم دشمنی اورپاکستان دشمن منشور پر الیکشن جیت کر آیا تھا۔ اب بھی پرانے نسخے پر عمل کرتے ہوئے اسی پالیسی پر الیکشن لڑے گا۔ مودی کی اس پالیسی سے دو ایٹمی ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے۔ اس کو امن پسند حلقے یا بھارت کے سیکولر آئین کے تحت قائم بھاتی الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مودی کو مذہب کو استعمال کر کے الیکشن لڑنے سے ہی روک سکتا ہے۔ دنیا دیکھے گی کہ کیا بھارت کا الیکشن کمیشن بھی انتہا پسند ہے یا سیکولرپسند ۔ کیا بھارتی الیکشن کمیشن اور پاکستان میں موجود بھارت سیکولر لابی بھارت سیکولر آئین پر عمل درآمد کرا تے ہیں کہ نہیں؟

سرمایہ داریت کی بھوک!

جمہوریت کے گیت گاکر ذہنی عیاشی کرناہمارا قومی مزاج بن چکا ہے کہ محض بیان بازی میں ہم سب سے آگے ہیں بڑے بڑے ہوٹلوں مختلف انواع واقسام کے کھانے کیمرے کے سامنے سجاکر ہم ملک میں غذائی بحران کا رونا روتے ہیں عالی شان بنگلوں کے ائیر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر ہم عوام کی غربت کے گیت گاتے ہیں اور نئی گاڑیوں کا دھواں اڑا کر عوام کے آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے ہم ملک میں توانائی کے بحران کا ذکر زور وشور سے کرتے ہیں بین الاقوامی سطح کے سیمینارز میںیہ فلسفہ جھاڑتے ہیں کہ ملک عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ملک کو غیر مستحکم کرنے کا ذمہ دار بھی ہم ہی ہوتے ہیں سٹیج پر فقہ واریت کے خلاف تقریر تو کی جاتی ہے مگر خود مقرر صاحب کسی نہ کسی فرقے کا ترجمان ضرور ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے پنجے بڑے پیچ دار ہیں اس نظام کے کردار ملکوں کو پھانستے ہیں ان پر جنگ مسلط کرتے ہیں اور دنیا میں بھوک اور غربت کے بیج بوتے ہیں سرمایہ پرستانہ نظام ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تحفظ دیتا ہے کیونکہ اس نظام کے جتنے بھی کردار ہوتے ہیں ان کو دانہ پانی یہ کمپنیاں فراہم کرتی ہیں ایک ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورے برصغیر کو لوٹا حالانکہ برصغیر کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا آج یہاں کے عوام فاقوں پر مجبور ہیں برصغیر کا دیوالیہ ایک کمپنی نے نکال دیا اور آج سینکڑوں کمپنیاں قوموں کو نگل رہی ہیں سرمایہ کی ہوس نے کروڑوں لوگوں کے جسموں کو بھوک کی وجہ سے پنجرے بنا دیا ہے قوم کا دیوالیہ نکلتا ہے اور کمپنیوں کے مالکان کی توندیں باہر نکلتی ہیں اور ان کی گردنیں موٹی ہوتی جاتی ہیں ۔ اقوام کے وسائل لوٹ کر ان کو بھوکا مارنے کا پروگرام ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس ہے اور مقامی ملوں اورکمپنیوں کے مالکان ان کے طفل بچے ہیں جو کبھی آٹے کا بحران پیدا کرتے ہیں اور کبھی چینی اور کبھی سیمنٹ کا اور سب سے بڑا سامراج بے گناہ انسانوں پر ہزاروں منوں کے حساب سے بارود پھینک کر ان کے وسائل اور منڈیوں پر قبضہ کر تا ہے اور ان پر خون کے بادل برساتا ہے جس کے نتیجے میں خون کی ندیاں بہتی ہیں، شہر اجڑتے ہیں اور ملک تباہ ہوتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام کا چمپئن امریکہ ہے اور یہ دنیا میں امن کا بھی علمبردار ہے اور اپنا شمار انسانیت کے رکھوالوں میں کرتاہے اسے یہ غم کھایا جارہا تھا کہ عراق میں ڈیڑھ سو کے قریب عراقی عوام کو قتل کیا گیا ہے اور اس غم کو ہلکا کرنے کیلئے اس نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد عراقیوں کو خون میں نہلادیا اور اس سوال کا جواب کوئی نہیں دیتا ہے کہ اٹھارہ لاکھ سے زائد افغانیوں کو جہاد کے نام پر قتل کرواکر کونسا امن قائم کیا گیا؟۔امریکہ موت کا سوداگر ہے اور اسکی معیشت کا دارومدار اسلحہ کی فروخت پر ہے ۔دنیا میں اگر امن ہوگا اور دوممالک آپس میں لڑینگے نہیں تو وہ کھائیگا کیا؟ یہی وجہ ہے کہ وہ قوموں کو لڑاتا ہے اور انسانیت کو تقسیم کر کہ شکار کرتا ہے اور جو اسکے راستہ میں رکاوٹ بنتا ہے تو اسکو تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے صدام حسین کا جرم یہ تھا کہ اس نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ ’’ عرب کا تیل عربوں کیلئے ہے‘‘ اسی لیئے اسے سولی پر چڑھادیاگیا دنیا میں جنگ اور خانہ جنگی کی فضا امریکہ اور اسکے حواری ممالک مزاحمتی تحریکوں کو شکست دینے میں مصروف ہیں اس کی کوشش ہے کہ بہر ہند کو اسٹریٹجک تنازعات کا سٹیج اور ایشیا پر بالادستی کیلئے لانچنگ پیڈبنادیا جائے اور اس مقصد کیلئے اس نے انتہاپسندوں اور دہشت گردوں جدید اسلحہ سے مسلح کیا ہے اور مقدس عنوانات کے تحت وہ سامراجی عزائم کو پورہ کرنے کیلئے قومی املاک کو تباہ کرتے ہیں اور دینی تشخص کو پامال کرتے ہیں اور قومی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں ۔ سوچنے کا مقام ہے کہ یہ عناصر قومی فورسز کو نشانہ کیوں بناتے ہیں ؟ اور ملک میں بڑے منصوبوں پر کام کرنے والوں کے راستے میں کیوں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں ؟کیا کبھی انہوں نے سامراجی مفادات کو بھی نقصان پہنچایا ہے؟ کڑوا سچ یہ ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے لبادے میں سامراجی کھیل کھیلا جارہا ہے اور سامراج چند مفاد پرستوں کو نوازتا ہے جن کاطرز حیات عوام کے ساتھ میل نہیں کھاتا ہے اور عوام بے چارے ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘ کا نمونہ بنتے چلے جاتے ہیں زرعی ملک ہونے کے باوجود ستر فیصد زمینیں بنجر ہیں اور جو تھوڑا بہت حصہ کاشت ہورہا ہے اس کا طریقہ کار بھی غیر سائنسی ہے اور تسلط اس پر سرمایہ دار اور جاگیردار کا ہے اور عوام اسکے ثمرات سے دور ہیں جسکے نتیجے میں غربت، مہنگائی اور بھوک کو فروغ مل رہا ہے اس کا واحد حل یہ ہے کہ تمام ملوں اور کارخانوں کو قومی تحویل میں لیا جائے اور ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کر کے غریب عوام کی کمائی پر ہاتھ صاف کرنے والے مجرموں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور اگر ان ملوں اور کارخانوں کو قومی تحویل میں نہ لیا گیا اور قوم کے مجرموں کو سزا نہ دی گئی تو سرمایہ داریت کی بھوک عوام کو نگل لیگی اور غریبوں کا خون ہوتا رہیگا جو کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا!۔

محکمہ وائلڈلائف کی بے حسی

حال ہی میں محکمہ جنگلی حیات پنجاب نے 200سے زائد انتہائی خوبصورت اور نادر پرندے جن کو انگریزی میں فیزنٹ اور اردو میں منال یادراج کہا جاتا ہے ،چڑیا گھر سے چکوال کے ایک علاقے میں ’’آزاد‘‘ کئے ۔اس کے ساتھ ساتھ شکاریوں کو اکٹھا کیا اور قتل عام کی دعوت دی ،مفت میں نہیں ،شکاریوں سے قتال کی فیس لی گئی ۔ اس قتال سے محکمہ جنگلی حیات نے ساڑھے سات لاکھ روپے کمائے ۔یہ وہ فیس تھی جو شکاریوں نے یہ خوبصورت پرندے مارنے کیلئے ادا کی ۔حکومت پنجاب نے اس شرمناک قتال کی جو قیمت وصول کی وہ ان 200پرندوں کی زندگی کی قیمت کے سامنے کچھ بھی نہیں ۔حکومت ساڑھے سات لاکھ روپے کی’’ خطیر‘‘ رقم سے کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ؟کوئی ڈیم تعمیر ہو گا ،کوئی موٹر وے بنے گی یا کوئی قرض اتارا جائے گا؟ معزز قارئین دنیا بھر میں جنگلی حیات کا دن منایا جاتا ہے ۔وطن عزیز میں بھی این جی اوز کے زیر اہتمام آگاہی واکس اور تقریبات منعقد ہوتی ہیں جس میں ماہرین جنگل کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں ہمارے ہاں جانوروں اور پرندوں کے تحفظ سے متعلق بھی کئی تنظیمیں قائم ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ نہ جانے کیوں چکوال کے علاقے میں پرندوں کے اس قتل عام پر کسی طرف سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی پاکستان میں ہر دن دنیا بھر سے آنے والے پرندوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہو رہی ہے ۔ جب انسان کے پاس بے تحاشا اور زائد ازضرورت آمدنی ہو تو وہ نت نئے مصارف دریافت کر لیتا ہے ۔دور جدید نے دنیا بھر میں جہاں ارتکاز دولت کو عام کیا وہاں نت نئے مصارف بھی دریافت کرائے ۔ایسے ہی مصارف میں ایک شکار بھی ہے ۔انسان پرانے وقتوں ہی سے شکار کرتا آیا ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یہ شکار صرف غذائی ضروریات کیلئے یا کسی موذی سے نجات پانے کیلئے ہوا کرتا تھا ۔تفریح کیلئے شکار کرنے والے شاذ ہوا کرتے تھے ۔آج حال یہ ہے کہ تفریح اور کھیل تماشے کے طور پر جانوروں اور پرندوں کو ہلاک کرنا ان کی گردنیں اور کھال اتار کر بطور ’’ٹرافی ‘‘ اپنے گھروں کی زینت بنانا مشغلے کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔امیر لوگ شکار کیلئے غریب اور پسماندہ ممالک کا رخ کرتے ہیں ان کا سر اور کھالیں بطور’’ٹرافی‘‘ اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔19ویں صدی سے قبل اس کا رواج نہ تھا ۔شکاریوں نے ہاتھی دانت کے حصول کیلئے اس کی نسلیں ختم کر ڈالیں ۔اس تمام کھیل تماشے کو ’’ دا بگ گیم ‘‘ کا خوبصورت نام دیا گیا ہے۔بہیمیت کو خوشنما الفاظ کے جامے میں ملفوف کر دینا رواج پا گیا ہے۔ابن صفی نے کہا تھا
آدمی کیوں ہے وحشتوں کا شکار
کیوں جنوں میں کمی نہیں ہوتی
جنوں میں کمی نہ ہونے کا سبب شائد یہ بھی ہے کہ آج ہر چیز کیلئے جذبہ محرکہ ،پیسہ یا تفریح اور لذت خوشی قرار پا چکا ہے ۔شکار کا بگ گیم ایک جانب ملین ڈالر انڈسٹری ہے تو دوسری جانب پیسے والوں کی تفریح وتسکین کا سامان۔افریقہ میں اسے بگ گیم کا نام دیا گیا ہے ۔وہاں شیر ، ہاتھی گینڈے ،بھینسے اور چیتے کے شکار کیلئے شکاری آتے ہیں ۔ ہزاروں ڈالر لٹا کر شکار کرتے ہیں اور اپنی ٹرافی سمیٹ کر چلتے بنتے ہیں اور اپنی ہلاکتوں پر فخر کرتے ہیں ۔اگلے زمانے میں بادشاہ سلامت یا شہزادی ذیشان شکار کو نکلنے والے سوار ،پیادے ،کارندے ،محافظ اور خاصہ بردار بھی اپنے شوق ،استعداد اور توفیق کے مطابق ذوق شکار کی تسکین کرتے تھے ۔کئی شکار کے شائقین چیتے یا کسی خونخوار درندے کے شکار کا خطرہ مول نہ لیتے ہوئے محکمہ جنگلی حیات سے ہی پرندے منگوا کر اور ان پرندوں کو نشانہ بنا کر ہی سامان آسودگی کر لیتے ہیں ۔اصل مسئلہ اس جبلت کا ہوتا ہے جو شکار کو نکلنے والے ہر فرد کے دل میں ہوتی ہے ۔کسی پرندے کو تاک کر نشانہ لگانا ،اس کا زخمی ہو کر پھڑپھڑاتے ہوئے گرنا ،اس کے جسم سے لہو کے فوارے پھوٹنا ،اس کا تڑپنا اور پھر آہستہ آہستہ اس کے اعضاء کا ڈھیلے پڑ جانا اور بلآخرکھلی آنکھوں کے ساتھ ساکت و صامت ہو جانا شکاری کیلئے قلبی راحت کا باعث ہوتا ہے۔معزز قارئین جنگلی جانور اور خوبصورت پرندے قدرت کا حسین تحفہ ہیں ۔ان کی حفاظت کرنا تو ہم سب کا فرض ہے ۔خداوند کریم کی طرف سے بنائی گئی یہ دنیا صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ کیڑوں مکوڑوں ،چرند پرنداور جانوروں کا رہنا بھی اتنا ضروری ہے جتنا خود انسانوں کیلئے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ انسانوں نے ان حشرات الارض اور طرح طرح کے پرندوں کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھانا شروع کر رکھا ہے ۔ہمارے ہاں انسانوں کے تحفظ کیلئے جو قوانین و ضوابط بنائے گئے ہیں ان پر کسی نہ کسی طریقہ سے عمل درآمد ہو ہی جاتا ہے لیکن ان بے چارے جانوروں کیلئے کوئی ایسے اقدامات نہیں کئے جاتے کہ ان کی نسلیں محفوظ رہ سکیں ۔کہنے کو تو حیوانات کے تحفظ کیلئے وائلڈ لائف کا محکمہ قائم ہے اور ناپید ہونے والے جانوروں کی نسلوں کے تحفظ کیلئے مختلف قوانین بھی بنائے گئے ہیں اور ان پر عمل درآمد کیلئے محکمہ وائلڈلائف میں ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کو کھپایا بھی گیا ہے لیکن یہ ملازمین جانوروں کا تحفظ کرنے کے بجائے اپنے افسروں کو خوش کرنے اور مقتدر شخصیات کے علاوہ بڑے بڑے سیاستدانوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے خود ہی ان قیمتی اور نایاب جانوروں کے خاتمہ کا سبب بن رہے ہیں ۔محکمہ ’’وائلڈ لائف‘‘ کے ملازمین کی ’’آشیر باد ‘‘ سے ہونے والے غیر قانونی شکار نے خوبصورت جانوروں اور پرندوں کو نایاب کر دیا ہے جبکہ ان ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے دکانداروں نے اپنی دکانوں اور لوگوں نے گھروں کے اندر خوبصورت پرندے چھوٹے چھوٹے پنجروں میں قید کر رکھے ہیں ۔وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کی مبینہ ملی بھگت سے صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں موسم سرما میں سائبیریا سے آنے والے پرندوں کا بے دریغ شکار کیاگیا جبکہ بنوں ، کوہاٹ اور ڈی آئی خان کے ریگستانی علاقوں میں باز پکڑنے کا کاروبار بھی زوروں پر ہے جبکہ راقم کا علاقہ ہیڈمرالہ سیالکوٹ ہزاروں نایاب پرندوں کیلئے موت کی آماجگاہ بن گیا ہے علاقہ میں نہروں کے کناروں کے قریب شکاریوں نے اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں اور محکمہ کی چشم پوشی کے باعث پرندوں کی نایاب نسلیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ یورپ سے آنے والے پرندوں کا شکار کرنے کیلئے اکثر اوقات اعلیٰ شخصیات ان شکار گاہوں کا رخ کرتی ہیں اور ان کی آمد پر سیکورٹی کے بھی خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں۔دنیا بھر کے یخ بستہ خطوں اور ممالک کے علاوہ روس کے سرد علاقے سائبیریا میں سردیاں شروع ہوتے ہی ہر سال لاکھوں خوبصورت پرندے طویل اڑانیں بھرتے اور شور مچاتے پاکستان اور بھارت میں سردیاں گزارنے آتے ہیں ۔ان میں زیادہ ترپرندے سائبیریا کے علاوہ کینیڈا ،آسٹریلیااور نیوزی لینڈ سے آتے ہیں جبکہ 70فیصد پرندے افغانستان سے تین فضائی راستوں کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن اس سال پرندوں کی بڑی تعداد نہ جانے کیوں نہیں آئی۔محکمہ جنگلی حیات کے اجازت نامے سے ہر سال پرندوں اور جانوروں کے قتل عام کے مقابلے افسوس ناک ہیں۔کیا موجودہ حکومت جو ملک کوگرین، خوبصورت اور سیاحوں کیلئے پر کشش بنانے کا کئی بار عندیہ دے چکی ہے محکمہ وائلڈ لائف کے خلاف غیر قانونی شکار کرانے ،قیمتی اور نایاب جانوروں کے قتل عام کے علاوہ شکار کا لطف اٹھانے والے سیاستدانوں اور امراء کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی اور جگہ جگہ دکانوں میں مقیدخوبصورت پرندوں کو رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

Google Analytics Alternative