Home » 2019 » March » 12

Daily Archives: March 12, 2019

حکومت کی تمام پالیسیاں نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کیلیے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت اپنی تمام پالیسیاں نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کے لیے بنا رہی ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ کم لاگت مکانات کے لیےاسٹیٹ بینک کی فنانس پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب سے حکومت میں آئے ہیں ہماری تمام پالیسیاں نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کے لیے بنانے پرمذکور ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہرانسان اپنا گھر چاہتا ہے لیکن  پاکستان میں ایک بہت بڑی آبادی اپنا گھر خرید نے یا بنانے کی سکت نہیں رکھتی، اس لیے کم لاگت گھر اسکیم ایک بڑا اقدام ہے، پانچ سالوں میں 50 لاکھ گھر بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے فنانس کی سہولت کے ساتھ ساتھ قانون کی اجازت بھی ضروری ہے، اگر ایسا نہ ہوا تو گھروں کی تعمیر ایک بہت بڑا چیلنج بن جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں شہروں کو مزید پھیلنے سے روکیں گے جب کہ اسلام آباد کوصفائی کے معاملے پرماڈل شہربنائیں گے اور دارالحکومت کی کچی آبادیوں کومالکانہ حقوق فراہم کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار دینا حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

حکومت کچھ بھی کرلے جیل مجھے نہیں توڑ سکتی، نواز شریف

لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کچھ بھی کرلے جیل مجھے نہیں توڑ سکتی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ بلاول نے نواز شریف کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ بلاول بھٹو اور نواز شریف کی ملاقات ایڈیشنل جیل سپریٹنڈنٹ کے کمرے میں ہوئی جس کی اندرونی کہانی بھی سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف مکمل پر عزم اور با اعتماد تھے۔

بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف سے کہا کہ میاں صاحب آپ تین بار وزیر اعظم رہے ہیں یہ لوگ زیادہ دیر آپ کو بند نہیں رکھ سکتے، امید ہے اگلی ملاقات جیل سے باہر ہوگی،  بلاول کی بات پر نواز شریف نے ہنس کر جواب دیا یہ بھی کہہ دیں یہ ملاقات جلد سے جلد ہو، حکمران کچھ بھی کرلیں جیل مجھے نہیں توڑ سکتی۔

بلاول بھٹو نے نواز شریف کو این آئی سی وی ڈی میں علاج کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب سندھ حکومت این آئی سی وی ڈی میں عالمی معیار کا علاج کرانے کو تیار ہے، اس پر نواز شریف نے جواب دیا کہ علاج تو میں خود بھی کروا سکتا ہوں حکمران اجازت تو دیں، یہ لوگ میرا علاج کرائیں میرا تماشا تو نہ بنائیں، مجھے اسپتال لے جایا جاتا ہے بلڈ پریشر اور بلڈ ٹیسٹ کروا کر واپس جیل لے آتے ہیں علاج نہیں کراتے، بلاول صاحب ہم نے جو غلطیاں کیں سو کیں مگر اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، تسلیم کرتا ہوں کہ آئین کے آرٹیکل 62، 63 ختم کرنے کی پیپلز پارٹی کی پیشکش ٹھکرا کر غلطی کی۔

ذرائع کے مطابق ایڈیشنل جیل سپریٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پورا وقت ملاقات میں موجود رہے اور نواز شریف کو ایک لمحہ بھی اکیلا نہیں چھوڑا گیا۔ نواز شریف سے ملاقات کرنے والوں کی چائے سے تواضع کی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف نے ملکی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ بلاول بھٹو نے نواز شریف سے کہا کہ ملکی معاملات میں بہتری کے لئے ہمیں کردار ادا کرنا ہوگا، حکومتی رویے حالات میں بہتری کی بجائے خرابی کا باعث بن رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کی کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی ہے، اس موقع پر ان کے ہمراہ قمر زمان کائرہ ، مصطفیٰ نواز کھوکھر، علی قاسم گیلانی اور سید حسن مرتضیٰ بھی تھے۔

ملاقات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ملکی سیاسی صورت حال اور پاک بھارت کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلاول بھٹو نے ملاقات میں نواز شریف کی خیریت دریافت کی۔ اس دوران ملکی سیاسی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیاسی اختلافات ہوتے ہیں، کچھ عرصے سے باہرتھا ، نواز شریف کی طبیعت کی خرابی کا پتا چلا تو ان کی عیادت کے لیے آیا، نواز شریف کافی بیمار لگ رہے تھے، جس علاج کا مطالبہ نوازشریف کر رہے ہیں وہ ان کو فراہم کیا جائے۔

واضح رہے کہ باول بھٹو زرداری نے چند روز قبل کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کا عندیہ دیا تھا، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے ملاقات کے لئے محکمہ داخلہ پنجاب کو باضابطہ طور پر درخواست بھی دی تھی، جسے پنجاب حکومت نے منظور کرلیا۔

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی ملاقات

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے جس میں سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم آفس میں وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ملاقات کی جس میں سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران قومی سلامتی کے امور، اندرونی وبیرونی خطرات اورسرحدی صورت حال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بھارت کے جارحانہ رویے اورپاکستان کے موثرجواب پربھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔

بھارتی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 14 مارچ تک مؤخر کردیا

ںئی دہلی: بھارت کی خصوصی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ مؤخر کردیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پنچکولا شہر میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی خصوصی عدالت کی جانب سے سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ 12 سال بعد آج سنائے جانے کا امکان تھا۔

18 فروری 2007 کو سمجھوتہ ایکسپریس کی ایک بوگی میں بم دھماکے کے نتیجے میں 68 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جن میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی تھی۔

ریاست ہریانہ کے ضلع پانی پت میں دیوانہ ریلوے اسٹیشن کے قریب سمجھوتہ ایکسپریس کی بوگی میں دھماکا ہوا جس کے بارے میں بعدازاں کہا گیا کہ ٹرین میں ہندو انتہا پسندوں نے جان بوجھ کر خود آگ لگائی۔

جون 2011 میں تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے چارج شیٹ پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ ٹرین میں دھماکے کا مقصد پاکستانی مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا۔

ہندو انتہا پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے سوامی آسیمانند، لوکیش شرما، سنیل جوشی، سندیپ ڈینگی اور راماچندرا کلاسنگرا کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا تھا۔

سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کے مرکزی ملزم سوامی آسیمانند ضمانت پر رہا ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے) نے تحقیقات کے دوران 290 عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے جن میں 15 پاکستانی بھی شامل تھے۔

نوازشریف اپنےاصولوں پرقائم ہیں اورلگتا نہیں وہ کوئی ڈیل کریں گے، بلاول بھٹو زرداری

لاہور: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ نوازشریف کافی بیمارلگ رہے تھے اور جس علاج کا مطالبہ میاں صاحب کررہے ہیں وہ ان کوفراہم کیا جائے۔

کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈٰیا سے بات کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج میرے لیے تاریخی دن ہے کیوں کہ اسی جیل میں شہید ذوالفقارعلی بھٹوبھی قید رہے اور میں کچھ عرصے سے ملک سے باہر تھا تو میاں صاحب کی طبیعت کی خرابی کا پتا چلا اس لیے آج نوازشریف کی عیادت کے لیے کوٹ لکھپت جیل گیا جب کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہیں لیکن بیمار کی عیادت کرنے کا حکم ہمارا دین بھی دیتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نوازشریف کافی بیمارلگ رہے تھے اور جس علاج کا مطالبہ میاں صاحب کررہے ہیں وہ ان کو فراہم کیا جائے، دل کے مریض کودباؤ میں رکھنا تشدد کے مترادف ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر بےنظیر بھٹو اور نوازشریف نے 2006 میں دستخط کیا تھا لیکن میثاق جمہوریت پرمکمل عمل درآمد نہیں کیا یہ ہماری ناکامی ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں میں میاں صاحب کی بیٹی کی طرف سے انکی صحت پر تشویش ظاہر کی گئی تھی، بیمار قیدی کے علاج معالجہ کو بہترین سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے جب کہ میاں صاحب نے کہا کہ وہ نظریاتی ہیں اورنظریاتی سیاست کریں گے، میاں صاحب اپنے اصولوں پرقائم ہیں اور لگتا نہیں کہ وہ کوئی ڈیل کریں گے جب کہ نہیں چاہوں گا کہ خان صاحب کوبھی یہ وقت دیکھنا پڑے کہ ان کے بچوں کو ادھرادھر بھاگنا پڑے۔

مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا

adaria

بھارت کا جنگی جنون دنیا کے سامنے کھل کر آگیاہے، بین الاقوامی برادری اچھی طرح جان چکی ہے کہ اس ساری جنگی مہم میں قصورواربھارت ہی ہے کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی اب تو مقبوضہ کشمیر کے بڑ ے بڑے جریدوں نے بھارتی مظالم کے خلاف مقبوضہ کشمیرمیں اپناصفحہ اول خالی چھوڑدیا اب بین الاقوامی میڈیا اوردنیابھرکی بڑی بڑی صحافی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں ۔اقوام متحدہ ،ا و آئی سی اوردیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی بیک زبان ہوکربھارت کے خلاف مہم چلانی چاہیے کیونکہ پوری دنیا میں سب سے بڑی اوردہشت گرد فوج مقبوضہ کشمیرمیں تعینات ہے جس نے انسانی جانوں کی قیمت اتنی ارزاں کررکھی ہے کہ وہاں پر انسانی حقوق کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔مودی محض انتخابات جیتنے کے لئے یہ خو ن کی ہولی کھیل رہاہے۔ مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ مودی نے پانچ سال میں پہلی بارفوجی تقریب میں شرکت کی۔ انتخابی شیڈول کا اعلان ہوتے ہی بی جے پی حکومت نے آمرانہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیئے ۔ غازی آبادمیں فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندرمودی نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہاہے کہ سرحدپارسے انڈیا میں دہشت گردی ہورہی ہے اب بہت ہوچکاہم ہمیشہ کیلئے دہشت گردحملے برداشت نہیں کرسکتے ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں جب ہمسایہ ہمارادشمن ہو اور اسے سازشیں کرنے میں ہمارے ملک کے کچھ عناصر کی حمایت حاصل ہوتو پھر سکیورٹی فورسز کا کرداربڑااہم ہوجاتاہے ۔دوسری جانب بھارتی ریاست تیلنگانہ کے شہر شمشاد آبادمیں خطاب کرتے ہوئے کانگریس کی رہنما وجے شانتی نے کہاکہ مودی دہشت گرد لگتے ہیں لوگ خوفزدہ ہیں انہیں پتہ نہیں کہ مودی کب کونسابم پھینک دیں جوکردارمودی کا ہے وہ کسی وزیراعظم کا نہیں ہوسکتا۔ادھر کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے اکثر اخبارات نے پہلے صفحے پر کوئی خبر شائع نہیں کی اور صرف ایک احتجاجی تحریر درج کی کہ بھارتی حکام کا اشتہارات کی فراہمی کے لیے بلا جواز انکار۔رپورٹ میں کہا گیا کہ وادی کی بھارت نواز انتظامیہ نے 14 فروری کو پلوامہ میں ہونے والے حملے میں 44 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد 2 مقامی اخبارات کو اشتہارات دینے سے انکار کردیا تھا۔ بعد ازاں سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ عوامی سطح پر اشہارات پر لگائی گئی پابندی کو مرکز کی جانب سے پریس اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ اختیار کیے گئے جابرانہ رویے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ انہوں نے اخبارات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ جنگجو ایجنڈا ہے سابق وزیراعلیٰ یوپی اوربی ایس پی سربراہ مایاوتی نے مودی پرتنقیدکرتے ہوئے کہاہے کہ عوام ان کے ہتھکنڈوں سے محتاط رہیں۔ادھربھارتی فوج نے چکوٹھی، پانڈو اور کھلانہ سیکٹروں کی سول آبادی پر بلا اشتعال گولہ باری کی۔ بھارتی گولہ باری سے خاتون نوشاد بی بی اور ایک بزرگ شہری غلام محمد ولد محمد شیر ساکن میرا بکوٹ شہید ہوگئے جبکہ راجہ محمد محمود ولد راجہ یونس ساکن سراں، زاہدہ بی بی دختر توفیق عباسی ساکنہ بڑی بہک کھلانہ، چناری کا دکاندار عبدالوہاب اور ایک نا معلوم بچہ زخمی ہو گئے۔ بھارتی گولہ باری سے میرا بکوٹ گاؤں میں دو حقیقی بھائیوں یوسف عباسی، اکبر عباسی ولد نعمت اللہ عباسی کے گھروں سمیت متعدد رہائشی مکانات اور ایک ڈاٹسن گاڑی، ایمبولینس کے جزوی طور پر تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پاک فوج کی جانب سے بھارتی فوج کی گولہ باری کا موثر جواب دیاگیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن چاہتے ہیں، امتحان ابھی ختم نہیں ہوا، ہم نے پہلے ہی عالمی طاقتوں کو باور کروا دیا تھا کہ کشمیر میں الیکشن سے قبل مودی کوئی نہ کوئی حرکت کریگا، ہمارا موقف ہے دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ گے توہاتھ تھامیں گے، جنگ کا مکا دکھاؤگے تو مکا توڑ دیں گے،مودی ہمیں سفارتی طور پر کمزور کرنا چاہتا ہے، بھارت ہمیں سفارتی طورپر کمزورکرنا چاہتا، سارک کو یرغمال بنا چکا، کہیں بھی کچھ بھی ہو تو بغیر تحقیق کے انگلیاں پاکستان پر اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں، پاک امریکا تعلقات نئی کروٹ لینے والے ہیں۔ دوسری جانب دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے حالیہ اقدامات کو پلوامہ سے جوڑنا بھارتی ایجنڈے کا حصہ ہے، نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں 2014سے جاری ہیں، بھارتی حکومت اور میڈیا ناکامیاں چھپانے اور سیاسی مقاصد کیلئے عالمی برادری اور بھارتی عوام کو گمراہ کر رہا ہے ، دنیا نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کو تسلیم کیا۔ہم بھانپ گئے تھے کہ نریندر مودی انتخابات سے قبل کچھ نا کچھ اس طرح کی حرکت کریگا۔ بھارت کو سوچنا ہوگا کہ آج کشمیر کی صورتحال کیوں بگڑی ہے؟ ہم بھارت کیساتھ لڑائی نہیں،امن چاہتے ہیں،بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کشمیر کا سودا چاہتے ہیں۔ جبکہ وزیراطلاعات فواد چوہدری نے گھس کر مارنے کی بڑھکیں مارنے والے نریندرمودی کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کہتے تھے گھس کر ماریں گے،گھس کر دیکھ لیا ناں! پھر کیا بنا ؟ہم نے انہیں سبق سکھا دیا۔

پنجاب حکومت کے خوش آئنداہم فیصلے
پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کو صحت کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وزیراعظم نے اصولی منظوری دیدی ہے۔ پنجاب کے سرکاری ملازمین کو صحت کارڈ جاری کرنے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ دی تھی جس میں بتایا گیا کہ حکومت پنجاب سرکاری ملازمین کو بھی صحت کارڈ جاری کرنے جا رہی ہے جس پر وزیراعظم نے اصولی منظوری دیتے ہوئے پنجاب حکومت کو مکمل پلان مرتب کرنے کی ہدایت کر دی۔ صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کیلئے صحت کارڈ کی اجازت دے دی ہے۔ دریں اثنا وزیراعظم نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں صفائی کا نظام بہتر بنانے کی بھی ہدایت کر دی۔ صفائی کی بہتری کیلئے پنجاب حکومت نے 18 مارچ سے سینی ٹیشن ویک کے آغاز کا فیصلہ کر لیا۔ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے بھی وزیراعظم کی ہدایات پنجاب حکومت کو موصول ہو گئیں۔ صفائی کی بہتری کیلئے پنجاب حکومت نے 18 مارچ سے ہفتہ صفائی کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب صفائی مہم کا افتتاح کریں گے جس کیلئے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت نے اپریل کے ہفتے سے دیہی سطح پر سینی ٹیشن پروگرام شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وزیراعظم کی ہدایت کے بعد پنجاب حکومت نے عملدرآمد پلان مرتب کر لیا۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے بلین ٹری منصوبے کی کامیابی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے خیبرپی کے کے جنگلات میں چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔ عوامی اور نجی شعبے کی کوششوں سے بلین ٹری سونامی منصوبے کو مثالی کامیابی ملی۔ اس کامیابی نے 10ارب درخت لگانے کا حوصلہ دیا ہے۔

سوشل میڈیا گردی کا شکارہونے والی پاکستانی اداکارائیں

کراچی: سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو کسی کوبھی راتوں رات مشہور بنادیتاہے جب کہ یہی سوشل میڈیا کسی کی بھی مثبت امیج کو تباہ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتا۔

پاکستانی اداکاراؤں نے جہاں اپنی مقبولیت میں مزید اضافے کے لیے سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹس بنائے وہیں سوشل میڈیا نے چند پاکستانی اداکاراؤں کی شخصیت کے امیج کو خراب  کرنے میں بھی اہم کردار اداکیا جس کی بڑی مثال ماہرہ خان، صبا قمر نیلم منیر خان، ہانیہ عامر اور ماورا حسین ہیں۔

ماہرہ خان

پاکستان کی صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے جہاں اپنے کام سے شوبز میں نام بنایا وہیں ایک ’’سگریٹ اسکینڈل‘‘ نے ان کی شہرت کو بہت نقصان پہنچایا۔ دوسال قبل 2017 میں ماہرہ خان کی بھارتی اداکار رنبیر کپور کے ساتھ سگریٹ پیتے ہوئے تصاویر وائرل ہوئی تھیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچادیا تھا اور ماہرہ خان کو مختصر کپڑوں میں رنبیر کپور کے ساتھ سگریٹ پینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا تھا بعد ازاں ماہرہ کو وضاحت دیتے ہوئےکہنا پڑا تھا کہ انہوں نے اس واقعے سے سبق حاصل کیاہے، اس کے علاوہ انہوں نے معافی بھی مانگی تھی۔

صبا قمر

صبا قمر کا شمار پاکستان شوبز انڈسٹری کی صاف گو اداکاراؤں میں ہوتا ہے جو کبھی بھی اپنی رائے دینے سے پیچھے نہیں ہٹتیں۔ تاہم صبا قمر اس وقت سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آگئیں جب ان کی ایک تصویر لیک ہوئی جس میں انہوں نے نامناسب لباس پہناہوا تھا اور ان کے ہاتھ میں بھی سگریٹ تھی۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ صبا قمر نے یہ تصاویر سستی شہرت حاصل کرنے اور میڈیا میں بنے رہنے کے لیے جان بوجھ کر لیک کروائی ہے۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید حد سے بڑھ گئی تو صبا قمر نے وضاحت دیتے ہوئے کہا مجھے معلوم نہیں کہ اس تصویر کو اتنا زیادہ کیوں اچھالاجارہا ہے۔

ماورا حسین

حال ہی میں نامور پاکستانی اداکارہ ماورا حسین نے اسکول آف لندن سے گریجویشن کی ڈگری  حاصل کرنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، تاہم جہاں انہیں ان کے چاہنے والوں نے مبارکباد دی وہیں ڈگری کا دکھاوا کرنے پر ماورا کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایاگیا اور صارفین کی جانب سے ان پر الزام لگایاگیا کہ ماورا نے یہ تصاویر سوشل میڈیا پر فعال رہنے اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے شیئر کی ہیں۔

ہانیہ عامر

2017 کے آخر میں ’’پرواز ہے جنوں‘‘ کی اداکارہ اور ماڈل ہانیہ عامر کواس وقت سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا جب انہوں نےایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ جہاز میں اپنی سیٹ کے پیچھے بیٹھے مسافر کی بغیر اجازت تصویر بنانے کی کوشش کررہی تھیں۔ ہانیہ عامر کی حرکت بہت ہی غلط تھی لہٰذا سوشل میڈیا صارفین نے ان پر مثبت تنقید کی اورانہیں ان کے عمل کے لیے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا اگر اس وقت ہانیہ کی جگہ کوئی آدمی کسی عورت کی بغیر اجازت تصویر لینے کی کوشش کررہا ہوتا تو اس پر جنسی ہراسانی کا الزام لگ جاتا۔ بعدازاں اپنی غلط حرکت کے لیے ہانیہ عامر کو معافی مانگنی پڑی تھی۔

نیلم منیر

نامور پاکستانی اداکارہ نیلم منیر کی دوسال قبل وائرل ہونے والی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچادیا تھا اس ویڈیو میں نیلم منیر کار میں بیٹھی بھارتی گانے پر رقص کرتی نظر آرہی تھیں۔ اس ویڈیو پر نیلم منیر پر سخت تنقید کی گئی تھی۔

Google Analytics Alternative