Home » 2019 » March » 12 (page 2)

Daily Archives: March 12, 2019

کم جونگ کے بھائی کے قتل کے الزام سے خاتون بری

شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن کے سوتیلے بھائی کم جونگ نیم کے قتل کے الزام میں گرفتار 2 خواتین میں سے ایک خاتون کو ڈیڑھ سال بعد ملائیشیا کی عدالت نے رہا کردیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دونوں خواتین شروع سے ہی قتل کے الزام سے انکار کررہی تھیں، ان کے مطابق انہیں شمالی کوریا کے ایجنٹوں نے گمراہ کیا جسے وہ ریئلٹی ٹی وی شو کے مذاق کا حصہ سمجھیں تھیں۔

اکتوبر 2017 میں شروع ہونے والے ٹرائل کا کئی ماہ کے وقفے کے بعد آج ایک مرتبہ پر پھر آغاز ہوا جس میں پراسیکیوٹر محمد اسکندر نے درخواست کی آسیہ کے خلاف قتل کی دفعات خارج کردی جائیں جس پر عدالت نے ان کے خلاف چارج خارج کردیا۔

سماعت کے دوران عدالت کے سامنے کلوز سرکٹ کمیروں کی فوٹیج بھی پیش کی گئی جس میں ملزمان کو قتل کے بعد تیزی سے واش روم کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

لیکن ان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شمالی کوریا کے 4 باشندے اس قتل کے ماسٹر مائنڈ تھے جنہوں نے ملائیشیا سے فرار ہونے سے ایک روز قبل زہر فراہم کیا تھا۔

گزشتہ برس اگست میں جج نے حکم دیا کہ ملزمان کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں، جنوبی کوریا نے مذکورہ قتل کے پیچھے شمالی کوریا کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا تھا جسے پیانگ یانگ سے مسترد کردیا تھا

واضح رہے کہ ملائیشیا ایک زمانے میں شمالی کوریا کے چند اتحادیوں میں شامل تھا لیکن اس قتل کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات بری طرح متاثر ہوئے اور دونوں نے اپنے اپنے سفیروں کو واپس بلایا تھا۔

یاد رہے کہ کوالالمپور ایئرپورٹ پر کم جونگ نیم کو زہریلا کیمیکل لگانے کا یہ واقعہ 13 فروری 2017 کو پیش آیا تھا جب وہ کوالالمپور میں ذاتی کاروبار کے سلسلے میں موجود تھے اور مکاؤ کی پرواز میں سوار ہونے جا رہے تھے۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 2 خواتین کم جونگ نیم کے چہرے پر کچھ لگا رہی ہیں اور اس کے بعد وہ ایئرپورٹ اسٹاف سے مدد طلب کرتے دکھائی دیئے تھے تاہم کم جونگ نیم اس حملے کے چند ہی گھنٹوں میں ہلاک ہوگئے تھے۔

بعد ازاں 15 فروری کو ملائیشین پولیس نے کوالالمپور ایئرپورٹ کے ٹرمینل سے ایک مشتبہ خاتون کو حراست میں لیا تھا، جن کے پاس ویتنام کی سفری دستاویزات موجود تھیں جبکہ بعد ازاں رائل ملائیشیا پولیس کے انسپکٹر جنرل سری خالد بن ابوبکر نے قتل میں ملوث انڈونیشئن پاسپورٹ کی حامل ایک اور خاتون کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اندونیشین پاسورٹ رکھنے والی 25 سالہ آسیہ نے کہا تھا کہ اسے دھوکے سے اس قتل کا حصہ بنایا گیا تاہم ملائیشین پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں مشتبہ خاتون قتل کے منصوبے سے آگاہ تھیں۔

ماہرین کا بتانا تھا کہ ایئرپورٹ پر کم جونگ نیم کے قتل میں ’وی ایکس’ نامی کیمیکل استعمال کیا گیا تھا، جس کی صرف ایک بوند چند منٹ میں انسان کی جان لینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ اس کیمیکل کو اقوام متحدہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار قرار دیا جاچکا ہے۔

بھارت کی فوجی ناکامی کے بعد آبی دہشت گردی؛ 3 دریاؤں کا پانی روک لیا

نئی دہلی: پلوامہ حملے کے بعد پاک بھارت کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی جہاں بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کا محاذ کھول دیا۔

بھارت نے پاکستان کو اضافی پانی کی فراہمی روک کرپاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کا محاذ کھول دیا۔ بھارت کے وزیرمملکت برائے آبی وسائل ارجن میگوال کا کہنا ہے کہ بھارت نے مشرقی دریاؤں دریائے ستلج، بیاس اورراوی سے اب تک پانچ لاکھ تیس ہزار ایکڑ فٹ پانی پاکستان جانے سے روک دیا ہے۔ اس پانی کوذخیرہ کیا جائے گا اورضرورت پڑنے پر راجستھان اورپنجاب میں پینے اور زراعت کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ تینوں دریا سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت کے ہیں، ہم نے ایسا کرکے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق مودی سرکارنے پلوامہ حملے کے رد عمل میں سندھ طاس معاہدے پربات چیت کے لئے بھارتی وفد کا مجوزہ دورہ پاکستان بھی ملتوی کردیا ہے۔

واضح رہے کہ 2018 میں پاک بھارت انڈس واٹر کمیشن کے اجلاس میں دونوں ملکوں نے اس امر پراتفاق کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت طے شدہ دوطرفہ دورے جاری رہیں گے۔ پاکستان کے وفد نے شیڈول کے مطابق اکتوبر دوہزار اٹھارہ میں بھارت کا دورہ کرنا تھا لیکن مقبوضہ کشمیرمیں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا تھا۔

امریکی گلوکارہ جینیفرلوپیزنے اپنا جیون ساتھی چن لیا

کیلیفورنیا: امریکی گلوکارہ جینیفرلوپیزنے سابق بیس بال اسٹار ایلکس روڈریگزکے ساتھ منگنی کرلی۔

دنیا کی صف اول کے گلوکاروں میں شمارہونے والی 49 سالہ امریکی گلوکارہ جینیفرلوپیز نے سابق بیس بال اسٹار ایلکس روڈریگز کے ساتھ منگنی کرلی اور سابق بیس بال اسٹار ایلکس روڈریگز کے ساتھ اپنی دو سالہ دوستی کو رشتے میں بدل لیا۔

گلوکارہ نے سوشل میڈیا پرمنگنی کی انگوٹھی پہنے ہوئے تصویر بھی شئیرکی۔  ان کا کہنا تھا کہ وہ خوش قسمت ہیں جنہیں دوست کی شکل میں ہمسفر مل گیا۔

دونوں کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے یہ جوڑا جلد شادی کا اعلان بھی کرے گا۔

واضح رہے کہ 49 سالہ گلوکارہ 3 بارپہلے بھی شادی کے بندھن میں بندھ چکی ہیں اور ان کے 2 بچے ہیں۔

بھارت میں عورت جبر و ظلم کا شکار

سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت کو خواتین کیلئے دنیا میں سب سے زیادہ خطرناک ملک قرار دے دیا گیا جہاں سب سے زیادہ جنسی زیادتی اور جبری مشقت کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ تھامسن رائٹرس فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کئے گئے ایک سروے میں خواتین کے تئیں جنسی تشدد، ہیومن اسمگلنگ اور جنسی کاروبار میں دھکیلے جانے کی بنیاد پر ہندوستان کو خواتین کے لئے خطرناک بتایا گیا ہے۔ افغانستان اور سیریا دوسرے اور تیسرے، صومالیہ چوتھے اور سعودی عرب پانچویں مقام پر ہیں۔یعنی پوری دنیا میں ہندوستان، خواتین کے لئے سب سے خطرناک اور غیر محفوظ ملک مانا گیا ہے۔ تھامسن رائٹرس فاؤنڈیشن کے سروے میں 193ملکوں کو شامل کیا گیا تھا، جن میں سے عورتوں کے لئے ٹاپ 10 بدترین ملکوں کا انتخاب کیا گیا۔ اس سروے میں خواتین کے تئیں جنسی تشدد کے خطروں کے لحاظ سے واحد مغربی ملک امریکہ ہے۔ اس میں یورپ، افریقہ، امریکہ، جنوب۔مشرقی ایشیا کے پیشہ ور، ماہر تعلیم، حفظان صحت ملازم، غیر سرکاری تنظیم کے لوگ، پالیسی ساز اور سماجی مبصرین شامل تھے۔اس سے قبل یہ سروے2011 میں ہوا جس میں میں افغانستان، کانگو، پاکستان، ہندوستان اور صومالیہ خواتین کیلئے سب سے خطرناک ملک مانے گئے تھے۔ لیکن اس دفعہ ہندوستان تین پائیدان اوپر کھسک کر پہلے مقام پر آگیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ 2011 میں دہلی میں ایک چلتی بس میں ہوئے گینگ ریپ کے بعد ابھی تک خواتین کے تحفظ کو لیکر زیادہ کام نہیں کئے گئے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2007 سے 2016 کے درمیان خواتین کے تئیں بڑھتے جرائم میں 83 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے۔ ساتھ ہی ہر گھنٹے میں 4 ریپ کے معاملے درج کئے جاتے ہے۔ہندوستان ہیومن اسمگلنگ، جنسی تشدد، سماجی اور مذہبی روایتوں کی وجہ سے اور خواتین کو سیکس دھندوں میں دھکیلنے کے لحاظ سے سر فہرست ہے۔متعلقہ وزارت نے اس سروے کے نتیجوں پر کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔سروے میں جواب دینے والوں سے پوچھا گیا کہ 193 اقوام متحدہ کے ممبر ریاستوں میں سے خواتین کیلئے سب سے خطرناک پانچ ملک کون سے ہیں اور صحت، اقتصادی وسائل، ثقافتی اور رسم و رواج، جنسی تشدد، استحصال، غیرجنسی تشدد اور ہیومن اسمگلنگ کے معاملے میں کون سا ملک سب سے خراب ہے۔ جواب دینے والوں نے ہندوستان کوہیومن اسمگلنگ، جنسی استحصال اور سیکس سلیوری، گھریلو غلامی اور زبردستی شادی کرانے اور اسقاط حمل کی بنیاد پر بھی خواتین کیلئے سب سے خطرناک ملک بتایا ہے۔افغانستان اقتصادی وسائل، صحت سہولیات کی بھاری کمی اور جنسی تشدد کی وجہ سے تیسرے مقام پر ہے۔وہیں سیریا اورصومالیہ میں طویل عرصے سے چل رہی جنگ کی وجہ سے خواتین کی حالت کافی خراب ہوئی ہے۔سیریا میں صحت سہولیات تک خواتین کی کوئی پہنچ نہیں ہے اور صومالیہ میں ثقافتی اور مذہبی روایتوں کی وجہ سے بھی خواتین پریشان ہیں۔ بھارت میں عورتوں کی جان، عزت اور ناموس بری طرح غیر محفوظ ہے۔ اس حوالے سے عالمی جائزوں کے مطابق بھارت دنیا کا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے۔ بھارت جہاں بین الاقوامی رائے عامہ کو اپنی نام نہاد جمہوریت کے حوالے سے گمراہ کررہا ہے، وہیں حالیہ تین عالمی رپورٹیں سامنے آنے پر اسے بے حد ندامت کا سامنا ہے۔ ان رپورٹوں میں سب سے پہلے امریکی سی آئی اے کی طرف سے بھارت میں ہندو فرقہ پرست تنظیموں راشٹریہ سیوک سنگھ کی شاخوں اور ویشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو اس کے بھیانک کردار و عمل کی وجہ سے دہشت گردی کی لسٹ میں ڈالے جانے کی رپورٹ شائع ہوئی۔دوسری رپورٹ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے جاری ہوئی، جبکہ تیسری عالمی رپورٹ ایک برطانوی ادارے کی طرف سے جاری کی گئی، جس پر بھارت کو خواتین کیلئے انتہائی غیر محفوظ ملک قرار دیا گیا۔سیکولرازم اور مساوی حقوق کے نام نہاد علمبردار بھارت میں گزشتہ چند برسوں میں پیش آنے والے والی جنسی زیادتی کے پے در پے واقعات نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔بھارتی خواتین کو عوامی جگہوں، خاندانوں اور دفتروں میں ہراساں اور جنسی تشدد کا نشانہ بنانا ایک معمول ہے ہر جگہ عدم تحفظ کی فضاء ہے۔ عوامی مقامات ہوں یا پھر پبلک ٹرانسپورٹ، عورتوں کو کہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کر لیا جاتا ہے یا پھر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔بھارتی معاشرے میں خواتین کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسان سلوک کے ردعمل میں بھارت میں سینکڑوں ہندو لڑکیوں نے سماجی اور اخلاقی گراوٹ سے گھبرا کر اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد میں عافیت تلاش کرنا شروع کردی ہے۔ ہندوؤں میں ذات پات کی تقسیم کی رو سے برہمن اور دلت کے درمیان کھینچی گئی لکیر کے مطابق نیچ (نچلی) ذات قرار پانے ولے دلت ہندوؤں سے تعلق رکھنے والی سیکڑوں لڑکیوں نے مسلمان لڑکوں کو اپنا جیون ساتھی چننے کیلئے دینی شخصیات کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح بھارت میں متعصب ہندوؤں کی پیداکردہ غیر فطری اونچ نیچ کے باعث لڑکے باعزت زندگی گزارنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں جبکہ لڑکیوں نے سماجی ظلم، ناروا سلوک اور اونچ نیچ سے نجات کا راستہ مسلمان ہونے میں تلاش کیا ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد وہ ہندوؤں سے تو شادی نہیں کر سکتیں۔ اس لیے مسلمان ہی کو جیون ساتھی بنانا پڑتا ہے۔

بلال عباس کی ’ایک جھوٹی سی لو اسٹوری‘

پاکستانی ہدایت کارہ مہرین جبار کئی بہترین ڈرامے اور فلمیں بنانے کے بعد اب ویب سیریز بنانے جارہی ہیں۔

ان کی پہلی ویب سیریز کا نام ’ایک جھوٹی سی لو اسٹوری‘ رکھا گیا ہے جس پر پروڈکشن کا کام جاری ہے۔

ویسے تو اس ویب سیریز کی مکمل کاسٹ اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کررہی ہے البتہ اداکار بلال عباس خان نے اس کے حوالے سے چند باتیں شیئر کیں۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے بلال عباس کا کہنا تھا کہ اس کی کہانی عمیرا احمد نے تحریر کی جبکہ مہرین جبار اس کی ہدایات دے رہی ہیں۔

اپنے کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’میں زیادہ تفصیل تو نہیں بتاؤں گا البتہ میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان لڑکے کا کردار نبھا رہا ہوں‘۔

اداکار نے یہ بھی بتایا کہ انہیں اس ویب سیریز میں کام کرنے میں بےحد مزاح آرہا ہے۔

بلال عباس نے ویب سیریز کی کہانی کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ اس کی لانچ ہونے کی تاریخ بتانے سے بھی گریز کیا۔

اس ویب سیریز میں بلال عباس کے ساتھ مدیحہ امام، محمد احمد، بیو ظفر، فرقان صدیقی، مریم سلیم اور کرن حق کام کررہی ہیں۔

توند نکلنے کا باعث بننے والی عام عادات

اپنے جسم میں نکلتی ہوئی توند کسی کو اچھی لگ سکتی ہے؟ خواتین اور مرد دونوں اپنی پھیلتی کمر اور نکلتے پیٹ سے پریشان ہوتے ہیں۔

اگر آپ موٹاپے کا شکار نہیں مگر پھر بھی توند نکل رہی ہے تو یہ دل کی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

مایو کلینک کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جن لوگوں کی کمر پھیل جاتی ہے اور پیٹ باہر نکل آتا ہے، ان میں ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے اور ایسے افراد کو اپنا طبی معائنہ لازمی کرانا چاہئے۔

درحقیقت پیٹ اور کمر کے ارگرد جمع ہونے والی یہ چربی سب سے خطرناک ہوتی ہے جو ایسے اعضا کے گرد جمع ہوتی ہے جو امراض قلب، ذیابیطس اور دیگر سنگین طبی مسائل کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

اور اکثر یہ آپ کی اپنی ہی چند عادات ہوتی ہیں جو توند کا باعث بنتی ہیں۔

سوشل میڈیا کی لت

اگر آپ فیس بک اور انسٹاگرام سے دور نہیں رہ سکتے تو یہ عادت بھی توند نکلنے کا باعث بن سکتی ہے۔ ہارورڈ ہیلتھ بلاگ میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر فیس بک صارفین کا کوئی آن لائن دوست موٹاپے کا شکار ہوجائے تو اس بات کا امکان 57 فیصد بڑھ جاتا ہے کہ وہ خود بھی موٹاپے کا شکار ہوجائے کیونکہ اپنے دوستوں کی توند دیکھ کر لوگ اسے نقصان دہ نہیں سمجھتے۔

فروٹ جوسز کا استعمال

اگر آپ پھل کی بجائے ان کا جوس پینا زیادہ پسند کرتے ہیں تو اس سے صحت کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں، ان جوسز میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو پیٹ میں ورم کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں توند نکلنے لگتی ہے، ان جوسز میں کیلوریز اور مٹھاس بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ فائبر اور دیگر اہم وٹامنز اور منرلز کی کمی ہوتی ہے جو کسی پھل میں موجود ہوتے ہیں۔

بلاسوچے سمجھے کھانا

طبی ماہرین کے مطابق اگر لوگ اپنے جسم کو کچرا دان سمجھ کر کچھ بھی اس میں ڈالتے رہیں گے تو توند نکلنے پر انہیں پریشان نہیں ہونا چاہئے، دن بھر منہ چلانے کی عادت وہ بھی جنک یا تلی ہوئی اشیاءکو کھانا توند نکلنے کا باعث بنتا ہے۔

ورزش سے دوری

ورزش توند سے نجات میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے کیونکہ جسمانی سرگرمیوں کے دوران مسلز چربی کو توانائی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور وہ پیٹ میں ذخیرہ نہیں ہوتی، تو ورزش نہ کرنے پر اس کا الٹا اثر ہوتا ہے اور توند نکل آتی ہے۔

پروبائیوٹیکس سے دوری

معدے میں موجود بیکٹریا جسمانی وزن میں کمی یا اضافے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، دہی اور دیگر سپلیمنٹس میں موجود پروبائیوٹیکس اچھے اور برے بیکٹریا کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ بیکٹریا کا یہ توازن موٹاپے سے بچاﺅ میں مدد دیتا ہے اور بھوک کا باعث بننے والے ہارمون کو بھی ریگولیٹ کرتا ہے۔

کھانے کا معمول نہ ہونا

اگر آپ کے کھانے کا کوئی وقت طے نہیں تو اس بات کا امکان زیادہ ہوتا ہے جو کچھ ملے گا، وہ کھالیں گے، تاہم پہلے سے پلان بنانا بہتر غذائی انتخاب میں مدد دیتا ہے، یعنی ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے میں کیا کھانا چاہئے، اس کا فیصلہ پہلے کرلینا توند سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

سبزیوں سے منہ موڑ لینا

سبزیوں سے دوری بھی جسمانی وزن کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے، سبزیوں میں موجود فائبر ہاضمے کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے جو چربی کو ذخیرہ ہونے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

میٹھے مشروبات کا شوق

روزانہ صرف ایک سافٹ ڈرنک پینے کی عادت بھی موٹاپے اور توند کا باعث بن جاتی ہے، اس مشروب کے ایک کین میں 10 چائے کے چمچ چینی اور 150 کیلوریز ہوتی ہیں مگر ان میں صحت کے لیے فائدہ مند کوئی جز نہیں ہوتا بلکہ یہ چربی کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔

ہر وقت بیٹھے رہنا

اگر آپ دفتر میں 8 گھنٹے اپنی کرسی سے ہلتے بھی نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ جسمانی سرگرمیوں سے دور ہیں جو کیلوریز کو جلانے میں مددگار ہوتی ہیں جبکہ اس عادت سے چربی جلانے والے انزائمے کی سرگرمی بھی کم ہوجاتی ہے، تو ہر گھنٹے میں کسی نہ کسی کام کے لیے اپنی کرسی سے اٹھ کر یہاں وہاں گھوم لیں۔

فاقہ کرنا

ناشتہ، دوپہر یا رات کسی بھی وقت کے کھانے سے دوری جسمانی وزن میں کمی کی بجائے توند نکلنے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ ایک وقت کے کھانے سے دوری میٹابولزم سست ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ کیلوریز کم جلتی ہیں اور اکثر جنک فوڈ کو دیکھ کر ہاتھ روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔

نیند کی کمی

7 گھنٹے کی نیند نہ لینا بھی توند کا باعث بن سکتا ہے، نیند کی کمی سے ناقص غذا کے انتخاب کا امکان بڑھتا ہے جبکہ جسمانی سرگرمیوں سے دور رہنے کا امکان بھی بڑھتا ہے اور میٹابولزم بھی متاثر ہوتا ہے۔

ٹی وی کے سامنے کھانا

کھانے کے دوران ٹیلیویژن کو دیکھنا آپ کو زیادہ کھانے پر مجبور کرسکتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس عادت کے نتیجے میں توند نکلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مودی کی تاحال کنفیوزڈ۔ مفلوج فکر

اقتدار کی ہوس میں انسانی اقتدار کی پامالیاں اس قدر شیطانی حربے بھی استعمال کرسکتی ہیں چونکہ وقت کم ہے اوراس سوال کی شدت وحدت بہت ہی زیادہ سلگ رہی ہے اوریہ سلگتا ہوا بے حد تپش دیتا ہوا سوال بھارت میں جگہ جگہ زیر بحث ہے بھارت میں ڈیڑھ دوماہ بعد آنے والے لوک سبھا کے چناؤ کو دیش کی قیمت پر جیتنے کیلئے اب تک بی جے پی اور اْس کی سرپرست متشدد تنظیم آرایس ایس نے انسانیت کی حتی المقدور تذلیل کرنے کے گھٹیا اور غیر مہذبانہ جو اپنیانداز اپنا ئے ہوئے ہیں بھارتی آئینی سیکولر ازم کی جگہ ہندو دیش بنانے کے جو ہتھکنڈے اور زہریلے حربے مودی ڈوال اور امیت شا گٹھ جوڑ نے استعمال کرنے پرکمرکسے ہوئے ہیں دنیا اس پر متحیر العقل ہوچکی ہے اپنے ہی دیش کے انتخابات کو مودی نے باقاعدہ جنگ کا میدان بنالیا ہے مقبوضہ جموں وکشمیر میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد انسانیت کو کشت وخون میں نہلادیا گیا گزشتہ پانچ برسوں میں ‘کشمیر جیتنے کے خواب’کو مودی اور اْس کے حواریوں نے جب خاکستر پوتے ہوئے دیکھا تو مودی سرکار اپنا ذہنی توازن بالکل ہی کھوبیٹھی ایک ارب اکیس کروڑ کی آبادی والے ایک بڑے دیش کو مودی نے گجرات ریاست سمجھ کر شروع دن ہی سے جو فاش غلطیاں کرنا شروع کی ہیں آج وہ کشمیر میں اپنی اْن ہی فاش اور ناقابل تلافی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے گزری دوتین دہائیوں میں کشمیر میں بھارتی فوجی درندوں کے ہاتھوں ہونے والے مظالم کے واقعات یوں سامنے نہیں آئے تھے جو موجودہ جدید اور ڈیجیٹل مواصلاتی سسٹم کی بدولت دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کشمیریوں پر بھارتی فوج کے ظلم وستم کے واقعات پل بھر میں ایک ‘کلک’ پر پہنچ رہے ہیں ۶ مارچ ۹۱۰۲کو سوئٹزرلینڈ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بچلیٹ نے عالمی میڈیا کو ایک پریس بریفنگ میں واضح طور پر تسلیم کیا اور بھارت پر کھلے الفاظ میں سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘بھارت ہوش کے ناخن لے اْن کے پاس بھارتی زیر کنٹرول کشمیر میں تازہ ترین پاکستان بھارت جنگی ماحول میں انسانی حقوق کی جس پیمانے پر بے دردی سے خلاف ورزیاں ہمارے سننے اور سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آرہی ہیں اْنہیں عالمی سطح پر بہت سنجیدگی سے برابر محسوس کیا جارہا ہے بقول مس مشیل کے نئی دہلی کو اپنی ‘احمقانہ متشدد پالسیوں’ کو بدلنا ہوگا مقبوضہ کشمیر میں جاری بہیمانہ کشت وخون سے اجتناب کرنا ہوگا ،اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے مستقل غیر مستقل ار کان میں اس حوالے سے خاصی تشویش پائی جاتی ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق بھارتی سرکشیوں نے عالمی معاہدوں پر عمل درآمد میں نام کا بھی کوئی تعاون نہیں کیا ہے اوپر سے آرایس ایس جیسی سنگھ پریوار کے جنونی اور سخت گیر تصوراتی خیالات رکھنے والی مسلح تنظیم نے بھارتی سیاسی میدان پر جب سے قبضہ کیا ہے بھارت پر دنیا نے خطرہ کا نشان لگادیا ہے دنیا کے مختلف ممالک میں ہی نہیں بلکہ خاص کر مغربی ممالک خصوصا یورپی یونین کے مرکزی شہر برسلز کے شائمن اسکوائیر میں گزشتہ ہفتہ کے شروع میں ۶ مارج ۹۱۰۲ کوکشمیر کونسل یورپی یونین کے زیر اہتمام ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں مقررین نے کشمیر میں جاری بھارتی فوج کے وحشیانہ تشدد پر اپنے سخت ردعمل کا شدید الفاظ میں اظہار کیا اور لوک سبھا کے چناؤ کے موقع پر مسلمانوں اور خصوصا پاکستان کے خلاف جھوٹے من گھڑت الزامات کی آڑ میں پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر عالمی طاقتوں کی توجہ بھارتی جارحیت کی جانب مبذول کرائی ہے جسے عالمی میڈیا میں بڑی جگہ ملی ہے یہاں یاد رہے کہ بھارت ایٹمی ملک ہے اور پاکستان ایٹمی صلاحیتوں سے لیس ملک ہے بقول پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے کہ ‘دوپڑوسی جمہوری ملکوں کے درمیان جنگ کا ماحول پیدا کرنا ایک بہت ہی بیوقفانہ بچگانہ خیال ہے جبکہ دونوں پڑوسی ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی موجود ہوں’ گزشتہ ہفتہ عالمی جرائد کے علاوہ ملکی اخبارت میں عالمی سطح پر اپنے قلم کے کاٹ دار جرات مند اور بیباک لہجوں اور جملوں کی تحریر کا لوہا منوانے والی بھارتی مصنفہ ‘ارون دھتی رائے’ کا تفصیلی تبصرہ شائع ہوا جس پڑھنے کے بعد یقیناًمقبوضہ کشمیر کے نہتے اور محکوم عوام کو بھی تسلی ہوئی ہوگی کہ دنیا کا باشعور طبقہ ‘مودی کی کنفیوژڈاور بیمار مفلوج فکر’ کو بالکل مسترد کرچکی ہے اوردھتی رائے اپنے جاندار تبصرہ میں آرایس ایس اور مودی کے چہروں پرپڑے ہوئے نقاب کھینچتے ہوئے لکھتی ہیں کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے بے صبری میں پاکستانی علاقہ بالاکوٹ پر فضائی حملہ کرکے بڑی نادانی اور نااہلی کا ثبوت دیا ہے’ کشمیر کے مسلمانوں پر نئی دہلی کی مایوسانہ پالیسیوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کئی عالمی ایوارڈز کی حامل مس دھتی لکھا ہے کہ ‘بھارت نے کشمیر کو ہمیشہ اپنا ‘اندرونی معاملہ’ قرار دے کر زمینی اور تاریخی سچائیوں کو تسلیم نہیں کیا’اور اپنی جذباتی نادانی اور سیاسی بیوقوفی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی طور پر ‘فلش پوائنٹ ایجنڈا’بنا دیا ہے، آج دنیا بھر میں ہر ممتاز اور ذمہ دار نظر کشمیر پر لگی ہوئی ہے لہٰذا اب بھی اتنا کچھ کہنے اور سننے کے بعد ‘مودی اجیت ڈوال اور امیت شا گٹھ جوڑ’ اپنے ۶۵ انچ کا سینہ چوڑا کیئے رکھیں گے؟ لوک سبھا کے انتخابات کیلئے اپنا جنگی جنونی نعرہ لگاتے رہیں گے، یا ہوش اور عقل کے ناخن لیں گے، مزید اور کتنی بوکھلاہٹ دکھائیں گے، ہندومذہبی جنونیت کے آتشیں چنگل میں پھنسے رہیں گے یا باہر بھی نکلیں گے، کب تک ہندوفاشسٹ جنونی فکری کیڈر بنے رہیں گے؟ ہمارے لکھنے’کہنے اور سننے سے کیا ہوتا ہے ‘مودی اجیت اور امیت شا گٹھ جوڑ’ بھارت کے ڈیڑھ ماہ بعد آنے والے لوک سبھا کے انتخابات میں جانے سے قبل سیاسی بالغ النظری سے تہی دست دکھائی دیتا ہے اگر آئندہ چناو میں آرایس ایس کے اسی نتگ نظر ‘اسٹیف’ کے ہاتھوں میں نئی دہلی کی مرکزی حکومت آجاتی ہے توسوچئیے پھر کیا ہوگا کیا جنوبی ایشیا امن کا گہوارہ بن پائے گا جو نہیں سمجھتے اْنہیں جنگی تباہیوں کے گزرے ہوئے خون افشاں تاریخوں کے اوراق پلٹنے ہونگے اس کے علاوہ اور کیا کہا جائے کہ بھارتی عوام کی اکثریت نے اگر اب بھی عقل سے کام نہیں لیا تو وہ آئندہ پانچ برس تک مودی کی انسانیت دشمن کنفیوژڈ اور مفلوج صفت فکر سے اپنے سرٹکرا تے رہیں گے ۔

جسم میں حقیقی طور پر چلنے پھرنے والا ’چوپایا‘ روبوٹ

نیویارک: ماہرین نے چار پیروں والا ایک روبوٹ بنایا ہے جو انسانی جسم میں باقاعدہ طور پر چلتا ہے، اس روبوٹ کو کئی طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف پینسلوانیا کے نائب پروفیسر مارک مِسکن اور دیگر ماہرین نے اس انقلابی شے پر کام کیا ہے۔ اسے کثیرمراحل کی مدد سے نینو فیبریکیشن کے تحت بنایا گیا ہے۔ تیزرفتارعمل کے ذریعے صرف چند ہفتوں میں ایسے ڈھیروں روبوٹس بنائے جاسکتے ہیں یعنی مخصوص مٹیریل کے چار انچ کے ٹکڑے سے دسیوں لاکھوں روبوٹ تیار کرنا بہت آسان ہے۔

ہر روبوٹ سلیکون کی ایک چھوٹی سی پرت پر انتہائی باریک شیشے کا ٹکڑا رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ سلیکون والے ٹکڑے میں سولر سیل اور دیگر برقی آلات کاڑھے گئے ہیں۔ روبوٹ کی ٹانگوں کی موٹائی اتنی ہے جتنی ایک سو ایٹموں کی چوڑائی ہوتی ہے۔ روبوٹ کے پیروں کو پلاٹینم ، ٹائٹانیئم اور گرافین کی مدد سے بنایا گیا ہے۔

جب روبوٹ کے شمسی سیلوں پر روشنی ڈالی جاتی ہے تو روبوٹ کے اگلے اور پچھلے پیر حرکت کرتے ہیں اور یوں روبوٹ آگے بڑھتا ہے۔ یہ روبوٹ اتنا چھوٹا اور باریک ہے کہ اسے انجکشن میں بھر کر جسم میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ لیزر کے علاوہ اسے مقناطیسی میدان اور الٹرا ساؤنڈ امواج کے ذریعے بھی چلایا جاسکتا ہے۔ اگلے مرحلے میں روبوٹ کے اندر سینسر، سیلف کنٹرولر اور دیگر اہم فیچرز کا اضافہ کیا جائے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس روبوٹ کو جسم کے اندر دوا پہنچانے اور دیگر اہم امور کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Google Analytics Alternative