Home » 2019 » March » 12 (page 4)

Daily Archives: March 12, 2019

بھارتی میڈیا کی لاف زنی اورجنگی جنون

فرانس اور انگلستان کی تاریخی دشمنی اور لڑائیوں کے طویل سلسلے سے ساری دنیا واقف ہے ۔’’ایک فرانسیسی ٹورسٹ گائیڈ سیاحوں کو ان مختلف تاریخی مقامات کے بارے میں بتا رہا تھا جہاں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے درمیان جنگیں ہوئی تھیں ۔ہر جنگ کے نتیجے میں وہ بتاتا کہ فرانس نے انگلستان کو شکست دی ۔سیاحوں میں کوئی انگریز بھی تھا اس نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا کہ اتنی لڑائیاں ہوئی ہیں کچھ میں تو انگریز بھی جیتے ہوں گے ۔جب تک میں گائیڈ ہوں ان کو ایک بھی جنگ جیتنے نہیں دوں گا‘‘ جواب ملا۔معزز قارئین قومی تعصبات کے حوالے سے یہ لطیفہ راقم کو موجودہ حالات کے تناظر میں ہندو پاک کشیدگی کے دوران ہندوستانی میڈیا کے جھوٹ پر مبنی حالات و واقعات کی عکاسی کرنے پر یاد آیا۔ ہندوستانی میڈیانے انتہائی سوقیانہ اور حقائق سے ہٹ کر تصویر کشی کی ۔کسی بھی معاملے میں جہاں قرابت داری ،جذباتی وابستگی اور وطن سے محبت کا تعلق حائل ہو تو غیر جانبدارانہ خیالات کا اظہار ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے ۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہر محب وطن اپنے وطن کے حق میں بولتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے لیکن ایسے میں یہ حقیقت بھی مدنظر رہے کہ کہیں وطن کی اندھی محبت میں اسیر ہو کر آپ اپنے اقدامات سے وطن کو تباہیوں کے غاروں میں دھکیلنے کی سعی تو نہیں کر رہے جس کا خمیازہ جرمن قوم کو بھگتنا پڑا اور آج بھی وہ ہٹلر کی ناعاقبت اندیشی پر ماتم کناں نظر آتی ہے ۔ بھارتی میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر بین الاقوامی میڈیا میں بھی ماہرین و مبصرین کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جبکہ دنیا بھر کے آزاد اور معتبرمبصر اور میڈیا ہاؤسز ریاست پاکستان اور اس کے میڈیا کی تعریف کر رہے ہیں ۔ہندوستانی میڈیا نے جھوٹ کو سچ کے لبادے میں کچھ اس طرح پیش کیا کہ آج خود بھارت کے اندر سے ان گنت سیکولر اور توانا آوازیں بھارت حکومت کی جنگی مہم جوئی اور میڈیا کی غیر ذمہ داری کے خلاف اٹھ رہی ہیں ۔فاکس نیوز کے ایک پروگرام میں پاک بھارت کشیدگی پر بات کرتے ہوئے میزبان نے کہا کہ بھارتی میڈیا کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی صحافی صحافت سے واقف ہی نہیں ۔ بھارتی میڈیا کی غیر ذمہ داری اور جھوٹ کی نشاندہی سوچتر اوجیان نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں کی۔وہ لکھتے ہیں کہ 14فروری کو بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر کے علاقے پلوامہ میں خود کش حملہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں پیرا ملٹری کے 40جوان ہلاک ہو جاتے ہیں ۔اس کاروائی کے فوراً بعد ایک کالعدم تنظیم جیش محمد حملے کی ذمہ داری قبول کر لیتی ہے ۔ ردعمل کے طور پر بھارتی فضائیہ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے صوبے کے پی کے میں بالا کوٹ کے مقام پر فضائی حملے کر کے جیش محمد کے تربیتی کیمپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتی ہے ۔حملہ کے بعد سیکرٹری خارجہ وی کے گوکھلے حملے میں بڑی تعداد میں جیش محمد کے دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہیں ۔حکومت کی طرف سے بالا کوٹ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد کا ذکر تک موجود نہ تھا مگر بھارتی میڈیا نے حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے 300ہلاکتوں کا چرچا کرنا شروع کر دیا ۔پاکستان نے بھارتی میڈیا کی تردید کرتے ہوئے ایسوسی ایٹ پریس کو بتایا کہ جس علاقے پر بھارتی فضائیہ نے بم گرائے وہاں گھنے جنگلات ہیں اور ان حملوں سے کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا ۔یہ بھارتی میڈیا کی غیر مصدقہ اطلاعات ،غلط رپورٹنگ اور ڈس انفارمیشن پھیلائے جانے والے ابہام کی ایک مثال ہے ۔بھارتی نشریاتی ادارے صرف عوام کو جنگ پر اکسانے اور ان کے جذبات کو انگیخت کرنے کا ہی سامان کرتے رہے ۔ٹاک شوز میں اینکرز ،دفاعی ماہرین ،مبصرین اور سکالرز بھی جنگ فوبیا میں مبتلا نظر آئے اور ان کی یہ دلی خواہش معلوم ہو رہی تھی کہ بھارتی فوج مسلسل پاکستان پر حملے کرتی رہے ۔جب بھارتی میڈیا کے سحر سے عوام نکلے تو انہیں اندازہ ہوا کہ میڈیا نے کس حد تک پلوامہ واقعہ اور اس کے بعد کے حالات کے بارے میں اپنے عوام کو گمراہ کیا ۔ بھارتی میڈیا بغیر کسی ثبوت کے پلوامہ حملے کے ماسٹر مائنڈ کے بارے میں خود ساختہ خبریں شائع کرتا رہا ہے۔بجائے اس کے کہ عوام تک درست اطلاعات پہنچائی جائیں بھارتی میڈیا نے حکومتی پراپیگنڈے کیلئے ایمپلی فائر کا کام کیا جس کی وجہ سے دو جوہری ریاستیں جنگ کے دہانے تک پہنچ گئیں ۔بہت سے ٹی وی چینلز نے اپنے نیوز رومز کو ملٹری کمانڈ سینٹر میں تبدیل کر لیا جن میں اینکرز فوجی ٹیکنالوجی اور جنگی حکمت عملی پر تجزیے کرتے رہے ۔کچھ نے تو فوجی لباس زیب تن کر کے جنگ کا ماحول پیدا کیا ۔پلوامہ حملے کی آڑ میں ہندو قومیت پسندی کے فروغ اور حکومتی آلہ کار بننے سے میڈیا کی ساکھ تباہ ہو کر رہ گئی بھارت کے ایک چینل نے MIG21کے ایک حصے کو پاکستان کے ایف 16کا تباہ شدہ ڈھانچہ ثابت کرنے کی کوشش کی جس کی تردید بین الاقوامی میڈیا نے بھی کر دی۔پلوامہ حملے میں مارے جانے والے ایک بھارتی فوجی کی اہلیہ میتا سنتراجو کہ انگریزی کی پروفیسر ہے نے پلوامہ حملے کے بارے میں میڈیا پر جب یہ موقف اپنایا کہ جنگ میں ایک فوجی کے مارے جانے سے اس کا پورا خاندان متاثر ہوتا ہے تو انتہا پسند ہندوؤں نے اپنے ہی فوجی کی بیوہ کو بزدل قرار دیتے ہوئے اس کے کردار پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا ۔بھارتی میڈیا کی جانب سے تمام اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے ہی اہلکار کی بیوہ کو کہا گیا کہ میتا سنترا اپنے شوہر کی بجائے کسی اور سے محبت کرتی ہے اس لئے اسے اپنے شوہر کی موت کا کوئی افسوس نہیں اور نہ ہی وہ بدلہ چاہتی ہے ۔اپنے خلاف میڈیا پر چلنے والی مہم کے باوجود میتا سنترا انتہا پسند ہندوؤں اور میڈیا اینکرز کے دباؤ میں آنے کی بجائے آج بھی اپنے موقف پر قائم ہے اور جنگ کی بجائے دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات پر زور دے رہی ہے ۔اسی طرح بھارتی میڈیا کو جنگی جنون کا شکار کہنے والی میتا سنترا ہو یا خون بہانے پرذمہ دار قرار دینے والا مہیش بھٹ یا پھر سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جسٹس مرکڈے کانجو ،معتدل موقف اپنانے کے جرم میں انہیں میڈیا پر کردارکش مہم کا سامنا کرنا پڑا ۔ 24گھنٹے تک میڈیا پر ہیرو قرار دیے جانے ولے گرفتار بھارتی پائلٹ ابھے نندن نے جیسے ہی اپنے ملک کے میڈیا پر تنقید کی تو اسے آسمان کی بلندی سے فوراً زمین پر گراکر ہیرو سے زیرو بنا دیا گیا ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارتی میڈیا کا حجم پاکستانی میڈیا کے مقابلے میں بہت بڑا ہے ۔بھارت میں مختلف زبانوں میں 850ٹی وی چینلز آن ائیر جبکہ3200اخبارات شائع ہوتے ہیں لیکن حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ثابت ہو گیا کہ ہمارے مقابلہ میں اس کا قد قدرے پست ہے۔بھارتی میڈیا عوام کو حقائق بتانے کی بجائے گمراہ کرنے میں یوں مصروف ہے کہ ہنوز غلط رپورٹنگ اور تجزیہ و تبصروں سے جنگ کا ماحول پیدا کر رہا ہے ۔ذرائع ابلاغ جسے ریاست کا چوتھا ستون کہتے ہیں یہ عام لوگوں کی سوچ کوکو ئی خاص رخ دے سکتا ہے ۔میڈیا اہم ایشوز پر عوام میں شعور اجاگر کرتا ہے اور کسی بحران میں گرے ملک کو اس کیفیت سے نکالنے میں ایک جاندار کردار ادا کرتا ہے لیکن اگر یہی میڈیا بھارتی میڈیا کی طرح غیر ذمہ دارانہ ،مضحکہ خیزاور دروغ گوئی پر اتر آئے تو اس کے اثرات مہلک بھی ہو سکتے ہیں۔ سرحدوں پر جنگی صورتحال کے دوران جب دفاع اور خارجہ امور کے ذمہ داران اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہوتے ہیں ایسے وقت میں ذمہ دار میڈیا ایک سفیر کی حیثیت سے دنیا بھر میں اپنی ریاست کا موقف پہنچاتا ہے ۔جنگ سب سے پہلے میڈیا کے محاذ پر لڑی جاتی ہے ۔حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں جب پاکستان کی سول وعسکری قیادت نے بار بار بھارت کو مذاکرات اور امن قائم رکھنے کیلئے پیغامات بھیجے تو میڈیا نے عالمی سطح پر پاکستان کی امن کی خواہش کو پہنچا کر ملکی ساکھ کو بہتر بنا کر مثبت کردار ادا کیا اور ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کیا اس کے برعکس بھارتی میڈیا نے بیہودہ زبان استعمال کرتے ہوئے جنگی جنون پیدا کرنے کے ساتھ حالات و واقعات کی مکمل جھوٹی تصویر پیش کی ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا آج بھارتی میڈیا کا تمسخر اڑا رہی ہے ۔

پِتے میں پتھری کی خاموش علامات

پتہ آپ کے پیٹ میں جگر کے بالکل نیچے دائیں جانب ہوتا ہے اور امرود کی شکل کے اس عضو میں ایک سیال بائل یا صفرا ہوتا ہے۔

یہ سیال جگر میں بنتا ہے جو کہ چربی اور مخصوص وٹامنز کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔

جب آپ کھاتے ہیں تو جسم اسے خارج کرنے کا سگنل دیتا ہے۔

تاہم پتہ میں اکثر افراد کو پتھری کا مسئلہ لاحق ہوتا ہے جس کی وجہ سیال کا ٹھوس شکل اختیار کرلینا ہے جو کہ ایک گولف بال جتنی بڑی بھی ہوسکتی ہے جبکہ ایک یا متعدد بھی ہوسکتی ہیں۔

یہ پتھریاں سینکڑوں کولیسٹرول سے بنتی ہیں مگر کچھ افراد جنھیں جگر کے مختلف امراض لاحق ہوں، ان میں اس کی اقسام الگ ہوسکتی ہیں۔

اگر پتہ سوجنے لگے جسے طبی زبان میں Cholecystitis کہا جاتا ہے، جو کہ پتھری کی نشانی بھی ہے، اس کی علامات درج ذیل ہیں۔

معدے میں درد

معدے میں درد پتے میں پتھری کی سب سے عام علامت ہے اور عام طور پر یہ شکم کی اوپری دائیں جانب ہوتا ہے، کئی بار یہ درد کمر اور دائیں کندھے تک بھی پھیل جاتا ہے، یہ عام طور پر تیز دھار جیسا ہوتا ہے اور کھانے کے بعد آدھے سے ایک گھنٹے تک ہوتا ہے، جس کے بعد یہ دور ہوجاتا ہے۔

درد کش ادویات مددگار نہیں ہوتیں

اگر درد دور کرنے والی ادویات سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا تو یہ پتے میں مسائل کی علمات ہوسکتی ہے، اپنی پوزیشن کو بدلنے یا گیس کے اخراج سے کچھ بہتری محسوس کرنا بھی اس کی علامات ہیں۔

یرقان

یرقان جگر میں مسائل کی نشانی ظاہر کرنے والی علامت ہے جس میں جلد اور آنکھوں کی سفیدی پر زردی چھاجاتی ہے جبکہ پیشاب کی رنگت بھی گہری ہوجاتی ہے، یہ مرض بالغ افراد میں پتے میں مسائل کا بھی ایک اشارہ ہوسکتا ہے، پتہ چھوٹی آنت میں بائل کو ایک ٹیوب کے خارج کرتا ہے اور یرقان اس وقت نمودار ہوتا ہے جب یہ ٹیوب بلاک ہوتی ہیں اور ایسا ہونے پر بائل پتے میں جمع ہوکر ٹھوس شکل اختیار کرلیتا ہے۔

دل متلانا اور قے

ایسا دیگر امراض میں بھی ہوتا ہے مگر پتے میں پتھری کی شکل میں بھی یہ کافی عام ہوتا ہے اور اکثر افراد اسے سینے میں جلن یا معدے میں تیزابیت سمجھ کر نظرانداز کردیتے ہیں۔ اگرچہ قے اور دل متلانا پتے میں پتھری کی کوئی واضح علامت نہیں مگر اوپر دی گئی علامات میں سے بھی کسی کا سامنا ہو تو پھر یہ پتے میں پتھری کی جانب اشارہ ہوسکتی ہے۔

لبلبہ کی سوزش

اگر لبلبے کی سوزش یا ورم کا سامنا ہو تو پتے میں پتھری کا چیک اپ بھی کرالینا چاہئے، لبلبہ جگر کے برابر میں ہوتا ہے اور اسی حصے میں انزائمے خارج کرتا ہے جہاں سے بائل گزرتا ہے، تو پتے میں پتھری اس کے افعال کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے لبلبے میں ورم اور معدے میں درد کا سامنا ہوتا ہے۔

موٹاپا یا اچانک جسمانی وزن میں کمی

موٹاپے کے شکار افراد میں پتے میں پتھری کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور جسمانی وزن میں کمی سے اس میں کمی آتی ہے، مگر یہ وزن بغیر کسی کوشش کے اچانک کم ہونا شروع ہوجائے تو اس سے بھی پتے میں پتھری بننے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

نواز شریف کی درخواست ضمانت کی جلد سماعت کے لیے نئی اپیل دائر

 اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے العزیزیہ کیس میں درخواست ضمانت کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں نئی اپیل دائرکردی۔

نواز شریف کی جانب سے ان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں درخواست ضمانت کی جلد سماعت کے لیے اپیل دائر کی ہے۔  درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست ضمانت کی 6 مارچ کو سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی تاہم اسے مسترد کردیا گیا تھا لیکن استدعا ہے کہ معاملے کی نزاکت اوربگڑتی صحت کے سبب کیس کو رواں ہفتے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید جب کہ ڈیڑھ ارب روپے اور 25 ملین ڈالر جرمانے کا حکم سنایا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 25 فروری کو نوازشریف کی طبی بنیادوں پر دائر درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی جلد سماعت کے لیے اپیل مسترد کی جاچکی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا تھا کہ درخواست باری آنے پر سنی جائے گی۔

سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر آج بھارت کے دورے پر پہنچیں گے

اسلام آباد: سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر آج بھارت کے دورے پر پہنچیں گے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق عادل الجبیر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقاتیں کریں گے

سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر پاکستان کے دورے کے بعد بھارت جا رہے ہیں، انہوں نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

سعودی وزیر نے وزیراعظم عمران خان کو سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے خصوصی پیغامات پہنچائے جب کہ ملاقات میں پاک سعودی عرب تعلقات اور پاک بھارت حالیہ کشیدگی پر بھی بات چیت ہوئی۔

عالمی یوم خواتین اور۔۔۔۔۔!

khalid-khan

آٹھ مارچ 2019ء کو ایک این جی او کے زیراہتمام ریلی میں بعض عورتوں نے کچھ کتبے اٹھا رکھے تھے جس پرنازیبا الفاظ تحریر تھے۔اُن الفاظ سے ہر ذی عقل کو دکھ اور افسوس ہوا۔جس این جی او نے خواتین کو یہ کتبے تحریرکرنے اور اٹھانے کیلئے دئیے تھے،دراصل اُس این جی او نے عورتوں کی تذلیل کی ہے اور ایسی این جی اوز پر پابندی ہونی چاہیے۔ایسی تنظیمیں ڈالرز کی حرص میں انسانیت کو بھی بھول جاتی ہیں۔ بعض معصوم خواتین کی برین واش کرکے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں۔خواتین کو آلہ کار بنا کر غلط استعمال کرتی ہیں۔ایسی این جی اوز خواتین کے تقدس کو پامال کرتی ہیں۔ایسی این جی اوز دیگر نیک نام سماجی تنظیموں کو بھی بد نام کرتی ہیں۔واضح ہوکہ خاکسار بھی ایک سماجی ورکر ہے۔خواتین، کسانوں ، مزدوروں اور محروم طبقات کیلئے صدا بلند کرتا رہتا ہے۔ خاکسار کو یہ سمجھ، شعور،آگہی اور صدا بلند کرنے کا حق اسلام نے دیا ہے۔ میرے لیڈر محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ ہیں۔اسلام سے قبل خواتین کے ساتھ بدتر ین سلوک کیا جاتا تھا۔ اسلام سے قبل بیٹیوں کو زندہ در گور کیا جاتا تھا۔اسلام سے قبل خواتین کیلئے کوئی حقوق نہیں تھے۔اسلام سے قبل خواتین کیلئے کوئی بھی آواز بلند کرنے والا نہیں تھا۔ خواتین کیلئے سب سے پہلے اللہ رب العزت کے آخری نبی سرورکائنات رحمت العالمین ﷺ نے صدا بلند کی۔بعض لوگ 8مارچ کو عالمی یوم خواتین مناتے ہیں جبکہ مسلمان ہر روز عالمی یوم خواتین مناتے ہیں۔مسلمان صبح و شام اپنی ماں کی زیارت کو سعادت سمجھتے ہیں۔پیغمبر اسلامﷺ نے فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ماں ایک خاتون ہے۔اسلام نے خاتون کو عظیم مرتبہ اور رتبہ عطا کیا ہے۔ اسلام نے خواتین کے درجہ کو بلندی و عظمت کی انتہائی منزل تک پہنچایا۔اسلام نے جنت کو ماں کے قدموں تلے قرار دیا ۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا ہے کہ” عورتوں سے اچھا سلوک کرو، تم لوگ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ایمان کے اعتبار سے کامل ترین وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کیلئے بہترین ثابت ہوں۔” اسلام نے عورت کو ماں ،بیٹی،بیوی اور بہو جیسے خوبصورت اور پاکیزہ رشتوں سے نوازا اور سرفراز کیا۔اسلام نے خاتون کو اپنے والد اور خاوند دونوں کی جائیداد میں سے حصہ دیا۔قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ” اللہ نے تمیں ایک انسان (آدم ؑ ) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو بنایا۔”اسلام نے عورت کو مرد کے جسم کا حصہ قرار دیا ہے۔محسن انسانیت حضور کریمﷺ نے فرمایا کہ” عورتیں مردوں کے برابر یعنی مشابہ ہیں۔”نیک اور اچھے معاشرے کی بنیاد رکھنے میں عورت ہی پہلا مکتب ہے۔خواتین کا ہر دور میں کلیدی رول رہا ہے۔ خواتین نے غزوات میں بھی حصہ لیا۔تحریک پاکستان میں خواتین کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔محترمہ فاطمہ جناح، بیگم جہاں آراء شاہنواز ، بیگم نصرت عبداللہ ہارون،بیگم رعنا لیاقت علی خاں،بیگم اقبال حسین ملک،انجمن آراء بیگم،راحیل خاتون شیروانی،بیگم قیصرہ انور علی، بیگم سلمیٰ تصدق حسین،بیگم گیتی آراء بشیر احمد،بیگم شائستہ اکرام اللہ،بیگم وقار النساء نون،بیگم محمد ووسیم،حسن آراء بیگم حکم، بیگم اسماعیل خان، بیگم خورشید عبدالحفیظ، بیگم عفت الٰہی علوی،بیگم زاہد قریشی،بیگم ہدایت اللہ،بیگم رضا اللہ،ذکیہ نقوی بیگم اور بیگم پاشا صوفی وغیرہ نے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید،ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، بیگم نسیم ولی خان، سید عابدہ حسین، مریم مختیار، عائشہ فاروق،منیبہ مزاری،ڈاکٹر نرگس ،رخسانہ پروین، صوفیہ جاوید، مناحل سہیل،اقراء سیلم خان،ارفع کریم،بسمہ معروف،ثناء میر،عاصمہ جہانگیر،ثمینہ نذیر، ڈاکٹر روبینہ فیروز بھٹی ، تہمینہ دولتانہ، شیری رحمن،حنا ربانی کھر،حنا جیلانی،ثانیہ نشتر،نگار احمد، نورجہان، عابدہ پروین، شازیہ، سمیرین خان، شازیہ ہدایت اللہ،سہدرہ صدف، نسیم حمید، عصمت چغتائی،پروین شاکر،بانو قدسیہ وغیرہ خواتین نے مختلف شعبہ جات میں اہم رول ادا کیا ہے۔ان خواتین نے محنت اور لگن سے کام کیا اور اپنا نام کمایا ۔ان خواتین نے پاکستان کا نام روشن کیا اور خواتین کی عزت میں اضافہ کیا۔ قارئین کرام! بہتر ہوتا کہ عالمی یوم خواتین کے موقع پر خواتین کیلئے ملازمتوں میں 50فیصدکوٹے کا مطالبہ کیا جاتا ۔ بیوروکریسی میں50فیصد کوٹے کا مطالبہ کیا جا تا۔خواتین کیلئے سیاسی جماعتوں سے براہ راست انتخابات کیلئے 50فیصدپارٹی ٹکٹوں کا مطالبہ کرتے کیونکہ 50فیصد سے زائد آبادی خواتین کی ہے لیکن این جی اوز نے ایسے مطالبات کرنا بھی گوارہ نہ کیا کیونکہ اس سے خواتین کو حقیقی معنوں میں فائدہ ہوتا۔ این جی او ز کے مطالبات اور کردار سے عیاں ہوتا ہے کہ بعض این جی اوز ڈالرز کیلئے خواتین کے نام کو استعمال کرتی ہیں ۔ بعض معصوم خواتین کو گمراہ کرتی ہیں۔ بعض اپنی ذاتی مفادات کیلئے خواتین کا استعمال کرتی ہیں۔این جی اوز کیلئے جن ممالک سے فنڈنگ ہوتی ہے،اُن ممالک میں کتنی خواتین صدر، وزیراعظم ،چیف جسٹس ، افواج کی سربراہ اور دیگر اہم پوسٹوں پر کام کررہی ہیں یا کام کیا ہے؟وہ ممالک پہلے اپنی خواتین شہریوں کو توحقوق دیں۔قارئین کرام!دراصل خواتین کو حقوق دینے والے ہم کون ہوتے ہیں؟ خواتین کو تواللہ رب العزت اور محسن انسانیت حضور اکرم ﷺ نے حقوق دیے ہیں۔عورتوں کے حقوق کو پورا کرنا ہمارا فرض ہے۔آزادی ہر انسان (مرد وعورت) کا بنیادی حق ہے لیکن آزادی کے نام سے دوسروں کی دل آزاری بھی نہیں کرنی چاہیے۔انسانیت کا احترام سب سے بڑی آزادی ہے۔ خواتین کو صرف آٹھ مارچ تک محدود نہیں کرنا چاہیے اور خواتین کے کردار کو بھی محدود نہیں کرنا چاہیے۔

پاکستان میں کارپوریٹ گورننس میں بہتری آگئی، ورلڈ بینک

اسلام آباد: ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کارپوریٹ گورننس میں بہتری آگئی ہے۔

ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر الانگو پاچا میتھو نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کارپوریٹ گورننس (تجارتی طرز حکمرانی) میں بہتری آئی ہے، پاکستان کاروبار میں آسانیوں کے سلسلے میں 147 سے 137 ویں نمبر پر آگیا ہے، پاکستان کی معاشی ترقی میں نجی شعبہ کا کلیدی کردار ہے۔

چیئرمین ایس ای سی پی فرخ سبزواری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئے طریقہ کار کے تحت کمپنی میں خاتون ڈائریکٹر کا تقرر لازمی قرار دیا گیا ہے، لسٹڈ کمپنیوں کی مشکوک سرگرمیوں پرنظر رکھ رہے ہیں، اسٹاک مارکیٹ میں بروکرز کے لیے دستاویز 30 سے کم کرکے 4 صفحات پر لائے ہیں، کاغذی کارروائی کم ہونے سے جلد ازجلد کمپنی تشکیل دی جاسکے گی۔

فرخ سبزواری نے کہا کہ ایس ای سی پی نے اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے ورلڈ بنک سے رجوع کیا اور اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے کارپوریٹ سیکٹر میں شفافیت کے لیے عالمی بینک سے استفاده کریں گے۔

مراکشی خاکروبہ نے ملکہ حسن کا تاج سر پر سجا لیا

رباط: مراکش میں خاکروب(صفائی ستھرائی )کے پیشے سے وابستہ 22 سالہ دوشیزہ نے ملکہ حسن کا تاج سر پر سجالیا۔

عرب ٹی وی کے مطابق مراکش میں ماحولیات اور سروسز  گروپ اوزون کے زیر اہتمام مقابلہ حسن منعقد کیاگیا جس میں کثیر تعداد میں خاکروب لڑکیوں نے حصہ لیا۔ 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خاکروبہ حسنا فردوس یہ مقابلہ جیت گئیں۔

مراکش کے دارالحکومت رباط میں منعقدہ تقریب کے دوران حسنا فردوس کی ملکہ حسن کے طور پر تاج پوشی کی گئی۔ تقریب میں مراکش کی اہم سیاسی اور ثقافتی شخصیات بھی موجود تھیں۔

ملکہ حسن کا تاج سر پر سجانے والی خوبصورت ترین خاکروبہ حسنا فردوس کا کہنا ہے کہ ملکہ حسن کا لقب خاکروب کا کام کرنے والی تمام لڑکیوں کے لیے باعث اعزاز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صفائی اورخاکروب کا کام کرنا کوئی معیوب بات نہیں۔

خبردار ! ’ڈائٹنگ‘ وبال جان بھی بن سکتی ہے

واشنگٹن: سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ عصر حاضر میں وزن کم کرنے کے لیے سب سے مقبول ڈائٹ ’کم نشاستہ والی غذاؤں‘ سے دل کی دھڑکن کے عارضے میں مبتلا ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

چین کی یونیورسٹی سن یاٹ-سین کے ماہرین امراض قلب نے دن بھر میں نشاستہ کی نہایت کم مقدار لینے والے افراد پر اس کے اثرات کا مطالعہ کیا اور اپنے اخذ شدہ نتائج کو مقالے کی صورت میں امریکن کالج آف کارڈیولوجی کی کانفرنس میں پڑھا۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر شیاؤڈونگ زواہنگ نے اپنی تحقیق کے لیے مختلف رنگ، نسل اور قومیت کے 14 ہزار افراد پر مشتمل دو گروپس کی میڈیکل ہسٹری، خوراک اور طرز زندگی کو  22 سال تک مشاہدے میں رکھا۔ ان میں سے کسی کو بھی بے ربط دل کی دھڑکن کا عارضہ نہیں تھا۔

بدقسمتی میں جو گروپ کم نشاستہ والی خوراک یعنی ’لو کاربوہائیڈریٹس ڈائٹ‘ پر تھے ان میں سے 1900 افراد کو بے ربط دل کی دھڑکن کا عارضہ لاحق ہو گیا جب وہ گروپ جو نارمل غذائیں لے رہا تھا وہ صحت مند رہا اور ان کی ای سی جی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

Carb

محققین کا کہنا ہے کہ دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان افراد کا نشاستہ کی جگہ چکنائی اور لحمیات کا زیادہ استعمال ہے۔ لو کاربو ہائیڈیٹ ڈائٹ میں نشاستہ کی کمی کو چکنائی یعنی Fats  سے پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے دل کا عارضہ ہونے کے امکانات 70 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

ریسرچ کے سربراہ ڈاکٹر شیاؤڈونگ زواہنگ نے متنبہ کیا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے لو کاربوہائیڈریٹ ڈائٹ تجویز کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے اور ایسے افراد کا مکمل طبی معائنہ کراتے رہنا چاہیے۔

ریسرچ سربراہ نے ہدایت کی ہے کہ ہمارے جسم کو ہر قسم کی غذا یعنی نشاستہ، لحمیات اور چکنائی کی ضرورت رہتی ہے اس لیے کسی ایک کو کم یا کسی کو زیادہ کرنے کے بجائے متوازن غذا استعمال کرنی چاہیئے۔

Google Analytics Alternative