Home » 2019 » March » 13

Daily Archives: March 13, 2019

پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیرکےحل کیلئے مذاکرات کریں، جرمن وزیر خارجہ

اسلام آباد: جرمنی نے پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کےلیے دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے جرمن ہم منصب ہائیکو ماس نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس کے بعد دونوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور پاک بھارت کشیدگی  پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر  میں انتہائی ابتر صورتحال ہے، مسئلہ کشمیرکے حل اورکشیدگی میں کمی کے لیےمذاکرات ہونے چاہئیں۔

جرمن وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور افغان امن عمل میں پاکستان کے کردارکوسراہتے ہیں۔

شاہ محمود نے کہا کہ جرمن وزیرخارجہ سےمفیدبات ہوئی اور انہیں پلوامہ واقعےکےبعد کی صورتحال سے مکمل آگاہ کیا گیا، دہشتگردی کےخاتمےکےلیےنیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد کررہے ہیں اور سیاسی قیادت کی مشاورت سےانتہاپسندی کےخاتمےکیلیےاقدامات کررہےہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کی ضرورت ہے اور جرمن وزیرخارجہ سے بھی ویزہ سہولتوں میں نرمی پر بھی بات ہوئی، پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاروں کاخیرمقدم کرتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کا اہم کردار ہے، افغان امن مذاکرات پرجرمنی مطمئن ہے۔

پاک فضائیہ کا جے ایف 17 تھنڈر طیارے سے میزائل کا کامیاب تجربہ

کراچی: پاک فضائیہ نے دن اور رات میں ہدف کو نشانہ بنانے والے ملکی ساختہ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے

ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاکستان نے جے ایف 17 تھنڈر طیارے سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ملکی ساختہ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، میزائل دن اور رات میں اہداف کو ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ترجمان کے مطابق ملکی سطح پر تیار کردہ اس جدید میزائل کے کامیاب تجربے سے جے ایف-17 تھنڈر کو دن اور رات میں طویل فاصلے کے اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہو گئی ہے، اور اس جدید میزائل سے سے جے ایف 17 تھنڈر طیارے کو لیس کر دیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق کامیاب تجربہ پر ایئرچیف مارشل مجاہد انور خان نے سائنسدانوں اور انجینئرز کی کاوشوں کو سراہا اور اس عظیم کامیابی پر پاک فضائیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع میں ایک عظیم سنگِ میل کی حیثیت کاحامل یہ تجربہ قابلِ فخر پاکستانی سائنسدانوں اور انجیئنیرز کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ایئرچیف مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن اگر دشمن نے ہم پر جارحیت مسلط کی تو اس کا بھر پور جواب دیں گے۔

چھوٹو گینگ کے سرغنہ سمیت 20 مجرموں کو 18، 18 مرتبہ سزائے موت

ملتان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کچے کے علاقے کے بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول اور اس کے بھائی سمیت 20 مجرموں کو 18، 18 مرتبہ سزائے موت دینے کا حکم سنا دیا۔

اس کے علاوہ عدالت نے 18 سال سے کم عمر کے 2 ملزمان کو 19، 19 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی۔

ملتان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک نے چھوٹو گینگ، سیکھانی گینگ، اندر گینگ اور چگوانی گینگ سے تعلق رکھنے والے ملزمان کو جرم ثابت ہونے سزا سنائی۔

خیال رہے کہ 20 اپریل 2016 کو راجن پور میں 23 روز تک جاری رہنے والے سیکیورٹی فورسز کے آپریشن ‘ضرب آہن’ کے دوران چھوٹو گینگ کے سربراہغلام رسول عرف چھوٹو نے اپنے 13 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیئے تھے۔

واضح رہے کہ پولیس نے وزارت داخلہ کی اجازت کے بعد ’چھوٹو گینگ‘ کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کا آغاز کیا تھا، آپریشن میں 7 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور 24 اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانے کے بعد فوج کو طلب کیا گیا تھا، جس نے 16 اپریل کو آپریشن کا چارج سنبھالا تھا۔

راجن پور کے علاقے کچی جمال کا ساحلی علاقہ، جس کی آبادی 10،000 افراد پر مشتمل ہے، چھوٹو گینگ کا گڑھ کہلاتا تھا، وہاں کے رہائشیوں کا گزر بسر مویشی پال کر اور کھیتی باڑی کے ذریعے ہوتا ہے۔

چھوٹو وہاں کے مقامی افراد کی مدد کرتا تھا اور اس علاقے میں کسی قسم کی مجرمانہ سرگرمیاں نہیں کرتا تھا لیکن اس نے وہ علاقہ پولیس کے لیے ایک نو-گو ایریا بنا دیا تھا اور وہاں کے مقامی افراد سے چھوٹو کے بارے میں معلومات نکلوانا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا۔

چھوٹو گینگ کیسے وجود میں آیا؟

پولیس حکام کے مطابق غلام رسول عرف چھوٹو ضلع راجن پور کی تحصیل روجھان میں 3 سے 5 سال تک رکن صوبائی اسمبلی عاطف مزاری کے گارڈ کے طور پر فرائض انجام دے چکا ہے۔

غلام رسول نے پنجاب پولیس کے لیے 2007 تک مخبر کی حیثیت سے کام کیا اور راجن پور اور مظفرگڑھ کے اضلاع میں ڈکیتیوں اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں مختلف گروہوں کی شمولیت کے حوالے سے پولیس کو آگاہ کرتا رہا۔

مقامی افراد اور پولیس کا کہنا ہے کہ چھوٹو، روجھان کے علاقے میں موجود مزاری قبیلے کی بکرانی برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ بعد ازاں نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس کے پولیس کے ساتھ اختلافات ہوگئے جس کے بعد اس نے اپنا ایک الگ گروہ بنا کر مجرمانہ سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔

بعد ازاں روجھان، ڈیرہ غازی خان، سندھ اور بلوچستان سے منسلک اضلاع میں کام کرنے والے کچھ چھوٹے اور نمایاں گروپوں نے بھی چھوٹو گینگ میں شمولیت اختیار کرلی۔

جنوبی پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقہ جات میں اشتہاری قرار دیئے گئے مجرم، چھوٹو کے قبضہ کیے ہوئے علاقوں میں پناہ لیتے تھے۔

پنجاب پولیس نے چھوٹو گینگ کے خلاف 6 سے 7 آپریشن کیے جن میں پولیس کے 30 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ گینگ کے صرف چند ہی بدمعاش مارے گئے۔

سیاسی وعسکری قیادت ملکی استحکا م کے لئے پُرعزم

adaria

سیاسی اورعسکری قیادت نے ایک دفعہ پھر واضح کردیاہے کہ پاکستان کے استحکام کو یقینی بنایاجائے گا نیز پاکستان کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا یہ بات وزیراعظم نے آرمی چیف سے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے پاک فضائیہ کی جانب سے بھارت کو بھرپورجواب دینے کو بھی سراہا۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے کہاکہ مسلح افواج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیارہیں۔ پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد بھارت میں ایک آہکار مچی ہوئی ہے ،بزدل بنیے کی نیندیں اڑچکی ہیں اب نریندرمودی کو اورکچھ سجھائی نہیں دیتا وہ محض گیدڑبھبکیاں دے رہاہے۔ سرحد پار پاکستان پر الزام تراشیاں کرنا بھارت اور خصوصی طورپر مودی کا وطیرہ ہے ۔ کوئی ثبوت ہوں یانہ ہوں اگرانڈیا میں تنکا بھی گرے تو اس کاالزام پاکستان پر عائد کردیاجاتاہے ۔اب تو بی جے پی اورخصوصی طورپر مودی کو اپوزیشن دہشت گرد قراردے رہی ہے ۔بھارتی اپوزیشن نے شورمچارکھا ہے کہ کوئی پتہ نہیں کس وقت مودی بم ماردے یاپھر الیکشن سے قبل ایک دفعہ پھر وہ پلوامہ جیساحملہ کراسکتاہے جب گھرکے اندر سے ایسی آوازیں اٹھنا شروع ہوجائیں تو پھر جان لیناچاہیے کہ اصل دہشت گرد نریندرمودی ہی ہے اس پر اس کی اپنی قوم اوردیگر سیاسی لیڈراعتباراوراعتماد نہیں کرتے وہ ایک ایسی متذبذب شخصیت کامالک ہے جس کی نہ صبح ہے نہ شام ہے ہروقت وہ انسانی خون کا بھوکا ہے ۔گجرات سے لیکر پلوامہ حملے تک اوراب کنٹرول لائن پربلااشتعال فائرنگ تک ہرجانب بے گناہ اورنہتے انسانوں کاخون بہارہاہے ۔مقبوضہ کشمیرمیں تو انتہا ہوچکی ہے دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد فوج وہاں پرتعینات ہے مگراب ناکامی مودی کے نصیب میں لکھی جاچکی ہے۔انڈین الیکشن کمیشن نے انتخابات کاشیڈول دے دیاہے جس طرح مودی یہ چاہتاہے کہ وہ انسانی لاشوں پر سیاست کرکے انتخابات جیت جائے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہوگی۔ اب پاکستان کاکارڈ نہیں کھیل سکتا اپنے ملک میں اس کی اتنی مخالفت ہوچکی ہے کہ اس کو ہی کلیئرکرنامحال ہے۔ اپنے اندرونی حالات سے مفرحاصل کرنے کے لئے وہ پاکستان پرالزامات عائد کرتارہتاہے۔ مسلح افواج ہمہ وقت تیار ہیں کسی بھی دشمن نے اگر میلی آنکھ سے دیکھاتو صرف پاک فوج ہی نہیں بائیس کروڑ عوام بھی ان کی آنکھیں پھوڑ دے گی۔ مودی کو یہ سب کچھ نظربھی آرہاہے اسی وجہ سے بھارتی میڈیا نے بھی واویلا مچارکھا ہے اتنی بڑی آبادی ہونے کے باوجود ہندوپاکستان سے خوفزدہ ہے ،خوفزدہ بھی کیوں نہ ہو شاید 1965ء کی جنگ آج بھی اس کے خوابوں میں ایک بھیانک خواب کی طرح موجود ہوگی ایم ایم عالم کے ریکارڈ کو بھی انڈیابھولانہیں ہوگامیجرعزیز بھٹی شہید، راشد منہاس اور میجر طفیل شہید جیسے سپوت موجود ہوں تو پھر ملک اورقوم کے استحکام وآزادی کوکوئی بھی زِک نہیں پہنچ سکتی۔ جبکہ بھارت کے پاس کیا ہے ابھی نندن جیسے پائلٹ اورکلبھوشن جیسے بزدل دہشت گرد ،پوری دنیا کے سامنے نام نہاد بھارتی جمہوریت کامکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو بھارت جنگ کاماحول گرمادیتاہے مگرشاید اس دفعہ اس کو یہ پالیسی مہنگی پڑے گی ۔ اب گیندہاتھ سے نکل گئی ہے مسئلہ کشمیرجس سطح پراجاگرہوچکا ہے اب وہاں سے اس کی واپسی ممکن نہیں آزادی یقینی ہے اور بھارت کے مزیدٹکڑے ٹکڑے ہونابھی یقینی ہوچکا ہے اوراس تمام تر کاسہرانریندرمودی کے سرجاتاہے ۔بھارتی قوم بھی مودی کے اقدامات کو ہدف تنقید بنارہی ہے اس کے دورمیں جتنابھارت کو نقصان پہنچاشاید اس کی ماضی میں تاریخ نہیں ملتی۔

بلاول نوازملاقات۔۔۔کیارنگ لاسکے گی؟
بلاول اورنوازشریف کی ملاقات کے بعد سیاست میں کچھ ہلچل مچناشروع ہوئی ہے،بلاول بھٹوکہتے ہیں تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے کے ساتھ ایساسلوک مناسب نہیں،دل کے مریض کودباؤ میں رکھناتشددکے مترادف ہے۔ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ انسانی بنیادو ں پرنوازشریف کو اچھی سے اچھی طبی سہولیات فراہم کی جائیں مگر کیابلاول بھٹو یہ بتاناپسندفرمائیں گے کہ کہیں قانون یاآئین میں ایسالکھا ہے کہ ملزم یامجرم ایک عام آدمی ہویاوزیراعظم اس کوچھوٹ دیدی جائے ۔اگرمیاں نوازشریف کو چھوٹ دیتی ہے توپھرجیلوں میں مقیدہزاروں نہیں لاکھوں قیدی ایسے ہوں گے جن کے جرائم کومعاف کرناپڑے گا جرم آخرجرم ہوتاہے اورمجرم کوقرارواقعی سزا ملنے ہی سے آئین وقانون کابول بالاہوتاہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی وفد کے ہمراہ سابق وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کیلئے کوٹ لکھپت جیل گئے۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین کی سابق وزیراعظم سے ملاقات ایک گھنٹہ سے زائد تک جاری رہی جس میں بلاول نے نوازشریف سے ان کی خیریت دریافت کی۔ ملاقات کے بعد بلاول بھٹو نے کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی عیادت کرنے کیلئے ان سے ملاقات کی، آج تاریخی دن ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو اور آصف زرداری نے اسی جیل میں وقت گزارا تھا، دکھ ہورہا ہے کہ تین بار ملک کا وزیراعظم رہنے والا شخص جیل میں سزا بھگت رہا ہے، سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن بیمار کو علاج کا حق ملنا چاہیے، حکمرانوں کو پہلے انسان ہونا چاہیے پھر حکمران، عام قیدیوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک ہونا چاہیے۔
بے نامی اکاؤنٹس ایکٹ 2019 کی منظوری، مستحسن اقدام
حکومت نے بے نامی اکاؤنٹس ایکٹ 2019 کی منظوری دیدی اور یہ فوری طور پر نافذالعمل بھی ہوگیا۔ ایف بی آر نے بے نامی اکاؤنٹس ایکٹ 2019 نافذ ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نئے ایکٹ کے تحت جلد بے نامی اکاؤنٹس رکھنے والوں کو نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔ بے نامی اکاؤنٹس پر جاری نوٹس کا جواب نہ ملنے پر رقم فوری طور پر ضبط کی جائے گی۔ ایکٹ کے تحت ایف بی آر کو بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم ضبط کرنے کا بھی اختیار مل گیا۔ اس وقت بے نامی اکاؤنٹس میں 50ارب روپے ہونے کی معلومات ایف بی آر کے پاس ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بے نامی اکاؤنٹس پر ایک ہفتے کے دوران نوٹسز بجھوادیئے جائیں گے۔ بے نامی اکاؤنٹس ایک کے تحت کاروائی کیلئے ٹربیونل قائم کردیئے ہیں۔ 20لاکھ سے 50لاکھ کے درمیان بے نامی اکاؤنٹس کی نشاندہی پر 4فیصد کے علاوہ ایک روپے بھی ملیں گے۔ ایک کا اطلاق بے نامی اکاؤنٹس بے نامی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد پر ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان نے دوہفتے پہلے ہی بے نامی اکاؤنٹ ایکٹ نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔ نیزبے نامی جائیداد کے مالکان کیلئے ایف بی آر نے شکنجہ تیار کر لیا،20 لاکھ کی بے نامی جائیداد کی نشاندہی پر پانچ فیصد انعام دیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بے نامی جائیداد ضبط اور فروخت بھی کی جائے گی،فروخت شدہ جائیداد سے حاصل رقم خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔

گلوکار علی سیٹھی امریکا کے 11 مختلف شہروں میں پرفارم کرنے کو تیار

پاکستان کے نامور گلوکار علی سیٹھی نے اپنے  مداحوں کو امریکا کے دورے کی خوشخبری سنادی جہاں وہ مختلف 11 شہروں میں اپنی آواز کا جادو جگائیں گے۔

علی سیٹھی نے سوشل میڈیا انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جلد ہی امریکا کا دورہ کریں گے جہاں مخلتف شہروں میں منعقدہ کانسرٹ کا حصہ ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ سب سے پہلے نیوجرسی میں 22 مارچ کو پرفارم کریں گے جس کے بعد وہ نیویارک میں منعقد دوسرے سالانہ پین ایشیاء ساؤنڈنگ فیسٹول میں لاہور بینڈ کے ساتھ پرفارم کریں گے۔

بعدازاں گلوکار بروکلین میں 23، کینیڈی سینٹر میں 31 مارچ، شکاگو میں 5 اپریل، ڈلاس میں 6 اپریل، اوکلاہوما میں 7 اپریل، کارنیگی ہال میں 11 اپریل، سنسناٹی میں 12 اپریل، سان فرانسسکو میں 19 اپریل اور ہارورڈ میں  5 مئی کو کانسرٹ کریں گے۔

واضح رہے کہ علی سیٹھی نے اپنے میوزک کیرئیر کا آغاز 2013 میں  ’محبت کرنے والے‘ گانے کے کور (پرانے گانے کو نئی انداز میں گانا) کی گلوکاری سے کیا تھا۔

انہوں نے کوک اسٹوڈیو سیزن 8 میں بطور فیچر آرٹسٹ شمولیت اختیار کی جس کے بعد خوب مقبولیت حاصل کی، ان کے مقبول گانوں میں ’چن کتھاں‘، ’رنجش ہی سہی‘ اور ’محبت کرنے والے‘ سرفہرست ہیں۔

ذہنی دباؤ کے باعث نواز شریف کو رات بھر انجائنا کی شکایت رہی، مریم نواز

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نوازکا کہنا ہے کہ ذہنی دباؤ کے باعث نواز شریف کا بلڈ پریشر درست نہیں ہو رہا اور گزشتہ رات ایک بار پھر انہیں انجائنا کی شکایت رہی۔

کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نوازکا کہنا تھا کہ آج جیل میں نوازشریف کے ذاتی معالج کو ساتھ  لے کر آئی تھی، نواز شریف کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے،  ڈاکٹر کے مطابق نوازشریف کا بلڈ پریشر ذہنی دباؤ کی وجہ سےدرست نہیں ہورہا جب کہ گزشتہ رات بھر ایک بار پھر انہیں انجائنا کی شکایت رہی ہے، ڈاکٹر نے ان کی ادویہ میں تبدیلی کی ہے۔

مریم نواز نے بتایا کہ نوازشریف خرابی صحت کے باعث آئندہ جمعرات کو کسی سے بھی ملاقات نہیں کریں گے، بلاول بھٹو زرداری نے جس طرح وقت نکال کر نوازشریف کی تیمارداری کی اس کے لئے شکر گزار ہوں، مجھے ملاقات میں ہونے والی باتوں کا زیادہ علم نہیں، تاہم یہ علم ہے کہ بات چیت میں سیاسی گفتگو بھی ہوئی ہے۔

ہندی کوبھارتی سرکاری زبان بنانے کا حکم

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے حکومت سنبھالتے ہی تمام تر سرکاری خط و کتابت ہندی میں کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ بہت سے بھارتی بیورکریٹس بات چیت تو ہندی زبان میں کرتے ہیں لیکن باقاعدہ سرکاری زبان کے لیے،جن رسمی جملوں کی ضرورت ہوتی ہے، وہ انہیں نہیں آتے۔ مودی کے ابتدائی فیصلے بھارت کے طاقتور سرکاری افسران کی صفحوں میں اب تک بے چینی کی لہر پیدا کر رہے ہیں۔

پاکستان کی طرح بھارتی بیوروکریسی میں بھی گریجویشن کی ڈگری ایک عام سی بات ہے۔ بہت سے اعلی افسران آکسفورڈ، کیمبرج یا ہاورڈ میں پڑھے ہوئے ہیں اور ان کی پرورش بھی انگلش ماحول اور انگلش میڈیم اسکولوں میں ہوئی۔ بھارت میں زیادہ تر سرکاری دستاویزات کی خط و کتابت کے لیے بھی انگریزی زبان ہی استعمال کی جاتی تھی ۔ بھارت کے اعلی افسران کی شامیں اب ہندی سیکھنے میں گزر رہی ہیں ۔نئی دہلی میں ایک اعلی سرکاری افسرنے بتایاکہ آپ یقین نہیں کر سکتے کہ مجھے ہندی لغت میں الفاظ تلاش کرتے ہوئے کس قدر زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ اس افسر کا حکومتی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب مجھے ایک عام سا خط لکھنے میں گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ مودی کے اقتدار میں آتے ہی یہ رپورٹ بھی منظر عام پر آئی تھی کہ حکومت نے دہلی گولف کلب کے تمام ممبران کی فہرست طلب کر لی ہے۔ یہ رپورٹ بہت سے لوگوں کو ڈرانے کے لیے طلب کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کا یہ مطلب تھا کہ اگر آپ باقاعدگی سے گولف کھیلنے آتے ہیں تو کام آپ کی ترجیح نہیں ہے۔ نئی دہلی میں سیاسی حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بیورکریٹس کی دنیا بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ روایتی طور پر کانگریس پارٹی میں انگلش بولنے والے زیادہ تھے اور بیورکریٹ بھی انہی کی زبان بولتے تھے، دہلی کا ڈرائنگ روم دوبارہ سیٹ کیا جا رہا ہے۔ سرکاری افسران نئی حکومت کے بارے میں شک و شبہات کا شکار ہیں۔ حکومت اور افسران میں صرف زبان ہی نہیں بہت سارے دیگر معاملات پر بھی اختلافات ہیں۔ اعلی سرکاری افسران کے ساتھ اپنی پہلی ہی میٹنگ میں نریندر مودی نے اپنے قوانین کا اعلان کر دیا تھا۔ انہوں نے تمام افسران پر واضح کر دیا تھا کہ سرکاری معاملات میں تاخیر ناقابل برداشت ہوگی، سرخ فیتے کا خاتمہ کیا جائے، زیادہ سے زیادہ احتساب ہوگا اور کارکردگی کو دیکھا جائے گا۔جو کہ اب ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ نریندر مودی نے سرکاری افسران سے حکومت کی بجائے نظام پر توجہ دینے کا کہا ہے۔

نریندر مودی کی طرف سے ہندی کو سرکاری خط و کتابت کے لیے استعمال کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بھارتی خود پر فخر محسوس کر سکیں۔ اقتدار میں آتے ہی مودی حکومت نے وزارت داخلہ کو سوشل میڈیا پر ہندی زبان استعمال کرنے کا حکم دیا تھا۔ مودی نے سرکاری افسران کو نوٹس تک ہندی زبان میں لکھنے کا کہا تھا۔ اس کے علاوہ نریندر مودی نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ وہ بھی غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ ہندی میں بات کریں گے۔
بی جے پی اراکین پارلیمان ایک مختلف زبان بولتے ہیں اور سماجی نقطہ نظر سے قدامت پسند بھی ہیں۔ یقینی طور پر بیورو کریٹس میں پریشانی کی لہر موجود ہے لیکن ہندی زبان مودی کے لیے سیاست بھی ہے۔ مودی ایک ہندو انتہا پسند تنظیم راشڑیہ سوایمسیوک سانگھ کا بھی حصہ رہ چکے ہیں اور اس قوم پسند جماعت کے نزدیک بھارت کی سب سے اہم اور طاقتور زبان ہندی ہی ہے۔بھارت کی 1.2 بلین آبادی میں سے تقریبا 45 فیصد افراد ہندی بولتے ہیں۔ اس ملک میں سرکاری زبانوں کی تعداد 22 ہے اور اسی وجہ سے ہندی زبان کے غلبے پر سوال بھی اٹھتا ہے۔
حالیہ چند برسوں سے عالمی اقتصادیات میں بھارت کا کردار بڑھا ہے اور انگلش وہاں کی اشرافیہ کے علاوہ بھی بھارتیوں کی ضرورت بن چکی ہے۔ بھارتی اعلیٰ سرکاری افسران کے مطابق اچانک زبان کے تبدیلی ان پر اضافی بوجھ ہے۔ ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم امیتابھ پانڈے نے کہاکہ بیوروکریٹس سوچتے تو انگلش میں ہیں لیکن انہیں خط و کتابت ہندی میں کرنا پڑ رہی ہے۔ اس سے پورا عمل سست ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومتی کارکردگی کو تیز تر کرنا چاہتے تھے لیکن اس کا اثر الٹا ہو ا۔
*****

عمران خان کی حکومت کو نیب زدہ لوگوں سےکوئی خطرہ نہیں، شیخ رشید

راولپنڈی  : وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو نیب زدہ لوگوں سےکوئی خطرہ نہیں۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 1700 کلو میٹر ٹریک پر نئی پٹڑی ڈال رہے ہیں جب کہ نالہ لئی ہمارا اہم پروجیکٹ ہے جس کا ڈیزائن بھی منتخب کرلیا گیا ہے، راولپنڈی میں ایک نرسنگ اسپتال، کالج اور اسکول بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حکمران برسراقتدار آئے جنہوں نے شہر کے ساتھ ظلم کیا تاہم نالہ لئی بہت بڑا پروجیکٹ ہے جو شہر کا نقشہ بدل دے گا، پروجیکٹ کاافتتاح وزیراعظم عمران خان کریں گے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے نیب میں پیش ہونے کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد ایل این جی کیس میں نیب میں پیش ہونے جارہا ہوں جب کہ عمران خان کی حکومت کو نیب زدہ لوگوں کے ملنے سے کوئی خطرہ نہیں ہے، قوم کو کہا تھا کہ نوازشریف کا علاج لال حویلی میں ہے، شہباز شریف کنگ سائز لوٹے ہیں اور وکٹ کے دونوں جانب کھیلتے ہیں جب کہ بلاول نواز شریف سے راستہ پوچھنے جیل گئے تھے۔

Google Analytics Alternative